تہذیب مغرب: فلسفہ و نتائج (۱)

محمد انور عباسی

تمہید:

انسان کا مطالعہ اہم سہی لیکن مغرب کے انسان کا مطالعہ اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ چند صدیاں قبل کا مغربی انسان آج کے اس انسان سے یکسر مختلف ہے۔ اس کے فلسفہِ حیات نے اسے ایسا فرد Human being) ) بنا کر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس کی پیروی کی خواہش آج کل دنیا کے اکثر انسانوں کے دلوں میں خواب بن کر تڑپ رہی ہے، یہ سمجھے بغیر کہ مغرب کا انسان کس طرح سے آزاد ہے، اس کی زندگی کا فلسفہ کیا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟ لبرل ازم نے اس کے رویّوں میں کیا تبدیلی پیدا کردی ہے اور اس کی سمت کیا ہے؟ 

ہم مسلمانوں کے لیے یہ مطالعہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس اپنا ایک فلسفہ ہے ۔ اس کے باوجود اب ایک فیشن سا ہو چلا ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز کو سونا سمجھ کر ہم اس کی طرف لپک کر پکڑنابہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ سترھویں صدی کی تحریکِ تنویر یعنی روشن خیالی کی تحریک کے بعدمغربی انسان نے کیا حاصل کیا اور کیا گنوا بیٹھا، اس کی آگاہی ہمارے لیے بہت ضروری ہے تا کہ ایک باشعور شخص سوچ سمجھ کر اپنے لیے جو راستہ اختیار کرنا چاہے وہ چن لے۔

انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو اس کا تعلق انسان کے فلسفہِ حیات سے لازماًجڑتا ہے چاہے اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ انسان کا تصورِکائنات کیا ہے؟ اس کی اپنی حیثیت کیا ہے؟ وہ کہاں سے آیا ہے ، کیوں آیا ہے اور کہاں جا رہا ہے؟ ان ہی سوالات کے جوابات نے انسان کی عملی زندگی کی تشکیل کی ہے۔ بالعموم اس کا تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ عام آدمی سے پوچھیں تو شاید وہ ان میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہ دے سکے لیکن اس کے شب و روز کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اس کے ہر فعل، ہر رویّے،ہر سوچ و فکر کے پیچھے ان ہی سوالات کی عملی صورت نظر آئے گی۔

سترھویں صدی سے قبل کی مغربی دنیا پر چرچ کا اقتدارتھا۔ مسیحی مذہب جیسا تیسا بھی تھا، خاصا توانا و طاقتور تھا۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مذہب کی یہ مسخ شدہ صورت انتہائی جمود و تعطل کا سبب بھی تھی اور نتیجہ بھی۔یہ دنیا ایک مکروہ چہرہ لیے ہوئی تھی۔ راہبوں کے مسکن بدمعاشی اور عیاشی کے اڈے بن گئے تھے۔ انتہائی نا معقول عقائد کلچر کا رنگ دھار چکے تھے۔ جنت کے ٹکٹ اور مغفرت کے سر ٹیفکیٹ جاری کرنا مذہبی قیادت کے اختیار میں تھا۔کھلی چھٹی تھی کہ معاشرے کے صاحبِ اختیار اور کھاتے پیتے لوگ ہر قسم کی کرپشن، لوٹ مار اور بدمعاشی کر کے مذہبی قیادت سے لین دین کر کے پاک صاف بن سکیں۔ ان حالات میں ایک بغاوت کا رونما ہونا ایک فطری امر تھا، اور یہ بغاوت روشن خیالی (Enlightenment)کی تحریک کی صورت میں سامنے آ گئی۔ فلاسفر، سائنسدان، عمرانی علوم کے ماہر سب ہی میدان میں آ گئے۔

اس تحریک کے علمبرداروں نے لبرل ازم اور ماڈرن ازم کی بنیاد رکھی۔ دعویٰ کیا گیا کہ حقیقت وہی ہو سکتی ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ ان دلائل کے بل بوتے پر مذہب کے مقابلے میں ایک اورجدید مذہب سامنے لایا گیاجسے ہم ہیومنزم (Humanism)کے نام سے جانتے ہیں۔ اب مافوق الفطرت عقائدکی کوئی حیثیت رہی نہ ضرورت۔ مادّہ ہی اس کائنات کی سب سے اعلیٰ و ارفع حقیقت قرار پائی۔جان لاک سے روسو تک، آدم سمتھ سے مارشل، فرائیڈمین، کینز اور کارل مارکس تک، سر فرانسس بیکن سے آئین سٹائین اور ڈارون سے آج تک کے تمام فلاسفہ، سائنسدان اور علومِ عمرانی کے ماہرین و مفکرین نے کچھ اتفاق سا کر لیا ہے کہ فلسفہِ مادّیت سے جان چھڑانا کچھ آسان کام نہیں، اگرچہ اب مغرب سے ہی ان کے دانشور اب کچھ اور ہی کہانیاں بیان کر رہے ہیں۔

دلیل کا دور (Age of Reason):

سترھویں صدی میں یورپ میں روشن خیالی (Enlightenment)کی تحریک کے عہد کو دلیل کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں قدامت پسند تصورات پر جنہیں کلیسا کی سرپرستی حاصل تھی سوالات اٹھائے گئے۔ سولھویں صدی کے ابتدائی نصف عشرے میں پروٹسٹنٹ تحریک کے آغاز اور اس کے بعد ہونے والی مذہبی جنگوں کے نتیجے میں ۱۶۴۸ ؁ء میں معاہدہِ ویسٹ فیلیا عمل میں لایا گیا جس میں ریاست اور کلیسا کی علیحدگی پر اتفاق ہوا اور یورپ میں سیکولر نظام کی داغ بیل پڑی اور یہ مغربی تہذیب کا غالب تہذیبی و ثقافتی نظریہ بن گیا۔ (۱)

روشن خیالی کی یہ تحریک نیوٹن اور جان لاک سے لے کر والٹیر اور روسو کے نظریات پر مبنی فلسفے سے غذا حاصل کر کے پروان چڑھی۔ چنانچہ اٹھارویں صدی کو روشن خیالی کی صدی کہا گیا۔ اسے ذہنی پختگی کے دور سے بھی عبارت کیا گیا جو انسانی یقین کی صورت میں اس طور سامنے آئی کہ عقل ہی انسانیت کے لیے حق کی پہچان قرار پائی اور ّ ّّّ "عالمگیر سچائی" کی تلاش اور دریافت کا سبب بھی۔ روشن خیالی کی تحریک عقل کو مذہب کے متبادل کے طور پر مغرب میں سامنے لانے کے لیے اس لیے کامیاب ہوئی کہ اس کے سامنے لایعنی عقائد او ر عقل دشمن تصورات پر مبنی مذہب بر سرِ کارتھا۔ جدید مذہب آزادی اور مساوات کے دلکش نعروں کے ساتھ سامنے آیا۔یورپ سے باہر ہم لوگوں کی اکثریت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ ہر انسان کو یہ حقوق حاصل تھے۔ مگر حقیقت یہ نہیں ہے ۔ 

حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔یہ حقوق صرف یورپی اقوام اور وہ بھی صرف مرد حضرات کو ہی حاصل تھے۔ اس موضوع پر لکھنے والی ایک مشہور ہستی کے الفاظ میں:

"The seeming paradox at the heart of Liberalism, which asserted equality and liberty for all yet maintained a rigorous inequality in relation to certain groups, should be understood in terms of the particular meanings given these words. Equality and liberty (from intervention by government) refer to human beings capable of reason. Only they can be granted the status of belonging to the universal human. Only they are to be regarded as autonomous persons, as individuals, and therefore able to be granted public rights and freedoms. Those who are deemed outside reason -that is, the 'uncivilised' or those closer to nature and therefore more animal-like- are not quite Human, and thus not capable of receiving these rights and freedoms." (2)

یعنی لبرل ازم جس نے آزادی اور مساوات کا نعرہ دیا، حیرت انگیز طور پر خلافِ قیاس بڑی سختی سے چند گروپوں کے لیے غیر مساوی رویّہ اپنانے پر مصر رہی۔ مساوات اور آزادی جیسی نعمت، بتایا گیاکہ، ان لوگوں کے لیے ہی ہو سکتی ہے جو استدلال کی قوت رکھتے ہوں۔ صرف وہی اس رتبے پر فائز ہو سکتے ہیں اور انسانی اور عوامی حقوق کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ غیر مہذب لوگ یا وہ لوگ جو فطرت کے زیادہ قریب ہیں (یعنی یورپی نہیں) اس لیے جانوروں جیسے ہی ہیں در اصل ہیومن ہیں ہی نہیں اس لیے وہ آزادی اور اس طرح کے دوسرے حقوق حاصل کرنے کے اہل ہی نہیں! یورپی اقوام میں بھی صرف مرد حضرات، عورتیں بھی ان حقوق سے محروم تھیں!! غالباً ان ہی وجوہ کی بنا پر پوسٹ ماڈرن مفکرین نے ماڈرن ازم اور ہیومن ازم کی تحریک یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ یہ در اصل یورپی اقوام کے کلچر کو دنیا پرحکمرانی کی تحریک ہے جس سے آزادی اور مساوات جیسی اقدارکو آڑ بنایا گیا ہے۔ 

یہ تھا جدید مذہب جو روشن خیالی(Enlightenment) کی تحریک نے لبرل ازم اور ماڈرن ازم کے خوش کن نعروں سے مزین ہو کر ہیومن ازم کے نام سے سامنے آیا۔ 

ہیومن ازم (Humanism):

مغربی تہذیب کے اصل معماریونانی فلاسفہ بالعموم ہیومن ازم کے داعی تھے۔ جدید مغرب میں جب مذہب کو رد کرنے کا عام رجحان پیدا ہوا تو اس فلسفے کو نئی زندگی ملی اور اس نعرے کو ہر دلعزیز بنایا گیا کہ ایک انسان کسی خاص مذہب،خدا یا کسی بھی ما فوق الفطری نظریات کا ترک کر کے اپنے موجودہ معاشرے کو ایک انسان کی حیثیت سے دیکھے اور دوسروں کو محض اسی حیثیت سے پرکھے اور ان سے سلوک ،تعلق یا معاملہ کرے۔ان دیکھے نظریات اور رہنمائی کے تصورات کو ایک طرف رکھ کر عالمی سچائی، اخلاقی اقدار وغیرہ کو عقل و منطق کے ذریعے دریافت کرے اور یوں مذہب کے متبادل کے طور پر عقل کے ذریعے ایک جدید قابلِ عمل اخلاقی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کے لیے ہیومن ازم کے نام سے نیا فلسفہ وجود میں آیا۔ 

جیک گراسبی (Jack Grassby) لکھتا ہے:

"Humanist start from the premise that there are no accessible gods, spirits or non-material 'souls'. There are no supernatural beings to instruct or inform us. There is no transcendent entity, religious or ideological, that we can turn to for comfort, validation or support".(3)

یعنی ہیومن ازم کے پیروکاروں کا بنیادی مقدمہ ہی یہ ہے کہ یہاں کوئی قابلِ رسائی خدا، روح یا غیر مادّی ہستی نہیں۔یہاں کوئی مافوق الفطرت وجود نہیں جو ہمیں ہدایت دے سکے یا کوئی اطلاع ہی بہم پہنچا سکے اور نہ کوئی ایسی بالاتر ہستی، مذہبی یا نظریاتی، پائی جاتی ہے جس سے ہم کسی قسم کی تسکین پا سکیں یا کوئی جواز یا حمایت ہی حاصل کر سکیں۔ اس کی ایک اور تعریف ہمیں ان الفاظ میں ملتی ہے: 

"Humanism is a secular alternative to religion in our quest for a good, moral life. It is a view of life which does not count upon any God, religion or life after death. (Thomas W. Clork (1993): Humanism and Post-modernism; a Reconciliation.)

یعنی ہیومن ازم ایک اچھی اور اخلاقی زندگی کی تلاش میں مذہب کی جگہ لینے والا اس کا متبادل سیکولر طرزِ زندگی ہے ۔ یہ ایک مکمل فلسفہِ حیات ہے جو کسی خدا، مذہب یا موت کے بعد کسی زندگی کا قائل ہے نہ ان پر انحصار کرتا ہے ۔اس مذہب میں ہمارے وجود کا مقصداعلیٰ اخلاقی اقدار کے تحت زندگی گزارنا نہیں بلکہ مادّی وجود کے ہیجان انگیز احساسات کی بھوک مٹانا ہے۔ ایک اور مفکر Dean Koontz کے مطابق

"The sole purpose of existence is to open oneself to sensation and to satisfy all appetites as they arise. No values can be attached to pure sensation.... No consideration of good or bad, right or wrong with no fear but only our fortitude." (Intensity: Pp. 142, 317)

ہمارے وجود کا واحد مقصد اس کے ہیجان انگیز احساسات اور بھوک کی تسکین ہے۔ اس سعی میں کسی اخلاقی قدر کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی نہ کسی نیک و بد یا صحیح یا غلط کا خیال کیا جائے گا۔

اس نئے مذہب نے جس عملی نظام کی بنیاد رکھی اس کو جدیدیت (Modernism) کے نام سے موسوم کیا گیا۔

جدیدیت (Modernism):

جدیدیت کی مختصر تعریف بل کراؤزاس طرح کرتا ہے:

"Modernism is synonymous with the humanist philosophy of the Enlightenment which began in the 17th Century, and ended with the fall of communism. In its very basic summation it was a movement that was optimistic about discovering universal truth that would explain all of life." (4)

یعنی جدیدیت روشن خیالی تحریک کے ہیومن ازم کے فلسفے کے ہم معنی ہے جو سترھویں صدی میں شروع ہوئی اور کمیون ازم کے زوال کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچی۔اپنے بنیادی فلسفے کے اعتبار سے مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی تحریک تھی جو زندگی کے ہر پہلو کی وضاحت اور عالمگیر سچائی کی دریافت کے لیے پر امید تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدیدیت لبرل ازم کا عملی پرتو تھی جس کا مقصد ماضی سے نجات، حالات سے مفاہمت، نئے پن کا جنون اور مذہب کا خاتمہ تھا۔ جدید انسان ہی اصل لبرل کہلانے کا مستحق بنا۔ 

معروف محقق و دانشور مرزا محمد الیاس لکھتے ہیں:

’’جدیدیت کی اس تحریک کا سب سے پہلا شکار چرچ تھا۔ اس تحریک نے انسان کے اعتقادی رویوں کو مسترد کر دیا ۔ خدا کی نفی کردی اور اچھائی و برائی، نیکی و بدی کی جنگ کو مضحکہ خیز قرار دے دیا۔ چرچ کے علم سے فاصلوں نے اس تحریک کو زیادہ اہمیت دی۔ زمین کا سورج کے گرد گھومنا چرچ کو منظور نہ تھا لیکن جدیدیت نے اسے سچ ثابت کر دیا۔ یہ کام اس کی فکری ماں سائنس نے کیا۔ استدلال کی بنیاد سائنسی تجربہ تھا۔ سائنسی تجربے کی بات قبول نہ کرنے والے کو جدیدیت کا دشمن قرار دیا گیا۔ اس تحریک کے راہنماؤں کا موقف تھا کہ ہر بات اور ہر رویہ، ہر مظہر اور واقعہ سائنس کے دیے استدلال سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ روایت، رواج، تاریخ، فنِ لطیفہ ہر کچھ اور سب کچھ استدلال کا محتاج ہے۔ استدلال ان کو ثابت کر دے تو درست، اگر استدلال ان کو غلط کہہ دے تو یہ غلط ہوں گے۔ جدیدیت کا سب سے بڑا نعرہ یہ تھا کہ وہ ایک بہتر اور اچھا معاشرہ بنا سکتی ہے۔ یہ معاشرہ کس طرح سے بنے گا؟ اس کی بنیاد ۱۸ویں صدی کی روشن خیالی تھی۔ اس روشن خیال ذہن کو ہی اس قابل سمجھا گیا کہ وہ سچائی کو پا سکے۔‘‘ (۵)

اسی طرح ایک مغربی دانشور نے لکھا کہ:

"Modernism denies any spiritual nature of mankind. Man has set himself and his material desires above all else, including God."

یعنی جدیدیت انسان کے روحانی وجود کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ جدید انسان نے اپنے آپ اور اپنی مادّی خواہشات کو خدا سمیت ہر شے سے بالاتر سمجھ لیا ہے۔ اس دور کے مروجّہ مذہب عیسائیت اور جدیدیت با قاعدہ ٹھن گئی۔ اس کی تفصیل کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ برطانوی مورّخ کیرن آرمسٹرانگ اپنی کتاب Battle for God میں لکھتی ہیں:

’’ ڈارون کی کتاب Origin کی اشاعت مذہب اور سائنس کے درمیان ایک ابتدائی نوعیت کی جھڑپ کا سبب بنی، تاہم پہلے حملے مذہبی لوگوں نے نہیں بلکہ زیادہ جارحیت پسند سیکولر لوگوں نے کئے تھے۔ انگلینڈ میں تھامس ہکسلے (۱۸۲۵۔۱۸۹۵) اور بقیہ یورپ میں کارل ووگٹ (۱۸۱۷۔۱۹۱۹) اور ارنسٹ ہیکل (۱۸۳۴۔۱۹۱۹) نے دوسرے شہروں میں جا جا کر اور بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کر کر کے ڈارون کے نظریے کو مقبول کیا، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ سائنس اور مذہب کو تو ایک دوسرے سے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا ۔ درحقیقت وہ مذہب کے خلاف ایک صلیبی جنگ (crusade) کی تبلیغ کر رہے تھے۔
ہکسلے کو واضح طور پر اس امر کا احساس تھا کہ وہ ایک جنگ میں شریک ہے۔ اس نے زور دے کر کہا کہ عقل کو سچ کی واحد کسوٹی ہونے کے مسئلے پر مصالحت بالکل نہیں ہو سکتی۔ ’نامعلوم عرصے پر محیط کشمکش کے بعد کسی ایک کو مٹنا ہو گا۔‘ ہکسلے کے نزدیک سائنسی عقلیت پسندی ایک نیا سیکولر مذہب تھا۔ یہ تبدیلیِ مذہب (conversion) اور کامل وابستگی کا تقاضا کرتا ہے کہ ’عقلی معاملات میں کسی بھی فکرسے دوچار ہوئے بغیراپنی عقل کی پیروی کرو۔‘ ہکسلے کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ صرف عقل ہی سچی تھی اور مذہب کی اساطیر سچ سے عاری تھیں۔یہ قدامت پسندانہ دور کی اساطیری پابندیوں سے آزادی کا آخری اعلامیہ تھا۔ اب عقل کسی اعلیٰ دربار کے تابع نہیں رہی تھی۔ اخلاقیات اس کو پابند نہیں کر سکتی تھی بلکہ اسے تو اس کو’کسی اور شے کی پروا کیے بغیر‘ اختتام تک جانے کی تحریک دینا تھی۔
انگلستان کے علاوہ باقی یورپ سے تعلق رکھنے والے یہ صلیبی جنگجو مذہب کے خلاف اپنی جنگ میں مزید آگے چلے گئے۔ لڈوگ بکنر(Ludwig Buchner) نے ایک بہت سخت کتاب Force and Matter لکھی جس کی (اور تو اور) خود ہکسلے نے بھی مذمت کی۔ بکنرنے کہا کہ کائنات کا کوئی مقصد نہیں ہے، دنیا کی ہر شے کا محرک محض ایک خلیہ ہوتا ہے اور محض کوئی احمق ہی خدا کو مان سکتا ہے۔‘‘ (ص: ۱۴۸۔۱۴۹)

جدیدیت اس دعوے کے ساتھ میدان میں اتری تھی کہ استدلال سے دریافت کردہ صداقتوں سے انسان کی زندگی بہتر ہوگی۔ اس کو ہر طرح کی غلامی سے نجات مل جائے گی جس میں سب سے بڑی مذہب کی غلامی ہے جو انسانوں کے دل و دماغ کو اپنے شکنجے میں کس لیتی ہے۔ مرزا محمد الیاس’ جدیدیت کا مقصد‘ کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں: 

’’جدیدیت کا سب سے بڑا نعرہ یہ تھا کہ وہ ایک بہتر اور اچھا معاشرہ بنا سکتی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے علم اور استدلال کی ضرورت سمجھی گئی۔ یہ ایک سائنسی عمل جس سے مزید علم حاصل ہوتا تھا، استدلال کی قوت سے بدعنوان مذہبی اور سیاسی تصورات سے نجات مل سکتی ہے او ر تعلیم سے سچائی مل سکتی ہے۔ کہاگیا کہ تعلیم ہمارے ذہن کو روشن کرتی اور اچھا آدمی بناتی ہے۔ تعلیم یافتہ اور روشن خیال لوگ نئے معاشرے کی بنیادیں استوار کرتے ہیں‘‘ (ہفت روزہ آئین ، اشاعت خاص، سوئم، ص:۲۸)

یہ اچھا معاشرہ کس طرح وجود میں آیا اور جدیدیت نے کس طرح اس کی تشکیل میں حصہ لیا، ہم ان دو نمایاں اور ممتاز میدانوں میں اس کا جائزہ لیں گے جس میں جدیدیت نے خصوصی توجہ دی جو اس کے عقائد کا لازمی نتیجہ تھے ۔ یہ دو میدان سیاسی اور جنسی تھے۔ سیاسی میدان میں سیکولرزم اور جنسی میدان میں نسوانیت کی تحریک(Feminism) تھی۔ مغربی تہذیب کی تعمیر و تشکیل میں ان کا جو نتیجہ سامنے آیا یا آرہا ہے اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

سیکولرزم (Secularism):

روشن خیالی کی تحریک کے زیرِ اثر ہیومن ازم کے عملی نظامِ جدیدیت نے جب فرد کی مکمل آزادی اور عقلیت پسندی کا اعلان کیا تو اس کے سامنے اپنے معاشرے میں ایک ہی مذہب عیسائیت بر سرِ اقتدار تھا۔ اس مذہب میں بد عنوانی تو خیر آ ہی چکی تھی مگر اس کی تعلیمات (چرچ کو اس کا حصہ دو اور قیصر کو اس کا حصہ) میں عملاًسیکولرنظام کی بنیادیں پائی جاتی تھیں۔

سیکولرزم کی تعریف و تفہیم میں خاصا تنوع یا کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ اس میں مذہب کی تکریم سے لے کر مذہب کی توہین تک کے سبھی قسم کے نظریات مل جاتے ہیں۔ اگر معاملے کو انتہائی سادہ لیں تو بعض دانشور ہمیں یہ تک بتا سکتے ہیں کہ مذہب کی اپنی بھلائی اور اس کی تکریم کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے ریاستی امور کی ’’گندگی‘‘ سے بچا کر الگ رکھا جائے، سنبھال کرکسی اونچی جگہ بڑی عزت کے ساتھ رکھ کراسے انسان کی پرائیویٹ اور ذاتی زندگی تک محدود رکھا جائے۔ وہ جس طرح کے چاہے عقائد بنائے، بگاڑے، اسے اس کی مکمل آزادی ہولیکن ریاستی امور میں اسے کسی قسم کی مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک یہ تصور لا دینیت نہیں بلکہ مذہب کا حقیقی مقصدہی یہی ہے اور بہترین ’’مذہبی‘‘ رویّہ ہے۔ بعض کا اس سے بڑھ کر دعویٰ یہ ہے کہ مذہب کو ریاستی امور سے دور رکھ کر ہی مغرب نے موجودہ ترقی کی ہے لہٰذا یہی نسخہ تمام اقوام و ملل کے لیے یکساں مفید ہے۔

بعض مغربی دانشور یہ یقین دلاتے ہیں کہ سیکولرزم مذہب کے خلاف ہرگز نہیں۔ Graeme Smith نے اپنی کتاب A short History of Secularism میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ کے سیکولر نظام میں لوگ زبردست ’’مذہبی‘‘ ہیں۔ مصنف ۲۰۰۱ ؁ء کے حکومتی سروے کو سامنے لا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ شمال مشرقی و مغربی انگلینڈ میں ۸۰ فیصد لوگوں نے اپنے عیسائی ہونے کا اعلان کیا ہے اور صرف پانچ فیصد افراد غیر مذہبی پائے گئے ۔(ص: ۱۔۲) مصنف کے نزدیک سیکولرزم کا لازمی مطلب عیسائیت کا خاتمہ نہیں ۔ غالباً اس کی وجہ عیسائیت کے بارے میں ان کا اپنا حقیقت پسنداہ یہ تجزیہ رہا ہو کہ:

"Christian identity is fluid because it changes whenever it enters a new context. Christian's history demonstrates this point repeatedly." (p.10)

یعنی عیسائیت کی شناخت سیّال اور تغیّر پذیر واقع ہوئی ہے کیونکہ جب بھی اسے نئے حالات سے سابقہ پڑا اس نے اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ عیسائیت کی پوری تاریخ نے متعدد بار اس بات کی شہادت دی ہے۔ 

جب مغربی معاشرے میں ان کے مروّجہ مذہب کی صحیح شناخت ہی یہی ہوتو سیکولرزم کو اس سے یا اس کو سیکولرزم سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں تو بلا شبہ ایک فردسیکولر ہونے کے ساتھ ساتھ ’’زبردست مذہبی‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ذہنی ساخت (Mindset) کے حامل افراد سیکولرزم کو مذہب کے خلاف نہیں سمجھتے اور بسا اوقات یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ سیکولرزم کا مطلب لا دینیت قطعاً نہیں ہے۔ مسلم معاشرے کے سیکولر دانشور بالخصوص اسی طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس نظام میں افراد کو اس کی مکمل آزادی ہوتی ہے کہ اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے رہیں۔ لہٰذا اس صورتِ حال میں اسے مذہب دشمن یا لادینیت نہیں کہا جا سکتا۔سیکولر ’’مسلمانوں‘‘ کے خیالات کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب ہم اصل اور بنیادی مآخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں ایک دوسری ہی حقیقت ملتی ہے۔ بریان ٹرنر (Bryan S. Turner) کے الفاظ میں ’’ سیکولرائزیشن نفسِ انسانی کے متعلق اُن نہایت ہی روایتی تصورات کا ترکیبی جزو ہے، جو نفس کو اس کے بے ساختہ جوابی عمل سے پہچانتے ہیں ،جس کی وجہ سے انفرادیت پسندی اور ذاتی رویّوں نے ایک واضح سماجی رجحان اختیار کر لیا ہے جن کا محور مذہبی فکر سے نفرت اور اس سے مکمل آزادی ہے۔‘‘ (۶)

جی ہاں! مذہبی فکر سے نفرت اوراس سے مکمل آزادی۔ ابتدائی مرحلے میں ریاستی امور سے بے دخلی کے بعد مذہب کس حیثیت میں کتنے عرصے تک یہ ’’آزادی‘‘ برقرار رکھ سکے گا، یہ سمجھنا شاید اب کچھ مشکل نہیں ہونا چاہیے۔جس خدا کی حاکمیت اجتماعی معاملات میں ناقابلِ قبول ہو اس کی حاکمیت انفرادی میں معاملات کیوں کر قبول کی جا سکتی ہے۔ انسان چونکہ ناقابلِ تقسیم وحدت ہے اس لیے یہ متضاد رویّہ زیادہ عرصے تک معقول انسان نہیں سنبھال سکتا۔ انسان مختلف اور متضاد خانوں میں اپنے آپ کو نہیں بانٹ سکتا، وہ ایک کُل ہے۔ وہ اگر ایک سیکولر ہے تو اس کے مطابق ہی اپنی زندگی ڈھالے گا۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ مذہبی عقائداور نظریات سے جان چھڑائے کیونکہ بقول طارق جان ’’مذہب کو زندہ رہنے کے لیے لازم ہے کہ وہ پہاڑوں اور غاروں سے اترے اور زندگی کے بہاؤ میں آئے۔ سیکولرزم کو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ مذہب پہاڑوں پر اور مزاروں اور خانقاہوں میں ہی رہے، تا کہ وہ اپنی من مانی کرتے ہوئے انسانی آورشوں کو ان کے اخلاقی اور روحانی متن سے محروم کر دے۔‘‘ (۷)

وکی پیڈیا کے مضمون نگار کے مطابق سیکولرزم حکومتی اداروں اور نمائندوں کا مذہبی اداروں سے مکمل علیحدگی کا نام ہے۔ اس میں مذہبی احکامات و تعلیمات سے آزاد ہونے کے حق پر زور دیا جاتا ہے۔ جدیدیت کے ابتدائی ایام میں جب ہولی اوک (George Jacob Holyoak) نے برطانیہ میں اس نظریے کی بنیاد رکھی تو اس نے اپنا ہاتھ ذرا نرم رکھا۔ اس نے مذہبی عقائد کو چھیڑے اور تنقید کئے بغیر سیکولرزم پیش کیا۔ اس نے کہا کہ یہ عیسائیت کے خلاف نہیں بلکہ الگ سے ایک آزاد فکر ہے۔ اس کو اس بات کا احساس تھا کہ اس نظریے میں بنیادی طور پر مذہب مخالف رجحان پایا جاتا تھا تب ہی تو اس کو وضاحت کی ضرورت محسوس ہوئی۔لیکن جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ سیکولرزم کی اپنی بقا کے لیے یہ ضروری تھا کہ مذہب کی جگہ لے لے اور عین منطقی نتیجے کے طور پر ایک وقت آیا جب یہ مذہب کے خلاف نفرت کا اعلان کرنے لگا، حتی کہ ۱۹۶۱ ؁ء میں Gabriel Vahanian نے ایک کتاب شائع کی جس کا عنوان تھا God is Dead، جس میں کہا گیا کہ جدید سیکولر کلچر میں خدا کی راہنمائی کا تصور ہی غائب اور عملاً ہماری زندگی سے مذہبی اخلاقیات خارج ہو چکی ہیں۔ ایسے غیر متعلق وجود کو اگر مُردہ نہ سمجھیں تو کیا کہیں۔ ایسی مافوق الافطر ت ہستی جوہماری زندگی کے معاملات کے لیے نہ تو کوئی راہنمائی دے سکے بلکہ جس کے وجود کو ہم سائنسی انداز میں سمجھ ہی نہ سکیں وہ اگر عملاً لاتعلق ہی ہے تو اس کی زندگی بہرحال ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔

ان ہی ایام میں امریکہ میںDeath of God Movement خداکی موت کی تحریک نمودار ہوئی۔ وان بیوران (Paul Van Buranاور ہیملٹن(William Hamilton) نے ’’تحقیق‘‘ پیش کی کہ ایک ماورائی وجود (Transcendence) کے لیے جدید فکر میں کوئی بامعنی جگہ نہیں مل سکتی ۔J.J. Atlizer، جو خدا کی موت کی تحریک کا ایک بڑا موید تھا، نے دعویٰ کیاکہ مذہب ایک قسم کی شاعری ہے جسے خدا کے وجود کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ جدیدیت کے عہد میں سیکولرزم کے زمانہِ طفولیت یں کچھ نہ کچھ پردہ تھا، جومابعد جدیدیت (Post Modernism)میں سیکولرزم کا نظریہ بلوغت کی منزلیں طے کر کے ایک تناور درخت بن کر نمودار ہو چکاتھا۔ ڈیونڈ رینڈ (David Rand)جو کینیڈا کی Quebec Secular Movement کے رکن ہیں، اپنے ایک مضمونDoes Secularism imply Religious neutrality? میں لکھتے ہیں کہ لوگوں نے مذہب کے معاملے میں سیکولرزم کی غیر جانبداری کا غلط مفہوم سمجھ رکھا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ:

"However, the Secular State must not remain neutral in the operation of its institutions. Indeed, it must reject any and all supernatural or pseudo scientific hypothesis, as well as all religious dogmas."

یعنی ایک سیکولر ریاست کو اداروں کے معاملات میں غیر جانبدار نہیں ہونا چاہیے۔ یقیناًاسے تمام مافوق الفطرت یا مصنوعی سائنسی مفروضوں اور تمام مذہبی اصول و قوانین کو رد کر دینا چاہیے۔ ایساکیوں کرنا ضروری ہے؟ اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ:

"Without that orientation, how could one justify the exclusion of religious principles from the operations of the state."

یعنی اس واضح سمت کو اپنائے بغیر مذہبی اصولوں کو ریاستی معاملات سے کیسے خارج کیا جاسکتا ہے؟ دوسرے الفاظ میں یہ پہلے سے طے کر لیا گیا ہے کہ مذہب کو بہرحال باہر رکھنا ہی ہے تواس کے لیے جواز یا فلسفہ پیدا کردینا کون سا مشکل کام ہے۔ دوسری وجہ کہ ریاست کو مذہب مخالف کیوں ہونا چاہیے، یہ صاحب ہمیں بتاتے ہیں کہ:

"Without its anti-religious aspect Secularism would inevitably be truncated and weekend." (8)

یعنی اگرریاست مذہب مخالف رویّہ نہ اپنائے گی تو سیکولرزم لازمی طور پر کمزور ہو کر ختم ہو جائے گا۔ جدیدیت میں اگر انسان لبرل کہلوانے کے شوق میں عقل کو مذہب کے خلاف استعمال کر کے کوئی معقول فلسفہ سامنے لاتا تو ایک بات بھی تھی۔ لیکن یہا ں تو یہ ہو رہا ہے کہ مذہب کو ریاست بدری کے احکامات اس لیے نہیں جاری کرنا پڑ رہے کہ سیکولرزم کو ئی مضبوط بنیادیں رکھتا ہے بلکہ ایک کمزور فلسفے کو اس لیے ریاست کے سہارے کی ضرورت ہے ، نہ صرف محض سہارے کی ضرورت ہے بلکہ اس کی بھی ضرورت ہے کہ ریاست مذہب خلاف رویّہ اپنائے تاکہ ایک فلسفہ ناتواں ہو کر گر نہ پڑے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو ظاہر ہے کہ اس کا مطلب سیکولرزم کو ختم کرنا ہو گا۔ 

سیکولرزم کی اس حقیقت کے باوجود بعض ’’مسلم سیکولر‘‘ حضرات کا یہ ارشاد کہ سیکولرزم لا دینیت نہیں ہے، محض ان کا مخمصہ ہی ہو سکتا ہے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ مغربی معاشرے کے تجربے کو مسلم معاشرے میں فٹ کرنا چاہتے ہیں۔ مغرب کے سامنے اسلام نہیں، عیسائیت کا تجربہ تھا جس کایہ دعویٰ ہی نہیں تھا کہ زندگی کے مختلف شعبوں وہ راہنمائی دیتا ہے۔ وہ اگر چند انفرادی عقائد ہی تک ہی محدود ہے توایک حد تک اس کی سمجھ آسکتی ہے۔ لیکن ایسا دین (نظامِ زندگی) جو عقائد سے اوپر اٹھ کر ان کا تعلق زندگی کے دیگر شعبوں تک محیط کرنا چاہے، اپنی شناخت اور وفا کا محور ایک بر تر ہستی سے جوڑدے اور باقی سب سے بیزار کر دے وہ انفرادی سطح تک کس طرح محدود ہونا پسند کرے گا۔ ایک مذہب اگر چند مذہبی رسوم ادا کر کے ان کا تعلق انسانی معاشرتی و معاشی زندگی سے منسلک کرتا ہے نہ کوئی راہنمائی دیتا ہے، اس کا ان ہی رسوم کی ادائیگی تک محدود ہو کر انفرادی مسئلہ بن جانا فطری اور منطقی نتیجہ ہے، لیکن اگر وہ ان رسومات کو وسعت دے کر معاشرتی و معاشی زندگی تک پھیلاتا ہے تو سیکولر حضرات کو بجا طور پر حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ پکار اٹھتے ہیں کہ:

قَالُوا یَا شُعَیْبُ أَصلَاتُکَ تَأمُرُکَ أَنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَا ؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِی أَمْوَا لِنَا مَا نَشَاءُ اِنَّکَ لَأَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِیْدُ ۔ (سورہ ہود، آیت ۸۷)

وہ اس شخص (حضرت شعیبؑ ) کو بڑی حیرت سے دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ بھئی تم تو بڑے معقول شخص لگتے ہو، تمہاری نماز وغیرہ ہمیں زندگی کے دوسرے معاملات ، مثلاً کہ ہم معاشی زندگی کس طرح بسر کریں، میں کس طرح مداخلت کر سکتی ہے۔ سیکولر ذہن کوئی جدید ذہن نہیں، یہ ہر دور کے مادّہ پرست ذہن کا مخمصہ رہا ہے۔حضرت شعیبؑ کی قوم کو بھی یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مذہب کے کسی عقیدے یا کسی رسم وغیرہ کا انسانی زندگی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔وہ بھلے جس طرح کا انفرادی عقیدہ رکھے، جس طرح کی مذہبی رسومات چاہے ادا کرے، لیکن ان عقائد اور رسومات کا معاشی یا معاشرتی زندگی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ ہزارہا سال گزرنے کے باوجود یہ مخمصہ آج بھی قائم ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ آج اس نظریے یا مخمصے کو فلسفے و منطق کی زبان کا سہارا مل گیا ہے۔ ہر دور میں اس کا مشورہ یہی رہا ہے کہ خالقِ کائنات، اگر کوئی ہے، تو اسے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں راہنمائی کرنے ، اجتماعی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں، لہٰذا اسے ان معاملات سے دور رکھو۔ تم کمرے کے اندر یا مسجد یا چرچ جا کر اپنے اپنے طریقوں سے مذہبی رسومات، نماز وغیرہ ادا کرنا چاہتے ہو تو بھلے یہ کام کرتے رہو، باقی اجتمائی معاملات کو چند لوگوں کی سوچ اور سمجھ پر چھوڑ دو۔

اس نامعقول رویے کے متعلق ایک برطانوی دانشور لکھتے ہیں: 

’’انسانی تفہیم کو د و چیزیں محدود کرتی ہیں، ایک تو مخصوص تربیت کی کمی یا کسی مخصوص علم سے ناواقفیت اور دوسرا کسی موضوع کو گرفت میں لانے کی عملی استعداد۔۔۔ کسی سچائی کو نہ سمجھ پانے میں ہماری قلت استعداد کا دخل بھی ہو سکتا ہے لیکن ہم یہ تسلیم نہیں کرتے اور یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جو کچھ ہماری سمجھ سے باہر ہے، وہ بیکارِ ہے یا وجود ہی نہیں رکھتا۔ یہ رویہ قدیم اقوام کے علامتی نظریات اور دینی کتابوں دونوں کے بارے میں آج کل روارکھاجاتاہے۔‘‘(Gai Eaton: King of the Castle; p.123) 

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی اصطلاح کو اپنے ماحول اور پس منظر سے کاٹ کرالگ کرکے کسی دوسرے معاشرے، ماحول اور پس منظر میں منطبق کریں گے تو اس اصطلاح کے ساتھ انصاف کریں گے نہ اس معاشرے کے ساتھ جس میں ہم اس کا اطلاق چاہتے ہیں۔ سیکولرزم اپنے دعوے کے مطابق ایسا نظامِ زندگی ہے جس میں انسان نامی مخلوق کو زندگی بسر کرنے کے لیے کسی مافوق الفطرت ہستی، مذہب یا اخلاقیات وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ اس کی پہلی وجہ اس کے نزدیک تو یہ ہے کہ اس بات کا کوئی عقلی یا سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ کسی بالاتر ہستی نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ یہ مادّے ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے جو ارتقاء کی نتیجہ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے انسان اس قابل ہے کہ وہ اپنی عقل استعمال کر کے اپنے بارے میں خیر اور شر کے پیمانے وضع کر سکتا ہے، اس کے ذریعے اپنے اجتماعی مفاد اور فائدے کے لیے بہتر فیصلے کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک زندگی اسی دنیا تک محدودہے، کسی دوسری دنیا یا زندگی کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ۔ یہ اس زندگی کے ساتھ نا انصافی ہو گی اگر اس کو کسی دوسری دنیا میں جوابدہی کے خوف سے ڈر ڈر کر بسر کیا جائے اور کھل کر من مانی کے مواقع ضائع کر دیے جائیں۔ 

اس بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم طارق جان کے چند سوالات قارئین کرام کے سامنے رکھ دیتے ہیں:

۱۔ سیکولرزم کو کس نے یہ حق دیا کہ وہ ایک مسلمان معاشرے میں انسانی معاملات کو اپنی جکڑ میں لے؟

۲۔ وہ کیوں خود تو ریاستی امور کو کنٹرول کرنے اور مذہب کو سیاست سے باہر رکھے، جبکہ مذہب بھی یہ دعویٰ رکھتا ہو کہ وہ انسانی مسائل کہ بہتر طریقے سے حل کر سکتا ہے؟

۳۔ عقل کا وہ کون سا پیمانہ جس سے سیکولرزم کو حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ خود تو کلیت پسند بن جائے اور خدا اور اخلاقیات کوانسانی دائرہِ کارسے بے دخل کر کے اپنے آپ کو واحد سچائی قرار دے؟ (۹) 


حوالہ جات

۱۔ ڈاکٹر مونس احمر: جنگ سنڈے میگزین، ۲۰ جنوری ۲۰۱۳ء

2- Prof. Christine C. Beakley: Modernist Emancipatory Feminism; (p. 30)
3- Jack Grassby: Post-Modern Humanism; (p. 16)
4- Bill Crouse: Post Modernism - a new paradigm.

۵۔ہفت روزہ آئین، جون ۲۰۰۵ء، (ص ۲۷ا۔۲۸)

6- Bryan S. Turner: Orientalism,Post-Modernism and Globalism,1994 (p,183)

۷۔ طارق جان: سیکولرزم؛ مباحث اور مظالطے، (ص۔۲۴)

۸۔ 

۹۔ طارق جان: (ص ۱۰۴۔۱۰۵)

(جاری)

آراء و افکار