سر سید کے مذہبی افکار پر ایک نظر

گل محمد خان بخمل احمد زئی

مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے طالب علم جناب گل محمد خان بخمل احمد زئی نے زیر نظر مضمون میں مولانا سید تصدق بخاری کی کتاب ’’محرف قرآن‘‘ کے بعض مباحث کا ملخص پیش کیا ہے۔ (ادارہ)

سرسید احمد خان کے آباؤ اجداد کشمیر کے رہنے والے تھے۔ شاہ عالم ثانی (۱۱۷۳ھ۔۱۱۵۹ھ) کے دور میں جب دہلی میں کلیدی آسامیوں اور مناصب پر فائز علما اور فضلا شاہ وقت سے اختلاف کی بنا پر اپنے اپنے عہدوں سے الگ کر دیے گئے تو ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت قحط سالی کا دور دورہ تھا۔ چنانچہ یہاں کے تین معروف و معزز خاندانوں یعنی سید‘ میر اور خان خاندانوں کے افراد نے اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی کا رخ کیا اور پھر دہلی کے ہو کر رہ گئے۔ دہلی کے خالی مناصب پر انہی افراد کو سرفراز کیا گیا۔ان میں سے سید متقی بن سید ہادی (وفات ۱۸۲۸ء)کے گھرانے میں ۵؍ ذی الحجہ ۱۲۳۳ھ بمطابق ۱۷ ؍اکتوبر ۱۸۱۷ء کو سرسید احمد خان کی ولادت ہوئی۔ 

سرسید عالم شباب میں قدم رکھنے سے پہلے سن بلوغت ہی میں مروجہ ابتدائی علوم میں‘ جن میں اس وقت کی سرکاری زبان فارسی شامل ہے‘ شد بد حاصل کر چکے تھے۔ شاہ ولی اللہؒ کے پوتے مولانا مخصوص اللہؒ سے انہوں نے کچھ ابتدائی مذہبی علوم کی تحصیل کی اور کچھ اسباق مولانا مملوک علی نانوتویؒ سے بھی پڑھے۔

سریانی وعبرانی زبانوں سے مناسب واقفیت حاصل کر کے پہلے انہوں نے میدان مناظرہ میں پادریوں سے ناکام زور آزمائی کی اور اس کے بعد ’’تبیین الکلام‘‘ لکھ کر مسلمانوں اور عیسائیوں کو متحد ومتفق کرنا چاہا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر پیری مریدی کا سلسلہ شروع کیا لیکن اس میدان کے بنیادی لوازم کے فقدان کی وجہ سے یہاں بھی ناکام رہے۔ سرسید نے محکمہ مال میں ملازمت اختیار کی اور کچھ عرصے کے بعد مختاری کا امتحان پاس کر کے منصف کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں منصفی کی آڑ میں انہوں نے انگریزوں کی خوب دل کھول کر امداد کی۔ان کو اپنے اور اپنے اعوان وانصار کے گھروں میں پناہ دی اور انہیں محفوظ مقامات تک پہنچانے میں خوب شہرت حاصل کی۔ نیز انہوں نے انگریزوں کو خوش کرنے کے لیے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو ’’بغاوت ہند‘‘ کے نام سے موسوم کیا اور اس کے اسباب وواقعات پر ایک کتاب لکھی جس میں مسلمانوں کے موقف کو غلط ٹھہرایا گیا۔ یہ کتاب انگریزوں کو اتنی پسند آئی کہ کرنل گراہم نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اس تعاون اور خدمات کے پیش نظر انگریز حکومت کی طرف سے سید احمد خان کو ’’سر‘ خان بہادر‘ شاہی مشیر‘ انڈیا کا امن جج‘ اور قانون کا ڈاکٹر‘‘ جیسے خطابات نوازے گئے اور دو پشتوں تک ان کے لیے دو سو روپے کی پنشن بھی مقرر کر دی گئی۔ اکبر الٰہ آبادی نے غالباً اسی تناظرمیں کہا تھا

جب سے ہم میں آنریبل اور سر پیدا ہوئے

سوتے فتنے جاگ اٹھے اور شر پیدا ہوئے

قادیانیوں کی ’’تاریخ احمدیت‘‘ میں مرقوم ہے کہ سرسید نے مرزا غلام احمد قادیانی کی بڑی معاونت کی ہے اور ان کی کتابوں کو بہت سراہا ہے۔

خود مرزا غلام احمد قادیانی کا بیان ہے کہ سرسید تین باتوں میں مجھ سے متفق ہیں: ایک یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے۔ دوسرے یہ کہ ان کو آسمان پر نہیں اٹھایا گیا بلکہ رافعک الی سے مراد ان کے درجات کو بلند کرنا ہے۔ تیسرے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج روح مع الجسد کے ساتھ نہیں تھا بلکہ صرف روحانی تھا۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان دونوں نے مذہب اسلام کے مسلمات میں شگاف ڈال کر انہیں نئی نئی ذہنی اور مذہبی بحثوں میں الجھایا اور اس طرح انگریزوں کی بہت بڑی خدمت انجام دی۔ان کی کوششوں کے نتیجے میں انگریز کو اطمینان کے ساتھ برصغیر پر حکومت کرنے کا موقع ملا‘ مسلمانوں کی طاقت تقسیم ہو کر رہ گئی اور علماء اسلام کو بیک وقت تین محاذوں پر لڑنا پڑا یعنی انگریزی اقتدار سے آزادی کا محاذ‘ مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ ساز نبوت کا محاذ اور سرسید احمد خان کی ایمان سوز نیچیریت اور تحریف قرآن کا محاذ۔

سرسید کے بعض مذہبی افکار

سرسید یورپ کے ملحد اور مذہب بیزار مفکرین سے شدید متاثر تھے اور اس تاثر کے تحت انہوں نے اسلام کے بیشتر بنیادی عقائد اور مسلم حقائق کو توجیہ وتاویل کے ذریعے سے ایسی شکل دینے کی سعی کی جو مغربی ملحدین کے تصورات کے مطابق قابل قبول ہو سکے۔ چنانچہ وحی، جنت ودوزخ، آخرت ، ملائکہ وجنات کی ایسی ایسی فاسد تاویلات کیں جن سے دین کا پورا نظام ڈھے جاتا ہے۔ معجزات کو تسلیم کرنے سے ان کا ذہن باغی ہے اور مافوق الفطرت اور خارق عادت کسی امر کو تسلیم کرنے پر وہ تیار نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے امت کے اہل علم کی اجماعی آرا کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ خود لکھتے ہیں کہ 

’’میں نے بقدر اپنی طاقت کے خود قرآن کریم پر غور کیا اور چاہا کہ قرآن کو خود ہی سمجھنا چاہیے۔‘‘ 

(تفسیر القرآن ج ۱ ص ۲)

ان کی ایسی آرا کے چند نمونے ذیل میں درج کیے جارہے ہیں:

۱۔ سورہ بقرہ میں ارشاد باری ہے: واذ ااخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور

ترجمہ :’’اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور پہاڑ کو بلند کیا۔‘‘

اس کے تحت سرسید لکھتے ہیں کہ 

’’پہاڑ کو اٹھا کر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں رکھا تھا بلکہ آتش فشانی سے پہاڑ ہل رہا تھا اور وہ اس کے نیچے کھڑے یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے سروں پر گر پڑے گا۔‘‘

۲۔ دین میں کعبہ کی حیثیت سے متعلق سرسید لکھتے ہیں کہ 

’’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس پتھر کے بنے ہوئے چوکھونٹے گھر میں ایک ایسی متعدی برکت ہے کہ جہاں سات دفعہ اس کے گرد پھرے اور بہشت میں چلے گئے، یہ ان کی خام خیالی ہے۔‘‘ (تفسیر القرآن ج ۱ ص ۲۱۱)

نیز لکھتے ہیں: 

’’اس چوکھونٹے گھر کے گرد پھرنے سے کیا ہوتا ہے؟ اس کے گرد تو اونٹ اور گدھے بھی پھرتے ہیں تو وہ کبھی حاجی نہیں ہوئے۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۲۵۱)

مزید گوہر افشانی کرتے ہیں کہ 

’’کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا اسلام کا کوئی اصلی حکم نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۱۵۷)

’’نماز میں سمت قبلہ کوئی اصل حکم مذہب اسلام کا نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۱۴۱)

۳۔ سرسید وحی کی حقیقت کے بارے میں لکھتے ہیں: 

’’یہ بھی مسلم ہے کہ قرآن مجید بلفظہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل ہوا ہے یا وحی کیا گیا ہے، خواہ یہ تسلیم کیا جاوے کہ جبریل فرشتہ نے آنحضرت تک پہنچایا جیسا کہ مذہب عام علماء اسلام کا ہے، یا ملکہ نبوت نے جو روح الامین سے تعبیر کیا گیا ہے، آنحضرت کے قلب پر القا کیا ہے، جیسا کہ میرا خاص مذہب ہے۔‘‘ 

(ایضاً ج ۱ ص ۳)

نیز لکھتے ہیں کہ:

’’جس طرح ایک بڑھئی وغیرہ ہر آئے دن اپنے دماغ سے نئی نئی اشیا ایجاد کر کے بناتا رہتا ہے، اسی طرح نبی میں جو ملکہ نبوت ہوتا ہے، اس کے ذریعے سے وہ بھی نیکی کی راہیں بتاتا رہتا ہے اسی لیے ملکہ نبوت کے سوا کوئی اور مخلوق وحی لانے والی نہیں۔‘‘

جبریل کی حقیقت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’پس وحی وہ چیز ہے جس کو قلب نبوت پر بسبب اسی فطری نبوت کے مبدا فیاض نے نقش کیاہے۔ وہی انتقاش قلبی کبھی مثل ایک بولنے والی آواز کے انہیں ظاہری کانوں سے سنائی دیتا ہے اور کبھی وہی نقش قلبی دوسرے بولنے والے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے مگر اپنے آپ کے سوا نہ وہاں کوئی آواز ہے نہ بولنے والا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسی ملکہ نبوت کا جو خدا نے انبیا میں پیدا کیا ہے، جبریل نام ہے۔‘‘ (ایضاً ج ۲ ص ۲۰)

ًً’’خدا اور رسول میں بجز اس ملکہ نبوت کے جس کو ناموس اکبر اور زبان شرع میں جبریل کہتے ہیں، اور کوئی ایلچی پیغام پہنچانے والا نہیں ہوتا۔‘‘ (ایضاً ص ۲۴)

’’نبوت ایک فطری چیز ہے جو انبیا میں بمقتضائے ان کی فطرت کے مثل دیگر قواے انسانی کے ہوتی ہے۔ جس انسان میں وہ قوت ہوتی ہے، وہ نبی ہوتا ہے۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۲۳)

۴۔ سورۂ بقرہ کی آیت ربا کے تحت سرسید لکھتے ہیں :

’’اس آیت میں انہیں لوگوں کا ذکر ہے جو غریب، مسکین لوگوں سے سود لیتے تھے اور اسی سود کو جو ایسے لوگوں سے لیا جاتا تھا جو قابل رحم اور ہمدردی اور سلوک کرنے کے تھے، خدا نے حرام کیا۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۲۴۲)

مزید لکھتے ہیں:

’’ان کے سوا وہ لوگ ہیں جو ذی مقدار صاحب دولت وجاہ وحشمت ہیں اور اپنے عیش وآرام کے لیے روپیہ قرض لیتے ہیں، جائیدادیں مول لیتے ہیں، مکان بناتے ہیں اور قرض روپیہ لے کر چین اڑاتے ہیں۔ گو ان کو قرض دینا بعض حالتوں میں خلاف اخلاق ہو مگر ان سے سود لینے کی حرمت کی کوئی وجہ قرآن مجید کی رو سے مجھ کو نہیں معلوم ہوتی۔‘‘ (ایضاً ج ۱ ص ۱۴۳)

۵۔ واقعہ معراج کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ہماری تحقیق میں واقعہ معراج کا ایک خواب تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا۔ اسی خواب میں یہ بھی دیکھا کہ جبریل نے آپ کا سینہ چیرا اور اس کو آب زمزم سے دھویا۔‘‘ (تفسیر القرآن ج ۲ ص ۱۳۰)

نیز لکھتے ہیں 

’’ہمارا اور صاحب عقل کا بلکہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس کو ایک واقعہ خواب کا تسلیم کرے۔‘‘ 

(ایضاً ج ۴ ص ۸۶ و ص ۱۲۲)

۶۔ سرسید کا خیال ہے کہ جنات کا ایک مستقل اور خاص مخلوق ہونا قرآن کی کسی آیت سے ثابت نہیں۔

۷۔ فرماتے ہیں کہ جس جنت کو علماء اسلام اور تمام مسلمان مانتے ہیں، وہ قرآن سے ثابت نہیں۔

اس کے علاوہ جدید سائنسی خیالات کی قرآن سے تائید مہیا کرنے کے لیے انہوں نے متعدد تحریریں لکھیں۔ مثلاً ’’خلق الانسان‘‘ لکھ کر رابرٹ چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقا اور سرچارلس لائل کی کتاب ’’انسان کا عہد پارینہ‘‘ کی تصدیق کر کے قرآنی حقائق کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ ’’الجن والجان علیٰ ما قال فی الفرقان‘‘ میں جنات کی مخلوق کے موجود ہونے کا انکار کر کے قرآن حکیم کی سینکڑوں آیات کے مفہوم میں تحریف کر دی۔

علماء اسلام کا رد عمل

قرآن حکیم کی تفسیر کے نام پر اس کی تحریف پر مبنی یہ عقائد جب سرسید نے پیش کیے تو جلیل القدر اہل علم نے ان کی ضلالت کو بدلائل واضح کیا:

۱۔ مولانا عبد الحق حقانی ؒ نے ان عقائد کے رد میں ’’فتح المنان‘‘ المعروف تفسیر حقانی لکھ کر قرآن کریم کی ان آیات کا اصل مطلب واضح فرمایا اور تفسیر کے مقدمے میں سرسید کی تحریفات وہزلیات کے عقلی ونقلی، مدلل، ناقابل تردید اور مسکت جوابات دیے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ 

’’سید صاحب قرآن کے معنی متعارف چھوڑ کر برخلاف سلف وخلف کے الگ راہ پر چلے ہیں اور دل کھول کر اپنے آزادانہ خیالات کو دخل دیا ہے۔‘‘ (مقدمہ ص ۲۳)

۲۔ مولانا ناصر الدین محمودؒ نے ’’تنقیح البیان‘‘ میں سرسید کے گمراہ کن افکار پر سخت تنقید کی ہے۔

۳۔ حضرت مولانا محمد علیؒ نے ’’البرہان علی تجہیل من قال بغیر علم فی القرآن‘‘ میں ان افکار کی تردید کی ہے۔

۴۔ زہدی حسن جار اللہ لکھتے ہیں کہ سرسید احمد خان اور ان کے رکن رکین سید امیر علی معتزلی تھے۔

۵۔ شیعہ مفسر ابو عمار علی رئیس نے سرسید کے خیالات کے رد میں تفسیر ’’عمدۃ البیان‘‘ لکھی جس نے بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔

۶۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی سرسید کی تفسیر کے متعلق لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کے لفظی ترجمہ اور تشریح کے حوالے سے اس کتاب کے مندرجات کو علما کی تائید حاصل نہیں ہے۔

۷۔ مولانا وحید الزمان وقار جنگ نے لکھا کہ 

’’ایک شخص علی گڑھ میں ظاہر ہوا جس نے بہشت، دوزخ، فرشتوں سب کا انکارکیا ہے۔ پیغمبروں کے معجزوں کو شعبدہ اور طلسم قرار دیا ہے۔ قرآن کی آیتوں کی ایسی تفسیر کی جو صحابہؓ اور تابعین کے خلاف اور اہل الحاد اور باطنیوں کے طور پر ہے۔‘‘

۸۔ شیخ محمد اکرام مرحوم لکھتے ہیں:

’’سرسید احمد خان، مولوی چراغ علی اور سید امیر علی مسلمانوں کے خلاف تھے۔‘‘ (موج کوثر ص ۱۷۷)

’’سرسید احمد خان اور مرزا غلام احمد قادیانی ہم عقیدہ تھے۔‘‘ (موج کوثر ص ۱۷۹)

’’مولوی چراغ علی (متوفی ۱۸۹۵ء) سرسید کے ہم عقیدہ تھے۔‘‘ (موج کوثر ص ۱۶۶)

’’سرسید نے معراج وشق صدر کو رؤیا (خواب وخیال) کا فعل مانا ہے۔ حساب کتاب، میزان، جنت ودوزخ کے متعلق تمام قرآنی ارشادات کو بہ طریق استعارہ وتمثیل قرار دیا ہے۔ ابلیس وملائکہ سے کوئی خارج وجود مراد نہیں کہا۔ حضرت عیسیٰ کے متعلق کہا ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوئے یا زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔‘‘ (موج کوثر ص ۱۵۹)

۹۔ خود سرسید کے پیروکار ومعتقد مولانا الطاف حسین حالیؒ لکھتے ہیں کہ سرسید نے اس تفسیر میں جابجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور بعض مقامات پر ان سے رکیک لغزشیں ہوئی ہیں۔ (حیات جاوید ص ۱۸۴)

شخصیات

مئی ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۵

تحریک ختم نبوت کے مطالبات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قافلہ معاد
ادارہ

جی ہاں! پاکستان کو آئیڈیل ازم کی ضرورت ہے
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مقاصد تشریع کا ایک مختصر جائزہ
مولانا منتخب الحق

دینی قوتیں: نئی حکمت عملی کی ضرورت
ڈاکٹر محمد امین

دستور سے کمٹمنٹ کی ضرورت
پروفیسر میاں انعام الرحمن

سر سید کے مذہبی افکار پر ایک نظر
گل محمد خان بخمل احمد زئی

غزوۂ بدر کی سیاسی واقتصادی اہمیت
پروفیسر محمد یونس میو

تیل کی طاقت
کرسٹوفر ڈکی

مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کا حادثہ وفات
امین الدین شجاع الدین

آہ! حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ
حافظ مہر محمد میانوالوی

جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی کا مکتوب گرامی
ڈاکٹر محمود احمد غازی