مذہبی فرقہ واریت: اسباب، نقصانات اور اصلاحی تجاویز

مولانا محمد تہامی بشر علوی

انسانی مزاج ومذاق کے تنوعات، فکر ونظر کی نے رنگیاں، عقل وفہم کی اونچ نیچ، اسا لیب غور وخوض میں کھلا تفاوت اور تاثرات و احساسات کااپنا اپنامستقل جہاں، یہ وہ ناقابل انکار حقیقتیں ہیں جو تعبیر مذہب کے ضمن میں بھی پوری طرح جلوہ گر دیکھی جاسکتی ہیں۔ مذہبی تعبیر کے تنوعات، افکار کاجہاں آباد کرتے ہیں تو افکار نظریہ واعتقاد کا جزو بن جاتے ہیں۔ یوں ہر نظریہ وعقیدہ اپنے حاملین تلاش کرتاہے۔ نتیجہ معلوم کہ مذہبی برادری مختلف عقائد ونظریات میں بٹ جاتی ہے۔پھر بتدریج یہ تنوع، غلو و تعصب کی اور یہ تعصب ،تفرق وتشتت کی مکروہ صورتوں میں ظہور پذیر ہونے لگتا ہے جسے ہم تفہیم کی خاطر ’’فرقہ واریت ‘‘کا عنوان دے سکتے ہیں ۔ یہی وہ مرحلہ ہوتاہے جب مذہب کے نام پر خود مذہب سمیت ہر انسانی قدر خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ’’فرقہ وارانہ‘‘ تجاوزات ور اُس کی ہلاکت آفرینیاں! بس الامان والحفیظ! لیکن اہل مذہب اس ہلاکت آفریں اور پُر خطر مقام پر کیوں پہنچے؟ اُس کے بنیاد ی ا سباب کیاتھے؟ ذیل کی سطور میں اس بات کا جا ئزہ لیاجاتاہے ۔

(۱) ترکِ قرآن 

مذہبی فرقہ واریت کابنیادی سبب یہی ہے کہ اہل مذہب قرآن کو خدا کے نازل کردہ ایک ’’نصب العین‘‘کے طور پر لینے کی بجائے محض میراث میں ملی ایک ایسی کتاب کی صورت میں قبول کیے ہوئے ہیں کہ جسے محض اپنے نظریات کی تائید کے طور پر پیش کیاجاسکتاہے ۔ اُن کا معاملہ قرآن کے ساتھ یہ نہیں کہ بالکل خالی الذہن ہوکر آئیں اور قرآن سے عقیدہ ونظریہ کے باب میں راہنمائی لے لیں۔ بلکہ یہاں ترتیب یہ قرارپاچکی ہے کہ پہلے دل ودماغ میں مزعومہ عقائد ونظریات پوری پیوستگی کے ساتھ جماکر قرآن کے حضور آیاجائے اور پھر انہیں مزعومہ عقائد ونظریات کو قرآن سے کشیدکرنے میں مہارتوں کے جوہر دکھلائے جائیں۔ قرآن کو حق تدبر نہ دینا وہ مجرمانہ غفلت ہے جس کاخمیازہ ’’فرقہ واریت‘‘ کی صورت میں ہمیں بھگتناپڑ رہاہے۔ وہ عقائد جو کسی مسلمان کے لیے ضروری ہوسکتے ہیں، جن پر نجات کامدار ہے، قرآن نے انہیں بیان کرنے میں کوئی ابہام چھوڑ ااور نہ ہی کوئی خفا۔ یہ نہیں ہوسکتاکہ رب تعالیٰ انسانیت کے نام ہدایت نامہ بھیجے اوراس میں انساں کی نجات کے لیے ضروری عقائد کو ہی بیان نہ کرے یا اُس میں کوئی اجمال وابہام چھوڑ دے، یہاں تک کہ انسانیت گمراہی کی وادیوں میں بھٹکتی پھرے ۔اس حوالہ سے قرآن صریح اور واضح ہے۔ اگر کوئی کمی ہے تو یہی کہ ’’رجوع الی القرآن‘‘ کوکماحقہ اہمیت نہیں دی گئی۔ یقیناًً وہ مزعومہ نظریات بھی قرآن کی تعبیر و تشریح کے نام سے رواج پا چکے ہیں۔ لیکن ’الفرقان‘ کہ جو حق و باطل میں خط امتیاز کھینچ دے اور ’المیزان‘ کہ جو تمام نظریات و عقائد کی جانچ پرکھ کی کسوٹی بن سکے، وہ تو بس بہرحال ’القرآن ‘‘ ہی ہے ۔ قرآن افتراق سے بچنے کے لیے ’’واعتصموا بحبل اللہ‘‘ کا نسخہ اسی لیے تجویز کرتاہے اور ترک قرآن کے انجام سے ’’ولا تفرقوا‘‘ کی صورت میں خبرادر کرتاہے ۔

(۲) ’ ’غلو‘‘ 

مذہبی فرقہ واریت کا دوسرا بنیادی سبب مذہبی معاملات میں مختلف طرح سے برتاجانے والا ’’غلو‘‘ ہے۔ کبھی تو اپنے فہم دین کو ’’الفرقان‘‘اور ’’المیزان‘‘کی حیثیت دے کرسارے جہاں کی اسلامیت اور’’ مذہبیت‘‘ کو اسی کسوٹی پرلا کھڑا کر دیا جاتاہے اور اپنے فہم سے ٹکراتے ہردوسرے فہم کو گمراہ، ضلالت، باطل اور نامعلوم کن کن عنوانوں سے تعبیر کیاجاتاہے۔ اپنے فہم کے حوالہ سے یہ وہ بڑھا ہواغلوہے کہ اسلام میں اس کی تعلیم تودرکنار، وہ محض رسمی طور پر بھی ساتھ کھڑا ہونے سے صاف انکار ی ہے۔’’غلو‘‘کے شعبوں میں ایک شعبہ ’’جماعتی غلو‘‘کابھی ہے جس کا لازمی نتیجہ دوسری تنظیموں اور شعبہ جات کو غیر اہم سمجھنے کارویہ ہے۔ اس نوع کے غالی لوگ کسی ’’دینی مقصد‘‘ کی خاطر اپنائی جانے والی مخصوص ترتیب وطریق کو مقصدسے زیادہ عزیزرکھتے ہیں اور ایک وقت میں تو مقصد ان کی نگاہوں سے بالکل ہی اوجھل ہوجاتاہے ۔ اسی غلو کاایک نمونہ ’’تعظیمی ومدحیاتی‘‘غلو کی صورت میں بھی دیکھا جاسکتاہے جب کسی شخصیت کی یوں تعظیم کی جائے کہ کسی دوسری بڑی ہستی کی تنقیص لازم آنے لگے یاتقابل کی فضا قائم کر کے ’’مدح وثنا‘‘ کے پُل باندھتے باندھتے مقابل کی تنقیص کاپہلو نکل آئے۔ دیکھیے، اہل اسلام کے مرکزی مرجع ومنبع محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مدحیاتی غلو کی جڑ کیسے کاٹی۔ فرمایا: ’’لاتطرُونی کما اطرت النصاریٰ المسیح بن مریم‘‘، ’’یعنی نصاریٰ کی مانند تم بھی پیغمبر کی مدح میں اتنے آگے نہ نکل جانا کہ اللہ کی تنقیص لازم آنے لگے۔ اور فرمایاکہ ’’لاتقولوا انا خیر من یونس بن متیٰ‘‘ یعنی تقابل کی فضا قائم کرکے مجھے یونس علیہ السلام پر فضیلت نہ دیا کرو۔غور کیجیے! کیایہ وہی بات نہیں ،جو قرآن نے یوں سمجھاناچاہی کہ ’’ لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ کہ اعتقاد وتعظیم کا حق تمام پیغمبروں کو مساوی دیاجانا چاہییے۔ اس جہت سے تفریق بین الرسل قرآنی نظریہ بہر حال نہیں ہوسکتا۔ 

(۳) پیغمبرانہ دعوت سے انحرف

تیسرے سبب کے طور پر دعوتی نقص کو گنوایاجاسکتاہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پیغمبر وں کی دعوت دین ہمیشہ صحیح جذبہ ، صحیح طریقہ اور صحیح نیت پر مبنی رہی۔ ناصحانہ اسلوب ، سچی تڑپ ، بے آمیز کھری نیت ، حکیمانہ طرز، قول لین، مجاد لہ بالاحسن ا ور بشارت وانذار اس کے لوازمات سمجھے جاسکتے ہیں ۔ مگرا فسوس اہل مذہب نے عموماً اس مثبت اور تعمیری دعوت کی ساری چولیں ہلاکر رکھ دیں۔ اہل مذہب کی اکثریت کے ہاں مناظرانہ کج بحثی، تنقیدی تلخ نوائی اور کرخت لہجہ وللکار قریباً معمول کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔نتیجہ معلوم کہ تلخیاں بامِ عروج تک جاپہنچیں۔ اب تو مختلف الخیال اہل مذہب کے مابین مباحثے ومناظرے تک بھی پولیس انتظامیہ کی نگرانی کے بغیر قریباً ناممکن ہوچکے ہیں ۔

(۴) بے مہار خطابت

بلاشبہ فن خطابت اپنی ضرورت و افادیت کے پیش نظر ہر دور میں اہم رہاہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خطابت ایک دو دہاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ اہل افراد کے ہاتھوں یہ ضرورت پوری ہوتی رہے تو عوام کے لیے ترغیب ، ترہیب اور تعلیم کاذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعہ رائے عامہ کو منظم کیا جاتاہے اور یہی خطابت جذبات کورخ دے کر اہم مقاصد کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔ لیکن یہی فریضہ نااہل ، ناقص العلم اور بے مہار خطبا انجام دینے لگ جائیں تویقیناًعوامی جذبات کا بے دردی سے استحصال شروع ہونے لگتاہے ، دلوں میں عصبیتوں کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں۔ پھر انہیں شعلوں کی روشنی میں ’’فرقہ واریت‘‘ کے ناجائز محلات تعمیرکرکے ان کی پیشانی پر ’’قصرِ غیرت دینی‘‘ لکھ دیاجاتاہے ۔ چنانچہ اطراف میں پھیلی فرقہ واریت کارنگ گہراکرنے میں سب سے زیادہ دخل اسی علم واخلاق سے عاری منہ زور خطابت کابھی ہے ۔

(۵) بغی

فرقہ وارانہ فضا قائم بلکہ پختہ کرنے میں کارفرماعناصر میں مضبوط ترین عنصر ’’بغی‘‘ ہے۔ اس مرض کے مریض اہل مذہب معاونت کی بنیادوں پر تعمیری سفر کرنے کی بجائے معاندت کا کلہاڑااٹھائے پہلے سے موجود تعمیرکو بھی پیوند خاک کردیناچاہتے ہیں۔ اسلام کی خاطر کوشاں کسی دوسرے فردیاجماعت کورفیق سمجھنے کی بجائے اپنافریق وحریف یقین کرتے ہیں۔ یہ وہ مہلک مرض ہیں جن کے ہوتے ہوئے ‘’’وحدت امت‘‘ کاکوئی تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ شاید اسی وجہ سے قرآن نے اس طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھا: ’’کان الناس امۃ واحدۃ ۔۔۔ وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ما جاء ھم العلم بغیاً بینھم‘‘ یعنی ا نسانیت میں موجود وحدت کاجنازہ اسی بغی کے ہاتھوں نکلا تھا۔ 

(۶) نیم مذہبی قیادت

کسی دینی غرض سے بنائی جانے والی تنظیموں اور جماعتوں کے لیے معقول معیار نہ ہونا بھی ’’فرقہ واریت ‘‘ کاسبب بن رہاہے ۔ جماعت ، تنظیم یاتحریک کن شرائط پر بننی چاہیے؟ ان کے سربراہ کے لیے میرٹ کیاہے؟ یہ اور اس طرح کے دیگر لوازمات جماعت تاحال ہماری سنجیدہ توجہ کے مستحق نہ بن سکے ۔’’ مطلوبہ دینی مقاصد‘‘ شاید اتنے نہیں جتنی ہمارے ہا ں تنظیموں اور جماعتوں کی بھرمار ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اکثر جماعتوں کے سربراہان اور قائد ین اہلیت وصلاحیت کے اعتبار سے شایدبیسویں لائن کے لوگ بھی نہیں ہوتے جنہیں منصب قیادت نے بہت نمایاں کرکے ’’صف اول‘‘ کا جز لاینفک ‘‘بنا رکھاہوتاہے۔ ’’نیم ملا خطرہ ایمان‘‘کاعملی ظہور انہیں جماعتوں کے کئی اعتبارات سے ’’نیم ‘‘ قائدین کی صورت میں ہمارے سامنے ہوچکاہے۔ مذہب کے نام پر کسی فساد کی نشاندہی کیجیے اور اس کی بنیادوں تک پہنچنے کاسفر جاری رکھیے، یقیناہر مذہبی فساد کے پیچھے کوئی نہ کوئی ’’نیم‘‘ ضرور کھڑا نظر آئے گا، عام اس سے کہ وہ علم میں نیم ہو، عمل میں ، اخلاق میں یا پھر عقل وحکمت کے لحاظ سے۔ بہر حال اس نی مذہبی قیادت نے بھی ’’ فرقہ واریت ‘‘ کا ماحول تشکیل دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

(۷) ترجیحات کی غلط ترتیب

انسان اعلیٰ سے اعلیٰ نظام سے وابستگی اختیار کرلے، چاہے جتنی عمدہ سے عمدہ تربیت حاصل کرلے ، کبھی اپنے سے قہر وغضب کی مطلقاًنفی نہیں کرسکتا۔ ان صفات کے خالق نے انسانی فطرت کی حقیقت کے پیش نظریوں ارشاد فرمایاکہ ’’ان الشیطٰن لکم عدو فاتخذوا ہ عدو۱‘‘! یعنی قوت قہرو غضب کویوں ہی محل بے محل میں چھڑکتے نہ پھرو، بلکہ صرف وصرف شیطان اور شیطانی طاقتوں کی طرف اپنے غضب کارخ موڑے رکھو۔ خدانخواستہ یہی رخ امت کی طرف مڑ گیاتو’’وحدت ‘‘ کی کمرٹوٹ جائے گی۔ اسے یوں سمجھیے کہ کچی چھت پر جمع شدہ پانی کسی پرنالہ کے ذریعہ نہ نکالاجائے تو چھت توڑ کر اندر ٹپکنے لگ جاتاہے۔ یوں ہی انسانی فطرت میں جمع شدہ غیظ وغضب کو اظہار کی متعین جگہ نہ ملے تواپنوں پرہی ظاہر ہوجاتاہے۔ دیکھیے قرآن کس پیرایے میں سمجھانا چاہتا ہے: ’’اشداء علی الکفار رحما ء بینھم‘‘ یعنی شدت کا رخ کفار کی طرف موڑ دینے والے نتیجتاً افراد امت کے ساتھ نرم خوہی رہتے ہیں۔ اصحاب محمد علیہم الرضوان اسی حقیقت کامظہر اتم تھے۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ہماری ترجیحات ’’اسلام ‘‘کی بنیاد پر ترتیب دی جائیں۔ اس سے لازماً ’’اسلامی عصبیت ‘‘کا ظہور ہوتا جس کا لازمی نتیجہ کفر سے نفرت ہوتا، لیکن یہاں ترجیحات مسلک کی بنیاد پر طے کی گئیں جس کی کوکھ سے خوفناک مسلکی تعصب نے جنم لیا اور یہی تعصب قینچی بن کر امت کی وحدت کومسلسل کاٹتاچلاگیا ۔ سو اہل مذہب کواپنی مذہبی ترجیحات اسلام کی بنیاد پر طے کرنی ہوں گی۔

اس تناظرمیں پڑھیے، قرآن کیاکہتاہے: ’’ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ‘‘ اپنی جدوجہد کاہدف ’’الدین‘‘ کاقیام بناؤ، ورنہ تفرق وتشتت سے نہ بچ سکوگے ۔ ایسانہیں ہے کہ تمہارامسلک ’’الدین‘‘ کے قائم مقام کی حیثیت اختیار کرلے اور تمہارے مسلک سے باہر ’’الدین ‘‘کااحاطہ بھی نہ پہنچ سکے ۔ ایساہوگاکہ تمہارے مسلک کادائرہ تونہ پہنچ سکے گا البتہ ’’الدین‘‘ کاحصار اسے بھی حاوی ہوگا۔’’الدین‘‘پرفوکس ہوگاتو نفرت کارخ بھی ’’غیر الدین‘‘کی طرف ہوگا۔ ’’الدین ‘‘ کے علاوہ پر فوکس کرنے والے یقیناًنفرت کا رخ کسی نہ کسی لحاظ سے خود ’’الدین‘‘ہی کی طرف موڑ لیں گے۔ ہمارامدعایوں سمجھیے کہ ہم اگر مسلک احناف سے وابستہ ہیں توحنفیت کے حصار میں آگئے، لیکن ’’الدین‘‘کادائرہ حنفیت کے دائرہ سے بہت وسیع ہے۔ چنانچہ مثلاً حنابلہ ، شوافع اور مالکیہ گو حنفیت کے دائرہ میں نہ آسکے، بہر حال ’’الدین‘‘کے دائرہ سے باہر نہیں۔ اہل مذہب ’الدین‘پر فوکس کیے بغیر امت کو ’’تفرقہ‘‘ سے نہیں بچا سکتے۔

(۸) اسوۂ سلف کوملحوظ رکھنا

اہل مذہب جن عظیم ہستیوں سے اپنی نسبتوں کا دم بھرتے نہیں تھکتے، عملاً مذہبی اختلافات کے مرحلہ میں ان کے ا سوہ کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ جنگ صفین کاتصور ایک خونی مذہبی اختلاف سے مرکب ہے۔ اس شدید مذہی اختلاف کے باوجود رومیوں کی ناپاک خواہش کاجو جواب سیدناامیر معاویہؓ نے دیا، اس جواب کاایک ایک لفظ ’’مقاصد شریعت‘‘ پر گہری نظر اور شرعی تقاضا بدلتے ہی حکمت عملی بدل لینے کی طرف راہنمائی کرتا ہے ۔ یعنی اگر کفر نے حملہ کیا توتقاضا علیؓ سے اتحاد کاہوجائے گا، جس کے لیے معاویہؓ نہ صرف اتحاد کرلے گا بلکہ بطور سپاہی اپنی تمام ترتوانائیاں کفر کے خلاف صرف کردے گا۔ کم از کم پاکستان کی سُنی اکثریت کے پیش نظر دیوبندی ، بریلوی اور اہل حدیث طبقہ میں بھی مسلکی برداشت کے گراں قدر لائق تقلید نمونے موجود ہیں جن کا بخوف طوالت سر دست ذکر نہ ہوسکے گا۔ ضروری ہے کہ جن ہستیوں سے نسبت اہل مذہب کاتشخص قرارپاتا ہے اُن کے رویوں کی جھلک بھی ہمارے رویوں میں نظر آنی چاہیے۔ 

(۹) اشاعت کا غیرمحتاط اسلوب

فرقہ واریت کا پوداتنا ور درخت بننے سے پہلے غیر محتاط لٹریچر سے خوب پانی چوس لیتاہے ۔ یہی غیرمحتاط لٹریچر نااہل خطبا کو آب ودانہ مہیاکرتاہے یوں خطیبانہ جواہراپنے کمال تک پہنچنے سے پہلے ’’فرقہ واریت‘‘ کو کمال تک پہنچا دیتے ہیں ۔ غیر ضروری اختلافی مسائل کی عوام میں اشاعت ، طعن وتشنیع پر مشتمل جارحانہ طرزتحریر، مخالف پر طنزیہ فقرے چست کرنے کی ریت وغیرہ ذالک امور مذہبی لٹریچر کا ناگزیر حصہ بن کر بدترین پھوٹ کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔ 

(۱۰) مشترکات کو نظر اندز کرنا

مذہبی روایت میں مخالف یا مختلف نظریہ کے حامل افراد کے محاسن عموماً بلکہ کلیتاً نظر انداز کرلیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں کامذہبی ذہن کریدکریدکر وجوہ نزاع نکالنے میں بڑی دلچسپی سے مگن رہتاہے ، یوں صلاحیتیں تخریب میں کھپنے لگتی ہیں ۔ اسی اختلاف کی تلاش کانشہ اور تضلیل وتفسیق کا جنون مشترکات کی طرف متوجہ ہونے سے مانع رہتاہے ۔ حالانکہ امت میں شامل افراداور جماعتوں کے مابین ایسی اساسات اتفاق ضرور پائی جاتی ہیں جن پر وحدت امت کی بنیادیں اٹھائی جاسکتی ہیں ۔ آج ’’تعالو الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم‘‘ میں موجود کھلی ہدایت اپنے ماننے والوں سے عمل درآمد چاہتی ہے ۔

اب آئندہ سطور میں ’’فرقہ واریت‘‘ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیاجاتاہے ۔

(۱) اسلامی واخلاقی احکامات کی حکم عدولی

فرقہ واریت کاماحول دلوں میں غلو پر مبنی عقیدت قائم کرواتاہے جس کا رد عمل دوسرے فرقوں سے شدید نفرت کے اظہار کی صورت میں ہوتاہے۔ اس موقع پر کئی اسلامی حقوق ، فرقہ وارانہ جذبات کی تسکین کی خاطر بلا تردد پامال کرلیے جاتے ہیں۔ اختلافی مسائل میں اپنی برتری اور حقانیت ثابت کرنے کے جنون میں متفق علیہ ناجائز امور بھی بآسانی برت لیے جاتے ہیں۔ غیبت، بدگمانی ، اہانت، تذلیل ، طعن و تشنیع جیسے قبیح اخلاقی جرائم بھلاکون سا مذہبی مسلک اسلام کی روسے جائز کہہ سکتاہے؟ تمام اہل مذہب نے اسلام کے نام پر اپنی اپنی جماعتیں تشکیل دیں۔ پھر اسی اسلام کے بنیادی احکامات اس موڑ پر بالکلیہ نظر انداز کرڈالے۔بغض وحسد کے وہ شعلے بھڑکائے کہ ’’حبل اللہ‘‘ بھی جلا ڈالی۔ ’’حبل اللہ‘‘کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی عصبیتی خواہشات بے لگام ہوگئیں، بداخلاقی کے ریکارڈ قائم کرنے میں باہمی مسابقت کا ماحول پیداہوگیا جس میں ہر فریق دوسرے پر بازی لینے کے لیے اخلاق وشرافت سے کوسوں دور ہوجاتاہے ۔ تفرقہ واختلاف کاایک ہولناک طوفان اٹھا جس نے وابستگانِ مذہب کواخلاقی کسمپرسی کے لق ودق بیاباں میں بے یار ومددگار چھوڑ دیا۔

(۲) دیانت دارانہ فہم واستدلال کی حکومت کاخاتمہ

فرقہ واریت کے بڑھنے کی وجہ سے عصبیتی جذبات بھی شدت اختیار کرتے چلے گئے جس کا برانتیجہ یہ نکلاکہ عقل واستدال انہی منفی جذبات کے خادم بن کررہ گئے ۔ قرآن وسنت سے راہنمائی ملنے کی بجائے عصبیتی جذبات کی تسکین کا سامان تلاشا جانے لگا ۔ چنانچہ وہی قرآن جس سے معمولی فہم رکھنے والے کے لیے بھی ہدایت مل جانابآسانی ممکن تھا ، فرقہ واریت کی شامت سے کئی افلاطونی دماغ بھی اس کی ہدایت تک نہ پہنچ سکے ۔ بڑے بڑے دماغ لے کر قرآن کے حضورتو آئے مگر جب واپس لوٹے تو قرآنی آیات کو مزعومات کی تائیدمیں کھڑاکرکے لوٹے ۔ قرآن نے کیاکہا؟ اس کی منشاکیاتھی؟اس سے نابلد رہے۔

(۳) علمی بددیانتی کا چلن

علمی خیانت فرقہ واریت کالازمی نتیجہ ہے۔ ایسا ماحول دوسرے کی بات پر کماحقہ غور کرنے سے ہی مانع بن جاتاہے ۔ مخالف کے مؤقف کومن گھڑت غلط سلط مفاہیم کاجامہ پہنا کرپروپیگنڈہ کی ساری سنتیں زندہ کرلی جاتی ہیں، پھر اس پر افسانہ آرائیوں کا اک نہ تھمنے والا سلسلہ چل پڑتاہے۔ دوسرے کو بہر حال گمرہ اور غلط ثابت کرنے کے لیے سینہ زوری اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اخلاق ودیانت ماتم کناں جبکہ جبین حیا عرق عرق ہوجاتی ہے۔ جبکہ اسلام میں دیانت کا ایسا پیمانہ مطلوب ہے جس میں اپنے خلاف بھی گواہی دینا پڑ جائے تو بلاتأمل دی جاسکے۔

(۴) ابہامات کا فروغ

مذہبی تعبیرات میں خیانت در آنے سے جھوٹ شوشے اور ادھورے سچ کے نمونے کئی بار دیکھنے کوملتے ہیں ۔ پوری حقیقت لینے کی بجائے ادھوری حقیقت لے لی جاتی ہے یا پھر حقیقت کو بالکل ہی نظر انداز کردیاجاتاہے۔ اس صورت حال میں لوگوں کے لیے درست رائے قائم کرنا دشوار ہوجاتاہے۔ پھر یہ ابہامات تضادات کو جنم دیتے ہیں اور تضادات تصادم کی راہ ہموار کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ سماجی زندگی میں انتشار، بے چینی ، افراتفری اور خوف کی صورت میں نکلتاہے۔ مجموعی زندگی کانظام اتھل پتھل ہوکر رہ جاتاہے ۔ ابہام کی موجودگی علمی ونظریاتی سطح پر بدبودار جمود پیدا کردیتی ہے عقل وفہم کاپہیہ جام ہوکر فکری ارتقاء معطل ہوجاتاہے ،بے سروپاگمانوں کی بہتات سے عقل و علم مجروح کردیے جاتے ہیں۔ پھر یہی عقل وفکر کابحران اک خوفناک المیہ بن کر ہمارے لیے ترقی کے سارے امکانات ختم کرلیتاہے ۔ قرآن اس موقع پر واشگاف الفاظ میں یوں راہنمائی کرتاہے کہ ’’وقولوا قولا سدیدا‘‘ کہ کچھ کہنے سے پہلے اپنی بات کو سچائی اور دیانت کے پیمانوں میں اچھی طرح تول لیاکرو۔ 

(۵) تعمیری سوچ کا فقدان

متعصب ذہن ہر ممکن حدتک مخالف سے تقابل کی فضا قائم رکھنے کاعادی ہو جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر اپنی برتری کا اثبات اور مخالف کو نیچا دکھاناہوتاہے۔ اس طرز فکر وعمل سے باہمی تلخیاں پروان چڑھتی ہیں، امت کی طاقت سے کوئی تعمیری کام لیناناممکن ہوجاتاہے۔ لوگ تخریبی طور پر سوچنے کے عادی بن جاتے ہیں، طبیعتیں مثبت طرز کے کاموں میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں کرتیں۔ قرآن وسنت سے صرف نزاعی موضوعات کے اثبات وتردیدکی غرض سے استناد کیاجاتاہے ۔ مثبت وتعمیری رخ پہ غور طلب سینکڑوں احکامات شرع نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ عموماً اہل مذہب کی دلچسپی کاسامان رد ودفاع کا میدان کارزار گرم کرناہوتاہے ۔ اسلام کے بنیادی تقاضے سمجھنے میں بھی ایساذہن نارساثابت ہوتاہے ۔ 

(۶) ناحق قتل وقتال کاسلسلہ

فرقہ واریت کازہر پوری طرح سرایت کرجانے کے بعد مخالف کاقتل مباح سمجھ لیاجاتاہے ۔ سینوں میں دھکتی یہ تعصب کی آگ خونِ ناحق بہائے بغیر بجھنے کا نام نہیں لیتی۔ پھر یہ سلسلہ انتقام در انتقام کی صورت میں قتل وقتال کی طویل خونی داستانیں رقم کرنے لگتاہے۔ 

(۷) اسلام سے اعتماد اٹھ جانا

فرقہ وارانہ کشمکش کے ماحول نے امت کے بڑے طبقہ کواسلام سے ہی بیزار کرڈالاہے ۔وہ اسلام جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے دنیا بھر کے انسانوں کو اپنے میں سمیٹنے کی صلاحیت رکھتاتھا ،اس کشمکش سے متاثر امت کا ایک بڑا طبقہ اسلام سے ہی بدظن ہوابیٹھاہے ۔ یوں فرقہ واریت کی یہ زد براہ راست اسلام کے مقاصد پر جاپڑتی ہے ۔ اسلام کے حسین خد وخال کافی حد تک متاثر ہو کربدنماہوجاتے ہیں ۔ لوگ اسلام سے متنفر ہوکر ابدی خیر سے ہی محروم ہوجاتے ہیں ۔ 

(۸) مالی نقصانات

علمی ، فکری، دینی ،اخلاقی اور جانی نقصانات کے ساتھ ساتھ ’’فرقہ واریت‘‘ کا ایک نقصان مالی نوعیت کابھی ہے ۔ مخالف کے سامنے اپنی شان وشوکت کے اظہار کیلئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے اسراف وتبذیرکی ساری راہیں کھول دی جاتی ہیں۔ مذہب کے نام پر جمع شدہ پونجی کا خطیر حصہ فرقہ وارانہ مقاصدمیں ضائع کردیاجاتاہے ۔ غیر معیاری لٹریچر کی اشاعت، غیر ضروری جلسے جلوس وغیرہ کے مصارف کو اسراف کے علاوہ کوئی نام نہیں دیاجاسکتا۔ 

اصلاحی تجاویز

حالات سنگین ہوچکنے کے بعد بھی قابل تغیررہتے ہیں ۔ اگر انسان راست فکر اور درست عمل کو پذیرائی دیناشروع کردے توبگاڑ سے سدھار کاسفر یقیناًممکن ہوجاتاہے ۔ ذیل میں چند تجاویز ’’فرقہ واریت‘‘کے خاتمہ کی غرض سے حوالہ قرطاس کی جاتی ہیں۔

(۱) ایسی تقریرو تحریر سے اجتناب جس سے عقیدہ توحید مجروح ہوتاہو،کسی بھی طبقہ کی محترم شخصیات وعقائد (رسول خدا، ازواج نبی، اصحاب پیغمبر‘اہل بیت سلف صالحین ، اولیاء کرام، ائمہ مجتہدین اور شعائر دین وغیرہ) کی اہانت کاتاثر ابھرتا ہو۔ 

(۲) ہر مسلک اور جماعت کے ذمہ داران خطبا حضرات کے لیے میرٹ وحدود متعین کیے جائیں،ایسا ضابطہ طے کرنا ضروری ہے جس کے ذریعے نااہل اور بے مہار خطباء منبر ومحراب سے دور رکھے جاسکیں ۔ اس مقصد کے لیے چند ممکنہ صورتیں یوں ہوسکتی ہیں ۔ 

(الف) تخصص فی الافتاء وتخصص فی الحدیث وغیرہ کی طرح کاتخصص فی الخطابہ کورس بھی باضابطہ مدارس میں کروایاجائے جس میں خطبا کے علمی واخلاقی معیار کوبہتر بنایاجائے پھر بتدریج کسی بھی خطیب کے لیے اس کورس کے بغیر خطابت ممنوع قراردی جائے ۔

(ب) یاکسی بھی مسلک یا جماعت کے ذمہ داران کی طرف سے باضابطہ اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد خطابت کی اجازت دی جائے ۔

۳۔ریاٍست اور علماء کے تعاون سے ایک بورڈ تشکیل دیاجائے جس کی تصدیق کے بغیر کوئی لٹریچر شائع کرنا جرم قراردے دیاجائے ۔

۴۔ ہر مسلک کے علماء کی سپریم کونسل تشکیل کی جائے جوہنگامی صورت حال اور دیگر مسلکی تنازعات میں مصالحتی کمیشن کا کردار اداکرے۔ 

۵۔ مذہبی تعلیمی اداروں میں وحدت امت ، انسانی حقوق ، اخلاقی اہمیت ، دوسرے مسالک کے حقوق کی اہمیت کواجاگر کرنے والامفید لٹریچر شامل نصاب کیاجائے کیونکہ تعلیم وتربیت کے بغیر انسان کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ کوئی اور نہیں۔ 

۶۔ مدارس کے اساتذہ علماء میں یہ شعور بطور مہم اجاگر کیاجائے کہ خود بھی اپنے طلبا کے سامنے مخالف مسالک وشخصیات کی اہانت سے باز رہیں اور طلبا کو بھی باز رکھنے کی عملی تربیتی کوشش کریں ۔ 

۷۔ بین المسالک مشترکہ سیمینارزاور نشستیں وقتاً فوقتاً منعقد کی جایاکریں ۔ طلبا وعلما ایک دوسرے کے اداروں اور جامعات کے دورے کااہتمام کریں۔ باہمی دوریوں کی وجہ سے پیداشدہ غلط فہمیاںآپ ہی دور ہوجائیں گی۔ 

۹۔ مختلف نشستوں اور پمفلٹس اور دیگر ذرائع سے علماء میں اسلام کی اساسات پر حملہ آور فتنوں (الحاد، اباحیت، دہریت، مغربیت وغیرہ)سے آگاہ کیاجاتارہے تاوقتیکہ علماء طبقہ اپنی مخالفتوں کا رخ درست سمت موڑ لے ۔ 

۱۰۔ اسلامی اخلاقی اصولوں کی پابندی یقینی بنائی جائے ۔ 

۱۱۔ اختلافات کے دائروں میں فرق واضح طور پر سمجھا اور سمجھایاجائے کہ کہیں اختلاف کفر واسلام کہیں حق وباطل کا کہیں اہل قبلہ کے مابین کہیں اولیٰ غیراولیٰ ، وغیرہ ہر اختلاف کااپنا دائرہ آداب اور احکامات ہیں۔ اس فرق کو خوب ملحوظ رکھاجائے ۔ 

۱۲۔ اس شعور کو عام کیاجائے کہ کسی بڑے سے بڑے مخالف کے بھی آپ کے ذمہ کچھ حقوق اسلام نے لازم کیے ہیں ۔ اختلاف کی آڑ میں ان حقوق کو تلف کردیناکسی طرح جائز نہیں ہوسکتا۔

۱۳۔ مستند اور تربیت یافتہ جید علماء کرام کے علاوہ اختلافی مسائل چھیڑنے سے حتی الامکان باز رکھاجائے ۔ چونکہ اختلافی مسائل ڈھنگ اور سلیقہ سے بیان کرنا کسی طرح افتراق کاذریعہ نہیں بنتا ۔

۱۴۔ باہمی مکالمہ کیلئے تربیت یافتہ علماء کرام کی زیر نگرانی تحریری وزبانی فورمز مہیاکیے جائیں جس کے ذریعہ علمی واستدلالی بنیادوں پر علمی مباحث کو فروغ دیاجاسکے۔ 

۱۵۔ اہل مذہب یہ طے کرلیں کہ بہرحال صداقت اور باہمی انصاف پر قائم رہاجائے ۔ ’’جنگ میں سب کچھ جائز‘‘ کاابلیسی اصول اختیار کرکے مخالف پر جھوٹے الزامات لگانے اور افسانے تراشنے کی دل شکنی کی جائے۔ اس طرز کے بے ہودہ طریقوں کا چلن ایک غلط ماحول تشکیل دیتاہے ۔ اہل مذہب کوبار بار آگاہ کیاجاتارہے کہ پھر ایسا ماحول کبھی بھی تعاون ومفاہمت کے لیے نہیں بلکہ تصادم ومزاحمت کیلئے ہی سازگار رہے گا۔ پھر نتیجہ اس کے سوانہ نکلے گاکہ اس بے ہودہ طریقے کو مفید سمجھنے والے خود بھی نہ بچ سکیں گے۔ 

۱۶۔ اہل مذہب کو اب علمی ناز بہرحال ترک کرنا ہو گا۔ رائے رکھنے کے جملہ حقوق اپنے ہی نام محفوظ کر لینا یقیناًانفرادیت کا وہ مبالغہ ہے جو اجتماعی زندگی میں کبھی بھی نبھ نہیں سکتاہے ۔ اب اپنی رائے کا وزن دھونس دھاندلی کی بجائے علم واستدلال کی بنا پر تسلیم کروایاجاسکتاہے ۔ جبروتشدد کے زور پر کشمکش، مزاحمت ، بدمزگی کاماحول پیداکرکے اپنی رائے شاید وقتی طور پر کہیں مسلط توہوسکے مگر کامیاب نہ ہوسکے گی۔ کامیابی کے لیے بہر حال امت کی طرف سے قبولیت اور دلی رضامندی ناگزیرہے ۔

۱۷۔ انفراد ی عصبیت کی بجائے ملی واسلامی مفادات پیش نظر رکھناضروری ہیں چونکہ ہر تعصب جواب میں ایک دوسرے تعصب کو پیداکردیتاہے، یوں تعصب کے مقابلے میں تعصب کشمکش پیداکیے بغیرنہیں رہ سکتا۔ 

۱۸۔ جماعت یاپارٹی بنانے کاعمل اتناآزادانہ نہیں ہوناچاہیے۔ اس کے لیے شرائط طے کرناضروری ہیں، بالخصوص پارٹی سربراہ کے لیے شرائط ومیرٹ طے کرناضروری ہے ۔کم از کم ہر مذہبی جماعت کا سربراہ ایک مستند عالم دین ، ملی واسلامی مفادات پر گہری نظر رکھنے والا عصری تقاضوں کا ادراک رکھنے والاتوہوناچاہیے۔ 

۱۹۔ بین المسالک حقوق کا تعین انتظامیہ اور علماء کی مشاورت سے طے کرکے مساویانہ عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ مذہبی جلسے جلوس کی حدود متعین کی جائیں ۔ 

۲۰۔ ملی یکجہتی کونسل کی (17) نکاتی سفارشات پر عملدرآمد کیاجائے ۔ 

۲۱۔ بعض مسلکی تنازعات مٹانے کی غرض سے سابق میں کی گئی کاوشوں پر عملدرآمدبھی ضروری ہے۔ ’’المہندعلی المفند‘‘، ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘، ’’31 علماء کے 23 نکات‘‘، ’’تحریک نفاذ نظام مصطفی‘‘، ’’’تحریک ختم نبوت ‘‘وغیر ذالک۔ ان کاوشوں وتجربات کی روشنی میں وحدت امت کے ہدف کی طرف سفر کاپھر سے آغاز کیاجاء۔

۲۲۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیز مواد کی سرکولیشن روکی جائے۔ 

آخرمیں قرآن مقدس کی روشنی میں ’’تفرق ‘‘ سے بچنے کے نسخہ پر بھی غور کرلیتے ہیں جسے قرآن حکیم نے یوں بیان فرمایاہے: ’’واعتصموا بحبل اللہ‘‘ یعنی پھر سے رجوع الی القرآن کیاجائے۔ آگے فرمایا: ’’ولاتفرقوا‘‘۔ قابل غور امر یہ ہے کہ ’’ولاتختلفوا‘‘ نہیں فرمایا۔ مطلب یہ کہ اختلاف کا مٹنا تو ممکن نہیں، البتہ اختلافات کو تحزب وتفرق کا ذریعہ مت بناؤ۔ ایک دوسرے موقع پر یوں ارشاد ہوتاہے ’’ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً‘‘ یعنی دلوں میں اللہ کاڈر رکھنے والے اور خود کو برائی سے دور رکھنے میں سنجیدہ افراد ’’تقویٰ ‘‘ کی پونجی بڑھاتے جائیں ، اللہ اختلافات میں امتیاز کی قوت عطاے فرمائے گا۔ یہ تقویٰ کیاہے؟ چھوٹے بڑے ، کھلے چھپے، حقوق اللہ وحقوق العباد اور اعضاوقلب کے گناہوں سے بچنا۔ ایسی صفات والاشخص کبھی اختلافات میں نہ الجھے گا۔ 

اب یہ تقویٰ حاصل کیسے ہو؟ ایک موقع پر یوں ارشاد ہوتاہے: ’’یا ایہاالذین اٰمنو اتقوا اللہ وکونو مع الصادقین‘‘ یعنی ان لوگوں کی معیت اختیار کی جائے جو زبان، دل ، عقیدہ، فکروعمل اورکردار کے سچے ہیں ۔ قرآن کی مطلوب ان صفات کواپنے میں پیدا کرنے والے فرقہ واریت جیسے سنگین گناہ میں مبتلا ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ شریعت اسلام میں مجبوری کی حالت میں خنزیر کا گوشت کھانا تو حلال ہو سکتا ہے مگر فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کسی صورت جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔ 

حالات و مشاہدات