دینی قوتیں: نئی حکمت عملی کی ضرورت

ڈاکٹر محمد امین

افغانستان میں جو کچھ ہوا‘ وہ ایک عظیم المیہ تھا۔ پاکستان میں اب جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ بھی ایک المیے سے کم نہیں لیکن اگر پاکستان کی دینی قوتوں نے ہوش مندی سے کام نہ لیا تو خدا نخواستہ ایک عظیم تر المیہ ہم سے بہت دور نہیں۔ غلطی کسی فردسے بھی ہو سکتی ہے اور کسی جماعت سے بھی اور یہ کوئی قابل طعن بات نہیں کیونکہ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ لیکن شکست کے بعد اختیار کی گئی حکمت عملی کا تجزیہ نہ کرنا‘ اگر غلطی نظر آئے تو اسے غلطی تسلیم نہ کرنا یا غلطی سے پہنچنے والے نقصان کی تاویلیں کرنے لگ جانا گویا دوسرے لفظوں میں احساس زیاں کھو دینا ہے۔ یہ غلطی نہیں‘ بلنڈر (Blunder) ہے جسے نہ قدرت معاف کرتی ہے اور نہ اس کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے لہذا اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہماری دینی قوتیں پوری معروضیت اور بے رحمی سے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیں اور زمینی حقائق کے مطابق اپنی پالیسیوں کی تشکیل نو کریں۔ اس کے لیے ایک سنجیدہ مباحثے اور مکالمے کی ضرورت ہے اور اسی ضمن میں یہ معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔

پاکستان کی دینی قوتوں کو جس ہزیمت کا سامنا ہے‘ اگر اس کی وجہ پر ہم غور کریں تو اس کے چار بڑے سبب نظر آتے ہیں۔ ایک، دینی قوتوں کا آپس میں عدم اعتماد۔ دوم، عوامی حمایت سے ان کی محروم۔ سوم، عوام کی دینی تعلیم وتربیت کا عدم اہتمام اور چہارم، ملی اور بین الاقوامی سطح پر دوستوں اور دشمنوں کے بارے میں ان کی غیر حقیقت پسندانہ اپروچ۔ ہم انہی نکات کا تجزیہ کرتے ہوئے نئی اور مطلوب حکمت عملی کے خدوخال بھی واضح کرتے جائیں گے۔

۱۔ ہمارے دینی عناصر کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ آپس میں متحد نہیں ہیں۔ وہ آج تک انفرادی مصالح اور ملکی مفادات سے اوپر اٹھ کر دین اور ملت کے لیے سوچ ہی نہیں سکے۔ وہ آج تک اس امر کا ادراک بھی نہیں کر سکے کہ ان کو لڑانے والی قوتیں کون ہیں؟ وہ نہ بین الاقوامی اسلام دشمن قوتوں کی چالوں کو سمجھ سکے اور نہ ان کے مقامی ایجنٹوں کے حربوں کو۔ وہ اپنے حقیر مفادات کے لیے نہایت آسانی سے ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔ انہیں بڑی حکمت اور منصوبہ بندی سے ایک دوسرے کے خلاف لڑایا گیا۔ ان کے مابین مسلکی اختلافات کو ہوا دی گئی۔ ان کو سیاسی طور پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا گیا۔ مختلف سیاسی دھڑوں کے ساتھ ان کے الگ الگ الحاق کر کے ان کی قوت کو تقسیم کیا گیا۔ ایک دین کے اندر مختلف مسلک‘ ہر مسلک پر مبنی جماعت‘ ہر جماعت کے اندر کئی دھڑے‘ ہر دھڑے کی الگ سیاسی جماعت‘ گویا تقسیم در تقسیم کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو جاری ہے اور ہمارے دینی رہبر یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ اس کے پیچھے کون سا شیطان اور اس کی ذریت ہے جو ان علم برداران دین متین کو آپس میں لڑا کر کمزور اور رسوا کر رہی ہے۔ حدیث ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ نور الٰہی سے دیکھتا ہے اور یہ کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا لیکن یہ کیسے مومن (بلکہ مومنوں کے سردار) ہیں کہ سامنے کے حقائق نہیں دیکھ سکتے؟ بار بار کی ہزیمت بھی انہیں سوچنے اور جاگنے پر آمادہ نہیں کرتی۔ وہ اپنے انتشار اور افتراق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اپنی انانیت اور اپنے تحزب پر قائم ہیں یہاں تک کہ جب وہ افغانستان کے مسئلے پر پٹ رہے تھے‘ اس وقت بھی اکٹھے نہیں ہوئے اور ہرلیڈر کو اپنی لیڈری چمکانے اور ہر جماعت کو اپنی کامیابی کی فکر پڑی ہوئی تھی اور آج بھی ان کا یہی حال ہے۔ اگر اتنا بڑا سانحہ بھی انہیں متحد نہیں کر سکا تو کب ان سے توقع کی جائے کہ وہ متحد ہوں گے؟ کیا وہ اس سے بڑے کسی سانحے کے منتظر ہیں؟ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان سے جبہ ودستار واپس لے کر انہیں صوف پہنا دیا جائے اور انہیں کسی دور افتادہ خانقاہ کے کسی حجرے میں بند کر دیا جائے جہاں کوئی حقیقی مربی ان کے دلوں کی کدورتیں دور کرے‘ ان کے اندر سے دنیا اور مال وجاہ کی محبت نکالے اور ان کے قلوب کو صیقل کرے؟

۲۔ یہ دل فریب اور جھوٹے نعرے لگانا آسان ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں لیکن ہماری دینی قوتیں اس تلخ حقیقت کو کب تسلیم کریں گی کہ درحقیقت عوام ان کے ساتھ نہیں ہیں؟ عوام چونکہ دین سے محبت کرتے ہیں لہذا اس حوالے سے وہ دینی رہنماؤں کی توقیر بھی کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب کب ہے کہ وہ سیاسی اور اجتماعی امور میں بھی ان کے ساتھ ہیں؟ ہمارے نزدیک اس مظہر کے ذمہ دار بھی عوام سے زیادہ یہ دینی عناصر خود ہی ہیں کیونکہ دین ودنیا میں قائم کردہ تفریق (یعنی سیکولرازم) انہی کی اختیار کردہ ہے۔ انہوں نے صدیوں سے اپنے آپ کو مسجد ومدرسہ تک محدود کر رکھا ہے اور عوامی زندگی سے دور ہیں۔ دوسری طرف سیاست واقتدار کے باسی ہیں جنہوں نے اپنی الگ دنیابسائی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس تفریق کو کون پاٹے گا؟ عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اے اہل لاہور‘ تقریر میری ساری رات سنتے ہو اور واہ واہ کرتے ہیں اور صبح کے وقت ووٹ جا کر کسی اور کو دیتے ہو؟ یہ ایک تلخ حقیقت تھی جس کا اقرار شاہ صاحب نے کیا لیکن کیا ہمارے دینی عناصر نے اس سے عبرت پکڑی؟ اس سے کچھ سبق سیکھا؟ اس کے اسباب وعلل پر غور کیا؟ اس کا کوئی حل سوچا کہ عوام کیوں دینی امور میں ان کی متابعت کرتے ہیں لیکن سیاسی اور اجتماعی امور میں ان کی پیروی نہیں کرتے؟ کیا انہوں نے اپنے آپ کو بدلا؟ کیا پھر عوام کے اس رویے کو بدلنے کے انہوں نے کچھ کیا؟ سید محمد قطب صاحبؒ سے ایک دفعہ ایک صحافی نے انٹرویو لیا اور پوچھا کہ پھانسی پانے سے پہلے سید قطب شہید کی آخری دنوں میں سوچ کیا تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا وہ سوچتے تھے کہ مصری عوام نے اخوان کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ پاکستان میں دینی جماعتوں کو ہر انتخاب میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ اب ان کو پارلیمنٹ میں اقلیتوں جتنی نشستیں بھی نہیں ملتیں لیکن کیا انہوں نے کبھی سنجیدگی سے اس کے اسباب وعلل پر غور کیا اور اپنی حکمت عملی کو بدلا؟ ان کا کام تو یہ تھا کہ وہ لوگوں کو سرمایہ دار اور جاگیردار سیاست دانوں کے چنگل سے نکالتے لیکن وہ الٹا ان کے نخچیر بن گئے۔

۳۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری دینی قیادت عوام کو دین کی تعلیم دینے‘ ان کی دینی تربیت کرنے اور انہیں اپنے ساتھ ملانے میں عظیم ناکامی سے دوچار ہوئی ہے لیکن اسے اس کا احساس ہی نہیں۔ مسجدیں فرقہ وارانہ تقریروں کا گڑھ بنی ہوئی ہیں۔ خطیب جو تقریریں جمعہ کو کرتے ہیں‘ ان کا زندگی کے حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ لوگوں کو قرآن ناظرہ پڑھا کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ معرکہ سر کر لیا حالانکہ طوطے کی طرح بے سمجھے بوجھے قرآن کی عربی عبارت پڑھ لینے سے نہ ان کی زندگی میں کوئی انقلاب آتا ہے نہ آ سکتا ہے۔ علما سے کون پوچھے کہ مسجد کا وہ کردار کیوں بحال نہیں کیا جا سکتا جو عہد رسالت مآب میں تھا؟ کیا آج مسجد میں اہل محلہ کے معزز اور دین دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نہیں بنائی جا سکتی جو یہ دیکھے کہ محلے میں کوئی بھوکا تو نہیں سوتا؟ جو محلے کی بیواؤں اور مساکین کی مدد کرے؟ کیا ایک اور کمیٹی نہیں بنائی جا سکتی جو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا کام کرے‘ جو لوگوں کے اخلاق کو سنوارے‘ جو انہیں اچھی باتوں کی ترغیب دے۔ کیا ایک کمیٹی ایسی نہیں ہو سکتی جو نوجوانوں کے لیے پاکیزہ اور تعمیری سرگرمیوں کا انتظام کرے‘ جو لوگوں کے مسائل کو حل کرے مثلاً گلیوں کی صفائی او رروشنی کا انتظام اور سکولوں میں داخلے کا اہتمام۔ مسجد کو تعلیم کا مرکز کیوں نہیں بنایا جا سکتا اور سو فیصد خواندگی کا ہدف کیوں نہیں حاصل کیا جا سکتا؟ سوال یہ نہیں کہ حکومت یہ کام کیوں نہیں کرتی؟ ہمارا سوال یہ ہے کہ علما یہ کام کیوں نہیں کرتے؟ وہ دو رکعت کے امام بنے رہنے پر کیوں مصر ہیں؟ وہ سارے محلے کے ہرکام کے سچ مچ کے امام کیوں نہیں بنتے؟ جب کہ وہ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آخر کس نے ان کے ہاتھ پکڑ رکھے ہیں؟

ان کے مدرسوں میں چند ہزار یا چند لاکھ بچے پڑھتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ان کا بڑا کارنامہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس ملک کے سکولوں میں جو کروڑوں بچے پڑھتے ہیں‘ ان کی دینی تعلیم اور ان کی اخلاقی تربیت کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اس سلسلے میں دینی قوتیں کیا کر رہی ہیں؟ علما کو یا تو سیاست سے ہی فراغت نہیں ہوتی اور ان کی ساری محنتیں اور وسائل ادھر صرف ہو جاتے ہیں اور جو کچھ باقی بچتے ہیں‘ انہوں نے اپنا دائرۂ کار مدرسے کو بنایا ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ملت پاکستان کے کروڑوں بچے ایسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس میں دینی تعلیم کا مناسب انتظام نہیں‘ جہاں بچوں کی دینی تربیت کا کوئی انتظام نہیں۔ اگر حکومت یہ کام نہیں کرتی تو دینی قوتوں کے ہاتھ کس نے پکڑ رکھے ہیں کہ وہ یہ کام نہ کریں؟ یہ محض عذر لنگ ہے کہ اس کے لیے درکار اربوں روپے کہاں سے آئیں گے۔ دینی قیادت کمیونٹی کو متحرک کر کے یہ کام بآسانی کر سکتی ہے اور خود کفالتی بنیادوں پر یہ نظام بخوبی چل سکتا ہے اور مسجد اور اس کے امام کو بھی اس کا مرکز بنایا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے کبھی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ بلکہ اب تو دینی لوگوں نے بھی بطور کاروبار انگلش میڈیم اسکول کھول رکھے ہیں جہاں انگریزی کتابیں اور انگریزی نصاب پڑھا کر مغربی تہذیب کے غلام تیار کیے جاتے ہیں اور توقع یہ کی جاتی ہے بلکہ نعرے یہ لگائے جاتے ہیں کہ ہم اس معاشرے میں اسلامی انقلاب لائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی اور اخلاقی لحاظ سے جتنے پست ہم اب ہیں‘ اتنے پہلے کبھی نہ تھے۔ وہ دینی اصول اور دینی اقدار جو کبھی ہمارے معاشرے کا جزو لاینفک تھیں‘ وہ اب مغربی تہذیب کے ریلے میں بہہ گئی ہیں اور دینی قوتوں کا یہ عالم ہے کہ انہیں کف افسوس ملنے کا بھی ہوش نہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ان حالات میں علم وعمل میں یکسو مسلم کہاں سے پیدا ہوں؟ صاحب کردار افراد کہاں سے آئیں؟ جس معاشرے میں انسان سازی کا عمل رک جائے‘ وہاں دو ٹانگوں کے جانور نہ پیدا ہوں تو اور کیا ہو؟ دینی تعلیم وتربیت سے محروم یہ لوگ اگر دینی جماعتوں کو ووٹ نہ دیں تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟ اگر وہ افغانستان میں بہتے خون پر مضطرب نہ ہوں تو آخر اس میں ان کا دوش کیاہے؟ آخر انہوں نے کردار کے نمونے دیکھے کہاں ہیں؟ عزیمت کا سبق انہیں پڑھایا کس نے ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر اہل دین اپنے گریبان میں جھانگیں تو خود انہیں شرم ساری محسوس ہوگی۔ انہیں اپنے سوا کسی کی خامیاں نظر نہ آئیں گی۔ شاید اسی لیے وہ یہ کام کرتے نہیں ہیں۔

۴۔ مغربی تہذیب کا طوطی جس طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے اور مغربی طاقتیں سرمایے اور سائنس وٹیکنالوجی کی قوت سے مسلح ہو کر جس طرح انا ولاغیری کے نعرے بلند کرتی چہارسو پھنکار رہی ہیں‘ کیا وہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت ہے؟ کیا پاکستان کی دینی قوتوں کے پاس ایک بھی اچھا تھنک ٹینک ہے جہاں مغرب کے بارے میں ضروری معلومات جمع ہوتی ہوں‘ اس کی پالیسیوں کا تجزیہ کیا جاتا ہو کہ مغرب کیا سوچتا ہے؟ اس کی پالیسیاں کیا ہیں؟ وہ کیا کرنے والا ہے؟ اس کی منصوبہ بندی کا توڑ کیا ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو ہم کسی کو دوش کیوں دیتے ہیں؟ ہمیں اپنے آپ ہی کو دوش دینا چاہیے۔ یہ سادگی بلکہ سادہ لوحی کی کون سی قسم ہے کہ ہم دشمن کو دوست سمجھتے رہے اور خود ہی اس کی گود میں جا کر بیٹھے ہیں کہ آؤ اور ہمیں ختم کرو۔ کیا عراق وکویت میں جو کچھ ہوا‘ وہ محض اتفاق تھا؟ افغانستان میں جو کچھ کیا گیا‘ وہ پلاننگ کیا چند دن کے اندر کی گئی؟ کیا پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ محض حسن اتفاق ہے؟ یا ایران‘ عراق اور سعودی عرب کے ساتھ جو ہوتا نظر آتا ہے‘ وہ محض گیدڑ بھبھکیاں ہیں؟ کیا بی 52 طیاروں کا مقابلہ کلاشنکوف سے کیا جا سکتا ہے؟ کیاآئی ایم ایف کا مقابلہ نیشنل بینک آف پاکستان کر سکتا ہے؟ کیا سی این این کے پروپیگنڈے کا توڑ پی ٹی وی سے ہو سکتا ہے؟ کیا علم وتحقیق میں پیش رفت کوئی جرم ہے؟ کیا مدارس میں انگریزی پڑھانا گناہ کبیرہ ہے؟

کیا ہم برسوں سے نہیں دیکھ رہے تھے کہ اسلامی کانفرنس تنظیم مٹی کا مادھو ہے‘ امت انتشار وافتراق کا شکار ہے‘ اسے متحد ہونے نہیں دیا جاتا بلکہ آپس میں لڑایا جاتا ہے۔ اکثر مسلم حکومتیں مغرب کی ایجنٹ ہیں یا ان کے دباؤ میں ہیں۔ کیا ہماری دینی قوتوں نے کبھی نہیں سوچا کہ اس صورت حال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہودی اسکالروں نے صدیوں سے پروٹوکولز بنا رکھے ہیں اور وہ ایک منظم طریقے سے دنیا پر چھاتے چلے جا رہے ہیں۔ کیا ہمارے دانش وروں کے بھیجے خالی ہو گئے ہیں کہ چند سال بعد کی پلاننگ بھی نہیں کر سکتے؟ دینی قوتوں کو اس کا احساس ہونا چاہیے تھا کہ جس طرح داخلی محاذ پر ان کو اتحاد کی ضرورت ہے‘ اسی طرح ملی سطح پر بھی ان کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ آخر یہ امت اتنی بانجھ بھی نہیں ہوئی‘ یقیناً ہر مسلم ملک اور قوم میں ایسے افراد اور ادارے موجود ہیں جو اس صورت حال پر مضطرب ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کو پہچانا جاتا اور ان کو متحرک کیا جاتا اور امت کے اتحاد کو ایک مضبوط صورت دی جاتی اور اسے موثر بنایا جاتا۔

اول تو وسائل کی کمی نہیں اور اگر ہو بھی تو مل کر اسے پورا کیا جا سکتا ہے۔ مسلم ممالک مل کر طاقت ور میڈیا کو جنم دے سکتے ہیں۔ حربی تحقیق کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ سائنس وٹیکنالوجی میں ترقی کر سکتے ہیں۔ اپنے معاشی مسائل حل کر سکتے ہیں لیکن یہ سب اسی وقت ہو سکتا ہے جب ذہن بیدار ہوں۔ ان کے پیچھے نظریے کی قوت ہو اور آگے بڑھنے کا جوش وولولہ ہو اور اگر یہ نہ ہو تو جنگل کے بادشاہ شیر کا وزن تو بے چاری ایک گائے سے بھی کم ہوتا ہے۔

باتیں اور نکات تو اور بھی بہت سے ہیں لیکن ہم نے پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے چند اصولی باتوں پر اکتفا کیا ہے اور دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر دینی قوتیں ان چار نکات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی بدل لیں تو آج بھی بچنے کی امید کی جا سکتی ہے یعنی وہ سچ مچ متحد ہو جائیں اور انفرادی‘ مسلکی اور جماعتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر اعلیٰ تر مقاصد کے لیے جمع ہو جائیں۔ اس کا اظہار نہ صرف سیاست میں ہو بلکہ دینی کاموں میں بھی ہو۔ عوام تک پہنچنے کا عزم کیا جائے‘ ان کی تعلیم وتربیت کی جائے اور اس طرح داخلی محاذ کو مضبوط بنا کر ملی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے آپ کو منوایا جائے تو ہماری ڈولتی کشتی آج بھی سنبھل سکتی ہے لیکن اگر ہم نے یہ سب کچھ نہ کیا تو پھر شاید‘ نہیں یقیناًہمیں ایک بڑے المیے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ الا من رحم ربی۔


پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

مئی ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۵

تحریک ختم نبوت کے مطالبات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قافلہ معاد
ادارہ

جی ہاں! پاکستان کو آئیڈیل ازم کی ضرورت ہے
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مقاصد تشریع کا ایک مختصر جائزہ
مولانا منتخب الحق

دینی قوتیں: نئی حکمت عملی کی ضرورت
ڈاکٹر محمد امین

دستور سے کمٹمنٹ کی ضرورت
پروفیسر میاں انعام الرحمن

سر سید کے مذہبی افکار پر ایک نظر
گل محمد خان بخمل احمد زئی

غزوۂ بدر کی سیاسی واقتصادی اہمیت
پروفیسر محمد یونس میو

تیل کی طاقت
کرسٹوفر ڈکی

مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کا حادثہ وفات
امین الدین شجاع الدین

آہ! حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ
حافظ مہر محمد میانوالوی

جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی کا مکتوب گرامی
ڈاکٹر محمود احمد غازی