تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’تجلیات سیرت‘‘

مصنف: ڈاکٹر حافظ محمد ثانی

ناشر: فضلی سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، اردو بازار، کراچی

قیمت: /-۲۰۰ روپے 

سیرت رسولِ عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لامتناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر مزید بڑھتا جائے گا۔

چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھے

جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ ومامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال واعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے۔ کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو وہ آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام ومرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز ومحور ہیں۔ بقول اقبالؒ 

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ او ست
گر باو نرسیدی تمام بو لہبی است

یہود ونصاریٰ اور ہندو قوم اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ مسلمان بحیثیت قوم اپنے زوال کے منطقی انجام سے صرف اسی وقت دوچار ہوں گے جب ان کے دلوں سے محمد عربی ﷺ کی محبت نکال دی جائے، چنانچہ گیارہویں صدی عیسوی سے منظم انداز میں شروع ہونے والی تحریک استشراق کا سب سے اہم ٹارگٹ ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں محمد ﷺ کی سیرت وکردار کے بارے میں تشکیک اور شبہات کے بیج بوئے جائیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے احترام رسول نکل جائے، کیونکہ محبت اور احترام کے بغیر اطاعت کا تصور محال ہے اور اس طرح اسلام خود بخود اپنی حقیقت کھو بیٹھے گا۔ اقبال نے فرنگی کی اس سازش کو بروقت بھانپتے ہوئے اسے ان الفاظ میں بے نقاب کیا:

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز ویمن سے نکال دو

مستشرقین کا اول مقصد یہ تھا کہ عیسائی رائے عامہ کو اسلام سے ’’محفوظ‘‘ رکھا جائے اور مسلمانوں کو اگر عیسائی بنانا ممکن نہ بھی ہو تو ان کو کم از کم مسلمان نہ رہنے دیا جائے۔ چنانچہ مستشرقین کے اس گمراہ کن اور منظم پروپیگنڈا کا اثر تھا کہ یورپ میں ایک مدت تک عوام الناس میں یہ تصور رہا کہ ’’محمد‘‘ ایک بت ہے (معاذ اللہ) جس کی مسلمان پوجا کرتے ہیں۔ بعد کے مستشرقین نے اگر متقدمین کے منفی اور غلط پروپیگنڈا پر شرمندگی کا اظہار کیا تو اس کی وجہ فقط یہ ہے کہ علمی ترقی کے اس دور میں محمد ﷺ کے متعلق اس قسم کی فرضی داستانیں اور الزام تراشیاں اسلام کے مقابلے میں خود ان کی تحریک کے لیے زیادہ نقصان کا باعث ہو سکتی تھیں، اس لیے ان لوگوں نے فقط تحریک استشراق کے بارے میں منفی تاثرات سے بچنے کے لیے غیر علمی خیالات کی تردید کی اور اپنے آپ کو منصف مزاج محقق ثابت کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے بعض پہلوؤں کی دل کھول کر تعریف کی۔ تاہم انصاف کے آئینے میں حقائق کو پوری طرح سے دیکھنے کی توفیق ان کو بھی نہ ہوئی۔ ان کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ اس طریقے سے مسلمانوں کی حمایت حاصل کی جائے اور اپنے رویے میں معمولی تبدیلی سے انھوں نے یہ مقصد حاصل کر لیا۔ منٹگمری واٹ اور تھامس کارلائل جیسے لوگوں نے اسلام کے متعلق چند کلمات خیر لکھ دیے تو مسلمانوں کے بڑے بڑے ادیبوں اور مصنفوں نے دل کھول کر ان کی تعریف کی اور انھیں منصف مزاج اور غیر جانب دار محقق کے خطابات سے نوازا، حالانکہ انھی لوگوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی سیرت پر بھرپور حملے بھی کیے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مستشرقین کی تحقیقات کو پوری احتیاط سے لیا جائے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے چند کلمات خیر کی وجہ سے ان کی جملہ زہر آلود تحقیقات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔تاہم اس میں شک نہیں کہ ذہنی بیداری کے اس دور میں بعض مستشرقین نے مثبت باتیں بھی کی ہیں اور وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی عظمت کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ 

زیر نظر کتاب ’’تجلیات سیرت‘‘ میں مستشرقین کی جن کتب سے استفادہ کیا گیا ہے، وہ اکثر اسی نوعیت کی ہیں۔ مصنف نے بڑی محنت اور جانفشانی سے ایسے مستشرقین کے بیانات کو اکٹھا کیا ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے محاسن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور پھر اپنی تحقیقات میں اس کا برملا اعتراف اور اظہار بھی کیا۔ کسی نظریے کے مخالف کا اس کی عظمت کو تسلیم کرنا معمولی بات نہیں۔ عربی مقولہ ہے: ’الفضل ما شہدت بہ الاعداء‘۔ یعنی حقیقی فضیلت وہ ہے جس کی دشمن بھی گواہی دیں۔

فاضل مصنف نے ایسے تمام بیانات کو بڑی تحقیق کے بعد یکجا کر دیا ہے اور مخالفین کی زبان سے اسلام اور پیغمبر اسلام کی عظمت کو بڑے خوب صورت اسلوب میں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ 

کتاب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس دور میں اسلام اور پیغمبر اسلام پر جس قدر بھی اعتراضات مستشرقین کی طرف سے عام طور پر کیے جاتے ہیں، تقریباً ان سب کا بڑی عمدگی سے جواب دیا گیا ہے۔ سید محمد قطب شہیدؒ کی کتاب ’’شبہات حول الاسلام‘‘ کی طرح یہ کتاب بھی جدید تعلیم یافتہ طبقے اور مغربی علوم سے مرعوب نوجوانوں کے لیے بڑی مفید کاوش ہے۔ اگر کتاب کا عربی، انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں ترجمہ ممکن ہو تو امید افزا نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔

کتاب کے آخری باب میں مصنف نے ہندو اور سکھ شعرا کا نعتیہ کلام بھی جمع کیا ہے۔ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں ہندو اور سکھ شعرا کے نذرانہ عقیدت پر مشتمل ۵۵ نعتوں کے اس مجموعہ نے جہاں کتاب کو دوسری کتب سیرت کے مقابلے میں امتیاز بخشا ہے، وہاں اس سے ذات مصطفی کے ساتھ خود مصنف کی والہانہ محبت اور عقیدت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ 

’’تجلیات سیرت‘‘ کو یقینی طور پر کتب سیرت میں ایک گراں قدر اضافہ قرار دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر آئندہ ایڈیشن میں حسب ذیل تجاویز کو مد نظر رکھا جائے تو کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا:

۱۔ حوالہ جات کو فٹ نوٹ میں درج کیا جائے۔

۲۔ بہت سے مقامات پر حوالہ جات ناقص ہیں، انھیں مکمل کیا جائے۔

۳۔ بعض اقتباسات کو مصنف کی طرف منسوب کرنے پر اکتفا کی گئی ہے اور کتاب کا نام درج نہیں کیا گیا۔ اس نقص کی تلافی ہونی چاہیے۔

۴۔ بعض مقامات پر ثانوی مصادر سے حوالہ جات نقل کیے گئے ہیں حالانکہ اصل کتب تک بھی رسائی ہو سکتی تھی۔

۵۔ ہندو اور سکھ شعرا کی نعتیں ان کے جن مجموعہ ہائے کلام سے لی گئی ہیں، اگر ان کا حوالہ بھی درج کر دیا جائے تو بہتر ہوگا۔

(پروفیسر محمد اکرم ورک)

حکیم الامت اکیڈمی مانچسٹر کے رسائل

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے خلیفہ مجاز الحاج ابراہیم یوسف باوا رنگونی اور ان کے لائق فرزند مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی ادارہ اشاعت الاسلام گلاسٹر اور حکیم الامت اکیڈمی مانچسٹر (برطانیہ) کی طرف سے مختلف دینی موضوعات پر مفید اور معلوماتی کتابچے شائع کرتے رہتے ہیں اور برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح اور دینی اصلاح کے لیے مسلسل مصروف کار رہتے ہیں۔ اس وقت ان کے مندرجہ ذیل رسائل ہمارے پیش نظر ہیں:

’’مجموعہ قرآنی اعمال‘‘

اس میں قرآن کریم کی دعاؤں اور روحانی اعمال کا ایک مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔

’’رمضان کے روزے‘‘

اس میں روزے کی فرضیت، فضیلت اور مسائل کا عام فہم انداز میں ذکر کیا گیا ہے۔

’’صحاح ستہ‘‘

اس میں خلفاے راشدین کے علاوہ عشرہ مبشرہ میں شامل چھ بزرگوں کے حالات زندگی اور فضائل ومناقب کا تذکرہ ہے۔

’’حضرت امیر معاویہ‘‘

سیدنا حضرت امیر معاویہ کے بارے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی مختلف تحریرات وملفوظات کو مرتب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

’’امام اعظم ابو حنیفہ‘‘ 

حضرت امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت اور علمی مقام کے بارے میں امام عبد الوہاب شعرانی کے ارشادات کو حافظ محمد اقبال رنگونی نے خوب صورت انداز میں مرتب کیا ہے۔

’’ماتم نہ کیجیے‘‘

اس میں ماتم کے بارے میں قرآن وسنت اور ائمہ اہل بیت کے ارشادات کی روشنی میں شرعی مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے۔

’’تذکرۂ محمود‘‘

برما کے بزرگ عالم دین اور مفتی اعظم حصرت مولانا مفتی محمود داؤد ہاشم یوسف کے حالات زندگی اور علمی ودینی خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں یہ تمام رسالے مکتبہ الفاروق، ۱۹۔ سلطان پورہ روڈ لاہور سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

(ادارہ)


تعارف و تبصرہ