تقسیم مسلسل سے گزرتی پاکستانی قوم

محمد حسین

برصغیر کی گزشتہ چند دہائیوں کو دیکھ لیا جائے تو تقسیم کا عمل ہمیں قدم قدم پر پہلے سے زیادہ پرتشدد اور پرتعصب نظر آتا ہے۔ مسلم سلطنتوں کی داخلی خلفشار اور کمزوریوں کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی سے شکست ہوئی جس کے خاتمے اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زمام حکومت سنبھالنے کے بعد تقسیم کا عمل پھر سے شروع ہوا۔ پہلے ہندوستانی و برطانوی بنے، اور ہندو مسلم مل کر برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدو جہد کی۔ پھر ہندوستانی بلاک ہندو مسلم میں تقسیم ہو گیا۔ مسلمان بھی دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک متحدہ ہندوستان کے حق میں تھا اور دوسرا مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے حق میں۔ مسلمانوں کے دوسرے طبقے نے ہندو اکثریتی سماج میں بطور اقلیت مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور اپنی آزادی و خودمختاری کے لیے تحریک چلائی جس کے نتیجے میں ہندوستان کو چھوڑ کر جانے والے برطانوی سامراج نے اس خطے کو آبادی کے تناسب سے دو حصوں میں تقسیم کر کے دو الگ آزاد مملکتیں پاکستان اور بھارت بننے کے فارمولے پر اسے اپنی غلامی سے آزاد کر دیا۔

تقسیم ہند کے عمل میں پاکستان اور انڈیا کے مابین تقسیم کے طے شدہ فارمولے پر کشمیر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس کے باعث پاکستان اور انڈیا اپنی تقسیم اور تاریخ انسانی کی سب سے بڑی انسانی مہاجرت کے تکلیف دہ انسانی بحران سے باہر آنے سے پہلے ہی باہمی رقابت پر اتر آئے اور یہ رقابت برسوں کے سفر کو لمحوں میں طے کر جنگ میں بدل گئی۔ اور تقسیم کی دو دہائیاں بھی نہ گزری تھیں کہ آپس میں جنگ چھڑ گئی۔ اب دونوں طرف ایسے جنگی مزاج پر مبنی سماج کی پرورش کا آغاز ہو گیا کہ دونوں ملکوں کے انسانی، قدرتی اور قومی وسائل کا رخ انہی جنگوں کی طرف مڑ گیا اور یہیں اٹک گیا جو ہنوز پھنسا ہوا ہے۔ نہ کشمیر کا فیصلہ ہوتا ہے اور نہ جنگی مزاج کا کوئی خاتمہ بالخیر۔ شاید اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ تقسیم ہندوستان کی تیسری دہائی کی ابتداء میں دوسری جنگ چھڑی۔ اس جنگ کی کوکھ سے ایک الگ آزاد مملکت بنگلہ دیش نے جنم لیا جو اس سے پہلے مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔

سابقہ مغربی پاکستان اور سن اکہتر کے بعد کا موجودہ پاکستان چار صوبوں، اسلام آباد کے وفاقی علاقے، فاٹا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان یعنی مجموعی طور پر آٹھ یونٹوں پر مشتمل ہے۔ بعض یونٹوں کو آئینی اور سیاسی حقوق کے لحاظ سے اور بعض کو معاشی اور انتظامی حقوق اور خودمختاری کے اعتبار سے مختلف طر ح کی شکایتیں ہیں۔ 1973 میں ملک کا پہلا متفقہ جمہوری دستور منظور ہوا جس کے مطابق پاکستان کو دستوری طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان بنایا گیا۔ اگرچہ پاکستان کو ایک وفاق کے تحت متحد کیا گیا مگر اس کے باوجود داخلی تناؤ اور تقسیم مزید گہری ہونے لگی۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں کے مابین اقتدار کی رسی کشی کے علاوہ سماجی سطح پر کراچی میں سندھی مہاجر، بلوچستان میں بلوچ ہزارہ، پشتون ، پنجاب میں پنجابی اور سرائیکی اور پوٹھوہاری، خیبر پختونخوا میں پختون و ہزارہ، گلگت بلتستان میں گلگتی بلتی، شین اور یشکن میں لسانی و نسلی تناؤ کے واقعات وقتا فوقتا سامنے آنے لگے۔ 

مذہبی تقسیم کی لہر چلی تو پہلے مسلم غیر مسلم، پھر مسلمانوں میں شیعہ سنی، پھر سنیوں میں مقلد و غیر مقلد، مقلد بھی دیوبندی و بریلوی، دیوبندی آگے حیاتی مماتی میں تقسیم، پھر معتدل و شدت پسند۔ بریلوی مسلک سواد اعظم ہونے نہ ہونے کی بابت درجن بھر ذیلی تنظیموں میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتا گیا۔ اسی طرح شیعوں میں اثنا عشری و اسماعیلی کی تقسیم پختہ ہونے لگی۔ اثناعشری آگے بڑھ کر علماء و ذاکرین کے پیروکاروں میں تقسیم ہو گئے۔ علما کے پیرکاروں کی مزید تقسیم انقلابی وغیر انقلابی میں نظر آنے لگی، جبکہ ذاکرین میں بعض غالی اور بعض مقصر قرار پائے۔۔ ابھی ہر طرف یہ تقسیم مزید جاری ہے۔ ہر طرف پھل پھول رہی ہے۔ 

سیاسی بنیادوں پر دائیں اور بائیں بازو، جو مزید تقسیم ہو کر مذہبی و غیر مذہبی، آگے بڑھ کر مذہبی جماعتوں میں ہر ایک مسلک کا الگ برانڈ سامنے آتا ہے۔ آپ کو ہر مسلک کی کم و بیش تین تین درجن مذہبی سیاسی جماعتیں نظر آئیں گی جن کی اندرونی رقابتیں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ ان جماعتوں کے پرسان حال بھی مسلکی خطوط پر زیادہ تر بیرونی ممالک ہیں۔ کچھ سعودی عرب کی آغوش میں بیٹھ کر پاکستان میں رقصاں ہیں تو کچھ تہران کو عالم مشرق کا جنیوا دیکھنے کے لیے بے تاب۔ بعض کو ترکی مسیحا نظر آتا ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جو خلیجی ممالک کے دست شفقت کے بابرکت سایہ تلے رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ غیر مذہبی جماعتیں لبرل اور نظریاتی میں تقسیم ہیں۔ بعض امریکہ کو مثالیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو بعض یورپ کو۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنھوں نے چین سے امیدیں جوڑ رکھی ہیں، کچھ سہمے ہوئے مزاج کے ساتھ بھارت کی طرف دیکھتے ہیں۔ الغرض کہیں ریاست نے دوستی اور دشمنی کی لکیریں کھینچ کر لوگوں کو انہی پر لگا دیا تو کہیں تہذہبی برتری و سیاسی نفوذ اور کہیں پر خطیر رقم ہی قوت جاذبہ بنی ہوئی ہے۔

سماجی حیثیت کے اعتبار سے ہماری قوم جاگیردار، سردار، سیاسی و عسکری اشرافیہ، سرمایہ دار، بالائی متوسط طبقہ، متوسط متوسطہ طبقہ، زیرین متوسطہ طبقہ، سفید پوش، غریب، افلاس زدہ کے خانوں میں بٹ گئی ہے۔ بد قسمتی سے ریاستی ادارے، مراعات اور وسائل لوگوں کی ضروریات اور استحقاق اور محنت کے حساب سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ قوت بازو کے حساب سے لوٹے جاتے ہیں۔ 

تقسیم کا رخ جب تعلیمی اداروں کی طرف بڑھا تو پہلے برطانوی و ہندوستانی، پھر انگریزی اور اسلامی، پھر انگریزی تقسیم ہو کر پبلک و پرائیوٹ سیکٹر، پھر لوگوں کی سماجی حیثیت کے لحاظ سے اشرافیہ سے لے کر غربت زدہ لوگوں کے لیے پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹرز میں الگ الگ تعلیمی نظام بنتا گیا۔مذہبی تعلیم مسالک کی تقسیم کے حساب سے تقسیم در تقسیم ہوتی گئی۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ یہ تقسیم اب پاکستان سے دیگر دنیا میں برآمد بھی ہو رہی ہے۔ پاکستان کا داخلی مذہبی اور سیاسی تناؤ مغربی ، خلیجی اور دیگر ممالک میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ 

رقابت پر مبنی تقسیم کے اس تسلسل کا انکار کرنے والے وہی ہو سکتے ہیں جن کو آرام دہ کرسیوں اور بستروں سے باہر نکل کر دیکھنا نصیب نہیں ہوا، ’’سب کچھ ٹھیک ہے سر‘‘ سے زیادہ سنا نہیں۔ ورنہ گزشتہ سات دہائیوں میں بھوک، افلاس، قتل و غارت اور باہمی انتشار اس سماجی تفریق، سیاسی تناؤ اور مذہبی منافرت کی گواہی کے لیے کافی ہے۔

خطے کی صورت حال اور عالمی طاقتوں کے تزویراتی مفادات کے ٹکراؤ نے تناؤ کو مزید شدید کر دیا۔ چنانچہ سات دہائیوں سے انڈیا کے ساتھ تناؤ، گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان میں یکے بعد دیگرے روس اور امریکہ کی مداخلت کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے حالات اور اس میں پاکستان کا کردار ایسا عنصر ہے جس نے اس مداخلت کے پرتشدد لہر کو پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ اس ریاستی ٹاسک کے لیے پرائیویٹ طبقات میں سے کچھ زیادہ کاریگر ثابت ہوئے تو کچھ کم۔ یوں داخلی تقسیم کو اس ہمسایگی کی تپش نے مزید گرم کر دیا۔ چین کے اقتصادی قوت کے طور پر ابھرنے کے باعث عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کی سرد و گرم جنگ کے لیے پاکستان اہم ترین میدان قرار پایا۔ پھر عالمگیریت کے جدید دور میں سراٹھانے والی عالمی دہشت گردی نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا ہے۔ اب یہ مختلف الجہات تناؤ گمراہ (unguided) میزائل کی طرح بن گیا ہے جس کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا کہ کب کس طرف جائے گا اور کہاں جا کر پھٹے یا گرے گا۔ یوں تقسیم پھل پھول کر آگ و خون کے کھیل میں بدل گئی۔ اس خون وآگ اور منافرت کے کھیل کے باعث نہ عبادت گاہ کا تقدس باقی رہا اور نہ ہی درسگاہ کا تحفظ۔ انسان ایسے کٹنے اور جھلسنے لگے جس کا منظر دیکھ کر آنکھوں کی روشنی چلی جائے اور جس کی دردناک چیخیں سن کر کان کے پردے پھٹ جائیں۔

سماجی مسائل تنازعات کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان کے ظاہری اور فوری اسباب کون سے ہیں۔ ظاہری اسباب تیل کے کنوئیں پر چنگاری کی طرح بہت چھوٹے اور محدود ہوتے ہیں۔ لیکن وہی چھوٹی سی چنگاری پورے کنوئیں کو جلا کر راکھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جبکہ خفیہ، دیرپا اور مختلف الجہات اسباب اس تیل کے کنوئیں یا پکتے ہوئے لاوے کی مانند ہوتے ہیں جس کی گہرائی، حجم، پھیلاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن زمین کے اوپر بظاہر کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا۔ اس کی جڑیں اور رگیں دور دور تک اور گہرائی تک پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ اس طرح حادثہ یک دم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پس منظر میں مختلف ثقافتی تناؤ، اقتصادی نا انصافیاں، سیاسی اقتدار و اختیار میں عدم مساوات، سماجی تفاوت، معاشی مفادات کا ٹکراؤ، نسلی تعصبات، اخلاقی کمزوریاں، نفسیاتی عوامل وغیرہ جیسے گہرے زخم اور شکایتیں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی ابھرتا ہوا یا سلگتا ہوا تنازع یا مسئلہ اس وقت مثبت نتائج کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتا ہے جب مسئلے کی موجودگی کو تسلیم کیا جائے کہ یہ واقعتا کچھ ایسی عدم موافقت ہے۔ اس اعتراف میں جتنی دیر لگتی ہے، مسئلہ اتنا ہی پیچیدہ تر ہوتا جاتا ہے اور وہ تیزی سے تخریبی نتائج کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اور زیادہ متاثرہ طبقے کے لیے اعتراف کی یہ تاخیر، شکایتوں کے سننے، ان کے ازالہ کرنے میں ہونے والی دیر نیز سماجی انصاف کی فراہمی میں سست رفتاری بہت کار گر ثابت ہوتی ہیں۔ متاثرہ طبقات کے غم و غصے میں مزید شدت اور حدت بڑھ جاتی ہے۔ 

گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری تشدد، قتل و غارت ، دہشت گردی اور دیگر سماجی نا انصافیوں کے باعث پیدا ہونے والے سماجی تعصبات کے سوچ ورویوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اب قومی مجموعی مزاج اور سماج مختلف طرح کے نفسیاتی عوارض اور منفی سماجی رجحانات میں مبتلا ہو گیا ہے جس سے قوم مجموعی پیداروی صلاحیت، فکری پختگی، اخلاقی بلندی اور تہذیبی برتری کے میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ 

یہ درست ہے کہ ہمارے قومی شعور اور پاکستانیت اور اداروں کے استحکام کی وجہ سے اتنی تقسیمات کے باوجود وطن عزیز مشرق وسطیٰ کی قسم کی بڑی خانہ جنگی کی طرف نہیں بڑھا۔ مختلف قدرتی آفات اور بحرانوں کے دوران بھی قومی یکجہتی کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے۔ بہت سے قومی دارے بھی قومی یگانگت کو محفوظ رکھنے اور پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم تعصبات کے پکتے ہوئے لاووں کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں لسانی و نسلی اور علاقائی تعصبات کے بہت سے ساختیاتی و ثقافتی اسباب بھی ہیں، بعض شخصی واقعات کی بنیاد پر جن کا انکار کرنا ناممکن ہے۔ اقتدار میں یکساں طور پر یونٹوں (اکائیوں علاقوں اور صوبوں) کی عدم شمولیت، قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، مراعات و اختیارات میں عدم توازن، جمہوری اور ارتقائی عمل کے تسلسل میں تعطل اور داخلہ وخارجہ پالیسی میں عارضی سیاسی مفادات کے تحت وسیع تر اور دیرپا قومی مفاد کو نظر انداز رکھنے، دور اندیش، مستعد، دیانت دار اور متحرک قیادت کی عدم دستیابی نے پاکستان میں تقسیم کے عمل کو مزید آگے بڑھایا اور باہمی تعاون و ترقی، سماجی انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور جان و مال اور دیگر بنیادی حقوق کے تحفظ کے عمل کو یکسر متاثر کر دیا ہے۔ تقسیم، تفریق اور برتری کی نفسیات پر مبنی سیاسی نظریہ ’’تقسیم مسلسل‘‘ کو ہی جنم دیتا ہے۔ تقسیم کے عمل کو جب تک باہمی تعاون سے بدل نہیں دیا جاتا، طاقت کے زور پر اسے دبایا نہیں جا سکتا۔

باہمی تعاون ، تعمیر و ترقی پر مبنی سیاسی نظریہ کی ایک ’’عملی مثال‘‘ مذہبی، لسانی، نسلی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے باہمی تفاوت، تناؤ اور اختلافات کے باوجود تقریباً اٹھائیس ممالک پر مبنی یورپی یونین دیکھ لیجیے۔ یہ ممالک تقسیم اور غلبے کی نفسیات کے تحت دو عالمی جنگوں میں حصہ لینے اور متعدد دیگر جنگیں لڑنے اور کروڑوں لوگوں کو مروانے اور بے پناہ معاشی نقصانات اٹھانے کے بعد اس نتیجے تک پہنچ گئے کہ کسی قیمت پر بھی اپنے خطے میں جنگ نہیں لڑنی۔ انہوں نے باہم تہیہ کر رکھا ہے کہ جنگ کو نہ صرف اپنی اپنی سرزمینوں سے بلکہ پورے براعظم یورپ سے دور ہی رکھنا ہے اور اس معاملے میں سب نے یکساں باہمی تعاون کرنا ہے۔ان کے آپس میں بہت سے اختلافات و تنازعات موجود ہیں، مختلف ملکوں میں مذاہب اور مسالک مختلف ہیں، زبانوں، نسلوں، معاشی مفادات، سیاسی تعلقات پر تناؤ موجود ہے لیکن وہ ایسے تناؤ اور تنازعات کو باہمی نفرت، رقابت اور تعصبات میں بدلنے نہیں دیتے تاکہ باہمی پرتشدد خانہ جنگی اور اس سے جڑے دیگر جرائم کا سامنا نہ کرنا پڑے جن کا خمیازہ پہلے وہ بھگت چکے ہیں اور دنیا کے دیگر حصوں میں وہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ان کا استحکام، ترقی اور بہتر طرز حکمرانی شاید اسی میں مضمر ہے کہ انہوں نے ایک بنیادی اصول پر مکمل اتفاق کر لیا ہے کہ تشدد اور منافرت کو سماجی قبولیت اور سیاسی چھتری نہ دینے میں وہ پرعزم اور یکسو رہیں، جبکہ عددی لحاظ سے دوگنا تقریباً ساٹھ ممالک پر مبنی ’’امت واحدہ‘‘ عالمی طاقتوں کے مفادات کے حصول کی راہ ہموار کرنے میں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کی خاطر جنگجوؤں کی صف بندی اور اسلحہ کی جمع بندی میں مصروف ہے۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

Flag Counter