اسلام میں عورت کا مقام

حکیم محمود احمد ظفر

اللہ تعالیٰ کائنات کا خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اس نے لاکھوں اور کروڑوں قسم کی مخلوق پیدا فرمائی اور اس کائنات میں اس کا دائرہ کار Function الگ الگ رکھا۔ اس دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورت کو بھی پیدا فرمایا اور مرد کو بھی اور دونوں کے عضوی اور احساساتی اختلافات کی وجہ سے ان دونوں کا دائرہ کار بھی الگ الگ رکھا اور عملی زندگی میں مرد کو عورت پر فوقیت دی اور فضیلت عطا فرمائی۔ چنانچہ قرآن حکیم میں فرمایا : الرجال قوامون علی النساء "مرد عورتوں پر قوام ہیں " عربی زبان میں قوام‘ قیام اور قیم اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی کام یا نظام کا ذمہ دار اور چلانے والا ہو۔ اس آیت میں قوام کا ترجمہ عموماً "حاکم" کیا جاتا ہے یعنی مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ہر اجتماعی نظام کے لیے عقلاً اور عرفاً یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کوئی سربراہ یا امیر یا حاکم ہو تاکہ اختلاف کے وقت اس کے فیصلے سے کام چل سکے۔ جس طرح ملک و سلطنت اور ریاست کے لیے اس کی ضرورت سب کے لیے مسلم ہے‘ اسی طرح اس قبائلی نظام میں جس کو "خانہ داری " کہا جاتا ہے‘ اس میں بھی ایک امیر اور سربراہ کی ضرورت ہے۔ عورتوں اور بچوں کے مقابلہ میں اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو منتخب فرمایا کیونکہ ان کی علمی اور عملی قوتیں بہ نسبت عورتوں اور بچوں کے زیادہ ہیں۔ اور یہ ایسا بدیہی معاملہ ہے کہ سمجھدار عورت یا مرد اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ (معارف القرآن ج ۲ ص ۳۹۶) شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ نے اس بارہ میں فرمایا کہ "خلاصہ یہ کہ مردوں کو عورتوں پر حاکم اور نگران حال بنایا ہے دو وجہ سے : اول بڑی اور وہبی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصل سے بعضوں کو بعضوں پر یعنی مردوں کوعورتوں پر علم و عمل میں کہ جن دونوں پر تمام کمالات کا دارومدار ہے‘ فضیلت اور بڑائی عطا فرمائی جس کی تشریح احادیث میں موجود ہے۔ " (فوائد عثمانی) مردوں کو عورتوں پر فکری اور ذہنی اعتبار سے فوقیت حاصل ہے‘ اسی وجہ سے انہیں عورتوں پر قوام بنایا گیا۔ یہ کون سی فکری اور ذہنی صلاحیتیں ہیں‘ ان پر بحث کرتے ہوئے اکمل الدین الباہری قدس سرہ نے عنایہ شرح ہدایہ میں فرمایا کہ : "نفس انسانی کی قوتوں کو چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا درجہ کہ مطلقاً سوچنے سمجھنے کی استعداد موجود ہو۔ یہ استعداد فطرتاً ہر شخص میں پائی جاتی ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ جزئیات میں حواس کے استعمال سے بدیہی باتیں دریافت ہونے لگیں (جیسا کہ دیکھ کر رنگ کا پتہ چل جانا اور چکھ کر ذائقہ کا علم ہوجانا وغیرہ وغیرہ) اور عقل اس قابل ہو کہ اس میں غور و فکر کے ذریعہ خاص حقائق کا اکتساب کرنے لگے۔ اس کو اصطلاح میں "عقل بالملکہ" کہتے ہیں۔ اس صلاحیت کے بعد آدمی پر شریعت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ بدیہی حقیقتوں سے جو نظریات مستنبط ہو رہے ہیں ان کے ادراک میں کسی قسم کی دقت اور محنت پیش نہ آئے ‘ اسکا نام "عقل بالفعل" ہے۔چوتھا درجہ یہ ہے کہ نظریات ہمیشہ ذہن میں اسطرح مستحضر رہیں گویا آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اسکو "عقل" مستفاد کہا جاتا ہے ۔" اس کے بعد علامہ اکمل الدینؒ فرماتے ہیں : "شریعت کی ذمہ داریوں کا دارومدار جس صلاحیت عقل پر ہے یعنی "عقل بالملکہ" عورتوں میں اس کی کمی نہیں‘ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جزئیات میں حواس کو استعمال کر کے بدیہات کو پا لیتی ہیں۔ اور اگر کسی بات کو بھول جائیں تو یاد دہانی کے بعد ذہن میں حاضر بھی کر لیتی ہیں۔ اگر ان کی صلاحیت میں کسی قسم کا نقص ہوتا تو دین کے جن ارکان کی ذمہ داریاں مردوں پر ڈالی گئی گئی ہیں‘ عورتوں کو اس سے مختلف ارکان کی تکلیف دی جاتی‘ حالانکہ صورت واقعہ یہ نہیں ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو ان کے بارہ میں "ناقصات عقل" فرمایا ہے تو اس سے "عقل بالفعل" مراد ہے۔" (عنایہ علیٰ فتح القدیر ج ۶ ص ۸) معلوم ہوا کہ وہ عقل جس سے بدیہی حقیقتوں سے جو نظریات مستنبط ہو رہے ہیں ان کے ادراک میں کسی قسم کی دقت اور محنت پیش نہ آئے‘ اس عقل میں عورت کمزور اور ناقص ہے۔ یہ علامہ اکمل الدین کی تحقیق ہے جو قرآنی اصول کو ثابت کرتی ہے کہ مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ "مرد عورتوں پر قوام ہیں" قرآن حکیم کی اس بات کو وضعی قانون نے غلط قرار دیا‘ لیکن گزشتہ سو سالہ تجربہ اور تحقیق نے بتایا کہ الٰہی قانون ہی اس معاملہ میں حقیقت سے قریب تر ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود آج بھی نام نہاد "مہذب دنیا" میں مرد ہی جنس برتر Dominant Sex کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آزادی نسواں کی تحریک کے علم برداروں کی سب سے بڑی دلیل اس سلسلہ میں یہ تھی کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی فطری فرق نہیں بلکہ سماجی فرق ہے۔ اگر عورت پر سماجی دباؤ ختم کر دیا جائے تو وہ ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے اور عورت کسی لحاظ سے مرد سے پیچھے نہیں رہے گی۔ اس تحریک کو دو سو سال سے اوپر ہوگئے ہیں اور ان ملکوں میں یہ تحریک پوری طرح کامیاب بھی ہو چکی ہے جو صنعتی لحاظ سے ترقی یافتہ ہیں۔ ان ملکوں میں عورت اور مرد کی برابری کے قوانین بھی بنائے جا چکے ہیں مگر قانون یا رواج اور سماج کے لحاظ سے آج کی عورت اب بھی وہاں کے مرد سے بہت پیچھے ہے‘ اور زندگی کے ہر شعبہ میں مرد کی برابری نہیں کر سکی ہے۔ یہ بات صرف میں نہیں کہہ رہا بلکہ یورپ اور امریکہ کا ہر مفکر‘ دانشور اور مبصر اس کا اعتراف کرتا ہے۔ چنانچہ علمی دنیا کی نہایت معتبر کتاب انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے : "اقتصادی میدان میں گھر سے باہر کام کرنے والی عورتیں بہت زیادہ تعداد میں کم تنخواہ پانے والے کاموں میں ہیں۔ اور ان کا درجہ (status) سب سے کم اور نیچا ہے ۔ حتی کہ عورتیں ہر اس کام میں جو عورتیں اور مرد دونوں کرتے ہیں‘ کم تنخواہ پاتی ہیں۔ ۱۹۸۲ء میں ایک عام عورت کی تنخواہ امریکہ میں مرد کی تنخواہ کے ۶۰ فیصد کے برابر تھی۔ اور جاپان میں اوسطاً ۵۵ فیصد ۔ سیاسی لحاظ سے بھی سیاسی جماعتوں اور لوکل اور مرکزی حکومتوں میں زیادہ عورتیں مردوں سے نیچی ہیں" اس سے معلوم ہوا کہ حکماء مغرب نے آزادی نسواں کی تشخیص غلط کی تھی۔ ان کی تشخیص یہ تھی کہ ان دونوں صنفوں میں یہ فرق سماجی حالات کی بنا پر ہے۔ حالانکہ یہ فرق اسلام کی نشاندہی کے مطابق پیدائشی بناوٹ کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی مفکرین نے اس مسئلہ پر بڑی تحقیق کی اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ جب تک ان دونوں صنفوں میں یہ عضوی اور احساساتی فرق رہے گا‘ دونوں کی سماجی حیثیت میں بھی فرق رہے گا۔ "اسلام میں عورت مرد سے کم تر ہے" یہ یورپ کا معاندانہ پراپیگنڈہ ہے جو وہ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ آج سے نہیں بلکہ دو تین سو سال سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ چنانچہ مشہور مستشرق ایڈورڈ ولیم لین نے اپنی کتاب Selection from Quran کے دیباچہ میں لکھا ہے : The fatal point in Islam is the degradation of women "اسلام میں تباہ کن پہلو عورت کو حقیر درجہ دینا ہے۔" اسی طرح ایک اور مفکر جے ایم رابرٹس J.M. Roberts نے لکھا : Its coming was in many ways revolutionary. It kept women, for example, in an inferior position .... (The Pelican History of the World, P.334) "دنیا میں اسلام کی آمد کئی لحاظ سے انقلابی تھی‘ مثال کے طور پر اس نے عورت کو کم درجہ دیا۔" اسلام میں عورت کو کم درجہ دیا گیا ہے‘ یہ در اصل اسلام کی بات کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے۔ اسلام یہ ہرگز نہیں کہتا کہ عورت مرد سے کم تر ہے بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ "عورت مرد سے مختلف ہے" یہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں فرق کا معاملہ ہے نہ کہ ایک کے مقابلے میں دوسرے کے بہتر (Better) ہونے کا۔ مرد اور عورت کے بارہ میں اسلام کے سارے قوانین اسی اصول پر مبنی ہیں کہ عورت اور مرد دو الگ الگ صنفیں ہیں‘ لہذا خاندانی اور سماجی زندگی میں ان کا دائرہ عمل بھی ایک نہیں بلکہ مختلف ہے۔ اور ایک ہو بھی نہیں سکتا ۔ کیونکہ جب دونوں صنفوں کے مابین حیاتیاتی بناوٹ کے لحاظ سے فرق ہے تو ان کے درمیان عمل کے لحاظ سے بھی لازمی طور پر فرق ہونا چاہیے۔ مرد اور عورت کے درمیان جو فرق اسلام نے بتایا ہے اس کو موجودہ دور میں علم انسانی کے ماہرین نے بھی تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ امریکہ کے ایک پروفیسر اسٹیون گولڈ برگ نے لکھا ہے : "اس فرق کی زیادہ حقیقت پسندانہ توجیہ یہ ہے کہ اس کو مردانہ ہارمون Male Harmone کا نتیجہ قرار دیا جائے جو کہ ابتدائی جرثومہ حیات پر اس وقت غالب آجاتے ہیں جب کہ ابھی وہ رحم مادر میں ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ چھوٹے بچے چھوٹی بچیوں سے ہمیشہ جارح ہوتے ہیں۔" آگے چل کر پروفیسر گولڈ برگ لکھتا ہے : "اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد عورتوں سے بہتر ہوتے ہیں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مرد عورتوں سے مختلف Different ہوتے ہیں۔ مرد کا دماغ اس سے مختلف کام کرتا ہے جس طرح عورت کا دماغ کام کرتا ہے۔ یہ فرق چوہوں وغیرہ کے نر اور مادہ میں بہت زیادہ واضح طور پر تجربہ کیا جا سکتا ہے۔" (ڈیلی ایکسپریس مورخہ ۴ جولائی ۱۹۷۷ء) یورپ کے مشہور مفکر‘ دانشور اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر الیکسیش کیرل نے بھی اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسلام کے نظریہ مرد و زن کی تائید کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس معاملہ کی حیاتیاتی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : "مرد اور عورت کے درمیان جو فرق پائے جاتے ہیں وہ محض جنسی اعضاء کی خاص شکل‘ رحم کی موجودگی‘ حمل یا طریقہ تعلیم کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے زیادہ بنیادی نوعیت کے ہیں جو خود نسیجوں کی بناوٹ سے پیدا ہوتے ہیں اور پورے نظام میں خصوصی کیمیاوی مادے کے سرایت کرنے سے ہوتے ہیں جو کہ خصیۃ الرحم سے نکلتے ہیں۔ ان بنیادی حقیقتوں سے بے خبری اور نا واقفیت نے ترقی نسواں کے حامیوں کو اس عقیدے پر پہنچایا ہے کہ دونوں صنفوں کے لیے ایک قسم کی تعلیم‘ ایک طرح کے اختیارات اور ایک طرح کی ذمہ داریاں ہونی چاہئیں۔" ڈاکٹرصاحب اس سلسلہ میں مزید لکھتے ہیں : " حقیقت کے اعتبار سے عورت نہایت گہرے طور پر مرد سے مختلف ہے۔ عورت کے جسم کے ہر خلیہ میں زنانہ پن کا اثر موجود ہوتا ہے۔ یہی بات اس کے اعضا کے بارہ میں صحیح اور درست ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس کے اعصابی نظام کے بارہ میں عضویاتی قوانین بھی اتنے ہی اٹل ہیں جتنا فلکیاتی قوانین قطعی اور اٹل ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ انہیں اسی طرح مانیں جیسے وہ ہیں۔ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو خود اپنی فطرت کے مطابق ترقی دیں۔ وہ مردوں کی نقل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ تہذیب کی ترقی میں ان کا حصہ اس سے زیادہ ہے جتنا کہ مردوں کا ہے۔ انہیں اپنے مخصوص عمل کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔" (Dr. Alexis Carel : Man the unknown, New Yrok. P. 91) انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کی 19 ویں جلد میں خواتین کا درجہ Status of Women پر ایک مفصل مقالہ لکھا گیا ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان پیدائشی بناوٹ کے لحاظ سے فرق پایا جاتا ہے۔ مقالہ نگار لکھتا ہے : "اوصاف شخصیت کے لحاظ سے مردوں کے اندر جارحیت اور غلبہ کی خصوصیات پائی جاتی ہے۔ ان میں حاصل کرنے کا جذبہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عورتیں کوئی سہارا چاہتی ہیں۔ ان کے اندر معاشرہ پسندی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اور ناکامی کی صورت میں مردوں کے مقابلے وہ زیادہ آسانی سے بے ہمت ہو جاتی ہیں۔" آزادی نسواں کے علم بردار یہ کہتے ہیں کہ عورت اور مرد کا فرق محض سماجی حالات کی پیداوار ہے مگر موجودہ زمانہ میں مختلف متعلقہ شعبوں میں اس مسئلہ کا جو گہرا مطالعہ کیا گیا ہے‘ اس سے ثابت ہوا ہے کہ صنفی فرق کے پیچھے حیاتیاتی عوامل Biological Factors کار فرما ہیں۔ ایک امریکی سرجن Edgar Berman کا فیصلہ ہے کہ عورتیں اپنی ہارمون کیمسٹری کی وجہ سے اقتدار کے منصب کے لیے جذباتی ثابت ہو سکتی ہیں۔ Because of their hormonal chemistry, women might be too emotional for position of power. (Time Magazine, March 20 , 1972, P 28) امریکہ میں آزادی نسواں کی تحریک کافی طاقت ور ہے‘ لیکن اب اس کے حامی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کی راہ کی اصل رکاوٹ سماج یا قانون نہیں بلکہ خود فطرت ہے۔ فطری طور پر ہی ایسا ہے کہ عورت بعض حیاتیاتی محدودیت Limitations of Biology کا شکار ہے۔ میل ہارمون اور فی میل ہارمون Male & Female Harmone کا فرق دونوں میں زندگی کے آغاز ہی سے موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ تحریک آزادی نسواں کے پرجوش حامی کہنے لگے ہیں کہ فطرت ظالم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ پیدائشی سائنس Science of Exergies کے ذریعے نئے قسم کے مرد اور نئی قسم کی عورتیں پیدا کریں۔ یورپ ‘ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی عورت مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے اور مردوں کی طرح کمانے اور خود کفیل ہونے کے لیے باہر نکلی تو اس کو معلوم ہوگیا کہ بعض حیاتیاتی اور فطری کمزوریوں کی وجہ سے کسی شعبہ زندگی میں بھی وہ مردوں کے برابر کام نہیں کر سکتی تو اس نے اپنے نسوانی جسم کا سودا کرنے کے لیے اس کو سربازار لٹکا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو مرد کی برابری کا درجہ تو نہ ملا البتہ معاشرہ طرح طرح کے مسائل سے دو چار ہوگیا جن میں عریانیت ‘ جنسی جرائم‘ بے نکاحی زندگی اور بغیر والد کے بچے سرفہرست ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ آزادی نسواں کی جس تحریک سے اب تنگ آچکے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ عورت کسی میدان میں بھی مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتی‘ اس تحریک کو اب پاکستان میں بعض مخصوص نہج کی عورتیں اپنی لیڈری چمکانے کے لیے شروع کیے ہوئے ہیں۔ اور وہ پاکستان کی پاک باز اور با عصمت عورت کو چراغ خانہ کے بجائے شمع انجمن بنانا چاہتی ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے سچ کہا تھا ؂ حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی اب ہے شمع انجمن‘ پہلے چراغ خانہ تھی جو غلطی یورپ اور امریکہ نے دو سو برس قبل کی تھی کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی فطری فرق نہیں بلکہ سماجی فرق ہے‘ وہی غلطی آج پاکستان میں کی جا رہی ہے۔ یاد رکھئے عورت مرد سے مختلف ہے‘ لہذا اس کا دائرہ کار بھی مختلف ہے۔ یہی اسلام کا فیصلہ ہے اور یہی فیصلہ یورپ اور امریکہ کے دانشوروں اور مفکرین کا ہے۔

دین اور معاشرہ