سود، کرایہ و افراطِ زر : اصل سوال اور جواب کی تلاش

محمد انور عباسی

الشریعہ کے جنوری کے شمارے میں محترم مغل صاحب کا مضمون نظر سے گزرا۔ اپنے موضوع پر ایک جاندار اور عام ڈگر سے ہٹا ہوا اور سوچ کو ابھارنے والا مضمون دیکھنے کو ملا۔ یہ جریدہ اس لحاظ سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ اس میں ہر ماہ ہی اہل علم کی فکر انگیز تحریریں ملتی ہیں جو ذہن کو جلا بخشتی ہیں۔ ہر وہ تحریر ، حتیٰ کہ ایک جملہ بھی،قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے کے قابل ہے جو کسی بھی لحاظ سے مکالمے پر انگیز کرے۔ کبھی کبھی یہ خواہش شدید تمنا کا روپ دھار لیتی ہے کہ ملک عزیز کے دیگر رسائل و جرائدبھی یہی رویہ اپنائیں اور اپنے ہاں اس طرح کے مکالمے پر ابھارنے والی تحیریروں کو جگہ دیں تو یقین ہے فکری جمود کی فضا، جس کا عرصے سے رونا رویا جا رہا ہے ،مستقبل قریب میں ختم کی جا سکتی ہے۔ 

افراطِ زر اور سود کے سلسلے میں محترم مغل صاحب نے حامیانِ سود کی ایک دلیل کا ذکر کیا ہے کہ وہ سود کا جواز اس امر واقعہ میں تلاش کرتے ہیں کہ افراطِ زر کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا اس کی تلافی سود سے کی جاتی ہے۔ ہمیں مغل صاحب سے مکمل اتفاق ہے کہ یہ دلیل انتہائی کمزور دلیل ہے۔ واقعہ یہ کہ ہمارے علم کی حد تک بعض حضرات کی طرف سے اسے محض الزامی جواب کے طور پر ہی پیش کیا گیا ہے چنانچہ یہ خیال کرنا شاید اتنا درست نہیں کہ مخالف نقطہ نظر کا انحصار اس یا اسی طرح کی کسی دلیل پر ہے۔ لہٰذا اس کو اس طور پر پیش کرنا کہ یہ کوئی بہت بڑی دلیل ہے، مسئلے کو سنجیدہ نہ لینے کے مترادف ہو گا۔ اس دلیل کی حیثیت بالکل وہی ہے جس کا ایک جگہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے ذکر کیا ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی کتاب سود میں بیہقی اور مسند حارث بن اسامہ کی احادیث ’کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربوا‘ اور ’کل قرض جر بہ نفعا فھو ربوٰا‘ کو بنیاد بنا کر بینک کے سود کو بھی ربا قرار دے کر حرام کہا تو کئی لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ احادیث قابل احتجاج نہیں۔ اس پر مولانا محترم نے ان لوگوں کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ’’بعض لوگ اس حدیث کی صحت پر اس دلیل سے کام کرتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے ۔ لیکن جو اصول اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، اسے تمام فقہائے امت نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ یہ قبولِ عام حدیث کے مضمون کو قوی کر دیتا ہے، خواہ روایت کے اعتبار سے اس کی سند ضعیف ہو۔‘‘(سود، ص ۲۶۶،۲۶۷)

یہی استدلال جب ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’بعض لوگ یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ اپنے مد مقابل کی طرف ایسا ضعیف قول منسوب کر دیتے ہیں جو اس نے نہیں کہا ہوتا، تاکہ اس قول کا ردو ابطال ان کے لیے آسان ہو۔حقیقت یہ ہے کہ فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند نہیں بنایا۔ اگر بعض کتب میں یہ مذکور ہے تو یہ ایسی کتب ہیں جو منقولہ اقوال کی صحت کا خیال نہیں رکھتیں۔ فقہا تو اس قرض پر ایسے نفع کو جائز قرار دیتے ہیں جن کا قرض دیتے وقت ذکر نہیں کیا گیابلکہ مقروض نے ادائیگی قرض کے وقت حسن اخلاق کی خاطر کچھ زائد پیسے ادا کر دیے اور فرمایا ’’خیر کم احسنکم اداء‘‘ کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو اچھے طریقے سے قرض ادا کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’کل قرض جر نفعا فھو ربا‘‘ صحیح نہیں۔ اور صحیح یہ ہے کہ وہ قرض جس کو پیشگی نفع کے ساتھ مشروط کیا جائے، وہ سود(ربا) ہے۔‘‘ (ربا اور بینک کا سود، ص ۳۳)

یہاں اس سے بحث نہیں کہ آیا ربا کی یہ تعریف درست ہے جو بقول مولانا مودودی حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ ہر قرض پر اضافہ ربا ہے یا ڈاکٹر قرضاوی کا قول درست ہے کہ بغیر شرط کے قرض پر اضافہ بالکل جائز ہے جسے مولانا مودودی حرام قرار دیتے ہیں۔ اس مختصر سے مضمون میں ہم ان دونوں حضرات کی تعریفوں کا محاکمہ کرنے بھی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ یہاں ہم ڈاکٹر صاحب محترم کی اس دلیل کو سامنے لا رہے ہیں کہ مد مقابل کی کمزور دلیل کا سہارا لے کر اگر ہم کسی بھی چیز کا تجزیہ کریں گے تو شاید حقیقت تک پہنچنے میں کامیابی نہ ہو۔ اسی لیے ہمارا خیال ہے کہ ’ ربا ‘ پر بات کرتے ہوئے ہمیں افراطِ زر اور سود کے تعلق کو پس پشت ڈالنا ہو گا۔ ورنہ منجمد اثاثے اور سیال اثاثے کو بنیاد بنا کر کلہاڑیوں کی مثالوں سے کھربوں تک کے حسابات پیش کر کے ربا کی درست تعریف ہو سکتی ہے نہ سود کی۔ کرنسی کی درست توجیہ کے لیے ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا۔ اور اگر ہم کسی طرح paradigm shift کرنے کے قابل ہو جائیں تو عین ممکن ہے، تصویر کا دوسرا رخ جو پہلے دھندلایا سا تھا ، صاف نظر آنا شروع ہو جائے۔ چونکہ ، جیسا کہ ہم نے ابتدا میں عرض کیا تھا، افراطِ زر کی دلیل واقعی کمزور ہے، اس لیے ہم اس پوری بحث سے صرفِ نظر کر کے اصل سوال کی تلاش میں اہلِ علم کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جس پر غوروفکر کر کے ہم نہ صرف ربا کی درست تعریف تک پہنچ سکتے ہیں بلکہ سود اور افراطِ زر جیسی کمزور دلیلوں سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ 

امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ساری بحث اس لیے جاری ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اس قبیح گناہ سے بچ سکیں جس کو قرآن مجید میں سنگین ترین قرار دیا ہے۔ اسی کی نشاندہی کی کوشش کرتے ہوئے ہم ان پگڈنڈیوں کی طرف نکل آئے جن کی ہلکی سی مشابہت بھی ہمیں نظر آئی اور ان پر سفر کرتے ہوئے ان بے شمار سوالات و جوابات کی کانٹے دار جھاڑیوں میں الجھ گئے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ ہم اصل شاہراہ کی طرف متوجہ ہو کر اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ 

اصل سوال تو صرف ایک ہے کہ ’ ربا‘ کیا ہے جس کی اتنی شدت سے قرآن میں ممانعت آئی ہے۔ نہ صرف قرآن بلکہ تمام الہامی مذاہب اور فلاسفہ میں اس کو قابلِ نفرت اور سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے لیے تنقیح طلب اموریہ ہو سکتے ہیں:

۱۔ ’ربا‘ صرف کرنسی میں پیدا ہوتا ہے یا دیگر اشیا میں بھی؟

۲۔ کرنسی کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ بھی کوئی شے یعنی commodity ہے ؟ کیا جو شے ذریعہ مبادلہ Medium of exchange ہو، وہ ’’بذاتِ خود‘‘ نفع آور نہیں ہوتی؟

۳۔ کیا کرنسی ’مال‘ کی تعریف میں آتی ہے؟ اگر نہیں تو کیا’ ربا‘ صرف کرنسی میں پیدا ہوتا ہے اور مال میں نہیں؟اگر کرنسی بھی مال ہی ہے تو منجمد سرمایے اور سیال سرمایے کے کرایے کو ’ربا‘ قرار دینے میں فرق کیسا؟

۱۔ دورِ حاضر کے بعض اہلِ علم کے ہاں یہ رجحان بالعموم پایا جاتا ہے کہ ’ربا‘ کرنسی ہی میں پایا جاتا ہے ۔ ان کے ہاں چونکہ محض قرض دے کے اس پر اضافے کو ’ربا‘ کہا جاتا ہے، اس لیے عموماً دلیل اسی قسم کی دی جاتی ہے کہ یہ کوئی اثاثہ تھوڑا ہی ہے کہ اس کا ’کرایہ‘ حاصل کیا جاسکے۔ اس کی اپنی ذاتی افادیت نہیں ہے، یہ تو محض ایک سہولت ہے جسے انسان نے اشیا کے تبادلے کے لیے ایجاد کیا ہے۔ یہ اہل علم ایک طرف تو کرنسی کو قرض قرار دے کر اضافہ کو ’ربا‘ قرار دیتے ہیں، لیکن دورانِ بحث اشیا کے تبادلے پر بھی ’ربا‘ کے پیدا ہونے کو تسلیم کرتے ہیں اور اس طرح خلط مبحث کا شکار ہو کر اصل مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔اصل سوال کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ہماری کوشش ہو گی کہ اہل علم ایک ہی موقف پر یکسو ہوسکیں۔ 

۲۔ یہ اہل علم کرنسی کو سیال سرمایہ (Liquid capital) قرار دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ’ ’بذات خود کرنسی کا کرایہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ کرنسی ’’بذات خود‘‘ نفع آور نہیں، اس کی نفع آوری ان اشیاء پر منحصر ہے جو اس سے خریدی جاتی ہیں‘‘ ۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز محض ذریعہ مبادلہ (Medium of exchange) ہو، وہ ’’بذات خود‘‘ نفع آور کس طرح ہو سکتی ہے۔ ان کے ہاں غالباً افادیت اسی کا نام ہے کہ کوئی چیز کھا پی کر ہضم کر لی جائے۔ ہمارے سامنے یہ محض دعویٰ ہی ہے جس کی کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی۔معلوم نہیں قرآن یا حدیث کے کس جملے سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا ہے کہ جو شے ذریعہ مبادلہ ہو، وہ ’’بذات خود‘‘ نفع آور نہیں ہو سکتی۔ ہمارا خیال ہے کہ کرنسی بھی نفع آور شے ہے۔ پھول کو سونگھ کر، شیرینی کو چکھ کر، کتاب کو پڑھ کر اور کھانے کی چیز کو کھا کر افادہ حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح کرنسی کی افادیت یہی ہے کہ یہ ہمیں سہولت فراہم کرتی ہے کہ اس سے ہم روزمرہ کی چیزیں خرید کر استعمال میں لے آئیں۔ ذرا سوچیے تو سہی کہ یہ ذریعہ مبادلہ نہ ہو تو آج کے دور ہم کس مشکل میں پڑ جائیں۔ کیا اس کی یہ نفع آوری اور افادیت ہمیں نظر نہیں آتی؟

چونکہ یہ حضرات کرنسی کو (بجا طور پر) ذریعہ مبادلہ سمجھتے ہیں، اس لیے اسے کوئی شے (Commodity) نہیں سمجھتے اوراس کی ذاتی قدر (سونے،چاندی، گندم،جو وغیرہ کی طرح) کی نفی کرتے ہیں۔ یہ رائے پہلے پہل فقہائے متاخرین کے ہاں ملتی ہے جو زر،کرنسی اور فلوس میں اس بنا پر فرق کرتے ہیں کہ آج کل زر قانونی ذاتی قدر نہیں رکھتے، اس لیے یہ کوئی شے (Commodity) ہی نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ چونکہ موجودہ زر یا کرنسی نوٹ شرعی اعتبار سے فلوس کے حکم میں ہیں، اس لیے نہ تو ان پر نقدین(سونے،چاندی)کی طرح زکوٰۃ واجب ہوگی اور نہ ان پر ربا کے احکام جاری ہوں گے۔ مثلاً متاخرین شافعیہ میں سے شیخ سلیمان اسعردیؒ ا رشاد ہے کہ: ’’شافعیہ کے نزدیک کرنسی نوٹ تمام احکام میں فلوس کی طرح ہیں، لہٰذا ان کی آپس میں خریدو فروخت، کمی بیشی اور ادھار سب جائز ہیں کیونکہ یہ سودی اموال میں سے نہیں ہیں‘‘ (ڈاکٹر محمد توفیق رمضان البوطی: خریدو فروخت کی مروجہ صورتیں اور ان کی شرعی حیثیت؛ ص ۴۳۶)۔ ہمارے اپنے خطے کے حضرت احمد رضا خان صاحب بریلویؒ کی رائے یہ ہے کہ ’’نوٹوں میں سرے سے قدر پائی ہی نہیں جاتی۔ چونکہ نوٹ اموالِ ربویہ میں سے نہیں، اس لیے ان میں کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں۔‘‘ (ایضاً ،ص ۴۳۵)

ہمارا نہیں خیال کہ محترم مغل صاحب، مکمل طور پر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان صاحبؒ سے (ان سے ذہنی وفکری ہم آہنگی ہونے کے باوجود) متفق ہوں گے۔ وہ تو کرنسی نوٹس پر احکامِ ربویہ جاری کرتے ہیں، جب کہ خان صاحب علیہ الرحمہ کرنسی نوٹس کو اموالِ ربویہ ہی نہیں سمجھتے ۔ جہاں تک کرنسی یا زر کو شے (Commodity) نہ سمجھنے کا تعلق ہے، یہ کسی کا ذہنی مسئلہ ہو سکتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں۔ کسی کے نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حقیقی اور زمینی حقائق کیا ہیں۔ ڈاکٹر رمضان البوطی اپنا نتیجہ فکر ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں: ’’آج کرنسی نوٹوں کی وہی حیثیت ہے جو سونے اور چاندی کے رواج کے دور میں دراہم و دنانیر کی ہوا کرتی تھی اور (اجمالی طور پر) ان پر وہی احکام جاری ہوتے ہیں جو دراہم و دنانیر پر جاری ہوتے تھے۔ متداول کرنسی نوٹ محض کاغذ کا ایک پرزہ نہیں رہا،بلکہ یہ اس قیمت کی نمائندگی کرتا ہے جس کے ذریعہ لوگ معاملات کرتے اور اسے ثمن اور اُجرت کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں، بلکہ اس سے کاغذ یت کا وصف ایسے ختم ہو چکا ہے کہ یہ وصف اس قیمت اور ویلیو کے مقابلے میں جس کی یہ کرنسی نوٹ نمائندگی کرتا ہے، تقریباً فراموش ہونے کو ہے۔‘‘ (ایضاً، ص ۴۴۶) 

علمائے کرام کی قدیم رائے میں تو واقعی یہی سمجھا جاتا تھا کہ کرنسی نوٹ میں ذاتی قدر و قیمت نہیں رکھتے، اس لیے اس میں ثمنیت نہیں پائی جاتی۔ لیکن اب تو فیصلہ ہو چکا کہ زر میں مکمل ثمنیت پائی جاتی ہے، جب ہی تو اس سے ’منجمد‘ اثاثے خریدے جا سکتے ہیں۔ ورنہ جس کی کوئی اپنی قدر یا حیثیت ہی نہ ہو، اس سے کوئی خاک خرید سکتا ہے۔ اب یہ تو کموڈٹی کی جگہ لے چکا۔ اب اصل حیثیت تو زر ہی کو حاصل ہے نہ کہ کسی اور’ کموڈٹی‘ کو۔ مثال کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایک فرد کے پاس زر ہے تو وہ سونا بھی خرید سکتا ہے، گاڑی اور گندم بھی۔ لیکن ایک فرد کے پس گندم کا ڈھیر پڑا ہو تو وہ اس سے کار، کپڑے اور سونا تب ہی خرید سکتا ہے جب وہ پہلے گندم کو فروخت کر کے زر حاصل کرے گا۔ زر کموڈٹی بن چکا۔ اب یہ بحث محض ذہنی وعلمی عیاشی کے زمرے میں ہی آئے گی۔ چنانچہ دیکھیے، ہمیں زر کی تعریف ان الفاظ میں ملتی ہے: 

"Money as legal tender, is a commodity or asset, or an officially-issued currency or coin that can be legally exchanged for something of equal value, such as a good or service or that can be used in payment of a debt."

جی ہاں، زر ایک کموڈٹی یا اثاثہ ہے۔ اس حقیقت سے آنکھیں چرانا اب مشکل ہے، اسی لیے ہمیں ہر ادارے کی بیلنس شیٹ میں کیش تو اثاثہ ہی نظر آتا ہے۔ اب تو اسلامی مالیات پر لکھنے والے بھی اس کی صراحت کرنے لگے ہیں۔ محمد ایوب ، اپنی کتاب ’اسلامی مالیات‘ میں لکھتے ہیں: ’’اثاثوں میں صرفی اشیاء، پائیدار اشیاء، زری اکائیاں یا تبادلے کے ذرائع (Medium of Exchange) جیسے سونا، چاندی، اور دیگر کرنسیاں، اثاثوں کی نمائندگی کرنے والے حصص وغیرہ شامل ہیں۔‘‘ ( ص، ۷۰)۔ اب زری اکائیاں اور تمام کرنسیاں اثاثے میں شمار ہوتے ہیں۔ 

ڈاکٹر البوطی اپنی اسی کتاب میں رقمطراز ہیں: ’’فقہ اکیڈمی جدہ نے ۸۔۱۳ صفر ۱۴۰۷ھ بمطابق ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۶ ء کو اردن میں منعقد ہونے والے اپنے تیسرے اجلاس کی قرارداد نمبر ۹ میں صراحتاً لکھا ہے کہ ’کرنسی نوٹ زر اعتباری ہیں، جن میں مکمل ثمنیت پائی جاتی ہے۔ سود، زکوٰۃ، سلم اور دیگر احکام کے اعتبار سے ان کا وہی حکم ہے جو سونے چاندی کا ہے....چونکہ عصرِ حاضر میں کرنسی نوٹوں نے لین دین اور تبادلہ کے وسیلہ کی حیثیت سے ثمن خلقی یعنی سونے چاندی کی جگہ لے لی ہے، اس لیے حکم کے اعتبار سے ان کے ساتھ ثمنِ حقیقی والا کیا جائے گا۔‘ ‘‘ ( ایضاً ص، ۴۴۷) مختصر یہ کہ دورِ حاضر میں یہ بحث تو اب بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہو چکی ہے۔ 

۳۔کیا کرنسی ’مال‘ کی تعریف میں آتی ہے؟ اگر نہیں تو کیا’ ربا‘ صرف کرنسی میں پیدا ہوتا ہے اور مال میں نہیں؟اگر کرنسی بھی مال ہی ہے تو منجمد سرمایے اور سیال سرمایے کے کرایے کو ’ربا‘ قرار دینے میں فرق کیسا؟ درج بالا بحث سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ کرنسی بھی مال کی ایک قسم ہے۔ اگر بعض اہل علم کے اس قول کو تسلیم کیا جائے کہ زر یا کرنسی کوئی اثاثہ نہیں، اس کا ’بذات خود‘ کوئی افادہ ہے نہ یہ نفع آور شے ہے، تو پھر اس پر احکامِ ربویہ اور زکوٰۃ یقیناًلاگو نہیں ہوتے اور نہیں ہونے چاہییں۔ ایک بیکار محض شے پر واقعی کوئی ’کرایہ‘ کیوں دے ، بلکہ اس کو اپنے پاس ہی کیوں رکھے؟لیکن ذرا رکیے! ہمارے یہ اہل علم اسی ’بیکار‘ شے پر ہی تو احکامِ ربویہ جاری کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں اگر پہلے ان سوالات کے دوٹوک انداز میں جوابات میسر آ جائیں تو مسئلہ زیرِ بحث کو سلجھانے میں نسبتاً آسانی حاصل ہو جائے گی۔ 

اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں کہ ’ ربا‘ ہے کیا جس کی اتنی شدت سے قرآن میں ممانعت آئی ہے۔ نہ صرف قرآن بلکہ تمام الہامی مذاہب اور فلاسفہ میں اس کو قابلِ نفرت اور سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ سوال حل ہو جائے تو سود اور کرایے کی بحث سے جان چھوٹ سکتی ہے، جو یقیناًایک غیر اہم بحث ہے۔

بیسویں صدی کے وسط میں ،جب استعمار کے قبضے سے مسلمان ابھی پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے، دنیائے اسلام میں آزادی کی تحریکیں سامنے آنا شروع ہو چکی تھیں۔ ان ہی تحریکوں میں وہ تحریکیں بھی شامل تھیں جو قومیت کی بنا پر نہیں،بلکہ اسلام کو بنیاد بناکر استعمار کے نقش پا ختم کر کے اپنے اپنے ممالک میں انقلاب کی نیو ڈال رہی تھیں۔ یہ تو صاف ظاہر تھا کہ استعمار تجارت کے ذریعے سرمایے کے بل بوتے پر مسلم ممالک پر قابض ہوا تھا۔ یہ بھی واضح تھا کہ سرمایے کی منتقلی و کشش میں نظامِ بینکاری کا بہت بڑا دخل تھااور اس کا وجود و بقاکا انحصار سود پر تھا اور ہے۔ ان حالات میں ان تحریکوں نے یہ ضروری سمجھا کہ اگراستعمار پر ضرب لگانی ہے تو اس کی بنیاد پر تیشہ رکھنا پڑے گا۔ اس کی قوت و شان کو اگر ختم کرنا ہے تو اس کے بغیر ممکن نہیں کہ سرمایہ ساز کارخانوں (بینکوں)کی موجودہ حیثیت کو ختم کیا جائے۔ یہ تھے وہ حالات جن میں وہ دلائل تلاش کیے گئے جن کے بل بوتے پر بینک کے سود کو ’ربا‘ قرار دے کر حرام قرار دیا گیا۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ اس دور میں عقلی و نقلی اور بڑے سائنٹفک انداز میں سود کے خلاف دلائل سامنے آئے۔ آج کے دور کے اہل علم کی یہ ایک بڑی علمی خدمت ہو گی کہ درست تناظر میں ربا اور سود کے بارے میں اصل سوال کو سامنے لائیں۔

ہمارے نزدیک اصل سوال تب ہی سامنے آسکتا ہے جب ہم ربا اور سود کے متعلق علمائے کرام کے تمام دلائل کا جائزہ لیں گے۔ 

علمائے کرام نے سود کو ’ ربا‘ قرار دینے کے لیے اس کے خلاف جو دلائل فراہم کیے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

(۱) ربا کی تعریف اور لغوی بحث (۲) معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مفاسد۔

(۱) ربا کی تعریفیں

ہم نے دنیائے اسلام کی چار نمائندہ تعریفوں کا چنا ہے۔ تمام علمائے کرام کم و بیش ان پر متفق ہیں:

(الف۔۱) سید ابوالاعلی مودودیؒ

آپ نے اپنی تعریف مسندحارث بن اسامہ اور بیہقی کی روایت پر رکھی ہے۔ آپ کے الفاظ میں ’’لغت اور قرآن کے بعد تیسرا اہم ترین ماخذ سنت ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کا منشا معلوم کیا جا سکتا ہے۔یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ علت حکم مجرد زیادتی کو قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے : کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربوا (البیہقی) اور کل قرض جر بہ نفعا فھو ربوا۔ (مسند حارث بن اسامہ) یعنی ہر وہ اضافہ جو قرض پر حاصل ہو، ربا ہے۔ آپ کے ارشاد کے مطابق ’’امت کے تمام فقہا نے بالاتفاق اس حکم کا منشا یہی سمجھا ہے کہ قرض کے معاملہ میں اصل سے زائد جو کچھ بھی لیا جائے، وہ حرام ہے‘‘ نیز یہ کہ ’’قرآن جس چیز کو حرام کر رہا ہے اس کے لیے وہ مطلق لفظ ’الربوا‘ استعمال کرتا ہے جس کا مفہوم لغت عرب میں مجرد زیادتی ہے۔‘‘ (سود، ص ۲۶۵،۲۶۶،۲۶۷)۔ 

اس سے چند چیزیں واضح ہوتی ہیں:

  • ربا قرض کے معاملے میں ہوتاہے۔
  • راس المال پر مجرد اضافہ یا زیادتی ربا ہے۔اس کے لیے پیشگی شرط ضروری نہیں۔
  • متعین اور فکسڈ اضافہ نہ ہو، پھر بھی وہ ربا ہو گا۔

بعض لوگوں نے جب اس روایت پر ضعیف سند کے حوالے سے اعتراض کیا کہ قابل قبول نہیں تو آپ نے فرمایا: ’’بعض لوگ اس حدیث اس حدیث پر اس دلیل سے کلام کرتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ لیکن جو اصول اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، اسے تمام فقہائے امت نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ یہ قبولِ عام حدیث کے مضمون کو قوی کر دیتا ہے، خواہ روایت کے اعتبار سے اس کی سند ضعیف ہو۔‘‘ (سود، ص ۲۶۶) ۔ 

(الف۔۲) مولانا محترم نے ربا کی ایک اور تعریف بھی کی ہے جو پہلی سے مختلف ہے۔اس میں راس المال پر مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعین کے ساتھ اضافے کو ربا قرار دیا گیا ہے۔ آپ رقمطراز ہیں: ’’قرض میں دیے ہوئے راس المال پر جو زائد رقم مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعین کے ساتھ لی جائے، وہ ’سود‘ ہے۔ راس المال پر اضافہ ، اضافہ کی تعین مدت کے لحاظ سے کیے جانا اور معاملہ میں اس کا شرط ہونا، یہ تین اجزائے ترکیبی ہیں جن سے سود بنتا ہے۔‘‘ (سود، ص ۱۵۳، تفہیم القرآن جلد اول، سورۃ البقرہ، حاشیہ ۳۱۵)۔ اس تعریف کے مطابق :

  • راس المال پر مجرد اضافہ ربا نہیں،بلکہ اضافہ مدت کے لحاظ سے ہو اور اس کا شرط ہونا۔
  • اگر مدت کے تعین کے ساتھ اضافہ کی شرط نہ عائد کی گئی ہو تو وہ اضافہ ربا نہیں ہوگا۔

(۲) ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی

ڈاکٹر صاحب، مولانا مودودیؒ کی پہلی تعریف سے بالکل اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اس فکر پر سخت تنقید کرتے نظر آتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ سطور میں ذکر کیا گیا ہے۔اسی کی تائید محمد ایوب صاحب ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’قرض ادا کرتے وقت کسی پیشگی شرط کے بغیر اصل رقم سے زائد دینا قابل ستائش اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہے۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقروض تھے۔ آپ نے مجھے ادائیگی کی اور اصل سے زیادہ رقم دی۔ (مسلم، ۱۹۸۱، ۱۰م ص ۲۱۹، نسائی ص ۲۸۳، ۲۸۴، ابن قدامہ، ص ۳۲۰،۳۲۱)۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار میں لیے گئے ایک اونٹ کی ادائیگی کے لیے ایک بہتر اونٹ دینے کا حکم دیا کیونکہ ادائیگی کے وقت مطلوبہ عمر کا اونٹ دستیاب نہ تھا۔ ‘‘ (اسلامی مالیات، ص ۲۱۸)۔

اس موقف کے لازمی نتائج:

  • فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند نہیں بنایا، جیسا کہ مولانا محترم کا ارشاد ہے۔
  • مطلقاً ہر اضافہ ربا نہیں، بلکہ وہی اضافہ ربا ہے جو قرض کو پیشگی نفع کے ساتھ مشروط کرتا ہو۔
  • دورِ جاہلیت کا ربا جائز ہو جائے گا، کیونکہ وہاں بسا اوقات اضافہ پیشگی مشروط نہیں ہوتا تھا۔

(۳)مفتی محمد شفیعؒ

مفتی صاحب علیہ الرحمہ ربا کی تعریف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’ اصطلاحِ شریعت میں ایسی زیادتی کو ’ربا‘ کہتے ہیں جو بغیر کسی مالی معاوضہ کے حاصل کی جائے۔ اس میں وہ زیادتی بھی داخل ہے جو روپیہ کو ادھار دینے پرحاصل کی جائے کیونکہ مال کے عوض معاوضہ میں تو راس المال پورا مل جاتا ہے۔ جو زیادتی بنام سود یا انٹرسٹ لی جاتی ہے، وہ بے معاوضہ ہے۔‘‘ (سود، ص،۱۵۔۲۲)۔

اس تعریف کے اجزائے ترکیبی کے لازمی نتائج:

  • اس میں قرض کا لفظ غائب ہے (اگرچہ مفتی صاحب مرحوم کی دوسری تعریف میں یہ لفظ پایا جاتا ہے)۔
  • اس تعریف کے مطابق ایسی زیادتی یا بڑھوتری کو ’ربا‘ کہا گیا ہے جو بغیر مالی معاوضہ کے حاصل کی جائے۔یہ تعریف صاف بتا رہی ہے کہ روپیہ ادھار دینے سے جو بڑھوتری حاصل ہو رہی ہے، وہ تو ربا ہے ہی، اس کے علاوہ بھی ’بغیر کسی مالی معاوضہ‘ کے حاصل ہونے والی زیادتی ربا ہے۔ اب درج ذیل مثالوں پر اس تعریف کا اطلاق کے بعدجو نتیجہ حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے:

(۱) ایک فرد نے کسی جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے ایک ہزار روپے کی مالیت کے شیئرز خرید رکھے ہیں۔ اسے ہر سال بغیر کسی محنت کے کمپنی کی طرف سے منافع کے نام سے دو سو روپے کا اضافہ ملتا ہے۔ اس تعریف کی رو سے یہ دو سو روپے کا اضافہ ’ربا‘ ہو جائے گا کیونکہ یہ اضافہ بہر حال ’بغیر کسی مالی معاوضہ کے حاصل ہو رہا ہے۔

(۲) مضاربت میں لگائی جانے والی رقم کا معاوضہ بھی ’ربا‘ ہوگا، اس لیے کہ وہ اضافہ بھی بغیر کسی ’مالی معاوضہ‘ کے حاصل ہو رہا ہے۔

(۴) پروفیسر خورشید احمد

پروفیسرصاحب نے ربا کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے: 

"What is forbidden is that fixed and predetermined return for one factor." (M. Kabir Hassan and Meryn: Islamic Finance; p.88)

یعنی جس چیز کی ممانعت ہے، وہ یہ ہے کہ کسی ایک عامل کو پہلے سے مقرر و متعین معاوضہ ملے۔ پروفیسر صاحب نے اس تعریف کے علاوہ بھی تعریف کی ہے، لیکن اس جگہ جو تعریف کی گئی اس کا لازمی نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ زمین کا معاوضہ یعنی ’کرایہ‘ اور محنت کا معاوضہ یعنی ’اجرت ‘ بھی ’ربا‘ ہو جائے گا کیونکہ یہ دونوں ہی پہلے سے مقرر اور متعین ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں چاروں عوامل پیداوار میں سے صرف تنظیم (Organization) ہی وہ واحد عامل بچتا ہے جس کا معاوضہ جائز ہو گا۔ باقی تینوں عوامل پہلے سے مقرر و متعین معاوضے ہی لیتے ہیں جو ممنوع اور حرام متصور ہوں گے۔

ان تعریفوں کے تجزیے سے جو چیز سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ سب تعریفیں نہ صرف آپس میں متضاد ہیں، بلکہ ایک ہی مفکر کی بعض تعریفیں بھی آپس میں ٹکراتی ہیں۔( مثلاً)سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحقیق کے مطابق ضعیف سند والی روایت کو بالاتفاق فقہا نے تسلیم کیا ہے جب کہ ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی نے اس کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ’فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند بالکل نہیں بنایا‘۔ ربا کی تعریف رہی ایک طرف ، اب اس مسئلے کو کون حل کرے کہ فقہا نے کس چیز کو بنیاد بنایا یا نہیں بنایا۔ 

لُغوی اور اصطلاحی بحث

راس المال پر اضافے کے متعلق بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’ربا‘ کے لُغوی مفہوم اور اصطلاحی مفہوم میں فرق ہے۔ حرام صرف اصطلاحی مفہوم میں ہے نہ کہ لُغوی مفہوم میں۔ مولانا محمد عبیداللہ اسعدی لکھتے ہیں: ’’الربوا بمعنی زیادتی عربی لفظ ہے جس کا اطلاق ہر زیادتی پر ہو سکتا ہے، اور معاملاتِ خریدوفروخت میں زیادتی کو ہی نفع کہتے ہیں لیکن الربوا سے ہر زیادتی نہیں مراد ہوتی بلکہ خاص زیادتی مراد ہوتی ہے۔‘‘ ( الربا، ص ۳۱)

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی لکھا کہ: ’’....ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اصل رقم پر جو زیادتی بھی ہو گی، وہ ’ربوا‘ کہلائے گی، لیکن قرآن مجید نے مطلق ہر زیادتی کو حرام نہیں کیا ہے۔ زیادتی تو تجارت میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن جس زیادتی کو حرام قرار دیتا ہے، وہ ایک خاص قسم کی زیادتی ہے، اسی لیے وہ اس کو ’الربوا‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔‘‘ (سود؛ ص ۱۴۹)

ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ علمائے کرام بالعموم ’ربا‘ کے لُغوی اور اصطلاحی مفہوم میں فرق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لُغت کا اگر اعتبار کیا جائے تو تجارت میں جو زیادتی ، بڑھوتری یا فائدہ ہو تا ہے، اس پر بھی ’ربا‘ کا اطلاق ہوتا ہے اور قرآن نے ’ربا‘ پر معرفہ کا الف لام ’ال‘ لگا کر اسے تجارت کے فائدے سے الگ کر کے قرض پر زیادتی کے لیے خاص کر دیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہی ہے کہ دورِ جاہلیت کے عرب قرض پر حاصل ہونے والی بڑھوتری کے لیے ’ربا‘ نہیں، بلکہ ’الربوا‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔عربی لغت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے برعکس ہمیں تو یہ نظر آتا ہے کہ تجارت میں ہونے والے فائدے کے لیے اہل عرب ’ربح‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ امام راغبؒ مفردات القرآن میں ’ربح‘ کے مادّے کے تحت لکھتے ہیں کہ ربح وہ فائدہ ہے جو تجارت میں چیزوں کے تبادلے سے حاصل ہو۔ چنانچہ قرآن میں ہے کہ ’فما ربحت تجارتھم ‘ (البقرہ: ۱۶)۔ پس ان کی تجارت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ ’ربح و رباح‘ تجارت میں اضافہ و ترقی کو کہتے ہیں۔ (تاج العروس)

چونکہ تجارت میں فائدے کے لیے عربی میں ’ربا‘ (مادّہ رب و)کا لفظ موجود ہی نہیں، اس لیے اس پر الف لام (ال) لگاکر قرض پر حاصل ہونے والی زیادتی کا خاص مفہوم پیدا کرنے کا تصور ہی بے معنی ہے۔ ’ربا‘ کے لفظ میں ہی قرض پر بڑھوتری و زیادتی تصور موجود تھا اور اہل عرب اس لفظ کو اسی معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ الف لام لگا کر البتہ قرآن نے اس قرض کو خاص کر دیا جس پر اضافہ کو حرام قرار دینا مقصود تھا۔ حضرت مفتی محمد شفیعؒ بہت حوالوں کے بعد لکھتے ہیں: 

’’مذکورہ الصدر حوالوں سے یہ واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ لفظ ’ربا‘ ایک مخصوص معاملہ کے لیے عربی زبان میں نزولِ قرآن سے پہلے سے متعارف چلا آتا تھا، اور پورے عرب میں اس معاملہ کا رواج تھا، وہ یہ کہ قرض دے کر اس پر کوئی نفع لیا جائے اور عرب صرف اسی کو ربا کہتے اور سمجھتے تھے۔‘‘ (مسئلہ سود؛ ص ۲۳)

اگر عرب لفظ ’ربا‘ کو ایک مخصوص معاملہ یعنی قرض پر بڑھوتری کے لیے استعمال کرتے تھے تو یہ کہنا کس طور درست ہو سکتا ہے کہ معاملات خریدوفروخت اور تجارت پر ہونے والے فائدے کے لیے ’ربا‘ کا اطلاق ہو سکتا ہے؟

(۲) معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مفاسد

علمائے کرام نے لُغوی اور اصطلاحی تعریفوں کے علاوہ معاشی،معاشری اور اخلاقی مفاسد بھی گنوائے ہیں، جو ان کے خیال میں ’ربا‘ میں تو پائے جاتے ہیں، لیکن بینک انٹرسٹ میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہاں ہم ان دلائل کا جائزہ لیں گے جن کے سہارے بینک انٹرسٹ کو ربا قرار دے کر حرام کیا گیا ہے۔ 

(الف) معاشی دلائل

  • سود (ربا) چیزوں کی لاگت میں شامل ہو کر مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔
  • دولت کا رخ غریبوں کی طرف سے امیروں کی طرف ہوتا ہے۔ 
  • امیروں کی طرف دولت کے بہاؤ کی وجہ سے دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔

(الف۔۱) مہنگائی کا مسئلہ

دولت کی پیدائش میں بنیادی طور میں چار عوامل (Factors of Production) ،زمین، محنت،سرمایہ اور تنظیم شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب عوامل تقسیم دولت میں اپنے معاوضے کی صورت میں حاصل کرتے ہیں۔ زمین کرایے کے نام سے، محنت اُجرت کے نام سے ، سرمایہ سود اور تنظیم منافع کے نام سے اپنا اپنا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک میز کی لاگت میں عاملین پیدائش پر مصارف اس طرح آئے:

(زمین) کرایہ: ۲۰ روپے 

(محنت) اُجرت: ۲۵ روپے

(سرمایہ) سود: ۲۰ روپے

(تنظیم) منافع: ۳۵ روپے

کل لاگت : ۱۰۰ روپے

اس مثال میں کسی بھی عامل کا معاوضہ اگر بڑھ جائے تو لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ محض سود ہی کی خاصیت نہیں۔ کرایہ بھی پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اُجرت بھی۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ چونکہ سود پہلے سے متعین ہوتا ہے، وہ تو لاگت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے، لیکن اُجرت اور کرایہ اضافے کا سبب نہیں سکتے۔ بلکہ منافع پہلے سے متعین نہیں ہوتا۔ وہ بھی اگر بڑھ جائے تو مہنگائی کا سبب جائے گا۔یہ محض پروپیگنڈا ہے اور بس۔ علمی تحقیق اور عقل کی میزان اس دلیل کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ اگر سود محض اس وجہ سے ربا بن کر حرام ہو جاتا ہے کہ وہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کرایہ ، اُجرت اور منافع بھی ربا نہ بن جائے۔ 

(الف۔۲) دولت کا بہاؤ امراء کی طرف

ابتدا میں ہی اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ علمائے کرام نے جتنے بھی مفاسد گنوائے ہیں، وہ کم و بیش فی الحقیقت ’الربوا‘ میں پائے جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کا اطلاق بینک کے سود پر بھی ہو سکتا ہے یا نہیں۔ 

علمائے کرام بالعموم ’ربا‘ کی دو قسمیں قرار دیتے ہیں۔ ایک، اہل حاجت کے قرضوں پر منافع یا بڑھوتری لینا۔ دوسرا، بینک کے قرضوں پر اضافہ ۔ اس کی عمدہ تشریح مولانا مودودیؒ نے ان الفاظ میں کی ہے: 

’’دنیا میں سب سے بڑھ کر سود خواری اس کاروبار میں ہوتی ہے جو مہاجنی کاروبار(Money Lending Business) کہلاتا ہے۔ یہ بلا صرف بر عظیم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایک عالم گیر بلا ہے جس سے دنیا کا کوئی ملک بچا ہوا نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ کہ دنیا میں کہیں بھی یہ انتظام نہیں ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو ان کی ہنگامی ضروریات کے لیے آسانی سے قرض مل جائے....یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک قلیل المعاش آدمی اپنی کسی فوری ضرورت کے لیے بینک تک پہنچ سکے اور اس سے قرض حاصل کر سکے۔ ان وجوہ سے مزدور، کسان، کم تنخواہوں والے ملازم اور غریب لوگ ہر ملک میں مجبور ہوتے ہیں کہ اپنی بُرے وقت پر ان مہاجنوں سے قرض لیں جو اپنی بستیوں کے قریب ہی ان کو گدھ کی طرح شکار کی تلاش میں منڈلاتے ہوئے مل جاتے ہیں۔
یہ وہ بلائے عظیم ہے جس میں ہر ملک کے غریب اور متوسط الحال طبقوں کی بڑی اکثریت بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے قلیل المعاش کارکنوں کی آمدنی کا بڑا حصہ مہاجن لے جاتا ہے۔ شب و روز کی ان تھک محنت کے بعدجو تھوڑی سی تنخواہیں یا مزدوریاں ان کو ملتی ہیں، ان میں سے سود ادا کرنے کے بعد ان کے پاس اتنا بھی نہیں بچتا کہ وہ دو وقت کی روٹی چلا سکیں.....اس لحاظ سے سودی کاروبار کی یہ قسم ایک ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اجتماعی معیشت کا بھی بھاری نقصان ہے۔‘‘ (سود؛ ص ۱۰۷ تا ۱۱۰)

ان افکار کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرضوں کی دو قسمیں ہیں۔ ذیل میں دو خاکے سامنے رکھ کر علمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق کر کے دیکھیں گے کہ وہ کس خاکے میں فٹ بیٹھتے ہیں:

خاکہ نمبر ۱


اس خاکے میں فاضل آمدنی والے افراد اہل حاجت یعنی غریب طبقے کو (مثلاً) ۱۰ فیصد شرح بڑھوتری پر قرض دیتے ہیں۔ یہ پسا ہوا طبقہ مجبوراً اپنی غمی خوشی کے موقع پر یا علاج معالجے کے لیے یا روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فاضل آمدنی والے افراد سے قرض کا طلب گار ہو تا ہے۔ یہ پسا ہوا طبقہ بقول مولانا مودودیؒ ہر سال سود ادا کرنے کے بعد اس قابل نہیں ہوتا کہ دو وقت کی روٹی بھی چلا سکے۔ اس خاکے سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہر سال یہ غریب لوگ اپنے پلے سے زیر بار ہوتے رہتے ہیں اور امیر لوگ اپنی جیبیں بھرتے رہتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس صورتِ حال میں دولت کا بہاؤ غریب سے امیر کی طرف جاری رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب پہلے سے زیادہ غریب ہو جائے اور امیر پہلے سے زیادہ امیر۔ جب یہ صورتِ حال ہوتی ہے تو دولت کا ارتکاز امیر طبقے کے ہاں ہوتا رہتا ہے۔ 

خاکہ نمبر ۲


خاکہ (ب) کا تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فاضل آمدنی والے افراد اپنی بچتیں بینک میں (مثلاً) ۵ فیصد شرح سود کے حساب سے جمع کرواتے ہیں۔ بینک آگے طبقہ امرا کو (مثلاً) ۱۵ فیصد شرح سود پر قرض دیتے ہیں۔ بینک کسی غریب فرد کو قرض نہیں دیتے۔ یہ طبقہ امراء بالعموم اس قرض کو تجارتی غرض کے لیے استعمال کرتا ہے۔ فرض کریں ان کو کاروبار میں ۳۰ فیصد منافع ہوا۔ یہ بینک کو ۱۵ فیصد ادا کرکے باقی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ بینک اسی طرح اپنے کھاتے داروں کو ۵ فیصد دے کر ۱۰ فیصد اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ اس خاکے میں نہ تو دولت کا بہاؤ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے (کیونکہ کہ اس پورے کھیل میں غریب کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا) اور نہ دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔ اس خاکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر طبقے میں دولت کا پھیلاؤ ہوا۔ اگر لوگ بینک میں اپنی بچتیں جمع نہ کرواتے یا بینک آگے قرض نہ دیتے تو دولت ایک ہی جگہ سکڑی رہتی، کسی کو بھی کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ ضمنی طور پر غریب کو اس لحاظ سے فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس طرح کاروبار کے وسیع پھیلاؤ کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔ 

(ب) اخلاقی اور معاشرتی مفاسد

(۱) ظلم: خاکہ ( الف ) اور (ب) کو ایک غیرجانبدارانہ نگاہ سے دیکھیں تو خاکہ (الف) میں ظلم صاف دکھائی دیتا ہے، بلکہ مولانا مودودیؒ تو صریحاً اس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’کاروبار کی یہ قسم صرف ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اسی میں اجتماعی معیشت کا بھی بڑا بھاری نقصان ہو۔‘‘ خاکہ (ب) میں تو سب کا فائدہ ہے، ظلم کہیں بھی نہیں۔

(۲)دوسری خرابی یہ بتائی گئی ہے کہ اس کے نتیجے میں آدمی خود غرض، بخیل، تنگ دل اور سنگدل بن جاتا ہے۔ یہ ساری خرابیاں خاکہ (الف) میں ملیں گی۔ ظاہر ہے کہ فاضل آمدنی والے افراد اگر اپنے سے کم تر حیثیت والے افراد کی حقیقی مشکل میں مدد کو نہیں آتے تو وہ انتہائی خود غرض، بخیل اور تنگ دل ہی ہو سکتے ہیں۔ خاکہ (ب) میں تو فاضل آمدنی والے بینک کے ذریعے اپنے سے کم حیثیت والے افراد کو نہیں، بلکہ طبقہ امرا کو ہی قرض فراہم کر رہے ہوتے ہیں جو اس قرض کو اپنے کاروبار کو وسیع کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہاں سود کھانے والے (یعنی بینک کے کھاتے دار) پر بخیل، خود غرض، تنگ دل اور سنگ دل جیسے القابات پکارا جانا انتہائی مشکل ہے۔ لہٰذا ہم یہ برائی خاکہ (الف) میں تو دیکھتے ہیں، لیکن خاکہ (ب) میں اس کا اطلاق درست نہیں۔

(۳) ایک اور خرابی یہ بتائی جاتی ہے کہ بے محنت اور بے مشقت کمائی کی قدر نہیں ہوتی اور آدمی اسراف و تبذیر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لگتا ہے اس جزیئے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ اوپر کہا گیا تھا کہ ’سود‘ کی کمائی کھانے والا بخیل ہوتا ہے، اور یہا ں کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ انتہائی فضول خرچ ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسراف و تبذیر اور بخیلی جیسی اخلاقی برائیاں سود کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتیں۔ ہم نے کتنے ہی ایسے دولت مند دیکھے ہیں جن کا بینک انٹرسٹ سے کوئی لین دین ہی نہیں، لیکن ان میں سے بعض انتہائی کنجوس اور پرلے درجے کے بخیل ہیں اور بعض انتہائی فضول خرچ۔ اس کے برعکس کئی افراد جو سود میں تو ملوث ہیں، لیکن انتہائی فیاض پائے گئے ہیں۔ بل گیٹس، کمپیوٹر کی دنیا کا ایک اہم نام، یقیناًجو سود کے لین دین میں شریک ہے لیکن کئی قسم کے خیراتی کاموں میں پیش پیش نظر آتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ مضاربت وغیرہ کی بے محنت و مشقت کمائی بھی کیا انسان کو اسراف و تبذیر اور فضول خرچی میں مبتلا کرتی ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بھی بغیر محنت و مشقت کے حاصل ہونے والی کمائی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سود کے نام سے حاصل ہونے والی بے محنت آمدنی تو انسان کو اسراف میں مبتلا کردے، لیکن مضاربت کی بے محنت کمائی یہ کام نہ کر سکے۔

درج بالا سطور میں علمائے کرام کے ان تمام دلائل کا جائزہ لیا گیا جن کے بل بوتے پر بینک انٹرسٹ کو ’ربا‘ قرار دے کر حرام کیا جاتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ جب تک کوئی مضبوط اور ٹھوس دلائل موجود نہ ہوں، اس وقت تک ہمیں کسی چیز کو حرام قرار دینے کی جرات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔ جب یہ حرکت ہم سے سرزد ہو جاتی ہے تو پھراسی طرح کی غیر متعلق بحث جنم لیتی ہے جس کا ہم نے شروع میں ذکر کیا تھا۔ 

علمائے کرام کے دلائل سے قطع نظر جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں تو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یقیناً’ربا‘ حرام ہے اور اسے حرام ہونا ہی چاہیے تھا۔یہ وہ منافع ہے جو اہل حاجت ، غریب و مسکین فرد کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کو قرض کے بوجھ تلے دبا کر ان سے وصول کیا جاتا ہے، لیکن اس سے پہلے زبان فہمی کا ایک عام اصول ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی متن کا صحیح مفہوم متعین کرنے کے لیے اس کے سیاق و سباق (Context) کو اگر سامنے نہ رکھا جائے تو اس کا الٹا مطلب لیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصولِ تفسیر میں اس کو بہت اہم مقام دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے جس کو علامہ جاوید احمد غامدی صاحب نے بڑی خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے: ’’اس کے (یعنی قرآن کے) عام و خاص میں امتیاز کیا جائے۔ قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر الفاظ عام ہیں، لیکن سیاق و سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ ان سے مراد عام نہیں۔ قرآن الناس کہتا ہے، لیکن ساری دنیا کا توکیا ذکر بارہا، اس سے عرب کے سب لوگ بھی اس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔ یہ قرآن کا عام اسلوب ہے جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح و وضاحت میں متکلم کا منشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ اس معاملے میں قرآن کے عرف اور اس کے سیاق و سباق کی حکومت اس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے۔‘‘ ( اصول و مبادی؛ ص ۲۲)

مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اصولِ تفسیر کا یہ قاعدہ یوں بیان کرتے ہیں: ’’ نقد صحیح کا تیسرا قاعدہ ہمارے سامنے آتا ہے یعنی یہ کسی آیت کی جو تفسیر بیان کی جا رہی ہو، اسے دیکھا جائے کہ آیا قرآن کا سیاق و سباق بھی اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔‘‘ ( تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ الحج، حاشیہ ۱۰۱) مزید ارشاد ہوتا ہے: ’’ یہ بات اصولاً غلط ہے کہ ایک عبارت کے اپنے سیاق و سباق سے اس کے کسی لفظ کا جو مفہوم ظاہر ہوتا ہو، اسے نظر انداز کر کے ہم اپنی طرف سے کوئی معنی اس کے اندر داخل کریں۔‘‘ ( سود، ص ۳۰۹) اس اصول کی مزید تشریح اس طرح کرتے ہیں: ’’لوگ ایک آیت کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے بے تکلف جو معنی چاہتے ہیں، اس کے الفاظ سے نکال لیتے ہیں، حالانکہ ہر آیت کے صحیح معنی صرف وہی ہو سکتے ہیں جو سیاق و سباق سے مناسبت رکھتے ہوں۔‘‘(تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ الانبیاء، حاشیہ، ۹۹)

اس اصول سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کسی متن کی تشریح کرتے ہوئے اس کے سیاق و سباق کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ تشریح تحریف کے زمرے میں آئے گی۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر آئیے دیکھیں، سورۃ البقرہ میں ’ربا‘ یعنی قرض پر اضافہ جو ممنوع کیا جا رہا ہے، وہ کس قرض پر اضافہ ہے۔ آیات نمبر ۲۶۱ سے ۲۸۰ کا خلاصہ یہ ہے:

  • یقیناًاللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے اجر کو ایک دانے کی سات بالیاں اور ہر بالی کے سو دانے کی طرح بڑھاتا ہے۔
  • یقیناًاللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے خوف اور غم کا نام و نشان نہ ہو گا۔
  • لہٰذا اللہ کی راہ میں صدقات ادا کرو اور لوگوں پر احسان نہ دھرنا۔
  • شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے، اس کے چکر میں نہ آنا۔
  • محتاج و غریب کو صدقات دو تو خفیہ دو تو زیادہ بہتر ہے۔
  • ایسے لوگوں کو بالخصوص جو سفید پوش ہیں اور لپٹ لپٹ کر نہیں مانگتے، ان پر خرچ کرو کہ صدقات ان ہی کا حق ہے۔
  • ان کو علانیہ اور خفیہ صدقات دو۔
  • (قرض ہی دینے کی نوبت آگئی ہو تو) قرضدار اگر تنگدست ہو تو اسے مہلت دو، لیکن اگر معاف کر دو تو بہتر ہے۔
  • یہ کہ قرض پر منافع یعنی ’ربا‘ لو کہ یہ تو اللہ نے حرام کر دیا ہے۔

قرآن مجید کی ان آیات مبارکہ نے کسی قسم کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیا کہ کس نوعیت کے قرض پر اضافہ ممنوع و حرام ہے۔ متن کے سیاق و سباق نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ غرباء و مساکین کو اول تو صدقات سے مدد کرو، اور اگر کسی وجہ سے قرض ہی دینے سے مدد کر سکتے ہو تو کرو، لیکن اس قرض پر اضافہ نہ لو ۔ ’ربا‘ یعنی محض کسی بھی قرض پر اضافہ حرام نہیں، بلکہ ’الف لام‘ لگا کر ’ الربوا‘ کو معرفہ بنا کر ان قرضوں پر اضافے کے لیے خاص کر دیا ہے جو محتاج و غریب افراد ہو ں اور ہماری توجہ و مدد کے مستحق ہوں۔ 

خلاصہ کلام

  • بینک انٹرسٹ کو ذہن میں رکھ کر ’ربا‘ کی تمام تعریفیں نہ صرف متضاد ہیں بلکہ بسا اوقات ایک ہی مفکر کی تعریفیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔
  • لُغوی لحاظ سے ’الربوا‘ کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر درست نہیں۔
  • علمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر نہیں ہوتا، بلکہ اہل حاجت یعنی غریب افرادکو قرض دے کر فائدہ اٹھانے پر ہوتا ہے۔ 
  • سیاق و سباق کا لحاظ رکھا جائے تو قرآن مجید میں ’الربوا‘ کا اطلاق اس بڑھوتری پر ہوتا ہے جو اہل حاجت کو قرض دے کر حاصل کیا جائے۔
  • اہل علم اس اصل سوال کی طرف متوجہ ہوں تو کرایہ،سود اور افراطِ زر جیسے کم اہم اور غیر متعلق موضوعات سے جان چھوٹ سکتی ہے۔


آراء و افکار