رشتوں كا معيار انتخاب اور سیرت پاک کی صحیح تصویر

ڈاکٹر محی الدین غازی

رشتوں کے انتخاب کا معیار کیا ہو؟ اس مسئلہ کی معاشرتی اہمیت ہمیشہ بہت زیادہ رہی ہے، اور اس دور میں تو یہ مسئلہ نہایت سنگین ہوگیا ہے، مادہ پرستی، ظاہر پسندی اور خود ساختہ مثالیت پسندی کے بے تحاشا بڑھتے ہوئے رجحانات نے پورے معاشرے کو اپنے چنگل میں لے لیا ہے، اس صورت حال میں ہر ايک پریشان ہے، اور ہرشخص ایک بے مقصد دوڑ میں شریک ہونے اور اپنی پوری زندگی کو بھاگتے اور ہانپتے ہوئے گزارنے کے لیے مجبور نظر آتا ہے۔

مادہ پرستی اور ظاہر پسندی کی اس دوڑ میں رشتوں کے رائج الوقت انتخابی معیارات کا اہم رول ہوتا ہے، اور ان معیارات کے حصول کے لیے عام طور سے لوگ خواہی نہ خواہی پریشان اور بدحواس رہتے ہیں۔

ایسی صورت میں بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ رشتوں کے انتخاب کے تعلق سے وہ اعلی نبوی معیارات لوگوں کے سامنے لائے جائیں جن کو االلہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ كرام کے مثالی معاشرے میں فروغ دیا تھا۔ اور جن کی برکتوں کو اس زمانے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ سیرت کے لٹریچر میں اس سلسلے کی اگر کوئی نامناسب بات کسی طرف سے در آئی ہو اور سیرت پاک کی عظمت وشوكت کو متاثر کررہی ہو تو اس کی نشاندہی کی جائے، اور اس کے بارے میں  صحيح موقف اختیار کیا جائے۔

اس بات پر تو ساری امت کا اتفاق ہونا چاہئے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ایک خاص مقصد افراد کے اندر اعلی اخلاق اور معاشرے میں بلند اقدار کا فروغ تھا۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا نمایاں رنگ یہی تھا، اور یہ رنگ آپ کی تعلیمات کو دنيا كي ساری تعلیمات کے مقابلے میں ایک زبردست امتیازعطا کرتا ہے۔

شادی بیاہ کے معاملات اور بطور خاص شریک حیات کے انتخاب کے تعلق سے بھی آپ کی تعلیمات اور ہدایات کا عمود اور محور یہی تھا۔

رشتوں کے تعلق سے آپ کی اصل توجہ اس پر مرکوز تھی کہ دینداری، صالحیت اور حسن اخلاق کو انتخاب میں ترجیح اول حاصل رہے، چنانچہ مردوں کے تعلق سے آپ کی عام ہدایت تھی، کہ اگر کوئی ایسا شخص پیش قدمی کرتا ہے جو دینداری اور اخلاق وکردار کے لحاظ سے اطمینان بخش ہے تو اس کی شادی کردو، ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پیدا ہوجائے گا۔

عن أبي ھريرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «إذا خطب إليكم من ترضون دينہ وخلقہ فزوجوہ، إلا تفعلوا تكن فتنۃ في الأرض، وفساد عريض» سنن الترمذي (3/ 386)

خواتین کے تعلق سے آپ کی عام ہدایت تھی کہ شادی کرتے ہوئے عام طور سےعورت کی مالداری، حسب ونسب، جمال اور دینداری کا خیال کیا جاتا ہے، تم اگر خوش بختی چاہتے ہو تو دیندار خاتون کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

عن أبي ھريرۃ رضي اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ عليہ وسلم قال: " تنكح المرأۃ لأربع: لمالھا ولحسبھا وجمالھا ولدينھا، فاظفر بذات الدين، تربت يداك " (متفق علیہ)

آپ نے اس معیار کو دوسرے معیاروں پر ترجیح دینے کی مسلسل تربیت بھی کی، ذیل کی روایت سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے:

عن سھل، قال: مر رجل علی رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم، فقال: «ما تقولون في ھذا؟» قالوا: حري إن خطب أن ينكح، وإن شفع أن يشفع، وإن قال أن يستمع، قال: ثم سكت، فمر رجل من فقراء المسلمين، فقال: «ما تقولون في ھذا؟» قالوا: حري إن خطب أن لا ينكح، وإن شفع أن لا يشفع، وإن قال أن لا يستمع، فقال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «ھذا خير من ملء الأرض مثل ھذا» صحيح البخاري (7/ 8)

سہل کہتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے رسول ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ نے کہا تم لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ اس لائق ہے کہ رشتہ مانگے تو نکاح کردیا جائے، سفارش کرے تو سفارش مان لی جائے، اور بات کہے تو سنی جائے، آپ خاموش رہے۔ پھر ایک نادار مسلمان گزرا، آپ نے کہا اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ ایسا ہے کہ رشتہ مانگے تو نکاح نہ کیا جائے، سفارش کرے تو مانی نہ جائے، اور بات کہے تو سنی نہ جائے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: یہ اس جیسے زمین بھر لوگوں سے زیادہ بہتر ہے۔(صحیح بخاری)

ان عظیم تعلیمات کا اس وقت کے اسلامی معاشرے پر غیر معمولی اثر واقع ہوا، یقینی طور پر دینداری اور حسن اخلاق کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی، لوگوں پر بخوبی واضح ہوگیا کہ جس معاشرتی معیار کے لیے مسابقت ہونی چاہئے وہ بس یہی ہے، لوگ اپنے بچوں اور بچیوں کے رشتے کے سلسلے میں دینداری اور صالحیت کو سب سے زیادہ ترجیح دینے لگے، اور صالحیت ہی کو بچوں کی تربیت اور نشوونما میں اولیت کا درجہ حاصل ہوا، بچیوں کے والدین بھی اسی انمول گوہر سے ان کو آراستہ کرنے کی فکر کرتے، اور بچوں کے والدین بھی ان کی ایسی ہی اٹھان کے لیے کوشاں رہتے۔ تمام نوجوان مرد وخواتین پر یہ بات بخوبی واضح ہوگئی تھی کہ اب رشتوں کے انتخاب میں وزن دار چیز اگر ہے تو اخلاق وکردار کی دولت ہے۔ اور یہ نہیں ہے تو باقی سب کچھ بے وزن اور بے اعتبار ہے۔

ایک طرف لوگوں کی توجہ صالحیت اور دینداری پر مرکوز ہوگئی تھی، تو دوسری طرف ان دلفريب چیزوں کی طرف سے ان کی توجہ اور فکرمندی کم ہوگئی جو عارضی ہیں، دنیا کی اس عارضی زندگی تک محدود ہیں، اور ہر ایک کے حصے میں اس کے نصیب کے بقدر آتی ہیں۔

دیگر اوصاف ومعیارات کے مقابلے میں دینداری کا خصوصی امتیاز یہ ہے اسے آدمی اپنی پاک نیت، بلندارادہ، پیہم کوشش اور مسلسل توجہ سے حاصل کرتا ہے، جو حاصل کرلیتا ہے وہ تعریف وتحسین کا سزاوار ہوتا ہے، اور جو حاصل نہیں کرتا ہے وہ اپنی کوتاہی کے لیے خود قصور وار قرار پاتا ہے، اور اسی لیے مستحق ملامت بھی ہوتا ہے۔ دنیا میں تعریف وملامت کے سلسلے میں بھی اصل معیار حسن سیرت وکردار ہے، اور آخرت میں جزا وسزا کے لیے بھی وہی حقیقی معیار ہے۔ اس لیے حکمت کا یہ عین تقاضا تھا کہ رشتوں کے انتخاب کے سلسلے میں بھی صالحیت کو تنہا معیار بنایا جائے۔

اگر کوئی مرد غریب اور تنگ حال ہے، یا اس کے اندر کوئی جسمانی خامی ہے، یا کسی خاص خاندان اور خاص علاقے میں پیدا ہوا ہے، یا کسب معاش کے لیے کسی مخصوص پیشے سے وابستہ ہوا ہے، یا اس کے حصے میں کوئی خاص رنگ اور زبان آئے ہیں، تو یہ سارے احوال انتخاب کے سلسلے میں رد وقبول کا معیار قرار نہیں دیے جاسکتے۔

اسی طرح کسی لڑکی میں کسی جسمانی عیب کا ہونا، یا اس کا خوب صورت نہ ہونا، یا بیوہ اور طلاق یافتہ ہوجانا اس کے نوشتہ قسمت کا حصہ تو ہوسکتا ہے، نوشتہ اعمال کا حصہ نہیں ہوتا ہے، اس لیے ایسی کسی چیز کو رد وقبول کی اخلاقی بنیاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اگر کوئی فرد اپنے انفرادی فیصلے میں دینداری کے علاوہ بھی کسی پہلو کی رعایت کرتا ہے، تو وہ اس کی انفرادی پسند ہوسکتی ہے، اس فرد کے ذاتی حالات کا اس کے فیصلے میں دخل ہوسکتا ہے، اور ذاتی حالات کے پیش نظر اس کا خصوصی جواز بھی نکل سکتا ہے، لیکن معاشرے کو جو معیاری تعلیمات دی جائیں گی، ان میں ان اعتبارات کے لیے کوئی گنجائش نہیں نکلتی ہے۔ اور اگر کسی نبی کی طرف سے رشتوں کے انتخاب کے بارے میں عمومی معیار صادر ہورہا ہو، تب تو اس میں صالحیت اور دینداری کے سوا کسی اور محرک کا دور دور تک گزر نہیں ہوسکتا ہے۔

افسوس اس بات پر ہے کہ امت مسلمہ میں رشتوں کے انتخاب ميں ان معیاروں کو زیادہ چرچا حاصل ہوگیا جو حقیقی نہیں تھے، اور ان کے مقابلے میں صالحیت کا حقیقی معیاربہت حد تک پس پشت چلاگیا، یا پھر غیر حقیقی معیاروں كي صف میں آکر بے وزن اور غیراہم ہوگیا۔

کسی درجے میں اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہے کہ اس حوالے سے سیرت کی بالکل صحیح اور خالص تصویر سامنے نہیں آسکی، بلکہ سیرت پاک کے تذکروں میں بہت سی ایسی چیزيں درآئی ہیں، جو سیرت پاک كي عظمت وشوكت سےكوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔

ایک عام آدمی جب سیرت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے سامنے کچھ عجیب وغریب سی تصویر آتی ہے، اور بے حد مشکل سوالات کا اسے سامنا هوتا هے، وہ دیکھتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ کنواری عورت سے شادی کرو، اور پھر وہ تلاش کرتا ہے کہ آخر بیوہ اور مطلقہ عورتوں کی شادی کے مشکل مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں آپ کی کیا تعلیمات ہیں، تو اسے حیرانی کے سوا كچھ ہاته نهيں آتا۔

وہ دیکھتا ہے کہ آپ لوگوں کو ابھار رہے ہیں کہ زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو، پھر وہ سوچتا ہے کہ بانجھ عورتوں کی شادی کے مشکل مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں آپ کی تعلیمات کیا ہیں، تو اسے حیرانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

وہ دیکھتا ہے کہ آپ لوگوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ شادی سے پہلے عورت کو دیکھ لو، اس میں کوئی عیب نہ ہو، پھر وہ جاننا چاہتا ہے کہ جو عورتیں کسی جسمانی عیب کا شکار ہیں، ان کی شادی کے سلسلے میں آپ کی تعلیمات کیا ہیں، تو اسے حیرانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

سیرت طیبہ کی یہ تصویر یقینا بڑی الجھنوں کي باعث اور گہری فکرمندی کي موجب ہے، اس میں سیرت پاک بر نکتہ چینی کرنے والوں کے لیے بڑا مسالہ موجود ہے۔

اس کے بالمقابل جب ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی زندگی اور شخصیت کو دیکھتے ہیں، تو بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے، وہاں ہم کو نہ کنواری لڑکیوں کی تلاش ملتی ہے، نہ زیادہ بچے جننے والیوں کی جستجو نظر آتی ہے، نہ جسمانی لحاظ سے کسی کمی اور عیب سے گریز ملتا ہے، اور نہ حسن وجمال کی تلاش نظر آتی ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی بیویاں کنواری تھیں؟

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی بیویاں بچے جننے والی تھیں؟

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن وجمال کی فراوانی پر کتنی توجہ دی تھی؟

پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خیر امت تیار کی تھی، اس میں رشتوں کے انتخاب کے تعلق سے کیا معیارات رائج تھے؟

کیا لوگ کنواری لڑکیوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے، اور کیا وہ حسن وجمال کے متلاشی ہوا کرتے تھے؟

کیا اس معاشرے میں کوئی بیوہ یا مطلقہ اس وجہ سے ازدواجی رشتے کی نعمت سے محروم رہی کہ وہ کنواری نہیں رہی تھی؟

کیا کوئی خاتون اس وجہ سے بیاہی نہیں جاتی تھی کہ اس میں کوئی جسمانی عیب تھا؟

کیا اس زمانے میں بانجھ عورتوں کی شادیاں آسانی سے نہیں ہوا کرتی تھیں؟

واقعہ یہ ہے کہ اس معاشرے میں کسی بھی خاتون کو اور کسی بھی مرد کو رشتے کے سلسلے میں نہ کسی پریشانی کا شکار ہونا پڑتا تھا، اور نہ کسی تاخیر سے دوچار ہونا پڑتا تھا، ہر عورت کو زوجیت کے سائے بان میں بروقت اور بڑی آسانی سے جگہ مل جایا کرتی تھی۔ یہ سیرت طیبہ اور تاریخ صحابہ کا زبردست امتیاز ہے، اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں مل سکتی ہے۔

درحقیقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، اور صحابہ کرام کا مثالی اور بابرکت معاشرہ ہمارے لیے باعث رشک وتقلید ہے، وہاں رشتوں کے انتخاب کے سلسلے میں صرف ایک ہی معتبر اور باوزن معیار تھا اور وہ تھا صالحیت، دینداری اور اعلی اخلاق وکردار، اور اس معیار نے رشتوں کے  تعلق سے بے شمار معاشرتی مسائل کو جڑ سے ختم کردیا تھا۔

یہاں اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ ان روایتوں کے بارے میں ہمارا موقف کیا ہونا چاہئے، جن میں دینداری صالحیت اور حسن اخلاق کے علاوہ بھی مختلف چیزوں کی رعایت کرنے کی تعلیم ملتی ہے؟

یہ سوال بہت اہم ہے اور بہت نازک بھی ہے، سیرت پاک کے شیدائیوں کو اس کا جواب ضرور تلاش کرنا چاہئے، تاہم سیرت پاک کے خوشہ چینوں کے غور وفکر کے لیے بہت خاص بات یہ ہے کہ رشتوں کے معیار کے حوالے سے صالحیت اور دینداری کے علاوہ اوصاف کے بارے میں جو کچھ ہمیں روایتوں میں ملتا ہے، وہ صرف روایتوں میں ملتا ہے، نہ تو وہ نمایاں طور پر اللہ کے رسول کی زندگی میں ملتا ہے، اور نہ ہی صحابہ کرام کی سوسائٹی میں ملتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد کا مسلم معاشرہ غیر اسلامی معاشروں کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا، اور مسلم معاشرے میں بھی وہی معیارات رواج پاگئے جو غیر مسلم معاشروں میں رائج تھے، ان رواجوں کو جب بعض روایتوں کی تائید بھی حاصل ہوگئی تو ان کی جڑیں معاشرے میں اور گہری ہوگئیں، اور ان کو ختم کرنا بہت دشوار ہوگیا۔

اس مختصر مقالے میں ہر روایت پر بہت تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گنجائش تو نہیں ہے البتہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر اس طرح کی کچھ مشہور ومعروف روایتوں بر غور كرليا جائے.

پہلی روایت

اس روایت کا تعلق ایک واقعہ سے ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی جابر بن عبداللہ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ہے، انہوں نے کہا ہاں، تو آپ نے پوچھا بکر سے یا ثیب سے؟ انہوں نے کہا ثیب سے، اس پر آپ نے کہا: تم نے بکر سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟؟ اس پر انہوں نے وضاحت کی کہ جنگ احد کے موقعہ پر ان کے والد شہید ہوگئے تھے، اور نو لڑکیاں چھوڑی تھیں، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ایک ناتجربہ کار الہڑ لڑکی کو ان کے ساتھ رہنے کے لیے لاؤں، اس لیے ایسی خاتون کو بیاہ کر لایا جو ان کے کام آسکے۔

یہ روایت مختلف تفصیلات کے ساتھ متعدد کتابوں میں مذکور ہے، اس کا ایک متن یہاں نقل کیا جارہا ہے:

قال عمرو: سمعت جابرا، يقول: قال لي رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «ھل نكحت؟» ، قلت: نعم، قال: «أبكرا أم ثيبا؟» ، قلت: ثيبا، قال: «فھلا بكرا تلاعبھا، وتلاعبك» ، قلت: يا رسول اللہ، قتل أبي يوم أحد، وترك تسع بنات، فكرھت أن أجمع إليھن خرقاء مثلھن، ولكن امرأۃ تمشطھن، وتقوم عليھن، قال: «أصبت» مسند أحمد (22/ 208)

جابر کہتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ نے مجھ سے کہا: کیا تم نے نکاح کرلیا، میں نے کہا ہاں، پوچھا: کنواری یا غیر کنواری؟ میں نے کہا غیر کنواری۔ کہا: کنواری سے کیوں شادی نہیں کی، تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول میرے باپ احد کے موقع پر کام آگئے، اور نو لڑکیاں چھوڑیں، میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ ان میں ایک ان جیسی ناتجربہ کار لڑکی کا اضافہ کردوں، مناسب یہ لگا کہ ایک عورت لاؤں جو ان کے بالوں میں کنگھی کرے، اور ان کی نگہداشت کرے، آپ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔ (مسند احمد)

امام مسلم اس روایت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ متعلقہ باب کا نام ہی باب استحباب نكاح البكر رکھ دیا، روایت کے تمام طرق کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کئی حصوں کے تعلق سے مختلف روایتوں میں شدید تعارض پایا جاتا ہے، شارحین حدیث نے اس کی شرح کرتے ہوئے متعدد اشکالات ذکر کئے ہیں، تاہم اس کا سب سے زیادہ توجہ طلب حصہ فھلا بكرا تلاعبھا وتلاعبك والا جملہ ہے، اس جملے کو مختلف راویوں نے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، ظاہر ہے کہ اللہ کے رسول نے ایک ہی واقعہ میں اور ایک ہی مجلس میں ایک ہی فرد سے یہ سارے الفاظ نہیں کہے ہوں گے، اس سے ابتدائی طور پر راویوں کا تصرف تو ثابت ہوجاتا ہے۔

وہ مختلف الفاظ حسب ذیل ہیں:

فَمَا لَكَ وَالْعَذَارَی وَلَعِبَھُن مسند أبي داود الطيالسي (3/ 292)
ألا تزوجتھا بكرا تلاعبك، وتلاعبھا، وتضاحكك، وتضاحكھا مسند أحمد ط الرسالۃ (23/ 258)
«أفلا جاريۃ تلاعبھا وتلاعبك»  صحيح البخاري (3/ 62)
قال: «فھلا جاريۃ تلاعبھا وتلاعبك، وتضاحكھا وتضاحكك» صحيح البخاري (7/ 66)
فھلا بكرا تعضھا وتعضك۔ المعجم الكبير للطبراني (19/ 149)

الفاظ کے اختلاف کا مسئلہ خود راویوں کے درمیان زیر بحث رہا، جیسا کہ ذیل کی روایت سے معلوم ہوتا ہے:

عن جابر بن عبد اللہ، قال: تزوجت امرأۃ، فقال لي رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «ھل تزوجت؟» قلت: نعم، قال: «أبكرا، أم ثيبا؟» قلت: ثيبا، قال: «فأين أنت من العذاری، ولعابھا»، قال شعبۃ: فذكرتہ لعمرو بن دينار، فقال: قد سمعتہ من جابر، وإنما قال: «فھلا جاريۃ تلاعبھا وتلاعبك» صحيح مسلم (2/ 1087)

اس روایت میں ایک بڑا اشکال تو یہ ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ متضاد تفصیلات کے ساتھ وارد ہوا ہے، دوسرا اس سے زیادہ غور طلب پہلو یہ ہے کہ اس واقعہ میں اللہ کے رسول کی طرف منسوب الفاظ انبیائی شان سے کس قدر میل کھاتے ہیں۔

اس تعلق سے چند اشکالات یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:

یہ بات بھلا کیسے باور کی جاسکتی ہے، کہ ایک شخص نے کسی بیوہ یا مطلقہ عورت سے شادی کرلی ہو، اور تفصیلی روایتوں کے مطابق وہ ایک جنگی مہم سے لوٹتے ہوئے اپنی بیوی سے ملنے کے لیے بیتاب ہو، اور اللہ کے رسول اس کے شوق کو سرد کردینے اور اس کو افسوس سے دوچار کردینے والی بات کہیں، اور اس بات کے لیے ایسی تعبیر اختیار کریں کہ وہ اپنی موجودہ بیوی کی طرف رغبت کھودے، اور کنواری کی حسرت میں ہاتھ ملے۔

غور طلب بات یہ بھی ہے کہ ملاعبت ومضاحکت کا تعلق عورت کے کنوارپن سے ہے، یا اس کی طبیعت اور مزاج اور کسی قدر اس کی عمر سے ہے، ایک عورت جو شادی کے کچھ ہی عرصے بعد طلاق یافتہ یا بیوہ ہوجائے، کیا وہ ملاعبت اور مضاحکت کی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتی ہے؟؟ یہ بات کوئی ایسا شخص تو کہہ سکتا ہے جو شادی کے تجربے سے ابھی نہیں گزرا ہو، ایک تجربہ کار اور حکیم شخص ایسی بات کہہ ہی نہیں سکتا ہے۔

اللہ کے رسول کی ایک كے علاوه تمام بیویاں ثیب تھیں، ایسی صورت میں اس طرح کی تعلیمات خود ان ازواج مطہرات کی دل شکنی کا سبب ہوسکتی تھیں۔

پھر جب ایک شخص کی شادی ثيب كے ساتھ ہوچکی، تو اس طرح کی بات اس سے کہنے کا کیا فائدہ ہوسکتا تھا؟

یہاں یہ بتانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ صحیح بخاری اور سنن نسائی کی بعض روایتوں میں یہ واقعہ اس جملے کے بغیر مذکور ہے، اگر ان روایتوں کو درست مان لیا جائے، اور زیر بحث جملے کو غیر محفوظ اضافہ مان لیا جائے تو یہ پورا واقعہ شان رسالت کے مطابق ہوجاتا ہے، یہ بات حسب ذیل دونوں روایتوں میں دیکھی جاسکتی ہے:

عن جابر رضي اللہ عنہ، قال: أصيب عبد اللہ، وترك عيالا ودينا، فطلبت إلی أصحاب الدين أن يضعوا بعضا من دينہ فأبوا، فأتيت النبي صلی اللہ عليہ وسلم، فاستشفعت بہ عليھم، فأبوا، فقال: «صنف تمرك كل شيء منہ علی حدتہ، عذق ابن زيد علی حدۃ، واللين علی حدۃ، والعجوۃ علی حدۃ، ثم أحضرھم حتی آتيك»، ففعلت، ثم جاء صلی اللہ عليہ وسلم فقعد عليہ، وكال لكل رجل حتی استوفی، وبقي التمر كما ھو، كأنہ لم يمس، وغزوت مع النبي صلی اللہ عليہ وسلم علی ناضح لنا، فأزحف الجمل، فتخلف علي، فوكزہ النبي صلی اللہ عليہ وسلم من خلفہ، قال: «بعنيہ ولك ظھرہ إلی المدينۃ»، فلما دنونا استأذنت، قلت: يا رسول اللہ، إني حديث عھد بعرس، قال صلی اللہ عليہ وسلم: " فما تزوجت: بكرا أم ثيبا "، قلت: ثيبا، أصيب عبد اللہ، وترك جواري صغارا، فتزوجت ثيبا تعلمہن وتؤدبھن، ثم قال: «ائت أھلك»، فقدمت، فأخبرت خالي ببيع الجمل، فلامني، فأخبرتہ بإعياء الجمل، وبالذي كان من النبي صلی اللہ عليہ وسلم ووكزہ إياہ، فلما قدم النبي صلی اللہ عليہ وسلم غدوت إليہ بالجمل، فأعطاني ثمن الجمل والجمل، وسھمي مع القوم. صحيح البخاري (3/ 119) باب الشفاعۃ فی وضع الدین
فلما قضينا غزاتنا ودنونا استأذنتہ بالتعجيل، فقلت: يا رسول اللہ، إني حديث عھد بعرس، قال: «أبكرا تزوجت أم ثيبا؟»، قلت: بل ثيبا يا رسول اللہ، إن عبد اللہ بن عمرو أصيب، وترك جواري أبكارا، فكرھت أن آتيھن بمثلھن، فتزوجت ثيبا تعلمھن وتؤدبھن، فأذن لي، وقال لي: «ائت أھلك عشاء». فلما قدمت، أخبرت خالي ببيعي الجمل فلامني، فلما قدم رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم غدوت بالجمل، فأعطاني ثمن الجمل والجمل، وسہما مع الناس. سنن النسائي (7/ 298)

دوسری روایت

مذکورہ بالا روایت تو ایک خاص واقعہ کو بیان کرتی ہے،  البتہ اس کے علاوہ ایک اور روایت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے عمومی ہدایت دی تھی کہ لوگ کنواری لڑکیوں سے شادی کریں، روایت میں کنواری لڑکیوں سے شادی کے فائدے بھی مذکور ہیں، یہ روایت مختلف طرق سے آئی ہے اور ان میں مختلف طرح کے فائدے وارد ہوئے ہیں۔ سند کے لحاظ سے روایت بمشکل حسن کے درجے تک پہونچ پاتی ہے، جب کہ متن کے الفاظ میں خاصا اختلاف ہے۔

ذیل میں اس روایت کے مختلف الفاظ ذکر کیے جارہے ہیں:

«عليكم بالأبكار، فإنھن أعذب أفواھا، وأنتق أرحاما، وأرضی باليسير» سنن ابن ماجہ (1/ 598)
عليكم بالأبكار فانكحوھن، فإنھن أفتح أرحاما، وأعذب أفواھا، وأغر غرۃ. مصنف عبد الرزاق الصنعاني (6/ 159)
عليكم بالأبكار، فإنھن أنتق أرحاما، وأعذب أفواھا، وأقل خبا، وأرضی باليسير. المعجم الأوسط (7/ 344)
عليكم بأبكار النساء؛ فإنھن أعذب أفواھا، وأسخن جلودا. سنن سعيد بن منصور (1/ 170)
عليكم بالجواري الشباب؛ فإنھن أطيب أفواھا، وأغر أخلاقا، وأفتح أرحاما، ألم تعلموا أني مكاثر. سنن سعيد بن منصور (1/ 170)
عليكم بالأبكار فإنھن أعذب أفواھا وأنتق أرحاما وأسخن إقبالا وأرضی باليسير من العمل. الطب النبوي لأبي نعيم الأصفھاني (2/ 472)

بعض روایتوں میں یہ قول کسی صحابی کی طرف منسوب کیا گیا ہے جیسے:

قال عمر بن الخطاب: «عليكم بالأبكار من النساء، فإنھن أعذب أفواھا، وأصح أرحاما، وأرضی باليسير» مصنف ابن أبي شيبۃ (4/ 52)
قال عبداللہ بن مسعود: عليكم بالأبكار، فإنھن أشد ودا وأقل خبا. المخلصيات (4/ 112)

ان روایتوں کے سلسلے میں علامہ البانی کا يه تبصرہ دلچسپ ہے:

کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث ان تمام طرق کے مجموع کی بنا پر حسن ہے، کیونکہ بعض طرق زیادہ ضعیف نہیں ہیں۔

من الممكن أن يقال: بأن الحديث حسن بمجموع ھذہ الطرق، فإن بعضھا ليس شديد الضعف. سلسلۃ الأحاديث الصحيحۃ وشيء من فقھھا وفوائدھا (2/ 195)

ان بیانات کو پڑھنے کے بعد ایک شخص کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا واقعی مذکورہ روایتوں میں کنواری عورت کی جو خصوصیات مذکور ہیں، ان کا تعلق کنوارپن سے ہے؟ اور کیا ایسا ہے کہ غیر کنواری ہونے یا شوہر سے محروم ہوجانے سے یہ اوصاف ختم ہوجاتے ہیں یا کم ہوجاتے ہیں؟؟

یا ایسا ہے کہ ان اوصاف کا تعلق عورت کے مزاج وطبیعت اور کسی حد تک اس کی عمر سے ہے؟

بعض لوگوں نے تو کنوارپن کی قصیدہ خوانی میں خیالات کی دنیا میں دور تک سیر کی ہے، البتہ اتنا کرم کیا ہے کہ اپنی دلچسپ دریافتوں کو اللہ کے رسول کی طرف منسوب نہیں کیا، اس کی ایک مثال درج ذیل ہے:

وقال بعض أھل العلم: عليكم بالأبكار، فإنھن ألين أبشارا، وأعذب أفواھا، وأسخن أقبالا، وأفتح أرحاما، وأكثر أولادا، وأعز أخلاقا، وأكثر ودا، وأقل خلافا، وأبعدہ غشا، وأحناہ علی بعل، وأعطفہ علی ولد، وألطفہ بأھل، وھي خير الدنيا والآخرۃ، أما الدنيا لذاتھن ، وأما الآخرۃ فلأولادھن. المخلصيات (4/ 112)

تیسری روایت

بانجھ خاتون سے شادی کی ممانعت بھی اسلامی لٹریچر میں بہت مشہور ہوئی ہے، سنن نسائی میں تو ایک باب کا عنوان ہی ہے كراهيۃ تزويج العقيم، جس کے تحت انہوں نے درج ذيل روایت ذکر کی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر پوچھا کہ میرے پیش نظر ایک عورت ہے جو حسب ونسب اور رتبے والی ہے، لیکن وہ بچے نہیں جنتی ہے، کیا میں اس سے شادی کرلوں، اس نے تین بار پوچھا آپ نے ہر بار منع فرمایا اور پھر کہا: زیادہ بچے جننے والی اور زیادہ محبت کرنے والی سے شادی کرو، کیونکہ میں تم کو دوسری امتوں سے زیادہ تعداد میں دیکھنا چاہتا ہوں۔

عن معقل بن يسار، قال: جاء رجل إلی رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم، فقال: إني أصبت امرأۃ ذات حسب ومنصب، إلا أنھا لا تلد، أفأتزوجھا؟ فنھاہ، ثم أتاہ الثانيۃ، فنھاہ، ثم أتاہ الثالثۃ، فنھاہ، فقال: «تزوجوا الولود الودود، فإني مكاثر بكم» سنن النسائي (6/ 65)

مصنف عبدالرزاق کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

ایک شخص نے کہا ایک اللہ کے نبی میری چچا زاد بہن ہے، وہ بانجھ ہے اور میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا اس سے نکاح مت کرو، مختلف مجلسوں میں اس نے دوسری اور تیسری بار پوچھا، اور ہر بار آپ یہی فرماتے رہے، اس سے نکاح مت کرو۔ پھر نبی ﷺ نے کہا: بچے نہیں جننے والی حسین وجمیل عورت سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ بچے جننے والی سیاہ فام عورت سے شادی کرلو۔

قال: أخبرت أن رجلا قال: يا نبي اللہ، إن لي ابنۃ عم عاقرا، فأردت أن أنكحھا قال: «لا تنكحھا»، ثم عاد الثانيۃ والثالثۃ في مجالس شتی، فكل ذلك يقول النبي صلی اللہ عليہ وسلم: «لا تنكحھا»، ثم قال النبي صلی اللہ عليہ وسلم: «أن تنكح سوداء ولودا، خير من أن تنكحھا حسناء جملاء لا تلد» مصنف عبد الرزاق الصنعاني (6/ 161)

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گياره ازواج میں سےصرف حضرت خدیجہ اور حضرت ماریہ سے اولاد ہوئی تھی، دوسری طرف یہ بھی یاد رہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت زکریا کی بیویوں کے بانجھ ہونے کا ذکرصاف صاف قرآن مجید میں موجود ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ کیا کسی عورت کا بانجھ ہونا ایسی بات ہے کہ شریعت میں اس سے نکاح کو مکروہ قرار دے دیا جائے۔

اس سلسلے میں بعض لوگوں نے ایک واقعہ حضرت عمر کی طرف منسوب کیا ہے، دل يہ قبول کرنے کو ہرگز تیار نہیں کہ حضرت عمر جیسی عظیم شخصیت سے اس طرح کے رویہ کا صدور ہوسکتا ہے۔

تزوج عمر بن الخطاب - رَضِيَ اللَّہُ عَنْہ - امرأۃ ثم دخل علی حفصۃ ابنتہ فرفتہ ودعت لہ بالبركۃ وقالت: أما إنھا لا ولد فيھا، فقال: ما نكحت إلا للولد، ثم خرج من عند حفصۃ فأرسل إليھا بالطلاق من ساعتہ، ولم يكن دخل بھا.  البيان والتحصيل (4/ 363)

عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کی، پھر اپنی بیٹی حفصہ کے پاس گئے، انہوں نے خیر وبرکت کی دعا کی، اور کہا البتہ وہ عورت بانجھ ہے، انہوں نے کہا میں نے تو بس اولاد کے لیے شادی کی، پھر وہ حفصہ کے یہاں سے نکلے اور فورا اس کے پاس طلاق بھیج دی۔ اس وقت تک انہوں نے اس کے ساتھ ہم بستری نہیں کی تھی۔

چوتھی روایت

ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رشتوں کے انتخاب میں نسب اور پیشے کا لحاظ بھی مطلوب ہے۔ روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عرب ایک دوسرے کے برابر ہیں، قبیلہ قبیلے کے اور آدمی آدمی کے برابر ہے۔ اور غیر عرب ایک دوسرے کے برابر ہیں، قبیلہ قبیلے کے اور آدمی آدمی کے۔ سوائے بنکر اور نائی کے۔

عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: " العرب بعضھم أكفاء لبعض قبيلۃ بقبيلۃ، ورجل برجل والموالي بعضھم أكفاء لبعض قبيلۃ بقبيلۃ، ورجل برجل، إلا حائك أو حجام۔ السنن الكبری للبيھقي (7/ 217)

محققین نے اس روایت پر عام طور سے کلام کیا ہے، اس کے سلسلے میں علامہ البانی کا رجحان یہ ہے کہ اس روایت کو موضوع مانا جائے، ان کے الفاظ ہیں:

وجملۃ القول أن طرق الحديث أكثرھا شديدۃ الضعف , فلا يطمئن القلب لتقويتہ بھا , لاسيما وقد حكم عليہ بعض الحفاظ بوضعہ كابن عبد البر وغيرہ , وأما ضعفہ فھو فی حكم المتفق عليہ , والقلب إلی وضعہ أميل , لبعد معناہ عن كثير من النصوص الثابتۃ.  إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل (6/ 270)

علامہ ابن قدامہ کا درج ذیل اقتباس کچھ غور طلب پہلو ہمارے سامنے لاتا ہے، وہ پیشے میں کفاءت کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ امام احمد سے اس بارے میں دو روایتیں منقول ہیں، ایک یہ کہ اس کا اعتبار شرط ہے، اور جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سلسلے میں جو حدیث ہے اسے تو آپ ضعیف مانتے ہیں، پھر آپ کیسے اس میں مذکور بات کو اختیار کرتے ہیں، انہون نے کہا عمل اسی پر ہے، یعنی یہ روایت رواج کے مطابق ہے۔

فأما الصناعۃ، ففيھا روايتان أيضا؛ إحداھما، أنھا شرط، فمن كان من أھل الصنائع الدنيئۃ، كالحائك، والحجام، والحارس، والكساح، والدباغ، والقيم، والحمامي، والزبال، فليس بكفء لبنات ذوي المروءات، أو أصحاب الصنائع الجليلۃ، كالتجارۃ، والبنايۃ؛ لأن ذلك نقص في عرف الناس، فأشبہ نقص النسب، وقد جاء في الحديث: «العرب بعضھم لبعض أكفاء، إلا حائكا، أو حجاما» . قيل لأحمد - رحمہ اللہ -: وكيف تأخذ بہ وأنت تضعفہ؟ قال: العمل عليہ. يعني أنہ ورد موافقا لأھل العرف. وروي أن ذلك ليس بنقص، ويروی نحو ذلك عن أبي حنيفۃ لأن ذلك ليس بنقص في الدين، ولا ھو لازم، فأشبہ الضعف والمرض.المغني لابن قدامۃ (7/ 38)

امام احمد سے منسوب مذکورہ بالا بیان سے معلوم ہوا کہ اونچ نیچ کے جن جاہلانہ تصورات کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کرنے کی سعی کی تھی، وہ جلد ہی ایک معاشرتی عرف ورواج بن کر دوبارہ لوگوں پر مسلط ہوگئے، صرف سیاسی سطح پر خلافت ملوکیت میں تبدیل نہیں ہوئی، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی زوال اور پستی سے امت دوچار ہوئی۔عہد رسالت میں جو مسلمہ ضابطے تھے، وہی بعد کے ادوار میں اجنبیت کا سامنا کرنے لگے، یہاں تک کہ فقہاء بھی معاشرتی زوال کے اس نئے عرف کا لحاظ کرنے پر مجبور ہوگئے۔

نسب اور پیشے میں کفاءت کے تعلق سے جو روایت ہے وہ تو نہایت ضعیف درجے کی ہے،  اس کے برعکس ایک روایت ہے جس میں سب کے برابر ہونے کا ذکر ہے، وہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے حوالے سے معجم ابن الاعرابی میں مذکور ہے، اور مزاج شریعت کے عین مطابق ہے۔

روایت کے مطابق نبی ﷺ نے فرمایا:

عن عائشۃ، أن النبي صلی اللہ عليہ وسلم قال: الناس أكفاء , العرب والموالي أكفاء, القبيل بالقبيل، والرجل بالرجل. معجم ابن الأعرابي (3/ 953)

لوگ ایک دوسرے کے کفو ہیں، عرب اور غیر عرب ایک دوسرے کے کفو ہیں، قبیلے قبیلے برابر اور آدمی آدمی برابر۔

پانچویں روایت

کسی خاتون سے رشتہ کرتے وقت یہ اطمینان کرلینا بہتر بتایا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی جسمانی کمی یا عیب نہ ہو، اس سلسلے میں ایک روایت ذکر کی جاتی ہے جس میں مذکور واقعہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ معمولی سے معمولی عیب کو بھی اپنے علم میں لاکر انتخاب کا فیصلہ کرنا چاہئے، اس واقعہ میں ایک بہت ہی معمولی عیب کے سلسلے میں ہوشیار کیا گیا ہے، یہ واقعہ تین طرح سے بیان کیا جاتا ہے، سند کے لحاظ سے تینوں روایتیں مضبوط بتائی جاتی ہیں، لیکن ان کے متن ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہیں، ہم یہاں تینوں طرح کے متن ذکر کریں گے:

پہلا متن: ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا، ایک آدمی آیا اور آپ کو بتایا کہ اس نے نے انصار کی ایک خاتون سے شادی کرلی ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے پوچھا، کیا تم نے اسے دیکھا؟ اس نے کہا نہیں، آپ نے کہا: جاؤ اور اسے دیکھو، کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔

عن أبي ھريرۃ، قال: كنت عند النبي صلی اللہ عليہ وسلم، فأتاہ رجل فأخبرہ أنہ تزوج امرأۃ من الأنصار، فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «أنظرت إليھا؟»، قال: لا، قال: «فاذھب فانظر إليھا، فإن في أعين الأنصار شيئا» صحيح مسلم (2/ 1040)

دوسرا متن: ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے انصار کی ایک خاتون سے شادی کی ہے، نبی ﷺ نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا؟ کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے، اس نے کہا میں دیکھ چکا ہوں۔ 

عن أبي ھريرۃ، قال: جاء رجل إلی النبي صلی اللہ عليہ وسلم، فقال: إني تزوجت امرأۃ من الأنصار، فقال لہ النبي صلی اللہ عليہ وسلم: «ھل نظرت إليھا؟ فإن في عيون الأنصار شيئا» قال: قد نظرت إليھا...الحديث صحيح مسلم (2/ 1040)

تیسرا متن: ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا، نبی ﷺ نے کہا، اسے دیکھ لو، کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔

عن أبي ھريرۃ، أن رجلا أراد أن يتزوج امرأۃ، فقال النبي صلی اللہ عليہ وسلم: «انظر إليھا، فإن في أعين الأنصار شيئا» سنن النسائي (6/ 77)

پہلی اور دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے شخص نے شادی کرلی تھی، جبکہ تیسری روایت کہتی ہے کہ شادی کرنے کا ارادہ تھا، پہلی روایت بتاتی ہے کہ اس نے بغیر دیکھے شادی کی تھی، دوسری روایت بتاتی ہے کہ اس نے دیکھ کر شادی کی تھی۔ پہلی اور تیسری روایت میں ’’انظر الیھا‘‘ ہے، جبکہ دوسری روایت میں صرف ’’ھل نظرت الیھا‘‘ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ تینوں روایتیں ایک ہی صحابی حضرت ابوہریرہ سے مروی ہیں۔

تینوں روایتوں میں جب اتنا زیادہ تضاد آمیز اختلاف ہو، تو یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ واقعہ محفوظ طریقے سے ہم تک نہیں پہونچا ہے۔ تینوں روایتوں کا اس پر اتفاق ضرور ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے، فإن في عيون الأنصار شيئا۔ روایت میں آنکھوں کی کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ اس کے بارے میں امام نووی کہتے ہیں: اس سے مراد آنکھوں کا چھوٹا ہونا، اور ایک قول کے مطابق اس میں نیلا پن ہونا ہے: الْمُرَادُ صِغَرٌ وَقِيلَ زُرْقَۃ۔ شرح النووي علی مسلم (9/210)

سوال یہ ہے کہ انصار کا اطلاق تو مدینے کے تمام خاندانوں پر ہوتا ہے، وہاں اوس اور خزرج دو بڑے قبیلے تھے، اور ان قبیلوں میں بہت سارے خاندان تھے، ایسے میں آنکھوں کا وہ عیب کسی ایک خاندان کی آنکھ میں تھا، یا انصار کی تمام خواتین میں وہ بات تھی؟  پھر کیا یہ انصار کے لیے دل شکنی کی بات نہیں تھی، کہ آپ مردوں کے اتنے زیادہ خیرخواہ ہوجائیں کہ مدینے کے تمام انصار کی خواتین کے سلسلے میں لوگوں کو متنبہ کردیں۔ اور ہر کوئی اس بارے میں محتاط ہوجائے؟ جبکہ دوسری طرف آپ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ نے قریش کی خواتین کی بھرپور تعریف کی تھی، ذیل کی روایت ملاحظہ ہو:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹ پر سوار ہونے والی بہترین عورتیں قریش کی نیک عورتیں ہیں، چھوٹے بچے کو سب سے زیادہ دلار کرنے والیاں، اور شوہر کی چیزوں کی سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والیاں۔

عن أبي ھريرۃ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «خير نساء ركبن الإبل، صالح نساء قريش أحناہ علی ولد في صغرہ، وأرعاہ علی زوج في ذات يدہ» صحيح البخاري (4/ 164) صحيح مسلم (4/ 1959)

سوچیں، یہ کیسے باور کیا جائے کہ مکہ سے ہجرت کرکے آپ مدینہ میں انصار کے ساتھ رہ رہے ہوں، اور انصار کی خواتین کے عیب کو دوسروں کے سامنے ذکر فرمائیں، اور دوسری طرف قریش کی خواتین کی خوبیوں کے بیان میں دریادلی کا مظاہرہ کریں۔

اس سب کے علاوہ غور طلب امر یہ بھی ہے کہ اگر انصار کی خواتین کی آنکھ میں کچھ تھا، تو ان کی اس جسمانی خامی کے باوجود ان کی شادی کیسے آسانی سے ہو، اس کے سلسلے میں بھی تو آپ کو فکرمند ہونا تھا، اور اس کا بہتر انتظام کرنا تھا۔

یہاں یہ بات بھی غورطلب ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو شادی کے سیاق میں لڑکی کو دیکھنے کی ترغیب دیتے تھے تو اس کا مقصد کیا ہوتا تھا؟

بعض روایتوں کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کے اندر شادی کی رغبت بڑھے اور شادی کے لیے فیصلہ کرنے میں آسانی پیدا ہو، کیونکہ اللہ تعالی نے عام طور سے عورتوں کے اندر مردوں کے لیے جاذبیت کے بہت سارے پہلو رکھے ہیں، اور جب کوئی مرد کسی عورت کو دیکھتا ہے تو جاذبیت کا کوئی نہ کوئی پہلو اس کو متاثر کردیتا ہے، اور اس کے لیے شادی کا فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

سنن ابوداود کی درج ذیل روایت کو علامہ البانی نے حسن قرار دیا ہے، اس کے الفاظ اسی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگوں کے اندر شادی کے سلسلے میں ایک خوف اور تردد کی کیفیت ہوتی ہے، اور ان کے خوف اور تردد کو دور کرنے کی یہ ایک مناسب شکل ہوسکتی ہے۔

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص خاتون کو پیغام دے، تو اگر وہ اس میں کچھ ایسا دیکھ سکے جس سے اس سے شادی کی رغبت بڑھ جائے، تو وہ ایسا ضرور کرے۔ جابر کہتے ہیں: میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا، پھر چھپ کر اسے دیکھنے لگا، تو اس میں ایسی چیز دیکھ لی جس سے اس سے شادی کرنے میں رغبت بڑھ گئی، تو میں نے اس سے شادی کرلی۔

عن جابر بن عبد اللہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: «إذا خطب أحدكم المرأۃ، فإن استطاع أن ينظر إلی ما يدعوہ إلی نكاحھا فليفعل»، قال: فخطبت جاريۃ فكنت أتخبأ لھا حتی رأيت منھا ما دعاني إلی نكاحھا وتزوجھا فتزوجتھا۔ سنن أبي داود (2/ 229)

تعلیمات نبوی کی رو سے شادی سے پہلے لڑکی کو دیکھنے کا مقصد لڑکی مں کیڑے نکالنا اور خوب صورتی کو یقینی بنانا نہیں ہے، نہ یہ تحقیق کرنا ہے کہ لڑکی کے اندر وہ کیا  کمیاں ہیں، جن کی بنیاد پر اس کو رد کیا جائے، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اس کے اندر وہ کون سا پرکشش پہلو ہے جس کی بنیاد پر اس سے رشتہ کرنے کی ترغیب مل سکے۔ اس روایت کو سامنے رکھنے کے بعد خیال ہوتا ہے کہ ممکن ہے، اوپر کی روایت میں فإن في أعين الأنصار شيئا سے مراد بھی انصار کی آنکھوں کی کسی خوبی کی طرف اشارہ مقصود ہو، جسے دیکھ کر ان سے شادی کرنے کی رغبت بڑھ جائے۔خود روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے دیکھنے کے بعد بھی شادی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

رشتوں کے انتخاب کا معیار ہمارے فقہی لٹریچر میں

اگر بات کچھ روایتوں تک محدود رہتی تو بھی غنیمت تھا، لیکن اس سے آگے فقہاء کے یہاں جاکر وہ شریعت کا ایک ضابطہ بنادی گئی، چانچہ مختلف مسالک کے فقہاء نے ان روایتوں میں مذکور جملہ امور کی رعایت کو شرعا مطلوب ومستحب قرار دیا، اور فقہ کی کتابوں میں یہ درج کیا گیا کہ مطلوب ومستحب یہ ہے کہ لڑکی دیندار ہو، کنواری ہو، زیادہ بچے جننے کے لیے معروف ہو، خوبصورت ہو، ذہین ہو، حسب ونسب والی ہو، اور اجنبی ہو قریبی رشتے دار نہ ہو۔ علامہ ابن قدامہ کی درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو اس عبارت میں ہر جزئیہ کی دلیل اختصار کی غرض سے حذف کردی گئی ہے:

ويستحب لمن أراد التزوج أن يختار ذات الدين... ويختار البكر ... ويستحب أن تكون من نساء يعرفن بكثرۃ الولادۃ ... ويختار الجميلۃ... ويختار ذات العقل، ويجتنب الحمقاء... ويختار الحسيبۃ ... ويختار الأجنبيۃ... المغني لابن قدامۃ (7/ 108)

فقہاء کرام نے اس پر بھی توجہ دی کہ اگر ان مطلوبہ اوصاف میں تعارض ہو جائے تو ترجیحی ترتیب کیا ہونا چاہئے، اس سلسلے میں علامہ سلیمان بجیرمی لکھتے ہیں:

مذکورہ صفات میں تعارض کی صورت میں زیادہ مناسب ہے کہ دیندار کو مطلق ترجیح دی جائے، پھر عقل اور حسن اخلاق کو، پھر نسب کو، پھر کنوارے پن کو، پھر بچے جننے کو، پھر اس کے اجتہاد کے مطابق جس امر میں مصلحت زیادہ نمایاں ہو۔

ولو تعارضت تلك الصفات فالأوجہ تقديم ذات الدين مطلقا ثم العقل وحسن الخلق ثم النسب ثم البكارۃ ثم الولادۃ ثم الجمال ثم ما المصلحۃ فيہ أظھر بحسب اجتھادہ. حاشيۃ البجيرمي علی الخطيب (3/ 363)

امام احمد کی طرف اس سلسلے میں ایک عجيب بات منسوب ہے، علامہ منصور بہوتی لکھتے ہیں:

قال أحمد إذا خطب رجل امرأخ سأل عن جمالھا أولا فإن حمد سأل عن دينھا فإن حمد تزوج وإن لم يحمد يكون ردا لأجل الدين ولا يسأل أولا عن الدين فإن حمد سأل عن الجمال فإن لم يحمد ردھا للجمال لا للدين. شرح منتھی الإرادات (2/ 623)

احمد نے کہا: جب آدمی عورت کو پیغام دے، تو سب سے پہلے اس کی خوب صورتی کے بارے میں معلوم کرے، تو اگر جمال کی تعریف سنے تو اس کی دینداری کے بارے میں پوچھے، تو اگر اس کی بھی تعریف ہو تو شادی کرلے، اور اگر تعریف نہ ہو تو اس کا رد کرنا دینداری کی خاطر ہوگا۔ اور وہ پہلے دینداری کے بارے میں نہ پوچھے، کیونکہ اس کی تعریف ہوگئی تو وہ خوب صورتی کے بارے میں پوچھے گا، اور تعریف نہیں ہونے کی صورت اگر رد کرے گا، تو وہ رد کرنا خوب صورتی کی خاطر ہوگا نہ کہ دینداری کی خاطر۔ (اور یہ گویا مناسب بات نہیں ہوگی)

حنفی فقیہ علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں:

ويتزوج امرأۃ صالحۃ معروفۃ النسب والحسب والديانۃ فإن العرق نزاع ويجتنب المرأۃ الحسناء في منبت السوء، ولا يتزوج امرأۃ لحسبھا، وعزھا، ومالھا وجمالھا فإن تزوجھا لذلك لا يزاد بہ إلا ذلا، وفقرا ودناءۃ ويتزوج من ھي فوقہ في الخلق والأدب والورع والجمال ودونہ في العز والحرفۃ والحسب والمال والسن والقامۃ فإن ذلك أيسر من الحقارۃ والفتنۃ، ويختار أيسر النساء خطبۃ، ومؤنۃ۔ ونكاح البكر أحسن للحديث «عليكم بالأبكار فإنھن أعذب أفواھا، وأنقی أرحاما، وأرضی باليسير» ، ولا يتزوج طويلۃ مھزولۃ، ولا قصيرۃ ذميمۃ، ولا مكثرۃ، ولا سيئۃ الخلق، ولا ذات الولد، ولا مسنۃ للحديث «سوداء ولود خير من حسناء عقيم» ، ولا يتزوج الأمۃ مع طول الحرۃ، ولا حرۃ بغير إذن وليھا لعدم الجواز عند البعض، ولا زانيۃ. البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 86)

نیک عورت اور حسب ونسب اور دینداری میں معروف عورت سے شادی کرے، کیونکہ نسل کا اثر آتا ہے، اور برے خاندان کی خوب صورت عورت سے بچے، اور کسی عورت سے اس کے حسب، اس کی شوکت، اس کے مال اور اس کے جمال کی خاطر شادی نہ کرے، اگر ایسا کیا تو ایسی شادی سے اس کی ذلت محتاجی اور ذلت ہی میں اضافہ ہوگا، اور اس عورت سے شادی کرے جو اخلاق ادب پرہیزگاری اور حسن میں اس سے بڑھ کر ہو، اور شوکت اور پیشہ اور حسب اور مال اور عمر اور قد میں اس سے کم تر ہو، یہ بے عزتی اور فتنے میں پڑنے سے بہتر ہے۔۔ اور وہ عورت منتخب کرے جس سے شادی کرنا اور اس کا خرچ اٹھانا آسان ہو۔ اور کنواری سے نکاح کرنا زیادہ اچھا ہے، اس حدیث کی بنا پر کہ : (کنواریوں سے شادی کرو، وہ شیریں دہن، پاکیزہ رحم، اور کم پر قناعت گزار ہونے میں آگے ہوتی ہیں)۔ اس سے شادی نہ کرے جو لمبی اور نحیف ہو، یا پستہ قد اور بدنما ہو، یا زیادہ خرچ کرنے والی ہو، یا بد اخلاق ہو، یا اولاد والی ہو، یا بوڑھی ہو، کیوں کہ حدیث ہے: (بچے جننے والی کالی بانجھ حسینہ سے بہتر ہے) اور آزاد عورت کی استطاعت رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح نہ کرے، اور ولی کی اجازت کے بنا آزاد سے شادی نہ کرے، کیوں کہ بعض لوگوں کے یہاں یہ جائز نہیں ہے، اور نہ زانیہ سے نکاح کرے۔

صورت حال تشویش ناک اور توجہ طلب ہے

اگر کوئی فرد اپنے ذوق کی بنا پر کنواری کو غیر کنواری پر ترجیح دیتا ہے، یا اولاد کے شوق میں بانجھ کے مقابلے میں جننے والی کو پسند کرتا ہے، یا انتخاب میں رنگ اور اور شکل کے کسی خاص زاوئے کا لحاظ کرتا ہے، یا کسی خاص تعلق کی بنا پر کسی خاص خاندان یا قوم کی لڑکی کو اولیت دیتا ہے تو یہ کوئی ناپسندیدہ بات نہیں ہے، اور اس میں کوئی معاشرتی مضرت بھی نہیں ہے۔ تاہم اگر ان امور کا اشتہار شروع ہوجائے، اور وہ معاشرے میں انتخاب کے پسندیدہ پیمانے قرار دئے جانے لگیں، تو اس کے منفی اثرات معاشرے پر پڑیں گے، اور ان خواتین کی صریح حق تلفی ہوگی جن کے دامن نصیب ان اوصاف سے خالی رہ گئے، یا وہ دوسروں سے پیچھے رہ گئیں۔

لیکن  مسلم معاشرے کے لیے سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس طرح کے اوصاف کو شریعت کا لباس حاصل ہوجائے، اور ان اوصاف کی رعایت کو شرعی طور پر مطلوب ومستحب قرار دے دیا جائے۔ ایسی صورت میں جو کسی بیوہ یا مطلقہ سے شادی کرے گا، اس کو یہ احساس ستائے گا کہ اس نے شرعا مستحب کام نہیں کیا۔ جس کے حصے میں کوئی ایسی عورت آجائے گی جس میں بچے جننے کے تعلق سے کوئی کمی ہو، تو وہ زندگی بھر اس کسک کو محسوس کرے گا کہ اس نے ایک مکروہ عمل کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ اگر معاشرے کے مصلحین یہ محسوس کریں کہ مثال کے طور پر معاشرے میں مطلقہ اور بیوہ عورتوں کی شادی کا مسئلہ سنگين هوتا جارہا ہو، اور وہ اس سلسلے میں کوئی تحریک چلانا چاہیں تو ان کو شرعی اداروں کی طرف سے کوئی مدد ملنے کے بجائے الٹا حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسلامی لٹریچر اور فقہی مراجع سے بھی انہیں مدد ملنے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔

قرآن مجید کی رہنمائی

رشتوں کے انتخاب کا معیار کیا ہو، اس بارے میں قرآن مجید کی ایک آیت سے ہمیں بہت واضح اور فیصلہ کن رہنمائی ملتی ہے، سورہ تحریم میں اللہ تعالی ازواج مطہرات کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اگر نبی تم کو طلاق دے دیں توبهت ممكن هي کہ اللہ تمہاری جگہ انہیں تم سے بہتر بیویاں عطا کردے، جو مسلمہ ہوں، مومنہ ہوں، قانتہ ہوں، تائبہ ہوں، عابدہ ہوں، سائحہ ہوں، اور غیر کنواری بھی ہوں اور کنواری بھی ہوں۔

{ عَسَی رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا } [التحريم: 5]

مفسرین کو اس مقام پر سخت حیرانی ہوئی، کہ جب موجودہ بیویوں کی نعم البدل بیویوں کی بات کی جارہی ہے تو ثیبات کا ذکر کیوں کیا گیا، صرف کنواری کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا، مردوں کی رغبت تو کنواری عورت کی طرف زیادہ ہوتی ہے، اور کسی کا ثیب ہونا تو ایک عیب قرار پاتا ہے، اس حیرانی کو دور کرنے کے لیے امام رازی نے عجیب وغریب بات کہی:

ذكر الثيبات في مقام المدح وھي من جملۃ ما يقلل رغبۃ الرجال إليھن. نقول: يمكن أن يكون البعض من الثيب خيرا بالنسبۃ إلی البعض من الأبكار عند الرسول لاختصاصھن بالمال والجمال، أو النسب، أو المجموع مثلا، وإذا كان كذلك فلا يقدح ذكر الثيب في المدح لجواز أن يكون المراد مثل ما ذكرناہ من الثيب. تفسير الرازي (30/ 571)

ثیبات کو مدح کے مقام میں ذکر کیا گیا، حالانکہ ان کی طرف تو مردوں کی رغبت کم ہوتی ہے، ہم کہتے ہیں: ہوسکتا ہے کہ بعض ثیبات رسول پاک کے نزدیک بعض کنواریوں سے بہتر ہوں مال یا جمال یا نسب یا ان سب کے مجموعے میں خصوصی مقام رکھنے کی وجہ سے، اور اگر ایسا ہے تو ثیبات کو مدح کے مقام پر ذکر کرنے میں کوئی عیب کی بات نہیں ہے، کیوں کہ ہوسکتا ہے ثیبات سے مراد ویسی ثیبات ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا۔

گویا امام صاحب کے لیے یہ ماننا ممکن نہیں تھا، کہ ثیب ہونا ایک خوبی بھی ہوسکتی ہے، یا کم از کم بکر کے درجے کی صفت تو ہوہی سکتی ہے۔

امام ابن کثیر نے اس مشكل کو دوسرے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی ہے، وہ لکھتے ہیں:

وقولہ تعالی: ثيبات وأبكارا أي منھن ثيبات ومنھن أبكارا ليكون ذلك أشھی إلی النفس، فإن التنوع يبسط النفس، ولھذا قال: ثيبات وأبكارا۔ تفسير ابن كثير ط العلميۃ (8/ 188)

کچھ ثیبات اور کچھ کنواریاں ہوں گی کہ یہ نفس کے لیے زیادہ لذت بخش ہے، کیونکہ تنوع سے نفس کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔

امام ابن عاشور نے آیت کی روح  برقرار رکھتے ہوئے دونوں کی خوبیوں پر گفتگو کی ہے، اور واضح کیا ہے کہ دونوں کیفیتیں اپنی اپنی جگہ خوبی قرار پاسکتی ہیں، وہ رقم کرتے ہیں:

ووجہ ھذا التفصيل في الزوجات المقدرات لأن كلتا الصفتين محاسنھا عند الرجال فالثيب أرعی لواجبات الزوج وأميل مع أھوائہ وأقوم علی بيتہ وأحسن لعابا وأبھی زينۃ وأحلی غنجا. والبكر أشد حياء وأكثر غرارۃ ودلا وفي ذلك مجلبۃ للنفس، والبكر لا تعرف رجلا قبل زوجھا ففي نفوس الرجال خلق من التنافس في المرأۃ التي لم يسبق إليھا غيرھم. فما اعتزت واحدۃ من أزواج النبيء صلی اللہ عليہ وسلم بمزيۃ إلا وقد أنبأھا اللہ بأن سيبدلہ خيرا منھا في تلك المزيۃ أيضا. التحرير والتنوير (28/ 362)

آیت مذکورہ سے یہ بات تو بہت واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ قابل ترجیح وانتخاب خاتون دراصل وہ ہے جو دینی اوصاف سے مالا مال ہو، اس کے علاوہ وہ ثیب ہو یا بکر ہو، دونوں ہی موزوں اور لائق انتخاب ہوتی ہیں، شریعت کی نظر میں بھی اور عقل وخرد کی رو سے بھی دونوں میں کسی کو کسی پر ترجیح اور فوقیت حاصل نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے ثیبات کا تذکرہ کرکے بکر کو ثیب پر ترجیح دینے کا ایک ممکنہ راستہ بھی بند کردیا، ورنہ اگر ابکار پہلے ہوتا تو اس کے مقدم ہونے کو اس کی افضلیت پر محمول کیا جاسکتا تھا۔

سورہ احزاب کی آیت نمبر((36 کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ قرطبی بڑی قیمتی اور اہم حقیقت پر سے پردہ اٹھاتے ہیں:

في ھذہ الآيۃ دليل بل نص في أن الكفاءۃ لا تعتبر في الأحساب وإنما تعتبر في الأديان، خلافا لمالك والشافعي والمغيرۃ وسحنون. وذلك أن الموالي تزوجت في قريش، تزوج زيد زينب بنت جحش. وتزوج المقداد بن الأسود ضباعۃ بنت الزبير. وزوج أبو حذيفۃ سالما من فاطمۃ بنت الوليد بن عتبۃ. وتزوج بلال أخت عبد الرحمن بن عوف. تفسير القرطبي (14/ 187)

اس آیت میں صریح دلیل ہے کہ حسب ونسب میں کفاءت معتبر نہیں ہے، بلکہ دین میں کفاءت معتبر ہے، برخلاف مالک شافعی مغیرہ اور سحنون کے۔ اس لیے کہ موالی نے قریش میں شادیاں کیں، زید نے زینب بنت جحش سے، مقداد بن أسود نے ضباعۃ بنت زبیر سے، ابوحذیفہ نے سالم کی شادی فاطمہ بنت ولید بن عقبہ سے کرادی، اور بلال نے عبد الرحمن بن عوف کی بہن سے شادی کی۔

یہی وہ بڑی تبدیلی ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کی اصلاحی جدوجہد کے نتیجے میں ظاہر ہوئی تھی۔ اس روشن تاریخی حقیقت کو بے غبار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

حرف آخر

رشتوں کے معیار انتخاب کے تعلق سے اسلامی لٹریچر میں بہت ساری باتیں ملتی ہیں، فقہاء نے روایات وآثار کی روشنی میں قواعد وضوابط اور آداب ومندوبات پر بھی گفتگو کی ہے، اس باب میں متعدد روایات وآثار ہیں، جن میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس بات پر ہمیں پورا اطمینان ہونا چاہئے کہ صالحیت اور دینداری کو معیار بنانے کا جن روایتوں میں تذکرہ ہے، وہی اس باب میں اصل الاصول کی حیثییت رکھتی ہیں، اور ان کے علاوہ جو روایتیں ہیں، وہ چونکہ اپنے مکمل سیاق کے ساتھ ہم تک نہیں پہونچی ہیں، اس لیے ان کے سلسلے میں توقف کرنا ہی محتاط رویہ ہے۔ ہم روایات کی تصحیح وتضعیف، اور ان کی توجیہ وتاویل سے متعلق جو رویہ بھی اختیار کریں، ہماری نظر سے یہ حقیقت اوجھل نہیں ہونا چاہئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پوری امت کے خیرخواہ اور ہمدرد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی انسانوں سے ہمدردی کی تصویر تھی، اور آپ نے ایسے افراد تیار کئے تھے جو ذاتی مصالح سے زیادہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار تھے، انسانی ہمدردی سیرت طیبہ کا بہت نمایاں امتیاز ہے۔ اس امتیاز پر کوئی آنچ نہیں آئے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

رشتوں کے انتخاب کا معیار ذکر کرتے ہوئے اخلاقی سطح پر دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اول، معیار وہ ہو جو ہر کسی کے لیے قابل حصول ہو، اور اس کے حصول کی سعی کرنا اور اس کے لیے مسابقت کرنا مطلوب اور پسندیدہ بھی ہو۔

دوم، معیار ایسا ہو کہ اس کو طے کرنا، اس کو رواج دینا اور اس کا اشتہار کرنا پورے معاشرے کے لیے خیر وبرکت کا باعث ہو، اور اس میں سب کے ساتھ ہمدردی وغمگساری کا تصور موجود ہو۔

ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے نبی کے امتی ہیں جس کی سیرت پاک میں ہمیں معیار انتخاب کے ان دونوں تقاضوں کا بھرپور خیال اور زبردست لحاظ نظر آتا ہے۔


سیرت و تاریخ

Flag Counter