جولائی ۲۰۱۷ء

فہم قرآن کے چند اخلاقی اور لسانی اصول

― محمد عمار خان ناصر

(فہم قرآن کے اصول ومبادی سے متعلق ایک لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو۔)۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس کی آیات کی تفسیر وتوضیح کرتے ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی منشا اور مدعا متعین کرتے ہوئے کچھ اصول ہیں جو قرآن مجید کے ہر طالب علم کے سامنے رہنے چاہییں اور ان کی پابندی اس بات کی ضمانت دے گی کہ انسان اللہ کی مراد کے زیادہ قریب پہنچنے کے قابل ہو جائے گا۔ ان میں سے کچھ اصول علمی نوعیت کے ہیں اور کچھ اخلاقی اصول ہیں۔ ان کو ملحوظ رکھنے سے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انسان ہر جگہ ہر معاملے میں کسی بھی قسم کی غلطی کا شکار نہیں ہوگا، ا س لیے کہ بہرحال...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۲)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۴) مِلَّۃَ إِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفاً کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں حنیفا کا لفظ دس بار آیا ہے، اس کے علاوہ حنیف کی جمع حنفاء کا بھی دو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ پانچ مقامات پر مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً آیا ہے، ان پانچوں مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حنیفا اگر نحوی ترکیب کے لحاظ سے حال ہے تو اس کا ذوالحال کیا ہے، یعنی وہ کس کا حال ہے؟، کیونکہ اس کی وجہ سے ترجمہ مختلف ہوسکتا ہے۔ ہم پہلے ان مقامات کے مختلف ترجمے پیش کریں گے، اور اس کے بعد ان ترجموں کے متعلق اپنا جائزہ پیش کریں گے۔ (۱) وَقَالُواْ کُونُواْ ہُوداً أَوْ نَصَارَی تَہْتَدُواْ...

مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سرحدوں میں نئی تبدیلیوں کی بات کافی عرصہ سے چل رہی ہے۔ سابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی یادداشتوں میں بھی اس منصوبے کا ذکر موجود ہے جس میں عراق کو تین حصوں میں تقسیم کر دینے کا پروگرام تھا (۱) سنی عراق (۲) شیعہ عراق (۳) کرد عراق۔ اسی طرح شام اور سعودی عرب کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی باتیں مختلف اوقات میں سامنے آتی رہی ہیں۔ عراق اور شام کے مسلح سنی گروپوں سے تشکیل پانے والی ’’داعش‘‘ کے بہت سے منفی کاموں کے ساتھ ایک مثبت پہلو بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے سامنے آنے سے عراق اور شام کی مختلف ملکوں میں تقسیم کے منصوبے...

انقلابِ ایران کی متنازعہ ترجیحات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایران کے معروف اپوزیشن گروپ ’’قومی مزاحمتی کونسل‘‘ کی چیئرپرسن مریم رجاوی نے گزشتہ دنوں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس کے فیصلوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ لاہور کے ایک روزنامہ میں 6 جون 2017ء کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق مریم رجاوی نے پیرس میں اپنی پارٹی کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جنگوں اور دہشت گردی کا ماخذ ایران کو قرار دینے کا اعلان حقیقت ہے اور ایران میں ولایت فقیہ پر مبنی سیاسی نظام ہی خطے میں بد امنی اور دیگر تمام مسائل کی جڑ ہے۔ مریم رجاوی کا تعلق مسعود رجاوی کے خاندان سے بتایا جاتا...

تقسیم مسلسل سے گزرتی پاکستانی قوم

― محمد حسین

برصغیر کی گزشتہ چند دہائیوں کو دیکھ لیا جائے تو تقسیم کا عمل ہمیں قدم قدم پر پہلے سے زیادہ پرتشدد اور پرتعصب نظر آتا ہے۔ مسلم سلطنتوں کی داخلی خلفشار اور کمزوریوں کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی سے شکست ہوئی جس کے خاتمے اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زمام حکومت سنبھالنے کے بعد تقسیم کا عمل پھر سے شروع ہوا۔ پہلے ہندوستانی و برطانوی بنے، اور ہندو مسلم مل کر برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدو جہد کی۔ پھر ہندوستانی بلاک ہندو مسلم میں تقسیم ہو گیا۔ مسلمان بھی دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک متحدہ ہندوستان کے حق میں تھا اور دوسرا مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے...

دیوبندی بریلوی اختلافات : سراج الدین امجد صاحب کے تجزیے پر ایک نظر (۱)

― کاشف اقبال نقشبندی

نظری آراء کا اختلاف نہ مضر ہے نہ اس کو مٹانے کی ضرورت ہے، نہ مٹایا جاسکتا ہے۔اختلاف رائے نہ وحدت اسلامی کے منافی ہے نہ کسی کے لیے مضر، اختلاف رائے ایک طبعی امر ہے جس سے نہ کبھی انسانوں کا گروہ خالی رہا نہ رہ سکتا ہے۔ یہ اختلاف خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں بھی ہوتا رہا اور خلفاء راشدین اورعام صحابہ کرامؓ کے عہد میں امور انتظامیہ کے علاوہ نئے نئے حوادث اور شرعی مسائل جن کا قرآن و حدیث میں صراحتاً ذکر نہ تھا ، ان کے استخراج میں جب انہیں اپنی رائے اور قیاس سے کام لینا پڑاتو ان میں اختلاف رائے ہوا جس کا ہونا عقل و دیانت کی...

فطرت بطور معیار کی بحث

― ڈاکٹر عرفان شہزاد

فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی شعور کو حق و باطل، خیر و شر، اور طیبات و خبائث میں تمیز کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ وحی کی عمارت انہیں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ فطرتِ انسانی ان اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے ہیں: عقیدہ، اخلاق اور قانون۔ یہ واضح رہے کہ قانون کی بنیاد بھی پر اخلاق ہی پر ہوتی ہےِ، اس لیے اصلاً یہ بحث کہ فطرتِ انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، عقیدہ اور اخلاق سے ہی متعلق ہے۔ فطرت میں پائی جانے والی یہ وہ بنیادی رہنمائی ہے جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر انسان...

مشال خان کا واقعہ، الشریعہ اور سیکولرزم

― محمد عرفان ندیم

ہمارے سیکولر احباب کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مذہب کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق دیکھتے ہیں ،مذہب کے حوالے سے ان کی سوچ ان کی مخصوص دانش کے تابع ہوتی ہے اور ان کی یہ دانش صرف تاریخی اسلام تک محدود ہے ، وہ یہ تو دیکھتے ہیں کہ تاریخی تناظر میں اسلام نے کیا کیا غلطیاں کی ہیں لیکن اسلام بذات خود اپنا تعارف کیا کرواتا ہے اور قرآن و سنت میں اسلام کا جو تعارف کروایا گیا ہے اس تک ان احباب کی پہنچ نہیں ہوتی اور یہ مسلمانوں کی غلطیوں کی بھی اسلام کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ سر دست ہم مشال خان کے واقعے کو لیتے ہیں ، مشال کا قتل بلاشبہ ہماری ا جتماعی بے حسی اور ہماری...

مکاتیب

― ادارہ

آپ کے مجلے میں اردو تراجم قرآن کے سلسلے میں قسط وار ایک جائزہ شائع ہورہا ہے، جس میں مترجمین کی خدمات اور ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے قرآن کے تراجم میں بعض جگہوں پر بشری تقاضوں سے جو تسامح اور غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے صحیح ترجمے سے باخبر کیا گیا ہے۔ مترجمین میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ ، شیخ سعدیؒ ، شاہ عبدالقادرؒ ، شاہ رفیع الدینؒ ، محمد جوناگذھیؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ وغیرہ کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اور غلطیوں کی نشاندہی کے سلسلے میں قرآنی نظائر اور...

علم کلام، فلسفہ تاریخ اور دور جدید کی فکری تحدیات ۔ مدرسہ ڈسکورسز کے تحت تربیتی ورکشاپ کی روداد

― حافظ محمد رشید

گزشتہ جنوری میں پاکستان اور انڈیا میں، نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، انڈیانا امریکہ کے ذیلی ادارے the Kroc Institute for International Peace Studies کے زیر اہتمام درس نظامی کے فضلاء کے لیے ’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن تربیتی کورس کا آغاز کیا گیا جس میں تقریباً پندرہ فضلاء انڈیا سے اور اتنے ہی پاکستان سے شریک ہیں۔ ہفتہ میں دو دن آن لائن کلاس ہوتی ہے ، کورس کا مقصد درس نظامی کے فضلاء کو تہذیب و تمدن کے تبدیل شدہ ماحول اور جدید سائنسی نظریات و سائنسی ترقی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سوالات سے روشناس کروانا اور علمی طور پر ان سوالات کا سامنا کرنے کے قابل بنانا ہے۔...