مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۳)

مراد علوی

مولانا مودودی کا نظریۂ جہاد بنیادی طور پر آپ  کی سیاسی فکر سے ماخوذ ہے ۔ اس وجہ سے اس  پر سیاسی فکر کا گہرا ثر ہے۔ بالخصوص آپ  کا تصورِ ''مصلحانہ جنگ'' اسی سے وجود پذیر ہوا ہے۔   ہمارا خیال تھا  کہ مولانا کی فکر کا جائزہ تاریخی اعتبار  سے لیا جانا چاہیے، یعنی یہ کہ مولانا کی آرا میں میں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلی آئی  ہے۔  زیرِ بحث موضوع میں ہمارے پیشِ نظر  سب سے اہم تحریر مولانا کی کتاب''سود'' کا تیسرا ضمیمہ ہے جسے انھوں نے نومبر 1936ء میں لکھا تھا۔ اس  میں مولانا نے جہاد کے حوالے سے اپنی قانونی پوزیشن کو واضح کیا ہے، لیکن اس کے بعد لکھی گئی تحریروں میں بعض جگہوں پر وہی موقف پایا جاتا ہے جو ''الجہاد فی الاسلام'' میں  مذکور ہے۔  اس وجہ سےاب ہم مولانا کی فکر کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں : اولا، َ جہاد کی عقلی اور اخلاقی توجیہ، ثانیاَ، قانونی حیثیت۔ تاہم مولانا نے "الجہاد فی اسلام"  اور اپنی تحریکی لٹریچر  میں اصلاَ جہاد کی اخلاقی تشریح بیان کی ہے۔ 1  اس کے ساتھ ہی ساتھ بعض مقامات پر خالص قانونی تناظر میں بھی تعرض کیا ہے۔   ہماری فقہی روایت میں بھی دونوں زاویوں سے بحث موجود ہے ۔  مولانا نے   عقلی زاویۂ نظر سے  یہ تعبیر اختیار کی  ہے کہ اخلاقی طور پر  کفر کو دنیا پر حکومت کی قطعاَ اجازت نہیں ہے۔ مگر دوسری جانب انھوں نے اس موضوع سے قانونی پہلو سے بھی تعرض کیا ہے۔ چنانچہ دونوں کو اپنے در و بست میں دیکھنا چاہیے۔  اسی طرح فقہا کے ہاں جہاد کی اخلاقی توجیہ یہ ہے کہ جہاد کی غایت اعزاز دین  اللہ اور دفع  شر الکفر  اور فتنہ ہیں، لیکن ان کے ہاں قانونی تناظر میں علت القتال کی بحث  2 نے پورے مسئلہ کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ 3 تاہم مولانا کے ڈسکورس میں قانونی نقطۂ نظر کے بجائے اس  دوسرے نقطۂ نگاہ کا غلبہ ہے، اس لیے ان کے ہاں بعض ایسے مسائل در آئے ہیں  جس کی وجہ سے آپ کا موقف سمجھنے میں بیشتر اوقات دقتیں پیش آتی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فقہا کے ہاں بھی یہ بحث اخلاقی اور قانونی دونوں تناظر میں موجود  رہی ہے، اس لیے مولانا مودودی کی فکر کی طرح   اس میں بھی  بعض اہلِ علم  ''ارتقا'' یا تضاد محسوس کرتے ہیں۔4  حالانکہ  فقہی روایت میں کوئی تضاد پایا جاتا ہے اور نہ مولانا مودودی کے نظریہ میں، اصل مسئلہ دونوں پہلوؤں کو اپنے  موقع و محل پر نہ دیکھنے کا ہے ۔ البتہ مولانا نے جہاں اخلاقی توجیہ بیان کی اس میں بعض ایسے مسائل موجود ہیں ، جن کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔  آگے "مصلحانہ جنگ" میں اس کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔

جہاد کی اخلاقی توجیہ

اس ضمن میں سب سے اہم دستاویز"الجہاد فی الاسلام " ہے۔ اس کتاب میں مولانا نے علت القتال (jus ad bellum) میں قانونی پہلو  سے بہت کم تعرض کیا ہے۔ علاوہ ازیں  مولانا کا ایک اور مضمون بہت اہمیت کا حامل ہے،5  جو    اب "جہاد فی سبیل اللہ" کے نام سے مطبوع ہے، اس میں بھی انھوں نے  قانونی نقطۂ نظر  کو زیادہ قابلِ اعتنا نہیں سمجھا ۔ مولانا  نے جہاد کے وجہ جواز  کے لیے مسلمانوں  کو  '' بین الاقوامی انقلابی جماعت  (International Revolutionary Party)اور جہاد کو انقلابی جدوجہد(Revolutionary Struggle) کا نام دیا ہے۔ اس جماعت کا اصل مقصدِ وجود دنیا میں عالم گیر انقلاب برپا کرنا ہے۔ تاہم مولانا نے عقلی اور اخلاقی توجیہ تفصیل کے ساتھ ''الجہاد فی الاسلام'' میں بیان کی  ہے۔ یہاں مولانا  کے الفاظ میں اس کا خلاصہ  پیش خدمت ہے:

انسانی تمدن  کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے، اس  کی سب سے پہلی دفعہ یہ ہے کہ انسان کی جان محترم ہے۔ انسان کے تمدنی حقوق میں  اولیں حق زندہ رہنے کا حق ہے۔ دنیا کی جتنی شریعتیں اور مہذب قوانین  ہیں، ان سب میں احترام نفس کا یہ اخلاقی اصول مانا گیا ہے۔دنیا کے سیاسی قوانین اس احترام حیات انسانی کو صرف سزا کے خوف اور قوت کے زور سے قائم کرتے ہیں، مگر اسلام نے اس کے ساتھ احترام ِ نفس کی اعلیٰ تعلیم بھی دی ہے۔ قرآن نے ناحق جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔  مگر یہ حرمت  مطلق نہیں بلکہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہےکہ   انسان دوسروں کے حقوق پر دست درازی نہ کرے ۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ کسی جان کو کسی حال میں قتل نہ کرو، اس کی حرمت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک وہ  مقرر حدود سے تجاوز اور  دوسروں کے مادی یا روحانی امن میں خلل برپا نہ کرے۔ اگر کسی نے ان حدود کو پامال کیا تو اس کی جان کی حرمت معطل کی جائے گی اور اس کے برپا کردہ فتنہ و فساد کو ہر صورت میں ختم کردیا جائے گا۔ قصاص کا قانون اسی سے وجود میں آیا ہے۔ا س کے بغیر دنیا میں امن کا قائم نہیں ہوسکتا نہ شر و فساد کی جڑ کٹ سکتی  ہے۔  یہ قصاص کا قانون جس طرح افراد کے لیے ہے اسی طرح جماعتوں کے لیے بھی ہے جس طرح افراد سرکش ہوتے ہیں اسی طرح جماعتیں اور قومیں بھی سرکش ہوتی ہیں۔اس لیے جس طرح افراد کو قابو میں رکھنے کے لیے خون ریزی ناگزیر ہوتی ہے اسی طرح جماعتوں اور قوموں کی بڑھتی ہوئی بدکاری کو روکنے کے لیے بھی جنگ ناگزیر ہوجاتی ہے۔ نوعیت کے اعتبار سے انفرادی اور اجتماعی فتنہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔    جماعتیں اور قومیں جب سرکشی پر آتی ہیں تو وہ غریب قوموں پر  ڈاکے ڈالتے ہیں، ان کی تجارت پر قبضہ کرتے ہیں ان کی صنعتوں کو برباد  کرتے ہیں۔ بعض ان میں ہوائے نفسانی کے بندے  ہوتے ہیں تو وہ اپنے جیسے انسانوں  کے خدا بن بیٹھتے ہیں، اپنی خواہشات پر کمزوروں کے حقوق برباد کرتے ہیں، عدل و انصاف کو مٹاکر ظلم و جفا کے عَلَم بلند کرتے ہیں، شریفوں  اور نیکوکاروں کو دبا کر سفیہوں اور کمینوں کو سربلند کرتے ہیں۔ ان کے ناپاک اثر سے قوموں کے اخلاق تباہ ہوجاتے ہیں، فضائل کے چشمے سوکھ جاتے ہیں اور ان کی جگہ خیانت بدکاری بے حیائی سنگدلی بے انصافی اور بے شمار دوسرے مفاسد کے گندے نالے جاری ہوجاتےہیں۔ پھر ان میں سے بعض وہ  ہیں جن پر جہانگیری  و کشورستانی کا بھوت سوار ہوتا ہے تو وہ بے بس اور کمزور قوموں کی آزادیاں سلب کرتے ہیں، خدا کے بے گناہ بندوں کے خون بہاتے ہیں، اپنی خواہشِ اقتدار کو پورا کرنے کے لیے زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور آزاد انسانوں کو اس غلامی کا طوق پہناتے ہیں جو تمام مفاسد کی جڑ ہے۔ ان شیطانی کاموں کے ساتھ جب اکراہ فی الدین بھی شامل ہوجاتا ہے اور ان ظالم جماعتوں میں سے کوئی جماعت اپنی اغراض کے لیے مذہب کواستعمال کرکے بندگانِ خدا کو  مذہبی آزادی سے محروم کردیتی ہے تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہوجاتی ہے۔    اس اجتماعی فتنہ کو دور کرنے کے لیے شریعت نے دو صورتوں میں جنگ کو مشروع قرار دیا ہے: مدافعانہ جنگ  اور مصلحانہ جنگ ۔ نیکی کے قیام کے لیے اپنی حفاظت بہت ضروری ہے،  یہ حفاظت اندرونی اور بیرونی دونوں قسم  کے فتنوں سے کرنی ہے۔

یہاں تک مولانا کا موقف واضح ہوگیا، اس سے آگے وہ ''مصلحانہ جنگ'' کا تصور پیش کرتے ہیں جس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔  (اگلی قسط میں ''مصلحانہ جہاد '' کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔)

حواشی

  1. دیکھیے: سید ابو الاعلیٰ مودودی، جہاد فی سبیل اللہ۔
  2. علت القتال پر تفصیلی بحث آگے آرہی ہے۔
  3. علاء الدین ابی بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (بیروت: دارالکتب علمیہ، 2003ء)، کتاب السیر ،فصل في بيان كيفية فرض الجهاد، ج 9، ص 380-81؛ برھان الدین ابی الحسن علی ابن ابی بکر المرغینانی، شرح بداية المبتدى مع شرح عبد الحئ اللکنوي(کراچی: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، 1418ھ)،ج4، ص 217-18۔  فقہاے کرام  کے اس موقف کی تفصیل کےلیے دیکھیے: محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی، بداية المجتهد ونهاية المقتصد،  (قاہرہ: مکتبہ ابن تیمیہ)،  ج 2،  ص٣48-39۔
  4. جہاد ایک مطالعہ، ص 273-288
  5. جہاد فی سبیل اللہ، ماہنامہ "ترجما ن القرآن"، لاہور (مئی، 1939ء)، ص 14-33، مشمولہ: تفہیمات، ج 1، ص 74-97۔ اس سے قبل ہم یہ  بھی واضح کرچکے کہ جب بھی مولانا کی کسی ایسی تحریر سے کوئی نتیجہ اخذ کیا  گیا تو انھوں نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ آپ نے میرا مدعا ٹھیک طرح سے نہیں سمجھا اور فوراَ اس میں قانونی پوزیشن اختیار کی۔ اسی مضمون ـــجہاد فی سبیل اللہ ــــ کے بنیادی مقدمہ پر کسی نے مولانا سے سوال کیا تو  مولانا نے جو  جواب دیا ہے، وہ اگرچہ محلِ نظر ہے لیکن جواب کے آخر میں لکھے ہوئے الفاظ بہت اہم ہیں۔  لکھتے ہیں: "یہاں اس بات کی صراحت بھی مناسب ہوگی کہ آپ جس عبارت کے متعلق سوال کررہے ہیں اس میں اسلامی دعوت و تبلیغ اور قانون صلح و جنگ کا کوئی مکمل اور جامع ضابطہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔ وہ تو ایک بڑے مسئلے کی طرف محض ایک سرسری اشارہ ہے۔ میں نے خاص اسی موضوع پر اپنی کتابوں میں جو مفصل بحثیں کی ہیں ان سب کو چھوڑ کر ایک ضمنی بحث کے چند فقرات چھانٹ لینا کسی آئین انصاف و تحقیق کی رو سے بھی صحیح نہیں ہے''۔( رسائل و مسائل، ج 4، ص 192)۔ اس عبارت سے بھی اخلاقی اور قانونی توجیہات کی تقسیم کو  تقویت ملتی ہے۔ تاہم مغربی دنیا میں ہونی والی تحقیقات میں بھی اس امر کو محلوظ نہیں رکھا جاتا کہ مولانا  کا قانونی موقف کیا ہے۔ مثال کے طور پر اوسلو یونی ورسٹی ناورے کی ایک محققہ نے اپنے تحقیقی مقالے میں جہاد اور ذمیوں کے متعلق بنیادی انحصار اسی مضمون پر کیا ہے۔ دیکھیے:
Anne-Liv Gamlem, Islamic Discourse of Difference: A Critical Analysis of Maulana Mawdudi's. Texts on Kafirs and Dhimmis (MA Thesis, Masteroppgave: University of Oslo, Norway 2008) pp. 32-36

(جاری)

شخصیات