اگست ۲۰۱۳ء

اختلاف رائے کے دائرے، حدود اور آداب

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۷۔۱۸ جون کو ’’معاشرہ میں باہمی احترام اور رواداری کے فروغ میں ائمہ و خطبا کا کردار‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار کی آخری نشست میں گفتگو۔)۔ بعد الحمد والصلوٰۃ! اگرچہ میری گفتگو کا عنوان ’’مختلف فقہی مذاہب سے استفادہ کی صورتیں‘‘ بتایا گیا ہے لیکن میں اس ورکشاپ کے عمومی موضوع کے حوالہ سے بھی کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ معاشرہ میں باہمی احترام اور رواداری کے فروغ میں علماء کرام اور ائمہ و خطباء کے کردار کے ایک پہلو کے بارے میں شرکاء محفل کو توجہ دلانا مناسب سمجھتا ہوں کہ...

مصر میں الاخوان المسلمون کی حکومت کا خاتمہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعض دوستوں کو اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ مصر میں صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اس قدر جلدی کیوں کی گئی ہے اور اسے ایک سال تک بھی برداشت نہیں کیا گیا جبکہ ہمیں حیرت ہے کہ ایک سال تک اسے برداشت کیسے کر لیا گیا ہے؟ ربع صدی قبل الجزائر کے عوام نے ’’اسلامک سالویشن فرنٹ‘‘ کو انتخابات کے پہلے مرحلہ میں اَسّی فی صد ووٹوں کا اعتماد دیا تھا تو اسے دوسرے مرحلہ کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور فوجی مداخلت کے ذریعہ نہ صرف انتخابات کے دوسرے مرحلہ کو منسوخ کر دیا گیا تھا بلکہ ’’متحدہ اسلامی محاذ‘‘ کو خانہ جنگی میں الجھا کر ایک دوسرے کے خلاف اس طرح...

علامہ محمد اسدؒ اور ان کی دینی و علمی خدمات

― ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مغرب کے وہ اسکالر جو مشرف بہ اسلام ہوئے اور انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی بیش بہا خدمات انجام دیں، ان میں محمد اسدؒ کا ایک بڑا نام ہے ۔جنہوں نے اسلامیات میں بڑا درک پیداکیاتھا اور قرآن پاک کاانگریزی ترجمہ (مع تفسیری نوٹس) بھی کیا تھا۔ان کا انگریزی ترجمہ قرآن مستند ماناجاتاہے،اس کے علاوہ اسلامیات اور فکر اسلامی پر بھی ان کی تحریروں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ذیل میں علامہ محمد اسد کے حالات زندگی پر مختصر سی روشنی ڈالی جارہی ہے۔ محمد اسد نے پولینڈ کے ایک یہودی گھرانے میں لمبرگ (موجودہ یوکرائن) میں /2جولائی1990ء کو آنکھ کھولی۔ان کا خاندانی...

اسلام کا تصورِ جہاد ۔ تفہیم نو کی ضرورت

― محمد عمار خان ناصر

امیر عبد القادر الجزائری علیہ الرحمہ کے طرز جدوجہد پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے بار بار یہ نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر معروضی حالات میں جدوجہد کے بے نتیجہ ہونے کا یقین ہو جائے تو شکست تسلیم کر کے مسلمانوں کے جان ومال کو ضیاع سے بچا لینا، یہ شرعی تصور جہاد ہی کا ایک حصہ اور حکمت ودانش کا تقاضا ہے۔ فقہا ایسے حالات میں کفار کو خراج تک ادا کرنے کی شرط قبول کر کے ان کے ساتھ مصالحت کی اجازت دیتے ہیں۔ یہی کام ہمارے ہاں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد اکابر علماء نے بھی کیا تھا اور عسکری جدوجہد ترک کر کے معروضی حالات میں انگریزی حکومت کی عمل داری کو قبول...

اسلامی نظریاتی کونسل اور ڈی این اے ٹیسٹ

― ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

پچھلے دنوں اسلامی نظریاتی کونسل نے کچھ سفارشات پیش کی ہیں جن میں ’’زنا بالجبر‘‘کے کیس میں DNA ٹیسٹ کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے ایک سفارش بھی شامل ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’زنا بالجبر‘‘ کا کیس ثابت کرنے کے لیے DNA ٹیسٹ قابل بھروسہ نہیں ہے، البتہ اسے ثانوی ثبوت کے طور پر مد نظر رکھا جا سکتا ہے۔ ہم اس حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری روایتی دینی تعبیر میں زنا ’’مستوجبِ حد‘‘ (چاہے وہ بالرضا ہو یا بالجبر) کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے جو واحد طریقہ کار قابل قبول ہے وہ یہ ہے کہ چار مسلمان، عاقل ، بالغ، تزکیۃالشہود کے معیار...

مفتی محمد زاہد صاحب کے موقف پر ایک تحقیقی نظر (۱)

― مولانا عبد الجبار سلفی

معاصر ماہ نامہ الشریعہ گوجرانوالہ، بابت جون ۲۰۱۳ء میں جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’برصغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر ’’پہلی قسط کے طور پر شائع ہوا۔ فاضل مضمون نگار نے برصغیر پاک و ہند کی مذہبی و دینی روایات میں عدمِ برداشت، اشتعال اور فرقہ وارانہ تقسیم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ عدمِ برداشت کا تعلق فقط مذہب، مسلک، فرقہ اور عقائد و نظریات سے ہے یا علاقائی، موسمی، خاندانی اور ذاتی مزاج بھی اس میں مدخل ہیں، ہمیں فاضل مضمون نگار کے عنوان اور زیر...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم جناب محمد عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ ’’خاطرات‘‘ کے سلسلے میں ماشاء اللہ نہایت اہم اور فکر انگیز تحریریں شائع ہو رہی ہیں ۔ربِّ کریم آپ کو اس کے تسلسل اور دین کے حوالے سے سامنے آنے والے جدید چیلنجز کے مقابلہ کی ہمت ارزانی فرمائے ۔’’الشریعہ‘‘ جون ۲۰۱۳ء کے خاطرات میںآپ نے ’’عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف ‘‘ کے زیر عنوان دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ کے اس المیے کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف بالعموم جدید علوم سے واقفیت حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنے روایتی علمی ذخیرے سے بھی نا بلد ہیں۔ان کے...

سالانہ دورۂ تفسیر و محاضرات قرآنی ۲۰۱۳ء

― ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام حسب سابق امسال بھی شعبان ورمضان کی تعطیلات میں دینی مدارس کے منتہی طلبہ کے لیے سالانہ دورۂ تفسیر و محاضرات قرآنی کا اہتمام کیا گیا جو ۸ شعبان/۱۷ جون سے شروع ہو کر ۱۱ رمضان/ ۲۱ جولائی تک جاری رہا۔ جید اساتذہ کرام کی ایک جماعت نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق شرکاء کو تفسیر کا درس دیا، جبکہ مختلف علمی اداروں سے تعلق رکھنے والے اہل علم کو علوم قرآنی کے مختلف پہلووں پر محاضرات کے لیے مدعو کیا گیا۔ قرآن مجید کے مختلف حصوں کی تدریس کی ذمہ داری انجام دینے والے اساتذہ کی تفصیل حسب ذیل ہے: ۱۔ مولانا زاہد الراشدی، شیخ...

امراض دل اور بلڈ پریشر کا علاج

― حکیم محمد عمران مغل

اسلامی کلچر کو جن چیزوں پر فخر ہے، ان میں نظام طب سرفہرست ہے۔ مسلم اطبا نے خصوصاً عباسی دور حکومت میں اس علاج کو نہ صرف بام عروج پر پہنچایا، بلکہ عرب وعجم کے کونے کونے تک پہنچا دیا۔ مغربی اقوام آج درپردہ اس علم کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔ ہمارے اطبا اپنی کم علمی کی بنا پر اس میں پیوند کاری کر کے بھی عوام کے سامنے سرخ رو نہ ہو سکے۔ ہمارے اسلاف نے جس علم طب کو بڑی جانفشانی سے ہم تک پہنچایا تھا، وہ مکمل طور پر غیروں کے ہاں جا چکا ہے۔ ہماری علاج گاہوں اور گھروں میں جب تک مشرقی قندیلیں روشن رہیں، امراض ہم سے کوسوں دور رہے۔ جونہی مغربی چراغ جلنے لگے تو...

تلاش

Flag Counter