جولائی ۲۰۱۹ء

جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے حوالے سے داعش کا استدلال

― محمد عمار خان ناصر

دولت اسلامیہ (داعش) کے ترجمان جریدے ’دابق‘ کے ایک حالیہ شمارے میں جنگی قیدیوں کو غلام اور باندی بنانے کے حق میں لکھے جانے والے ایک مضمون میں یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ جس چیز کا جواز اللہ کی شریعت سے ثابت ہے، اس کو انسان تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس طرز استدلال کے حوالے سے معاصر اہل علم کے ہاں مختلف زاویہ ہائے نگاہ دکھائی دیتے ہیں جن پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا: جدید دور میں جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی ممانعت سے اتفاق کرنے والے مسلم فقہاءعموماً اس پابندی کا جواز “معاہدے” کے اصول پر ثابت کرتے ہیں۔ اس موقف کی رو سے غلامی اصلاً اخلاقی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵۵)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(165) جواب امر پر عطف یا مستقل جملہ؟ درج ذیل دونوں آیتوں پر غور کریں، قَاتِلُوہُم یُعَذِّبہُمُ اللَّہُ بِایدِیکُم وَیُخزِھِم وَیَنصُرکُم عَلَیھم وَیَشفِ صُدُورَ قَومٍ مُومِنِینَ۔ وَیُذہِب غَیظَ قُلُوبِہِم وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَن یَشَاء وَاللَّہُ عَلِیم حَکِیم۔(التوبة: 14، 15) قَاتِلُوھُم کے بعد جواب امر ہے، اور اس کے بعد چار جملے ہیں جو جواب امر پر معطوف ہیں، ان کی ہیئت ان کی اعرابی حالت پر واضح دلالت کررہی ہے۔ ان پانچ جملوں کے بعد ایک اور جملہ آتا ہے، وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَن یَشَاء ، اس کے ساتھ بھی واو لگا ہوا ہے، لیکن اس کی ہیئت...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

شیعہ حدیثی ذخیرہ قبل از تدوین (تحریری سرمایہ )۔ دوسری طرف قبل از تدوین اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی تحریری شکل و صورت کا مسئلہ بھی (تقریری و تدریسی صورت کی طرح )خفا کے دبیز پردوں میں لپٹا ہے ،یہ سوال بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ تین صدیوں تک ان ہزارہا روایات(صرف کتب اربعہ کی روایات چالیس ہزار سے زائد ہیں) کا مجموعہ کس طرح اور کس شکل میں محفوظ رہا ؟کتب ِاربعہ کے مصنفین نے جمع روایات میں کن ماخذ و مصادر پر اعتماد کیا ؟ اہل سنت میں صرف ایک صدی کے اندر ساڑھے چار سو مجموعات ِحدیث مرتب ہوتے ہیں ،تو اہل تشیع کے ہاں تین صدیوں میں کتنے مجموعے مرتب ہوئے...

پرامن بقائے باہمی کے لیے اسلام کی تعلیمات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(جامعہ تہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ کے زیر اہتمام ۲۶ جون ۲٠۱۹ء کو منعقدہ الموتمر العالمی للقدرات الاستجراتیجیۃ لتعالیم الاسلامی فی تحقیق التعایش السلمی کے لیے لکھا گیا۔) الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ و السلام علی سید المرسلین وعلی آلہ و اصحابہ واتباعہ اجمعین۔ میں سب سے پہلے جامعہ طہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ اور اس کے رئیس فضلیۃ الشیخ الدکتور مصطفی ذوالفقار طلب حفظہ اللہ تعالی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ارباب ِ علم و دانش کی اس موقر محفل میں مجھے شرکت کا اعزاز بخشا اور عالم ِ اسلام کے سر کردہ علماء...

کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پاکستان کے قیام کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کے ارباب حل و عقد کو سب سے پہلا اور اہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس کا دستور اور نظامِ حکومت کیا ہو گا اور حکمرانی کا حق کسے حاصل ہو گا؟ طاقت کے بل پر کسی کو حکمرانی کا حق دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ برطانوی استعمار کے تسلط سے ملک کی آزادی اور پاکستان کا قیام دونوں جہادِ آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل، رائے عامہ اور جمہوری جد و جہد کا نتیجہ تھے اور اس تسلسل سے انحراف سرے سے ممکن ہی نہیں تھا۔ کسی خاندان کو حکمرانی کا حق دینا اور اقتدار کو اس کا نسل در نسل کا حق تسلیم کر لینا بھی کوئی...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۷)

― محمد عمار خان ناصر

امام شافعیؒ کے موقف کی الجھنیں اور اصولی فکر کا ارتقا۔ امام شافعی کے موقف کی وضاحت میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ ان سے پہلے کتاب وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں جمہور اہل علم کے استدلال کا محوری نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کا مطلق اور حتمی ہونا تھا اور وہ قرآن اور حدیث میں کسی ظاہری مخالفت کی صورت میں حدیث کو قرآن کی تشریح میں فیصلہ کن حیثیت دینے کو اس اتباع واطاعت کے ایک تقاضے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ امام شافعی نے اس بحث میں ایک نہایت اہم نکتے کا اضافہ کیا کہ قرآن میں اسلوب عموم میں بیان کیے جانے والے ہر حکم کا ہر ہر فرد اور ہر ہر صورت...

رشتوں كا معيار انتخاب اور سیرت پاک کی صحیح تصویر

― ڈاکٹر محی الدین غازی

رشتوں کے انتخاب کا معیار کیا ہو؟ اس مسئلہ کی معاشرتی اہمیت ہمیشہ بہت زیادہ رہی ہے، اور اس دور میں تو یہ مسئلہ نہایت سنگین ہوگیا ہے، مادہ پرستی، ظاہر پسندی اور خود ساختہ مثالیت پسندی کے بے تحاشا بڑھتے ہوئے رجحانات نے پورے معاشرے کو اپنے چنگل میں لے لیا ہے، اس صورت حال میں ہر ايک پریشان ہے، اور ہرشخص ایک بے مقصد دوڑ میں شریک ہونے اور اپنی پوری زندگی کو بھاگتے اور ہانپتے ہوئے گزارنے کے لیے مجبور نظر آتا ہے۔ مادہ پرستی اور ظاہر پسندی کی اس دوڑ میں رشتوں کے رائج الوقت انتخابی معیارات کا اہم رول ہوتا ہے، اور ان معیارات کے حصول کے لیے عام طور سے لوگ...

مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۳)

― مراد علوی

مولانا مودودی کا نظریۂ جہاد بنیادی طور پر آپ کی سیاسی فکر سے ماخوذ ہے ۔ اس وجہ سے اس پر سیاسی فکر کا گہرا ثر ہے۔ بالخصوص آپ کا تصورِ ''مصلحانہ جنگ'' اسی سے وجود پذیر ہوا ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ مولانا کی فکر کا جائزہ تاریخی اعتبار سے لیا جانا چاہیے، یعنی یہ کہ مولانا کی آرا میں میں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ زیرِ بحث موضوع میں ہمارے پیشِ نظر سب سے اہم تحریر مولانا کی کتاب''سود'' کا تیسرا ضمیمہ ہے جسے انھوں نے نومبر 1936ء میں لکھا تھا۔ اس میں مولانا نے جہاد کے حوالے سے اپنی قانونی پوزیشن کو واضح کیا ہے، لیکن اس کے بعد لکھی گئی تحریروں میں...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter