جولائی ۲۰۲۰ء

آزمائش کا اصول اور دعوت ایمان کی اہمیت

― محمد عمار خان ناصر

جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی انسانوں سے جواب طلبی اور محاسبہ اس اصول پر کریں گے کہ کس پر حجت کتنی تمام ہوئی ہے تو بعض لوگوں کے ذہن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں غیر مسلموں کو دعوت کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ جب یہ معلوم ہے کہ عموما انسانوں کے لیے اپنے ماحول کے اثرات اور معاشرتی روایت سے اوپر اٹھ کر کسی نئی بات کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے تو کیا مسلمان، لوگوں تک دعوت پہنچا کر انھیں مشکل میں ڈالنے کا موجب نہیں بنیں گے؟ کیونکہ دعوت پہنچے بغیر تو ہو سکتا ہے، لوگ اللہ کے ہاں معذور شمار کیے جائیں، لیکن دعوت پہنچ جانے کی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۷)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(213) لو کے بعد فعل مضارع کا ترجمہ۔ لو کبھی مصدریہ بن کر آتا ہے جیسے ودوا لو تدہن فیدہنون، یہ عام طور سے فعل ود کے بعد آتا ہے، یہ ابھی ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔ لو کی مشہور قسم وہ ہے جسے حرف امتناع کہتے ہیں۔ لو برائے امتناع اور ان شرطیہ میں فرق یہ ہے کہ ان مستقبل کے لیے ہوتا ہے، خواہ اس کے بعد فعل ماضی آئے یا فعل مضارع، اور لو ماضی کے لیے ہوتا ہے خواہ اس کے بعد فعل ماضی آئے یا فعل مضارع۔ ابن ہشام نے لکھا ہے: ویتلخص علی ہذا ان یقال ان لو تدل علی ثلاثة امور عقد السببیة والمسببیة وکونہما فی الماضی وامتناع السبب۔(مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب،...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

حدیث کی مقبول و مردود اقسام کے اعتبار سے اہل سنت کے مصطلح الحدیث اور اہل تشیع کے علم الدرایہ کا تقابلی مطالعہ پچھلی دو اقساط میں بالتفصیل بیان ہوا ،اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ اہلسنت کے ہاں مقبول حدیث کے معیارات میں کڑی شرائط بیان کی گئی ہیں ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں اس حوالے سے کافی تساہل سے کام لیا گیا ہے ، اسی طرح مردود حدیث کے سلسلے میں اہل سنت نے جن اقسام کو بیان کیا ہے ،ان کی تطبیق حدیثی ذخیرہ پر بھر پور انداز میں عمل میں لائی گئی ،یہاں تک کہ مردود حدیث کی مختلف اقسام کے مصادر تک کی تعیین کی گئی ہے ،جبکہ اہل تشیع کے ہاں اہل سنت کی...

صنعاء پالمپسسٹ پر جدید تحقیقات کا جائزہ

― سید ظفر احمد

خلاصہ: یہ ایک ریویو پیپر ہے جس میں صنعاء پالمپسسٹ رقم DAM 01-27.1 پر حالیہ یعنی گزشتہ دس سالوں میں ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل جو اشیاء تحریر کیلیے استعمال کی جاتی تھیں، ان میں پارچہ (parchment)ا یک اہم میڈیم تھا جو ہرن ، بکری، دنبہ وغیرہ کے چمڑے کو ایک عمل سے گزار کر بنایا جاتا تھا۔ پارچے کافی مہنگے ہوتے تھے، اس لیےان کی ری سائکلنگ ایک معمول تھا۔ پہلی تحریر کی جب ضرورت باقی نہیں رہتی تھی تو اس کو مِٹا کر یا دھوکر پارچہ آئندہ استعمال کیلیے رکھ دیا جاتا تھا۔ پالمپسسٹ (Palimpsest)ایسے پارچہ کو کہتے ہیں جس میں تحریر...

یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی لازمی تعلیم

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پنجاب کے گورنر محترم چودھری محمد سرور کی طرف سے یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کریم کو لازمی قرار دینے کی خبر یقیناً سب کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں کسی طالب علم کو ترجمہ قرآن کریم پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی۔ پنجاب حکومت اور اسمبلی کی طرف سے اس قسم کے اعلانات اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر سامنے آتے رہے ہیں۔ بلکہ ہماری یادداشت کے مطابق صوبائی اسمبلی نے ایک مرحلہ میں بل بھی منظور کیا تھا کہ قرآن کریم کا ترجمہ کالجوں میں لازمی پڑھایا جائے گا مگر وہ بل شاید قانون سازی کی منزل حاصل نہیں کر سکا تھا۔ البتہ...

جسمانی ساخت میں تبدیلی ۔ قرآن وحدیث اور اقوالِ فقہاء کی روشنی میں (۲)

― مولانا محمد اشفاق

مذکورہ بالا افعال سے ممانعت کی علتیں فقہاء کی نظر میں: معروف مالکی فقیہ ''القرافی'' ابن رشد کی المقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: وسبب المنع في وصل الشعر وما معه التدليس والغرور قال صاحب المقدمات: تنبيه لم أر للفقهاء المالكية والشافعية وغيرهم في تعليل هذا الحديث إلا أنه تدليس علییى الأزواج ليكثر الصداق، ويشكل ذلك إذا كانوا عالمين به ، وبالوشم فإنه ليس فيه تدليس ، وما في الحديث من تغيير خلق الله لم أفهم معناه فإن التغيير للجمال غير منكر في الشرع كالختان وقص الظفر والشعر وصبغ الحناء وصبغ الشعر وغير ذلك۔ اور بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملانے...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter