افغانستان کے داخلی حالات پر ایک نظر

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود (ستارۂ امتیاز) پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دانوں میں سے ہیں اور سائنس کے حوالے سے قرآنی علوم ومعارف کی اشاعت کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں۔ ان دنوں افغانستان کی تعمیر نو اور وہاں سرمایہ کاری کے لیے مسلم صنعت کاروں اور تاجروں کو توجہ دلانے کی مہم میں سرگرم عمل ہیں اور اس مقصد کے لیے ’’امہ تعمیر نو برائے افغانستان‘‘ کے نام سے باقاعدہ گروپ قائم کر کے مساعی کو منظم کر رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے حالیہ دورۂ افغانستان کے تاثرات ایک مضمون میں بیان کیے ہیں جو قارئین کی دلچسپی اور استفادہ کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں مزید معلومات اور راہ نمائی کے لیے ڈاکٹر صاحب موصوف سے مندرجہ ذیل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ 60/B ناظم الدین روڈ، F - 8/4، اسلام آباد ۔ فون : 0510 2260001 - 2282400 (ادارہ) میں افغانستان جانے کے لیے پہلی بار طورخم پہنچا تو سرحد کے ہماری طرف خوف وڈر اور افراتفری کا عالم تھا۔ پولیس کے ہاتھوں شریف لوگ ذلیل وخوار ہو رہے تھے۔ جیسے تیسے ہم سرحد کی دوسری جانب پہنچے تو یک لخت وہاں کا منظر بدل گیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کھلی فضا میں آ گئے ہوں، وہاں خوف تھا نہ ڈر، پکڑ دھکڑ تھی نہ دھول دھونس۔ لوگ اپنے اپنے کاروبار میں لگے ہوئے تھے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور ملحقہ افغان علاقے کی تہذیب وثقافت ایک ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ ہماری طرف بجلی کا بل نہیں دیتے لیکن دوسری طرف بجلی استعمال کرنے والا ہر شخص پوری ایمان داری کے ساتھ بل دیتا ہے؟ جلال آباد سے کابل جاتے ہوئے میں نے ٹریفک کے نظام کا مطالعہ کیا۔ ہر گاڑی اصول وضابطے کے مطابق چلتی ہے، اس کے باوجود کہ وہاں کی سڑکوں کی حالت بہت خراب ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہاں کے مکانات ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں لیکن ان کے دل نہیں ٹوٹے ہیں۔ آپ اسلام آباد کے کسی مقام پر گاڑی پارک کریں تو بھکاریوں کا ایک غول آپ پر جھپٹے گا۔ کابل شہر میں بھی میں نے بھکاری دیکھے لیکن ان کا انداز بڑا باوقار تھا۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ ضرورت مند ہیں۔ وہاں مفلس اور ضرورت مند شخص سڑک سے ہٹ کر ایک کمبل بچھا کر بیٹھا ہوگا، اس کی زبان خاموش ہوگی۔ جو کچھ کوئی خوشی سے چاہے، دے دے، وہ آپ کا دامن نہیں پکڑے گا۔ ہمارے ہاں جس قدر سگریٹ پیا جاتا ہے، اس پر ہر سال اربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ افغانستان میں بھی موجودہ حکومت کے آنے سے قبل سگریٹ کا دھواں خوب اڑایا جاتا تھا لیکن امیر المومنین نے آتے ہی اعلان کیا کہ سگریٹ مکروہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اس کے پینے پر پابندی عائد ہو گئی۔ اب یہ حالت ہے کہ آپ کابل یا قندھار شہر کے گلی کوچوں میں پھر کر دیکھ لیں، آپ کو کوئی سگریٹ نوشی کرتا ہوا نہیں دکھائی دے گا۔ حالانکہ بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے تناؤ کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور تناؤ ختم کرنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن انہوں نے سگریٹ کے بجائے اللہ کا سہارا لیا ہے اور اللہ کی یاد کے ذریعے اپنی پریشانی دور کرتے ہیں۔ افغانستان کی حالت زار دیکھ کر میں دل ہی دل میں کڑھتا تھا لیکن وہ مطمئن تھے۔ ایک روز میں نے اپنے افغان دوستوں سے کہا، آپ پہلے ہی کس قدر مصیبت میں تھے، اب اقوام متحدہ نے مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ایک افغان نے جواب دیا اسی میں اللہ کی بہتری شامل ہوگی۔ ہم مایوس نہیں بلکہ ہمیں توقع ہے کہ ہمارا کل آج سے بہتر ہوگا۔ اللہ تعالی نے ہمیں زرخیز ملک دیا ہے، اس کی آب وہوا اچھی ہے۔ اللہ تعالی نے بارش برسا دی تو اس قدر فصل پیدا ہوگی جس سے ہر افغانی دو وقت کی روٹی کھالے۔ اور کیا چاہئے؟ حقیقت یہ ہے کہ افغانیوں نے اپنا طرز معاشرت اس قدر سادہ کر لیا ہے کہ انہیں اپنی زندگی مشکل محسوس ہی نہیں ہوتی۔ افغان معاشرے میں مثالی اسلامی مساوات کے نمونے جابجا نظر آتے ہیں۔ ایک روز میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کابل میں محکمہ منصوبہ بندی کے دفتر میں گیا۔ متعلقہ رئیس (Director) موجود نہیں تھا۔ دفتر کے چپڑاسی نے ہمیں بٹھایا اور چائے بنا کر لایا، وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے لگا۔ اتنے میں ڈائریکٹر صاحب آ گئے، چپڑاسی نے انہیں ہمارے بارے میں بتایا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ ان کا چپڑاسی بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتا رہا۔ افغانستان کا ایک اہم مسئلہ غیر قانونی ہتھیاروں کی بہتات تھی۔ افغانستان کا کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس میں چند ہتھیار غیر قانونی طور پر نہ ہوں۔ یہ افغان حکومت کا کارنامہ ہے جس نے ایسے لوگوں سے ہتھیار لے لیے جو ان کو اپنا زیور اور عزت خیال کرتے ہیں۔ یہ کام اس قدر مہارت اور محبت سے کیا گیا کہ کوئی معمولی سی سختی بھی نہیں کرنی پڑی۔ میں نے سہیل فاروقی سے کابل میں پوچھا کہ یہ حیرت انگیز کارنامہ کیسے انجام دیا گیا؟ وہ ملک کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کی مہم کے انچارج تھے۔ انہوں نے کہا جیسے ہی امیر المومنین نے حکم دیا کہ تمام افراد اپنا اپنا اسلحہ جمع کرا دیں، لوگوں نے بلا توقف حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ تاہم افغان دن کی روشنی میں ہتھیار دینے پر شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے ہم نے راتوں کو مختلف آبادیوں میں ٹرک کھڑے کر دیے۔ لوگ اپنے اپنے ہتھیار اس میں لاکر پھینک دیتے اور علی الصبح حکومت کے اہل کار اس ٹرک کو لے جاتے تھے۔ اس طرح حکومت نے یہ مشکل کام بغیر کسی جبر اور سختی کے، حکمت اور دانائی سے مکمل کر لیا۔ غربت اور بے روزگاری نے افغانوں میں بے حسی اور بخل پیدا نہیں کیا جو بے خدا معاشروں کاطرۂ امتیاز ہے۔ ایک مرتبہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جلال آباد سے کابل جا رہا تھا۔ راستے میں نماز ظہر کے لیے ہم نے سڑک کے کنارے ایک جگہ گاڑی کھڑی کی۔ ہم وضو کے لیے پانی کی تلاش میں تھے کہ دور سے ایک نوجوان نے ہمیں دیکھا اور بھاگم بھاگ ہمارے پاس پہنچا، بڑی محبت سے سلام کیا پھر پوچھا، کیا آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے؟ ہم نے بتایا کہ نماز کے لیے رکے ہیں۔ وہ دوبارہ گھر کی طرف بھاگا اور چند لمحے بعد ایک کمبل لے کر واپس آ گیا۔ اس کے ساتھ چھوٹا بھائی تھا جس نے جگ اور گلاس اٹھا رکھے تھے۔ اس نے ہمیں پانی پلایا اور ہمارے لیے وضو کا اہتمام کیا۔ پھر کمبل بچھایا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد ہمیں کھانے کی پرخلوص دعوت دی جو وقت کی کمی کی وجہ سے ہم قبول نہیں کرسکے۔ تاہم یہ پہلا موقع تھا جب میں نے افغانوں کی محبت کا ذائقہ چکھا۔ میں نے سوچا افغان معاشرے میں غربت کے باوجود کچھ لوگ مسافروں کے لیے دیدہ ودل فرش راہ کرتے ہیں۔ لیکن سفر کے دوران یہ تجربہ ہر مقام پر ہوا۔ میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو گیا۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ افغانوں سے ان کی دولت بے شک چھن گئی ہے لیکن اسلام کا رشتہ اور مضبوط ہو گیا ہے اور مسلمانوں کے لیے ان کے دلوں میں محبت اور عقیدت بڑھ گئی ہے۔ ایک مرتبہ ہمیں ایک ضروری کام کے لیے گورنر قندھار ملا حسن خان سے ملنے کی ضرورت پڑی۔ بظاہر تو گورنر سے ملاقات جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ میرے ذہن میں پاکستانی گورنروں کا کروفر اور پروٹوکول چھایا ہوا تھا جن سے آپ ہفتوں کوشش کے باوجود نہیں مل سکتے۔ ہم اللہ پر بھروسہ کر کے سیدھے گورنر کے دفتر پہنچے۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ گورنر صاحب نماز ظہر کے وقت مسجد میں ملیں گے۔ ہم مسجد میں گئے، نماز کے بعد لوگ مختلف ٹولیوں میں جمع ہو گئے۔ میں نے ایک شخص سے پوچھاکہ گورنر صاحب کہاں ہیں؟ اس نے بتایا کہ وہ سامنے والی ٹولی میں جو شخص کھڑا ہے، وہی گورنر قندھار ہے۔ میں نے غور سے دیکھا ، اس کی ایک ٹانگ نہیں تھی، اس کی جگہ لکڑی کی ٹانگ تھی۔ وہ باریش اور خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ باری باری لوگوں کے پاس جاتا، ان کے مسائل سنتا، احکامات جاری کرتا اور آگے بڑھ جاتا۔ مجھے خدشہ ہوا کہ شاید ہمارے پاس آتے آتے وقت ختم ہو جائے گااور ہم ملاقات سے محروم رہ جائیں گے۔ میں نے اس خدشے کا اظہار اپنے مترجم سے کیا۔ اس نے پورے یقین سے کہا، وہ ضرور ہمارے پاس آئیں گے۔ جب گورنر حسن خان ہمارے پاس پہنچے تو تاخیر پر معذرت کی اور کہا کہ سب سے آخر میں آپ سے ملاقات کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ ہمارے بیرونی مہمان ہیں اور میں آپ کو خاصا وقت دینا چاہتا ہوں۔ بتائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ ہم نے کہا ہم قندھار میں آٹے کی مل لگانا چاہتے ہیں، اس کے لیے ہمیں جگہ چاہئے۔ انہوں نے کہا، اچھی بات ہے۔ اس وقت دفاتر بند ہو گئے ہیں، آپ کل صبح آٹھ بجے مجھ سے ملیں۔ اگلے روز آٹھ بجے ہم وہاں پہنچے تو گورنر صاحب پہلے سے ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔ ہم نے اپنی درخواست پیش کی۔ انہوں نے دوسرے دفاتر کو ٹیلی فون کیے اور جب تک انہیں یقین نہیں ہو گیا کہ ہماری ضرورت پوری ہو گئی ہے، اس وقت تک وہ ہم پر ہی توجہ مبذول کیے رہے۔ ایک اور دفعہ ہم قندھار کے سرکاری مہمان خانے میں تھے۔ وہاں کے سرکاری مہمان خانے میں جس کا جی چاہے، قیام کر سکتا ہے۔ گورنر صاحب کا دفتر بھی مہمان خانے کے ساتھ ہی تھا۔ سردی کے دن تھے۔ جس کمرے میں ہم مقیم تھے، وہاں ہیٹر نہیں تھا۔ شام کے وقت میں نے دیکھا، گورنر ایک شخص کے ساتھ ہیٹر اٹھائے آرہے ہیں۔ انہوں نے خود کھڑے ہو کر ہیٹر لگوایا اور کہا اس وقت ہیٹر کی تنصیب اس لیے ضروری تھی کہ آپ ہمارے مہمان ہیں۔ اس ہیٹر کو ایک دوسری جگہ سے آپ کے لیے لایا ہوں تاکہ آپ کو سردی نہ لگے۔ میں نے دل میں سوچا، بے شک اسلامی حکومت کا طرۂ امتیاز یہی ہوتا ہے کہ حکمران قوم کے خادم ہوتے ہیں۔ اسلامی حکومت صرف سزاؤں کا نام نہیں بلکہ خدمت خلق کا نام ہے۔ افغانستان کے وزیر اعظم ملا ربانی سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ بڑے منکسر المزاج شخص ہیں۔ دوران گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ہم سے بہت توقعات ہیں، ہم ان کی توقعات پوری نہیں کر رہے جس پر ہم شرمندہ ہیں، اس لیے ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف کریں۔ ہم آپ کی بھی خاطر تواضع پوری طرح نہیں کر سکتے۔ اسی دوران دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ ہماری خواہش تھی کہ ا ن سے اجازت لیں کیونکہ ہم پہلے ہی ان کا خاصا وقت لے چکے تھے۔ لیکن انہوں نے کھانا کھائے بغیر جانے کی اجازت نہ دی۔ کچھ ہی دیر بعد دستر خوان بچھ گیا۔ ہم چھ سات مہمان تھے۔ دس بارہ افراد اور تھے۔ سب دستر خوان کے گرد بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد افغانی روٹی اور بینگن کے سالن کی ایک ایک پلیٹ سب کے سامنے رکھ دی گئی لیکن وزیر اعظم صاحب کے سامنے پلیٹ میں تربوز کی ایک قاش رکھ دی گئی۔ کھانے کے بعد دعا وغیرہ ہوئی اور ہم اجازت لے کر واپس آ گئے۔ میں نے راستے میں مترجم سے پوچھا کہ وزیر اعظم صاحب نے کھانا کیوں نہیں کھایا، صرف تربوز کے ایک ٹکڑے پر اکتفا کیا؟ اس نے کہا، آپ تو سرکاری مہمان تھے اس لیے آپ کو کھانا حکومت نے فراہم کیا۔ وزیر اعظم صاحب کا کھانا گھر سے آتا ہے۔ ان کے گھر میں سالن نہیں پکا ہوگا، ا س لیے تربوز بھیج دیا۔ یہ باتیں کتابوں میں پڑھتے تھے، میں نے افغانستان میں اس کے عملی مظاہرے دیکھے۔ ہم نے افغانستان میں آٹے کی ایک مل لگانے کا پروگرام بنایا جس کے لیے افغانستان کی وزارت صنعت سے اجازت نامہ لینا تھا۔ ہم ان خدشات اور تفکرات میں ڈوبے ہوئے متعلقہ وزیر سے ملنے گئے کہ نہ معلوم وزیر صاحب سے ملنے کی راہ میں کتنی مشکلات حائل ہوں گی لیکن جب ہم وہاں پہنچے اور مدعا بیان کیا تو ہمیں سیدھا وزیر صاحب کے پاس پہنچا دیا گیا جو شکل وصورت اور طور طریقوں سے فقیر لگتے تھے، فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے دائیں بائیں اور آمنے سامنے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد ہماری باری آئی تو پوچھا، کیسے تشریف لائے ہیں؟ ہم نے درخواست آگے بڑھا دی اور وزیر صاحب نے ہماری درخواست پڑھ کر اس پر کچھ لکھ کر ایک اور سرکاری عہدیدار کو دے دی۔ اس طرح دس منٹ تک یہ درخواست وزارت کے مختلف افسروں کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی دوبارہ وزیر صاحب کے پاس آئی تو انہوں نے اس پر لکھا ’’متفق بمطابق اصول وقانون‘‘ اس طرح دس منٹ کے اندر اندر ہمیں مل کی تعمیر کا اجازت نامہ مل گیا۔ ایک مرتبہ میں نے آب وبرق کے وزیر مولانا احمد جان صاحب سے تباہ شدہ بجلی کے نظام کو اتنی مشکل صورت حال کے باوجود تیزی سے قابل استعمال بنانے کا راز پوچھا۔ میں نے کہا کہ آپ نے مختصر مدت میں کس طرح کابل کے دو تہائی حصے اور قندھار کو بجلی فراہم کر دی اور دیگر علاقوں کو بھی بجلی کی فراہمی ہو رہی ہے۔ تباہ وبرباد گرڈ اسٹیشنوں کو آپ بڑی سرعت اور مہارت سے قابل استعمال بنا رہے ہیں، آخر آپ نے یہ نسخہ کہاں سے سیکھا ہے؟ انہوں نے کہا، ہمارے نظام حکومت میں وزرا کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ متعلقہ وزیر کو اپنی وزارت کے اسرار اور رموز اور اہم تکنیکی امور سکھائے جاتے ہیں۔ ہمارے عوام میں تعمیر وطن کا بے پناہ جوش وجذبہ ہے۔ ہم انہیں سازگا رماحول اورموقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ مجھے کابل کے نواح میں سولہ کلو میٹر دور ایک تباہ حال پاور اسٹیشن دکھانے لے گئے جس کی تعمیر ومرمت کا کام ہو رہا تھا۔ چونکہ وہاں ٹیلی فون کی سہولت نہیں تھی اس لیے اس پاور اسٹیشن پر کام کرنے والوں کو معلوم نہ تھا کہ ان کے وزیر صاحب آ رہے ہیں لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو مجھے یہ خوش گوار حیرت ہوئی کہ وہاں ہر شخص اپنے کام میں ڈوبا ہوا ہے۔ کوئی بے کار بیٹھا ہوا نہ تھا۔ ان کے چیف انجینئر ایک دراز ریش افغانی تھے جن کے لباس سے دھوکا ہوتا تھا کہ شاید وہ بھی مزدور ہیں۔ ان سے گفتگو ہوئی، ان کا جذبہ اور اخلاص دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔ حکومت نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام سے ایک خصوصی وزارت تشکیل دی ہے جو لوگوں کی دینی تربیت اور اخلاقی حالت سدھارنے کا اہتمام اور کام کرتی ہے۔ طالبان کا خیال ہے کہ مادی ترقی کے لیے اخلاقی ترقی ضروری ہے۔ دل بدلیں گے تو مالی حالت بدل جائے گی۔ اس سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتا تھا تو اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی، اسے ایک انفرادی مسئلہ خیال کیا جاتا تھا حالانکہ شریعت اسے اجتماعی فرض قرار دیتی ہے۔ اب یہاں ہر شخص فرض سمجھ کر نماز پڑھتا ہے، اللہ کے حکم سے سرتابی کی کسی کو اجازت نہیں۔ نماز کے وقت لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر مسجد کی طرف جا رہے ہوتے ہیں۔ ریڑھی والا اپنی ریڑھی کو جوں کا توں چھوڑ کر نماز کے لیے چلا جاتا ہے۔ مجال ہے ایک پیسے کا بھی نقصان ہو۔ طالبان حکومت کے آنے سے پہلے افغانستان میں عورتوں کی جان اور عزت کس قدر خطرے میں تھی، اہل مغرب اس کا احساس رکھتے تو وہ کبھی ان پر بے بنیاد الزامات نہ لگاتے۔ بادشاہت کے دور میں مغربی تہذیب وثقافت کو عام کرنے کے لیے باقاعدہ ایک قانون منظور کیا گیا اور عورتوں کو اسکرٹ پہننے پر مجبور کیا گیا۔ داؤد کی حکومت آئی تو عورت کی تذلیل کے لیے سرعام قحبہ خانے اور شراب خانے کھول دیے گئے۔ روسی آ گئے تو شراب اور بے حیائی کا سیلاب بھی ساتھ آیا۔ روسیوں کے جانے کے بعد افغانستان طوائف الملوکی کی زد میں آ گیا۔ کابل میں مختلف نسب ونسل کے ملیشیا دندناتے پھرتے تھے۔ معصوم ومظلوم عورتوں کو جبرا گھروں سے اٹھایا جانے لگا۔ لٹیروں کی دست برد سے بچنے کے لیے ہزاروں لوگوں نے بھاگ کر جانیں اور عزتیں بچائیں۔ طالبان کے دور میں اب پہلی بار عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کا مرتبہ ملا ہے۔ آج اس ملک میں خواتین کو اس قدر تحفظ حاصل ہے کہ کوئی بری نظر سے ان کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ طالبان کے دور حکومت پر ایک اعتراض جبری ڈاڑھی رکھوانے کا ہے لیکن اہل مغرب اس وقت خاموش تھے جب داؤد کے دور میں ڈاڑھی والوں کو بغیر کسی قصور کے جیلوں میں ڈال دیا جاتا تھا۔ انہوں نے ایک قانون کے تحت باریش مسلمان پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند کر دیے تھے۔ کمیونسٹ دور میں ڈاڑھی والے گردن زدنی رہے۔ اس وقت انسانی حقوق کی تنظیموں کو تکلیف نہیں ہوئی لیکن آج وہ چلا رہی ہیں۔ طالبان ڈاڑھی رکھوا رہے ہیں۔ ڈاڑھی منڈوانا ویسے بھی غیر فطری ہے اور افغان کلچر کی تو یہ پہچان ہے۔ میرے ساتھ صنعت کاروں کا ایک گروپ افغانستان میں گیا تھا، ان میں سے اکثر ڈاڑھی کے بغیر تھے لیکن ماحول سے متاثر ہو کر سب نے ڈاڑھی رکھ لی حالانکہ غیر ملکیوں پر ڈاڑھی رکھنے کی کوئی پابندی نہیں۔ دراصل مغرب نہیں چاہتا کہ دنیا کی توجہ طالبان کے اصل مسائل کی طرف مبذول ہو۔ افغانستان ایک تباہ حال ملک ہے۔ وہ دو عشروں تک جنگ کی آگ میں جلتا رہا ہے۔ اس جنگ نے افغانستان کا ہر گھر تباہ کیا ہے۔ کوئی بھی حساس شخص وہاں جا کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ شور اس لیے مچایا جا رہا ہے کہ لوگ اس تباہی کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ طالبان سے وحشت ودہشت منسوب کی جا رہی ہے تاکہ لوگ ان سے خوف زدہ ہو جائیں۔ افغانستان دو کروڑ آبادی کا ملک ہے۔ اس میں سے بیس لاکھ افراد شہید ہوئے یعنی ہر دسواں فرد راہ حق میں کام آیا۔ پچاس لاکھ زخمی ہوئے، اس طرح مجموعی طور پر ہر تیسرا شخص روسی بربریت کا براہ راست نشانہ بنا اور باقی بالواسطہ متاثر ہوئے۔ لاکھوں ایسے یتیم اور بیوائیں ہیں جن کا کوئی کمانے والا نہیں۔ ان کی بحالی کے لیے طالبان نے ایک مستقل وزارت قائم کی ہے جو معذور بوڑھوں، بے آسرا عورتوں اور بے خانماں بچوں کے آنسو پونچھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پچاس لاکھ سے زیادہ افغان بے روزگار ہیں۔ میں نے کابل اور قندھار کے صنعتی علاقوں کو دیکھا، روسی جہازوں، توپوں اور ٹینکوں نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا د ی ہے۔ جب صنعتیں نہیں ہوں گی تو پھر روزگار کہاں سے آئے گا؟ا ہل مغرب کی خیانت دیکھئے، ان بے روزگار لوگوں کو روزگار میں مدد دینے کے بجائے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔

حالات و مشاہدات

Since 1st December 2020

Flag Counter