توہین رسالت کی سزا اور مولانا مودودیؒ کا موقف

ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (۱۹۰۳ ۔ ۱۹۷۹) بیسویں صدی کے ایک جلیل القدر عالم اور مفکر تھے۔ ان کی فکر اور دینی تعبیر نے نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ آئندہ سطور میں ہم توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ 

اپنی کتاب ’الجہاد فی الاسلام‘ میں ذمیوں (یعنی غیر مسلموں )کے حقوق بیان کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:

’’ذمی خواہ کیسے ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کردینا، مسلمان کو قتل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنایا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنابھی اس کے حق میں ناقضِ ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا: ایک یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکل کر دشمنوں سے جا ملے، دوسرے یہ کہ حکومت اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کرکے فتنہ و فساد برپا کرے۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام، ص ۲۸۹)

اس اقتباس سے واضح ہے کہ مولانا مودودیؒ کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے ذمی کا ذمہ نہیں ٹوٹتا اور نتیجتاً وہ سزائے قتل کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بھی واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی، مولانا مودودیؒ کے نزدیک، لازمی طور پر فساد فی الارض یا حکومتِ اسلامیہ کے خلاف بغاوت کے زمرے میں نہیں آتی۔ یہ بات مولانا مودودیؒ نے چونکہ فقہ حنفی کی کتب بدائع اور فتح القدیر کے حوالے سے بیان کی ہے، اس لیے مولانا مودودیؒ کی رائے قطعی طور پر متعین ہو جاتی ہے کہ شاتم رسول ذمی کو موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔ 

اس اقتباس کے حوالے سے ایک سائل کے سوال کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے نسبتاً تفصیل سے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ ہم یہ سوال و جواب من و عن یہاں نقل کرتے ہیں:

’’سوال: راقم الحروف نے پچھلے دنوں آپ کی تصنیف ’ الجہاد فی الاسلام‘ کا مطالعہ کیا۔ اسلام کا قانون صلح و جنگ کے باب میں ص ۲۴۰ ضمن(۶) میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ : ’ ذمی خواہ کیسے ہی جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کردینا، مسلمانوں کو قتل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنایا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنابھی اس کے حق میں ناقض ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا، ایک یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکلے اور دشمنوں سے جا ملے، دوسرے یہ کہ حکومتِ اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کر کے فتنہ و فساد برپا کرے۔‘ فدوی کو اس امر سے اختلاف ہے اور میں اسے قرآن وسنت کے مطابق نہیں سمجھتا۔میری تحقیق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا اور دوسرے امور جن کا آپ نے ذکر فرمایا ہے، ان سے ذمی کا عقد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے۔ آپ نے اپنی رائے کی تائید میں فتح القدیر جلد ۴ اور بدائع ص ۱۱۳ کا حوالہ دیا ہے، لیکن دوسری طرف علامہ ابن تیمیہ نے ’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘ کے نام سے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے۔ زادالمعاد، تاریخ الخلفاء عون المعبود، نیل الاوطارجیسی کتابوں میں علمائے سلف کے دلائل آپ کی رائے کے خلاف ہیں۔ یہاں ایک حدیث کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں۔ عن علی ان یھودیۃ کانت تشتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتقع فیہ فختقھا رجل حتی ماتت فابطل النبی صلی اللہ علیہ وسلم دمہا۔ حضرت علی کی روایت ہے کہ ایک یہودیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی کرتی تھی اور آپ پر باتیں چھانٹتی رہتی تھی۔ ایک شخض نے اس کا گلا گھونٹا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔ (ابو داود، ملاحظہ ہومشکوۃ باب قتل اہل الردۃ والافساد ص ۳۰۸) ۔ ضمناً یہ بھی بیان کردوں کہ یہاں کہ ایک مقامی اہل حدیث عالم نے آپ کی اس رائے کے خلاف ایک مضمون بعنوان ’مولانا مودودی کی ایک غلطی ‘ شائع کیا ہے اور اس میں متعدد احادیث اور علماء کے فتاویٰ درج کیے ہیں۔
جواب: یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اس میں آپ یا دوسرے حضرات جو رائے بھی رکھتے ہوں ، رکھیں اور اپنے دلائل بیان کریں۔ دوسری طرف بھی علماء کا ایک بڑا گروہ ہے اور اس کے پاس بھی دلائل ہیں۔ اصل اختلاف اس بات میں نہیں ہے کہ جزیہ نہ دینا، یا سب نبی صلعم ، یا ہتک مسلمات قانونی جرم مستلزم سزا ہیں یا نہیں، بلکہ اس امر میں ہے کہ یہ جرائم آیا قانون کے خلاف جرائم ہیں یا دستور مملکت کے خلاف۔ ایک جرم وہ ہے جو رعیت کا کوئی فرد کرے تو صرف مجرم ہوتا ہے۔ دوسرا جرم یہ ہے جس کا ارتکاب وہ کرے تو سرے سے رعیت ہونے ہی سے خارج ہوجا تا ہے۔ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ ذمی کے یہ جرائم پہلی نوعیت کے ہیں۔ بعض دوسرے علماء کے نزدیک ان کی نوعیت دوسری قسم کے جرائم کی سی ہے۔ یہ ایک دستوری بحث ہے جس میں دونوں طرف کافی دلائل ہیں۔ اس میں کسی کے ناراض ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ جن صاحب نے مضمون لکھا ہے، انہوں نے انصاف نہیں کیا کہ اسے صرف میری غلطی قرار دیا۔ یہ اگر غلطی ہے تو سلف میں بہت سے اس کے مرتکب ہیں۔ میرا تو صرف یہ قصور ہے کہ کسی مسئلے میں مسلک حنفی کی تائید کرتا ہوں تو اہل حدیث خفا ہوجاتے ہیں اور کسی مسئلے میں اہل حدیث کی تائید کرتا ہوں تو حنفی پیچھے پڑ جاتے ہیں۔‘‘ (ترجمان القرآن ذی القعدہ ۱۳۷۴ھ۔جولائی ۱۹۵۵ء) ‘‘[رسائل و مسائل ۴/ ۱۳۲ ۔ ۱۳۳] 

ْْْاس جواب میں مولانا مودودیؒ نے بالکل واضح کردیا ہے کہ غیر مسلم شاتم رسول (ذمی) کی سزا کے حوالے سے ان کی رائے وہی ہے جو متقدمین فقہائے احناف کی رائے ہے۔اور فقہائے احناف کی رائے معلوم و معروف ہے کہ ذمی کو شتم رسول کے جرم میں عمومی حالات میں موت کی سزا نہیں دی جائے گی، البتہ اگر کوئی فرد اعلانیہ یا سرکشی کے ساتھ اس جرم کو عادت بنا لے تو اسے تعزیراََ یا سیاسۃََ موت کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

فقہ اسلامی میں اس بات پر اجماع پایا جاتا ہے (اگرچہ آج کل تاثر اس سے مختلف دیا جاتا ہے) کہ توہین رسالت کی کوئی سزا قرآن و سنت میں متعین نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ فقہاء کی اجتہادی اور استنباطی رائے ہے۔ اس بات پر فقہائے کرام متفق ہیں کہ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا مرتکب ہوگا تو وہ چونکہ مرتد ہوجائے گا، اس لیے اسے ارتداد کے جرم میں قتل کیا جائے گا۔ اگر کوئی غیر مسلم اس جرم کا ارتکاب کرے گا تو اسے تعزیر کے طور پر سزا دی جائے گی۔ مولانا مودودیؒ بھی اسی رائے کے حامل نظرآتے ہیں۔ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’اسلامی قانون نے قتل بالحق کو صرف پانچ صورتوں میں محدود کردیا: ایک قتل عمد کے مجرم سے قصاص، دوسرے دین حق کے راستے میں مزاحمت کرنے والوں سے جنگ، تیسرے اسلامی نظامِ حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزا، چوتھے شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکابِ زنا کی سزا، پانچویں ارتداد کی سزا۔ صرف یہی پانچ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کی حرمت مرتفع ہوجاتی ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہوجاتا ہے۔‘‘ ( تفہیم القرآن ۲/ ۶۱۴) 

ایک اور جگہ فرماتے ہیں: 

’’یعنی انسانی جان، جو فی الاصل خدا کی طرف سے حرام ٹھیرائی گئی ہے، ہلاک نہ کی جائے مگر حق کے ساتھ۔ اب رہا یہ سوال کہ ’ حق کے ساتھ‘ کا کیا مفہوم ہے، تو اس کی تین صورتیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں، اور دو صورتیں اس پر زائد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں۔ قرآن کی بیان کردہ صورتیں یہ ہیں: (۱) انسان کسی دوسرے انسان کے قتلِ عمد کا مجرم ہو اور اس پر قصاص کا حق قائم ہوگیا ہو۔ (۲) دین حق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہو اور اس سے جنگ کیے بغیر چارہ نہ رہا ہو۔ (۳) دارالاسلام کے حدود میں بدامنی پھیلائے یا اسلامی نظامِ حکومت کو الٹنے کی سعی کرے۔ باقی دو صورتیں جو حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں ، یہ ہیں : (۴) شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے۔ (۵) ارتداد اور خروج از جماعت کا مرتکب ہو۔ اِن پانچ صورتوں کے علاوہ کسی صورت میں انسان کا قتل انسان کے لیے حلال نہیں ہے، خواہ وہ مومن ہو یا ذمی یا عام کافر۔‘‘ ( تفہیم القرآن ۱/۵۹۹۔۶۰۰) 

یہاں جس قطعیت اور حصر کے ساتھ مولانا مودودیؒ نے ان جرائم کو بیان کیا ہے جن کی سزا قرآن و حدیث کے مطابق موت ہے، اس سے بالکل واضح ہے کہ وہ توہین رسالت کو ان جرائم میں شمار نہیں کرتے جن کی سزا قرآن و حدیث نے متعین کر دی ہے۔ 

مرتد کو سزائے موت دینے کے معاملے میں، احناف کی رائے کے عین مطابق ،مولانا مودودیؒ بھی اس کے قائل ہیں کہ اسے توبہ کا موقع دیاجائے گا اور اگر وہ توبہ کرلے تو اسے معاف کردیاجائے گا۔ بدیہی طور پر اس اصول کا اطلاق شاتم رسول پر بھی ہونا چاہیے۔ فرماتے ہیں: 

’’اسلامی قانون صدور ارتداد کے بعد فوراََ ہی مرتد کو قتل کردینے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ اس کو اپنی غلطی محسوس کرنے اور توبہ کا موقع بھی دیتا ہے اور اگر وہ توبہ کرلے تو اسے معاف کردیتا ہے۔‘‘ (رسائل و مسائل ۲ / ۵۲)

رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے وہ واقعات جن سے بالعموم توہین رسالت کی سزا کا قانون اخذ کیا جاتا ہے، ان میں ایک اہم واقعہ کعب بن اشرف کا قتل ہے۔ مولانا مودودیؒ اس واقعہ کی جو توجیہ کرتے ہیں، وہ ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں:

’’عہد رسالت کا ایک اور واقعہ جس پر سخت اعتراضات کیے جاتے ہیں، یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک دشمن کعب بن اشرف کو خفیہ طریقے سے قتل کرادیا۔ مخالفین کا اعتراض یہ ہے کہ یہ وہی جاہلیت کا ’فَتک‘ تھا اور بزدلی کے علاوہ آدابِ جنگ کے بھی خلاف تھا ۔ لیکن اس واقعہ کے بھی چند مخصوص اسباب تھے جن کو معترضین نے نظر انداز کردیا ہے۔ یہ شخص یہود بنی نضیر میں سے تھا اور اپنی قوم کے ساتھ اس معاہدہ میں شریک تھا جو ہجرت کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان ہوا تھا۔ مگر اسے اسلام اور خاص کر داعی اسلامؐ سے سخت عداوت تھی۔ آپؐ کی شان میں ہجویہ اشعار کہتا، مسلمان عورتوں کے متعلق نہایت گندے عشقیہ قصائد کہتا اور کفارِ قریش کو آنحضرت ؐ کے خلاف اشتعال دلاتا تھا۔ جب جنگِ بدر میں آنحضرت کو فتح ہوئی تو اس کو سخت رنج ہوا اور شدتِ غضب میں پکار اٹھا کہ واللہ لئن کان محمد اصاب ھولاء القوم لبطن الارض خیرُُ لنا من ظھرھا۔(خدا کی قسم اگر محمدؐ نے قریش کو واقعی شکست دے دی ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے)۔ پھر وہ مدینہ سے مکہ پہنچا اور وہاں نہایت درد انگیز طریقہ سے قریش کے مقتولوں کے مرثیے کہہ کہہ کر ان کے عوام اور سرداروں کو انتقام کا جوش دلانے لگا۔ اس کی یہ سب حرکات اس معاہدہ کے خلاف تھیں جو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہوا تھا اور جس میں وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ شریک تھا۔ تاہم انھیں کسی نہ کسی طرح معاف کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ان سب سے گزر کر وہ اپنے جذبہ عناد میں یہاں تک پہنچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جان تک لینے کا تہیہ کرلیا۔ اس نے ایک سازش کی تیار ی کی جس کا مقصد آپؐ کو دھوکہ سے قتل کرنا تھا ۔۔۔ اُس کے جرائم کی فہرست کو اِس سازشِ قتل نے مکمل کردیا اور اس کے بعد اس کے کشتنی ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی۔ ایک شخص اپنے قومی معاہدہ کو توڑتا ہے، مسلمانوں کے دشمنوں سے ساز باز کرتا ہے، مسلمانوں کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکاتا ہے، اور مسلمانوں کے امام کو قتل کرنے کی خفیہ سازشیں کرتا ہے۔ ایسے شخص کی سزا بجز قتل کے اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘ (الجہادفی الاسلام، ص ۳۱۱ ۔ ۳۱۲) 

یہاں دیکھ لیجیے،مولانا مودودیؒ نے بالکل واضح طور پر لکھا ہے کہ کعب بن اشرف کاقتل توہین رسالت کے جرم میں نہیں کیا گیا، بلکہ یہ جرم تو ’کسی نہ کسی طرح‘ معاف بھی کیا جاسکتا تھا۔ اس کا اصل جرم جو قتل کی وجہ بنا، وہ اُس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے اس واقعہ کو ’چند مستثنیات ‘ کے عنوان سے بیان کیا ہے اور استثنا کی وضاحت میں لکھا ہے کہ: 

’’اس واقعہ سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ خفیہ طریقے سے دشمن کے سرداروں کو قتل کرادینا اسلام کے قانونِ جنگ کی کوئی مستقل دفعہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یقیناًآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ابو جہل اور ابو سفیان جیسے دشمنوں کو قتل کراتے، اور صحابہ میں ایسے فدائیوں کی کمی نہ تھی جو اس قسم کے تمام دشمنوں کو ایک ایک کر کے قتل کرسکتے تھے۔ لیکن عہد رسالتؐ اور عہدِ صحابہ کی پوری تاریخ میں ہم کو کعب بن اشرف اور ابو رافع کے سوا کسی اور شخص کا نام نہیں ملتا جسے اس طرح خفیہ طریقہ سے قتل کیا گیا ہو، حالانکہ آپؐ کے دشمن صرف یہی دو شخص نہ تھے۔ پس یہ واقعہ خود اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ خفیہ طریقے سے دشمن کو قتل کرنا اسلام کی کوئی مستقل جنگی پالیسی نہیں ہے، بلکہ ایسے مخصوص حالات میں اس کی اجازت ہے جب کہ دشمن خود سامنے نہ آتا ہو اور پردے کے پیچھے بیٹھ کر خفیہ سازشیں کیا کرتا ہو۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام، ص ۳۱۳ ۔۳۱۴)

اس واقعہ کو مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں بھی بیان کیا ہے۔ یہود کی معاندانہ روش اور شرارتوں کے ضمن میں لکھتے ہیں: 

’’معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کر چکے تھے۔ مگر جب بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو قریش پر فتحِ مبین حاصل ہوئی تو وہ تَلمَلا اٹھے اور اُن کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی۔ اس جنگ سے وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کر مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اسی لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے مدینے میں یہ افواہیں اڑانی شروع کر دی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے، اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی، اور اب ابو جہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آرہا ہے۔ لیکن جب نتیجہ ان کی امیدوں اور تمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ غم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے۔بنی نَضِیر کا سردار کَعب بن اشرف چیخ اٹھا کہ’خدا کی قسم اگر محمدؐ نے اِن اشرافِ عرب کو قتل کر دیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اُس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے‘۔ پھر وہ مکہ پہنچااور بدر میں جو سردارانِ قریش مارے گئے تھے، اُن کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اکسایا۔ پھر مدینے واپس آکر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفاء کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہارِ عشق کیا گیا تھا۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول ۳ھ ؁ میں محمد بن مَسلَمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرا دیا۔‘‘ ( تفہیم القرآن۵/ ۳۷۷) 

یہاں بھی توہین رسالت کو اس کے اصل جرم کے طور پر بیان نہیں کیا ہے۔

اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا نام لے کر ان کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ اس واقعہ کو بھی توہین رسالت کی سزا کے ماخذ کے طور پر بیان کر دیا جاتا ہے۔ مولانا مودودیؒ اس کی توجیہ بھی مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: 

’’یہ جو فرمایا کہ اگر وہ باز آجائیں تو ’ظالموں کے سوا کسی پر دست درازی روا نہیں‘، تو اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جب نظامِ باطل کی جگہ نظامِ حق قائم ہو جائے تو عام لوگوں کو تو معاف کر دیا جائے گا ، لیکن ایسے لوگوں کو سزا دینے میں اہل حق بالکل حق بجانب ہوں گے جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں نظامِ حق کا راستہ روکنے کے لیے ظلم و ستم کی حد کردی ہو، اگرچہ اس معاملے میں بھی مومنینِ صالحین کو زیب یہی دیتا ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیں اور فتحیاب ہو کر ظالموں سے انتقام نہ لیں، مگر جن کے جرائم کی فہرست بہت ہی زیادہ سیاہ ہو اُن کو سزا دینا بالکل جائز ہے اور اس اجازت سے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فائدہ اٹھایا ہے ، جن سے بڑھ کر عفو و درگزر کسی کے شایانِ شان نہ تھا۔ چنانچہ جنگِ بدر کے قیدیوں میں سے عُقبہ بن ابی مُعَیط اور نضَر بن حارث کا قتل اور فتحِ مکہ کے بعد آپ کا ۱۷ ؍آدمیوں کو عفو عام سے مستثنیٰ فرمانا اور پھر ان میں سے چار کو سزائے موت دینا اسی اجازت پر مبنی تھا۔‘‘ ( تفہیم القرآن۱/ ۱۵۲) 

ان مجرموں کا اصل جرم بھی جس کی وجہ سے وہ قتل کی سزا کے مستحق قرار دیے گئے تھے،مولانا مودودیؒ کے نزدیک، نظامِ حق کا راستہ روکنے کے لیے ظلم و ستم کی حد کردینا تھا، نہ کہ سادہ طور پر توہین رسالت کا ارتکاب کرنا۔

محترم اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ صاحب نے اپنی کتاب ’ ناموسِ رسول اور قانونِ توہین رسالت‘ میں مولانا مودودیؒ کا ایک مضمون نقل کیا ہے۔ یہ مضمون مولانا مودودیؒ نے ۱۹۲۷ء ؁ میں تحریر کیا تھا اور ان کی اس زمانے کی تحریروں کے مجموعے’آفتابِ تازہ‘ میں شامل ہے۔ یہ مضمون مولانا مودودیؒ نے ’رنگیلا رسول‘ نامی کتاب کے عدالتی مقدمے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوا لکھا تھا۔ ہم اس مضمون کا متعلقہ حصہ یہاں نقل کرتے ہیں: 

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس کے متعلق مسلمانوں کے جذبات کا صحیح اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ آپؐ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے اسلام میں قتل کی سزا ہے اور آپ کو گالی دینے والے کا خون مباح قرار دیا گیا ہے۔ نسائی میں کئی طریقوں سے ابو برزہ الاسلمی کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک شخص پر ناراض ہو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس کی گردن ماروں؟ یہ سنتے ہی آپ کا غصہ دور ہوگیااور آپ نے جھڑک کر مجھے فرمایا: لیس ھذا لا حد بعد رسول اللہ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کا درجہ نہیں ہے کہ اس کی گستاخی کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے)۔ 
ایک دوسری حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے میں ایک اندھے مسلمان کی لونڈی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور اس مسلمان نے تکلے سے اس کا پیٹ پھاڑ دیا، دوسرے دن جب اس کے مارے جانے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی ، تو آپ نے فرمایا کہ جس نے یہ کام کیا ہے، اس کو میں خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اٹھ کھڑا ہو۔ یہ سن کر وہ اندھا گرتا پڑتا آیا اور اس نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! یہ فعل میں نے کیا ہے۔ وہ میری لونڈی تھی۔ مجھ پر مہربان تھی، مگر آپ کی شان میں بہت بد گوئی کرتی تھی۔ میں اسے منع کرتا، تو نہیں مانتی تھی۔ میں ڈانٹتا تو اس پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ کل رات پھر اس نے آپ کو برا کہا۔ اس پر میں اٹھا اور تکلا چبھو کر اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ یہ سن کر حضور نے فرمایا! الا اشھدوا ان دمھا ھدر، سب لوگ گواہ رہو کہ اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔‘
اس طرح بخاری شریف میں کتاب المغازی میں کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ موجود ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کر کے اور قریش کو آپ کے خلاف بھڑکا کر آپ کو ایذا دیتا تھا، اس لیے آپ نے محمد ابن مسلمہ کے ہاتھوں اسے قتل کرادیا۔ ابی داؤد میں کعب بن اشرف کے قتل کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ’ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف جوش دلاتا تھا‘۔قسطلانی نے بخاری کی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ: ’ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتا تھا، اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو کرتا اور قریش کو ان کے خلاف بھڑکاتا‘۔ ابن سعد نے بھی اس کے قتل کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ :’وہ ایک شاعر آدمی تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی ہجو کرتا اور ان کے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتا تھا۔‘ 
کتب فقہیہ میں بھی اس کے متعلق صریح احکام موجود ہیں۔ چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں کہ: ’ابو بکر بن المنذر کا قول ہے کہ اس امر پر عامہ اہل علم کا اجماع ہے کہ جو کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے، وہ قتل کیا جائے گا۔ اس قول کے قائلین میں سے مالک بن انس، لیث اور احمد اور اسحاق ہیں اور یہی مذہب ہے شافعی کا اور یہی مقتضا ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول کا۔ ان بزرگوں کے نزدیک اس کی توبہ مقبول نہیں ہے۔ ایسا ہی قول ہے ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور ثوری اور اہل کوفہ اور اوزاعی کا بھی‘۔ شیخ الاسلام احمد ابن تیمیہ اپنی کتاب الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول میں لکھتے ہیں کہ: ’اس طرح ہمارے اصحاب یعنی حنابلہ کی ایک دوسری جماعت نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی خواہ وہ کافر ہو یا مسلم‘۔ پس جزئیات میں فقہاء کے درمیان خواہ کتنا ہی اختلاف ہو، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظمت میں حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی سب کا اتفاق ہے کہ آپ کو گالی دینے والا واجب القتل ہے۔ اس سے صحیح اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں داعی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حرمت و عزت کے متعلق کیا احکام ہیں اور اس بارے میں مسلمانوں کا مذہب ان کو کیا تعلیم دیتا ہے‘‘۔ (آفتابِ تازہ، ص ۱۸۴۔ ۱۸۶) 

اس مضمون میں مولانا مودودیؒ نے جو رائے اختیار کی ہے، وہ قطعی طور پر اس موقف سے مختلف بلکہ متضاد ہے جو ہم اوپر بیان کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس تضاد کی یہی توجیہ ممکن ہے کہ یہ مانا جائے کہ اس مضمون میں مولانا مودودیؒ کی اختیار کردہ رائے ان کی ابتدائی رائے تھی جبکہ ان کا حتمی اور آخری موقف وہ ہے جو ان کی بعد کی تحریروں میں بیان ہوا ہے اور جسے ہم نے اپنی اس تحریر میں واضح کیا ہے۔اس مضمون کو ۲۴ سالہ نوجوان صحافی کی ایک جذبہ انگیز تحریر سمجھنا چاہیے۔ اصل اور حتمی موقف بہرحال وہی سمجھا جائے گا جو بعد کے دور میں اختیارکیا گیاہے۔

توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کے موقف کو سمجھنے کے لیے ایک اور نکتہ بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ توہین رسالت کی کوئی سزا قرآن و حدیث میں بیان نہیں ہوئی ہے۔ بعد کے دور میں لوگوں نے اس جرم کی سزا کے ماخذ کے طور پر قرآن کی بعض آیات سے استدلال کیا ہے۔ ان میں نمایاں ترین اور غالباََ اولین نام امام ابن تیمیہؒ کا ہے۔ (ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھئے امام ابن تیمیہؒ کی کتاب ’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘ اور جناب اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ کی کتاب ’ناموس رسول اور قانونِ توہین رسالت‘)۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے اپنی معرکۃ الآرا تفسیر تفہیم القرآن میں (ہمارے استقصاکی حد تک) ان محولہ آیات بلکہ کسی بھی آیت کے ذیل میں اشارۃََ بھی توہین رسالت کی سزا کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سے بجا طور پر یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ مولانا مودودیؒ کے نزدیک بھی ، فقہاء کے اجماع کی طرح، قرآن میں توہین رسالت کی کوئی سزا بیان نہیں کی گئی ہے۔ 

توہین رسالت کی سزا نافذ کرنے کا اختیار کس کو حاصل ہے؟ ۱۹۲۷ء میں ’رنگیلا رسول‘ اور راجپال کے قضیے کے ہنگام مولانا مودودیؒ نے ایک مضمون لکھا۔ یاد رہے کہ اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت قائم تھی۔ اس مضمون میں فرماتے ہیں: 

’’کوئی شخص جو تھوڑی بہت بھی عقل رکھتا ہو، اس بنیادی حقیقت سے غافل نہیں رہ سکتا کہ اگر افراد قانون و آئین کی قوت سے بے نیاز ہو کر انصاف اور تعزیر کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیں اور ہر شخص اپنی جگہ خود جج اور کوتوال بن کر دوسرے لوگوں کو سزا دینے لگے تو ایک لمحہ کے لیے بھی جماعت کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ افراد میں ، خواہ کسی قسم کی عداوت ہو، ذاتی رنج و کاوش پر مبنی ہو، یا مذہبی و سیاسی شکایات پر، ہر حالت میں ان کا فرض ہے کہ ضبط نفس سے کام لیں، ملک میں جو حکومت قیام امن و عدل کی ذمہ دار ہو، اس کے ذریعے سے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اگر وہ انصاف نہ کرے، تو اپنی طاقت کو غیر آئینی افعال میں صرف کرنے کے بجائے اس حکومت کو ادائے فرض پر مجبور کرنے میں استعمال کریں۔ جو لوگ اس صحیح طریقے کو جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور قانون کی طاقت کو خود اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے فعل کا اصلی محرک خواہ ایک شریف جذبہ ہو یا رذیل اور ان کی شکایت خواہ حق بجانب ہو یا غیر حق بجانب، دونوں صورتوں میں وہ کم از کم اس حقیقت سے سوسائٹی کی نظر میں یکساں مجرم ہیں کہ وہ جماعت کے آئین و نظام کا احترام نہیں کرتے اور ملک میں طوائف الملوکی و فوضویت کا فتنہ پھیلاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جب عدالت عالیہ لاہور نے موجود الوقت قانون کی رو سے توہین رسول کو ناقابل سزا جرم قرار دے کر بد گوئی کے فتنے کا دروازہ کھول دیا تو علمائے اسلام نے یہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ اسلام کے قانون میں توہین رسول کی سزا قتل ہے، لیکن اس کا مقصد گورنمنٹ پر اس جرم کی اہمیت اور حرمت رسول کے بارے میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی نزاکت ظاہر کرنا تھا تاکہ وہ قانون کی اس کمی کو جلد سے جلد پورا کرے اور اس فتنے کا دروازہ بند کردے۔ اس مسئلے کے اظہار سے یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ مسلمان موجودہ انگریزی حکومت میں اسلام کے قانون تعزیرات کو نافذ کریں۔ ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں اور اب دوبارہ اس کا اظہار کرتے ہیں کہ اسلامی شریعت میں حدود و تعزیرات کے متعلق جتنے احکام ہیں ، ان سب کی تنفیذ امام کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب مسلمانوں کا کوئی با اختیار امیر یا امام موجود نہ ہو اور وہ کسی غیر اسلامی حکومت کے مطیع ہوں تو نہ اسلامی حدود قائم ہو سکتی ہیں اور نہ تعزیری احکام نافذ ہو سکتے ہیں ۔ پھر خود اسلامی حکومت میں بھی ہر فرد کو یہ اختیار نہیں ہے کہ خود کسی شخص کو کسی جرم کی سزا دے دے ۔ جرم کی تحقیق کر کے سزا کا حکم دینا قاضی شرع کا کام ہے اور اسے نافذ کرنا اسلامی سلطنت کے با اختیار حاکم سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان خود قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی مجرم کو سزا دے گا تو فوری اشتعال ثابت نہ ہونے کی صورت میں اس کو خلاف ورزی آئین کی یقیناًسزا دی جائے گی‘‘۔ (آفتاب تازہ، ص ۳۴۴۔۳۴۷) 

یہ تحریر اپنے مفہوم و مدعا میں بالکل واضح ہے کہ ،مولانا مودودیؒ کے نزدیک، کسی منظم ریاست و حکومت میں، خواہ وہ غیر مسلموں کی ہو یا مسلمانوں کی، کسی فرد کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کرتوہین رسالت سمیت کسی بھی جرم کی سزا خود نافذ کردے۔۔ یہ مضمون اگرچہ مولانا مودودی ؒ کے ابتدائی زمانے کا ہے، لیکن چونکہ اس رائے میں تبدیلی کے کوئی شواہد ہمیں بعد کی تحریروں میں نہیں ملے، اس لیے اس معاملے میں اسی کو مولانا مودودی ؒ کی آخری اور حتمی رائے سمجھنا چاہیے۔ 

اوپر بیان کی گئی تصریحات اور اشارات کی روشنی میں ہم توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کے موقف کا خلاصہ اس طرح کرسکتے ہیں:

  • توہین رسالت کی کوئی سزا قرآن میں بیان نہیں کی گئی ہے ۔
  • کعب بن اشرف، ابو رافع، بدر کے قیدیوں اور فتح مکہ کے موقع پر جن کفار کو قتل کیا گیا، وہ توہین رسالت کی سزا کے طور پر نہیں بلکہ معاہدہ شکنی، دشمنوں سے ساز باز، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش جیسے جرائم کی سزا تھی۔
  • اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا مرتکب ہو تو چونکہ وہ مرتد ہو جائے گا، اس لیے اسے ارتداد کے جرم میں قتل کی سزا دی جائے گی، لیکن اس سے پہلے اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اگر وہ توبہ کر لے تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔
  • شاتمِ رسول ذمی (یعنی غیر مسلم) کا ذمہ برقرار رہے گا اور عمومی حالات میں اسے موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔
  • تمام جرائم کی طرح توہین رسالت کی سزادینے کا اختیار بھی صرف اور صرف ریاست کو حاصل ہے۔

یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ ہم نے مولانا مودودیؒ کا موقف غیر جانبداری سے سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی تائید یا تردیدیہاں ہمارا مقصود نہیں ہے۔ دوسری یہ کہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ کسی عام انسان کی طرف بھی کوئی غلط بات منسوب کریں، کجا کہ ایک جلیل القدر عالم و مفکر کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ ہم نے جو کوشش بھی کی ہے وہ اپنے محدود علم اور ناقص فہم کے ساتھ کی ہے۔اس بات کا پورا امکان ہے کہ ہم مولانا مودودیؒ کے موقف کو درست طریقے پرنہ سمجھ سکے ہوں۔اگر کوئی صاحبِ علم مولانا مودودیؒ کی ان تحریروں کا جو ہم نے نقل کی ہیں، کچھ مختلف مفہوم واضح کر دیں گے یا اس موضوع سے متعلق مولانا مودودیؒ کی کچھ اور تحریروں سے، جن تک ہماری رسائی نہیں ہوسکی ہے، ان کا کوئی مختلف موقف بیان کردیں گے تو ہم ان کے شکر گزار ہوں گے۔

ہم اپنی اس تحریر کو مولانا مودودیؒ ہی کے ایک اقتباس پر ختم کرتے ہیں۔ اس میں بھی غور و فکر کا کافی سامان موجود ہے۔

’’جب دشمنوں کی طرف سے اللہ کے رسول پر طعن و تشنیع کی بوچھاڑ ہو رہی ہواور دین حق کو زک پہنچانے کے لیے ذاتِ رسول کو ہدف بنا کر پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا جا رہا ہو، ایسی حالت میں اہل ایمان کا کام نہ تو یہ ہے کہ ان بے ہودگیوں کو اطمینان کے ساتھ سنتے رہیں، اور نہ یہ کہ خود بھی دشمنوں کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں، اور نہ یہ کہ جواب میں ان سے گالم گلوچ کرنے لگیں ، بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ عام دنوں سے بڑھ کر اس زمانے میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کو اور زیادہ یاد کریں‘‘۔ (تفہیم القرآن ۴/۱۰۴)

اللہ تعالیٰ ہمیں بات کو صحیح طریقے سے سمجھنے، اسی طرح قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین

آراء و افکار