دسمبر ۲۰۰۳ء

امریکی مسلمانوں کی صورتحال اور مستقبل کی توقعات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس سال رجب اور شعبان کی تعطیلات امریکہ میں گزارنے کا موقع ملا۔ ۱۸ ستمبر کو میں امریکہ پہنچا اور ۴ نومبر کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ دار الہدیٰ، سپرنگ فیلڈ ورجینیا کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر کا تقاضا تھا کہ ان تعطیلات میں وہاں حاضری دوں اور دار الہدیٰ میں مختلف موضوعات پر خطابات کے سلسلے میں شریک ہوں۔ اس سے قبل اسی سال مئی کے دوران میں کم وبیش تیرہ سال کے وقفہ کے بعد دو ہفتے کے لیے امریکہ گیا تھا اور اس وقت بھی زیادہ تر قیام دار الہدیٰ میں ہی رہا تھا۔ اسی موقع پر مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی سالانہ تعطیلات کے دوران دار الہدیٰ میں مختلف...

دور جدید میں اسلامی شریعت کا نفاذ کیسے ہو؟

― محمد موسی بھٹو

اسلامی شریعت کے نفاذ بالخصوص سزاؤں سے متعلق اس کے قوانین کے اجرا کے سلسلہ میں صحیح نبوی ترتیب کیا ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو مسلم معاشروں میں اسلامی حلقوں میں ایک عرصہ سے زیر بحث ہے۔ صوبہ سرحد میں شریعت کے نفاذ کے اعلان اور اس کی منظوری کے بعد اس سوال کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یقیناًاسلامی شریعت کا نفاذ ہر دردمند مسلمان کے دل کی آواز ہے اور اس سے بڑھ کر کسی علاقہ اور صوبہ کی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا ریاستی نظام قوانین شریعت پر تشکیل دیا جائے لیکن بالخصوص موجودہ دور میں شریعت کے عملی نفاذ کے سلسلے میں جو دشواریاں پیش آ گئی ہیں، انہیں...

حدود آرڈیننس : چند تجزیاتی آرا

― ادارہ

ہمارا معاشرہ، بہت سے دوسرے فکری اور عملی سوالات کی طرح، اسلامی قوانین کے حوالے سے بھی انتہا پسندی کا شکار ہے۔ ایک طرف جدید مغربی فلسفہ قانون سے متاثر وہ طبقہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے باوجود شرعی قوانین کی افادیت اور ان کے قابل عمل ہونے پر سرے سے یقین ہی نہیں رکھتا اور قرآن وسنت کو بطور ماخذ قانون تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ دوسری طرف مذہبی طبقات ہیں جن کے ہاں اسلامی قوانین کے بارے میں یہ تصور رائج ہے کہ گویا وہ کوئی ’’جادو کی چھڑی‘‘ (Magic Wand) ہیں جن کو معاشرے کی اخلاقی تربیت اور عملی حالات اور پیچیدگیوں کا لحاظ رکھے بغیر محض جیسے تیسے...

مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق دار کون؟

― مولانا محمد یوسف

روئے زمین پر سب سے محترم ومقدس مقامات مساجد ہیں۔ جناب نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: احب البلاد الی اللہ مساجدہا ۔ ان مساجد میں سے بعض ایسی ہیں جن کو کسی نہ کسی وجہ سے امتیازی مقام حاصل ہے۔ روئے زمین پر قائم تین مساجد ایسی ہیں جن کی طرف تقرب الٰہی کے حصول کی نیت سے باقاعدہ دور دراز سفر کر کے جانے کی ترغیب خود نبی اکرم ﷺ نے دی ہے۔ ارشاد گرامی ہے: لا تشد الرحال الا الی ثلثۃ مساجد المسجد الحرام والمسجد الاقصیٰ ومسجدی۔ درج بالا حدیث مبارکہ میں مسجد حرام اور مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کو بھی مقدس مقام شمار کیا گیا ہے۔ اس کی عظمت نہ صرف مسلمانوں...

’’مسجد اقصیٰ ، یہود اور امت مسلمہ‘‘ ۔ ناقدین کی آرا

― ادارہ

مدینہ منورہ اور خیبر میں یہود کی بستیوں پر قبضہ اور انہیں جلاوطن کرنے کے بعد ان کی تمام عبادت گاہیں ختم ہو گئی ہیں اور ان کی جگہ مسلمانوں کے مکانات اور عبادت گاہیں تعمیر ہوئی ہیں۔ اسی طرح نجران سے عیسائیوں کی جلاوطنی کے بعد ان کی عبادت گاہیں بھی باقی نہیں رہیں۔ پھر اندلس پر مسلمانوں کا قبضہ ختم ہو جانے کے بعد ان کی ہزاروں عبادت گاہوں کی ہیئت بلکہ ملکیت تبدیل ہو گئی ہے۔ اس کے بعد بھارت میں ہزاروں مساجد ہندوؤں اور سکھوں نے قبضہ کر کے اپنے مکانات اور عبادت گاہوں میں انہیں تبدیل کر لیا ہے اور پاکستان میں ہندوؤں اور سکھوں کے سینکڑوں مندر مسلمانوں...

کیا علاقائی کلچر اور دین میں بُعد ہے؟

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

ماہنامہ الشریعہ کے نومبر ۲۰۰۳ء کے شمارے میں رئیس التحریر جناب ابو عمار زاہد الراشدی کا مضمون بعنوان ’’خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام‘‘ شائع ہوا۔ راشدی صاحب کے طرز استدلال اور وسعت بیان کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس مضمون میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جن نکات پر قلم اٹھایا ہے، ان سب سے اتفاق کرنا پڑتا ہے سوائے آخری چند سطور کے۔ یہ سطریں مذکورہ شمارے کے سرورق پر بھی شائع ہوئی ہیں۔ ’’عورت کے حوالے سے ہماری موجودہ اور مروجہ روایات واقدار کا ایک بڑا حصہ ہمارے علاقائی کلچر سے تعلق رکھتا ہے جسے دین قرار دے کر ان کی ہر حالت میں حفاظت کا تکلف...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’احکام فقہیہ قرآن کریم کی روشنی میں‘‘۔ جامعہ عربیہ مفتاح العلوم حیدر آباد سندھ کے نائب مہتمم مولانا ڈاکٹر عبد السلام قریشی نے سندھ یونیورسٹی جام شورو میں ڈاکٹریٹ کے لیے مقالہ تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کے احکام کو فقہی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ اردو میں احکام قرآن کو سمجھنے کے لیے یہ ایک اچھا مجموعہ ہے جس سے جدید تعلیم یافتہ حضرات زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکتے ہیں۔ چار سو سے زائد صفحات کی مجلد کتاب کی صورت میں یہ مقالہ مکتبہ الولی، بالمقابل ہوم اسٹیڈ ہال، فاطمہ جناح روڈ، پکا قلعہ، حیدر آباد سندھ نے شائع کیا ہے اور اس پر قیمت...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter