مسلم حکمرانوں کی غیر مسلموں کے ساتھ دوستیاں / اختلاف اور منافرت / جدید مغربی فکر اور تہذیبی رواداری

محمد عمار خان ناصر

تکفیری گروہ کی طرف سے مسلمان حکمرانوں کی تکفیر کے حق میں یہ نکتہ بھی شد ومد سے اٹھایا جاتا ہے کہ ان حکمرانوں نے بین الاقوامی تعلقات کے دائرے میں کفار کے ساتھ دوستیاں قائم کر رکھی ہیں اور بہت سے معاملات میں یہ دوستیاں اور تعلقات مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کردار ادا کرتی ہیں۔ اس ضمن میں عموماً قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے جن میں میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہل ایمان کے مقابلے میں اہل کفر کے ساتھ دوستی اختیار نہ کریں اور جو ایسا کریں گے، ان کا شمار انھی میں ہوگا۔ (آل عمران ۳:۲۸ و ۵۱)

قرآن مجید میں ان ہدایات کا سیاق وسباق پیش نظر رہے تو اس استدلال کی حقیقت سمجھنا بھی مشکل نہیں رہتا۔ یہ تمام ہدایات، جیسا کہ قرآن کا ہر طالب علم جانتا ہے، عہد نبوی کے مخصوص واقعاتی تناظر میں دی گئیں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد عرب معاشرے میں کفر اور ایمان کا ایک معرکہ برپا ہو گیا تھا اور کفار کے مختلف گروہ ایک نئے دین کے مقابلے میں اور اس کو مٹا دینے کے عزم سے پیغمبر اسلام کے بالمقابل آ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ گروہ اسلام کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے اور ان کی ساری تگ ودو اور مساعی کا ہدف یہ تھا کہ اسلام کو مٹا دیا جائے اور اسلام قبول کرنے والوں کو اس سے برگشتہ کر دیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کے ساتھ ان سب گروہوں کے عناد او رمخاصمت کی بنیاد ہی یہ تھی کہ دین حق کو فروغ نہ ملنے پائے، بلکہ ممکن ہو تو صفحہ ہستی سے ہی اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ (البقرہ ۲:۱۰۹، ۱۲۰، ۲۱۷۔ (آل عمران ۳:۱۰۰۔ النساء ۴: ۸۹)

اس صورت حال میں ایمان کا بدیہی تقاضا یہی تھا کہ مسلمان ان اسلام دشمن عناصر کے عزائم اور ارادوں سے خبردار رہیں اور اپنی دوستیوں اور تعلقات کا دائرہ اہل ایمان تک ہی محدود رکھیں تاکہ پوری یکسوئی اور دل جمعی کے ساتھ اس کشمکش کو اس کے انجام تک پہنچایا جا سکے۔ تاہم مسلمانوں کے کچھ گروہ مذکورہ اہل کفر کے ساتھ اپنی قرابت داریوں اور سابقہ سیاسی ومعاشرتی تعلقات کی وجہ سے یا ان کی سیاسی طاقت اور اثر ورسوخ سے مرعوب ہو کر اس کشمکش میں کھلے طور پر اللہ اور اس کے رسول کا ساتھ دینے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ کوئی بیچ کی راہ اختیار کیے رکھیں جس میں ایمان واسلام کا دعویٰ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی اور تعلقات، دونوں برقرار رکھے جا سکیں۔ قرآن مجید کی زیر بحث آیات میں انھی عناصر سے خطاب کیا گیا ہے اور انھیں متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ذہنی گومگو اور تذبذب کی کیفیت سے باہر نکلیں، اپنی تمام تر وفاداریوں کو اللہ کے دین کے لیے خاص کرتے ہوئے اسلام کے ان دشمنوں کے ساتھ دوستی اور قلبی تعلق کو خیرباد کہہ دیں اور اس کشمکش میں پوری یکسوئی کے ساتھ ایمان کے عملی تقاضوں کو بجا لانے اور جان ومال اور رشتہ وقرابت سمیت ہر اس چیز کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جائیں جس کا ان سے تقاضا کیا جائے۔

کفار سے دوستی کی ممانعت اور ایسا کرنے والوں کو ’’وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ‘‘ (اورتم میں سے جو ان کے ساتھ وابستہ ہوگا، وہ انھی میں سے شمار ہوگا) کی وعید کا پس منظر، جیسا کہ واضح کیا گیا، یہی تھا اور اس وعید کا مقصد بھی کمزور اہل ایمان کو متنبہ اور خبردار کرنا تھا نہ کہ ظاہری قانون کے لحاظ سے انھیں کافر قرار دے کر انھیں دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا۔ 

اس کے ساتھ ساتھ یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ عہد نبوی میں ہمیں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جب چند نہایت مخلص صحابہ نے، کسی ایمانی کمزوری کی بنا پر نہیں، بلکہ چند دیگر وجوہ سے ایسا طرز عمل اختیار کیا جو بظاہر کفار کے ساتھ دوستی کی ممانعت کی ہدایات کے برعکس تھا، لیکن اس کے باوجود ان صحابہ کو کافر ومرتد قراردینا تو کجا، معمولی سرزنش تک نہیں کی گئی ۔ چنانچہ دیکھیے:

۱۔ قریش کے سردار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن امیہ بن خلف اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف کے مابین دوستی تھی جو ہجرت کے بعد بھی برقرار رہی اور دونوں اپنے اپنے شہر میں ایک دوسرے کے اموال اور تجارتی معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ جنگ بدر میں جب مشرکین کو شکست ہوئی تو عبد الرحمن بن عوف نے اسی دوستی کو نبھاتے ہوئے امیہ کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی اور انھیں لے کر ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اتنے میں سیدنا بلال کی نظر پڑ گئی اور انھوں نے آواز دے کر کچھ انصاری صحابہ کو اکٹھا کر لیا اور ان کے پیچھے ہو لیے۔ جب یہ حضرات پیچھا کرتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے تو عبد الرحمن بن عوف نے امیہ کی جان بچانے کے لیے اسے نیچے بٹھا کر اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال دیا، لیکن بلال اور ان کے ساتھیوں نے ان کے نیچے سے تلواریں مار مار کر امیہ کا کام تمام کر دیا۔ (بخاری، ۲۱۷۹)

۲۔ ۶ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق سے واپسی پر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غلط فہمی کی وجہ سے سفر میں قافلے سے پیچھے رہ گئیں اور بعد میں صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قافلے کے پاس پہنچیں تو منافقین نے ان پر تہمت طرازی کرتے ہوئے پروپیگنڈا کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ اس بے ہودہ اور شنیع مہم کی قیادت خزرج کے سردار عبد اللہ بن ابی کے ہاتھ میں تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سارا معاملہ اس قدر ذہنی اذیت کا باعث بن گیا کہ ایک موقع پر آپ نے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آپ کے اس کے شر سے بچائیں۔ آپ نے فرمایا:

یا معشر المسلمین من یعذرنی من رجل قد بلغنی عنہ اذاہ فی اہلی 
’’اے مسلمانوں کے گروہ! کون ہے جو مجھے اس شخص کے شر سے بچائے جس کی اذیت کی زد میں میرے اہل خانہ بھی آ گئے ہیں۔‘‘

اس موقع پر اوس کے سردار سعد بن معاذ اٹھے اور کہا کہ یا رسو ل اللہ، ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ اگر اس شخص کا تعلق اوس سے ہے تو ہم خود اسے قتل کر دیں گے اور اگر خزرج سے ہے تو آپ ہمیں حکم دیں، ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ اس پر خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کی قبائلی عصبیت بیدا ر ہو گئی اور انھوں نے سعد بن معاذ سے کہا:

لعمر اللہ لا تقتلہ ولا تقدر علی قتلہ ولو کان من رہطک ما احببت ان یقتل 
’’خدا کی قسم، تم اسے قتل نہیں کرو گے اور نہ تم میں اتنی ہمت ہے کہ اسے قتل کر سکو۔ اگر اس کا تعلق تمھارے قبیلے سے ہوتا تو تم کبھی اس کا قتل کیا جانا پسند نہ کرتے۔‘‘

اس کے جواب میں اسید بن حضیر نے سعد بن عبادہ کو طعنہ دیا کہ وہ خود بھی منافق ہیں اور منافقوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس گفتگو کے نتیجے میں دونوں قبیلے مشتعل ہو گئے اور قریب تھا کہ وہ باہم لڑپڑیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے دونوں گروہوں کے اشتعال کو سکون میں بدلنے کی کوشش کرتے رہے اور بڑی مشکل سے اس صورت حال پر قابو پایا۔ (بخاری، رقم ۳۹۱۰)

علامہ انور شاہ کشمیریؒ خزرج کے سردار کے اس رد عمل کی توضیح میں لکھتے ہیں:

’’ظاہر تو یہی ہے کہ جس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے بارے میں الزامات لگائے اور آپ کی آبرو پر ہاتھ ڈالا، ا س کے بارے میں صحابہ کے موقف باہم مختلف نہ ہوں، لیکن خزرجی نے اس معاملے کے خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہونے پر نظر نہیں کی اور اس کے بجاے اس کی توجہ ادھر ہو گئی کہ (قتل کی تجویز دینے والا) اوسی یہ سمجھتا ہے کہ عبد اللہ ابن ابی کمزور ہے اور اس کا کوئی حامی نہیں۔ اس سے اسے اپنے اور اپنے قبیلے کے ساتھ ذلت اور پستی لاحق ہوتی ہوئی محسوس ہوئی جس کی وجہ سے اس پر قبائلی حمیت غالب آ گئی اور اس نے مذکورہ جملے کہہ دیے۔‘‘ (فیض الباری ۵/۷۳)

۳۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدری صحابہ میں سے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ معروف ہے کہ انھوں نے مکہ میں اپنے کچھ قرابت داروں اور جائیداد کے تحفظ کی نیت سے مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کی اطلاع خفیہ طور پر اہل مکہ کو بھیجنے کی کوشش کی۔ ان کے اس عمل کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی دی گئی اور آپ نے ان کو بلا کر جواب طلبی کی تو انھوں نے وضاحت کی کہ اس اقدام کا محرک اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی نہیں، بلکہ نیت محض یہ تھی کہ اہل مکہ ان کا یہ احسان مانتے ہوئے مکہ میں موجود ان کے اعزہ اور جائیدا کی دیکھ بھال کریں گے۔ اس موقع پر سیدنا عمر نے حاطب کو منافق قرار دیتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گردن اڑانے کی اجازت طلب کی، لیکن آپ نے فرمایا کہ حاطب نے جو عذر بیان کیا ہے، وہ درست ہے اور یہ کہ اہل بدر کو تو اللہ نے یہ پروانہ دے رکھا ہے کہ تم جو چاہو کرو، میں نے تمھاری مغفرت کر دی ہے۔ 

فقہاء نے اس واقعے سے جو فقہی اصول اخذ کیا ہے، وہ امام سرخسی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:

’’اگر مسلمانوں کو کوئی ایسا شخص ملے جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی جاسوسی کرتا اور مسلمانوں کی راز کی باتیں ان تک پہنچاتا ہو اور وہ اپنی مرضی سے اس جرم کا اقرار بھی کر لے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ حکمران اسے سزا دے سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے جس بنیاد (یعنی شہادتین کے اقرار) پر اس کو مسلمان تسلیم کیا تھا، اس نے اسے تو ترک نہیں کیا، اس لیے ظاہر کے لحاظ سے ہم اسے دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کریں گے جب تک کہ وہ خود اس چیز کو ترک نہ کر دے جس کی بنیاد پر وہ اسلام میں داخل ہوا تھا۔ مزید یہ کہ اس کے اس فعل کا محرک عقیدے کی خرابی نہیں بلکہ لالچ ہے۔ یہ (اس کے عمل کی ) دو ممکنہ توجیہات میں سے زیادہ اچھی توجیہ ہے اور ہمیں اسی کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اہل ایمان بات کے اچھے پہلو کو اختیار کرتے ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے بھائی کے منہ سے کوئی بات نکلے اور تم اس کا اچھا محمل تلاش کر سکتے ہو تو پھر اسے برے محمل پر محمول نہ کرو۔ اس پر حاطب بن ابی بلتعہ کے واقعے سے بھی استدلال کیا گیا ہے، کیونکہ اگر وہ ایسا کرنے سے کافر اور واجب القتل ہو گئے ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں قتل کیے بغیر نہ چھوڑتے، چاہے وہ بدری صحابی تھے یا غیر بدری۔‘‘ (شرح السیر الکبیر ج ۵ ص ۲۲۹)

مذکورہ تمام پہلووں سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر زیر بحث آیات سے کلمہ گو مسلمانوں کی تکفیر کا اصول یا ضابطہ اخذ کرنے پر ہی اصرار کیا جائے تو وہ یہی ہو سکتا ہے کہ اگر کفار بطور ایک مذہب کے، اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہوں اور کچھ مسلمان دیدہ ودانستہ اسی ارادے سے ان کے ساتھ دوستیاں قائم کر لیں کہ اسلام کو زک پہنچائی جا سکے تو چونکہ ایسا اسلام کے مقابلے میں کفر کو پسند کرنے اور اسے ذہنی وقلبی طور پر اسلام پر ترجیح دیے بغیر ممکن نہیں، اس لیے اسے کفر یا ارتداد قرار دینے میں کسی کو کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم ظاہر ہے کہ کفار اور مسلمانوں کی باہمی کشمکش کی واحد بنیاد مذہب کا اختلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی دنیوی مفادات کے تصادم یا ایک دوسرے کے مقابلے میں برتری اور تفوق حاصل کرنے کی بہت سی صورتیں ہو سکتی ہیں اور وہ صرف مسلمانوں اور کفار کے مابین نہیں بلکہ خود کفار کے مابین یا مسلمانوں کے مختلف گروہو ں کے درمیان بھی ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام دنیوی مفادات کے تناظر میں ایسے حالات میں کفار کے ساتھ دوستی کرنے والے مسلمانوں کو ذمہ دار اور محتاط فقہاء نے کبھی دائرۂ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا۔

مثال کے طور پر جب چھٹی؍ ساتویں صدی میں مسلمانوں کی مرکزی سیاسی طاقت کمزور ہونے کے نتیجے میں ان کے فتح کیے ہوئے بعض علاقے دوبارہ کفار کے قبضے میں چلے گئے اور بعض علاقوں میں مقامی مسلمان حکمرانوں نے غلبہ حاصل کرنے والے کفار کے ساتھ موافقت اور سازگار تعلقات کا طریقہ اختیار کیا تو اہل علم کے سامنے یہ سوال آیا کہ ایسے لوگوں کا شرعی حکم کیا ہے؟ اس حوالے سے ساتویں صدی ہجری کے حنفی فقیہ داود بن یوسف الخطیب کی کتاب ’’الفتاویٰ الغیاثیہ‘‘ سے ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’مسلمانوں میں سے جو آدمی کسی معاملے میں ان کی موافقت کرے تو وہ فاسق ہے نہ کہ مرتد اور کافر، اور ایسے مسلمانوں کو کافر قرار دینا سب سے بڑا گناہ کبیرہ ہے، کیونکہ یہ طرز عمل انہیں اسلام سے متنفر کرنے، مسلمانوں کی تعداد کو کم کرنے اور انہیں کفر پر بر انگیختہ کرنے کے مترادف ہے۔ باقی رہے مسلمان بادشاہ ،جو کسی ضرورت کے باعث ان کی اطاعت کرتے ہیں ،تو بحمدہ تعالیٰ صحت اسلام پر قائم ہیں اور اگر ان کی اطاعت کسی ضرورت کے بغیر ہے تو بھی یہی حکم ہوگا ،البتہ اس صورت میں ان پر فاسق کا اطلاق ہوگا۔‘‘ (فتاویٰ غیاثیہ، کتاب السیر، بحوالہ مجلہ ’’فکر و نظر‘‘ ادار تحقیقات اسلامی ،شمارہ ۳ جلد ۶۴ (جنوری، مارچ ۲۰۰۹ )

ہمارے ہاں برصغیر کی ماضی قریب کی تاریخ میں بھی اس کا نمونہ موجود ہے۔ جب برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان پر اپنا تسلط مستحکم کرنا شروع کیا تو بہت سے مسلمانوں نے ان کی طاقت اور دنیوی ترقی سے مرعوب ہو کر یا یہ محسوس کرتے ہوئے کہ ان کی مخالفت یا مزاحمت کا طریقہ معروضی صورت حال میں خلاف مصلحت ہوگا، برطانوی حکمرانوں کا قرب اختیار کرنے اور انگریزی سلطنت کے استحکام میں ان کا ساتھ دینے کا راستہ اختیار کر لیا۔ اس طرز فکر کے سب سے بڑے نمائندہ سرسید احمد خان تھے جنھوں نے نہ صرف ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں عملاً باغیوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا، بلکہ اس کے بعد اپنی ساری زندگی اس طرز فکر کی تبلیغ کے لیے وقف کر دی کہ مسلمانوں کو برطانوی حکومت کی وفادار اور مخلص رعایا بن کر زندگی بسر کر نی چاہیے۔ سرسید کے اس طرز فکر سے بہت سے طبقات نے اختلاف کیا، لیکن اس کی بنیاد پر ان کی یا ان کے ہم خیالوں کی تکفیر کسی ذمہ دار عالم نے نہیں کی، بلکہ بعض اکابر اہل علم نے یہ کہہ کر ان کا باقاعدہ دفاع کیا کہ اس سب کچھ کے پیچھے سرسید کا جذبہ محرکہ اسلام دشمنی نہیں بلکہ مسلمانوں کی ہمدردی اور خیر خواہی تھی۔ چنانچہ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:

’’بڑے محب قوم تھے۔ دین میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔ اسی سے نقصان ہوا۔ ۔۔۔ یہ جو مشہور ہے کہ وہ انگریزوں کا خیر خواہ تھا، یہ غلط ہے بلکہ بڑا دانش مند تھا۔ یہ سمجھتا تھا کہ انگریز برسر حکومت ہیں۔ ان سے بگاڑ کر کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان سے مل کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت ج ۱۱، ص ۲۶۷۔۲۶۹)

اختلاف اور منافرت

ادبِ اختلاف مسلمانوں کی علمی روایت کی ایک بہت اہم بحث رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ میں مختلف دینی اور دنیاوی امور کے فہم کے ضمن میں اختلاف رائے واقع ہوا۔ بعض حساس دینی وسیاسی معاملات پر اختلاف رائے نے آگے چل کر باقاعدہ مذہبی وسیاسی مکاتب فکر کی صورت اختیار کر لی اور بعض انتہا پسند فکری گروہوں نے اپنے طرز فکر اور طرز عمل سے مسلم فکر کو اس سوال کی طرف متوجہ کیا کہ اختلاف رائے کے آداب اور اخلاقی حدود کا تعین کیا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ اظہار اختلاف کے بعض نہایت سنگین پیرایے سامنے آنے کے باوجود مسلم فکر میں اختلاف پر قدغن لگانے یا آزادء رائے کو محدود کرنے کا رجحان پیدا نہیں ہوا۔ اس کے بجائے اختلاف رائے کی اہمیت اور ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے اظہار کے لیے مناسب علمی واخلاقی آداب کی تعیین پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مسلمانوں کے علمی وفقہی ذخیرے میں اس حوالے سے نہایت عمدہ اور بلند پایہ بحثیں موجود ہیں۔

آٹھویں صدی ہجری میں غرناطہ (اندلس) سے تعلق رکھنے والے شہرۂ آفاق عالم، امام ابو اسحاق الشاطبی (وفات ۷۹۰ھ) نے اپنی کتاب ’’الموافقات‘‘ کی ایک فصل میں اختلاف اور منافرت کے باہمی تعلق کا تجزیہ کیا ہے اور ان اسباب کو واضح کیا ہے جو علمی اختلاف کو باہمی منافرت تک پہنچا دیتے ہیں۔ شاطبی کا کہنا ہے کہ جب لوگ اپنے نقطہ نظر کے ترجیحی دلائل بیان کرتے ہوئے مخالف نقطہ نظر اور اس کے حاملین پر طعن اور ان کی تنقیص کا انداز اختیار کرتے ہیں تو اس سے اختلاف اور علمی ترجیح اپنے حدود سے باہر چلے جاتے ہیں، کیونکہ ترجیح کا مطلب ہی یہ ہے کہ دونوں نقطہ نظر مشترک طور پر اپنے اندر امکان صحت رکھتے ہیں اور علمی طور پر قابل غور ہیں، البتہ ایک نقطہ نظر بعض پہلووں سے کسی فریق کو زیادہ وزنی محسوس ہوتا ہے۔ اب اگر دوسرے نقطہ نظر کی غلطی کو اس اسلوب میں اجاگر کیا جائے کہ اس کی کلی نفی کا تاثر پیدا ہونے لگے تو یہ طریقہ ’’ترجیح’’ سے آگے بڑھ کر ’’ابطال‘‘ کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے جو کہ اپنے بنیادی تصور کے لحاظ سے غلط ہے۔

شاطبی کے مطابق اس طرز تنقید کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جن کے نقطہ نظر پر تنقید کی جاتی ہے، وہ مخالف نقطہ نظر کی خوبیوں اور محاسن کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اپنے نقطہ نظر کے دفاع پر مجبو رہو جاتے ہیں اور جواب آں غزل کے طور پر مخالف نقطہ نظر کی کمزوریاں اور معائب تلاش کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ یوں بحث کا جو عمل اپنے اپنے نقطہ نظر کے محاسن اور مثبت پہلو واضح کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہ دوسرے نقطہ نظر کی خامیاں اور معائب تلاش کرنے میں بدل جاتا ہے اور انسانوں کے مابین افہام وتفہیم کی فضا پیدا ہونے کے بجائے منافرت اور بغض کو فروغ ملنے لگتا ہے۔ شاطبی نے ا س ضمن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک عرب شاعر زبرقان بن بدر کو اس کا پابند کیا تھا کہ وہ کسی قبیلے یا گروہ کی مدح کرتے ہوئے ایسا انداز اختیار نہ کرے جس سے کسی دوسرے قبیلے یا گروہ کی تحقیر کا تاثر ملتا ہو۔ 

شاطبی نے امام غزالی کے حوالے سے اس اسلوب تنقید کے ایک اور نقصان کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور وہ یہ کہ اس سے بسا اوقات بالکل صحیح بات کے لیے بھی دلوں میں جگہ پیدا نہیں ہو پاتی، بلکہ الٹا دل اس سے نفور ہو جاتے ہیں۔ امام غزالی لکھتے ہیں کہ عوام کے دلوں میں جہالت اور تعصب کے راسخ ہونے کی بہت بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہل حق میں سے بعض ’’جہال‘‘ صحیح بات کو لوگوں کے سامنے چیلنج کے انداز میں پیش کرتے ہیں اور مد مقابل گروہوں کو تحقیر اور استخفاف کی نظر سے دیکھتے ہیں جس سے مخاطب کے دلوں میں عناد اور مخالفت کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں جو پھر اتنے پختہ ہو جاتے ہیں کہ نرم مزاج اور حکیم علمائے حق کے لیے ان کے اثرات کو مٹانا، ناممکن ہو جاتا ہے۔ شاطبی لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلو سے صحابہ کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ یہودیوں کے سامنے حضرت موسیٰ کے مقابلے میں آنحضرت کی فضیلت اس اسلوب میں بیان نہ کریں کہ اس سے حضرت موسیٰ کی کسر شان لازم آتی ہو، کیونکہ کسی بھی نبی سے عقیدت رکھنے والوں کی عقیدت کو مجروح کرنا اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔

شاطبی نے ادب اختلاف کے حوالے سے جس نکتے کو واضح کیا ہے، اس کی زندہ مثالیں اور شواہد ہم روز مرہ اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں۔ مذہبی، سیاسی، فکری اور سماجی اختلافات، سب کے سب اسی رویے کی عکاسی کرتے ہیں جس کی شاطبی نے نشان دہی کی ہے۔ حدودِ اختلاف اور آداب تنقید کے حوالے سے اسلامی تصورات کی یاد دہانی کی جتنی آج معاشرے کو ضرورت ہے، شاید کبھی نہیں تھی۔

جدید مغربی فکر اور تہذیبی رواداری

ہمارے اہل دانش میں بالعموم یہ تصور پایا جاتا ہے کہ جدید مغربی تہذیب مذہبی رواداری کی علم بردار اور معاشرتی وثقافتی تنوع کی حوصلہ افزائی کرنے والی تہذیب ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تصور نظر ثانی کا متقاضی ہے۔

سب سے بنیادی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ کوئی بھی تہذیب (اور اس کی علم بردار سیاسی طاقت) ایک مخصوص نظریہ حیات پر مبنی ہوتی ہے اور تمام ترجیحات اسی کی روشنی میں متعین کرتی ہے۔ ایسا کرنا ااس کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے بغیر وہ دراصل تہذیب بن ہی نہیں سکتی۔ مثال کے طور پر مسلم تہذیب چونکہ ایک ایسے دین کی نمائندہ تھی جو مذہبی اختلافات کے باب میں ’’الحق’’ ہونے کا مدعی تھا، اس لیے اس تہذیب کے تمام مظاہر میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین امتیاز قائم کیا جانا لازم تھا اور ایسا نہ کرنا درحقیقت نظریاتی تضاد کا غماز ہوتا۔ تاہم یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ مسلم تہذیب نے ’’الحق‘‘ کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس چیز کو بھی اپنے نظریہ حیات میں بنیادی جگہ دی کہ ’’باطل’’ کو کلی طور پر دنیا سے مٹانا خدا کی اسکیم کا حصہ نہیں ہے، اور یہ کہ ’’الحق’’ کی اتباع کی پابندی اصولاً انھی لوگوں پر لازم ہے جو نظریاتی طور پر اسے ’’الحق’’ مان لیں۔ جو لوگ اس پر ایمان نہ لائیں، انھیں سیاسی حقوق میں اہل ایمان کے مساوی نہیں سمجھا جائے گا، تاہم انھیں اپنے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں اس ’’حق‘‘ کی پیروی کا پورا اختیار ہوگا جو مسلمانوں کے نقطہ نظر سے ’’باطل‘‘ ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے بطور اصول یہ بات تسلیم کی کہ اخلاقی تصورات کے اطلاق میں مختلف مذاہب کا اختلاف ہو سکتا ہے، اس لیے مسلم تہذیب کے زیر سایہ بسنے والے مختلف مذہبی گروہوں کے معاشرتی قوانین ہمارے نقطہ نظر سے جتنے بھی قابل اعتراض ہوں، انھیں اس پر عمل کی اجازت ہوگی، حتی کہ مجوسیوں کو ماں اور بہن سے نکاح کرنے کی بھی۔ اصل میں ’’رواداری‘‘ کا مصداق یہی چیز ہے۔ 

اس کی روشنی میں اب مغربی تہذیب کا جائزہ لیجیے:

جدید مغربی تہذیب بھی ایک مخصوص نظریہ حیات پر مبنی ہے اور وہ یہ کہ مذاہب کے اختلاف میں حق وباطل نام کی کوئی چیز پائی ہی نہیں جاتی۔ یہ سارے ’’حق’’ ہیں اور یا پھر سارے ہی ’’باطل’’۔ سو اس بنیاد پر کسی فرق اور امتیاز کا بھی ظاہر ہے، کوئی جواز نہیں بنتا۔ چنانچہ مذہبی عدم امتیاز مغربی تہذیب کے کسی ’’روا دارانہ‘‘ رویے کا نہیں، بلکہ اس تہذیب کے بنیادی نظریہ حیات کا تقاضا ہے۔ مذہب یا مذہبی اخلاقیات کی جگہ یہ تہذیب ’’انسانی حقوق’’ کے ایک متبادل نظریہ حیات کی علم بردار ہے اور ظاہر ہے کہ دنیا میں موجود دوسری تہذیبیں یا اخلاقی تصورات اس کے اس نظریہ حیات سے مختلف ہیں۔ ’’روا داری’’ کا اصل امتحان یہاں شروع ہوتا ہے۔ اگر مغربی تہذیب بھی اپنے اندر وہ لچک رکھتی ہو جو مسلم تہذیب رکھتی تھی، یعنی اپنے نظریہ حیات کو ’’الحق’’ ماننے کے باوجود اس سے مختلف اخلاقی وقانونی نظاموں کی گنجائش تسلیم کرنا بلکہ انھیں قانونی تحفظ دینا، تو یقیناًیہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تہذیب بھی اسی طرح ’’روا دار’’ تہذیب ہے جیسے مسلم تہذیب تھی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ مغربی فکر کو اس پر اصرار ہے کہ انسانی حقوق کا واحد معیار وہی ہے جسے وہ معیار تسلیم کرتی ہے اور اس سے متصادم تمام اخلاقی اور قانونی نظاموں کے لیے لازم ہے کہ وہ خود کو اس سے ہم آہنگ کریں اور غالب تہذیب اس مقصد کے لیے سیاسی، معاشی اور تہذیبی دباو کے تمام تر ذرائع کو بروئے کار لائے گی، بلکہ یہ اس کا فرض ہے۔ 

سو اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اہل مغرب جس مذہبی عدم امتیاز کے علم بردار ہیں، وہ ’’روا داری‘‘ کے رویے کے بجائے ان کے اپنے نظریہ حیات کا عین تقاضا ہے، جبکہ جہاں ان کے نظریہ حیات سے مختلف اخلاقی وقانونی نظاموں کی گنجائش تسلیم کرنے کا سوال آتا ہے تو وہاں اہل مغرب ذرہ برابر لچک یا روا داری دکھانے کے قائل نہیں۔ اسی وجہ سے ہم علیٰ وجہ البصیرت یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم تہذیب، مذہبی واخلاقی تصورات کے تنوع اور اختلاف کو قبول کرنے کے حوالے سے جدید مغربی تہذیب سے سو گنا زیادہ روادار اور لچک دار تھی، کیونکہ مسلمانوں نے اپنے دور میں اہل ذمہ کو جان ومال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے مذہبی قوانین پر عمل کی بھی آزادی دی تھی، جبکہ اہل مغرب اپنے ’’اہل ذمہ‘‘ کو یہ آزادی دینے کے لیے تیار نہیں اور اپنے مخصوص اقداری تصورات کی بنیاد پر مسلمانوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی شریعت کے ان تمام احکام سے دست بردار ہو جائیں جو جدید مغربی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔ (حقیقت یہی ہے کہ مسلمان ممالک کی حیثیت اس دور میں مغربی اقوام کے ’’اہل ذمہ’’ کی ہے جو ان کی دنیا میں، ان کی شرائط پر اور ان کے مقرر کردہ حدود میں ہی سیاسی ’’آزادی‘‘ سے مستفید ہو رہے ہیں۔) 

آراء و افکار