صنعاء پالمپسسٹ پر جدید تحقیقات کا جائزہ

سید ظفر احمد

خلاصہ: یہ ایک ریویو پیپر ہے جس میں صنعاء پالمپسسٹ رقم DAM 01-27.1  پر حالیہ یعنی گزشتہ دس سالوں میں ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل جو اشیاء تحریر کیلیے استعمال کی جاتی تھیں، ان میں پارچہ (parchment)ا یک اہم میڈیم تھا جو  ہرن ،  بکری، دنبہ وغیرہ کے چمڑے  کو ایک عمل سے گزار کر  بنایا جاتا تھا۔ پارچے کافی مہنگے ہوتے تھے، اس لیےان  کی ری سائکلنگ ایک معمول تھا۔ پہلی تحریر کی جب ضرورت باقی نہیں رہتی تھی تو اس کو مِٹا کر یا دھوکر  پارچہ  آئندہ استعمال کیلیے رکھ دیا جاتا  تھا۔   پالمپسسٹ  (Palimpsest)ایسے پارچہ کو کہتے ہیں  جس میں تحریر کی دو  یا زیادہ سطحیں   ہو تی  ہیں۔ صنعاء سے1972ء میں  دریافت ہونے والے مذکورہ پالمپسسٹ میں  تحریرکی دو  تہیں ہیں اور دونوں قرآنی  مخطوطات ہیں۔ کچھ محققین کے نزدیک یہ مکمل قرآنی مصاحف کی باقیات ہیں جن میں سے زیریں نسخہ قبل ِعثمان روایتِ متن کا حامل ہے جب کہ بالائی نسخہ عثمانی روایتِ متن پر مشتمل ہے۔ زیریں نسخہ واحد قدیم ترین قرآنی  دستاویز ہے جو  غیر عثمانی روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔قریب ترین عرصہ میں جو تحقیقات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق یہ اوراق مکمل مصاحف کا کبھی حصہ نہ تھے بلکہ غیر پیشہ ورانہ انداز میں لکھے ہوئے طلبہ کے نوٹس تھے جو کسی درسی حلقہ میں استعمال ہوتے رہے تھے، اور ان کی حیثیت عارضی تھی جن کو بالآخر  ضائع کرنا مقصود تھا۔ اس جائزہ سے  معلوم ہوا کہ قرآن سے منسوب غیر معیاری مخطوطات   ناقص حافظہ  اورغیر پیشہ ور  انہ  ہاتھوں   کتابت کا  نتیجہ ہیں ۔   اور یہ بھی کہ قرآن  کی نشرواشاعت کا  اصل مدار زبانی روایات پر ہے۔ اس  مضمون کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہمارے علماء  ان تحقیقات سے آگاہ ہوں جو نُسَخِ قدیمہ پر مغربی دنیا میں  ہو رہی ہیں۔ بعید نہیں کہ  اس طرح بعض   مشکل موضوعات کی  عقدہ کشائی کی طرف کچھ اشارے مل سکیں۔  اس ضمن میں کچھ اشارات زیرِ نظر مضمون میں بھی دیے  گئے ہیں۔

 تعارف

پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل جو اشیاء تحریر کیلیے استعمال کی جاتی تھیں، ان میں پارچہ (parchment)ا یک اہم میڈیم تھا جو  ہرن،  بکری، دنبہ وغیرہ کے چمڑے  کو ایک عمل سے گزار کر  بنایا جاتا تھا۔  اس کو عربی میں 'رَق' کہتے ہیں،  جیسا کہ قرآنِ مجید  میں سورۂ   طور میں پھیلی ہوئی جھلی پر لکھی ہوئی کتاب کی قسم کھائی گئی ہے (وَالطُّورِ◌ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ◌ فِي رَقٍّ مَنْشُورٍ◌)۔   پارچے کافی مہنگے ہوتے تھے،  اس کا اندازہ یوں لگا یا جاسکتا ہے کہ ایک  عام  سائز  کے مصحف  کو لکھنے کیلیے کم سے کم 200 جانوروں  کی ضرورت رہتی ہوگی [1]۔   اس لیے پارچوں  کی ری سائکلنگ ایک معمول تھا، پہلی تحریر کی جب ضرورت باقی نہیں رہتی تھی تو اس کو مِٹا کر یا دھوکر  پارچہ  آئندہ استعمال کیلیے رکھ دیا جاتا  تھا۔   پالمپسسٹ  (Palimpsest)ایسے پارچہ کو کہتے ہیں  جس میں تحریر کی دو  یا زیادہ سطحیں   ہو تی  ہیں۔ایسے پالمپسسٹ بھی پائے جاتے ہیں جن میں تین، چار اور پانچ  بار تحریر ثبت کی گئی۔  وقت گزرنے کے ساتھ پرانی تحریر  عموماً ہلکے بھورے رنگ میں نمایاں ہو جاتی ہے  جو   زنگ کی علامت ہے کیونکہ روشنائی میں دھاتی مرکبات شامل ہوتے تھے۔

صنعاء پالمپسسٹ  کی تاریخ

1965 ء میں  یمن کے  شہر صنعاء میں شدید بارش نے   تاریخی مسجد جامع الکبیر کے مغربی مکتبہ کی چھت  کو بہت نقصان پہنچا یا-  اس نقصان  کا جائزہ لینے کے دوران اندرونی چھت (false ceiling) اور بیرونی چھت (roof) کے درمیان، یعنی سندرہ یا دو چھتی (attic) میں، ایک سٹو ر روم دریافت ہوا جس  کا کوئی دروازہ نہ تھا، بس ایک کھڑکی تھی۔ معلوم ہوا کہ اس  مخزن  میں قدیم قرآنی مخطوطات کی بہت بڑی تعداد  موجود ہے۔   اس وقت ان قرآنی نسخوں پر مشتمل تقریباً پانچ  بوریاں  اوقاف کی لائبریری میں جمع کرادی گئیں۔ کچھ عرصہ بعد لائبریری کے کیوریٹر نے بوریوں کے  کچھ مشمولات کو غیر قانونی طور پر فروخت کردیا۔  1972 ء میں مسجد کی بیرونی دیوار کے شمال مغربی کونے کو مستحکم کرنے کے لئے  چھت کا کچھ حصہ ہٹایا گیا تاکہ بحالی اور تزئین و آرائش کے کاموں میں پیشرفت ہوسکے۔  چونکہ اُسی کونے میں  سٹور روم بھی واقع تھا ،   اس لیے باقی ماندہ  نسخے بھی وہاں سے نکال کر بیس بوریوں کی صورت   یمن کے قومی عجائب گھر منتقل کر دیے گئے ۔  کچھ عرصے بعد یمنی حکام کو معلوم ہوا کہ ان قیمتی قرآنی نسخوں کے چند اجزاء  کو پھر  سے سمگل کر دیا  گیا ہے۔  چنانچہ مزید بدعنوانی کی روک تھام کے لئے ، بقیہ  نسخوں کو آخر کار  جامع الکبیر میں دوبارہ منتقل کردیا گیا۔ اس اثناء میں بین الاقوامی سطح پر ان  نوادرات کو محفوظ کرنے کے لئے فوری مطالبہ شروع ہوچکا تھا۔ جولائی 1976 ء میں ، یونیسکو کے خرچ پر اور ورلڈ آف اسلام فیسٹیول ٹرسٹ کے زیر اہتمام  ایک  اجتماع  مرکزِ شرق ِ اوسط ،  فیکلٹی آف اورینٹل اسٹڈیز ، یونیورسٹی آف کیمبرج میں منعقد ہوا جس  میں مسلم اور غیر مسلم  ماہرین ِ فن نے شرکت کی۔ اس  ندوہ نے متعدد مخصوص تحقیقی سرگرمیوں کی سفارش کی تاکہ جامع الکبیرمیں دریافت ہونے والی قرآنی  نُسَخ کے  اس عظیم ذخیرہ  کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

چونکہ بری طرح سے خراب  مخطوطات کے تحفظ کے لئے مقامی طور پر کوئی تکنیکی  مہارت موجود  نہ تھی ،  اس لیے  بیرونی ماہرین کی ضرورت تھی۔  ڈنمارک نے یمنی حکومت سے اس پیش کش کے ساتھ رابطہ کیا کہ ان مخطوطات کو  ڈنمارک بھیجا  جائے  جہاں بحالی کا کام  ہوسکے گا۔ یمنی حکام  نے مخطوطات کو ملک ہی میں رہنے کو ترجیح دی  اور اس پیش کش کو  مسترد  کردیا  ۔ آخر کار ، بہت غور و فکر کے بعد ،  حکام نے مغربی جرمنی کی وزارت خارجہ کے ثقافتی  شعبے کے تعاون سے ایک خصوصی منصوبے کی اجازت دی۔  وفاقی جمہوریہ  جرمنی  اور یمن عرب جمہوریہ کی عربی نسخوں کی بحالی اور زمرہ بندی سے متعلق 'دوطرفہ' معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد 1980ء کے موسم خزاں میں   یمنی  محکمۂ آثارِ قدیمہ  کے زیرِ اہتمام  ان پارچہ جات کی بحالی کا منصوبہ شروع ہوا۔  جرمنی کی  وزارتِ  خارجہ کا ثقافتی شعبہ اس پروجیکٹ کی فنڈنگ کر رہا تھا۔  یونیورسٹی آف ہیمبرگ  کے پروفیسر  البرخت نوث (Albrecht Noth) اس  کے پروجیکٹ ڈائریکٹر تھے۔ یہ پروجیکٹ  1989ء میں اختتام پذیر ہوا  جب 2.2 ملین جرمن مارک کی گرانٹ ختم ہوگئی۔ یونیورسٹی آف سارلینڈ کے پروفیسرگیرڈ-روڈیگر  پیوئین  (Gerd-Rüdiger Puin)اس پروجیکٹ کے 1981 سے مقامی ڈائریکٹر تھے ۔  1985ء میں سارلینڈ ہی کے آرٹ   ہسٹورین پروفیسر ہانس کاسپر گراف   فان   بوثمر (Hans-Caspar Graf von Bothmer) نے اس ذمہ داری کو سنبھالا۔ 1982ء سے1989ء تک معروف کنزرویشن سپیشلسٹ   اُرسُلا  ڈریبہولز (Ursula Dreibholz)اس پروجیکٹ کی  چیف کنزرویٹر رہیں اور صنعاء میں ہی مقیم رہیں۔ انہوں نے مخطوطات کی بحالی کا کام مکمل کیا ،  ان کیلیے مستقل  سٹوریج ڈیزائن کیا ،  مخطوطات  کے  منتشراجزاء کو قرآنی مصاحف میں ترتیب دیا اور یمنی عمال کو اس کام کی تربیت بھی دی۔  1985ء میں دارالاثار الاسلامیہ، کویت نیشنل میوزیم،   میں  چند مخطوطاتِ صنعاء  کی نمائش ہوئی  ۔ اس موقع پر 'مصاحف صنعاء' کے عنوان سے  ایک باتصویر  کیٹلاگ بھی شائع کیا گیا جس سے عام لوگوں کو اس منفرد تاریخی ذخیرہ  اور بحالی کے پروجیکٹ کا علم ہوا  [2] ۔   صنعاء کی دریافت کے بارے میں اندازہ لگایا گیا کہ یہ  قریب قریب  1000 قرآنی نُسَخ ہیں جو 15000 پارچوں پر مشتمل ہیں۔ غالباً پروفیسر پیوئین ہی وہ فرد ہیں جنہوں نے نے ان پارچوں کو مختلف مصاحف کی صورت تقسیم کیا تھا۔ 1996-97ء میں بوثمر نے ان  مصاحف کی مائیکروفلم بنالیں۔ یہ مصاحف اور مائیکروفلمز جامع الکبیر کے مقابل واقع  دارالمخطوطات  کے المکتبۃ الغربیۃ میں محفوظ ہیں۔   اس ذخیرہ میں   36 اوراق پر مشتمل ایک  پالمپسسٹ، کیٹلاگ نمبر DAM 01-27.11، شامل  تھا جس کی تاریخ کا اندازہ پہلی صدی ہجری (ساتویں/آٹھویں صدی شمسی)  لگایا گیا تھا  [3] ۔ اس کے علاوہ  جو قدیم حجازی اور کوفی  مصاحف  دارالمخطوطات  میں ہیں ان میں صرف  DAM 01-27.1 ہی  پالمپسسٹ ہے ۔

بحالی کے کام سے پہلے جو پارچے غیر قانونی طریقے سے سمگل کردیے گئے تھے وہ  بالآخر لندن کے  معروف نیلام گھروں میں فروخت  ہوئے۔ ان میں سے  ایک ورق یا فولیو کو سٹینفرڈ 2007 کا نام دیا جاتا ہے جو1993 میں لندن کے سوتھبی (Sotheby’s)  نیلام گھر میں فروخت ہوا تھا۔ اسی سے ملحق ایک دوسرا فولیو  1992 میں سوتھبی ہی میں فروخت ہوا تھا،   وہی دوبارہ  مئی 2001 ء میں کرسٹی (Christie’s)  نیلام گھر میں فروخت کیلیے پیش کیا گیا جہاں سے یہ لندن کے مشہور آرٹ ڈیلر— سام فوگ گیلری— سے ہوتا ہوا  بالآخر  کوپن ہیگن کے  عالمی شہرت یافتہ عجائب گھر ڈیوڈ کلیکشن  پہنچا جہاں وہ اب بھی  موجود ہے۔ ایک اور ورق 2001 ء میں بونہامس  (Bonhams) نیلام گھر میں فروخت ہوا۔ اور ایک چوتھا فولیو کرسٹی نیلام گھر میں 8 اپریل 2008 کوفروخت ہوا۔ اس کی قیمت4, 924, 279 یعنی تقریباً پانچ ملین  برطانوی پاؤنڈ  لگی تھی  جو کسی اسلامی مخطوطے کی اس وقت تک  سب سے زیادہ لگائی جانے والی قیمت تھی۔ان اوراق  کو  علی الترتیب سٹینفرڈ 2007، ڈیوڈ 86/2003 ، بونہامس 2000 اور کرسٹیز 2008   کا نام دیا جاتا ہے[3]۔

صادقی اور ساتھیوں کی تحقیق

صنعاء-1  کے مذکورہ چار اوراق پرمشتمل چرمی پالمپسسٹ  کا تحقیقی مطالعہ سٹینفرڈ یونیورسٹی   (Stanford University)کے پروفیسربہنام  صادقی (Behnam Sadeghi)2  او ر اُوے  برگمان  (Uwe Bergmann)نے 2010ء میں اپنے مونوگراف میں رپورٹ کیا [4]۔ انہوں نے مذکورہ  چار فولیوز کو  اسی مصحف کا حصہ  قرار دیا  جس  کا   کیٹلاگ نمبر DAM 01-27.1  تھا۔ چنانچہ انہوں نے پورے مجموعے کو صنعاء-1 کانام دیا۔ 2012ء میں صادقی  نے پچھلے کام کو بڑھاتے ہوئے،  ہارورڈ  یونیورسٹی  کے محسن گودارزی  (Mohsen Goudarzi) کے ساتھ129 صفحات پر مشتمل   ضخیم مونوگراف  میں   پہلی مرتبہ صنعاء  -1 کے زیریں اور بالائی مخطوطات کی تحریر  کشائی (decipher) کی اور تعدیل و تہذیب شدہ ایڈیشن  شایع کیے [5]۔ اس میں انہوں نے اسی نظریہ کا اعادہ کیا کہ 'صنعاء-1 'کی دونوں سطحیں قرآن ہیں اور دو  مختلف مصاحف کی نشاندہی کرتے ہیں ۔یہ کل 40   فولیو تھے  جن میں وہ چار فولیو شامل تھے  جو لندن کے  نیلام گھروں میں فروخت ہوئےتھے3، صادقی اور گودارزی کو  ان کی تصاویر  نیلام گھروں سے مل گئی تھیں۔  باقی   36 فولیوزکی تصاویر ایک فرانسیسی-اطالوی ٹیم نے 2007میں بنائی تھیں جوصادقی نے استعمال کیں۔ ان میں سے کچھ تصاویر عام روشنی(visible light) کے طَیف  (spectrum) میں بنائی گئی تھیں، جن میں بالائی تحریر نظر آجاتی ہے اور زیریں تحریر بھی تھوڑا بہت دِکھائی دیتی ہے خاص کر وہ متن جو دو سطور کے درمیان لکھا گیا ہو۔ دوسرےؔ، وہ تصاویر جو بالا بنفشی شعاعوں (ultra violet light) کے اندر لی گئیں تھیں، ان میں زیریں تحریر زیادہ  نمایاں ہوجاتی ہے۔ تیسرےؔ، وہ تصاویر جن کو  بعد میں پروسس کیا جاتا ہے یعنی post-processed ۔ اس طریقے میں بالائی متن کو فوٹو شاپ یا اسی طرح کے پروگرام کے ذریعے حذف کرکے  زیریں متن کو نمایاں کیا جاتا ہے۔  صادقی یا ان کے کسی ساتھی کو یمن جا کر پارچے براہِ راست دیکھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔

صادقی اور برگمان  کے مطابق   فولیو Stanford’07 جس کی پیمائش   63.3 28.5xسم  تھی اگست 2007 میں  سٹینفورڈ سنکروٹرون ریڈی ایشن لیبارٹری  (Stanford Synchrotron Radiation Laboratory)سے ایکس رے فلورےسنس امیجنگ  (X-Ray Fluorescence Imaging)  کے لیے بھیجا گیا   [4]۔  اس تکنیک   کے ذریعے ورق پر موجود روشنائی میں پائے جانے والے کیمیائی مواد کی نشاندہی ہوسکتی ہے اور نہ صرف زیریں تحریر تک رسائی ممکن ہوجاتی ہے بلکہ  کچھ حروف، تشکیل، علاماتِ آیات اور سورتوں کو ممیز کرنے والے سجاوٹی خطوط بھی دکھائی دے جاتے ہیں جو  بصورتِ دیگر  شناخت نہیں  ہوسکتے ۔  چونکہ زیریں اور بالائی تحاریر کی روشنائی  کیمیاوی طور پر مختلف تھیں،   اس لیے دونوں کا الگ الگ جائزہ لینا ممکن ہوسکا۔ مثال کے طور پر صادقی اور برگمان  نےیہ   نتیجہ اخذ کیاکہ  ہر تہہ میں   تشکیل اور علاماتِ آیات اُسی  روشنائی سے بنائے گئے تھے جس سے متن  لکھا گیا تھا ۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radiocarbon Dating)کے لیے  Stanford’07 کا ایک نمونہ یونیورسٹی آف ایریزونا  کے ایکسیلیریٹر ماس  سپیکٹرومیٹری لیبارٹری (Accelerator Mass Spectrometry (AMS) Laboratory) بھیجا گیا۔ نتائج کے مطابق 68 فیصد امکانیت  (probability)کے ساتھ پارچہ کا تعلق  614 ءسے 656 ء کے درمیانی عرصے سے ہوسکتا ہے دوسرے الفاظ میں جس جانور کی  چرم سے پارچہ بنایا گیا  اس کی موت   614 سے 656 ء کے  دوران ہوئی ہوگی۔ 95 فیصدامکانیت کے ساتھ پارچہ 578ء سے 669ء کے درمیانی عرصے کا رہا ہوگا۔ 75.1 فیصد امکانیت کے ساتھ پارچہ 646ء سے قبل  کامعلوم ہوا ۔ گویا اس بات کا دو تہائی سے زیادہ امکان ہے کہ  یہ مخطوطہ نبی ﷺ کی وفات  کے  14سال کے بعد کا نہ  رہا ہوگا۔ بلکہ یہ فرض کرنا بھی ممکن ہے کہ پارچہ نبی ﷺ کی وفات کے چار سال کے اندر لکھا گیا ہو  کیونکہ اس کی امکانیت 56.2 فیصد بنتی ہے۔

یاد رہے کہ اصولاً تو پارچہ کی عمر اور تحریر کی عمر یکساں ہونا ضروری نہیں تاہم  صادقی اور برگمان کے نزدیک پارچہ  تحریر سے  بہت پرانا نہیں ہوسکتا ۔ دوسرے الفاظ میں پارچہ کی عمر تحریر کی عمر ہی کی نشاندہی کرتی ہے۔  پارچے مہنگے ہوتے تھے اور  یہ بات قرینِ قیاس نہیں لگتی کہ قرآن کے علاوہ کسی اور تحریر کیلیے پارچے محفوظ رکھے جاتے ہوں  گے۔ صادقی  کہتے ہیں کہ عربوں کے ہاں قرآن کے علاوہ کچھ لکھنے کا داعیہ بھی نہ ہوتا ہوگا۔ اس کا ثبوت ان کے نزدیک یہ ہے کہ   خطِ  حجازی  میں قدیم ترین عربی   مخطوطات  قرآن ہی کے نُسَخ ہیں 4۔صادقی نے نتیجہ نکالا کہ صنعاء پالمپسسٹ کی  زیریں تحریر صحابہ ?کے دور سے متعلق ہے جبکہ بالائی تحریر روایتِ عثمان پرمشتمل ہے جو زیریں تحریر کے50 سال  بعد لکھی گئی  ہوگی۔

صنعاء سے قرآنِ عظیم  کے قبل از عثمان  مخطوطہ کی دریافت بہت بڑی خبر تھی کیونکہ 650 ءکے لگ بھگ جب سرکاری طور پر تیار کردہ مصاحفِ عثمان  اسلامی بلاد و امصار بھیجے گئے تو اس واقعہ کے فوری  بعدسے رسم ِعثمانی کی بڑے پیمانے پر نشر و اشاعت  شروع ہوگئی تھی اور  غیر عثمانی  مصاحف کی  ضرورت کم سے کم ہوتی چلی گئی حتیٰ کہ ایسے مصاحف معدوم ہوگئے اور ان کا ذکر صرف اسلامی  لٹریچر ہی میں رہ گیا تھا۔   اس لحاظ سے پوری اسلامی تاریخ کا یہ منفرد واقعہ ہے جب صنعاء میں  قبلِ عثمان روایتِ متن  پر مشتمل  قران پاک کا نسخہ پایا گیا۔

نسخۂ صنعاء کی زیریں اور بالائی تحاریر میں کچھ فروق صادقی نے بیان کیے ہیں۔ مثلاً بالائی تحریر میں ہم شکل حروف صحیحہ (consonants) جیسے 'ب'، 'ت'، 'ث' وغیرہ کو ممیز کرنے کیلیے مختصر ڈیش کا استعمال زیریں تحریر کے مقابلے میں زیادہ فراوانی سے کیا گیا ہے۔  اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں، ڈاکٹر محمد مصطفیٰ  الاعظمی ؒ نے  کتبا  ت اور دیگر شواہد کی   بناء   پر ثابت کیا ہے کہ اہلِ عرب ہم شکل حروفِ صحیحہ کو ممیز کرنے کیلیے نقاط کا استعمال کیا کرتے تھے  [7]  ۔ زیریں تحریر میں  سورتوں کی تقسیم ظاہر کرنے والےسجاوٹی خطوط نظر آتے ہیں جبکہ بالائی تحریر میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی  اسی طرح  سورہ کے اختتام پر مثلاً 'ھذہ ختمۃ سورۃ المنفقین'  جیسا نوٹ زیریں تحریر ہی میں دیکھا گیا۔ بالائی تحریر میں سورتوں کے نام کا کوئی ذکر نہیں جبکہ زیریں تحریر میں ہے۔ حیران کن طور پر  زیریں مخطوطہ میں کہیں  کہیں اعراب یا تشکیل دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ ایک مکمل نقطہ ہوتا ہے جو حرف کی حرکت کو ظاہر کرتا ہے اور بعض اوقات ہمزۃ الوصل کو بھی ظاہر کرنے کیلیے استعمال ہوا ہے۔دونوں تحریروں میں آیت کی علامت پائی جاتی ہے۔ دونوں ہی سطحوں پر 'اولی الالبب' کی جگہ 'اولاالالبب'   حالتِ  نصبی میں دیکھا گیا۔ بالائی  تحریر دو کاتبوں  کا کام ہے، ایک 'علَیَ' اور دوسرا 'عَلا'  لکھتا ہے۔  

بالائی متن

بالائی متن کی عمر کا اندازہ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے نہیں معلوم ہوسکتا کیونکہ اس طریقہ سے تو صرف پارچہ کی عمر کا اندازہ ہوسکتا ہے نہ کہ تحریر کا۔  پارچہ کی عمر کا اطلاق البتہ زیریں نسخہ پر کیا جاسکتا  ہے، جیسا کہ صادقی اور برگمان نے کیا۔ بالائی متن کی تاریخ جاننے  کیلیے  تاریخِ فن (Art history)، علمِ تحاریرِ قدیمہ (paleography) اورتاریخی لسانیات (philology) کے  طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پہلی اور دوسری صدی ہجری میں لکھے جانے والے  قرآنی نُسَخ بڑی تعداد میں دنیا بھر میں عجائب گھروں، لائبریریوں، مساجد اور نجی ہاتھوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان سب کا تعلق معیاری روایتِ متن ہے جس کو رسمِ عثمانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب تیسرے خلیفۂ راشد  حضرت عثمان ? نے ایک معیاری نسخۂ قرآن تیا ر کرایا تھا اور اس کی نقول  اسلامی حکومت کے مرکزی شہروں میں بھجوادی تھیں کہ اب موجود مصاحف کو تلف کرکے صرف معیاری اور سرکاری مصاحف کی نقول   ہی سے  قرآنِ مجید کی  مزید نشر و اشاعت کی  جائے  گی۔اس واقعے کی قطعی تاریخ تو نہیں معلوم لیکن اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کام 24 تا 30 ھ (644  تا 650 ء) کے دوران ہوا ہوگا۔ صادقی کہتے ہیں،  روایات میں جو کچھ بھی تناقضات اور خلا پائے جائیں، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ  مسلمانوں کا اجتماعی حافظہ اس واقعہ  کی تصدیق  کرتا ہے۔ نیز یہ  بھی کسی شک کے بغیر معلوم ہے کہ  مختلف شہروں میں بھیجے جانے والے معیاری یا سرکاری مصاحف  کے متون میں جواختلافات5 تھےوہ  'مورفیمی ساختیاتی' (skeletal morphemic) نوعیت  کے تھے6 یا متن کی آیات میں تقسیم کے لحاظ سے۔ جہاں تک متن کی سورتوں میں تقسیم کا تعلق ہے، صادقی نے ثابت کیا ہے کہ یہ کام رسولِ کریم ﷺ خود کر گئے تھے۔  ان دو اقسام کے اختلافات  کا تجزیہ  کرکے   صادقی  نے  معلوم کیا  کہ  بالائی متن معیاری روایت متن   پر مشتمل ہے، جس کا آغاز حضرت عثمان کے جمع و  نشرِ قرآن سے ہوا تھا۔ یہ تحریر  ساتویں صدی  شمسی کے  نصف آخر یا آٹھویں کے اوائل میں لکھی گئی ہوگی۔ اور اس کو دمشق، حمص، کوفہ یا بصرہ  میں نہیں بلکہ مکہ، مدینہ، یمن یا مصر میں لکھا گیا   ہوگا۔

زیریں متن

پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے قلمی نسخوں  کا شجرہ ہوا کرتا تھا جس طرح نباتات اور حیوانات میں ہوتا ہے یعنی موروثیت اور تغیر یا  طَفرہ  (mutation)۔ چنانچہ ایک قلمی کتاب اس سے قبل کی تحریر کی نقل ہوا کرتی تھی اور وہ اس سے بھی  پچھلی کتا ب کی نقل ہوتی تھی وغیر ذالک۔ اس طرح نقل در نقل کے باعث متن میں تغیر در آتا ہے۔ چنانچہ  انتقادِ متن (textual criticism)   میں ماہرینِ حیاتیات کے طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔  انواع کا ماضی جاننے کے لیے ماہرینِ حیاتیات دو طریقے استعمال کرتے ہیں۔ ایکؔ یہ کہ کسی فاسل کی تاریخ جاننے کیلیے بیرونی ذرائع استعمال کیے جائیں، جیسے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ  یا علم الحفریات (paleontology or fossilogy)  ۔  دوسرےؔ یہ کہ وہ  ایک جیسی خصوصیات  رکھنے والی حیاتی انواع کو گروپس  میں تقسیم کرتے ہیں ، جنہیں فینو ٹائپ کہتے ہیں،پھر ان  کی درجہ بندی کرتے ہیں۔  اس طرح حَیَوی شجرۂ  نسب وجود میں آتا ہے۔ پھر ذیلی شاخوں کا مقابلہ کر کےمعلوم کیا جاتا ہے کہ کس شاخ سے وہ متفرع ہوئیں۔  اس عمل کو بار بار  ماضی کی طرف دہراتے جائیں تو  بالآخر انواعِ قدیم اور ان کے خواص  کی نشاندہی  ہوجاتی ہے یا موجود ہ انواع کے قدیم اوصاف کا علم ہوجاتا ہے۔ یہی طریقہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ مخطوطات کے مطالعے اورانتقادِ متن (textual criticism)  کیلیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ قرآنی مصاحف  بھی  مشترکہ ٹیکسٹ ٹائپ یا طرزِکتابت   یا   رسمِ کتابت  کے مجموعوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ کسی مخطوطہ کے متن پر انتقاد کا مرکزی نقطہ ٹیکسٹ ٹائپ یا  رسمِ متن ہے کیونکہ اس کے پیچھے متن کی روایت  (textual tradition)ہے۔  جو متون ایک ہی رسم  سے تعلق رکھتے ہوں، باہمی طور پر قریب ہوں گے  اور اپنے مبداء  کی طرف اشارہ کریں گے اور ان کا تعلق ایک ہی روایتِ متن  (textual tradition)سے  قرار دیا  جائے  گا۔ چنانچہ  متون کے فروق کی بنیاد پر نسخوں کی گروہ بندی  کی جاتی ہے، گویا   نسخوں کا ہر گروہ یا  مجموعہ شجرۂ نُسَخ کی ایک  شاخ کی مانند ہے ۔ پھر ذیلی شاخوں یعنی اخلاف  کا موازنہ کرکے  اسلاف  کی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔  صادقی کہتے ہیں 'صنعاء-1 'کے سلسلے میں یہ طریقہ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر پایا گیا۔   وہ یہ امر واضح کرتے ہیں  کہ  رسمِ عثمانی کا مطلب املاء ِ عثمانی نہیں ہے بلکہ یہ ایساٹیکسٹ ٹائپ  ہے جس کے پیچھے معیاری قرآن کی روایت ہے  جو اُن  معیاری نُسَخ سے شروع ہوئی جو عثمان  ?نے اہم شہروں میں بھجوائے تھے۔ صادقی  کی تحقیق کے مطابق صنعاء پالمپسسٹ کا زیریں   مخطوطہ  ایک مکمل مصحف کا حصہ ہے جو متنِ عثمانی کی روایت سے مختلف روایت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کو انہوں نے  غیر عثمانی روایت کہا اور'صحابی-1' یا  'ص-1 ' کا نام دیا7 ، جس کا مطلب یہ ہے  کہ اس روایت کا آغاز کسی صحابیؓ سے ہوا تھا۔  اس طریقِ تحقیق سے صادقی نے ثابت کیا  کہ  عثمان کا صحیفہ '  ص-1 ' کے مقابلے میں نہ صرف  قدیم تر  ہے بلکہ  اصل  (متنِ نبوی ﷺ)سے بھی قریب ترہے۔

زیریں نسخہ  بہت اہمیت کا حامل ہےکیونکہ اس کے متن کی روایت معیاری روایت سے مختلف ہے۔مثال کے طور پر البقرۃ- 196 میں وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ کے بجائے  اس میں صرف ' ولا ٮحلڡوا'  (ولا تحلقوا) ہے یا البقرۃ-201 میں رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃ وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَۃ   زیریں متن میں  یوں ہے: 'رٮںا اٮںا ڡى الدںىا حسںه و الاحره'  (ربنا  آتنا  فی الدنیا  حسنۃ و الآخرۃ)۔ اسی طرح اور بھی کئی فروق ہیں جو  زیریں متن  اور معیاری متن کے درمیان  پائے جاتے ہیں۔ یہ فروق ان فروق   کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو  ابن مسعود/ ابن کعب   اور  معیاری متن کے درمیان پائے جاتے ہیں۔  اسی طرح   ا بن مسعود/ ابن کعب   اور  معیاری متن کے درمیان فروق زیریں متن  میں زیادہ نہیں  پائے جاتے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ زیریں متن کا اپنا الگ ٹیکسٹ ٹائپ  ہے جو معیاری متن اورا بن مسعود/ابن کعب سے منسوب متن، دونوں سے مختلف ہے۔ بقول صادقی اور گودارزی  یہ  نسخہ  ایک  غیر عثمانی یا غیر معیاری  (Non canonical) مصحف کی  باقیات میں سے ہے   ۔

'ص-1 ' نہ صرف  عثمانی ٹیکسٹ ٹائپ سے ممیز ہے  بلکہ اس ٹیکسٹ ٹائپ سے بھی مختلف ہے جو مصاحفِ عبداللہ ا بن مسعود و ابی ابن کعب ?کے بارے میں احادیث و آثار سے معلوم ہوتا ہے۔   ان روایاتِ متن  کا  نقطہٴ آغاز زبانی ہے جب رسولِ پاک ﷺ کی زبانِ مبارک  سے الفاظ ادا  ہوئے،  کاتبوں نے سنا اور اپنے  اپنے  طریقوں سے لکھا۔ شجرۂ نُسَخ کے طریقے سے صادقی  نے معلوم کیا کہ نبی ﷺ کے مبداءِ فیض سے تینوں روایات (عثمانؓ، 'ص-1 ' اور ابنِ مسعودؓ)  جاری ہوئیں اور ثابت کیا کہ  عثمانی متن دوسرے متون سے قدیم تر ہے۔ وہ کہتے ہیں،عثمانی اور دوسری روایاتِ متن  کی شاخیں جب  ایک دوسرے سے جدا  ہوئیں تو یہ زمانہ  نشرِ رسمِ عثمان کے بعد کا نہیں ہوسکتا۔ تاریخ و آثار میں محفوظ بیشمار عثمانی مصاحف  اور مختلف عثمانی  قراآت سے جن اختلافات  کا پتہ چلتا ہے وہ اُسی زمانے میں سامنے آئے جب عثمانی روایتِ متن پھل پھول رہی تھی۔ یہ اختلافات تعداد  اور وسعت کے اعتبار سے اتنے قلیل ہیں کہ تحریر سےنقل  کرتے وقت  یا املاء لکھتے وقت  ان کا پیدا ہوجانا بعید نہیں ۔  صادقی ، برگمان اور گودارزی کی رائے میں متن کے زیادہ تر اختلافات  کی وجہ مندرجہ ذیل  اسباب سے ہوسکتی ہے: 

  1. مماثلت  بالتوازی  (Assimilation of Parallels): قرآن میں بعض جملے اور تراکیب  الفاظ کے فرق کے ساتھ یا بعینہِ اکثر بار بار آتے ہیں ، چنانچہ بسا اوقات حفاظ بھی ان کو ایک دوسرے کی جگہ پڑھ دیتے ہیں  ۔  اسی طرح  کتابت  کے دوران  بھی ہوجاتا ہے جب  کاتب آیت لکھتے وقت  کسی ملتی جلتی  آیت کا جو قرآنِ مجید میں کسی دوسرے مقام پرآئی ہو  (یعنی متوازی  ) کا   اثر قبول کرلیتا ہے۔ نتیجتاً متن میں الفاظ کا حذف(omission)،اضافہ(addition)، تقلیب (transposition) یا  تبادلہ(substitution)  واقع ہو جاتا ہے۔ 
  2. مماثلت بالسیاق (Assimilation of Nearby Terms): املاء لکھتے وقت کوئی لفظ لمحہ قبل کاتب  نےسنا  ہوتا ہے اور غلطی سے   اصل کی جگہ   اسے لکھ دیتا ہے ۔  تحاریرِ قدیمہ (paleographers) اور تاریخی لسانیات (philologists) کے  ماہرینِ نے   تمثل بالتوازی اور تمثل بالسیاق سے وارد ہوجانے والی  اغلاط کو عہد نامۂ جدید کے قدیم نسخوں میں اکثر نوٹ کیا ہے۔ 
  3. معمولی اغلاط: ان میں حروف (عطف، جر وغیرہ)، ضمائر، سوابق و لواحق میں  غلطی ہوسکتی ہے جیسے "و" یا "فاء" کو ادل بدل کردینا۔ 
  4. حذف اکبر (Omission of Major Elements): کاتب کوئی لفظ بھول گیا یا کوئی اور لفظ اس کے حافظے سے چپکا ہوا ہے جو اس نے سُنا ہی نہیں پھر بھی لکھ دیا۔ یا اثنائے  بیان میں ایک فہرستِ الفاظ  بھی ہے اور کاتب  سے ایک لفظ چُوک گیا۔
  5. صوتی تسلسل (Phonetic Conservation):   املاء لکھتے وقت اکثر کوئی  لفظ صوتی  طور پر ہم آہنگ کسی دوسرے لفظ سے بدل جاتا ہے۔ جیسے لفظ کی ترتیب بدل گئی یا فعل کسی دوسرے فعل سے بدل گیا  جبکہ دونوں کا مادہ ایک ہی تھا۔ مثال کے طور پر 'وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ' (المائدۃ 41) بدل کر 'ص-1 'میں 'وڡى اللاحره لھم'   ہوگیا،'  اسْتَيْسَرَ' (البقرۃ 196)  'ٮىسر' (تیسر) بن گیا ۔
  6. متکررات: بعض اوقات متن میں کسی ایسے لفظ یا ترکیب  کا اضافہ ہوجاتا ہے جو بار بار استعمال ہوتے ہیں۔

ان وجوہ کو 'ص-1 'اور مصحفِ ابنِ مسعود دونوں میں پا یا گیا۔  اس طرح انتقادِ متن کے ذریعہ  معلوم ہوگیا کہ 'ص-1' کا آغاز  معیاری  متن کے پھیلنے سے پہلے ہوچکا تھا۔  معیاری عثمانی روایت پوری صحت کے ساتھ ساتویں صدی  شمسی کے وسط تک مستحکم ہوچکی تھی۔   اس سے باہر کی روایاتِ متن جیسے  زیریں مخطوطہ کی روایت' ص-1' ایک دوسرے سے اس وقت جدا  ہوگئی تھیں   جب ابھی روایتِ عثمانی پوری طرح  پھیلی نہ تھی،  یعنی 650ء سے پہلے۔ اس بناء پر  صادقی اور گودارزی کے بقول اسلامی لٹریچر میں جن مصاحفِ صحابہ کا ذکر آتا ہے وہ یقینی طور پر وجود رکھتے تھے8۔ صادقی کی تحقیق کے مطابق جہاں عثمان، 'ص-1 ' اور ابنِ مسعود  کے درمیان  اختلافات ہیں وہاں عثمانی متن  دو میں سے ایک سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے ۔ اس سے  پتہ چلتا ہے کہ عثمانی متن  دوسرے متون کے مقابلے میں اصل یعنی نبوی متن سے قریب تر ہے۔

چونکہ عثمان، ص-1 اورمصاحفِ صحابہ میں سُورتوں کے اندر ایک ہی جیسا متن ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سُورتیں   روایاتِ متن کے پھیلاؤ سے پہلے ہی قائم کردی گئی تھیں اور وہ روایات مسترد ہوجاتی ہیں جن میں سورتوں کے قیام کو حضرت عثمان کی جمع و  تدوین سے منسوب کیا جاتا ہے۔صادقی کہتے ہیں،  قرآنی سورتوں کی آخری شکل رسول اللہ ﷺ خود قائم فرما گئے تھے  یعنی سورتوں کے اندر متن کی آیات میں تقسیم  ۔ علاماتِ آیات جو'ص-1 ' میں پائی گئیں وہی نسخۂ عثمان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ان کی یہ رائے بھی ہے کہ زیریں نسخۂ  صنعاء  رسول اللہ ﷺ کی وفات سے بہت پہلے کا لکھا ہوا  نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں سورۂ  توبہ شامل ہے جس میں آخری ہدایات نازل ہوئی تھیں ۔  ایک اور نکتہ جو صادقی  نے اٹھایا ہے کہ اُن روایات سے تعرض کرنے کی کوئی وجہ نہیں جن میں آتا ہے کہ  جمعِ قرآن کے موقع پر حضرت زید بن ثابت ? کو سورۂ   توبہ کی آخری دو آیات  تحریری طور پر کہیں مل نہیں رہی تھیں اور بالآخر خزیمہ یا ابو خزیمہ کے پاس سے ملی  تھیں اور چونکہ نبی کریم ﷺ نے ان کو  ذوالشہادتین قرار دیا تھا، اس لیےقبول  کرلی  گئی تھیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ  آیات قرآنِ کے قدیم ترین نسخۂ 'ص-1'  میں موجود ہیں، نسخۂ عثمان میں موجود ہیں اور  مصاحفِ صحابہ کے بارے میں بھی روایات سےکم از کم  ان کی عدم موجودگی کا  پتہ نہیں چلتا9 ، اس لیے ان روایات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔  

البتہ سورتوں کی ترتیب کے بارے  میں صادقی کی تحقیق مختلف  ہے ۔ وہ کہتے ہیں، چونکہ  ان مصاحف میں سُورتوں  کی ترتیب کہیں کہیں یکساں  ہے مگر   زیادہ تر مختلف ہے اس لیے   کچھ سورتوں کی ترتیب تو رسول اللہ ﷺ  نے خود  مقرر کردی تھی لیکن  یہ کام  آخری شکل   میں  آپ ﷺ کے بعد ہی تکمیل کو پہنچا10۔  اگرچہ وہ علامہ اعظمیؒ  کے اس نکتے کو بہت سراہتے ہیں کہ کتابچوں کی صورت میں سورتیں اکثر مصحف کی ترتیب پر نہیں ہوتیں  کیونکہ  کتابچے مختلف مقاصد کیلیے تیار کیے جاتے ہیں تاہم  زیریں نسخۂ صنعاء کے بارے میں ان کے نزدیک یہ اصول لاگو نہیں ہوتا۔ صادقی کی پختہ رائے ہے کہ  اس کا متن غیر عثمانی ہےاور اس کی ترتیبِ سُوَر  مصاحفِ صحابہ (ابنِ مسعود و ابنِ کعب?) سے مشابہ ہے ۔

عثمانی متن اور 'ص-1 'کے درمیان فروق کی تعداد اور نوعیت  سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زبانی اور تحریری دونوں طریقوں سے کلامِ پاک  کی ترسیل ہورہی تھی۔ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ املاء تیزی سے کرایا جارہا تھا جبکہ کاتب اس کی رفتار کا ساتھ نہ دے پارہا تھا چنانچہ متن میں فروق در آئے۔

صادقی اس پر دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ پچھلی تحریر کو مٹا کر پارچہ دوبارہ استعمال کرنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔  ہوسکتا ہے کہ پچھلا مصحف کئی دہائیوں پر مشتمل عرصے کے دوران زیادہ استعمال کے باعث فرسودہ ہوگیا ہویا کسی حادثے کی وجہ سےزیریں مصحف کو نقصان پہنچا ہو۔ یا عثمانی روایت کے پھیلاؤ کے باعث غیر عثمانی روایت متروک ہوتی چلی گئی چنانچہ بالائی مصحف رسمِ عثمان کے مطابق لکھا گیا۔ بالائی تحریر  زیادہ مدمج  (compact) ہے، اس میں حرفِ مد  (long vowel)' الف'  کا استعمال نسبتاً  زیادہ ہے اور حروفِ صحیحہ (consonants) کو ممیز کرنے کیلیے نقاط کا استعمال بھی  زیادہ کیا گیا ہے۔

احمد شاکر کی شرکت  (Contribution)

دکتور احمد وسام شاکر مصری نوجوان ہیں جو قرآنی نُسَخ پر اپنے زمانہ طالبعلمی ہی  سے بڑے پرجوش طریقے سے دادِ تحقیق دیتے چلے  آئے ہیں۔ نومبر 2018 ء میں  انہوں  نے اطلاع دی کہ  لُووَر میوزیم ابو ظہبی   (Louvre Abu Dhabi) میں موجود قرآن کے ایک ورق کی تصویر انہوں نے  ٹوئیٹر  پر دیکھی جس کا خط،  دسویں آیت کا نشان (تعشیر) اور دوسرے اوصاف  DAM 01-27.1کے اوراق سے مشابہ نظر آئے۔ مزید غور سے معلوم ہوا کہ کرسٹی 2008 فولیو میں  بالائی تحریرجو سورۃ   المائدہ  کی آیت 9 تک ہے 'وعدالله الدىں……واحرعطىم'   ( یعنی  وَعَدَ اللَّہ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَھمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ تک) اور اس کے بعد   DAM 01-27.1 آیت 32 کے  ٹکڑے  'اﻟﯩﺎﺱ ﺤﻤﯩﻌﺎ'  (النَّاسَ جَمِيعًا)سے شروع ہوتا ہے۔   دوسری طرف  لُوور ابو ظہبی کا ورق آیت 10  یعنی  'ىااىھاالدىں امںوا…' (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ۔۔۔) سے شروع ہوکر  آیت 32   کے ٹکڑے 'مں ٯٮل ںڡسا……ڡڪاںما ٯٮل' (مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ) تک ہے۔ گویا  لُوور ابو ظہبی کا ورق DAM 01-27.1 کے خلاء کو ٹھیک ٹھیک  پُر کردیتا ہے ۔   اس  دریافت کو محسن گودارزی اور فرانسیسی محققہ الینور سیلارڈ (Eléonore Cellard)نے بھی سراہا   [9]  اور  ویب  سائٹ www.islamicawareness.org  نے بھی ا بوظہبی کے  اس ورق کو شامل کرتے ہوئے   DAM 01-27.1 کے اوراق کی کل تعداد 81  تسلیم کی ہے یعنی   40 اوراق المکتبۃ الشرقیۃ میں، 36   المکتبۃ الغربیۃ میں، ایک لُوور ابو ظہبی میں   اور چار وہ جو سمگل ہو کر لندن کے  نیلام گھروں میں فروخت ہوئے  [3]  ۔  یہ اور بات ہے کہ انہوں نے احمد شاکر کا حوالہ نہیں دیا۔ بہرحال یہ امر مختلف فیہ ہے کہ مخطوطاتِ صنعاء مکمل مصاحف کے بقایا جات ہیں  جیسا کہ اکثر محققین کا خیال ہےیا زیریں تحریر  کی صورت میں محض منتشر اوراق جو  کسی درسی حلقے میں  کسی غیر تربیت یافتہ کاتب  نےاملاء لکھتے ہوئے رقم کیے تھے اور  بالائی تحریر کی صورت میں مختلف مدارج سے گزرتا ہوا مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا ایک  نا مکمل  کام جیسا کہ آئندہ سطور میں  آرہا   ہے۔

اسماء ہلالی کی تحقیق

لندن میں واقع  انسٹیٹیوٹ آف اسمٰعیلی سٹڈیز کی ریسرچ فیلو  ڈاکٹر اسماء ہلالی  1نے صنعاء پالمپسسٹ   کے اوپر ایک منفرد تحقیق کی ہے جو 2017ء میں کتابی صورت میں طبع ہوئی  [9]۔اس تحقیق میں ہلالی نے صنعاء پالمپسسٹ کے زیریں اور بالائی مخطوطوں کے  نئےایڈیشن  شامل کیے ہیں اور بہت سے چونکانے دینے والے نتائج  بھی پیش کیے ہیں  ۔  اس سے پہلے ان مخطوطات  پر گرڈ پیوئین، اس کی بیوی الزبتھ پیوئین اور بہنام صادقی کی تحقیقات  سے  بظاہر یہ معلوم ہوا تھا کہ  ان اوراق کا زیریں مخطوطہ ایک ایسے  مکمل مصحف   کا  جزء  ہے جو عثمان ? کے سرکاری مصحف سے پہلے لکھا گیا تھا جبکہ بالائی مخطوطہ   ایک مکمل عثمانی مصحف کا  حصہ  ہے۔دونوں مطالعات  نے قرآنی نُسَخ  کی تحقیق کا وہ منہج اختیار کیا جو انیسویں صدی  سے شروع ہوا تھا جس کا فوکس مخطوطات کی تاریخ  اورمبینہ قرآنی اختلافاتِ قراآت  تھے۔ صادقی کے برعکس ہلالی   کی تحقیق میں اصل زور متن کی نقل و ترسیل پر ہے نہ کہ اس کی ابتدا ء پر۔   زیریں تحریر اور 1924ء کے قاہرہ ایڈیشن2 میں جو فروق  پائے گئے، ان سے  اسماء ہلالی نے  یہ نتیجہ اخذ کیا کہ  قراآت کے لٹریچر میں یہ فروق مفقود ہیں بلکہ یہ فروق اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ منتشر اوراق تھے جو ایک تعلیمی حلقے میں گردش کررہے تھے جس میں متن املاء کرایا جارہا تھا۔

ہلالی نے بھی فرانسیسی-اطالوی مشن کی ان ہی  تصاویر کو استعمال کیا جو صادقی اور گودارزی نے استعمال کی تھیں ۔البتہ دسمبر 2012ء میں  یمن جا کر انہوں نے دارالمخطوطات کے المکتبۃ الغربیۃ میں اس پالمپسسٹ کو خود دیکھا تھا، جس کا موقع صادقی کو نہیں مل سکا تھا۔3

یمنیہ یونیورسٹی کی طالبہ رزان حمدون  ، جس کا ذکر اوپر گزرا ، کے ماسٹر تھیسس کی اطلاع  صادقی اور گودارزی کے مونوگراف  کی اشاعت (2012ء)  تک کسی کو نہ تھی  تاہم اسماء   ہلالی  کی کتاب کے شائع ہونے تک  اہل علم اس کام سے واقف ہوچکے تھے۔ ہلالی کہتی ہیں کہ  رزان حمدون کا مطمح ِنظر  دو انتہاؤں کے درمیان گو مگو کا سا ہے یعنی  ایک طرف تو خالص علمی تحقیق ہے تو دوسری طرف  یہ خواہش کہ  قرآن اول روز سے تا حال بغیر کسی تبدیلی کے محفوظ ہے۔ المکتبۃ الشرقیۃکے اوراق کی  بلیک اینڈ وائٹ تصاویر جو رزان  نے اپنے مطالعہ میں استعمال  کی تھیں  ان کا معیار   بقول ہلالی اس لائق نہ تھا کہ کسی محتاط تحقیق کا موضوع بن سکے ۔ چنانچہ انہوں نے طالبہ کے کام  کو علمی تنقید کے لیے موزوں  نہ سمجھا۔

زیریں متن

ہلالی نےاپنی تحقیق میں زیریں متن کی تنقیح میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے۔ صادقی اور گودارزی  نے جہاں تحریر پڑھنے میں دشواری محسوس کی  وہاں انہوں نے اندازے سے امکانی تحریر اخذ کی تھی۔اس کے برعکس   ہلالی  نے اپنے  ایڈیشن میں ایسے  مقامات   پر ہلکے سرمئی رنگ کی خالی جگہ چھوڑی  ہے۔ہلالی کے نزدیک یہ نامکمل اوراق   قرآن  مجید کے کچھ منتخبات کا مجموعہ ہیں  جس کی حیثیت  مذکرہ یا  معاونِ  یادداشت  (aide-mémoire) کی ہے جو کسی درسی حلقے میں لکھا گیا ہوگا اور لکھنے والا جانتا تھا کہ یہ عارضی تحریر ہے جو بالآخر مٹادی جائیگی۔ البتہ جب تقریباً پچاس سال بعد، یعنی دوسری صدی ہجری یا آٹھویں  صدی شمسی میں،   دوسرے کاتب اس ری سائیکلڈ  پارچے  پر قرآن لکھ رہے تھے تو ان کو مٹائی  گئی  زیریں تحریر کا غالباً علم نہ رہا ہوگا۔  اس سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ بالائی تحریر کے بارے میں یہ گمان نا قابلِ دفاع ہے کہ زیریں تحریر چونکہ غیر عثمانی روایتِ متن پر مشتمل  تھی  اس لیے خلیفۂ ثالث کے حکم کے مطابق اس کو مِٹا کر عثمانی روایتِ متن  رقم کی گئی تھی  ۔

ہلالی نے صنعاء  پالمپسسٹ کی  زیریں تحریر کے 12 اوراق پڑھے جن میں سے 3  اوراق پر متن ایک ہی طرف کا پڑھا جاسکا۔ پڑھے جانے والے اوراق میں ہلالی نے 61 مقامات پر قاہرہ ایڈیشن (دیکھیے حاشیہ 10 ) سے مختلف  پایا۔ ان فروق کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہے:

  1. اسماء، ضمائر، تراکیب اور زمانۂ   فعل  میں جزوی یا مکمل  فرق۔ ہلالی نے اس قسم کے نو (9) اوراق کا ذکر کیا ہے جن میں سے ہر ایک میں  دو سے پانچ مثالیں  پائی گئی ہیں۔ ایک مثال سورۂ توبہ کی آیت 8 کے الفاظ 'يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ' ہیں   جو 'ٮرصو ٮڪم ٮاﻟﺳﯩهم' (یرضونکم  بالسنتہم) کی صورت ظاہر  ہوئے  ہیں۔
  2. ایک ہی جملے میں الفاظ و عبارات کا  آگے پیچھے ہوجانا  (یعنی تقلیبِ مکانی) یا بدل جانا۔ اس  قسم کی امثلہ تین اوراق میں نظر آئیں، ہر ورق میں ایک مثال۔ جیسے  سورۃ النور کی آیت 26 کا ٹکڑا  'وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ' زیریں تحریر میں اس طرح آیا ہے: 'والطﯩﯩوں للطﯩﯩاٮ والطﯩﯩاٮ للطﯩﯩﯩں'   (والطیبون للطیبات والطیبات للطیبین)۔
  3. الفاظ وعبارات جو قاہرہ ایڈیشن میں ہیں لیکن زیریں مخطوطہ میں نہیں۔ اس ضمن میں ہلالی نے دو اوراق دریافت کیے، ہر ایک میں ایک مثال۔  جیسے سورۃ النور کی آیت  18  کے جزء 'يبين اللہ لكم الآيات' میں 'الآیات'  موجود نہیں یعنی صرف ' ﯩﯩﯩں اللہ لكم' (یبین اللہ لکم) پایا گیا ۔
  4. الفاظ،حروف (particles) اور  جزوی عبارتیں  جو زیریں مخطوطہ میں ہیں مگر قاہرہ ایڈیشن میں نہیں۔ اس قسم کی مثالیں کثیر ہیں۔ دس اوراق میں سے ہر ایک میں دو سے چار امثلہ دیکھی  گئیں۔ جیسے فولیو 2 سطر 11 میں البقرہ- 90  کا  جزء ۔۔۔ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّہ۔۔۔ زیریں مخطوطہ میں یوں آیا ہے: 'ٮعىا وعدوا اں ىںىرل الله' (بغيا و عدوا ان ينزل اللہ)۔
  5. ہلالی کے  مقدمہ کا ایک قوی ا ستدلال تصحیحِ قراءت کی ہدایت سے فراہم ہوتا ہے جو فولیو  5a سطر 9  میں موجود ہے۔  اس میں  سورۂ انفال کے بعد سورۂ توبہ کا آغاز بسملہ سے ہوتا ہے۔ معاً بعد لکھا  ہوا  ملتاہے: [4] مں اللہ و رسولہ 5۔  پھراگلی سطر کا آغاز اس ہدایت سے ہوتا ہے: لا ٮٯل ٮسم اللہ (لا تقل بسم اللہ)، اور پھر آگے سورہ شروع ہوتی ہے:   بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ۔۔۔ الخ—گویا صورتحال کچھ یوں  ہوگی کہ ایک تعلیمی حلقے میں استاد کے سامنے شاگرد اپنے اوراق سامنے رکھے  تلاوت کررہا ہے اور سورۂ  انفال ختم کرکے قبل اس کے کہ سورۂ  توبہ شروع کرے،  بسملہ پڑھتا  ہے  جو پارچہ پر  لکھا ہوا بھی ہے۔ استاد فوری  تصحیح کرتا ہے: "لا تقل بسم اللہ" (بسم اللہ نہ کہو) اور شاگرد اسی وقت اس ہدایت کو اپنےصفحہ  پر لکھ لیتا ہے اور پھر آگے تلاوت کرتا ہے۔ راقم کے نزدیک یوں بھی ہوسکتا ہے کہ شاگرد حافظہ سے تلاوت کررہا ہو اور دوسرا شاگرد املاء لکھتا جاتا ہو(یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سے زائد طُلاب لکھ رہے ہوں)۔ سورۂ انفال ختم  کرکے وہ  سورۂ توبہ شروع کرنے سے پہلے روانی میں بسملہ بھی بول جاتا ہے اور املاء لکھنے والا  اسے بھی لکھتاچلا جاتا ہے اتنے میں استاد تصحیح کرتا ہے: "لا تقل بسم اللہ" (بسم اللہ نہ کہو) اور املاء کرنے والا  مشینی انداز میں اس ہدایت کو بھی لکھ دیتا ہے اور پھر آگے سورہ توبہ شروع ہوتی ہے۔

زیریں متن کے زیادہ تر تغیرات  قاہرہ ایڈیشن کے مقابلے میں طویل عبارات کی شکل میں ہیں۔ ان کی تقسیم  یکساں نہیں البتہ  زیادہ تر تغیرات اس نوعیت کے ہیں جیسےمتن کے کچھ اجزاء  میں حروفِ عطف یا عام طور پر پائی جانے والی قرآنی تراکیب کے ذریعے اضافہ یا تشریح کی گئی ہو، جیسے:

  • البقرہ-  90 میں  بِئْسَمَا اشْتَرَوْا کے بجائے "ف" کے اضافہ کے ساتھ'ڡٮئسما 'ہے(فولیو 2a سطر 9  )۔
  • ایسے الفاظ جیسے اللہ، رسولہِ اور سبیلہ  کا اضافہ۔ سورۂ توبہ-11 میں' نُفَصِّلُ الْآيَاتِ' کے بجائے ' ىڡصل  اللہ الاىاٮ'،  التوبہ-16 میں 'جَاهَدُوا مِنْكُم ' کے بجائے 'حاهدوا ﻤﯨﰼ ڡی ﺳٮىلہ'  اور التوبہ-2 میں 'غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ ' کے بجائے 'عىرمعحری اللہ و رسولہ'۔
  • بعض اجزاء میں تشریح وتاکید   کے طرز پر اضافے ہیں ۔ مثال کے طور پر  الحجر-25 میں 'وَإِنَّ رَبَّكَ ھوَ يَحْشُرُھمْ إِنَّہ حَكِيمٌ عَلِيمٌ' میں  'حَكِيمٌ'  کے بجائے 'لحكىم' ہے۔ اسی طرح  مریم-23 میں 'قَالَتْ يَالَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ ھذَا'  اضافہ کے ساتھ اس طرح  مرقوم ہے: 'ٯٮل هدا الىوم' ہے (قبل ہذا الیوم

ہلالی کے نزدیک یہ تغیرات کاتب کا سہو نہیں ہیں،  بلکہ یہ منتشر اوراق تھے جو درسی حلقہ میں تطویر ، تشریح اور تصحیح کے مراحل سے گزر رہے تھے یعنی یہ ایک نامکمل اور عارضی کام تھا جو  کتابت، تصحیح، املاء اور ہدایات وغیرہ کے عمل سے گزرتے ہوئے بالآخر اپنے انجام کو پہنچا اور مٹادیا گیا  ۔  وہ صادقی  کے تھیسس سے اتفاق نہیں کرتیں کہ ان اوراق میں موجود زیریں اور بالائی متون ایسے مکمل مصاحف کے ا جزاء ہیں جن کو  بالآخرتلاوت و عبادت میں استعمال کیا جا نا  تھا۔ ان کے نزدیک:

  • حک و اضافہ جات میں کوئی نظام نہیں پایا  جاتا،
  • حروف، الفاظ اور سُوَر کے درمیان فواصل  (spaces) بے ہنگم ہیں،
  • تصحیحِ قراءت کی ہدایت (بسملہ نہ کہو) کی موجودگی   اور 
  • ایسی خالی جگہ  ('جَوبہ' یا  'لاکونا  (Lacuna)  ') جس کی کوئی تاویل نہ ہو، کی موجودگی۔  غالباً  تحریر کے دوران  خلل  کی وجہ سے  کاتب یہ سوچ کر خالی جگہ چھوڑتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہو کہ بعد میں اسے پُر کردے گا۔

ڈاکٹر ہلالی اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں کہ زیریں متن  قراآتِ متعدد ہ  (multiple readings)6کے فریم ورک میں فِٹ ہوسکتا ہے، جیسا کہ صادقی کا خیال ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ  یہ متن قراآت کے سنی یا شیعہ مصادر سے مماثلت نہیں رکھتا۔  مزید برآں،  بقول انکے، قراآت کا تصور بہت بعد میں تشکیل پایا اگرچہ وہ تسلیم کرتی ہیں  کہ سبعۃ احرف کی روایت اسلام کی پہلی دو صدیوں میں معروف تھی اور مختلف لہجات میں قرآن کی  قراءت کو خود رسول اللہ ﷺ کی تائید حاصل تھی پھر بھی  اس کا  مواد، یعنی  کارپَس (corpus) ،کئی صدیوں بعد مدون ہوا7۔   زیریں متن میں کئی ایسے  تغیرات  ہیں جو اس کارپَس   میں فٹ نہیں بیٹھتے۔

 ڈاکٹر ہلالی کے نزدیک کاتب اور قاری دونوں نے زیریں متن کو ایک بے ربط تحریر  کی طرح برتا  جس کو   لکھنے کے بعد اغلاط  درست کی گئیں پھر تعلیق و تشریح کا اضافہ بھی ہوا، جیسا کہ فولیو   5a سطر 9   (سورہ التوبہ کے آغاز میں بسملہ نہ پڑھنےکی ہدایت)سے ظاہر ہوا ۔ اگرچہ تحریر مسلسل  بھی ہے  تاہم قراءت کی اصلاح  کی خاطر  انقطاع بھی  واقع ہوا  ۔ جیسے کسی لفظ کے درمیان میں  حرفِ  قاف  تھا ،  غلطی سے اسے   پہلے تو اپنی آخری شکل  میں لکھدیا، یعنی  'ࢼ'   ،پھر  تصحیح کرکے اس کو درمیانی شکل "" دی گئی ۔ متن کے فروق میں ایسی حرکیات  بھی ہیں جن کو  الفاظ و تراکیب  کو اپنی  جگہ سے ہٹا  دینے (displacement) سے تعبیر کیا جاسکتا ہے،   جیسا کہ اوپر قِسم نمبر 2 میں بیان ہوا۔ اسی طرح مخصوص قرآنی  تراکیب کا اضافہ بھی ہے، جیسے اللہ کے بعد رسولہُ— یہ ساری شہادتیں بتاتی ہیں کہ یہ منتشر اجزائے  قرآن متعدد درسی  مجالس  میں گردش کرتے رہے ہوں گے۔ 

ہلالی کہتی ہیں کہ  اسلام کی پہلی صدی میں تعلیم کا طریقہ مساجد میں حلقہ  کی صورت ہوتا تھا۔  فولیو   5a سطر 9   (سورہ التوبہ کے آغاز میں بسملہ نہ پڑھنےکی ہدایت)سے معلوم ہوتا ہے کہ زبانی تلاوت ان حلقوں کا ایک مقصد ہوتا تھا۔ وہ اس خیال کی تائید کرتی نظر آتی ہیں کہ قرآن کی ترسیل زبان کے عمل سے ہوئی ہے جس میں تحریر کا دخل   مذکرہ یا  معاونِ  یادداشت  (aide-mémoire)  جیسا ہے۔   ان کے نزدیک  عرضہ  کی مجلس میں دراصل تقابل ہی کیا جاتا تھا تاکہ متن کی تصحیح ہو۔ اس سلسلے میں وہ  خطیب بغدادی کی کتاب   الکفایۃ فی العلم الروایۃ سے  یہ مکالمہ نقل کرتی ہیں کہ  ایک مرتبہ امام  مالک بن انس (م 179ھ) نے ابن ابی اویس (م6 22ھ) سے پوچھا کہ تم نے کس کی موجودگی  میں قرآن پڑھا؟  انہوں نے جواب دیا،  نافع بن ابی نعیم ۔ مالک ؒنے پھر پوچھا، انہوں نے تم کو سنایا یا تم نے ان کو سنایا؟ ابن ابی اویس نے کہا، میں نے ان کو سنایا اور جب میں نے کوئی غلطی کی تو انہوں نے میری تصحیح کی۔ اس سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتی  ہیں کہ  صنعاء پالمپسسٹ کا زیریں متن بھی اسی طرح  زبانی تلاوت،  تصحیح ، مراجعت اور تصدیق کے مراحل سے گزرا۔ اور اس کا قرینہ  جیسا کہ اوپر گزرا متن میں غلطیوں کی درستگی اور  تصحیحِ قراءت کی ہدایت ہے   ۔ یہی وجہ ہے کہ تصحیح   برسرِ  موقع کی گئی ہے  نہ کہ حاشیہ پر۔ یعنی  اصل اور تصحیح میں فرق کرنا ممکن نہیں رہتا۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صنعاء  پالمپسسٹ  کا  زیریں مخطوطہ ایک نامکمل متن ہے تو پارچہ  جیسی قیمتی شے   اس مقصد کیلیے کیوں  استعمال کی گئی؟  ہلالی کہتی ہیں کہ  یہ پارچہ  معمولی نوعیت کا تھا اور  اس میں شکست و ریخت پہلے سے ہوچکی تھی، چنانچہ اس کو درسی حلقہ میں ایک ورکنگ کاپی کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ محسوس نہ کیا گیا  ہوگا۔ کاتب کو یہ بھی معلوم تھا کہ  تحریر کو مٹا کر دوبارہ لکھا جائےگا۔ دراصل زیریں تحریر ہو یا بالائی دونوں کا مقصد ورکشاپ کی طرز کے حلقوں  میں تجرباتی استعمال تھا اور  کاتب کے  پیشِ نظر مکمل مصحف  تیار کرنا تھا ہی نہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پارچہ مسجد کی دو چھتی یا سندرہ  (attic) میں رکھا ہی اس لیے گیا ہوگا کہ  بالآخر اسے تلف کیا جانا مقصود تھا۔  ایک ایسے مخزن میں جس کا کوئی دروازہ بھی نہ تھا، نسخہ  دراصل اپنی آخری منزل یعنی  dead-end پر پہنچ چکا تھا۔ 

بالائی متن

بالائی متن کا ایڈیشن  27 اوراق کی تحریر کُشائی   پر مشتمل ہے۔ علم  تحاریرِ قدیمہ یعنی  پیلیوگرافی کے شواہد کی بناء پر ان کی رائے میں بالائی مخطوطہ کی کتابت میں کم از کم  چار افرادشریکِ کار رہے ہوں گے۔تصحیح اور تزئین کرنے والے  ان کے علاوہ تھے۔ تصحیح کرنے والے غیر واضح  یا  مخفی عبارت  کو "رِی ٹَچ (retouch) "  کیاکرتے تھے یا دوبارہ لکھتے تھے8۔ تزئین کرنے والے افراد  سورتوں کو ممیز کرنے والے رنگین سجاوٹی خطوط بنایا کرتے تھے، پانچ، دس، پچاس اور سو آیات کی نشاندہی کرنے والے ڈیزائن  کا اضافہ کرتے تھے اور ختمِ سورہ کی علامت کا بھی اضافہ کرتے تھے۔ لیکن یہ ایک منظم اور ہم آہنگ کام نہ تھا۔ اس میں بے قاعدگی تھی اور  متن کی آیات میں  تقسیم بھی قاہرہ ایڈیشن سے کہیں کہیں مختلف تھی۔ ان شواہد کی بناء پر ہلالی  بالائی متن کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتی ہیں کہ یہ منتشر اوراق ہیں جو  کسی مصحف کا حصہ نہیں ہوسکتے تھے اور یہ کہ کتابت، تصحیح اور تزئین کا کام  مختلف مراحل میں  مختلف ہاتھوں   اور مختلف اوقات میں  انجام پایا۔  جہاں تک بالائی متن اور قاہرہ ایڈیشن کے فروق کا تعلق ہے تو پانچ مقامات پر یہ قراآت کے لٹریچر سے مطابقت رکھتے  ہیں اور 13 مقامات قراآت کے لٹریچر میں نہیں  ملتے ۔ان کا نظریہ   یہی ہے کہ مخطوطہ کئی مراحل سے گزرا جن کے درمیان زمانی خلا تھے۔ سجاوٹ کے تنوعات سے  انداز ہ ہوتا ہے کہ یہ عمل متن کی تحریر کے بعد کیا گیا تھا۔ اور یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ  پالمپسسٹ ایک  عمل جاریہ (work in progress)  تھا جو ضروری نہیں کہ عبادتی مقصد کیلیے لکھا جارہا ہو۔

اختتامیہ

صنعاء پالمپسسٹ پر حالیہ یعنی  گزشتہ دس سالوں کے دوران  کی جانے والی تحقیقات  جو اس مضمون میں پیش کی گئیں  ان سےمعلوم ہوتا ہے کہ  مغرب ہی سے ایسے علماء سامنے آئے ہیں جنہوں نے  قرآن کے استناد کے بارے میں بعض   مستشرقین کی ایک  بڑی  غلط فہمی کو دور کردیا ہے ۔ان حضرات کے مطابق قرآن کی بھی ویسی ہی تاریخ ہے جیسی بائیبل کی رہی ہے یعنی قرآن  کا متن بہت عرصے تک سیال (fluid)  رہا، اس میں کمی بیشی ہوتی رہی اور بالآخر  ایک ارتقائی عمل کے بعد اسے استحکام نصیب ہوا۔اس جائزہ سے  معلوم ہوا کہ کہ قرآن سے منسوب غیر معیاری مخطوطات   ناقص حافظہ  اورغیر پیشہ ور  انہ  ہاتھوں   کتابت کا  نتیجہ ہیں۔ نیز یہ کہ قرآن  کی نشرواشاعت کا  اصل مدار زبانی روایات پر ہے۔ ان زبانی روایات کی غیر منقطع کڑیاں آج بھی ہزاروں کیا لاکھوں  قراء کی اسناد میں  دیکھی جاسکتی  ہیں۔ اس  مضمون کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہمارے علماء  ان تحقیقات سے آگاہ ہوں جو نُسَخِ قدیمہ پر مغربی دنیا میں  ہو رہی ہیں۔ اس طرح ممکن  ہےکہ  بعض   مشکل موضوعات کی  عقدہ کشائی کی طرف کچھ اشارے مل سکیں۔اس طرح کے چند اشارات اس مضمون میں بھی ہیں۔اسماء ہلالی کی تحقیق کے بعد سے ابتک   اس   پر کوئی علمی تنقید سامنے نہیں آئی ہے۔  فرانسیسی محققہ الینور سیلارڈ (Eléonore Cellard) نے اس کتاب پر اپنے تبصرہ میں ہلالی کے نظریہ پر اپنے کچھ  تحفظات کا اظہار  توکیا ہے [11] ، لیکن کسی تفصیلی نقد کا   تاحال انتظار ہے۔


حوالہ جات

    1. Hadiya Gurtmann, “A Quran written over the Quran—why making the effort?”, January 2012,  https://www.manuscript-cultures.uni-hamburg.de/mom/2012_01_mom.html.
    2. Masahif San’ā, Dar al-athar al-islamiyyah, Kuwait National Museum, 19 Mar-19 May 1985.
    3. https://www.islamic-awareness.org/quran/text/mss/soth.html, 10 Apr 2008.
    4. Behnam Sadeghi and Uwe Bergmann, “The Codex of a Companion of the Prophet and the Qurʾān of the Prophet”, Arabica 57 (2010), pp. 343-436, Brill NV, Leiden 2010.
    5. Behnam Sadeghi and Mohsen Goudarzi, “Ṣan‘ā’ 1 and the Origins of the Qur’ān”, Der Islam Bd. 87, S. 1–129, Walter de Gruyter 2012.
    6. Michael Cook, “The Stemma of the Regional Codices of the Koran”, Graeco-Arabica, 9-10 (2004), p. 89-104.
    7. Muhammad Mustafa Al-Azami, The History of the Quranic Text from Revelation to Compilation, UK Islamic Academy, Leicester 2003.

    8. علوم القرآن از دکتور صبحی صالح، اردو   ترجمہ ازپروفیسر غلام احمد حریری ، ملک سنز   پبلشرز فیصل آباد 1993-1994ء، ص 106

    9. Asma Hilali, The Sanaa Palimpsest, the Transmission of the Quran in the First Centuries AH, Oxford University Press in association with Institute of Ismaili Studies, London, 2017.
    10. https://quranmss.com/2018/10/19/louvre_palimpsest/, posted on 19 Oct 2018.
    11. Eléonore Cellard, “Asma Hilali: The Sanaa Palimpsest, the Transmission of the Quran in the First Centuries AH”, Review of Quranic Research, vol. 5, no. 9 (2019).

حواشی

    8. DAMسے مراد ہے Dar Al Makhtutat۔ ان   اوراق کو ایک کیٹلاگ نمبر دینے کی وجہ   یہی تھی کہ ان کو ایک  واحد مصحف کی باقیات سمجھا گیا تھا۔  جیسا کہ آگے آئے گا یہ امر مختلف فیہ ہے۔

    9. حال یونیورسٹی آف آکسفرڈ، برطانیہ

    10. صنعاء مخطوطات کے یہ اولین ایڈیشن نہ تھے۔ کئی سال قبل2004 ءمیں یمنیہ یونیورسٹی کی طالبہ رزان غسّان  حمدون نے اپنے ایم اے کے مقالہ  بعنوان  "المخطوطات القرآنية في صنعاء منذ القرن الأول الهجري وحفظ القرآن الكريم بالسطور" میں صنعاء مخطوطات کے  40  اوراق  کی بالائی تحریر کا ایڈیشن پیش کیا تھا ۔ یہ  اوراق  دار المخطوطات کے  المکتبۃ الشرقیہ  میں رکھے  ہوئے تھے ۔  ان کی تصاویر رز   ان کے والد  پروفیسر ڈاکٹر غسان حمدون   نے  فراہم کی تھیں،جو خود بھی مخطوطاتِ صنعاء پر کام کرچکے تھے ۔ یہ تصاویر بلیک اینڈ وائٹ تھیں اور  اچھی کوالٹی  کی نہ تھیں۔     اس غیر مطبوعہ   کام  کی اطلاع   ویب سائٹ www.islamicawareness.org کو   2012ء میں ملی  اور  وہیں سے بیرونی دنیا کو  اس تحقیق کا علم ہوا۔  مذکورہ ویب  سائٹ     نے  مزید تحقیق کے بعد اعلان کیا  کہ یہ  40   اوراق بھی دراصل DAM 01-27.1 ہی  کا حصہ ہیں  اگرچہ جسامت  میں   مقابلتاً  چھوٹے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان اوراق  کے بارے  میں مزید تحقیق کے بغیر قطعیت  کے ساتھ  ایسا  دعویٰ کرنا مشکل ہے ۔   اسی ویب سائٹ نے یہ معلومات بھی دیں کہ  وہ چار اوراق جو لندن کے نیلام گھروں میں  1992 سے 2008 کے دوران فروخت ہوئے تھے، جن کا ذکراوپر  گزر چکا ہے،  وہ بھی اسی المکتبۃ الشرقیہ سے  سمگل  ہوئے تھے [3]۔     

    11.  کتبِ روایات سے معلوم ہے کہ اشعار، دواوین، خطوط،  اقوالِ رسول، معاہدات اور لین دین کے معاملات لکھے جاتے تھے۔ سورۂ بقرہ میں قرض کی دستاویز لکھنے اور گواہیاں ثبت کرنے کا حکم صاف ظاہر کرتا ہے کہ قرآنِ عظیم کے علاوہ اور دستاویزات بھی ہوتی ہوں گی ۔ غزوہ بدر کے قیدیوں میں سے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان  میں سے ہر ایک کا فدیہ دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانا مقرر کیا گیا تھا۔  مسلمانوں کو وصیت لکھنے کا حکم  نبی ﷺ نے دیا۔ غرض جنابِ رسول اللہﷺ کی بعثتِ  مبارکہ کے بعد سے ہی تعلیم و تعلم کا سلسلہ وسیع پیمانے پر شروع ہوچکا تھا جس میں قرآن   تو  مرکزی  حیثیت رکھتا  ہی تھا  لیکن دوسری دستاویزات بھی لکھی جاتی رہی تھیں۔ صادقی نے ایسا  غالباً اس لیے لکھا کہ روایات کے علاوہ ان دستاویز کا علم کسی  حسی مخطوطہ سے نہیں ہوتاہے۔ جن دستاویزات کی موجودگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے ان کی اصلیت و  صداقت کے بارے   علمِ  تحاریرِ  قدیمہ (Paleography)  کے ماہرین متفق نہیں۔ دلچسپی رکھنے والے  اصحاب  ڈاکٹر سارہ زبیر مرزا  کے پی ایچ ڈی مقالہ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں [5] ۔ بہرحال صحیح اور مستند روایات کو تسلیم نہ کرنے کی روش کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ دنیا کی بیشتر تاریخ دریا برد کرنی پڑے گی۔

    12.  مختلف شہروں میں جو مصاحف بھیجے گئے تھے،  ان کے  درمیان   پائے جانے والے فروق کی تعداد 36 بتائی جاتی ہے، دیکھیے، مائیکل کوک [6] ۔ بقول صادقی،   کوک کا تعلق علمائے مغرب کے اس گروہ سے ہوتا تھا جنہیں تعدیلی یا تحریفی (revisionist) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ علماء ہیں جو روایات  سے حاصل ہونے والے علم  کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں روایت پسند (traditionalist)  اہلِ علم ہیں جو  قدرتی طور پر مسلم دنیا میں اکثریت میں ہیں۔  بعد میں کوک نے پہلا طریقہ چھوڑ کر روایات سے اعتناء شروع کردیا  بشرطیکہ روایات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ صادقی نے ان جیسے علمائے مغرب کو "نئےر وایت پسند" (neo-traditionalist) کا  خطاب دیا ہے   [5]۔

    13.       یعنی ا لفاظ  کی ساخت میں ایسی تبدیلی جس سے  ادائیگی بدلتی ہواور دوسرا لفظ بن جاتا ہو۔ روایات سے معلوم ہے کہ عثمانی مصاحف 'مورفیمی ساختیاتی'  سطح پر محفوظ ہیں ۔ پہلی اور دوسری صدی ہجری کے  دوران  اختلافاتِ  قراآت  کی باریک تفصیلات  تک بہت صحت کے ساتھ  قراآت کے  لٹریچر میں رپورٹ ہوئی ہیں۔بعض الفاظ کی ساخت میں  فرق، جیسے ہجا کا فرق، مورفیمی نہیں ہے کیونکہ ایسی صورت میں لفظ بدل جاتا ہےلیکن معنیٰ  نہیں بدلتے۔  اسی طرح حروفِ صحیحہ (consonants) کو ممیز کرنے والے نقاط میں اختلاف آجائے تو لفظ بدل سکتا ہے مگر ساخت نہیں تو یہ فرق بھی 'مورفیمی ساختیاتی 'نہیں ۔ ہاں اگر کوئی قراءت ایسی ہے کہ لفظ کی   ساخت میں بھی فرق ہے اور لفظ یا ذیلی لفظ (یعنی مورفیم)  میں بھی،  تو یہ اختلاف '  مورفیمی ساختیاتی' کہلائے گی۔ صادقی کہتے ہیں کہ  مسلم    ماہرینِ    قراءت    یہ بات صدیوں سے جانتے  رہے ہیں   [5] ۔

    14.  Companion-1 or C-1

    15.  علامہ اعظمی ؒ نے صحابہ کے مصاحف کے متعلق روایات کو ان کے باہمی تعارض کی بناء پر بالکلیہ مسترد کیا ہے  [7] اگرچہ اہلِ علم کی اکثریت ان کے وجود  کی قائل  ہے۔

    16.  چونکہ روایات میں یہ واقعہ جمعِ صدیق  ?اور جمعِ عثمان  ? دونوں کے حوالے سے بیان ہوا ہے، صادقی کی تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ واقعہ جمعِ صدیق کے موقع پر ہوا  ہوگا۔ کیا عجب کہ زیریں مخطوطۂ صنعاء  اسی دور کی یادگار ہو، واللہ اعلم ۔

    17.  اس نتیجہ کی صحت کا مدار اس مفروضہ پر ہے کہ مخطوطاتِ صنعاء مکمل مصاحف کا حصہ ہیں۔ اسماء ہلالی کی تحقیق اس کے برعکس ہے، جیسا کہ آگے آتا ہے۔ ڈاکٹر صبحی صالح کہتے ہیں:  "  اس ضمن میں راجح اور مختار مذہب یہی ہے کہ  قرآنی سورتوں کی موجودہ ترتیب اسی طرح توقیفی اور غیر اجتہادی ہے جس طرح آیات کی موجودہ ترتیب"  [8] ۔

    18.   آج کل وہ فرانس کی    Université de Lille میں ایسوسی ایٹ پروفیسر آف اسلامولوجی  ہیں۔

    19.  مستشرقین مصاحفِ قدیمہ کا جب مصاحفِ زمانۂ حال سے موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو   قاہرہ میں  1924   میں طبع ہونے والے  ملک فؤاد ایڈیشن  کو زمانہ حال کیلیے  حوالہ کے طور پر لیتے ہیں  جو   روایتِ حفص عن  عاصم پر مشتمل  ہے۔   حالانکہ مدینہ منورہ میں مطبع  ملک فہدقائم ہونے کے بعد وہاں کا شائع شدہ مصحف ہی زیادہ موزوں حوالہ ثابت ہوسکتا ہے۔ 

    20.    شاید ان کو اس وقت تک المکتبۃ الشرقیۃ میں موجود اُن اوراق کا علم نہ  رہا ہوگا جن کا  مطالعہ رزان حمدون  نے اپنے  ماجستیر کے مقالہ میں  پیش کیا تھا۔  ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یمن جاکر وہ   دارالمخطوطات  کا   بس  المکتبۃ الغربیۃ دیکھ کر آجاتیں۔

    21.   چوکور بریکٹ سے مراد خالی جگہ یا لاکونا  (lacuna)ہے۔

    22. اس عبارت پر ہلالی نے کوئی روشنی نہیں ڈالی ہے۔ عین ممکن ہے کہ قاری بسملہ پڑھنے کے بعد    بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ  کہہ چکا ہو اور املاء لکھنے والا اسے لکھ چکا ہو،  اتنے میں  استاد کی ہدایت آئی ہو کہ "لا تقل بسم اللہ"۔ البتہ ان چند الفاظ کو صادقی اور گودارزی نے   اگلی سطر پر موجود"   لا ٮڡل" کے ساتھ  ملا کر یوں پڑھا ہے: 'ھدہ حٮمہ سورہ الاںڡل'( ھذہ ختمۃ سورۃ الانفال(۔ واضح رہے کہ مخطوطاتِ قدیمہ میں اکثر حروف  مدہ   (long vowels) کو  کم ہی لکھا  جاتاتھا، اس طرح سے مشابہت کی بناء پر لا تقل کو الانفال پڑھا گیا)۔پھر صادقی اور گودارزی کے خیال میں تصحیحِ قراءت کی ہدایت  لا تقل بسم اللہ لکھتے وقت کاتب لا       تقل لکھنا بھول گیا شاید اس وجہ سے کہ یہ لفظ وہ پہلے لکھ چکا تھا۔ مزید تفصیل کیلیے دیکھیے صادقی اور گودارزی  [5] ص 53۔

    23.  یہ اصطلاح راقم نے ڈاکٹر اعظمیؒ کی پیروی میں اختیار کی ہے۔ مستشرقین variant readings کی ترکیب استعمال کرتے ہیں اور ہمارے ہاں کے روایتی علماء اختلافاتِ قراآت کہتے ہیں ۔

    24.  مستشرقین کا یہ عام  طرزِ فکر ہے کہ و  ہ   روایات کو  اس وجہ سے   نظر انداز کر تے  ہیں کہ ان  میں  بیان کردہ  واقعات کئی صدی  قبل پیش آئے تھے۔ حالانکہ مسلمانوں نے روایات کی چھان بین کا جو علم مدون کیا ہے، اس کے بعد یہ   نقطۂ نظر رکھنے کی کوئی وجہ نہیں۔

    25. اس تکنیک کو جَندرہ کہا جا تا  تھا۔ واضح رہے کہ ابتدائے اسلام  ہی سے مسلمانوں نے   متون  کی پوری صحت کے ساتھ نشر و اشاعت کی خاطر قواعد بنا رکھے تھے جن کا ذکراحادیث و  تواریخ میں ملتا ہے۔  پانچویں صدی ہجری  کے مشہور عالم الخطیب البغدادی امیرالمؤمنین    حضرت عمر کے ایک حکم  کا حوالہ دیتے ہیں  کہ اگر  تمہیں   ایک کتاب ملے  جس میں ایسا علم ہو جو تم نے کسی عالم سے نہ سنا ہو تو اس کتاب کو پانی کے برتن میں رکھدو یہاں تک  کہ روشنائی پانی میں مکمل حل ہوجائے، یعنی تحریر کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے ہاں ایسا متن جو زبانی روایت سے  تصدیق شدہ  نہ ہو مکمل طور پرپھاڑ دینے (تَمزیق)  یا پارچہ کو مکمل دھودینے  (غَسل)پر  منتج ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ  عبارات کو خارج (delete)  کرنے کیلیے دوسرے طریقے بھی  رائج ہونے لگے جن میں کیمیکل یا قدرتی اشیا ء استعمال کی جاتی تھیں۔  حَک، قَل، تَقشِیر، مَسح، دَلک، اور اِزالہ  اسی طرح کی تکانیک تھیں۔ (دیکھیے ہلالی کی کتاب [9] ص 8-12)۔


آراء و افکار

(جولائی ۲۰۲۰ء)

Flag Counter