ستمبر ۲۰۱۹ء

فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہج

― محمد عمار خان ناصر

حدیث وسنت سے متعلق اسلامی فقہی روایت میں جو مباحث پیدا ہوئے، ان کے تناظر میں کسی بھی فقیہ یا فقہی مکتب فکر کے زاویہ نظر کو سمجھنے کے لیے تین بنیادی سوالات پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے: ایک یہ کہ سنت کی تشریعی حیثیت اور خاص طور پر اخبار آحاد سے متعلق اس کا موقف کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ اس مکتب فکر میں اخبار آحاد کی تحقیق وتنقید کے لیے کون سے اصول اور معیارات برتے گئے ہیں؟ اور تیسرا یہ کہ حدیث سے احکام کے استنباط اور ان کی تعبیر وتشریح کے ضمن اس کا منہج کیا ہے اور یہ علمی سرگرمی اس کے ہاں کون سے اصولی تصورات اور کن علمی قواعد کی روشنی میں انجام دی جاتی ہے۔...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۷)

― ڈاکٹر محمود احمد غازی

(۱۷۶) ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا کا ترجمہ: قرآن مجید میں سورة المجادلة میں ایک جگہ ظہار کے بیان میں ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا آیا ہے، اور اسی سورت میں ایک دوسری جگہ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ آیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ دونوں باتیں ایک ہی اسلوب کلام میں کہی گئی ہیں، اور اس کا تقاضا ہے کہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو دونوں کا ایک ہی طرح سے مفہوم سمجھا جائے۔ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا کا مفہوم متعین کرنے میں مفسرین میں بہت زیادہ اختلاف ہوا ہے، جب کہ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ کا مفہوم متعین کرنے میں کوئی اختلاف نہیں...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ(۴)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

5۔مخطوطات و نسخ۔ اہل تشیع و اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کے فروق میں سے ایک بڑا فرق کتب ِحدیث کے مخطوطات و نسخ کی تعداد و قدامت کا فرق ہے ،اہل تشیع کے اکثر کتب ِحدیث کے قدیم معتمد نسخ معدوم ہیں ،اسی کمیابی کی وجہ سے ان میں بڑے پیمانے پر تحریفات بھی ہوئی ہیں ،ذیل میں اس حوالے سے چند جید اہل تشیع محققین و علماء کی آرا ذکر کی جاتی ہیں: 1۔معروف شیعہ پیشوا و معتبر عالم سید علی خامنائی اہل تشیع کے کتب رجال کے نسخ و مخطوطات پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "بناء علی ما ذکر الکثیر من خبراء ھذا الفن ان نسخ کتاب الفہرست کاثر الکتب الرجالیۃ القدیمۃ المعتبرۃ الاخری...

مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور معاصر دنیا کا فہم

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

( ۱۸ ۔اگست ۲۰۱۹ء کو پریس کلب ایبٹ آباد میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ پر منعقدہ سیمینار میں گفتگو) ۔ بعد الحمد والصلٰوۃ۔ سیمینار کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔ مجھ سے پہلے فاضل مقررین نے حضرت سندھیؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں پر اپنے اپنے ذوق کے مطابق اظہار خیال کیا ہے اور مجھے بھی چند معروضات آپ حضرات کے گوش گزار کرنی ہیں۔ مولانا سندھیؒ کا بنیادی تعارف یہ ہے کہ وہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے قافلہ کے اہم ترین فرد تھے،...

مدرسہ ڈسکورسز کا فکری وتہذیبی جائزہ

― محمد دین جوہر

آج کل مدرسہ ڈسکورسز کا پھر سے چرچا ہے، اور مختلف رد عمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں اسے سازش بھی قرار دیا گیا ہے جو مضحکہ خیز ہے، اور صورتحال کا سامنا کرنے سے انکار ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی خطیر فنڈنگ کو موضوع بنا کر بھی کچھ غیرمفید نتائج اخذ کیے گئے۔ فنڈنگ کی بنیاد پر ڈسکورسز کے منتطمین کی نیتوں اور ’خفیہ‘ عزائم پر اشاروں کنایوں سے بات کی گئی۔ چند مذہبی لوگوں نے ’اظہار خیال کی آزادی‘ اور ’فکری مکالمے کی ضرورت‘ کے حوالے سے اپنی کشادہ قلبی اور بے دماغی بھی ارزانی فرمائی۔ ان غیراہم یا کم اہم پہلوؤں پر گفتگو سے مدرسہ ڈسکورسز کے تعلیمی اور علمی...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۹)

― محمد عمار خان ناصر

نصوص کی ظاہری دلالت کے حوالے سے ابن حزم کا رجحان۔ اس بحث میں قرآن مجید کے ظاہری عموم کی دلالت کے حوالے سے ابن حزم کے رجحان کو سمجھنا بھی بہت اہم ہے۔ امام طحاوی کے زاویۂ نگاہ پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے ان کا یہ رجحان واضح کیا ہے کہ وہ احادیث کی روشنی میں کتاب اللہ کے ظاہری مفہوم کی تاویل نہیں کرتے اور آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجاے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہ قائم رکھتے ہیں، جب کہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دیتے یا اگر ناگزیر ہو تو نسخ پر محمول کرتے ہیں۔ اس نوعیت کا رجحان ابن حزم...

مولانا مودودی کا تصّورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۴)

― مراد علوی

مولانا مودودی نے "مدافعانہ جنگ"پر تفصیلی بحث کے بعد اس کے مصرف پر بحث اٹھائی ہےکہ کیا یہ مقصود بالذات ہے یا کسی اور مقصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ آپ کے نزدیک دفاع بے مصرف نہیں بلکہ ایک اہم فریضہ کے لیے ناگزیر وسیلہ ہے۔ اس فریضے کو انھوں نے ''اصلی خدمت" سے موسوم کیا ہے۔ چناں چہ مولانا کے نزدیک ''مدافعانہ جنگ'' مقصود بالذات نہیں بلکہ مسلمانوں کو ''اصلی خدمت''جیسے اہم فریضہ ادا کرنے اور اجتماعی قوت مٹنے سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے تاکہ اس کے ذریعے مسلمان اندرونی اور بیرونی فتنوں سے محفوظ رہ کر اصلی خدمت کی ادائیگی کے قابل ہوسکے۔ اگر اجتماعی قوت...