کشمیر کی آزادی کا واحد راستہ - جہاد

الشیخ عمر بکری محمد

اسلام کو کشمیر میں سن ۵۰۰ ہجری (۱۲۰۰ عیسوی) میں نافذ کیا گیا۔ برطانیہ کے مداخلت کرنے اور سکھوں کے کشمیر پر (۱۸۱۹) میں قبضہ کرلینے سے پہلے تک اسلام وہاں غالب رہا۔ ۱۸۴۶ء سے یہ ہندوؤں کے ہاتھوں میں ہے جب گلاب سنگھ نے اسے برطانیہ کو صرف ساڑھے سات ملین روپے میں بیچ دیا۔ یہ برطانیہ ہی تھا جو انڈین برصغیر کو تین واضح خطوں میں تقسیم کرنے کا ذمہ دار تھا جبکہ انہوں نے عرب جزیرہ نما کو کئی مزید حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اسلام کی غیر موجودگی سے قتل و غارت اور تشدد آئے ہیں کیونکہ ہندوؤں کے مذہب میں ایسا کوئی ہمدردی اور رحم کا عنصر نہیں ہے۔ یہ برطانیہ تھا جس کی راہنمائی لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کی‘ جس نے ہندوؤں کے ساتھ نرمی برتتے ہوئے کشمیر کو ان کی عمل داری میں دینا یقینی بنا دیا اور نتیجے کے طور پر کشمیر پر کفار کا قبضہ ہوگیا۔

اللہ جل شانہ فرماتے ہیں:

"اے ایمان والو ! ان مشرکین سے لڑو جو تمہیں گھیرے میں لے لیں اور ان کو تمہاری اندر کی سختی دیکھ لینے دو اور جان لو کہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔" (۱۲۳ : ۹emq )

اللہ حکم دیتا ہے کہ جہاد ہی ظالم ہندوؤں کے خلاف واحد حل ہے۔ مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مشرکین سے جنگ کریں اور وہاں پر پھر سے اسلامی حکومت لے آئیں۔ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ افغانستان کی مسلم افواج افواج کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ جنگ کریں۔ اسلام میں ایسی کوئی گفت و شنید کے ساتھ تصفیہ کی صورت نہیں ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا۔ مشرکین نہیں چاہیں گے کہ اسلام کسی صورت پھلے پھولے۔ یہ مشرکین ہی ہیں جنہوں نے پہلے ۱۹۲۴ء میں اسلامی خلافت کو تباہ کر کے مسئلہ پیدا کیا۔

مسلمانوں کو صرف روزے اور نماز ہی میں نہیں بلکہ ہر معاملے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے۔

"اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اللہ کے سوا کسی دوسرے آقا کی پیروی نہ کرو‘ تم تھوڑا یاد رکھتے ہو۔" (۳:۴ tmq)

قوم پرستی نے مسلمانوں کو ان کی جمہوریت کی طرف مطالبے کا جواز دیا ہے۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کب مسلمان کفار کے غلبے سے نجات حاصل کرنے کے لیے الگ مملکت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کشمیر میں ظلم کے وجود کی وجہ اسلامی نظام کی عملداری نہ ہونا ہے۔

"وہ لوگ جو اللہ کی دی ہوئی نشانیوں کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں۔" (۴۵:۵ tmq)

مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم جو قتل و غارت کشمیر‘ فلسطین‘ افغانستان‘ بوسنیا اور چیچنیا میں دیکھتے ہیں اس کا احساس ہونا چاہیے۔ یہ صرف وہاں کے مسائل نہیں ہیں بلکہ مسلم دنیا سے اسلام کے عملی طور پر غائب ہونے کا بلاواسطہ نتیجہ ہیں۔ اس مسئلہ کی طرف توجہ دی جانی ضروری ہے کیونکہ اس مسئلہ کو حل کیے بغیر ہم مسئلہ کشمیر کا مستقل حل ڈھونڈنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ مسلمانو ! یاد رکھو صرف ۳۱۳ مسلمان غزوہ بدر میں ۱۰۰۰ کی تعداد میں دشمن فوج سے لڑے تھے اور کامیاب ہوئے تھے کیونکہ وہ ایمان رکھتے تھے کہ فتح اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں اس عقیدے کی بنیاد پر تمام کفار کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کہ فتح اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ کشمیر کے لیے وہی حل ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ باقی تمام کو آزما لیا گیا ہے۔ پچاس سالوں تک ہم دیکھ چکے ہیں کہ وہ تمام ناکام ہو چکے ہیں۔

"اے جو ایمان لائے ہو ! کیا میں تمہیں ایک ایسا راستہ نہ دکھاؤں جو تمہیں المناک انجام سے بچائے گا۔ تمہیں چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور اللہ کے راستے پر اپنی جانوں اور اپنے مال کے ساتھ جدوجہد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جان سکو۔" (۱۱‘۱۰ :۶۱ tmq)

اے مسلمانو ! کشمیر یا بوسنیا یا کسی بھی اسلامی ملک میں اپنی بہنوں اور بھائیوں کو مت فراموش کرنا‘ ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا‘ مساجد میں خطبات کے دوران ظلم و جبر کی نشاندہی کرو اور اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر جہاد کے لیے تیار کریں اور ان مسائل کے درست حل (نظام خلافت) کے لیے اسلام کا مطالعہ کریں۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(جنوری ۲۰۰۱ء)

Flag Counter