مسلم معاشروں پر جدیدیت کے اثرات اور اہل فکر کا رد عمل

محمد عمار خان ناصر

(وقتا فوقتا سوشل میڈیا پر لکھی گئی تحریروں سے منتخب اقتباسات)

’’جدیدیت‘‘ چند سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری تبدیلیوں کا ایک جامع عنوان ہے جو مغربی تہذیب کے زیر اثر دنیا میں رونما ہوئیں۔  مسلم معاشروں کا جدیدیت سے پہلا اور براہ راست تعارف استعمار کے توسط سے ہوا۔  استعمار نے  مسلم معاشروں کے اجتماعی شعور پر  جو سب سے پہلا اور سب سے نمایاں   تاثر مرتب کیا، وہ سیاسی طاقت اور آزادی سے  محرومی کا تھا اور  اس صورت حال کا مسلم شعور سے سب بنیادی نفسیاتی اور فکری مطالبہ  یہ تھا کہ وہ  اقتدار سے محرومی اور حاکمیت  کی حالت سے محکومیت کی  حالت میں منتقل ہونے  کے حوالے سے اپنا  رد عمل متعین کرے۔    اقتدار چھینے جانے پر مزاحمت کا جذبہ فطری اور عقلی بھی تھا اور دینی اساسات بھی رکھتا تھا،  چنانچہ پورے عالم اسلام میں استعمار کے خلاف مزاحمتی  تحریکیں پیدا ہوئیں ، مقدور بھر وسائل کے ساتھ  استعمار کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن  جیسا کہ معلوم ہے،  ہر جگہ  شکست کا سامنا کرنا پڑا۔  شکست کے بعد فوری اور بظاہر حیرت انگیز منظر یہ دکھائی دیتا ہے کہ کم وبیش ہر جگہ  جہاں مزاحمت  کا علم دینی علماء نے بلند کیا تھا، وہاں بعد از شکست ہمیں ان کے موقف اور حکمت عملی میں     ایک سو اسی ڈگری کی تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔  یہاں مثال کے طور پر صرف  الجزائر میں  امیر عبد القادر الجزائری،  وسط ایشیا میں امام شامل اور ہندوستان میں  علمائے دیوبند کی قبل از شکست اور بعد از شکست  پوزیشنز کو  سامنے رکھا جا سکتا ہے۔  تاہم حکمت عملی کی سطح ؒپر  مسلمان قیادت کی طرف سے حقیقت پسندی اور عملیت کی روش اختیار کیے جانے کے باوجود  مسلم شعور اور اسلامی فکر میں  سیاسی اقتدار  کے زوال کا سوال ایک بنیادی مسئلے کے طور پر پوری قوت اور شدت کے ساتھ موجود ہے ۔


اقتدار سے محرومی کا صدمہ جھیلنا فرد کے لیے بھی جانکاہ ہوتا ہے اور قوموں کے لیے تو کئی گنا بڑھ کر۔ بنی اسرائیل ایک چھوٹی سی سلطنت سے محروم ہوئے تھے، لیکن اس حقیقت کو ذہنی طور پر قبول کرنے میں صدیاں لگ گئیں۔ ہم نے تو خیر ایک دنیا کھوئی ہے اور ابھی کل کی بات ہے۔ وقت تو لگے گا۔ لیکن بات یہ ہے کہ جب تبدیلی آ جائے تو مذہب کے نقطہ نظر سے ایسی صورت حال میں کرنے کے کام دو ہوتے ہیں:

ایک وہ جو سیدنا مسیح نے کیا، یعنی اقتدار اور سیادت کی محبت میں ڈوبی ہوئی قوم کو معرفت ربانی کا اصل پیغام سنانا اور عبدیت کے اس جوہر کو زندہ کرنے کی کوشش کرنا جس کا تعلق کسی فصل گل ولالہ سے نہیں۔ وہ ہر حالت میں انسانوں کو اپنے رب کے قریب کر دیتا ہے۔

دوسرا وہ جو مادی صورت حال کے بارے میں ذہنوں کو حقیقت پسند بنانے کے حوالے سے مثال کے طور ہمارے ہاں سید احمد خان نے کیا۔ اس کے انداز اور اسلوب سے اختلاف ہو سکتا ہے اور یہی کام ہمارے ہاں کافی مختلف انداز میں دیوبندی مکتبہ فکر کے بعض اکابر نے بھی کیا، لیکن مرکزی نکتہ ایک ہی ہے۔

ایسا نہیں کہ جدیدیت کی مزاحمت کے رویے کی دینی وأخلاقی یا نفسیاتی لحاظ سے کوئی اہمیت یا افادیت نہیں۔ بالکل ہے اور یہ رویہ بھی بہت قابل قدر ہے، تاہم ہر گزرنے والی آن کے ساتھ یہ تاریخ کا حصہ بنتا چلا جا رہا ہے۔ جدیدیت سے نبرد آزما ہونے کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں، اگرچہ اس کی عملی شرائط بظاہر دستیاب نظر نہیں آ رہیں، لیکن اس نبرد آزمائی کے وسائل بھی جدیدیت ہی سے لینے پڑیں گے۔ روایت سے اجزا لینا ممکن ہے، لیکن وہ اس وقت فریم ورک نہیں دے سکتی۔ اسلامزم کا سارا پراجیکٹ اسی فارمولے سے عبارت ہے، یعنی روایت سے مختلف اجزا لے کر ان کو ایک نئی ترتیب سے مرتب کرنا۔ اس کے علاوہ بھی روایت کی بازیابی کا کوئی بیانیہ میرے علم میں نہیں جو اس فارمولے پر انحصار نہ کرتا ہو۔


استعماری تجربے نے ہماری قومی نفسیات اور رویوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں، ان کا ٹھیک ٹھیک جائزہ لینے کی ابھی تک کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی۔ ان اثرات کو "شناخت کے بحران" کا جامع عنوان دیا جا سکتا ہے۔ اپنی تہذیبی شناخت ختم ہو جانے کے بعد استعمار زدہ معاشرے کرچیوں میں بکھر گئے ہیں اور ہر کرچی اپنی شناخت متعین کرنے کے وجودی سوال سے نبرد آزما ہے۔ مذہبی فرقہ واریت، روایت اور جدیدیت، مشرقیت اور مغربیت، اسلام پسندی اور سیکولرازم، قومیت پرستی اور پان اسلام ازم کے سارے تنازعات اسی بحران کے مختلف مظاہر ہیں۔ ستم یہ ہے کہ یہ ساری کرچیاں باہم اس طرح برسرپیکار ہیں جیسے ان کا اصل حریف ان کی مخالف کرچیاں ہوں، حالانکہ وہ بھی انھی کی طرح ستم زدہ اور شناخت کی تلاش میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی اختلاف کو محض فکر ونظر کے اختلاف کے طور پر دیکھنا ہمارے لیے ممکن نہیں رہا، کیونکہ بظاہر معمولی سے اختلاف کے ساتھ بھی شناخت کی تعیین کا تحت الشعوری احساس جڑا ہوا ہے جسے انسانی شعور زندگی اور موت کے مسئلے کی طرح دیکھتا ہے۔ یوں فکری اختلاف کم وبیش ذاتی اختلاف بن جاتا ہے اور اس جبر کو محسوس کیے بغیر بڑے بڑے سنجیدہ اہل فکر اسی زاویے سے اظہار اختلاف پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔

اس رویے کی ایک خاص شکل یہ بھی سامنے آئی کہ اسلامی تاریخ کی مختلف شخصیات کو ساری آفات وبلیات کا ذمہ دار ٹھہرا کر کسی طرح ان کا ذکر اپنی کتاب تاریخ سے محو کر دیا جائے یا کم سے کم لوگوں کو باور کرا دیا جائے کہ یہ یہ لوگ نہ ہوتے تو آج بھی ہم دنیا میں سرخ رو وسرفراز ہوتے۔ چنانچہ کسی نے محدثین کے طبقے کو ساری گمراہیوں کا ذمہ دار قرار دیا، کسی نے ’’فقہی جمود‘‘ کے عنوان سے فقہاء کو اور کسی نے کچھ دوسری وجوہ سے بعض دوسرے طبقات کو مورد الزام ٹھہرایا۔ اساتذہ مغرب سے سن کر بعض سادہ دلوں نے تو سائنسی ترقی کے خاتمے کا واحد ذمہ دار امام غزالی کو متعین کر دیا، جیسے یہ ایک بندہ نہ ہوتا تو گلیلیو، نیوٹن اور آئن سٹائن مسلمانوں میں ہی پیدا ہوتے۔ جدیدیت کے خلاف سامنے آنے والے رد عمل میں  یہی اسلوب بعض فکری حلقوں کی طرف سے  برصغیر کی بعض محترم شخصیات نیز عالم اسلام کی کچھ معاصر شخصیات کے حوالے سے اختیار کیا گیا اور’’انہدام شخصیات‘‘ کی ایک مہم چلائی گئی، یہ سمجھے بغیر کہ تاریخ جن شخصیات کا کوئی مقام طے کرتی ہے، بہت سوچ سمجھ کر کرتی ہے اور آسانی سے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی  کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی۔ سو آپ ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں اور دسیوں پراپیگنڈا مہمیں چلا لیں، سرسید، شبلی، اقبال وغیرہ تاریخ میں وہیں کھڑے رہیں گے جہاں انھیں تاریخ نے کھڑا کیا ہے۔ یوسف القرضاوی اور مولانا تقی عثمانی کا جو مقام عالم اسلام کی علمی دنیا مانتی ہے، وہی مانتی رہے گی۔ کیونکہ ایسی شخصیات سے اختلاف کیا جاتا ہے اور تاریخ اسے فراخ دلی سے قبول کرتی ہے، لیکن ’’انہدام شخصیات‘‘ کی کوششوں پر تاریخ ’’اونہہ ‘‘ کہنا بھی گوارا نہیں کرتی۔


ہمارے خیال میں امت مسلمہ کی ایک مربوط فکری تاریخ مرتب کرنا بہت ضروری ہے اور اس کے ضمن میں ایسے اہل علم ومفکرین کی contributions زیر بحث آنی چاہییں جنھوں نے درپیش سوالات ومباحث کے حوالے سے قابل توجہ یا قابل بحث نتائج فکر پیش کیے ہوں۔ اس کے بغیر محض انفرادی طو رپر کسی بھی صاحب فکر کی فکری کاوشوں کا نہ تو درست تناظر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ یہی متعین کیا جا سکتا ہے کہ وہ روایت کے ساتھ کتنا وابستہ ہیں اور کتنا اس میں اضافہ کیا یا اس سے منحرف ہوئے ہیں۔

ہمارے ہاں تنقید کے دو تین عمومی مناہج رائج ہیں۔

ایک منہج مولویانہ ومفتیانہ ہے جس کا بنیادی محرک اور ہدف روایتی حلقے سے باہر علمی ودینی حوالے سے نتائج فکر پیش کرنے والی ہر اس شخصیت کو مجروح ثابت کرنا ہوتا ہے جو روایتی فکری حلقوں کا ’’متبادل‘‘ بننے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہو۔ اس طبقے کے لیے کسی فکر کی علمی قدر وقیمت یا روایت کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کو سمجھنا یا اس سے استفادے کی محتاط اور محفوظ صورتوں پر غور کرنا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔ الا ما شاء اللہ

ایک دوسرا منہج نسبتاً فکری مزاج کا حامل ہے اور فکری واصولی حوالے سے نئے افکار کا جائزہ لینے کا رجحان رکھتا ہے، لیکن عموماً اس کے ہاں محرکات تنقید academic سے زیادہ ’’تحفظاتی‘‘ یا reactionary ہیں۔ اس کے ہاں کسی مخصوص فکری stream کو اصل اور مستند مان کر روایت کے باقی تمام رجحانات کو اس انداز سے deal  کرنے کا رجحان نمایاں ہے جیسے وہ راست فکر سے دوری کے مختلف مظاہر ہیں۔ اس رجحان کے حامل بعض حلقوں کے نزدیک اسلامی روایت کے بعض ممتاز اہل فکر مثلاً شاطبی اور شاہ ولی اللہ بھی اصلاً کسی نہ کسی انداز میں ’’جدیدیت‘‘ سے ہی متاثر ہوئے تھے۔

ایک تیسرا منہج تنقید وہ ہے جس کا بنیادی مسلمہ یہ ہے کہ جدیدیت اپنی تمام تر شکلوں، مظاہر اور نتائج کے لحاظ سے قابل رد ہے ، سو صحیح اور غلط کا بنیادی معیار ’’جدیدیت‘‘ سے موافقت یا مخالفت ہے۔

ان میں سے ہر منہج تنقید اپنی اپنی بنائے استدلال رکھتا ہے اور دنیائے فکر میں ظاہر ہے کہ اس طرح کے تنوع اور رنگا رنگی سے ہی حسن پیدا ہوتا ہے۔ تاہم ان تینوں مناہج تنقید میں عموماً، الا ما شاء اللہ، توجہ ’’مسئلے‘‘ سے زیادہ ’’صاحب مسئلہ‘‘ پر مرکوز کی جاتی ہے۔ میرے نزدیک ان کے پہلو بہ پہلو ایک متبادل منہج کو وجود میں لانے کی ضرورت ہے جس میں حتی الامکان توجہ اور بحث کا مرکز ’’سوال‘‘ یا ’’مسئلہ‘‘ کو بنایا جائے اور کسی بھی نقطہ نظر کو روایت سے مربوط کرکے اور مسلم فکر کے اجتماعی ارتقا کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس منہج کا فائدہ یہ ہے کہ کسی بھی نقطہ نظر سے اختلاف کی پوری گنجائش کے باوجود اس کی فکری placement اور علمی اساسات کا فہم اور تجزیہ زیادہ بامعنی ہو جاتا ہے۔

ہمارے خیال کسی بھی معاصر فکر کا صحیح تجزیہ اس وقت تک نقد ونظر کی محکم اساسات پر استوار نہیں ہوسکتا جب تک کہ امت کی فکری تاریخ کا ارتقا اور مسائل ومباحث کا ربط بحیثیت مجموعی ہمارے سامنے نہ ہو۔ اس کے بعد ہی یہ سمجھنا صحیح معنوں میں ممکن ہوگا کہ دور جدیدیت میں پرانے یا نئے سوالات پر غور وفکر کرنے والے اہل فکر نے کیا راہیں اختیار کی ہیں، ان کے نتائج فکر کی کیا قدر وقیمت ہے اور ان میں استفادہ اور مزید ترقی کے امکانات کتنے ہیں۔


مولانا سید ابو الاعلی مودودی دور جدید کے ذہین ترین مذہبی علماء میں سے تھے جن کی فکر کے مختلف اور متنوع پہلوؤں میں سے اسلامی سیاست کا پہلو اتنا نمایاں ہو گیا کہ باقی سب پہلو بالکل دب کر رہ گئے۔ یہ المیہ صرف مولانا مودودی کے ساتھ خاص نہیں، شیخ احمد سرہندی کے بعد اب تک اس خطے میں پیدا ہونے والی غیر معمولی مذہبی شخصیات کی پوری کہکشاں کے متعلق بھی یہ بات سچ ہے۔ شاہ ولی اللہ اور ان کے خانوادے سے لے کر عبد الحی لکھنوی، عبد العزیز پرہاروی، نواب صدیق حسن، بحر العلوم، سرسید، شبلی، عبد الحق حقانی، فراہی، انور شاہ کشمیری، اشرف علی تھانوی، احمد رضا خان بریلوی، محمد حسین بٹالوی، ثناءاللہ امرتسری، پیر مہر علی شاہ گولڑوی، سید سلیمان ندوی، مناظر احسن گیلانی، مولانا ایوب دہلوی، علامہ اقبال، مولانا اصلاحی، عبید اللہ سندھی میں سے ہر ایک کا مذہبی فکر میں اتنا اوریجنل اور منفرد کنٹری بیوشن ہے کہ اتنے محدود زمانی عرصے میں، سیاسی وتہذیبی حالات کی دگرگونی میں، علم وفکر کی ایسی گہرائی، تنوع اور جسارت (عربی مفہوم میں) کی مثال شاید عالم اسلام کا کوئی دوسرا خطہ پیش نہیں کر سکتا۔

سیاسی اقتدار کے زوال اور تہذیبی عظمت رفتہ کے غم نے، کیا مذہبی اور کیا غیر مذہبی، فکر ودانش کو ایسا لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ ہر طرف ماتم کی کیفیت ہے۔ فرسٹریشن کی نفسیاتی کیفیت نے علوم وافکار کی قدر پیمائی کے ایسے محدود رخ متعین اور ایسے سطحی معیارات وضع کر دیے ہیں کہ ہم علمی افکار کے حسن اور کمال کو ان کے اپنے دائرہ علمی کے تناظر میں appreciate کرنے کی صلاحیت سے بحیثیت مجموعی محروم ہو چکے ہیں۔ اور مدرسہ، یونیورسٹی، دینی تحریکات یا فکر سے منسوب کسی بھی ادارے کو اس صورت حال کا احساس تک نہیں۔ ان افکار کے مطالعہ کی اہمیت کا کچھ احساس اگر نظر آتا ہے تو مغربی جامعات میں مصروف فکر چند اساتذہ ومحققین کے ہاں آتا ہے، لیکن ظاہر ہے ان کی ترجیحات وتحدیدات عموما ان کے اپنے ماحول سے طے ہوتی ہیں۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ فکری خود اعتمادی اور خود شناسی کے بغیر کسی بھی نوعیت کی قومی بحالی کا خواب تشنہ تعبیر نہیں ہو سکتا، اور اس کا واحد راستہ اپنی روایت کے اہل فکر اور ان کے نتائج فکر کو اس طرح نچوڑنا ہے کہ ان میں چھپا کوئی علمی امکان حیطہ ادراک سے باہر نہ رہ جائے۔ فکری امور میں quick fixes کا رویہ دراصل عطائیانہ رجحان ہے جسے ہم طرح طرح کے تشہیری بینروں کے ساتھ اپنے ارد گرد ہر طرف پنپتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔


’جدیدیت کے جواب میں مسلمان اہل فکر نے جو حکمت عملی اختیار کی، کئی پہلووں سے اس کی افادیت تسلیم کرتے ہوئے دو سوال بہرحال اٹھائے جا سکتے ہیں :

ایک،مزاحمت کے لیے اہداف اور ترجیحات کا غیر حقیقت پسندانہ تعین یا دوسرے لفظوں میں میدان جنگ میں محاذ کا غلط انتخاب۔ جب سرحد پر دشمن کی یلغار شروع ہوتی ہے تو دفاع میں سمجھ دار جرنیل کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ حملہ آور طاقت کا کہاں تک آگے بڑھ آنا ناگزیر ہے اور کہاں اس کے خلاف موثر مزاحمت کی جا سکتی ہے۔ اگر اس کے بجائے ایک ایک انچ کے دفاع کی حکمت عملی اپنائی جائے گی تو وہ محاذ بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے جہاں مناسب تیاری سے مزاحمت کامیاب ہو سکتی تھی۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے دریا کے کنارے واقع بستی سیلاب کے خطرے سے دوچار ہو اور سارے اندازے بتا رہے ہوں کہ پانی کا بستی میں داخل ہونا اور ایک خاص سطح تک پہنچ کر رہنا طے ہے۔ اس کے باوجود بستی والے اپنے گھروں کے سامان اور مواشی وغیرہ کو کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے کے بجائے پانی کو روکنے کے لیے دریا کے کنارے پر کچی اینٹیں چننا شروع کر دیں۔

دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی سماجی اسٹرکچر میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو کئی مراحل سے گزر کر آتی ہے اور پہلے ہی دن حتمی طور پر یہ طے نہیں ہوتا کہ وہ مآل کار فلاں اور فلاں شکل اختیار کرے گی۔ اس تشکیلی مرحلے میں کئی عوامل مل کر اسے کوئی خاص رخ دیتے ہیں اور اس میں ان لوگوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے جو ہاتھ بڑھا کر جام ومینا اٹھا لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اس کے برخلاف اس مرحلے میں اس سے الگ تھلگ ہو کر یا کلی طور پر اس کے مزاحم بن کر کھڑے رہنے والے مثبت طور پر اس سارے عمل میں کوئی حصہ نہیں ڈال پاتے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئے اسٹرکچر میں ان کا شمار پچھڑے ہووں اور پس ماندہ رہ جانے والوں میں ہو اور نئے ماحول سے شکایت اور گریز مستقل طو رپر ان کی نفسیات کا حصہ بن جائے۔

ان دونوں غلطیوں کا باعث لمحہ موجود کی اسیری ہے، جو ایک طرف تو یہ صلاحیت سلب کر لیتی ہے کہ حالات کے رخ سے اس حقیقت کا پیشگی ادراک کیا جائے کہ کچھ تبدیلیوں کا عملاً رونما ہو کر رہنا سلسلہ اسباب وعلل کی رو سے طے ہے اور دوسری طرف نئی آنے والی تبدیلیوں کے ناپسندیدہ نتائج سے خوف زدہ کر کے ان مواقع اور امکانات سے بھی توجہ ہٹا دیتی ہے جن سے ممکنہ حد تک تبدیلی کا رخ کسی بہتر سمت میں موڑا جا سکتا تھا۔

مسلم معاشروں میں جدیدیت کی penetration کا عمل ابھی جاری ہے۔ بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور بہت سی آنے والی ہیں۔ اگرہمارے اہل فکر سابقہ حکمت عملی کے مذکورہ پہلووں سے کچھ سیکھ کر آئندہ کی حکمت عملی وضع کریں تو شاید ہم بحیثیت مجموعی کچھ بہتر نتائج حاصل کر سکیں۔

حالات و مشاہدات

(اگست ۲۰۱۹ء)

Flag Counter