تدبر کائنات کے قرآنی فضائل ۔ روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟

مولانا محمد عبد اللہ شارق

بعض چیزیں اتنی واضح اور غیر مبہم ہوتی ہیں کہ ان کے لئے قلم اٹھاتے ہوئے بھی عجیب سا محسوس ہوتا ہے، لیکن لوگوں میں ان کے حوالہ سے پائی جانے والی خواہ مخواہ کی غلط فہمیاں تقاضا کرتی ہیں کہ ان کو بیان کیا جائے، ورنہ وہ بے سروپا غلط فہمیاں بڑھتے بڑھتے بہت تناور ہوجائیں گی اور پھر ان کا تدارک مشکل ہوگا۔ اللہ تعالی نے قرآنِ مجید میں بے شمار جگہوں پر انسانوں کو کائنات میں تدبر کرنے کی ترغیب دی ہے، اس کے فضائل بیان کئے ہیں، اسے مومنین کی صٖفت بتایا ہے اور تدبرِ کائنات سے اعراض کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کائنات کے اس تدبر سے مراد سائنسی ومادی تدبر ہے جو کہ سائنس دان کرتے ہیں۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ یہ نکتہ قرآن کے سر تھوپنے والے’’نکتہ دان‘‘ در اصل قرآن سے کتنے نا آشنا ہیں، لگتا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی خود قرآنی آیات کو ان کے سیاق وسباق میں سمجھ کر پڑھنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر کیا کیجئے کہ یہ خیال آج اچھے بھلے ذہین وفہیم لوگوں میں بھی مقبول ہورہا ہے۔ 

قرآن جابجا اپنی آیات میں جس ’’تدبر‘‘ کی دعوت دیتا ہے، وہ ہرگز ہرگز سائنسی ومادی تدبر نہیں، اس سے سے مراد وہ تدبر ہے جو انسان کو کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس میں توجہ الی اللہ پیدا کرتا ہے، جس کے ساتھ انسان کو اس کائنات کے ہر ہر ذرہ میں خداوند جل وعلا کا نور نظر آتا ہے اور دیکھنے والا خود اس نور میں نہا جاتا ہے، جس تدبر کے دوران، تدبر کرنے والا زمین وآسمان کو دیکھتے دیکھتے خدا کی ذات میں محو ہوجاتا ہے، اللہ کی قدرت وعظمت کے احساس سے مغلوب ہوجاتا ہے اور تعلق مع اللہ کی کیفیات اس میں موج زن ہوتی ہیں۔کسی بھی سائنسی انکشاف کے بغیر انسان اس تدبر کی معراج کو پاسکتا ہے اور کوئی بدو بھی اس تدبر کی معراج کو پاکر قرآن کا مطلوبہ عارف باللہ بن سکتا ہے، خواہ وہ زمین کو ساکن، سورج کو متحرک اور زمین کو چپٹی سمجھتا ہو۔ یہ بات اتنی روشن ہے کہ اس کو الگ سے ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، قرآن کا ایک بار ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ مطالعہ کرلینا ہی کافی ہے۔ یہ روحانی تدبر اور وہ مادی تدبر، بادی النظر میں خواہ کتنے ہی قریب قریب محسوس ہوں، درحقیقت ان میں زمین وآسمان کا فاصلہ ہے۔ علم وتدبر کے قرآنی فضائل کو سائنسی ومادی تدبر پر فٹ کرنا میرے نزدیک ایک تہمت اور تحریف سے کم نہیں۔اس چیز کو واضح کرنے کے لئے ایک نہیں، ایک سو ایک شواہد قرآن ہی سے پیش کئے جاسکتے ہیں جو مطالبہ پر ان شاء اللہ حاضر ہوجائیں گے۔ قرآنی ’’تدبرکائنات‘‘ سے اصولی طور پر تو کیا، ضمنی طور پر بھی سائنسی تدبر مراد نہیں ہوسکتاہے،جبکہ ان حضرات کی طرف سے یہاں تک کہا جاتا ہے کہ جو آدمی کائنات میں سائنسی نہج پر تدبر نہیں کرتا، وہ قرآن کے مطابق اللہ کی ’’آیات‘‘ اور تخلیق سے اعراض کرنے والا ہے۔ معاذ اللہ!

گذشتہ دنوں’ البرہان‘(جنوری ، فروری ۲۰۱۴ء) اور ’ الشریعہ‘ (فروری ، مارچ ۲۰۱۴ء) میں سائنس اور فکرِ مغرب کے موضوع پر ڈاکٹر شہباز منج کے قسط وار مضامین شائع ہوئے، ان دونوں میں متعلقہ موضوع کے حوالہ سے انہوں نے فی الجملہ کافی متوازن رائے پیش کی اور سائنس کے حوالہ سے مسلم اہل علم کے خودساختہ افراط وتفریط پر انہوں نے بجا تنقید کی، مگر قرآنی تعلیم ’’تدبرِ کائنات‘‘ کے حوالہ سے نہ جانے ان کی رائے میں بھی کیوں عدمِ توازن پیدا ہوگیا ہے اور نہ جانے کس بنیاد پر انہوں نے اس ’’تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد لینے پر اصرار کیا ہے، ان کے الفاظ ہیں: ’’کسی مظہرِ قدرت یا آیۃ اللہ پر غور وفکر ترک کردینا ، اس سے پہلے کہ اس کی حقیقت پوری طرح منکشف ہو، اس سے اعراض کے زمرہ میں آتاہے۔۔۔۔ مسلمان کو حکم ہے کہ جب موجوداتِ قدرت میں سے کوئی چیز اس کے نوٹس میں آئے تو اسے نظر انداز نہ کرے، اس کی حقیقت اور اصلیت کو پوری طرح سمجھے اور خدا کی حکمتیں جو اس کے اندر پوشیدہ ہیں ان سے پوری طرح واقف ہونے کی کوشش کرے۔۔۔۔ ‘‘ (الشریعہ،فروری۔ صفحہ۲۸۔۔ البرہان،جنوری۔ صفحہ۳۹)

میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ، صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کا رویہ اس حوالہ سے کیا تھا؟ قرآن کے سب سے اولین اور شایانِ شان مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب تھے، اصحابِ کرام اہلِ لسان تھے، ہم سے کہیں بڑھ کر اہلِ ایمان بھی تھے، قرآن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ہم سے کہیں زیادہ متفکر رہتے تھے، صاحبِ وحی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست شاگرد تھے اور فہمِ قرآن میں یقیناًہم سے ہزار درجہ آگے تھے۔ اگر ’’تدبرِ کائنات‘‘ کی قرآنی تعلیم سے سائنسی ومادی تدبر ہوتا اور اسی کی ترغیب دینا قرآن میں مقصود ہوتا تو مادہ پر صحابہ کی سائنسی وتحقیقاتی سرگرمیاں کبھی گوشہء خفاء میں نہ ہوتیں۔ جبکہ یہاں معاملہ برعکس ہے، اس حوالہ سے ان کی دلچسپی تو نہیں، البتہ بے رغبتی اور عدمِ دلچسپی کے کئی شواہد موجود ہیں۔ 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلچسپی تو اس حوالہ سے بس اس قدر تھی کہ آپ نے کسی خیال سے کھجوروں کو گشنی کرنے کے بارہ میں صحابہ کو ایک تجویز دی، لیکن جب اس کے مطلوبہ نتائج ظاہر نہ ہوئے تو یہ کہہ کر آپ اس معاملہ سے ہی الگ ہوگئے کہ ’’تم جانو اور تمہاری دنیا، تم اپنی دنیا کے امور کو خود بہتر سمجھ سکتے ہو۔‘‘ اسی طرح شاگردانِ رسول کی اس حوالہ سے رغبت اور دلچسپی بھی بس اس قدر تھی کہ دینی جوش وجذبہ کے ساتھ مادہ پر ’’سائنسی تدبر‘‘ تو دور کی بات ہے، اگر ان کو بعض اوقات قرآن کے کسی لفظ کا معنی ومفہوم سمجھ نہیں آسکا تو اس کو سمجھنے کے لئے بھی انہوں نے زیادہ تکلف کو غیر مناسب سمجھا۔ سورۃ عبس کی آیت ۳۱ میں نباتات کی مختلف اقسام کے ساتھ ایک چیز ’’أبّ‘‘ کا ذکر آیا ہے، اب جو حضرات تدبرِ کائنات کی قرآنی تعلیم سے لازما سائنسی تدبر مرادلیتے ہیں اور ان کے نزدیک جب تک کسی چیز کی حقیقت پوری طرح منکشف نہ ہوجائے، اس وقت تک اس پہ غور وفکر ترک کرنا اس سے اعراض کے زمرہ میں آتا ہے، ان کے نزدیک نباتات کی باقی اقسام کی طرح اس خاص قسم ’’اب‘‘ پر پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ مادی وسائنسی طرز کا تدبر ہونا چاہئے، اس تدبر کے بغیر ان کو چھوڑ کر آگے چلے جانا گویا اللہ کی تخلیق سے اعراض اور قرآن کی رو سے قابل مذمت ہے، لیکن اب ذرا غور سے سنئے کہ ان نباتات پر سائنسی ومادی تدبر تو درکنار، صحابہ میں سے دو بزرگ ترین شخصیات ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو سرے سے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اس ’’اب‘‘ سے نباتات کی کونسی خاص قسم مراد ہے اور اس کا صحیح مصداق کونسا پودا ہے، جبکہ یہ بھی کہیں منقول نہیں کہ اس کا صحیح مصداق جاننے کے لئے انہوں نے کوئی تحقیقاتی کمیٹیاں بٹھائی ہوں، بلکہ اس کے برعکس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ منقول ہے کہ اس حوالہ سے زیادہ متفکر ہونا گویا ایک طرح کا تکلف ہے۔

صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ ’’ایک مرتبہ حضرت عمر ’’سورہ عبس ‘‘ کی تلاوت کر رہے تھے ، جب وہ آیت ۳۱ میں ’’وفاکہۃ وأبا‘‘ پر پہنچے تو فرمایا کہ ’’فاکہۃ‘‘ کا معنی تو ہمیں معلوم ہے، مگر یہ ’’أبّ‘‘ کیا ہے؟ پھر خود کلامی کے سے انداز میں خود ہی اپنے آپ کو کہنے لگے کہ اے خطاب کے فرزند!یہ سوچ بچار کرکے تم محض تکلف کررہے ہو۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر۔ سورہ عبس، آیت۳۱) ایک اور روایت کی رو سے یہ واقعہ تب پیش آیا جب آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر یہ سورت تلاوت فرمائی۔ اور اس میں مزیدیہ ہے کہ ’’آپ نے ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو زور سے زمین پر مارا اور فرمایا کہ اے عمر! اگر ’’أبّ‘‘ کا معنی تمہیں معلوم نہ ہو تو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے؟اس کتاب کی جو بات تمہیں سمجھ آجائے، اس کی پیروی کرو، اور جو نہ آئے تو اسے اللہ کے سپرد کرو۔‘‘ (روح المعانی۔ عبس:۳۱) اب حضرت عمر کے اس رویہ کو سنی علماء کس نظر سے دیکھتے ہیں، اسے چھوڑ دیجئے کہ وہ تو وہیں ہی ’’روایت پسند‘‘ ، اپنے دور کے روشن خیال اعتزالی طبقہ سے تعلق رکھنے والے معروف مفسر علامہ جار اللہ زمخشری کی سنیے کہ وہ بھی حضرت عمر کے اس رویہ کو قابل تقلید سمجھتے ہیں: ’’صحابہ کی توجہات کا اصل رخ عمل کی طرف تھا،نری معلومات سے بے جا شغف اور ان کی تدقیق کو وہ تکلف ہی سمجھتے تھے، الا یہ کہ اس تدقیق کا کوئی تعلق عمل سے ہو۔ حضرت عمر کی مراد یہ ہے کہ ’’عبس‘‘ کی وہ آیات جن میں ’’أبا‘‘ کا ذکر بھی ہے، ان میں انسان پر اللہ کے احسانات کو بیانات کیا گیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالی نے انسان کے لئے اور اس کے مویشیوں کے لئے آسمان سے پانی نازل کیا، زمین کو سیراب کیا، پھر زمین کے سینے کو چیر کر اندر سے غلے اور اناج، انگور اور ترکاریاں، زیتون اور کھجوریں، گھنے گھنے باغ اور طرح طرح کے پھل نکالے۔ اسی ضمن میں اللہ نے نباتات کی ایک خاص قسم ’’أب‘‘ کا ذکر بھی کیا ہے۔انسان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان نعمتوں پر غور کرے اور اپنے اندر اپنے رب کے لیے احساس تشکر پیدا کرے۔ آیت کے سیاق وسباق سے اتنا تو صاف واضح ہوجاتا ہے کہ ’’أب‘‘ بھی نباتات کی ایک قسم ہے جو انسان کے نفع کے لئے اللہ نے نکالی ہے۔حضرت عمر کی لاعلمی فقط اس قدر ہے کہ یہ کونسی خاص قسم ہے۔ تو اس موقع پر کرنے کا جواہم کام ہے اور جو واضح بھی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا احساس کرکے اس کا شکر ادا کیا جائے، ’’أب‘‘ کے خاص پودے کی خاطر توجہ اصل مقصد سے نہ ہٹا لی جائے، اس پودے کے تعین کوچھوڑ دیا جائے کہ کسی موقع پر اس کی وضاحت ہوگئی تو ہوگئی ورنہ اللہ جانے۔ بعد ازاں حضرت عمر نے قرآنی مشکلات میں اسی طریقہ کو اختیار کرنے کی تلقین باقی لوگوں کو بھی کی۔‘‘ (الکشاف۔ عبس:۳۱) ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ حضرت عمر کا یہ رویہ کسی بھی طرح ’’سائنسی تدبر‘‘ کے رویہ سے میل کھاتا ہے؟ 

مزید سنیے، خلافت راشدہ کے تقریباً ایک سو سال بعد عباسی خلفاء کے دور کو سائنس دوستی اور ’’علوم وفنون کا دور‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دور میں روم وفارس کے علو م وفنون او ران کے کتابی ذخیروں کو بڑے اہتمام سے عربی میں ترجمہ کیا گیا‘ خصوصاً یونان کے علمی ورثہ پر بہت زیادہ توجہ دی گئی جو روم اور مصر میں پڑ ا ہواتھا۔ ان کے علمی ذخیرے کو وہاں سے منگوایا گیا اور عربی میں ان کے ترجمہ وتشریح کے لیے باقاعدہ سرکاری ادارے قائم کیے گئے۔ اسی سلسلہ میں مسلمانوں نے بعد میں جو کارنامے انجام دیے ‘ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو سائنس کی تاریخ میں یونان کا شاگرد اور جانشین باور کیا جاتا ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ روم ‘ فارس اورمصرتو اس سے بہت پہلے حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہی فتح ہوچکے تھے‘ تو اولین دور کے ان فاتح مسلمانوں نے روم اور فارس میں پڑے ہوئے کتابوں کے ان انباروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جنہیں سو سال بعد کے مسلمان حکم ران بڑی دلچسپی لے کر عربی میں منتقل کرتے رہے؟ اگر شاگردانِ رسولِ دینی جوش وجذبہ کے ساتھ سائنسی تدبر میں رغبت رکھتے تھے تو مفتوحہ علاقوں میں پڑے کتابوں کے وہ انبار ان کی دلچسپی کا محور ہونا چاہئے تھے جو در اصل سائنسی ومادی تدبر پر ہی مبنی تھے اور جن کی ’’قدر‘‘ کو پہچان کر عباسی خلفا نے اپنا نام روشن کیا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب علمی ذخائر ان کی آنکھوں سے اوجھل رہ گئے جو ان علاقوں کے اولین اور حقیقی فاتح تھے؟ کیا فتوحات کے بعد اپنی ہی مفتوحہ اقوام کے ان علوم وفنون پر ان کی نظر نہ جاسکی جنہوں نے بعد میں آنے والے مسلم فرماں رواؤ ں کی آنکھوں کو خیرہ کردیااور وہ سونا اور چاندی میں تول کر ان کے ہاں کی کتابوں کو اپنے ہاں درآمد کرتے رہے؟کیا وہ ایسے ہی غافل اور نادان تھے؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی معقول آدمی اس کی تائید کرسکتاہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تاریخی شہادت پیش کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہوں نے ان علوم فنون میں عباسی خلفاء کی طرز پرکوئی دلچسپی لی یا ان پہ توجہ دی ہوکیونکہ اگر ایسا ہوتا تو تاریخ میں اس کی کوئی ایک آدھ مثال تو ضرور ہی محفوظ ہوتی جیساکہ عباسی خلفاء کی اس دلچسپی کے واقعات بکثرت موجود ہیں‘ مگر ایسا نہیں ہے۔تو پھر سوال وہی کہ اسلام کے اولین ادوار میں ان علوم وفنون کا آخر کیا بنا؟ اور اس دور کے مسلمانوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟کیا یہ بات درست ہے کہ اولین دور کے مسلمان ان علوم وفنون میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے ؟ ان کے انہماک کو ناپسند کرتے تھے؟ ظاہر ہے کہ اس حوالہ سے تاریخ کی خاموشی تو کم از کم یہی بتاتی ہے، بلکہ بعض صریح تاریخی روایات سے بھی ان کے اسی رویہ کی تائید ہوتی ہے کہ مفتوحہ علاقوں میں کتابوں کے انبار ان کی نظر سے گذرے بھی مگر انہوں نے عمدا ان میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ کتاب نویسی کی مستند تاریخ ’’کشف الظنون‘‘ (کاتب چلپی)، مقدمہ ابن خلدون، الافادۃ والاعتبار (عبداللطیف البغدادی)، اخبار العلماء باخیار الحکماء (قفطی) اور المواعظ والاعتبار (مقریزی) میں ایسی روایات موجود ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ان کی عبارات بھی نقل کی جاسکتی ہیں۔ میں جاننا صرف یہ چاہتا ہوں کہ اگر ’’تدبرِ کائنات‘‘ کے قرآنی فضائل کا مصداق سائنسی ومادی تدبر ہی ہے تو شاگردانِ رسول کے اس رویہ کی آخر کیا توجیہ کی جائے گی؟ ڈاکٹر شہباز منج کے بقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو باقاعدہ خدا سے چیزوں کی سائنسی حقیقت منکشف کرنے کی دعا مانگی کہ ’’اللہم ارنا الاشیاء کما ہی‘‘ اب ان کو خود ہی بتانا چاہیے کہ اگر اس نبوی دعا میں وہی کچھ مانگا گیا ہے جو کہ وہ سمجھ رہے ہیں تو آخر نبی کی پوری زندگی میں اس نوع کی کوئی سائنسی سرگرمی کہیں کیوں نظر نہیں آتی، وہ اس حوالہ سے صرف دعا مانگنے تک ہی کیوں محدود رہ گئے؟ ان کے شاگردوں کا رویہ اس حوالہ سے ’’منفی‘‘ اور عدمِ رغبت کا کیوں ہے اور عباسی خلفاء کی طرح انہوں نے روم وفارس کے بھرے ہوئے کتب خانوں میں دلچسپی کیوں نہیں لی؟

یہاں ایک مغالطہ کا ازالہ بھی انتہائی ضروری ہے۔ جب کبھی یہ بتایا جائے کہ قرآنی ’’تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد نہیں ہے تو بعض لوگ اس کا معنی یہ لیتے ہیں کہ شاید سائنسی تدبر کی مخالفت کی جارہی ہے اور اس کو شرعاً ناجائز ٹھہرایا جارہا ہے، حالانکہ یہ بات بھی ایسے ہی غلط ہے جیسا کہ قرآنی ’’تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد لینا۔ معاملہ کی اصل نوعیت بس اتنی ہے کہ قرآن نے نہ تو سائنسی ومادی تدبر کی کہیں کوئی ترغیب دی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی ممانعت فرمائی ہے۔ سائنسی تدبر ایک مباح سرگرمی ہے بشرطیکہ اس کا انہماک انسان کو خدا پرستی کے تقاضوں سے غافل نہ کردے۔ نہ تو قرآنی تدبر کائنات کا مصداق یہ تدبر ہے اور نہ ہی شاید اس کی ممانعت کی کوئی شرعی دلیل موجود ہے۔ یہ دونوں شکلیں افراط وتفریط کی ہیں۔ ہاں، البتہ موجودہ دور میں جبکہ امت کو ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے تو اس دور میں مسلمانوں کے سائنسی تدبر کی طرف متوجہ ہونے کی کوئی فضیلت بھی ہوسکتی ہے، مگر یقین جانیے کہ امت کی موجودہ بدحالی کا اصل سبب میڈیا، معیشت اور دفاعی ٹیکنالوجی جیسے میدانوں میں اس کی کم تری نہیں ہے، بلکہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہمیں اللہ کی توجہ کی ضرورت ہے۔ غالباً اسی کی ناراضگی کی وجہ سے ہم اس وقت ناسمجھی اور بدتدبیری کا شکار بھی ہیں، اسی کی ناراضگی کی وجہ سے ہمیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا، جب اس کو راضی کرنے کی فکر ہم نے اپنا لی، اپنی عملی ودینی حالت بہتر کرلی، مومنین کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرلیا تو ان شاء اللہ خود بخود راستے آسان ہوجائیں گے، مادی اسباب کی کمی ’’کمی‘‘ نہیں رہے گی، نیک سمجھ عطا ہوگی اور اللہ کی غیبی نصرت وولایت کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ ہذا ما عندی والعلم عنداللہ ، ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم

قرآن / علوم قرآن

(جون ۲۰۱۴ء)

Flag Counter