مولانا ابو الحسن علی ندویؒ : ایک ملی مفکر (۱)

محمد طارق ایوبی

مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے 
کہ زندگی ہی عبارت ہے تیرے جینے سے

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی جس وقت اس دار فانی سے رحلت ہوئی تو یہ ایک عام تأثر پایا گیا کہ ملت اسلامیہ ایک عظیم، جرأت مند وبے باک اور دینی غیرت و ایمانی حمیت سے سرشار و مخلص اورحق گو داعی سے محروم ہوگئی ہے اور بالخصوص ہندوستان کی ملت اسلامیہ یتیم ہو کر رہ گئی ہے۔ میری ناقص نظر میں مولانا اس سلسلہ میں یکتا تھے کہ ایک طرف اخلاص کی دولت سے مالا مال، ملی تڑپ ان کے سینہ میں موجزن، علم و مطالعہ سے ان کی زندگی عبارت، سلوک و تزکیہ میں کندن بنی شخصیت،وسیع نظر اور بیش قیمت تجربات کا سرمایہ ان کے پاس تھا۔ دینی غیرت اور ایمانی حمیت آپ کا سرمایۂ افتخار تھی، خم ٹھونک کر حق کا اظہار آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ مولانا کی پوری زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ؒ نے ہمیشہ مذہبی مفاد، دین کی بالا دستی، ملی مفاد اور حق گوئی کو اپنا شعار بنایا اور کبھی بھی اس میں کسی فرد وادارے یا شہرت و جاہ طلبی اور ادنیٰ درجہ کی مادیت پسندی یااور کوئی مصلحت حائل نہ ہوئی۔ درحقیقت مولانا کے اخلاص و استغناء میں ہی ان کی جرأت و حق گوئی کا راز مضمر ہے۔ جامعیت کے ساتھ خانقاہ و مدرسہ، ملی مسائل و عصری جامعات اور علمی و تصنیفی میدان کو اپنی دعوتی سر گرمیوں کی جولانگاہ بنایا۔ وفات کے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا، مذکورہ بالا شعر (جو خود مولاناؒ نے ایک جگہ ذکر کیا ہے) اپنی معنویت کا احساس دلانے لگا، کہ وہ بے لوثی، وہ اضطراب و تڑپ، وہ اخلاص اور فکرو عمل جس سے مولانا کی زندگی عبارت تھی ،ان کی زندگی اسی زندہ دلی کا سحر انگیز نتیجہ تھی، اب وہ زند دلی ہی نہیں نظر آتی تو مولاناؒ جیسا بلند کردار، ان کے جیسی جرأت گفتار، ملی مسائل پر تڑپ جانے اور تڑپادینے کا وصف اور وسیع القلبی و و سیع النظری کہاں نظر آئے۔

اب تک مفکر اسلامؒ کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور مختلف زبانوں میں لکھا گیا ہے۔ ان کے منہج تنقید پر اور ان کے ادبی نظریہ پر عربی میں ایم ، فل و پی، ایچ ،ڈی کے مقالے لکھے گئے۔ عبدالقادر چوغلے (ساؤتھ افریقہ) کی دو ضخیم کتابیں انگریزی میں شائع ہو چکی ہیں۔ اس لئے زیر نظر سطور میں قطعی نہ ہی مولانا کی مکمل سوانح پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی آپ کی جملہ علمی فتوحات اور کارہائے نمایاں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔ اس سطور میں ایک خاص داعیہ کی بنیاد پر چند کتابوں سے مولاناؒ کی تڑپ ،بے پناہ اخلاص،بے لوثی ، عملی پیش رفت ،دینی حمیت و غیرت ایمانی کے واقعات اور جرأت مندانہ اقدامات اور منہج نقد و اصلاح کو پیش کرنے کے لیے اقتباسات پیش کیے گئے ہیں جس میں صاف طور پر مولانا کی شخصیت ایک حق گو مومن ومفکر کے طور پر نظر آئے گی۔ بالخصوص مولانا کی خود نوشت سوانح ’’کاروان زندگی‘‘ سے اقتباسات پیش کیے گئے ہیں، کیونکہ اس میں مولانا کی زندگی کا خلاصہ اور ان کی مبارک مساعی کا عطر موجود ہے۔ مولانا نے خود اپنی ترجمانی کی ہے، اس لیے وہ بنیادی مصدر ہے۔ ہر اہم سفر، کتاب و خطاب کا اس میں خلاصہ ہے۔ آپ کی سیکڑوں کتابوں کے بجائے اس دور میں صرف’’ کاروان زندگی‘‘ کی ضخیم جلدوں کا مطالعہ بھی مشکل ہوتا ہے۔ اور پھر مولانا کے فکر کو سمجھنے کے لیے آپ کی عربی تحریروں تک رسائی ضروری ہے، کیونکہ آپ کی علمی جولانیوں اور دعو تی سر گرمیوں کا اصل میدان عرب اور حقیقی وسیلہ عربی ہے۔

اس دور میں جبکہ زندہ دلی مفقود ہوئی جاتی ہے، ہر تحریک اور عمل کسی مفاد سے وابستہ ہوا جاتا ہے۔ اخلاص و بے لوثی ناپید ہوئی جاتی ہے، جاہ ومنصب کی طلب اور مادیت پسندی سے کوئی خالی نظر نہیں آتا۔ حق گوئی و بیباکی اور جرأت مندانہ تنقید برائے اصلاح سے بھی اعراض کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں کوشش کی گئی کہ حضرت مولاناؒ کی زندگی کے ان تابناک پہلووں کو ’’کاروان زندگی‘‘ کی روشنی میں پیش کیاجائے۔ ’’کاروان زندگی‘‘ میں اجمالی طور پر مصنف ؒ کے تمام افکار و خیالات اور احساسات کا اجمالی طور پر در آنا ایک فطری بات ہے۔ حیرت کی انتہائی نہ رہی جب دوران مطالعہ خود حضرت مولانا کے قلم سے یہی بات لکھی دیکھی :

’’ اس تصنیف کا محرک یہ خیال تھا کہ اپنے فکری شعور ،ذہنی ارتقاء، تحریروتصنیف کی تاریخ،اور اپنے زمانہ کے اہم واقعات وحوادث اور دعوتوں اور تحریکوں کا ذ کر کرنے کے سلسلہ میں اپنے ان خیالات وافکار ،مشاہدات و تاثرات اور دعوت و تحریک کو (اجمالاًو اختصاراً سہی) اور اپنی تحریرو ں اور کتابو ں کے مرکزی نقطۂ خیال اور ان کے اہم اقتباسات کو پیش کرنے کا موقعہ ملے گا جو کثیر التعداد مضامین اور ان کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں (جن کی تعداد اب دو سو سے اوپرہو چکی ہے) اور جن پر بیک وقت ہر صاحب ذوق کی نظر پڑنی مشکل ہے۔‘‘ (کاروان زندگی ج۶ ص ۱۰)

میں نے چند کتابوں اور بالخصوص’’ کاروان زندگی‘‘ کو سامنے رکھ کر محض مولانا کے مجاہدانہ کردار، جرأت گفتار، صریح تنقیدیں، واضح مشورے، اصلاح و تغیر کے عمل میں حرکت و پیش قدمی، ملی تڑپ ، مسائل کے حل کی تلاش میں تگ و دو، اخلاص و بے لوثی، لوگوں کو برتنے کا انداز، تما م تر مفادات سے بالا ہوکر اپنی ساری زندگی کو اسلام کی خدمت میں لگا دینے اور کسی پل بھی خالی اور چین سے نہ بیٹھنے کی ایک مؤثر و متحرک اور دلکش و دلآویز تصویردکھانے کی کوشش کی ہے۔ میری نظر میں اس کوشش سے ایک طرف تو مولانا کے افکار و انداز کی اشاعت و و ضاحت ہوگی تو دوسری طرف اس عہد میں مولانا کے افکار ، ان کی کوششوں اور طریقۂ عمل کی معنویت و ضرورت اور اہمیت بھی اجاگر ہوگی اور اس کا اندازہ ہو سکے گا کہ ان حالات میں اس تڑپ ، حرکیت و جامعیت اور بے لوث خدمت کی کس قدر ضرورت ہے، ورنہ اگر مولانا ؒ کی خدمات اور علمی و عملی زندگی کا مکمل جائزہ پیش کرنا مقصد ہوتا تو محض کوئی ایک ہی پہلو ضخیم کتاب کا متقاضی ہے۔ اس کا یہ موقع بھی نہیں اور اس کی ضرورت بھی نہیں، کیو نکہ مولانا ؒ کی خدمات و حیات پر متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ عالم اسلام کی ایک مؤثر شخصیت مجا ہد وقت وچراغ سحر ڈاکٹر یوسف القرضاوی حفظہ اللہ نے انتہائی محبت و احترام میں اپنے قلم کو ڈبو کر اپنی تصنیف ’’ابو الحسن الندوی کما عرفتہ‘‘ پیش کی۔ ڈاکٹر عبداللہ عباس ندویؒ نے سب سے پہلے ایک جامع کتا ب ’’میر کارواں‘‘ پیش کی، جو ان کے قلم کی روانی، اسلوب کی شگفتگی اور حقائق نویسی میں ممتاز ہونے کے ساتھ سوانحی ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ مولاناؒ کے جانشین، سفر وحضر کے رفیق اور طویل رفاقتوں میں قریب سے دیکھنے والے متاع عہد آخر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب نے بھی ’’مولانا علی میاں: عہد ساز شخصیت ‘‘ کے نام سے مولانا کی حیات پر مفصل کتاب پیش کی۔ اس کے علاوہ عربی میں نوجوان فاضل سید عبدالماجد غوری نے بھی ضخیم ومعلوماتی کتاب تیار کی۔ پرفیسر محمد اجتباء ندوی،ؒ پروفیسر محسن عثمانی ندوی، مولانا سید محمد واضح رشید ندوی کی کتابیں بھی لائق استفادہ ہیں۔ مولانا کے فکری پہلووں پر متعدد مقالات اور کتابوں میں ترکی عبدمجید السلمانی کی کتاب ’’الفکر والسلوک السیاسی عندابی الحسن الندوی‘‘ اور احمد الوشمی کی ’’منہج النقد عند أبی الحسن‘‘ لائق مطالعہ ہیں۔ مولانا کے افکار و دعوت کو سمجھنے کے لیے ان کے ہی فرد خاندان مولانا بلال عبدالحی حسنی صاحب کی کتاب ’’حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی دعوت و فکر کے اہم پہلو‘‘ کافی ضخیم ومفصل ہو نے کے ساتھ بہت مفید ہے۔ کیا ہی خوب ہو کہ اس کو عربی میں منتقل کرکے عالم عربی میں عام کیا جائے۔ یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے ، مولانا کے تقریبا تمام افکار اور خدمات کا احاطہ کرتی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ مولاناؒ جس جامعیت کے حا مل و داعی تھے، اس کو کسی ایک کتاب میں جمع کرنا بہر حال مشکل ہے، اور جب اس مشکل کو ممکن بنایا جاتا ہے تو کتاب ضخامت کے سبب عام قارئین کی دسترس سے باہر ہوجاتی ہے۔ یہی بنیادی سبب ہے کہ اس وقت جس چیز کا سب سے زیادہ تقاضا تھا، اس کو الگ سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

مولاناؒ جس جامعیت کے حامل تھے اس کے سبب ان کے تصنیفی شوق کو کبھی بھی دعوت و تبلیغ کے فریضہ نے رکنے نہ دیا اور نہ ہی اس کے برعکس ہوا کہ ان کی دعوتی زندگی علمی فرائض کی ادائیگی سے متأثر ہوئی ہو، تقریری و تحریری عمل ایک ساتھ جاری تھا، علمی انہماک اور دعوتی سر گرمیوں کے ساتھ اجتماعی مسائل سے کبھی بچنے کی کوشش نہیں کی، گوشۂ عافیت کو ملی مسائل پر کبھی حاوی نہ ہونے دیا، ضرورت و بساط بھر ملک و ملت کے لئے سیاسی کوششیں بھی کیں، کہ مولانا ہی کے الفاظ میں ’’تعمیری سیاست کے ذریعہ ملت کے تحفظ میں حصہ لینا ضروری ہوتا ہے‘‘۔ مولانا کی یہی جامعیت تھی جس نے ان کو ہر دلعزیز ومثالی کردار کی حامل شخصیت بنا دیا۔

حضرت مولاناؒ ابتدا میں جماعت اسلامی سے متعلق ہوئے، پھر تبلیغی جماعت سے تعلق ہوا بلکہ اس فکر و دعوت کو دنیا بھر میں عام کرنے میں آپ کا بڑا حصہ رہا۔ آخرتک مولانا نے اس سے اپنا تعلق باقی رکھا۔ جماعت اسلامی سے علیحدگی اور مولانا مودودیؒ سے بعض اختلافات کے باوجود کبھی کوئی ایسی بات زبان پر نہ آئی جو فکری اختلاف سے آگے بڑھ سکے ۔ مولانانے ان دونوں طریقہائے دعوت کے درمیان سے ایک اور راستہ اختیار کیا اور سب کو ساتھ لے کر اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ساری زندگی مصروف عمل رہے۔ آپ نے امراء و ملوک ، علماء ودانشوران اور عوام الناس کے ہر حلقہ میں اپنی دعوت پہنچانے کی کوشش کی اور ہر طبقہ کو اپنا مخاطب سمجھا اور کسی حد تک متأثر بھی کیا۔ ابتد سے ہی مولانا نے انقلا بی طبیعت پائی تھی جس کا اظہار آخر تک حرکیت کی شکل میں بار بار ہوتا رہا اور جس کی جھلک ’’کاروان زندگی‘‘ کی آخری جلد میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

مولانا کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ کام کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی، بس اس کے لیے کردار، تڑپ اور اخلاص درکار ہے۔ آزادی کے بعد متصلاً جب کبار علماء ملک میں موجود تھے اور مولانا نوجوان تھے، تب بھی مولانا کو ملک کی صورت حال نے بے چین کیا تو ’’نشان راہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تیار کیا اور ندوۃ العلماء میں ایک اجتماع بلایا اور مستقبل میں ملت اسلامیہ کے مسائل پر گفتگو کی۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کسی بات کو کہنے کے لئے وہ مقام، وہ عمر و مرتبہ چاہیے جہاں سے کوئی تبصرہ کیا جا سکے اور کوئی بڑی اور حق بات کی جا سکے، کسی حد تک بجا اوربالکل بجا! لیکن جب مصلحت پسندی اور سچ یہ ہے کہ سکوتِ بے جا اور اپنے آپ میں گم رہنے کی روش عام ہوجائے تو پھر کیا کیا جائے! کوئی تو ہو جو حق گوئی کرے اور حق کا غلغلہ ہر جگہ بلند کرے۔ مولانا نے بے شمار ایسے نقوش چھوڑے ہیں کہ اخلاص وانابت اور جرأت مومنانہ کے ساتھ اصلاح و حق گوئی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔ ہمیشہ حکمت کے ساتھ مدلل انداز میں حق بات کہی جائے۔ ابتدائی عملی زندگی میں تو یہ نقوش ملتے ہی ہیں، آخری عمر میں امراض و ضعف بھی ملی مسائل میں اس حق گوئی اور مواقع تلاش کر اپنی بات کہنے کے عمل سے نہ روک سکے۔ علم و ادب کی وادیوں کو سیراب کرنے کے ساتھ خانقاہ کو آباد کرنا اور اجتماعی و ملی مسائل میں دلچسپی لینا ہی مولاناؒ کا وصف امتیازی ہے۔

وہ ہمیشہ دعوت و اصلاح کے مواقع ڈھونڈا کرتے تھے۔ بسا اوقات تو طبیعت کے آمادہ نہ ہونے کے باوجود مختلف مجالس اور کانفرنسوں میں صرف اس جذبہ سے مجبور ہوکر شرکت کرتے تھے کہ حکومت کے نمائندوں اور امت کے منتخب مجمع کے سامنے ایمانی دعوت پیش کرنے اور اصل حقائق کو واشگاف کرنے کا یہ موقع کہیں ہاتھ سے نہ چلا جائے۔ آئندہ صفحات میں پیش کیے گئے اقتباسات میں اس کی دلیل ملے گی۔ مولانا کے یہاں حکمت اور تنقیدی بصیرت کے ساتھ اپنی پوری بات پیش کرنے کی بے شمار مثالیں ہیں۔ مولانا اکثر جب کسی پر تنقید کرتے، اس کے کمزور پہلووں پر انگلی رکھتے اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے تو اس سے قبل وہ اس کی خدمات کو سراہنے اور اس کی اچھائیوں کو پیش کرنے کے قائل تھے۔ بد قسمتی سے علمی انحطاط کے اس دور میں بہت سے لو گ اس انداز کو سمجھ نہیں پائے اور اس کو مدح و توصیف سمجھ بیٹھے۔ اسی لیے بہت سے لوگوں کو میں نے خود کہتے ہوئے سنا اور لکھتے دیکھا کہ مولانا عرب کے بعض حکام (خواہ وہ نا اہل ہوں) کی تائید کرتے تھے۔ سعودیہ سے ان کا دوستانہ تعلق تھا۔ ہر موقع پر انہوں نے اس کے موقف کی تائید کی۔ یہ سراسر غلط اور حقیقت فہمی سے دور ہونے پر مبنی خیال ہے۔ مولانا نے ہمیشہ حکام سے ملاقات و مراسلت ان کی اصلاح کے لیے کی تاکہ ان تک دین اور دینی دعوت پہنچائی جاسکے۔ مولانا کے خطوط و خطابات اس پر دلالت کرتے ہیں جن کے اقتباسات جا بجا نظر آئیں گے۔ مولانا کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود بھی صریح تنقید پر مبنی بعض مضامین پر خود حکومت سعودیہ نے حکم امتناعی نافذ کیا اور مملکت میں ممنوع قرار دیا۔ مولانا ہمیشہ حکمرانوں کو عمر بن عبد العزیز اور صلاح الدین ایوبی کی مثال دیا کرتے تھے۔

در حقیقت مولانا کا اخلاص، بے لوثی اور استغناء اس درجہ کا تھا کہ اس نے انہیں نقد و اصلاح کی مکمل آزادی دے رکھی تھی۔ کبھی وہ اپنے یا اپنے افراد خاندان اور اپنے ادارے کے لیے کوئی سوال نہ کرتے۔ حتی الامکان آسانی کے ساتھ کسی سے کچھ قبول نہ کرتے، بلکہ کانفرنس و غیرہ میں جاتے تو بھی منتظمین کے ذریعہ مہیا کرائی گئی قیام و طعام کی اعلیٰ سہولیات کو نظر انداز کرکے اپنے اہل تعلق کے یہاں قیام و طعام کو ترجیح دیتے اور حجاز کے سفر میں تو بیشتر یہی معمول رہا۔ جہاں یہ خدشہ ہوتا کہ اس سے اپنی بات کہنے یا کہنے کے بعد سننے والے پر اثر پڑنے میں کمی ہو سکتی ہے، وہاں تو خاص خیال رکھتے اور آخری درجہ کے استغناء کا مظاہرہ کرتے، اگر چہ یہ استغناء آپ کی عادت ثانیہ تھی۔ آج کی مجبوری یہ ہے کہ بسا اوقات غلط کو غلط صرف اس لیے نہیں کہا جاتا یا صحیح کی تصدیق صرف اس لیے نہیں کی جاتی کہ مولانا جیسے اصحاب دل حضرات کی سیرت کو محض واقعات و عقیدت کی بنا پر پڑھ لیا جاتا ہے۔ ذاتی و خاندانی مفادات پر ملی و اجتماعی مفادات کی ترجیح اور استغناء و بے لوثی یوں تو عنقا ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے ادارے اور تحریکیں ان کے فقدان کا شکار ہوکر رہ گئی ہیں، بلکہ بسا اوقات تو محسوس ہوتا ہے کہ ان خصوصیات کا فقدان بر وقت اقدامات اور لازمی کوششوں، ابطال باطل اور تائید حق سے بھی روک دیتا ہے۔ حضرت مولاناؒ کے استغناء و بے لوثی کا یہ عالم تھاکہ شاہ فیصل سے ملاقات ہوئی، آپ نے بڑی مؤثر گفتگو کی یہاں تک کہ شاہ فیصل کی چیخیں نکل پڑیں۔ ملاقات کے اختتام پر شاہ فیصل نے ندوۃ العلماء کے لیے ایک خطیر رقم کی پیش کش کی تو مولانا نے اس کو نظر انداز کر دیا۔ شاہ فیصل ایوارڈ لینے تک نہ گئے، بلکہ مصلحتا اس کو قبول کیا اور ساتھ ہی اس کے دعوت اسلامی اور دینی تعلیم سے متعلق اداروں میں تقسیم کا اعلان کرا دیا اور کمال حیرت ہے کہ اس رقم کا ادنیٰ حصہ بھی ہندوستان نہ آنے دیا۔ دبئی اور برونائی کا ایوارڈ بھی بڑے اصرار کے بعد قبول کیا اور ساری رقم اداروں اور تنظیموں میں تقسیم کر دی۔ چندر شیکھر اور نرسمہا راؤ نے پدم بھوشن کی پیشکش کی۔ نرسمہا راؤ نے خود فون کرکے پیشکش کی، لیکن مولانا نے اس کو خوبصورتی کے ساتھ ٹال دیا۔ ۱۹۸۰ء میں شاہ فیصل ایوارڈ ملنے کے بعد اسی سال دارالمصنفین میں مولانا کے لیے ان کو اطلاع دیے بغیر ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تو آپ نے اپنے کلمات تشکر میں ایاز کا مشہور جملہ دوہرا کر اپنی گفتگو کا آغاز کیا جو تقریباً ضرب المثل ہے ، ’’ایاز قدر خود را بشناس‘‘۔ اس جملہ کے پس منظر میں ایاز کا وہ مکمل و منفرد واقعہ بھی نقل کیا جو بہت معروف ہے۔ حضرت مولانا کی یہ تواضع ان کی بلند پایہ شخصیت، حد درجہ استغناء و بے نیازی اور بے لوثی و اخلاص کی غماز ہے اور یہی سب چیزیں عظمتوں کا پتہ دیتی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا کی شخصیت مختلف الجہات ہے۔ سب سے خاص جہت یہ ہے کہ وہ مفکر تھے، وقت کے تقاضوں کوملحوظ رکھتے تھے، تاریخ و سیرت اورقرآن و سنت پر گہری نظر رکھنے کے سبب پیش آنے والے حالات پر محکم تبصرہ کرتے تھے، اور صحیح اسلامی موقف اختیار کرتے تھے، مولانا کی بیشتر تصانیف ایک خاص فکری خاکے کے تحت ہی لکھی گئی ہیں۔ مولانا کی بیشتر جہتیں خاندانی مزاج اور موروثی ذوق کا حصہ ہیں۔ مولانا اگر داعی تھے تو یہ ان کے خاندانی مزاج کا حصہ تھا۔ تصنیفی و علمی ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ خانقاہ کے ذریعہ اصلاح حال کی کوشش بھی خاندانی صفت تھی۔ مولانا کی پوری زندگی کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا میں تحریکی عنصر اس درجہ کا نہ تھا کہ خود کوئی تحریک چھیڑتے۔ مولانا نے حتی الامکان تحریکات کی صدارت و ذمہ داری قبول کرنے سے اپنے کو الگ رکھا، لیکن پھر بھی ملی تڑپ اور جذبۂ دعوت سے مغلوب ہوکر جا بجا آپ کی حرکیت اور طبیعت کی انقلاب پسندی ظاہر ہوجاتی تھی،اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ کے سامنے کسی تحریک و تنظیم کا خاکہ آتا تو پھر بتقاضائے وقت اس تحریک کا ہر ممکن تعاون فرماتے اور گویا حالات کی تبدیلی کے ساتھ تحریکات اور بروقت و مناسب اقدامات کے منتظر رہتے۔ سیاسی رہنمائی اور سیاسی تجزیات اور تحریکی و تنظیمی امور و مسائل میں جو بھی دلچسپی مولانا کو تھی، وہ خاندان میں صرف ان کو سید احمد شہیدؒ کے واسطہ سے ملی تھی۔ اس حرکیت میں مولانا کے رفقاء کا بھی بڑا دخل تھا۔ مولانا کی تحریکی پیش رفت میں مولانا محمد منظور نعمانی ؒ کی رفاقت کا ذکر بار بار آتاہے۔ دیگر رفقاء کار میں مولانا محمد الحسنی اور مولانا اسحق جلیس ندوی رحمہما اللہ رحمۃ واسعۃقابل ذکر ہیں جو عملی خاکے تیار کرنے میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔

مفکر اسلامؒ ، اسلام کو اقتدار میں دیکھنے کے خواہاں تھے۔ اس کے لیے بقدر استطاعت جو کچھ کر سکتے تھے، وہ کیا۔ سیاسی سوجھ بوجھ پیدا کرنے کی کوشش کی، علماء کو حالات سے واقفیت اور بے لوث سیاسی خدمت وبصیرت کی ترغیب دی، کبھی امراء کو خطاب کیا، کبھی بادشاہوں اور مملکت کے سر براہوں کو مخاطب کیا،خود ہندوستان کے مختلف وزرائے اعظم کو خطوط لکھے۔ مولانا کی نظر میں اسلام کو اقتدار تک پہنچانے کے دو راستے تھے۔ ایک تو یہ کہ اسلام پسند لوگوں کو کرسی تک پہنچایا جائے اور دوسرا یہ کہ کرسی والوں تک اسلام پہنچایا جائے۔** اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلا راستہ مشکل اور ٹکراؤ پیدا کرنے کا ہے اوردوسرا پر امن و پائیدارہے۔ مولانا ؒ نے پوری زندگی دوسرے موقف پر عمل کیا اور اپنی تمام تر کوششوں ، اسفار، دوروں، خطابات، خطوط اور علمی و ادبی صلاحیتوں کو اس کے لئے استعمال کیا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب لینا صحیح نہیں کہ مولانا پہلے راستہ کے مخالف تھے یا اس کو غلط سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی علمی و تصنیفی زندگی کا آغاز ہی ’’سیرت سید احمد شہید‘‘ سے کیا جن کی تحریکِ اصلاح و تجدید کی بنیاد ہی جہا داور قیام حکومت ہے اور جو کتاب مکمل داستان انقلاب سے عبارت ہے۔ ابتدا میں ہی ان پر ایسے مضامین لکھے جو ان کی داستان عزیمت اور جذبۂ صادق کے ترجمان تھے۔ مفصل کتا ب کو بھی اس کا یہی پہلو سید احمد شہید پر لکھی جانے والی دوسری کتا بوں سے ممتاز کرتا ہے کہ اس میں دعوت و عزیمت کے عنصر کو اجاگر کرکے پیش کیا گیا ہے۔ مولانا اس موقف کے مخالف کیوں کر ہو سکتے تھے جبکہ وہ موقف خود حضرت سید احمد شہید ؒ کا تھا۔ خود مولانا کے قلم سے نکلا کہ شہداء بالا کوٹ کا پیغام یہ ہے کہ ساری زندگی ایک ایسے قطعہ زمین کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس پر اللہ کا دین قائم کیا جا سکے۔

پاکستان میں ایک مرتبہ آپ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کو اقتدار کی ضرورت ہے اس لیے کہ امر ونہی استعلاء وغلبہ کے بغیر ممکن نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں خود استعلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مولانا نے ساری زندگی الاخوان المسلمون کی تائید کی اور اخوانی حلقہ نے بھی مولانا کی خوب پذیرائی کی بلکہ کہنا چاہیے اور اعتراف کرنا چاہیے کہ چوٹی کے علماء اور بڑے بڑے ادباء جنہوں نے مولانا کو سر آنکھوں پر بیٹھایا، ان میں سے اکثر کا تعلق اخوان سے تھا۔ مولانا آخر تک اس سحر انگیزتحریکِ دعوت کے معترف و مداح رہے، بلکہ حسن البناء کے داماد و معتمدخاص ڈاکٹر سعید رمضان کو مولانا نے اپنے گھر کا سا فرد قرار دیا اور ان سے گھر کے سے تعلق کا ذکر کیا۔ مولانا نے لکھا ہے کہ عربوں میں جیسا محبت واپنائیت کا تعلق میرا ڈاکٹر سعید رمضان سے ہوا، ویسا کسی اور سے نہ ہوا۔ اپنی جگہ پر دونوں طریقے یقیناًمؤثر اور اہمیت کے حامل ہیں، ایک کی تایید دوسرے کی نفی نہیں ہو سکتی اور مولانا کے یہاں تو طریقہ عمل کے ساتھ دوسرے موقف کے حاملین کی تائید بھی ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ تاریخ اسلام میں دونوں موقف کی مثالیں ملتی ہیں۔ کبھی دعوت و تبلیغ اور افہام و تفہیم ہتھیار رہے، اور کبھی دعوت پیش کرنے کے بعد غلبۂ اسلام کے لیے طاغوتوں سے پنجہ آزمائی کرنی پڑی۔

یوں تو مفکر اسلام ؒ کی پوری زندگی علم و عمل اور فکر و تدبر اور یقیں محکم، عمل پیہم و محبت فاتح عالم سے عبارت ہے، لیکن مولانا کی بصیرت اور اجتماعی و ملی تڑپ کو بطور مثال پیش کرنے کے لئے بلکہ قابل تقلید نمونہ کے طور پر ایک دو چیزوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ یوں تو مولاناؒ ہمیشہ پاکیزہ سیاست کی اہمیت کو سمجھتے تھے اوراس کو ایک رخ دینے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے لیے وہ عوام کے نمائندوں سے رابطہ کرتے تھے، امراء اورو زیروں سے مراسلت کرتے تھے، ممکن حد تک نقدو احتساب بھی کرتے تھے، افہام و تفہیم اور وضاحتوں کے ذریعہ راہ ہموار کرنے کی کوششیں کرتے تھے، فسادات کا بے لاگ تجزیہ کرتے تھے۔ مولانا نے پوری جرأت کے ساتھ ۱۹۹۰ء میں ایک مضمون میں یہ بھی لکھا کہ فسادات کے منجملہ اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ’’ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں، اس کے مقابلہ میں صف آرا (Confront) ہوجانیوالوں ، اور اس کو روکنے کے لیے ہر خطرہ مول لینے والوں کی کمی، خاص طور پر اس موقع پر مذہبی پیشواؤں کا میدان میں نہ آنا اور حالات سے مقابلہ نہ کرناہے‘‘۔ مولانا ہمیشہ اپنے آپ کو محدود کر لینے کے خلاف رہے اور عملی اقدامات سے اس کا ثبوت دیا ۔مولاناؒ ’’مسلم مجلس مشاورت‘‘ کے قیام کی دعوت اور اس کی تاسیس میں نہ صرف پورے طور پر شریک رہے،بلکہ اسکے داعی اور سرپرست سمجھے گئے ،اور اس کی سر پرستی کی۔ اس کی مجلسوں میں علالتوں کے با وجود شرکت کی اور اس کے دوروں میں شریک ہوکر انہیں مؤثر بنایا۔ مولانا کے جذبۂ دروں اور جذبۂ صادق اور ملی تڑپ، اجتماعی مفاد اور قومی تشخص کی حفاظت کے اشتیاق و تڑپ کی اس وقت انتہا نہ رہی جب ان کو اندیشہ ہوا کہ یہ مجلس بکھر جائے گی۔ اس دوران مولاناؒ سیتاپور میں تھے، آنکھ کا آپریشن ہوا تھا، ڈاکٹروں نے سفر تو دور زور سے بولنے کو بھی منع کیا تھا لیکن یہ اللہ کا بندہ جس کا مسلک تھا، ؂

اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں

کسی کے منع کرنے سے نہ مانے اور دہلی کا سفر اختیار کیا اور وہاں مجلس کی میٹنگ میں مؤثر تقریر کی اور اپنا دل نکال کر رکھ دیا۔ اس وقت تو یہ تقریر کامیاب رہی اور مجلس کسی بکھراؤ کا شکار نہ ہوئی، لیکن ملت کے اس درد نے آنکھ کا ایسا در د دیا کہ وہ ضائع ہوکر رہی اور زندگی بھر اس دردکا احساس باقی رہا۔

حضرت مولانا کے سلسلہ میں یہ کہا جانا انتہائی غلط ہے کہ وہ کسی منکَر کی تردید نہ کرتے تھے اور کسی تنظیم یا فرقہ پر تنقید نہ کرتے تھے۔ مولانا کی جرأت گفتار اور دینی غیرت و حمیت ہی ان کی تحریر و تقریر کا اصل جوہر ہے۔ مولانا نے بہت واضح تنقیدیں کی ہیں۔ عربوں کی بے راہ روی، عیش و عشرت پسندی، مادیت پرستی، حقیقی اسلام سے بعد، تقریباً آپ کے ہر عربی مضمون و خطاب کا حصہ رہا ہے۔ ہندوستان میں صحیح و غلط موقف کی وضاحت میں آپ نے اپنے قلم و زبان کو ہمیشہ استعمال کیا ہے۔ آپ کے رسالہ احادیث صریحۃ مع اخواننا العرب  اور سلسلہ إسمعیات  آپ کی تنقیدوں اور صحیح تعبیر میں اصلاح کی غرض سے کی گئی تنقیدوں کا مجموعہ ہے۔ ملک و بیرون ملک کے کسی مسئلہ میں بھی مولانا مجاملت و مداہنت سے کام نہیں لیتے تھے۔ موقع پڑا تو اتحاد کی علامت سمجھے جانے والے اس داعی حق کو ’’دو متضاد تصویریں‘‘ لکھنے سے بھی کوئی امر مانع نہ رہا۔ وہ آوازۂ حق نہایت شان و صراحت سے بلند کیا کرتے تھے۔ مولانا کا رسالہ من الجبایۃ إلی الھدایۃ  مولانا کی دینی غیرت اور منہج نقد و اصلاح کا غماز ہے۔ یہ رسالہ در حقیقت مولانا کے ان ہی جذبات کا عکاس ہے جن کا اظہار انہوں نے اپنے سفر حجاز ۱۹۵۰ء میں اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر عبدالعلیؒ صاحب کے نام لکھے گئے خط میں کیا ہے۔ اس رسالہ میں مولانا نے جن امراض کی نشاندہی کی اور جن کوتاہیوں اور برائیوں کو اجاگر کیا، وہ ختم نہ ہوئیں بلکہ دن بدن بڑھتی گئیں اور مولانا تھے کہ آخر تک منکر کی نکیر کرتے رہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے جلسوں میں بسا اوقات حضرت مولانا اپنا دل نکال کر رکھ دیا کرتے تھے، اور زبان دل سے گفتگو کیا کرتے تھے، لیکن ان لوگوں پر کیا اثر ہوتا جنہوں نے ایک نیک انسان کے مخلص جذبات کے تحت ۱۹۶۲ء میں وجودآنے والی اس تنظیم کو محض اپنا ترجمان بنالیا اور ہمیشہ اس تنظیم کا استحصال کیا ۔ حد یہ کہ جو شخص اس کا فکری مؤسس تھا، اس کو چند سال کے بعد اس کی حق بیانی اور صاف گوئی کے سبب ایسا معتوب قرار دیا کہ آخری عمر یعنی ۱۹۹۵ء تک ان کا حجاز آنا جانا موقوف رہا۔ بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ رابطہ عالم اسلامی کے فکری مؤسس شیخ حسن البناء کے داماد و معتمدِ خاص ڈاکٹر سعید رمضانؒ تھے اور ان ہی کی دعوت پر اس کا قیام عمل میں آیاتھا۔ 

حضرت مولاناؒ حق گوئی میں ایک لحظہ بھی چوکتے نہ تھے، بلکہ بر وقت جواب دے دیا کرتے تھے۔ مولانا نے خود بیان کیا کہ ان کا رسالہ’’ردۃ ولا أبا بکر لھا‘‘ بہت عام ہوا اور خوب پڑھا گیا۔ رابطہ عالم اسلامی کے جلسہ میں وہ تشریف رکھتے تھے کہ خمینی صاحب داخل ہوئے تو مفتی امین الحسینیؒ نے بڑھ کران کا استقبال کیا۔ پھر مولانا کو ان سے متعارف کرایا تو خمینی صاحب گویا ہوئے، جی! آپ کا رسالہ ردۃ ولا ابا بکر لھا  پڑھا ہے لیکن اس کا نام ردۃ ولا ابا حسن لھا ہونا چاہیے تھا۔ خمینی صاحب نے اپنی روایتی عداوت اور عقیدے کی ترجمانی کردی، لیکن مولانا کی ظرافت و حق گوئی نے ان کو یوں خاموش کیا کہ یہ تو ایسے ہی ٹھیک ہے۔ عربی محاورہ قضیۃ ولا أبا حسن لھا ہے۔ 

ڈاکٹر حسن الأمرانی نے اپنے ایک مقالہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ’’شیخ ابو الحسن نے خود مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ خمینی صاحب میرے ساتھ خانۂ کعبہ کا طواف کررہے تھے اور دعا یو ں پڑھتے تھے ربنا اغفرلنا ولإخواننا الذین سبقونا بالإیمان یہاں پہنچ کر رک جاتے اور آیت نہ پوری کرتے۔ پھر اسی کو دوہراتے تو میں ان سے قریب ہوا اور کہا: ’’ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا‘‘۔ شیخ نے فرمایا کہ گویا میں نے ان کو کچوکا لگایا‘‘۔

یہاں اس کا ذکر ضروری ہے کہ یہ صرف میرا احساس نہیں کہ مولانا کی دعوت اور ان کے دینی جذبات سے جن لوگوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے تھا انہوں نے نہ لیا، البتہ ایسا بھی نہیں کہ اس کا اثر نہ ہوا لیکن حکومتی سطح پر وہ نہ ہوا جس کی خود حضرت مولانا کو امید تھی، من الجبایہ الی الھدایۃ جو ابتداءً ایک خط تھا، اسکو مولانانے مولانا عبیداللہ صاحب کے حوالے کیا، انہوں نے شیخ عمر بن الحسن کو پہنچا دیا کہ وہ مملکت سعودیہ کے ولی عہد کو پڑھ کر سنا دیں، مولانا یہ لکھنے کے بعد کہ معلوم ہوا کہ وہ انہوں نے سنا دیا یوں افسوس و حسرت کا اظہار کرتے ہیں: 

’’ کاش! کہ اس خط کا کوئی عملی نتیجہ نکلتا ، اور اسی وقت سے راستہ کی تبدیلی کی کوشش کی جاتی تو آج نہ صرف مملکت سعودیہ بلکہ عالم اسلام کی صورت حال بہت مختلف ہوتی‘‘ (کاروان زندگی ج۱ ص ۳۴۱)

مولانا کا ملی جذبہ اور دینی غیرت و حمیت ’’عرب قومیت‘‘ کے خلاف تحریک چلانے میں بھی قابل دید و لائق تقلید ہے، اس وقت مولانا پر اس فتنہ کی تنقید کا ایسا غلبہ تھا کہ جو لوگ مولانا اور ان کے خاندان کے مزاج سے واقف تھے وہ کہتے تھے ان کو کیا ہو گیا ہے، مولانا نے ایسی جرأت مندانہ تنقید کی کہ حکومت مصر کی شکایت پر حکومت ہند نے استفسار تک کیا، کہا جا سکتا ہے کہ عرب قومیت کے باطل نظریہ کے خلاف سب سے طاقتور آواز ہندوستان سے ہی بلند ہوئی، یہی نہیں بلکہ عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی ذلت آمیز شکست کا مولانا نے بے لاگ تجزیہ کیا ہے اور اس ضمن میں مولانا نے جزیرۃ العرب میں بیٹھ کر عربوں پر سخت تنقیدیں کی ہیں، اس سلسلہ کے مضامین کا مجموعہ ’’عالم عربی کاا لمیہ‘‘ حقائق کے انکشاف، حالات کا مومنانہ تجزیہ اور صاف گوئی کی جرأت پر دلالت کرتا ہے، مولانا نے اس وقت عربوں کی شکست کے جن اسباب کی نشاندہی کی وہ آج عربوں میں پہلے سے کئی سو فیصد زیادہ ترقی کرگئے ہیں، آپسی انتشار ، مادیت پسندی ، اقتدار کی حفاظت ، اسلام سے دوری اور اسلام پسند لوگوں سے نفرت و عداوت نے انکو امریکہ کا غلام اور اسرائیل کا نمائندہ بنا دیا ہے، طبعی اور دینی و اخلاقی دونوں نظامہا ئے زندگی سے ان کی بغاوت عروج پر پہنچ گئی ہے، اسرائیل سے جنگ کے موقع پر بقول مفکر اسلامؒ ’’ان پر بے چینی و اضطرارطاری رہتا اور وہ اپنے اوپر اللہ کی مباح کردہ لذتیں بھی حرام کر لیتے‘‘ لیکن اب تو بات یہاں تک آ پہنچی ہیکہ وہ ان ہی لذتوں کے لئے جیتے ہیں، بلکہ ان ہی اسباب تلذذ کی حفاظت کے لئے انہوں نے دین کو امریکہ و اسرائیل کی پسند کے مطابق بقدر ضرورت استعمال کرنے اور اسکا پروپیگنڈہ کرنے تک محدود کر دیا ہے،اسلامی ممالک اغیار کے دست نگر بنا دیے گئے ہیں، دینی شعائر پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں! بے حیائی و فحاشی اور عریانیت ولذت کوشی نے ان کو اپنے شکنجہ ضلالت میں گرفتارکرکے دین کے نور بصیرت سے ہزاروں کوس دور کر دیا ہے، مدینہ طیبہ میں جوار مسجد نبوی میں مولانا کی یہ حق گوئی ملاحظہ کیجئے:

’’صرف زمانۂ جنگ اور اس سے چند دن قبل کے اخبارات و رسائل پڑھئے کیا یہ اخلاق اور یہ طریقۂ زندگی اللہ اور اس کے رسول کی رضا کامو جب ہو سکتا ہے؟ کیا ام کلثوم کے گیت اللہ تعالیٰ اور رسولؐ کی رضا اور فتح و کامرانی کے نزول کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟ کیا یہ نائٹ کلب، عریانی وبے حیائی کے اڈے، جسے ہمارے بھائیوں نے اس ملک میں نئی زندگی بخشی جس پر مقدس اسلامی مقامات کے دفاع کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ہمیں رسوائی وہزیمت سے بچا سکتے ہیں؟‘‘ (عالم عربی کا المیہ ص ۷۸؍ ۷۹)

مولاناؒ نے ایک طرف مغربی تہذیب پر تنقید کی تو دوسری طرف امت اسلامیہ کو اپنی تہذیب پر فخر کرنے کی دعوت دی، اسلامی تمدن کو اختیار کرنے پر ہر جگہ زور دیا، تعلیم ، نظام تعلیم اور نصاب تعلیم پر اپنی قیمتی آراء پیش کیں، نظام تعلیم کو اسلامی بنانے اور نصاب میں دینی عنصر داخل کرنے کی تاکید کی، نصاب میں تجدید و اصلاح کی رائے دی،مولانا در حقیقت مفکر تھے ، وقت کے تقاضے پیش نظر رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ عہد حاضر کے مفکرین میں مولانا منفرد ہیں، جن کی زبان سے یہ جملہ نکلا کہ علم میں دوئی کا کوئی تصور نہیں، یہ کہہ کر گویا انہوں نے ایک بہت بڑے انقلاب کی دعوت دی، ملی مسائل میں بڑھ کر حصہ لینے کے ساتھ علماء کو حالات سے جڑنے کی بھر پور و مؤثر دعوت دی، موقع پڑا تو شیعیت و قادیانیت کی تردید میں سارا زور صرف کر دیا، وسیع النظری اور وسعت فکری کا یہ مطلب سمجھنا مولانا کے نزدیک قطعی درست نہ تھا کہ حق کو حق اور باطل کو باطل نہ کہا جائے، وہ اس کو دعوت اتحاد کے منافی بھی نہ سمجھتے تھے بلکہ جب ’’دو متضاد تصویریں‘‘ کی تصنیف پر بعض اہل تعلق نے اعتراض کیا تو مولانا نے اس کو زندگی بھر کا سرمایہ اور باعث نجات قرار دیا اور اس کو علماء ربانیین و مجددین کا طریقہ قرار دیا،مولانا کی غیرت ایمانی انکی جرأت گفتارکو ہمیشہ رواں دواں رکھتی تھی ،وہ باطل کی زیا دتیوں پر مضطرب ہو جایا کرتے تھے اور یہ جذبات پھرزبان و قلم سے سیل رواں کی طرح جاری ہوجایا کرتے تھے اور عبارت کو جو ش وغیرت سے معمور کردیا کرتے تھے،دعوتِ اتحاد اپنی جگہ ،جادۂ اعتدال کی پاسداری کا اپنا مقام لیکن مفکر وہی ہے جو مو ضوع اور وقت کی نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے مسائل کو پوری جرأت کے ساتھ بیان کرے۔ ’’سیرت سید احمد شہید‘‘میں مولانا کا جو رنگ ہے وہ تا دم آخر باقی رہا،اگر آج بھی حضرت والا بقید حیات ہوتے تو ان کا قلم مجاہد کی تلوار کی طرح چلتا اور خون ناحق بہانے والوں پر انکی زبان دنیا بھر کو متوجہ کردینے کے لیے کافی ہوتی۔ جو خون ناحق بہایا گیا اور جس طرح علماء کے ایک گروہ نے حق کو باطل ثابت کرنے کی کوشش کی اور مظلوم و امن پسند اور اسلام پسند مظاہرین کو بھیانک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مفسدودہشت گرد قرار دیا گیا،اے کاش کہ یہ متحمس وغیرت مند اورمومن قلم زندہ و متحرک ہوتا تو پوری دنیا میں اہل حق کے محاذ کی قیادت کا فریضہ انجام دیتا۔ نفوس قدسیہ کے دفاع اور مظلوموں کی حمایت کا یہ غیرت سے لبریز رنگ دیکھئے۔ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں ایک طبقہ مجاہد اسلام حضرت مولانا اسماعیل شہید ؒ کو کافرو گمراہ ثابت کرتا ہے، اس امر کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا ؒ کے قلم سے جو جملے نکلے ہیں وہ ہمارے لیئے دفاع حق کا نمونہ اور اعتدال و غیرت ایمانی سے مرکب ایک حسین تصویر ہیں، مولانا تحریر فرماتے ہیں:۔

’’مولانا کی دوسری فضیلتیں تو رہیں بر طرف، ان کی شہادت مسلم ہے اور شہداء کی مغفرت مسلم ،لیکن ۲۴؍ذو القعدہ ۱۲۴۸ء ؁سے لے کر آج تک کم وبیش ۱۳۶برس کے طویل عرصہ میں شاید ہی کوئی ایسا دن طلوع ہوا ہو ،جس کی صبح کو اس شہید اسلا م کی تکفیر و تضلیل کا کوئی فتویٰ نہ نکلا ہو، لعنت اور سب و شتم کا کوئی صیغہ استعمال نہ کیا گیا ہو، فقہ و فتاویٰ کی کوئی دلیل ایسی نہیں جو اس کے کفر کے ثبوت میں پیش نہ کی گئی ہو۔ وہ ابو جہل و ابو لہب سے زیادہ دشمن اسلام ، خوارج مرتدین سے زیادہ مارق من الدین و خارج از اسلام، فرعون وہامان سے زیادہ مستحق نار ، کفر و ضلالت کا بانی ، بے ادبوں اور گستاخوں کا پیشوا ، شیخ نجدی کا مقلد و شاگرد بتایاگیا۔ یہ ان لوگوں نے کہا ، جن کے جسم نازک میں آج تک اللہ کے لئے ایک پھانس بھی نہیں چبھی ، جن کے پیروں میں اللہ کے راستے میں کبھی کوئی کانٹا نہیں گڑا، جن کو خون چھوڑ کر (کہ اس کا ان کے یہاں کیا ذکر؟)اسلام کی صحیح خدمت میں پسینے کا ایک قطرہ بہانے کی سعادت بھی حاصل نہیں ہوئی! یہ ان لوگوں نے کہا، جن کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و عصمت بچانے کے لئے اس نے سر کٹایا ، کیا اس کا یہی گناہ تھا، اور کیا دنیا میں احسان فراموشی کی اس سے بڑھ کر نظیر مل سکتی ہے؟ جس وقت پنجاب میں مسلمانوں کا دین و ایمان ، جان و مال ، عزت وآبرو محفوظ نہ تھی ، سکھ اپنے گھروں مسلمان عورتیں ڈال لیتے تھے، مساجد کی بے حرمتی ہورہی تھی، اور ان میں گھوڑے باندھے جاتے تھے، اس وقت یہ غیرت ایمانی وحمیت اسلامی کے مدعی کہاں تھے؟ 
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے‘‘
(سیرت سید احمد شہید ج ۲ ص ۴۸۶۔۴۸۷) 

مولانا کی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ باطل ادبی نظریات کے مقابلہ کے لیے اسلامی نظریہ ادب جو پہلے سے کسی نہ کسی صورت میں موجود تھا، اس کو ایک مستقل ادبی اسکول کی شکل دینے کا تجدیدی کارنامہ انجام دیا۔ ندوۃ العلماء کے سبزہ زار کو کئی مرتبہ عرب وعجم کے علماء اور عمائدین کے اجتماع سے معمور و منور کیا۔ امت اور بالخصوص اس کے مثقف طبقہ نیز امراء و حکام کی فکری رہنمائی کی کوشش کی۔ دینی تعلیم کی ضرورت و اہمیت کی وضاحت کے ساتھ عصری تعلیم کو ایمان و اخلاقیات سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔ عصری اور بالخصوص ملی دانش گاہوں کو ان کے فرائض و واجبات یاد دلائے۔ دینی تعلیمی تحریک کی صدارت کی، اصلاح نصاب کی آواز بلند کی، تعلیم کے وسائل کو سراہا، خود مؤثر نصابی کتابیں تیار کیں، مدارس ویونیورسٹیز کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔ مولاناؒ کو اس کا سخت احساس تھا کہ جس طبقہ میں دین ہے، وہ اقتدار سنبھالنے سے قاصر ہے اور جس طبقہ کے ہاتھ میں نظام حکومت اور کم از کم نظام تعلیم آتا ہے وہ دین سے دور ہے۔ اس کے سبب معاشرہ جس تضاد کا شکار ہوتا ہے، اس سے کرب و بے چینی اور بے اطمینانی کی کیفیت اور ٹکراؤ کی حالت پیدا ہوجانا نا گزیر ہے۔ مولانا نے دیندار طبقہ کو مشورہ دیااور خود انتھک محنت کی کہ اس طبقہ تک دین پہنچا یا جائے اور اس کو اسلامی اخلاقیات سے متصف کیا جائے۔

مولانا کی ذات بے شمار خوشنما خوبیوں کا حسین مرقع تھی، ان کی خدمات نہایت وقیع اور سنجیدہ و بے لوث تھیں، ان کو اخلاص کی جو دولت نصیب ہوئی تھی اور روح کی جو پاکیزگی میسر تھی اس کے سبب لوگوں کو بے انتہا متأثر کرتے تھے، لوگ ان کے ہمنوا ہوجاتے تھے، کار آمد افراد کی ناز برداری کا ہنر مولانا جانتے تھے بلکہ مخالفین کو بھی ملت کے کام کا بنا لیتے تھے، رعایت ومروت مولانا کا خاص وصف تھا، لوگوں کو جوڑنے اور ان سے کام لینے کی حکمت معلوم تھی، آج بہت سے افراد کا ر آمد ہیں،لیکن افسوس کہ قحط الرجال کا شکوہ ہے، لیکن کار آمد لوگوں کو استعمال کرنے کا ہنر گویا معدوم ہو چکا ہے،اور افراد سازی تو تقریبا مفقود ہے، بے کار لوگوں کو کار آمد بنانا تو دور قریب آئے ہوئے لوگوں کو جوڑ کر رکھنے کا وصف بھی نظر نہیں آتا۔ لیکن حضرت مولانا ؒ کی زندگی ان خوبیوں سے عبارت تھی اسی لیے انہیں جاں نثاروں اور لائق و فائق افراد کا ر کی ایک جماعت ہاتھ آگئی تھی، اسمیں ان کی فراخ دلی، بے لوثی ، ذاتی اور خاندانی مفادات سے آخری درجہ کی دوری ، وسعت قلبی ، دور اندیشی ، متفکرانہ مزاج ، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک ، طبیعت کی شرافت ، دسروں کا اعتراف ، بڑوں کے احترام کے ساتھ معاصرین کی عزت افزائی اور چھوٹوں کی دلجوئی کو بڑا دخل تھا، ظاہر ہے کہ ان تمام خصوصیات پر الگ الگ مقالات لکھے جا سکتے ہیں مگر یہاں سوانح لکھنا اور مولانا کی شخصیت و خدمات کا احاطہ کرنا مقصد نہیں ہے ،مولانا کی پوری زندگی اس سے عبارت ہے کہ ؂

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

اگر ان لوگوں کی روایات اور واقعات کو بہت احتیاط کے ساتھ جمع کیا جائے تو بھی الگ ایک کتاب تیار ہو سکتی ہے جن کو حضرت مولانا نے ان کی صلاحیت و حیثیت کے اعتبار سے استعمال کیا، وہ بہت بڑے بڑے کام لوگوں سے لیا کرتے تھے اور ان کو آگے بڑھایا کرتے تھے، ان کی مدد کرتے اور انہیں ملت کے لئے استعمال کرتے، اسمیں مولانا کی فردشناسی کے ساتھ ان کے انقلابی مزاج و حرکیت اور ملی تڑپ کو بڑا دخل تھا۔

بس چلتے چلتے یہ اور عرض کرنے کا دل چاہتا ہیکہ مولانا کو عنداللہ جو مقبولیت حاصل ہوئی اس کا پر تو دنیا میں یوں نظر آیا کہ وہ خلق خدا میں بے پناہ مقبو ل ہوئے، انکو اہل دل کی دعائیں ملیں ، اہل علم کی نظر میں قدر و منزلت حاصل ہوئی ، ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کو وہ نفوس ملے جنہوں نے اپنی زندگیاں آپ پر نثار کردیں، مخلص و دور اندیش اور متحرک رفقاء کار کا ہاتھ آنا بھی بڑی نعمت ہے، مولانا کو ایسے مخلصین ملے کہ جو آپ کے علمی و فکری معاون ہونے کے ساتھ ساتھ ملی کاموں، ملک وبیرون ملک کے دعوتی دوروں اور اسفار کے اچھے مشیرو معاون رہے، کیا ہی خوب ہوکہ کوئی صاحب قلم اس پہلو پر بھی ایک دلآویز کتاب پیش کر دے تاکہ اس دور آخر میں ایثار کرنے والے مخلصین کا بھی ایک پر کشش مجموعہ منظر عام پر آکر لوگوں کے لئے قابل تقلید ثابت ہو سکے، کہ اب تو ایثار و اخلاص عنقاء ہوئے جاتے ہیں اور ہر کس و ناکس مشیرو معاون بنا جاتا ہے ، جس کے سبب عمل اور تحریک عمل کا متأثر ہونا یقینی ہے۔ مفاد پرستی جس قدر بڑھ گئی ہے، افراد شناسی اسی قدر مفقود ہے۔ 

(جاری)


مولاناؒ نے اپنے یمن کے سفر ۱۹۸۴ء کی روداد لکھتے ہوئے شیخ یاسین عبدالعزیز کی ایک گفتگو نقل کی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو یہاں نقل کر دیا جائے: ’’انہوں نے دین کی دعوت دینے والی اور اس کے غلبہ کی کوشش کرنے والی جماعتوں پر تبصرہ کیا اور کہا کہ دو طریق کا رہیں، ایک یہ کہ اہل ایمان (حکومت کی) کرسیوں تک خود پہونچ جائیں (یعنی ان کو براہ راست اقتدار حاصل ہوجائے)۔ دوسرے یہ کہ ایمان ان کر سیوں تک پہونچ جائے (یعنی اہل حکومت دین کی دعوت قبول کر لیں اور اس کی ترویج و تنقید کا خود ذمہ لے لیں)۔ انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کی کتابوں کے مطالعہ سے سمجھا ہوں کہ آپ اس دوسرے طریق کارہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں نے اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہمارے یہاں بر صغیر ہند میں حضرت مجدد الف ثانیؒ شیخ احمد فاروقیؒ (م۱۰۳۴ھ ) نے یہی طریق کار اختیار کیا تھا، اور اس کو جو کامیابی حاصل ہوئی وہ ہمارے علم میں عالمِ اسلام میں کسی انقلابی و اصلاحی تحریک کو حاصل نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے شمالی یمن کی موجودہ صورتِ حال، کام کے امکانات اور تقاضوں پر مختصر تبصرہ کیا۔ اس کے بعد مجلس برخواست ہوئی اور ہم لوگ ان سے رخصت ہوئے۔ معلوم ہوا کہ ان کا نام شیخ یٰسین عبدالعزیز ہے‘‘۔ (کاروان زندگی ج ۳ ص ۳۳ )

شخصیات