مکاتیب

ادارہ

(۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محترم المقام حضرت مولانا المعظم دام مجدہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عرصہ دراز ہوا، نہ ملاقات ہوئی اور نہ ہی کوئی رابطہ۔ باغ کانفرنس میں ملاقات کی توقع تھی بلکہ ساتھیوں کو میں نے عرض کی تھی کہ اجلاس کا اعلامیہ آپ کے مشورہ سے تیار ہو مگر آپ کانفرنس میں تشریف نہ لا سکے۔ البتہ حضرت شیخ الحدیث صاحب دامت برکاتہم کی تشریف ہمارے لیے بڑی خوشی کا باعث ہوئی اور ان سے ملاقات کا شرف پا کر دل کو بڑا سکون ملا۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت عطا فرمائے۔

’’بین الاقوامی منشور‘‘ کی کاپی اور اس پر آپ کا تبصرہ دیکھا ہے۔ آپ کا تجزیہ اور اسلامی نقطہ نگاہ سے اس کی دفعات پر تبصرہ بڑا وقیع ہے مگر سوال یہ ہے، اسلامی دفعات کے تعارض سے صرف نظر بھی کریں تو انسانی نقطہ نگاہ سے جو دفعات رکھی گئی ہیں، کیا اس وقت فلسطین، عراق، افغانستان اور کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، ان دفعات کے مطابق ہے؟ اگر نہیں تو اقوام متحدہ نے امریکہ کا کیا بگاڑ لیا جو ان دفعات کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور جوتے کی نوک پر بھی ان دفعات کو نہیں رکھتا؟ ایسے میں اس منشور کو زیر بحث لانا ہی ضیاع وقت ہے۔ بس قانون تو ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا چل رہا ہے۔ ہمارے مسلمان حکمران تو اپنی حکمرانی کے تحفظ کے لیے اسلامی دفعات کے خلاف اقدامات پر اعتراض کیا کرتے جبکہ اس منشور کو ان کی تائید بھی حاصل ہے۔ ان کو یہ غیرت بھی نہیں آتی کہ مسلمانوں کے ساتھ کس قدر انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے جس پر احتجاج کرنے سے قاصر ہیں۔

والسلام۔ آپ کا مخلص

(شیخ الحدیث مولانا) محمد یوسف

(دار العلوم تعلیم القرآن، پلندری، آزاد کشمیر)

۲۰۰۴/۵/۲۳

(۲)

محترم المقام ذو المجد والاحترام حضرت العلام مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدہم

السلام علیکم وعلیٰ من لدیکم

مزاج گرامی بخیر۔ اللہ آپ کو سدا خوش رکھے اور آپ کی قومی وملی خدمات کو قبول ومنظور فرمائے۔ آمین ثم آمین بحرمت سید المرسلین۔

آج مورخہ یکم ربیع الثانی ۱۴۲۵ھ/۲۱ مئی ۲۰۰۴ کو بذریعہ ڈاک جریدہ ’’نوائے شریعت‘‘ اور ایک خط ملا۔ ما لہ وما علیہ پر مطلع ہو کر بڑی خوشی ہوئی۔ اس میں شک نہیں کہ میڈیا پر یہودیوں کا قبضہ ہے اور تجارت ومعیشت پر اقوا م متحدہ کا کنٹرول ہے اس لیے انھی دونوں شعبوں میں عالم اسلام پستی اور تنزل کے شکار ہیں۔

نازک حالات کے تقاضوں کے مطابق اقوام متحدہ کی تاسیس، غرض وغایت، کردار اور منفی خدمات کو منظر عام پر لانا اور یہودیوں کی خباثت وشرارت کو اجاگر کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ مسلمانان عالم ہر معاملہ میں اقوام متحدہ کے دروازے کھٹکھٹانے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی تیاری اور کوشش کریں۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے آج تک ایسی کوئی قرارداد پاس نہیں کی جس سے مسلمانوں کا فائدہ ہوتا ہو۔ ایسی صورت حال میں جریدہ ’’نوائے شریعت‘‘ کا اجرا واشاعت امید کی کرن ہے۔ امید ہے کہ اس میں حالات حاضرہ پر مضامین شائع ہوں گے۔

تازہ شمارے میں شامل اشاعت مضامین، انسانی حقوق کا عالمی منشور اور انسانی حقوق کا چارٹر نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس قسم کے مضامین ہمارے دینی جریدوں میں بھی شائع ہونے چاہییں۔ اللہ آپ کی محنت کو قبول فرمائے۔ امید ہے کہ ہر شمارہ ارسال فرما کر شکریہ کا موقع دیں گے۔

محترم! آپ کے زیر ادارت نکلنے والا موقر جریدہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی سے مل رہا ہے اور تبادلہ میں ’’حق نوائے احتشام‘‘ بھی ارسال کیا جا رہا ہے۔ ’’الشریعہ‘‘ شمارہ اپریل/مئی ۲۰۰۴ء میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے محترم جناب محمد عمار ناصر صاحب کا طویل مقالہ اور آپ کا اداریہ من وعن پڑھا اور تنقیدی نظر سے مطالعہ کیا۔ مجھے اس مقالہ کے متعدد مقامات ودلائل پر اعتراضات وتحفظات ہیں۔ فی نفسہٖ مقالہ معیاری اور علمی ہے۔ شروع میں ارادہ تھا کہ اس پر لکھوں، لیکن حدیث ’من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ‘ اس میں حائل بن گئی۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ آج کل ماہنامہ ’’اشراق‘‘ میں موسیقی کی حلت پر مضامین شائع کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت امریکہ بھیڑیا بن کر عالم اسلام کو تہس نہس کر رہا ہے اور اسلام کی بیخ کنی کرنے میں ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں جہاد کی تیاری کے علاوہ ذلت ونکبت سے بچنے کا کوئی اور طریقہ نظر نہیں آتا۔ ؂

زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے
آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے

معذرت کے ساتھ مضمون ختم کرتا ہوں۔

اخوکم فی اللہ

(مولانا) محمد صدیق ارکانی

(استاد) جامعہ احتشامیہ، جیکب لائن، کرا چی

۳ ربیع الثانی ۱۴۲۵ھ/۲۳ مئی ۲۰۰۴ء

(۳)

۱۷/۵

گرامی قدر مولانا زاہد الراشدی صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ مزاج گرامی؟

یورپین/مغرب کے تصور حقوق انسانی پر آپ کا مضمون اور ’توجہ دلاؤ نوٹس‘ ملا۔ شکریہ۔ موضوع کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ جو کام ہاتھ میں ہیں، ان سے فارغ ہونے کے بعد، ان شاء اللہ، کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔

کیا پاکستان کے دینی عناصر ایسے ہی ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ کام کرتے رہیں گے کہ کبھی نصاب کا مسئلہ سامنے آ گیا تو دو چار اجلاس کر لیے، کبھی توہین رسالت کا موضوع اٹھا تو کچھ دن شور کر لیا؟ دینی سیاسی عناصر کا عدم اتحاد تو سمجھ میں آتا ہے، کیا غیر سیاسی دینی عناصر کو چند مشترکہ/متفق علیہ نکات پر جمع نہیں کیا جا سکتا تاکہ پلاننگ کے ساتھ کچھ دینی کام ہو سکے؟

مخلص

(ڈاکٹر) محمد امین

(سینئر ایڈیٹر اردو انسائیکلو پیڈیا آف اسلام)

جامعہ پنجاب، لاہور

(۴) 

۶/اپریل ۲۰۰۴ء

برادرم محترم

السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ کا خط اور مضمون ملے بہت دن ہو گئے۔ پچھلے عرصے میں میری مصروفیت کچھ ایسی غیر معمولی رہی کہ بروقت جواب نہ دے سکا۔

آپ کا مضمون میں نے دیکھا۔ آپ کی دیگر تحریروں کی طرح یہ بھی ایک وقیع تحریر ہے۔ عصری سیاسی حوالوں سے، میں اس میں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور میرا خیال ہے کہ یہ آپ کے سابقہ مضامین پر تنقید کا شافی جواب ہے۔

مجھے بہت خوشی ہوگی اگر آپ ORE کے پروگراموں میں شریک ہوں اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں آپ کی صلاحیتیں کام آئیں۔

ہم نے گزشتہ دنوں جو چند کتابچے شائع کیے ہیں، وہ ارسال کر رہا ہوں۔ اس کو ہم نے دو عنوانات کے تحت تقسیم کیا ہے۔ ایک تراجم ہیں جنھیں ’’معاصر اسلامی فکر‘‘ کا ذیلی عنوان دیا گیا ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ دیگر مسلمان حلقوں میں ہونے والے کام سے آگاہی ہو۔ اس کے ساتھ جو چیزیں ہم اپنے مسائل کے حوالے سے شائع کریں گے، انھیں ’’مسلم معاشرے کی تشکیل نو‘‘ کا عنوان دیا ہے۔

ان کتابچوں کے بارے میں اپنی رائے ضرور دیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے ذہن میں کوئی تجویز ہو جس پر ہم مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں تو مجھے اس کے بارے میں جان کر خوشی ہوگی۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دیں۔

والسلام۔ آپ کا بھائی

خورشید احمد ندیم

(چیئرمین ادارہ برائے تعلیم وتحقیق

مکان 1، گلی 30، G-6-1/3، اسلام آباد)

(۵)

باسمہ

۸ مئی ۲۰۰۴ء

محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں فلسطین سے متعلق آپ کے مضامین پڑھ کر محترم ڈاکٹر اسرار احمد نے کتاب ’’مسلمان امتوں کا ماضی، حال اور مستقبل‘‘ بھجوائی ہے۔ امید ہے آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگی۔ نیز ان کی طرف سے سلام عرض ہے۔

والسلام

سردار اعوان

(معتمد ذاتی)

(۶)

بگرامی خدمت محترم علامہ زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

مزاج گرامی؟

اسلامی تعلیمات واقدار کو جامع انداز میں متعارف کرانے کے لیے آپ کی مساعی جمیلہ لائق صد تحسین ہیں۔ اسلام کے خلاف مغرب کی منظم منصوبہ بندی اور خود اسلامیان پاکستان کی کج روی نے جو صورت حال پیدا کر دی ہے، اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ملت کے دردمند اور حساس حلقے مل بیٹھ کر دین کی ترویج اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کریں۔ بالخصوص پاکستان کے مخصوص حالات کے تناظر میں گروہی اختلافات کی خلیج کو پاٹ کر باہمی رواداری کے فروغ کی ضرورت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کی مثبت کاوشیں بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اسلامی مدارس کے بارے میں موجودہ حکومت کی منفی پالیسیوں اور ان سے منسلک افراد کے بارے میں پیدا کی گئی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے آپ نے مدارس کی اہمیت اور ضرورت اور ان کے کردار کے بارے میں اپنے موقف کو جس جاندار انداز میں پیش کیا ہے، اس پر سارے حلقے آپ کے ممنون ہیں۔

چند ماہ قبل آپ نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں میرے والد گرامی ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کے اسلوب دعوت کے بارے میں ایک جامع مقالہ شائع فرمایا۔ اس اقدام نے ہمارے جملہ حلقوں میں آپ کی قدر ومنزلت میں اضافہ کیا ہے۔ 

آپ کا تازہ مکتوب اور اس کے ساتھ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے بارے میں چارٹر پر آپ کی تجزیاتی رپورٹ موصول ہوئی۔ مجھے آپ کے پروگرام سے مکمل اتفاق ہے۔ اہل اسلام کو اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم نے اپنے احباب کی مجلس مشاورت میں فیصلہ کیا ہے کہ ادارہ ضیاء المصنفین کی وساطت سے ان موضوعات پر تحقیقی کاوشیں منظر عام پر لائی جائیں۔ ان شاء اللہ اس کی عملی صورت آپ بہت جلد ملاحظہ فرمائیں گے۔ 

میری دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے خلوص نیت کے مطابق اجر جزیل عطا فرمائے اور آپ کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ طٰہٰ ویٰسین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

والسلام۔مخلص

(صاحبزادہ پیر) امین الحسنات شاہ

سجادہ نشین بھیرہ شریف 

(۷)

گرامی قدر نگران مطبوعات ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

خاکسار آپ کے شائع کردہ علمی مجلہ کا ایک نہایت ادنیٰ قاری ہے لیکن گزشتہ چند اشاعتوں سے مضامین کچھ مبہم اور پراسرار رمزیت کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ مثلاً مسجد اقصیٰ یا پھر حکومت کی جانب سے موجودہ تعلیمی اصلاحات وغیرہ کی بابت۔ وہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ

ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق 
ہسپانیہ پر کیوں نہیں حق اہل عرب کا

حضرت اکبر الٰہ آبادی ابھی تک ہمارے علما کی دست برد سے خاصے محفوظ چلے آ رہے ہیں۔ آپ نے بھی اسی قسم کی تعلیمی اصلاحات جو کہ لارڈ میکالے نے فرمائی تھیں، اس پر ہی کہا تھا کہ

نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے
مگر یونہی کہ گویا آب زم زم مے میں داخل ہے

نہ صرف لارڈ میکالے کے نظام پر مکمل تحقیقی وتجزیاتی کتاب بلکہ حالیہ تعلیمی اصلاحات کے نام پر منحوس تثلیث یعنی ہنود، یہود ونصاریٰ کے ایجنڈے پر عمل درآمد جو کہ واضح طور پر Jewish Protocols پر عمل درآمد کا حصہ ہے، اس کا مکمل ترجمہ تحقیقی وتنقیدی حواشی کے ساتھ شائع کرنا آپ جیسے علمی ومذہبی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آپ مختلف اہم موضوعات پر قسط وار شائع شدہ مضامین کو ’ترجمان القرآن‘ لاہور والوں کی طرح ’منشورات‘ کی طرز پر کتابچوں کی صورت میں علیحدہ بھی یکجا شائع کر سکتے ہیں۔ اس طرح کتابچے موثر رہتے ہیں اور افادہ بھی سہل طرح سے کیا جا سکتا ہے۔

جاوید احمد غامدی اینڈ کمپنی کے کتابچے پشاور جمرود روڈ سے بھی شائع ہوتے ہیں۔ ان سے دین اور دیگر امور میں غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ میرے پاس کچھ کتابچے ہیں۔ ان سے محض اختلاف ہی نہیں، ان پر نکیر کرنی چاہیے۔ یہ قرآن وحدیث کو اپنے باطل خیالات پر منطبق کرتے ہیں۔ یہ بھی اب NGOs کی طرح کام کر رہے ہیں۔ افغان جنگ اور اس پر ان لوگوں کے خیالات ڈھکے چھپے نہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ٹھیٹھ مذہبی ادارے اور افراد وتنظیمیں بھی اب افغان اور طالبان کو فراموش کر کے حزب اقتدار واختلاف کے کھیل میں مگن ہیں۔ دیکھیں طالبان واسامہ کی صورت میں علامہ اقبال کے اس شعر نے کیسے حقیقت کا روپ دھارا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ

قدرت کے اصولوں کی کرتا ہے نگہبانی
یا مرد کہستانی یا بندۂ صحرائی

کل کے ہیرو آج کے باغی اور آج کے ہیرو کل کیا ہوں گے؟ ارد گرد ماحول، حالات وواقعات اور روز افزوں اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر ہی یہ شعر زبان پر آ جاتا ہے کہ

اے خدا قبر کے مردوں سے نہیں میری مراد
چلتے پھرتے ہیں جو مردے انھیں زندہ کر دے

آمین یا رب العالمین

تنویر احمد بٹ

کراچی

(۸)

محترم المقام مولانا عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ماہنامہ ’الشریعہ‘ گاہے گاہے چونکا دینے والی تحریریں شائع کرنے کا اعزاز رکھتا ہے۔ جون ۲۰۰۴ء کے شمارے میں ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ کے زیر عنوان پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون اسی قبیل کا ہے جس میں مذہبی طبقات کے خلاف ’’آرٹ‘‘ سے بے بہرہ ہونے کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ مجھے اس مضمون کے متعدد نکات سے اختلاف ہے۔

سب سے پہلے تو ’عالم‘ اور ’فقیہ‘ کے مابین میاں صاحب نے جو فرق قائم کیا ہے، وہ نہ صرف خود ساختہ بلکہ حقیقت کے برعکس ہے۔ دینی اصطلاح میں ’فقیہ‘ اس عالم کو کہتے ہیں جو احکام کے اسرار ورموز کی تہہ تک پہنچنے اور مغلق اور پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ایک ’فقیہ‘ علم وفہم کے لحاظ سے ایک ’عالم‘ سے بلند تر درجے پر فائز ہوتا ہے۔ یعنی ہر فقیہ کے لیے عالم ہونا ضروری ہے جبکہ ہر عالم کے لیے فقیہ ہونا ضروری نہیں، لیکن میاں صاحب نے اس نسبت کو بالکل الٹ کر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہر عالم، فقیہ ہوتا ہے، لیکن ہر فقیہ، عالم نہیں ہوتا۔

میاں صاحب نے اس بات پر بھی اعتراض کیا ہے کہ دینی جرائد کے سرورق پر کسی مخصوص ادارے یا مکتب فکر کے ’’ترجمان‘‘ ہونے کا اعلان کیوں کیا جاتا ہے۔ گزارش یہ ہے کہ میاں صاحب تو تعلیم یافتہ اور شعور کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں، وسیع المطالعہ ہونے کی بنا پر کھرے کھوٹے کو پہچاننے میں مہارت رکھتے ہیں، اور تحریر کو ایک نظر دیکھ کر جاہلوں کے برخلاف، جو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں، اس کے مصدر تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن مسئلہ تو ان سادہ لوح قارئین کا ہے جو تحریر کو پڑھنے کے بعد بھی اس کے اصل مقصد کو سمجھ نہیں پاتے اور کھرے کھوٹے کی پہچان نہیں کر سکتے۔ لہٰذا رسالے کے سرورق پر یہ لکھ دینا کہ یہ فلاں طرز فکر کا ترجمان ہے، عین حکمت ہے۔ اس سے ایک عام قاری سرورق ہی کو دیکھ کر جان جاتا ہے کہ یہ رسالہ اس کی ذہنی اور فکری تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

اسی طرح موصوف کے نزدیک مذہبی حلقوں کے موضوعات، مواد، الفاظ کا چناؤ اور اپروچ اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ ان کا دینی ادراک گھن گرج، چیخ پکار، لفظی مباحث، جگت بازی، جذبات اور فروعی مسائل کے گرد گھومتا ہے لہٰذا مذہبی طبقے کا ادراک ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہو چکا ہے۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ میاں صاحب، اور مذہبی حلقوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے ان جیسے دوسرے مخلصین ومصلحین کا دینی ادراک اگر ’’ابلیسیت زدہ‘‘ نہیں تو نا پختہ اور تعلیم وتربیت کا محتاج ضرور ہے۔ اب اگر مذہبی حلقوں کا دینی ادراک ’’ابلیسیت زدہ‘‘ اور غیر مذہبی حلقوں کا دینی ادراک نامکمل اور خام ہے تو پھر دین کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے کس کی بات کو معتبر سمجھا جائے؟

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

محمد احسن ندیم

(معاون ناظم)

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ

(۹)

۱۵ مئی ۲۰۰۴/۲۴ ربیع الاول ۱۴۲۵

بخدمت گرامی قدر مخدومی حضرت علامہ زاہد الراشدی صاحب مدظلہ العالی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

سب سے پہلے تو ’’اشاریہ معارف القرآن‘‘ پر دوبارہ تقریظ تحریر فرمانے کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دیں۔ آمین

آپ کا مرسلہ ’’نوائے شریعت‘‘ کا خصوصی شمارہ ملا۔ یاد فرمائی کا شکریہ۔ آپ کا تجزیہ پڑھنے سے یہ دکھ پھر تازہ ہو گیا کہ ہمارے اہل علم وفضل جس رخ پر کام کر رہے ہیں، بس اسی تک محدود ہیں۔ دائیں بائیں دیکھنے کو تیار نہیں۔ عوام الناس کی فکری تربیت، لچھے دار تقریروں سے ہٹ کر، بہت کم خطبا کرتے ہیں۔ جو عالم جس خصوصی شعبہ میں کام کر رہا ہے، اس کا علم اسی تک محدود ہے۔ دوسرے دینی شعبوں میں اس کی معلومات انتہائی افسوس ناک حد تک کم ہوتی ہیں۔ خطبا نے بھی موضوع طے کر رکھے ہیں۔ کوئی سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی خطیب بریلویت، کوئی خطیب رافضیت کے رد کے حوالہ سے مشہور ہے۔ ان خطبا کو عوام الناس کی عمومی دینی حالت اور معاشرتی خرابیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ بقول شخصے اردو گا کر پڑھنا، قرآن مجید ترنم سے پڑھنا منتہاے خطابت ہے۔

حضرت والا! ایک خطیب صاحب نے ہزاروں کے مجمع میں خطاب فرمایا: ’’لوگ کہتے ہیں غربت ہے۔ ہمارے پاس تو بکرے روسٹ ہو کر آ جاتے ہیں۔ ہمیں تو غربت نظر نہیں آتی۔ معلوم نہیں غربت کہاں ہے‘‘ ایک معروف سکالر اس وقت جلسہ گاہ کے باہر احقر کے پاس بیٹھے تھے۔ ہم دونوں سر پکڑ کر اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر رہ گئے۔ ہمارے حالات یہ ہیں اور شکوہ ہوتا ہے لوگوں کی ناقدری کا۔ خطبا کی تقریروں میں مقصد کی بات بہت کم ہوتی ہے، ادھر ادھر کی باتیں تقریروں میں زیادہ ہوتی ہیں۔

پاکستان میں تمام مسالک کے دس ہزار سے زائد مدرسے ہیں لیکن ا س کے باوجود پاکستان میں بہائیت، عیسائیت، پرویزیت وغیرہ روز افزوں ہے۔ وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ اصلاح عقائد واصلاح معاشرہ کی فکر بہت کم ہے۔ مدرسہ میں اتفاقاً پہنچ جانے والے طلبا کی تربیت اور ان کے خور ونوش کے انتظامات کی فکر زیادہ ہے۔

حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تصنیفی کام بھی کیا، ملازمت بھی کی، مدرسہ بھی بنایا جو کہ دار العلوم دیوبند کے نام سے عالمی سطح پر معروف ہے، ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مناظرے بھی کیے، جہاد بالسیف بھی کیا۔ وہ سب کام کر سکتے ہیں اور ہم ان کے نام لیوا، ان کی طرف نسبت کر کے ’قاسمی‘ کہلانے والے کچھ نہیں کر سکتے۔ بقول شخصے جب ہمارے ذاتی مفادات پر زد پڑتی ہے تو فوراً چلاتے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے۔ جب تک ہمارے ذاتی مفادات متاثر نہ ہوں، اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ہمارے پچاس فی صد مدارس کے پاس ماشاء اللہ اتنے وسائل ہیں کہ اگر ان کے منتظم ومہتمم صاحبان چاہیں تو تحریری وتقریری طور پر فرق باطلہ کے ابطال اور اصلاح معاشرہ کا (اسلامی حکمت عملی کے ساتھ) کام کرنے کے لیے مستقل شعبہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس میں موزوں صلاحیت رکھنے والے علما وخطبا کا تقرر کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ نہ سہی، ایک دو ہی سہی۔ لیکن بے حسی کا علاج کون کرے؟

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

آپ نے اپنے مضمون میں جن تین مرحلوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے پہلے مرحلے کی آپ خود ہی ابتدا کر چکے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے لیے وسیع مطالعہ اور تحقیقی بنیادوں پر تالیفات کی ضرورت ہے۔ احقر نے جو حالات پہلے اجمالاً ذکر کیے ہیں، ان کی بنیاد پر مایوسی طاری ہوتی ہے۔ احقر ایک سرپھرا شخص ہے لیکن بہت سی مجبوریاں آڑے ہیں۔ فی الحال اس بوجھ کو اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ احقر کی طرح اور بھی کئی حضرات درد دل رکھنے کے باوجود مجبور ہوں گے۔ تاہم معاشی ومعاشرتی آزادی رکھنے والے علماء کرام کی بھی کمی نہیں ہے، بشرطیکہ ضرورت محسوس فرمائیں تو۔

احقر کو یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ آپ کو رابطہ عالم اسلامی کے انسانی حقوق نمبر سے رابطہ کا مرتب کردہ انسانی حقوق کا چارٹر دیا تھا بلکہ غالباً اس کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا جو کہ ’الشریعہ‘ کے ایک خاص نمبر میں شائع ہوا۔ آپ دو چار اہل علم سے انفرادی واجتماعی مشاورت فرما لیں اور رابطہ کے مرتب کردہ ’’انسانی حقوق کے چارٹر‘‘ میں جس ترمیم واضافہ کی ضرورت ہو، وہ کر کے ممتاز دینی اداروں سے تائیدی دستخط کرا لیں۔ پھر اس کو انٹر نیٹ پر اور دیگر طریقوں سے مشتہر فرمائیں۔

آپ کی وساطت سے علماء کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ ہر شعبہ میں کام کرنا اور جہاں جو فتنہ اٹھے، مکمل تیاری کے ساتھ اس کا رد کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت مبارک ہے۔ مولانا قاسم نانوتویؒ کا طریق کار بھی یہی رہا ہے۔ اسپیشلائزیشن (تخصص) کا دور ہونے کا جواز اپنی جگہ، لیکن معاشرتی ودینی فتنوں سے صرف نظر کرنے کی کیا اسلام اجازت دیتا ہے؟

تلخ نوائی کی معذرت کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔

والسلام۔ آپ کا نیاز مند

(مولانا) مشتاق احمد 

جامعہ عربیہ۔ چنیوٹ

(۱۰)

۱۴ مئی ۲۰۰۴ء/۲۳ ربیع المنور ۲۵ھ

مکرمی حضرت زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الحمد للہ علیٰ کل حال

۱۔ اپریل کے اواخر میں بعض کتابیں بذریعہ پارسل روانہ کی تھیں۔ مل گئی ہوں گی۔

۲۔ ہندوستان سے ایک تحقیقی استفسار آیا ہے ابن عربیؒ کی کوئی تصنیف بعنوان ’’التنزلات الموصلیہ‘‘ کے بارے میں (موصل۔ عراق کا شہر) میرے پاس موجود ومیسر تذکروں میں ایسی کوئی تصنیف مذکور نہیں۔ کیا آپ کے علم میں ایسی کسی کتاب کا وجود ہے؟ اصل عربی میں ہو یا امکاناً اگر اردو ترجمہ ہوا ہو۔ آپ کے ہاں یا آپ کے علم کی حد تک پاکستان کی کسی لائبریری میں؟ اگر بہ آسانی آپ کو اس کا علم ہو سکے تو میری عدم حاضری مستقر کے باوجود برخوردار عاصم قادری سلمہ کو میرے گھر کے پتے پر مطلع فرما دیجیے۔ وہ تعاقب کر لیں گے۔ فجزاکم اللہ۔ میں نے بھی یہاں مختلف سمات میں صحرائی اذانیں دے رکھی ہیں۔

۳۔ اپریل/مئی کا ’الشریعہ‘ مل گیا، دو روز قبل۔ وقت پر شدید بلکہ ناگفتہ بہ دباؤ کے باوجود آپ کا ’کلمہ حق‘ بہرحال پڑھ لیا۔ نہ معلوم کیوں ذہن کے غار حرا میں یہ آواز گونجتی رہی کہ کیا یہ حکم خداوندی اسی قسم کے ائمۃ الجہال کے حق میں تو نہ اتری تھی جن سے آپ مخاطب ہیں: واذا خاطبہم الجاہلون قالوا سلاما۔ واذا مروا باللغو مرواکراما۔ صدیوں سے ان حضرات کے نزدیک تحقیق کا تلفظ تحقیر وتضحیک بلکہ بعض اوقات توبیخ ہو جاتا ہے۔ ہمارے بڑے سائیں سبحانہ تو ایسی پیاری باتیں کرتے ہیں کہ شاکرا لانعمہ سجدہ ریز ہو جاتا ہوں۔ یہ بات ان شکست خوردہ گروہ کے لیے ہی تو آئی ہوگی نا کہ ’ام عندہم خزائن رحمت ربک العزیز الوہاب۔ ام لہم ملک السماوات والارض فلیرتقوا فی الاسباب‘؟ نہیں بلکہ ان کا یہ رویہ اس لیے ہے کہ ’جند ما ہنالک مہزوم من الاحزاب۔ فتعالی اللہ الملک الحقً۔ حضرت! آپ اس قوم، کم نظر، بے ہنر وکم کوشوں کی قوم پر بہ ایں ہمہ اللہ کا انعام ہیں۔ المنۃ للہ ولہ الحمد۔ ایک بار ہلکے سے یہ آیت تو ورد کر لیجیے۔ ’لعلک باخع نفسک علی آثارہم‘۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین

فقط

سید عماد الدین قادری

کراچی

(۱۱)

مکرمی ومحترمی جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب 

السلام علیکم

عرض ہے کہ عام مذہبی جرائد (میری معلومات کی حد تک) پڑھنے سے قاری کو شعور وآگہی میں کوئی مدد نہیں ملتی اس لیے کہ ان کی سوچ اپنی مسلکی تنگنائے سے اوپر اٹھتی ہی نہیں، جس کا اعتراف آپ نے ’الشریعہ‘ جون ۲۰۰۴ء کے ادارے میں کیا۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ دن بدن خرد افروزی کی طرف مائل ہوتا چلا جا رہا ہے اور تقلید کی کینچلی اتار کر حقیقت دین روشناس کرانے کی جدوجہد میں مصروف ہے، جیسا کہ عزیزم عمار خان ناصر کے مسجد اقصیٰ کے متعلق مقالہ (الشریعہ، ستمبر/اکتوبر ۲۰۰۳ء، اپریل/مئی ۲۰۰۴ء) سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑی پیش رفت اور جرات ہے جو ’الشریعہ‘ نے کر دکھائی۔ میں آپ کی اور آپ کے صاحبزادے عمار خان ناصر اور پروفیسر انعام الرحمن کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں۔

ایک حسن اتفاق سے آپ کا غائبانہ تعارف ہوا اور اسی حسن اتفاق کے نتیجے میں میری الٹی سیدھی تحریر نے ’الشریعہ‘ میں شائع ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اب کے پھر میں نے عزیزم عمار خان ناصر کی پیروی میں مسجد اقصیٰ اور سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کے متعلق کچھ دوسرے لوگوں کا نقطہ نظر ارسال کیا ہے اور عزیزم عمار خان ناصر صاحب کو اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ میں لکھاری نہیں ہوں، محض ایک کم علم سا قاری ہوں، اس لیے میں تحریر کے آداب ورموز سے ناواقف ہوں۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے خیالات کو ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہوں جس کی وجہ سے شاید میری تحریر معیار ادب پر پوری نہ اترتی ہو۔ اس کے لیے معذرت خواہ ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ میری اس فرو گزاشت کو نظر انداز فرماتے ہوئے اسے ’الشریعہ‘ کی کسی قریبی اشاعت میں جگہ عطا فرما کر ممنون فرمائیں گے۔

آپ تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ سے مجھ ناچیز پر شفقت فرما رہے ہیں۔ ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے مل رہا ہے۔ اس کے لیے میں آپ کا ممنون احسان ہوں۔ اب کے مجھ میں آپ کا مزید بار احسان اٹھانے کی ہمت نہیں رہی، اس لیے ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی دین سے متعلق شعور وآگہی کی جدوجہد میں شرکت کی غرض سے حقیر سا حصہ (دو سال کا زر مبادلہ بذریعہ منی آرڈر) ارسال خدمت ہے۔ امید ہے کہ آپ قبول فرمائیں گے۔ آپ کی صحت اور درازی عمر کا متمنی

نیاز آگیں

آفتاب عروج

(۱۲) 

۲۲ مئی ۲۰۰۴

محترم جناب گرامی قدر حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم۔ مزاج شریف

آپ کے ارسال کردہ سار ے مضامین ’بیداری‘ کی ضرورت ہیں۔ شاید کچھ مضامین وقتی نوعیت کے ہیں ورنہ بیشتر مضامین تقریباً مستقل نوعیت کے ہیں۔ اس بار ’بیداری‘ کے شمارے کے لیے دو مضامین کمپوزنگ کرا لیے تھے لیکن مواد کی زیادتی کی وجہ سے ایک مضمون کو موخر کر دیا۔ آپ کے یہ مضامین سندھی زبان میں بھی ترجمہ کر کے ’بیداری‘ سندھی میں دے رہے ہیں۔ آئندہ بھی اگر شائع ہونے والے مضامین کی فوٹو کاپی ارسال فرمائیں تو یہ عاجز ازحد ممنون ہوگا۔

دوسری خاص گزارش یہ ہے کہ بھارت میں ’الفرقان‘ کے مرتب حضرت مولانا یحییٰ نعمانی صاحب علما کے لیے ایک ایسا کورس شروع کرنا چاہ رہے ہیں جس سے ان کے اندر کسی حد تک یہ صلاحیت پیدا ہو سکے کہ وہ دور جدید کے علمی، فکری اور نظریاتی چیلنج کو سمجھ سکیں۔ اس سلسلے میں مشاورت کے لیے مولانا کا خط آیا ہے۔ اس عاجز نے انھیں لکھا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان میں حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کا تجربہ سب سے زیادہ ہے اور وہ اس سلسلہ میں کافی عرصہ سے کوشاں بھی ہیں۔ آپ کی خدمت میں حضرت مولانا کا خط جو بیداری کے جون کے شمارے میں چھپ رہا ہے، کمپوزنگ شدہ ارسال خدمت ہے۔ اگر وقت نکال کر اس سلسلہ میں حضرت مولانا کی تفصیل سے اپنے تجربات کی روشنی میں رہنمائی فرما سکیں تو ازحد احسان ہوگا۔ حضرت مولانا کو آپ کے خط کا انتظار ہوگا۔ میں نے لکھا ہے کہ اس سلسلے میں اس عاجز کی ناتجربہ کاری کے پیش نظر ان شاء اللہ حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب آپ کو تفصیلی خط تحریر فرمائیں گے۔

میرا علاج چل رہا ہے۔ الحمد للہ فائدہ ہے لیکن فائدہ کی رفتار سست ہے۔ خصوصی دعا کی التجا ہے۔

اس ماہ کا ’الشریعہ‘ مل چکا ہے۔ آپ کے ادارتی نوٹ سے یہ عاجز سو فی صد متفق ہے۔ خدا کرے ’بیداری‘ کا شمارہ مل گیا ہو۔

خدا کرے مزاج بخیر ہوں۔

والسلام۔ احقر

محمد موسیٰ بھٹو

(ایڈیٹر ماہنامہ ’بیداری‘)

۴۰۰/بی ، لطیف آباد یونٹ ۴، حیدر آباد)

(۱۳)

باسمہ سبحانہ

محترمی حضرت مولانا محمد یحییٰ نعمانی صاحب زیدت مکارمکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مزاج گرامی؟

مولانا محمد موسیٰ بھٹو آف حیدر آباد کے ذریعے سے آپ کی ایک تحریر موصول ہوئی اور ان کا پیغام ملا کہ میں اس سلسلے میں آنجناب کو اپنے خیالات وتاثرات سے آگاہ کروں۔ 

حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی سے میری پرانی نیاز مندی ہے۔ کم وبیش ہر سال ایک آدھ مرتبہ ان کی خدمت میں حاضری، ملاقات اور مختلف امور پر استفادے کا موقع مل جاتا ہے۔ مولانا سجاد نعمانی صاحب کے ساتھ بھی ایک سفر میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی معرفت رفاقت رہی ہے۔ آپ کی زیارت کا موقع ابھی تک نہیں مل سکا، البتہ آپ کی تحریریں بسا اوقات نظر سے گزرتی رہتی ہیں اور خوشی ہوتی ہے کہ اس صحراکی آبلہ پائی میں ہم تنہا نہیں ہیں۔

ہمارے بزرگوں نے اپنے مدارس کے فضلا کو حکمت عملی کے تحت ایک دائرے میں محدود رکھنے کی شعوری کوشش کی تھی تاکہ دینی مدارس، مساجد اور مکاتب کا نظام قائم رہے اور اسے ضرورت کے مطابق رجال کار ملتے رہیں مگر ہم نے اسے ہی سب کچھ قرار دے لیا ہے اور اس دائرے سے باہر کسی ضرورت، تقاضے اور پکار کی طرف توجہ دینے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں جبکہ وقت بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھتا جا رہا ہے اور ہم وقت کی لگام کھینچنے کی ناکام کوشش میں اس کے ساتھ بری طرح گھسٹ رہے ہیں۔

اس وقت ہم عجیب مخمصے اور صورت حال سے دوچار ہیں۔ ایک طرف تحفظات اور خدشات وخطرات کے وہ تمام دائرے بدستور موجود ہیں جن کی وجہ سے ہمارے بزرگوں نے اپنے گرد ایک دائرہ کھینچ کر خود کو اس کے اندر محصور کر لیا تھا اور دوسری طرف وقت کی تیز رفتاری اور عالمی سطح پر فکر وفلسفہ اور تہذیب وثقافت کی ہمہ جہت کشمکش، توڑ پھوڑ، ایڈجسٹمنٹ اور تشکیل نو کے مختلف اور متنوع مراحل ومظاہر نے ہمارے سامنے ایسے سنگین مسائل اور چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں کہ ان سے صرف نظر کرنا ملی ضروریات سے انحراف اور ایمانی تقاضوں سے دست برداری کے مترادف محسوس ہونے لگا ہے۔

میری ایک عرصہ سے یہ سوچ چلی آ رہی ہے کہ درس نظامی کے موجودہ سسٹم کو نہ چھیڑا جائے، اسے اسی طرح چلنے دیا جائے اور اس میں داخلی اصلاحات کے ذریعے سے بہتری کی کوششیں جاری رکھی جائیں لیکن کچھ اصحاب فکر اس سے ہٹ کر وقت کی ضروریات کی طرف توجہ دیں اور ان کی تکمیل کے لیے ایک الگ تعلیمی نظام کا تجربہ کیا جائے۔ جہاں تک میرے علم میں ہے، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش تینوں جگہ انفرادی طور پر اس کے تجربات ہو رہے ہیں اور اس رخ پر کام کرنے والے اداروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے لیکن ان کے درمیان رابطہ ومشاورت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اگر اس خلا کو پر کیا جا سکے تو موجودہ کام کی افادیت دوچند ہو سکتی ہے اور اس میں مزید بہتری اور پیش رفت کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

اسی سلسلے کا ایک مرحلہ درس نظامی کے فضلا کے لیے خصوصی کورسز کے اہتمام کا ہے تاکہ آج کے فکری تقاضوں کے ساتھ ان کا رشتہ جوڑا جا سکے۔ یہ کام بھی مختلف مقامات پر ہو رہا ہے اور تخصصات کے نام پر درس نظامی کے فضلا کو مختلف علوم وفنون کے خصوصی مطالعہ کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم نے بھی الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں گزشتہ سال ایک تجربہ کا آغاز کیا ہے۔ درس نظامی کے فضلا کی ایک کلاس کو ہم نے مندرجہ ذیل مضامین کی تیاری کرانے کی کوشش کی ہے:

  • حجۃ اللہ البالغہ کے منتخب ابواب (مقدمہ، ارتفاقات اور اسباب اختلاف صحابہ وفقہا)
  • اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر (اسلامی احکام کے تقابلی مطالعہ کے ساتھ)
  • مقارنۃ الادیان (یہودیت، مسیحیت، ہندو مت، بدھ مت، مجوسیت اور سکھ مت کا تعارفی مطالعہ)
  • تاریخ (عمومی تاریخ، تاریخ اسلام اور معاصر تاریخی حالات)
  • سیاسیات، نفسیات اور معاشیات کا تعارفی مطالعہ
  • معاصر علمی وفکری بحثوں کا تعارف
  • انگریزی، عربی اور کمپیوٹر ٹریننگ

یہ ایک سالہ کورس تھا جس کی افادیت ہم پڑھانے والوں کے علاوہ پڑھنے والوں نے بھی بہت زیادہ محسوس کی ہے اور اب ہمارے پاس اس سلسلے کی دوسری کلاس ہے۔ ہم اس کے بارے میں ابھی پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ بہت سے ضروری امور ہم اس میں شامل نہیں کر پائے اور بہت سے شامل امور کی تکمیل ہمارے بس میں نہیں رہی لیکن مجموعی طور پر یہ تجربہ مفید رہا۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ بھی اس رخ پر سوچ رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور حسب استطاعت مشاورت کے درجہ کے تعاون کے لیے ہم ہر وقت حاضر ہیں۔

میں نے اس سے متعلقہ امور پر بیسیوں مضامین میں گزارشات پیش کی ہیں جن میں سے بہت سے مضامین ہماری ویب سائٹ www.alsharia.org پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں آنجناب سے بھی راہ نمائی اور مشاورت کے خواست گار ہیں۔ امید ہے کہ ہمارا باہمی رابطہ قائم رہے گا اور ہم اس کارخیر کو بہتر سے بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں ایک دوسرے سے موثر تعاون کر سکیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

آپ کے ارسال کردہ دو مضامین موصول ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ’بذل المجہود‘ کے تعارف پر مبنی آپ کا مقالہ تو پاکستان کے بعض جرائد میں شائع ہو چکا ہے، البتہ ’’سیرت نبوی کے مطالعے کی اہمیت‘‘ کے زیر عنوان مقالہ ’الشریعہ‘ کی کسی قریبی اشاعت میں شامل اشاعت کر لیا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ آپ کی طرف سے قلمی تعاون کا یہ سلسلہ امید ہے کہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

احباب ورفقا سے سلام مسنون

شکریہ! والسلام

ابو عمار زاہد الراشدی

خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ

(۸/ جون ۲۰۰۴ء)


مکاتیب