جولائی ۲۰۰۴ء

جدید معاشرے میں مذہبی طبقات کا کردار

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوال نمبر ۱: آپ اپنے خاندانی پس منظر اور تعلیمی قابلیت کے بارے میں ضروری معلومات سے آگاہ کرنا پسند کریں گے؟ جواب: میری ولادت ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں ہوئی۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دار العلوم دیوبند کے فاضل ہیں، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کے ممتاز تلامذہ میں سے ہیں، کم وبیش ساٹھ سال تک تدریسی خدمات سرانجام دی ہیں، مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث رہے ہیں، دیوبندی مسلک کے علمی ترجمان سمجھے جاتے ہیں اور کم وبیش پچاس کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف ہیں۔ بحمد اللہ حیات ہیں اور اس وقت ان...

دعوت اسلام میں ’اعلیٰ کردار‘ کے اثرات

― پروفیسر محمد اکرم ورک

دعوت و تبلیغ کا طریقہ کار خواہ کتنا عمدہ ہو، اس وقت تک بے کار اور غیر مؤثر ہے جب تک اس کو مبلغ وداعی کی بلند کرداری، عالی ظرفی اور اخلاقی قوت کا تحفظ حاصل نہ ہو۔انسانی فطرت ہے کہ مدعو پہلے داعی کا کردار اور اس کی شخصیت کا مشاہدہ کرتاہے۔ اگر داعی کی شخصیت غیر معتبر اور کردار داغدار ہے تو دعوت وتبلیغ میں اثر پیدا ہی نہیں ہوسکتا ۔اور اگر داعی کی شخصیت اوصافِ حمیدہ کی حامل ہو اور کردار کی پاکیزگی کا پیکر ہوتو دعوت میں خودبخود تاثیر ومقناطیسی قوت پیدا ہوتی ہے۔ مخاطب کی تعمیرِ سیرت اور تشکیلِ ذات کے لیے سب سے اعلیٰ نمونہ خود مبلغ وداعی کا ذاتی کردار...

ایک مثالی معلم کی کہانی، ایک شاگرد کی زبانی

― ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

آج اساتذہ اور مربین کی کمی نہیں۔ مدرسین اور معلمین کی ہر طرف بہتات ہے، مگر ماہر فن استاذ، کامیاب مدرس، حاذق معلم، اور قابل تقلید واتباع مربی کا وجود عنقا ہے۔ جس مثالی معلم ومربی کا تذکرہ ان سطور میں مقصود ہے، اسے عنقا پر بھی یک گونہ ترجیح وفوقیت ہے۔ عنقا چار دانگ عالم میں مشہور ہے اور ہر طرف اس کا چرچا ہے۔ میں جس مایہ ناز استاذ اور مفخرۂ معلمین کی کہانی سنانے جا رہا ہوں، وہ نام اور شہرت سے بے پروا ہے، گم نامی اس کا سرمایہ حیات اور گوشہ خمول اس کی عافیت گاہ ہے۔ استاذ محترم مولانا سید محمد واضح رشید ندوی ۱ ؂ سے میں نے کئی سال باقاعدہ تعلیم حاصل...

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت

― مولانا محمد یوسف

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۴ء کے شمارے میں پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ کے توسط سے ان کے تازہ ترین افکار سے آشنائی ہوئی۔ موصوف نے اپنے مضمون میں آرٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے علما کے معاشرتی کردار کے حوالے سے یہ شکوہ کیا ہے کہ علما انسانی شعور کو ایڈریس کرنے کے بجائے جذباتی فضا قائم کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ غالباً اسی جذباتی فضا کا اثر ہے کہ خود میاں صاحب نے اس فضا کو ختم کرنے کے لیے جو انداز تحریر اختیار کیا ہے، وہ بھی شعور انسانی کو کم اور جذبات کو زیادہ اپیل کرنے...

مسئلہ فلسطین یہودی مذہبی پیشوا کی نظر میں

― مولانا حبیب نجار

گزشتہ دنوں رابطۃ العالم الاسلامی کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے ارض فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک یہودی مذہبی پیشوا یسرائیل ڈیوڈ کا انٹرویو نظر سے گزرا تو ماہنامہ الشریعہ ستمبر/اکتوبر ۲۰۰۳ء میں مولانا محمد عمار خان ناصر کی تحریر بعنوان ’’مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ ذہن میں گھومنے لگی۔ مولانا موصوف کے اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارض فلسطین اور مسجد اقصیٰ وراثت کے طور پر یہو دکو عطا ہوئی، اس لیے ان کا مسجد اقصیٰ اور ارض فلسطین پر قانونی واخلاقی حق ہے۔ مولانا کے اس مضمون پر تنقیدی...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محترم المقام حضرت مولانا المعظم دام مجدہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عرصہ دراز ہوا، نہ ملاقات ہوئی اور نہ ہی کوئی رابطہ۔ باغ کانفرنس میں ملاقات کی توقع تھی بلکہ ساتھیوں کو میں نے عرض کی تھی کہ اجلاس کا اعلامیہ آپ کے مشورہ سے تیار ہو مگر آپ کانفرنس میں تشریف نہ لا سکے۔ البتہ حضرت شیخ الحدیث صاحب دامت برکاتہم کی تشریف ہمارے لیے بڑی خوشی کا باعث ہوئی اور ان سے ملاقات کا شرف پا کر دل کو بڑا سکون ملا۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت عطا فرمائے۔ ’’بین الاقوامی منشور‘‘ کی کاپی اور اس پر آپ کا تبصرہ دیکھا ہے۔ آپ...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’تجلیات سیرت‘‘۔ مصنف: ڈاکٹر حافظ محمد ثانی۔ ناشر: فضلی سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، اردو بازار، کراچی۔ قیمت: /-۲۰۰ روپے۔ سیرت رسولِ عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لامتناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر مزید بڑھتا جائے گا۔ ’’چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے، رفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھے‘‘۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ ومامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال واعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ...

جولائی ۲۰۰۴ء

جلد ۱۵ ۔ شمارہ ۷