مقاصد تشریع کا ایک مختصر جائزہ

مولانا منتخب الحق

تشریع کے معنی ہیں قانون سازی اور ہر قانون کے بنانے کے تین مقاصد ہوتے ہیں: مقاصد ضروریہ، مقاصد حاجیہ اور مقاصد تحسینیہ۔

مقاصد ضروریہ

یہ وہ مقاصد ہیں جو خود مطلوب ہوتے ہیں اور ان کے بغیر کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ مقاصد ضروریہ کی پانچ قسمیں ہیں: حفاظت دین، حفاظت نفس، حفاظت آبرو، حفاظت نسل اور حفاظت مال۔ قرآن کے احکام بھی انہی پانچ مقاصد کی ترتیب سے ہیں اور بتدریج ان کے متعلق احکامات ہیں۔

نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دوسری تمام عبادتیں حفاظت دین کے لیے ہیں۔ یہ مقصد یعنی حفاظت دین دوسری تمام شریعتوں یعنی شریعت نوحی، شریعت موسوی اور شریعت عیسوی سب میں یکساں رہا ہے اور یہ مقصد کبھی بدلا نہیں کرتا۔

حفاظت دین کے بعد حفاظت نفس آتی ہے۔ اس ضمن میں قصاص اور دیت کے احکام آتے ہیں اور قرآن میں نماز، روزہ اور دوسری عبادتوں کے بعد حفاظت جان کے سلسلے میں قصاص اور دیت کے احکام آتے ہیں۔

حفاظت نفس کے بعد حفاظت آبرو کے سلسلے میں نکاح وطلاق وغیرہ کے احکام آتے ہیں۔

حفاظت آبرو کے بعد حفاظت نسل کے ضمن میں تجارت، زراعت اور حفاظت مال کے سلسلے میں بیع وغیرہ کے احکام آئے ہیں۔ یہ ہوئی ان مقاصد کے لحاظ سے قرآن کی ترتیب۔

مقاصد حاجیہ

یہ مقاصد خود مطلوب ومقصود نہیں ہوتے لیکن ان کو بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان کے بغیر مقصد ضروری حاصل نہیں ہو سکتا۔ ان مقاصد کی حیثیت اگرچہ مقاصد ضروری جیسی نہیں ہے لیکن ان کی اہمیت ان سے کچھ کم بھی نہیں۔ مثلاً اگر نماز اور وضو کو لیں تو نماز کی حیثیت اصل کی ہے اور نماز کی تکمیل کے لیے وضو لازمی شرط ہے گویا وضو کی حیثیت مقاصد حاجیہ کی ہوئی لیکن وضو کے بغیر نماز نہیں ہو سکتی اس طرح وضو نماز کے لیے لازمی ہو گیا۔

مقاصد تحسینیہ

یہ مقاصد نہ تو خود مطلوب ہوتے ہیں اور نہ مقصد اصلی کے لیے موقوف علیہ کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان کے ذریعے سے مقاصد حاجی اور ضروری میں ایک طرح کا حسن پیدا ہو جاتا ہے جیسے حفاظت جان کے سلسلے میں کھانا پینا مقصد حاجی ہوا لیکن اب اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کیا ضروری ہے کہ دستر خوان بچھا کر، ہاتھ دھو کر، بسم اللہ کہہ کر کھانا کھایا جائے؟ اس کے بغیر بھی مقصد حاصل ہو سکتاہے لیکن صرف حسن پیدا کرنے کے لیے اور اس مقصد کو مزید تحسینی بنانے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ اس لیے مقاصد تحسینی اصل کے لیے تکملہ اور تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مقاصد ضروریہ اصل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی حیثیت بنیاد کی ہے۔ جس طرح بغیر جڑ کے درخت کا قائم رہنا ناممکن ہے، اسی طرح مقاصد ضروریہ کے بغیر دوسرے مقاصد یعنی مقاصد حاجیہ اور مقاصد تحسینیہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ ایمان کی حیثیت اصل کی ہے۔ اب اگر کوئی شخص مومن نہیں ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے اور روزے رکھتا ہے تو اس کی ان عبادتوں کی حیثیت جسم بغیر روح سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ ایمان اعمال انسانی کے لیے روح کی حیثیت رکھتا ہے اور روح کے بغیر تمام اعمال بے کار ہیں یعنی مقصد اصلی کو اگر ختم کر دیا جائے تو دوسرے مقاصد کے پائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس کے برخلاف اگر مقاصد حاجیہ یا مقاصد تحسینیہ ختم ہو جائیں تو مقاصد ضروریہ کا ختم ہو جانا کوئی ضروری نہیں۔

مقاصد ضروریہ اور تحسینیہ ان سب میں ایک ترتیب موجود ہے اور ہر مابعد مرتبے کا مقصد اپنے سے مقدم مقصد کے لیے تکملہ اور تتمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گویا مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی، مقاصد ضروری کے لیے تکمیلی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ تکملہ اور تتمہ کے فقدان سے اصل شے کا فقدان لازم ہی آئے مگر تکملہ یا تتمہ مفقود ہو جائے تو اصل پھر بھی باقی رہ سکتا ہے لیکن اس کے برخلاف اگر اصل شے مفقود ہو تو تکملہ اور تتمہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جب جڑ ہی نہ موجود ہوگی تو تنوں اور شاخوں کا سوال کہاں سے پیدا ہوگا۔ 

مثال کے طور پر حفاظت جان کے سلسلے میں قصاص کا حکم ہے۔ قصاص میں مثلیت یعنی برابری کے فقدان سے مقصد اصلی یعنی حفاظت جان کے لیے قصاص کے حکم میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا اور اس مثلیت کے فقدان کے باوجود عورت ومرد، مومن وکافر، بوڑھے وجوان کا کوئی امتیاز نہیں ہے لیکن سب کے لیے یکساں حکم ہے۔ گویا اس تکملہ یا تتمہ یعنی مثلیت کے فقدان کی وجہ سے مقصد ضروری میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اسی طرح حفاظت آبرو اور حفاظت نسل کے لیے نکاح کا حکم ہے۔ اب نکاح کے تکمیلی وتحسینی مقاصد میں نفقۃ المثل اور مہر مثل آتا ہے۔ اگر اب نفقۃ المثل یا مہر مثل میں کوئی کمی بیشی ہو یا مطلقاً ختم کر دیا جائے تو اس سے نکاح کے مقصد اصلی یعنی حفاظت آبرو میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح کفاء ت نفقۃ المثل کے لیے تحسینی مقاصد کی حیثیت رکھتی ہے۔ کفاء ت نہ ہونے کی وجہ سے نفقۃ المثل ختم نہیں کیا جائے گا۔

ان مقاصد کے درمیان رابطہ کے سلسلے میں ایک اور بات یہ عرض ہے کہ چونکہ مقاصد حاجیہ اور مقاصد تحسینیہ مقاصد اصلی کے لیے اصل کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے کسی ایسے مقصد حاجی یا تحسینی کو اختیار کرنا جو مقصد حاجی کو باطل کر دے، خود باطل ہے۔ ہم مقصد حاجی وتحسینی کا اعتبار کرتے ہیں لیکن جہاں کہیں یہ صورت پیدا ہوتی ہے کہ ان تکمیلی مقاصد کو اختیار کرنے سے اصلی مقصد میں کوئی فرق پڑتا ہے تو ان مقاصد کو چھوڑنا لازمی ہو جاتا ہے کیونکہ ان کو اختیار کرنا مقصد اصلی کو باطل کرنا ہے اور جب مقصد اصلی کو باطل کر دیا جائے تو اس کے مابعد مرتبے کی حیثیت تکمیلی کس طرح ہو سکتی ہے۔ اس لیے راس مصلحت کے پیش نظر مقصد اصلی کا اعتبار کیا جائے گا اور ان مقاصد تکمیلی وتحسینی کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی میں مطلقاً اختلال کی وجہ سے مقصد ضروری میں بھی فی الجملہ اختلال پیدا ہو جاتا ہے۔ شاہ عبد العزیز تفسیر ’فتح العزیز‘ پارہ الم میں لکھتے ہیں کہ آدمی پہلے آداب کو چھوڑتا ہے، پھر مستحبات کو چھوڑتا ہے، پھر سنن کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد فرائض سے روگردانی کرتے کرتے آہستہ آہستہ دین سے بے بہرہ ہو جاتا ہے۔ یہ تو ہوا ترک کے معاملے میں۔ یہی حال اختیار کے معاملے میں بھی ہے کہ آدمی اگر کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرنا چاہتا ہے کہ تو ایک دم ہی اختیار نہیں کر لیتا بلکہ پہلے آہستہ آہستہ ان کے آداب کواختیار کرتا ہے، پھر ان کے عادات واطوار کو اختیار کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ ان کے نظریات کو اختیار کرتے کرتے ان کے دین کو اختیار کر لیتا ہے۔ یہ انسان کے ترک واختیار کے تدریجی منازل ہیں۔ اس تدریج کی ابتدا نہایت معمولی ہوتی ہے لیکن اس کا اختتام شدت کو پہنچ جاتا ہے۔

اگر ایک شخص مکمل طور پر حفاظت دین کرتا ہے اور ساری عبادتیں اور ان کے تقاضے پورے کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ ان سے لا پروائی برتنا شروع کر دے تو نتیجتاً وہ ان سے بالکل بے بہرہ ہو جاتا ہے اسی لیے ان مقاصد کو مطلقاً مختل کر دینے سے مقصد ضروری اور مقصد حاجی فی الجملہ خلل پذیر ہوتے ہیں اسی لیے اگر مقاصد ضروری کی پوری پوری طرح حفاظت مقصود ہو تو مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی کی بھی پوری پوری حفاظت کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو پوری طرح حفاظت دین مقصود ہو تو وہ ان عبادات کو اچھی طرح انجام دیتا ہے۔ مثلاً نماز اس طرح بھی پڑھی جا سکتی ہے کہ وضو کر لیا جائے اور نماز پڑھ رہے ہیں لیکن دھیان کہیں اور لگا ہوا ہے۔ دل میں مختلف قسم کے خیالات آ رہے ہیں لیکن بظاہر اس کی نماز صحیح مانی جائے گی کیونکہ اس کی نیت اور اس کے خلوص کو تو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جان سکتا۔ اب اس کی نماز بارگاہ الٰہی میں مقبول ہو یا نہ ہو لیکن ایک بظاہر دیکھنے والا اس کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہے گا۔ یا اگر ایک شخص نماز نہیں پڑھتا تو اس کو اسلام سے خارج نہیں سمجھا جائے گا لیکن جس شخص کو پوری طرح حفاظت مقصود ہوگی، وہ نماز کے لیے وضو کرے گا تو بسم اللہ کہہ کر شروع کرے گا۔ جب نمازکی نیت کرے گا تو اپنے طور سے پوری پوری کوشش کرے گا کہ وہ اپنے خیالات کو منتشر نہ ہونے دے اور سارے ارکان صلوٰۃ کی پابندی کرنے کی پوری طرح کوشش کرے گا۔ اس کا قلب بھی خدا کی جانب راغب ہوگا۔ جسمانی وروحانی دونوں طور سے وہ اپنے کو خدا کے حضور میں سمجھے گا اور جو الفاظ ادا کرے گا، اس کی مطابقت سے تصور قائم کرے گا تو یہ ہوئی مکمل طور سے نماز لیکن اس مقصد ضروری کو مکمل طور سے حاصل کرنے کے لیے مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی کو بھی پورا کیا۔ 

اس طرح ان مقاصد کے درمیان جو علاقے اور رابطے موجود ہیں، ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مقصد ضروری کی مکمل طور سے حفاظت مطلوب ہو تو ذیلی مقاصد کی بھی حفاظت کی جانی چاہیے۔ 

یہ جان لینے کے بعد پانچ باتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں:

۱۔ مقاصد ضروری اصل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

۲۔ مقاصد حاجی اور تحسینی کے اختلال سے مقاصد ضروری میں اختلال ضروری نہیں۔

۳۔ مقاصد ضروری کے مختل ہو جانے سے مقاصد حاجی اور مقاصد تحسینی بھی مختل ہو جاتے ہیں۔

۴۔ حاجی اور تحسینی کے مطلقاً اختلال سے بالترتیب مقصد ضروری اور مقصد حاجی میں فی الجملہ اختلال پیدا ہوجائے گا۔

۵۔ مقصد ضروری کی مکمل طور پر حفاظت کرنے کے لیے مقصد حاجی اور مقصد تحسینی کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔

(بشکریہ ’’تجلیات‘‘ کراچی)


آراء و افکار

(مئی ۲۰۰۲ء)

مئی ۲۰۰۲ء

جلد ۱۳ ۔ شمارہ ۵

تحریک ختم نبوت کے مطالبات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قافلہ معاد
ادارہ

جی ہاں! پاکستان کو آئیڈیل ازم کی ضرورت ہے
پروفیسر میاں انعام الرحمن

مقاصد تشریع کا ایک مختصر جائزہ
مولانا منتخب الحق

دینی قوتیں: نئی حکمت عملی کی ضرورت
ڈاکٹر محمد امین

دستور سے کمٹمنٹ کی ضرورت
پروفیسر میاں انعام الرحمن

سر سید کے مذہبی افکار پر ایک نظر
گل محمد خان بخمل احمد زئی

غزوۂ بدر کی سیاسی واقتصادی اہمیت
پروفیسر محمد یونس میو

تیل کی طاقت
کرسٹوفر ڈکی

مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کا حادثہ وفات
امین الدین شجاع الدین

آہ! حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ
حافظ مہر محمد میانوالوی

جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی کا مکتوب گرامی
ڈاکٹر محمود احمد غازی

Flag Counter