شراب ۔ انسان کی بد ترین دشمن

حکیم محمود احمد ظفر

شراب انسان کی بد ترین دشمن ہے۔اسی وجہ سے قرآن حکیم نے اس کو حرام قرار دیا اور لوگوں کو اس سے اجتناب کا حکم فرمایا۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ہے: یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما۔ (البقرہ ۲۲۰) لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بڑا گناہ ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدہ بھی ہے لیکن ان کا گناہ ان کے فائدہ سے بہت زیادہ ہے۔ دنیا میں صحت کے مشہور ماہر پروفیسرہرش(HIRSCH) نے اس موضوع پر لکھی گئی اپنی کتاب میں کہا ہے: ’’شراب پر پابندی جو مہذب دنیا کا سب سے بڑا ملک امریکہ پندرہ سال تک لاگو نہ کر سکا، وہ اسلام نے گزشتہ چودہ صدیوں میں لاگو کر رکھی ہے اور اس طریقہ سے اس نے تہذیب وتمدن اور انسانیت کو بہت پہلے سے بچا رکھا ہے‘‘ قرآن حکیم میں شراب پر پابندی تین مقامات پر آئی ہے۔ ان میں سے ایک سورہ بقرہ ہے جس میں سے اوپر کی آیت نقل کی گئی ہے۔ دوسرا مقام جو شراب کی پابندی سے متعلق ہے، وہ سورۃ النساء کی آیت ۴۳ ہے اور تیسری جگہ یہ پابندی سورۃ المائدہ آیت ۹۰، ۹۱ میں بیان کی گئی ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک شراب پر پابندی قرآن حکیم میں بتدریج نافذ ہوئی جب کہ بعض علما کاخیال ہے کہ یہ تینوں مقامات بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔ اگرچہ بظاہر ان کے بیانات الگ الگ محسوس ہوتے ہیں، لیکن دراصل معنی کے نقطہ نظر سے ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان تینوں سورتوں میں اپنے اپنے انداز میں شراب پر پابندی ہی لگائی گئی ہے البتہ شراب سے پیدا ہونے والے خطرات اور نقصانات کو الگ الگ انداز اور طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ المائدہ میں دس دلیلوں سے شراب کو حرام کیا گیا تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی نفرت جم جائے۔ چنانچہ فرمایا: یا ایھا الذین آمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون ۔ انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون۔ (المائدہ : ۹۰، ۹۱) اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے چڑھاوں کی جگہ اور فال نکالنے والے تیر ناپاک اور شیطانی کاموں میں سے ہیں، ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ شراب اور جوئے کی وجہ سے تمہارے مابین بغض وعداوت پیدا کر دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے۔ پس کیا تم بازآنے والے ہو؟ اس آیت میں درج ذیل دس دلائل سے شراب کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے: ۱۔ شراب کا ذکر جوئے، انصاب اور ازلام کے ساتھ کیا۔ یہ تینوں چیزیں چونکہ حرام ہیں لہذا شراب بھی حرام ہے۔ ۲۔ شر اب نوشی کو رجس (ناپاک) کہا گیا اور ہر ناپاک شے حرام ہے۔ ۳۔ شراب نوشی کو شیطانی کام فرمایا اور ہر شیطانی کام حرام ہے۔ ۴۔ شراب نوشی سے اجتناب کا حکم فرمایا لہذا اجتناب فرض وواجب اور اس کا ارتکاب حرام ہوا۔ ۵۔ آخرت ودنیا کی کامیابی اور فلاح کو شراب سے اجتناب پر منحصر کیا لہذا ارتکاب حرام ہوا۔ ۶۔ شراب کو شیطان کی طرف سے عداوت کا سبب قرار دیا اور حرام کا سبب بھی حرام ہوتا ہے۔ ۷۔ شراب کی وجہ سے شیطان بغض پیدا کرتا ہے اور بغض حرام ہے۔ ۸۔ شراب اللہ کے ذکر سے روکنے کا سبب بنتی ہے اور اللہ کے ذکر سے روکنا حرام ہے۔ ۹۔ شراب نماز سے روکتی ہے اور نماز سے روکنا حرام ہے۔ ۱۰۔ اللہ تعالی نے انتہائی بلیغ ممانعت فرماتے ہوئے استفہاما "فرمایا ہے: ’’تو کیا تم شراب نوشی سے باز آنے والے ہو؟‘‘ سیدہ بریدہؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ اس وقت شراب پینا حلال تھا۔ اچانک میں اٹھا اور سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام عرض کیا۔ اس وقت شراب کی حرمت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے آخر میں تھا کہ ’’کیا تم باز آنے والے ہو؟‘‘ میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان کو یہ دو آیات سنائیں۔ بعض کے ہاتھ میں شراب کا پیالہ تھا جس سے انہوں نے شراب پی لی تھی اور بعض کی شراب ابھی برتن میں موجود تھی۔ انہوں نے پیالے میں شراب زمین پر انڈیل دی اور کہنے لگے : ’’اے ہمارے رب ! ہم باز آ گئے۔ اے ہمارے رب ! ہم باز آ گئے‘‘ (تفسیر طبری ج ۷ ،ص ۴۷۔ السنن الکبری للبیہقی ج ۸، ص ۲۸۵۔ المستدرک للحاکم ج ۱، ص ۱۴۱) اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن حکیم میں ان تینوں سورتوں میں مختلف انداز سے شراب نوشی سے روکا گیا اور اس کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ اسلام میں ہر ناپاک اور حرام شے سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے۔ احادیث نبویہ میں شراب کی مذمت اور وعید اسی طرح سرکار دو عالم ﷺ نے بھی شراب کے بارے میں بڑی وعیدیں سنائی ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں: ۱۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’زنا کرتے وقت زانی میں ایمان کامل نہیں ہوتا اور شراب پیتے وقت شرابی میں ایمان کامل نہیں ہوتا اور چوری کرتے وقت چور میں ایمان کامل نہیں ہوتا‘‘ (بخاری ج ۲، ص ۸۳۶۔ نسائی، حدیث نمبر ۵۶۷۵۔ مسلم، حدیث نمبر ۱۰۱) ۲۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آقائے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس نے دنیا میں شراب پی، وہ آخرت میں (جنت کی شراب طہور) سے محروم رہے گا‘‘ (بخاری ج ۲، ص ۸۳۶) ۳۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمرو ابن العاصؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’جس شخص نے شراب پی، چالیس روز تک اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ پھر اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ پھر اگر وہ دبارہ شراب پیے تو اللہ تعالی پھر چالیس روز تک اس کی توبہ قبول نہیں فرماتے۔ پھر اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کر لیتے ہیں۔ پھر اگر وہ شراب پیے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کو دوزخیوں کی پیپ پلائے۔‘‘ (نسائی، حدیث نمبر ۵۶۸۶۔ ابن ماجہ ، حدیث نمبر ۳۳۷۷) ۴۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمرو بن العاصؓ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا، نہ والدین کا نافرمان اور نہ شراب کا پینے والا‘‘ (نسائی ، حدیث نمبر ۵۶۸۸) ۵۔ سیدنا ابو مالک اشعریؓ فرماتے ہیں کہ سید دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور آلات موسیقی کو حلال کہیں گے۔ اور عنقریب کچھ لوگ پہاڑ کے دامن میں رہیں گے۔ جب را ت کو وہ اپنے جانوروں کا ریوڑ لے کر واپس لوٹیں گے اور ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت لے کر آئے گا تو وہ اس سے کہیں گے، کل آنا۔ اللہ تعالی پہاڑ گرا کر ان کو ہلاک کر دے گا۔ اور دوسرے لوگوں یعنی زنا، شراب اور آلات موسیقی کو حلال کہنے والوں کو مسخ کر کے قیامت کے روز بندر اور سور بنا دے گا‘‘ (بخاری، ج ۲، ص ۸۳۷) ۶۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی نے شراب پر لعنت فرمائی ہے، اور شراب پینے والے پر، شراب پلانے والے پر، شراب فروخت کرنے والے پر، شراب خریدنے والے پر، شراب کو انگوروں سے نچوڑنے والے پر، اس کو بنانے والے پر، اس کو لادنے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس لاد کر لے جائی جائے‘‘ (سنن ابی داؤد، ج ۲، ص ۱۶۱) ۷۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ہر وہ شے جو عقل کو ڈھانپ لے، وہ شراب ہے اور ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ اور جس شخص نے کسی نشہ آور شے کو پیا، اس کی چالیس روز کی نمازیں ناقص ہو جائیں گی اور اگر توبہ کی تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرما لے گا اور اگر اس نے چوتھی بار شراب پی تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اس کو طینۃ الخیال سے پلائے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ طینۃ الخیال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: دوزخیوں کی پیپ۔‘‘ (ابو داؤد ج ۲، ص ۱۶۲) ۸۔ عروہ بن رویم بیان کرتے ہیں کہ ابن الدیلمی سوار ہو کر سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کی تلاش میں گئے۔ جب ان کے پاس پہنچے تو کہا : ’’اے عبد اللہ بن عمرو، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے شراب کے بارے میں کچھ سنا ہے؟انہوں نے فرمایا : ہاں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جو شخص شراب پیے گا، اللہ تعالی اس کی چالیس روز کی نمازیں قبول نہیں فرمائے گا‘‘ (سنن نسائی، حدیث نمبر ۵۶۸۰۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر ۳۳۷۷) ۹۔ سیدنا معاویہؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص شراب پیے، اس کو کوڑے مارو۔ اگر وہ چوتھی دفعہ پیے تو اس کو قتل کر دو‘‘ (ترمذی ص ۲۲۸) ۱۰۔ سیدنا عثمانؓ فرماتے ہیں کہ شراب سے اجتناب کرو۔ یہ تمام گناہوں کی اصل ہے۔ تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص جو نہایت عبادت گزار تھا، اس پر ایک بدکار عورت فریفتہ ہو گئی۔ اس نے اپنی لونڈی بھیج کر اس کو کسی بہانے سے بلایا۔ جب وہ عبادت گزار شخص اس کے پاس پہنچا تو اس نے دروازہ بند کر دیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں ایک حسین وجمیل عورت ہے، ایک لڑکاہے اور ایک شراب کا برتن ہے۔ اس بدکار عورت نے اس سے کہا : ’’خدا کی قسم ! میں نے تم کو گواہی کے لیے نہیں بلایا بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ تم میری خواہش نفس پوری کر و یا اس شراب کو پیو یا اس لڑکے کو قتل کر دو۔‘‘ اس عابدنے (شراب کو کم تر گناہ سمجھتے ہوئے) کہا : مجھے اس شراب سے ایک پیالہ پلا دو۔ اس عورت نے اس کو ایک پیالہ شراب پلائی۔ اس نے کہا، اور پلاؤ۔ (اسی شراب کی مدہوشی میں) پھر اس نے ا س عورت سے بد کاری کی اور اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔ سو تم شراب سے اجتناب کرو کیونکہ خدا کی قسم ! شراب نوشی کے ساتھ ایمان باقی نہیں رہتا ‘‘ (سنن نسائی، حدیث نمبر ۵۶۸۲) ان احادیث کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن میں شراب نوشی پر وعید بیان کی گئی ہے، لیکن طوالت کے خوف سے ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ شراب کے نقصانات سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۱۹ میں بطور خاص شراب کی خرابیاں مادی اور روحانی پہلو سے بھی بیان کی گئی ہیں کیونکہ قرآن حکیم نے نفع کے مقابلہ میں نقصان کا لفظ استعمال نہیں فرمایا بلکہ اثم کا لفظ استعمال کیا جس سے بتانا یہ مقصود تھا کہ اگرچہ دنیوی طور پر تم لوگوں کو اس کے کچھ فوائد نظر آئیں لیکن یاد رکھو اللہ تعالی کے ہاں شراب نوشی کا گناہ اس قدر زیادہ ہے کہ یہ دنیوی فوائد اس کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔لیکن اگر شراب نوشی کا سائنسی علم کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں جن میں سے چند ایک کو یہاں بیان کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ انسانی صحت پر شراب کے زہریلے اثرات کا پوری طرح سے جائزہ لیا جائے، ہمیں اس کے کیمیاوی اجزا کے متعلق تھوڑا سا ادراک حاصل کرنا چاہئے۔ علم کیمیا (Chemistry) کی رو سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ الکحل اشیا، خاص طور پر چربی کو، گلانے یا حل کرنے کے لیے ایک طاقتور محلول ہے۔ غذائی اصطلاحات میں یہ حل کرنے والی چیز نہیں بلکہ توڑ پھوڑ کے عمل پر منتج ہے۔ دوسرے لفظوں میں بنیادی خوراک یعنی شکر کو بیکٹیریا یا جراثیم کے ذریعے سے ہضم کرنے کے سلسلہ میں پیدا ہونے والی یہ ایک کیمیاوی ذیلی خوراک (Biproduct) ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر شراب انسانی جسم کے لیے ایک نقصان دہ کیمیکل تسلیم کیا گیا ہے اور انسانی جگراس کو فورا توڑ دیتا ہے یعنی اس کی زہرناکی کو ختم کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس عمل کو Deoxified کہتے ہیں۔ چنانچہ شراب یا الکحل کی یقیناًکوئی غذائی اہمیت نہیں ہے جس کا دعوی اس کے رسیا اکثر وبیشتر کرتے ہیں۔ جب یہ جسم کے اندر پہنچتی ہے تو دوسری ہر قسم کی خوراک کے برعکس کنٹرول سے باہر خامروں کی تبدیلیMetabolized یا ہضم ہو جاتی ہے۔ صرف یہی ایک ظاہری فائدہ اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے۔ شراب یا الکحل کیا اثرات ڈالتی ہے، اس کو ذیل میں ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ نظام ہضم پر شرا ب کے اثرات شراب کا سب سے پہلا برا اثر منہ سے شروع ہوتا ہے۔ عام طور پر منہ کے اندر ایک خاص قسم کا زندہ ماحول (Flora) ہوتا ہے جو ایک لعاب کی صورت میں ہے۔ نقصان دہ جراثیم کے لیے اس ماحول میں زندہ رہ جانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر چونکہ شراب کی وجہ سے اس ماحول کی شدت اور قوت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے، اس لیے اس کا نتیجہ مسوڑھوں میں زخم (Inflection) اور سوجن کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ شراب کے عادی لوگوں کے دانت نہایت تیزی سے خراب اور فرسودہ ہو جاتے ہیں۔ منہ کے بعد گلے اور خوراک کی نالی (Esophagus) کی باری آتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے ملحق ہوتے ہیں۔ یہ نہایت مشکل کام سرانجام دیتے ہیں اور ان پر نہایت حساس استر (Mucous Membrane) کی تہہ ہوتی ہے۔ شراب کے اثر سے اس حساس تہہ پر برا اثر پڑتا ہے اور جلن کا باعث بنتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں اعضا کے اندر ضعف پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات یہ اعضا سرطان (Cancer) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دراصل وہ ادارے جو سرطان جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، ۱۹۸۰ء کے بعد سے شراب کے خلاف دور رس اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ بات تو ہر شخص کے علم میں ہے کہ شراب کی وجہ سے معدے کی خطرناک بیماریاں مثلا Gastritis پیدا ہوتی ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ یہ خون میں موجود لائپیڈ (Lipid) جو ایک خاص قسم کی چربی ہوتی ہے، اس کے استعمال سے تحلیل ہو جاتی ہے۔ یہ لائیپڈ ایک طرح کی حفاظتی تہہ مہیا کرتا ہے جس پر تیزابیت یعنی ہائیڈرو کلورک ایسڈ کا نقصان دہ اثر نہیں ہوتا۔ اسی تہہ کی وجہ سے معدہ خود اپنے آپ کو ہضم نہیں کر سکتا۔ اگرچہ فی الحال یہ پوری طرح ثابت نہیں ہوا کہ جس طرح شراب گلے اورپینے کی نالی میں سرطان کا باعث بنتی ہے، معدے کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے، لیکن اس خیال کو تقویت حاصل ہوتی جا رہی ہے کہ معدے کے کینسر میں بھی شراب کی کارستانی ہوتی ہے۔ شراب کا سب سے زیادہ نقصان دہ اثر بارہ انگشتی آنت (Dudenum) پر ہوتا ہے۔ اس جگہ نہایت نازک کیمیائی اثرات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ شراب اس کی اس خاصیت کو متاثر کرتی ہے جو مخصوص ہاضم لعاب خارج کرنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی کیمیائی حساسیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہاضمہ کے لیے اس اہم راستے کی تباہی کے بعد شراب جگر سے پیدا ہونے والے ہاضم لعاب (Bile) کے اخراج پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ تمام شرابیوں کی بارہ انگشتی آنت اور پتہ کی جھلی ہمیشہ بیماری کا شکار ہوتی ہیں یا ان کا کام اکثر صحیح نہیں ہوتا۔ یہ حالت ہر شرابی کو گیس اور بد ہضمی کے ذریعہ مصیبت میں ڈالے رکھتی ہے۔ معدے کی یہ تکالیف آنتوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ چنانچہ نظام ہضم کے کمپیوٹر کی طرح کام کرنے والے نظام کی حسن ترتیب اور ہم آہنگی بھی تباہ وبرباد ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ایک صحت مند انسانی جسم ہر اس شے کو ہضم کر لیتا ہے جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے، یہ نظام ہضم کو خاص قسم کی ہدایات جاری کرنے سے ہوتا ہے، مگر زیادہ اور مستقل طور پر شراب پینے والوں کے معاملہ میں یہ کنٹرول یک قلم ختم ہو جاتا ہے اور ہضم کرنے کا عمل بلا روک ٹوک اور بغیر کسی تمیز کے جاری رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اس لیے کہ بے تحاشا ہضم اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتا کہ خلیوں کی درمیانی جگہ (Interstices) میں چربی کا ذخیرہ کرنا شروع کر دے۔ درحقیقت چربی کی یہ کثیر مقدار دل کے پٹھوں کے نظام پر مایو کارڈک ٹیشو (Myo Cardic Tissue) پر چھا جاتی ہے اور اس طرح دل کی خطرناک قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ شراب کا سب سے زیادہ خراب اثر جگر (Liver) پر ہوتا ہے۔ انسانی جگر وہ حساس لیبارٹری ہے جو شراب کے ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے سالمے کو زہر کی طرح محسوس کرتا ہے۔ جگر پر شراب کا اثر دو طرح سے ہوتا ہے: ۱۔ شراب خوری کی صورت میں جگر کے خلیے (Cells) الکحل ختم کرنے کی ذمہ داری میں پوری طرح مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے دوسرے کاموں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ۲۔ جگر کے کیمیاوی عمل جو ایک سے ایک بڑھ کر حساس ہوتے ہیں، شراب کے بلا روک ٹوک اثر کے تحت درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جگر کو ایک ہی عمل بار بار دہرانا پڑتا ہے اور اس طرح بے پناہ مسلسل اور بلا ضرورت محنت اور مشقت سے جگر کو کمزوری اور ضعف واقع ہو جاتا ہے۔ یہ اثرات جگر کے لیے خطرناک نتائج پیدا کرتے ہیں۔ ان اثرات میں زیادہ مشہور جگر کا سکڑنا (Cyrrhosis) ہوتا ہے جو اس کا زندہ ثبوت ہوتا ہے کہ جگر کی بربادی مکمل ہو چکی ہے۔ زیادہ خطرناک ممکنات میں سے یہ بھی ہے کہ شراب کا استعمال ایک ایک کر کے جگر کے تمام فعلوں کو تباہ کر دے۔ ان فعلوں میں سے پہلا فعل وہ ہے جس میں جگر ان اجزا کو پیدا کرتا ہے جس سے خون کا عمل ظہور پذیر ہوتا ہے۔ چونکہ جگر ان اجزا کو پیدا نہیں کر سکتا یا اس کی پیداوار بہت زیادہ کم ہو جاتی ہے، اس وجہ سے تمام عادی شرابی اندر سے کمزور (Anaemic) ہوتے ہیں یعنی ان میں خون کی کمی ہوتی ہے۔ اگرچہ ان کے چہرے خون کی نالیوں کے بڑھنے یا کھلنے کی وجہ سے تندرست اور تنومند نظر آتے ہیں لیکن ان کی ہڈیوں کے گودے (Bone Marrow) تباہ ہو چکے ہوتے ہیں یعنی درحقیقت خون کی پیداوار کا عمل ختم یا بے حد کم ہو چکا ہوتا ہے۔ مزید برآں جگر کی وہ طاقت جس کی وجہ سے جسمانی تحفظ کے اعضا جیسے مختلف قسم کے گلوبلین بالخصوص امیونو گلوبلین (Immuno Globulin) بنتے ہیں، شرابیوں میں خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں بیماریوں کے خلا ف مدافعت کم سے کم ہو جاتی ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ گلوبلین لحمیات کے وہ گروہ ہوتے ہیں جو معدنی نمکیات کے ہلکے محلولوں میں حل پذیر ہوتے ہیں۔ یہ خون کے سرخ خلیوں میں پائے جاتے ہیں اور حدت کو جذب کرتے ہیں۔ شراب بعض اوقات جگر کے فعل کے اچانک رک جانے کی وجہ بھی بن جاتی ہے۔ اس صورت میں ایک شرابی بے ہوشی کے عالم ہی میں مر جاتا ہے۔ اسے جگر کا دیوالیہ پن (Liver Bankruptcy) کہتے ہیں۔ جگر کے سلسلے میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جس میں اس پر شراب کے نقصان دہ اثرات کا ثبوت نہ ملتا ہو۔ اس نکتہ کو میں اس سے زیادہ شدت سے بیان نہیں کر سکتا۔ شراب کا دوران خون پر اثر دوران خون پر شراب کا اثر دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک تو جگر پر اثر کے ذریعے بالواسطہ ہوتا ہے۔ دوسرا دل کی بافتوں پر، جنہیں میو کارڈک ٹیشو (Myo Cardic Tissue) کہتے ہیں، بلا واسطہ اثر کے ذریعے۔ جگر جو خون میں چربی کی مقدار کو تحلیل کرنے میں سب سے اہم رول ادا کرتا ہے، اس میں ضعف اور خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں خون لے جانے والی نسیں سخت ہوجاتی ہیں جسے Arteriosclerosis کہتے ہیں۔ اس سے فشار خون یعنی بلڈ پریشر (Hypertension) کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف الکوحل کے تیزی سے جل جانے کے عمل سے خون کے بہاؤ کے مخصوص طریق میں، جسے ہم خون کے بہاؤ کی رفتار کہتے ہیں، گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے دل کی تھکان واقع ہو جاتی ہے۔ مزید برآں شراب کی وجہ سے دل میں چربی کے ذرات جمع ہو جاتے ہیں اور اعصابی نظام پر نقصان دہ اثرات کے ذریعہ دل کے عمل میں خلل اندازی واقع ہو جاتی ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عادی شرابی بالآخر یا تو جگر کے فعل میں خلل (Cyrrhosis) کی وجہ سے یا ہارٹ فیل ہونے کی وجہ سے اپنے خاتمے کو پہنچتے ہیں۔ وہ شخص جو دل کے عارضہ میں مبتلا ہو، اس کے لیے شراب کا ایک قطرہ لینا بھی ایسے ہے جیسے اسے اپنی زندگی کی کوئی پروا نہیں اور نہ اسے اپنے جسم کے کسی عضو کے نقصان کی پروا ہے۔ شراب کے رسیا کچھ لوگوں کے یہ بھی خیالات ہیں کہ تھوڑی اور مناسب مقدار میں شراب پینے سے دل کے تشنج یا دورے میں افاقہ ہوتا ہے۔ یہ بادی النظر میں شراب کے فوائد میں سے ایک نظر آتا ہے لیکن سائنسی طور پر اس خیال کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے۔ اگرچہ طبی تحریروں اور کتابوں میں اس قسم کی کوئی تجویز موجود نہیں ہے لیکن بد قسمتی سے بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس کے برعکس سوچتے یا محسوس کرتے ہیں۔ انسانی گردے جنہیں دوران خون کے نظام کا آخری مقام سمجھا جاتا ہے، ان کو بھی شراب کے استعمال سے سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے کہ گردے انتہائی حساس کیمیاوی جوہر کے ملاپ (Valence) کے مقام پر چھلنی کا کام دیتے ہیں لیکن شراب (الکحل) اس نازک عمل کو بھی تہ وبالا کر دیتی ہے۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ وہ شرابیں جن میں الکحل کی مقدار کم ہوتی ہے، گردوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں چنانچہ زیادہ مقدار میں Beer پینے والوں کے گردے اکثر خراب ہوتے ہیں۔ لمف والے (Lymphatic) نظام کی انسانی جسم میں بے حد اہمیت ہے۔ ا س نظام کی خون والی نالیاں شراب کے ہاتھوں ناقابل علاج نقصان اٹھاتی ہیں اس لیے کہ چربی والے نامیاتی مرکب لائیپڈ(Lipid) کا اس نظام میں ایک بہت اہم مقام ہوتا ہے۔ شراب کا نقصان دہ اثر ا حیران کن حد تک اس حفاظت بہم پہنچانے والے نظام کو برباد کر دیتا ہے۔ اگر اللہ تعالی نے، جیسا کہ مختلف آیات میں فرمایا گیا ہے، اپنی خصوصی عنایات کے ذریعہ انسانی زندگی کو حفاظت کے دیگر طریقوں سے گھیرا ہوا نہ ہوتا تو ہمیں مزید صراحت سے نظر آتا کہ شراب کس قدر نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اعصابی نظام پر شراب کا اثر شراب عصبی خلیوں کی اس باریک جھلی میں داخل ہو جاتی ہے جو نامیاتی چربی جیسے مرکب یعنی لائیپڈ کی حفاظت میں ہوتی ہے۔ اس طرح اس نظام کے برقی رابطہ (Electrical Communication) میں خلل اندازی کرتی ہے۔ یہ خراب اثر دو مختلف ذریعوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کا پہلا اثر نشے کے اچانک حملے کی صورت میں ہوتا ہے لیکن اس کا دیرپا اثر بہت ہی خطرناک ہوتا ہے۔ شراب اعصابی نظام کو روز بروز نقصان پہنچاتی ہے جس سے کئی اقسام کی بیماریاں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مزید برآں اگرچہ شروع شروع میں شراب کا خراب اثر معمولی یا غیر واضح بھی ہو ، تب بھی اس کے دیرپا خراب اثرات شروع ہی سے مرتب ہوتے رہتے ہیں چنانچہ کچھ لوگوں کے یہ دعوے کہ ’’مجھے تو شراب سے نشہ نہیں ہوتا یا مجھ پر شراب کا اثر نہیں ہوتا‘‘ محض طفل تسلی اور خود فریبی ہے۔ شراب کے برے اثرات جوانی میں اور بطور خاص بچپن میں بے حد زیادہ ہوتے ہیں۔ عام طو رپر یہ نظام لعاب پیدا کر کے فاسد مادوں کو جسم سے ایک بدرد جیسے عمل سے نکالنے کا کام کرتا ہے۔ معلوم بیماریوں جیسے ہذیان (Delirium) ، کپکپی (Tremen) ، پلائینورٹس (Plyneuritis)اور کورساکوف کے مجموعہ علامات (Korsakof Syndrome) شراب کے اثرات بد کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس کا نہایت برا اثر اعصابی نظام کے مراکز پر ناقابل علاج حد تک ہوتا ہے۔ الفاظ کا بھولنا (Amnesia) اور ہاتھوں کا رعشہ اس اعصابی نقصان کی علامات ہوتی ہیں۔ شراب جس میں چربی پگھلانے کی صلاحیت ہوتی ہے، تخلیقی خلیوں (Reproductive Cells) میں داخل ہو کر ان کو بے حد نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کی عام فہم مثالوں میں نئی نسل کی ذہانت میں کمی اور ناقص بالیدگی (Dystrophy) شامل ہیں۔ بہت سے مطالعہ جات اور سروے یہ حقیقت منکشف کرتے جا رہے ہیں کہ ذہنی طور پر غبی بچوں کے والدین اکثر وبیشتر شدید قسم کی شراب نوشی کرتے تھے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شراب عورت کے تخم (Ovum) اور بیضۂ حیات (Egg-cell) کے خلیے کو بہت آسانی سے نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شرابی ماؤں کے بچے اکثر موروثی طور پر دماغی یا قلبی صدمے (Shock) یا جھٹکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ شرابی باپ کی طرف سے ایسے واقعات کی تعداد تیس فی صد سے زیادہ تک ہوتی ہے۔ شراب کے معاشرے پر اثرات یہ حقیقت بار بار ثابت ہو چکی ہے کہ شراب کس طرح معاشرتی تعلقات اور استحکام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ شراب سے معاشرے پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں: ۱۔ شرابیوں میں زود رنجی یا غصے کے فوری حملے ان کو معاشرے میں لا تعداد تنازعات میں الجھائے رکھتے ہیں۔ ۲۔ لا تعداد متواتر طلاقیں معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں اور نتیجتا" مجرمانہ ذہنیت کے حامل بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے تمام معاشرہ خطرناک حد تک متاثر ہوتا ہے۔ ۳۔ مختلف قسم کے کام کرنے والے مزدوروں اور کاریگروں پر شراب کی وجہ سے بے دلی اور کاہلی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح ان کی کارکردگی اور مہارت پر برا اثر پڑتا ہے جس کا آخری نقصان معاشرے کو پہنچتا ہے۔ ۴۔ شراب کی وجہ سے انسانوں میں ایک دوسرے کی طرف غیر ہمدردی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قومی تفکر، معاشرتی اتحاد اور معاشرتی مسائل کے خلاف جہاد کا جذبہ مکمل طورپر ختم ہو جاتا ہے۔ اوپر بیان کیے گئے چار قسم کے مسائل نے مغربی معاشرت والوں کو اس قدر فکر مند کر رکھا ہے کہ انہوں نے بارہا اپنی اپنی حکومتوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ اگر شراب کا استعمال اسی طرح بڑھتا رہا تو ان ملکوں میں قومی جذبہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ قرآن حکیم نے اس مسئلہ کی بیخ کنی کر دی ہے جس کے لیے کسی معاشرے اور کسی دانش ور میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اس مسئلے کو اس طرح دو ٹوک طریقہ سے حل کرتا یعنی شراب نوشی کا یہ مسئلہ ان معاشروں کی بنیادوں کو آہستہ آہستہ گھن کی طرح چاٹ رہا ہے جب کہ اللہ کے حکم نے ہمارے معاشرے کو صدیوں سے اس مصیبت سے دور رکھا ہے۔

اسلامی شریعت

(مارچ ۲۰۰۱ء)

Flag Counter