کیا علاقائی کلچر اور دین میں بُعد ہے؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ الشریعہ کے نومبر ۲۰۰۳ء کے شمارے میں رئیس التحریر جناب ابو عمار زاہد الراشدی کا مضمون بعنوان ’’خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام‘‘ شائع ہوا۔ راشدی صاحب کے طرز استدلال اور وسعت بیان کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جن نکات پر قلم اٹھایا ہے، ان سب سے اتفاق کرنا پڑتا ہے سوائے آخری چند سطور کے۔ یہ سطریں مذکورہ شمارے کے سرورق پر بھی شائع ہوئی ہیں:

’’عورت کے حوالے سے ہماری موجودہ اور مروجہ روایات واقدار کا ایک بڑا حصہ ہمارے علاقائی کلچر سے تعلق رکھتا ہے جسے دین قرار دے کر ان کی ہر حالت میں حفاظت کا تکلف روا رکھا جا رہا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک حاصل کرنا اب ضروری ہو گیا ہے کہ ہر حالت میں تحفظ صرف دینی تعلیمات واقدار کا حق ہے جبکہ کلچر اور ثقافت، حالات اور ضروریات کے تغیر کے ساتھ ساتھ بدلتی رہنے والی چیزیں ہیں۔ ‘‘

اس پیراگراف میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے، اس سے مجال انکار نہیں بلکہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ مذہبی طبقے کے نمائندہ افراد نے حالات وواقعات کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے بیان واظہار میں بھی جگہ دینی شروع کر دی ہے۔ خدا کرے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے۔ جہاں تک اس سے میرے اختلاف کا تعلق ہے تو وہ شاید بہت ’’نظری‘‘ سا ہے اور ممکن ہے کہ قارئین اسے محض میرے ’’وہم‘‘ پر محمول کریں۔ تاہم اپنی علمی کم مائیگی اور فکری ناپختگی کے باوجود اظہار رائے کی آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راقم حسب ذیل نکات اٹھانے کی جسارت کرے گا:

۱۔ علاقائی ثقافت، روایات اور اقدار بھی دین کا حصہ ہیں کیونکہ دین ایک ’’کل‘‘ ہے اور اہل ایمان کو دین میں پورے کا پورا ہی داخل ہونا ہے۔

۲۔ اگر علاقائی ثقافت اور روایات واقدار کو دین سے نتھی نہ کیا جائے تو بتائیے باقی بچتا ہی کیا ہے؟ گوشت پوست سے خالی ڈھانچہ اور بس۔

۳۔ راقم کی رائے میں امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی صحیح سپرٹ اس وقت تک سامنے آ ہی نہیں سکتی جب تک دین ثقافت کی سطح پر آکر معاشرتی زندگی میں رچ بس نہ جائے۔

مذکورہ نکات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمار اصل مسئلہ دین کی صحیح تعبیر ہے۔ ہم ابھی تک اجتماعی طور پر دین کی صحیح تعبیر سے محروم ہیں۔ غالباً راشدی صاحب کے بیان کردہ نکتہ کی صحیح تعبیر یوں ہوگی کہ علاقائی ثقافت اور روایات واقدار دین کی اس جہت سے متعلق ہیں جو تغیر پذیر ہے اور احوال وظروف کے تقاضوں کے گرد گھومتی ہے۔ ورنہ اگر ثقافت کو دین سے بالکل جدا تسلیم کر لیا جائے تو دین محض عبادات کا نام رہ جائے گا اور ہم نے اسے واقعتاً اور عملاً ایسا ہی بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم دین اور ثقافت کو دو مختلف چیزیں شمار کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

چونکہ بات چل نکلی ہے، اس لیے لگے ہاتھوں ہم ایک اور نکتہ بیان کرنے کی جسارت کریں گے جس سے مذکورہ بحث مزید واضح ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں فلسفہ یونان کے اثرات کے تحت ماضی میں یہ رجحان بھی ابھرا کہ ’’انسان‘‘ ہی سب کچھ ہے۔ چونکہ قرآن مجید کا موضوع انسان ہے، اس لیے ہمارے فلاسفہ نے یونانی تاویلات سے بہرہ مند ہو کر ایک مخصوص طرز فکر کو پروان چڑھایا جس کا منطقی نتیجہ ’’دما دم مست قلندر‘‘ کی صورت میں نکلا۔ یہ طرز فکر دین اسلام کا Introvert (داخل رخی) ایڈیشن تھا۔ اس کے بعد جب اہل مغرب تجرباتی انداز فکر کی بدولت ترقی کے مدارج طے کرنے میں کام یاب ہو گئے تو اقبال نے اپنی مشہور کتاب ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ میں فرمایا کہ قرآن کی روش بنیادی طور پر اختباری ہے۔ قرآن مجید بار بار خارجی مظاہر عالم، چاند، ستاروں، سورج، زمین وآسمان وغیرہ پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ طرز فکر اسلام کا Extrovert (خارج رخی) ایڈیشن ہے۔ 

راقم کی نظر میں امت مسلمہ کے موجودہ احوال وظروف بتاتے ہیں کہ اس وقت ان دو طرز ہائے فکر میں کشمکش جاری ہے، حالانکہ دین نہ تو مکمل طور پر داخل رخی ہے اور نہ سارے کا سارا خارج رخی۔ دین داخلی اور خارجی عناصر کے ساتھ ساتھ تمام ممکنات پرمحیط ہے، اس لیے اس کے کسی ایک پہلو کو لے کر اسے ہی دین قرار دینا خلاف مصلحت ہونے کے علاوہ خود دین کے جامع تصور کی بھی نفی ہے۔ راقم کی ناقص رائے میں جو لوگ دین کو خارج رخی قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، ان کی مثال ایسے ہے جیسے وہ کسی اندھے سے توقع رکھیں کہ وہ سورج کو دیکھ سکے گا۔ اسی طرح جو لوگ دین کو داخل رخی قرار دینے پر مصر ہیں، وہ ایسے ہیں جو اپنی بینائی کے بل بوتے پر رات کی تاریکی میں سورج کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ خارج میں سورج کا ہونا بھی ضروری ہے اور دیکھنے والے کی نگاہوں میں بصارت کا ہونا بھی۔

قصہ مختصر، علاقائی ثقافت ہو، روایات واقدار ہوں یا زندگی کا کوئی دوسرا پہلو، اسے ایک وسیع تر مفہوم میں دین سے خارج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ علاقائی ثقافت کی کوئی آخری حد ہو جہاں سے آگے دین کی سرحد شروع ہو جائے؟ راقم کی رائے میں یہ محض خام خیالی اور دین کے جامع تصور کو کنفیوژ کرنے کے مترادف ہے۔

آراء و افکار