تہذیب مغرب: فلسفہ و نتائج (۲)

محمد انور عباسی

تحریکِ نسوان یا نسوانیت (Feminism) :

روشن خیالی کی تحریک سے قبل مغربی معاشرے میں عورت کو معاشرے کا کوئی مفید فرد تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ ہیگل اور فرائیڈ دونوں نے عورت کے بارے میں کچھ مثبت رائے کا اظہار نہیں کیا۔ شوپنہار (Schopenhauer) نے تو صاف طور پر عورت کو انتہائی سادہ لوح اور کوتاہ نظر قرار دیا ہے۔ اس کے نزدیک عورت کو مکمل انسان نہیں کہا جا سکتا۔ (۱۰) اسی بنیاد پر عورت کو تو ووٹ کا بھی حق نہیں تھا۔ پروفیسر کرسٹن کے الفاظ میں:

"By the second wave of Feminism in the 1960s to 1970s most women in Western Countries had gained basic social and political rights such as the vote after considerable social dispute." (11)

یعنی۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ کے عشروں میں تحریکِ نسوانیت کے دوسرے دور میں مغربی ممالک میں بڑے جھگڑوں کے بعد اکثر خواتین کو بنیادی معاشرتی اور سیاسی حقوق مثلاً ووٹ حاصل ہوئے۔ عیسائیت نے بھی عورت کو ازلی گناہ کی اصل ذمہ دارقرار دیا ہے۔ ان حالات میں کئی اہل فکر سامنے آئے جنہوں نے عورت کے حق میں آواز اٹھائی۔

روشن خیالی کی تحریک نے جدیدیت کے فلسفے کی روشنی میں مغربی انسان کو دوسرا بڑا تحفہ جو دیا، وہ جنسی میدان میں تحریکِ نسوانیت کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ امر دلچسپی کا باعث ہو گا کہ اس تحریک کا آغاز خواتین نے نہیں بلکہ مردوں نے کیا تھا۔ برطانیہ کا جریمی بینتھم (Jeremy Bentham..1791) غالباً ابتدائی مفکرین میں شمار ہوتا ہے جس نے مکمل مساواتِ مرد و زن کا نعرہ دیا۔ روشن خیالی کا سب سے بڑا اور پیارا نعرہ یہ تھا کہ انسان مکمل آزاد ہے، یعنی وہ ہر قسم کے خیالات، اعمال و افعال کو اپنا سکتا ہے ، اس کو پابند کرنے کے لیے کوئی مافوق الفطرت ہستی ہو ہی نہیں سکتی۔ تحریکِ نسوانیت میں عورتوں کو مکمل آزادی دینے سے قبل پہلے مرحلے میں ایک اور نعرہ دیا جانا مناسب سمجھا گیا کہ عورت اور مرد برابر ہیں۔ اسی کے ہم عصر مارکوس(Marques de Condorcet...1790) نے فرانس سے اسی قسم کے خیالات کا پرچار شروع کیا۔ اسی دور میں پہلی خاتون Mary Wollstonecraft نے تحریکِ نسواں میں بڑا نام پیدا کیا۔ صنعتی انقلاب کے بعد جب عورتوں کوگھروں سے نکلنا پڑا تو اٹھارویں صدی میں دیہاتوں سے شہروں کی جانب ہجرت کو جواز بخشنے کے لیے خوبصورت نعروں کی ضرورت پڑی۔ اس پس منظر میں مساواتِ مرد و زن بڑا ہی مقبول نعرہ ثابت ہوا۔ لیکن روشن خیالی کی تحریک اور hیومن ازم نے بھی عورت کو دوسرے درجے میں ہی رکھا ، اسے اوپر نہیں آنے دیا۔ سوزین پال(Suzanne Paul) نے بڑے کرب کا اظہار کرتے ہوئے بجا طور پر اس کا شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ:

"If Humanist, male or female, embrace the Enlightenment position of rationality and humanism at its word and its starting point common respect then is due to all people because they are rational. However wowen have been unfairly excluded from the respect which they are due as human beings on the basis of an insidious assumption that we are less rational then men." (12)

اس کا کہنا ہے کہ ہیومنسٹ، مرد یا عورت جب روشن خیالی کی تحریک میں وابستہ ہوتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے تمام انسان عقل و شعور کے مالک ہیں۔لیکن عورتوں کو ایک غلط نا جائز اور عیارانہ طریقے سے اس اعزاز سے باہر رکھا گیا ہے کہ ہم عورتیں مردوں سے کم عقل و شعور رکھتی ہیں۔ یہ تو ہر فرد تسلیم کرے گا کہ فطری ساخت کے اعتبار سے عورت اور مردکی تخلیق میں فرق رکھا گیا ہے اور یہ کسی کی اپنی خواہش پر نہیں چھوڑا گیا۔ اب اس کا کیا کریں کہ اس فرق کی موجودگی میں ہیومن ازم اور روشن خیالی کی تحریک میں بھی عورتیں وہ ’’مقام‘‘ حاصل نہیں کر پا رہیں جس کی تڑپ انہیں مذہبی اخلاقیات اور خدا کو ترک کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ سوزین پال ایک نسخہ کیمیا ڈھونڈ لائی ہیں۔ ان کا ارشاد ہے کہ: ’’ اس اختلاف کو عورتوں کے ساتھ غیر مساویانہ سلوک کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ لہٰذا سرے سے اس اختلاف کو ہی نظری اور عملی طور پر ختم کرنا ہوگا تاکہ عورتیں معاشرے اور ہیومن ازم میں اپنا جائز مقام حاصل کر سکیں۔‘‘ (۱۳) یہ فطری اختلاف کس طرح ’’نظری اور عملی‘‘ طور پر ختم کیا جا رہا ہے اس کی ایک ہلکی سی جھلک ہم اس تحریر میں دیکھیں گے، تاہم عملی تصویر دیکھنے کے لیے مغربی معاشرے کو عمیق نظروں کی ضرورت ہے۔

ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے مغرب میں چند عملی قدم اٹھائے گئے، لیکن ان کو جواز بخشنے کے لیے فلسفہ یا تھیوری کی ضرورت پڑتی ہے۔ چنانچہ ۱۹۹۰ ؁ ء میں Queer Theory سامنے لائی گئی جس میں یہ ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی کہ جنسِ مخالف (Heterosexuality) کی کشش کوئی فطری جذبہ ہے ہی نہیں، محض انسان کی فطری ہیجان اور بھوک ہے جوانسانی جسم میں موجود حسی جذبات ابھارنے والی مشینری (Ocean of sensory stimuli: motion, color, texture, shape, heat, cold etc.) ہر دم تیار رہتی ہے۔ اس کو تسکین دینے کے لیے جنسِ مخالف ہی کیوں لازمی ہو؟ اس کے لیے کوئی بھی ہم جنس پرستی (Homosexuality) کی راہ اپنائی جا سکتی ہے۔ (۱۴) اس نظریے پر مبنی عملے معاشرے کے قیام کے لیے مغربی دنیا میں تقریباً ہر ملک میں قانون سازی ہو رہی ہے۔

تحریکِ نسواں کی تیسری لہر(Third wave) میں عورتوں کے کردار، حیثیت اور جنسی رویّوں کے متعلق بڑی انقلابی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اس عہد میں خاندان کی حیثیت وہ نہیں رہی جو کچھ عشرے قبل میں معروف تھی، وہ حیثیت رہ ہی نہیں سکتی تھی۔ عورتوں میں امتیازی جنسی رویوں کے خلاف وسیع پیمانے میں ردِّ عمل اور احتجاج سامنے آیا۔ اخلاقیات کا تو خیر اب سوال ہی کیا، وہ تو اب ایک قصہِ پارینہ تھا، آزادخیالات (Liberal) نظریات کے تحت، پوسٹ ماڈرن تحریک کے زیرِ اثر اب ہر بات درست سمجھی جانے لگی تھی۔پوسٹ ماڈرن تحریک کا سب سے بڑا تحفہ موضوعیت (Subjectivity) اور اضافیت (Relativity) ہے۔ جس میں ہر نظریہ، ہر قول درست مانا جاتا ہے ۔ اس کے متعلق پوسٹ ماڈرن مفکرین کے الفاظ میں:

"We can believe anything - or, what amounts to the same thing, believe nothing."

یعنی ہم ہربات پر یقین کر سکتے ہیں، دوسرے الفاظ میں ہم کسی بات پر بھی یقین نہیں رکھتے۔چنانچہ عورتوں نے شادی کے ادارے ہی کے خلاف آواز بلند کر دی، کہ یہ ادارہ دراصل عورتوں کو غلام بنانے کا ایک آلہ تھا۔ شادی اور بچوں کی پیدائش اور پرورش سے ہی عورتیں مردوں کی غلام بنتی ہیں۔چنانچہ شادی کے بغیر ناجائز بچوں کی پیدائش اور پرورش کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ Dean Koontz  ایک ناجائز اولاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: 

"Be glad that you are illegitimate, baby, because that means you are free. Little bastard children don't have as many relatives clinging like psychic leaches and sucking away their souls." (Intensity: p.382)

یعنی برخوردار تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ تم ایک ناجائز اولاد ہو، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ تم آزاد ہو۔ حرامی بچوں کے اتنے رشتہ دار نہیں ہوتے جوجونکوں کی طرح ان کی روحوں کو چوس لیتے ہوں۔پہلے مرحلے میں تو یہی کچھ ہو سکتا تھا۔ اگلے مرحلے میں بچوں سے گلوخلاصی کی تدبیریں سوچی جانے لگیں۔ 

۱۹۷۰ء  میں فائرسٹون نے اپنی کتابThe Dialectics of Sex: The case for Feminist Revolution میں لکھا کہ تحریکِ نسواں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عورتوں کے بارے میں غیر مساوی رویہ دراصل ان کے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اسی وجہ سے وہ مردوں کے ماتحت زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ مردوں کے برابر رتبہ حاصل کرنے کا بس ایک ہی علاج ہے کہ ٹسٹ ٹیوب بے بی کا سہارا لیا جائے۔ چنانچہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی عورتوں اور مردوں کے درمیان مساوات پیدا کر سکتی ہے۔ 

ان کے خیال میں شادی اور خاندان کا ادارہ عورت کو محکوم بنانے کو’ مردانہ سازش‘ تھی۔ اس سازش کے خلاف جنگ یوں جیتی جا سکتی تھی کہ عورت بیوی اور ماں بننے کے لیے ازدواجی حدود یکسر مسترد کر دیں اور ایک نعرہ بلند ہوا کہ’عورت کا جسم اس کی اپنی ملکیت ہے جس پر کسی دوسرے کا کوئی اختیار نہیں‘۔مردوں کے لیے یہ امر خوش کن تھا۔ عورت اور مرد دونوں اپنے اپنے گمان میں مسرور اور مطمئن ہو گئے۔ (۱۵) مشہور فیمینسٹ مصنفہ شیلا کرونن (Sheila Cronan)لکھتی ہے:

"Since marriage constitutes slavery for women, it is clear that women's movement must concentrate on attacking marriage."(16) 

یعنی شادی عورتوں کے لیے غلامی کے ہم معنی ہے اس لیے عورتوں کی تحریک نسواں کو شادی کے ادارے پر حملوں کو مرکزی اہمیت دینی چاہیے۔ بیٹی فرائیڈین (Betty Friedan ،جو قومی تنظیم برائے خواتین کی بانی ہے، شادی کے ادارے کو’ آرام دہ کنسٹریشن کیمپ‘ کہہ کر پکارتی ہے جس سے عورتوں کو آزادی دلانا ضروری ہے۔ (۱۷) چنانچہ شادی شدہ عورتوں کو طلاق پر ابھارنے کے لیے بڑے بڑے فلسفے سامنے آئے۔ طلاق کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے Mel Krantzler نے دل لبھانے والے ادیبانہ جملے استعمال کرتے ہوئے اپنی مشہور کتابCreative Divorce میں لکھا:

"To say goodbye is to say hello....hello to a new life - to a new, freer, more self-assured you. Your diverce can turn out to be the very best thing that ever happened to you." ۔ 

کتاب کا نام ہی دل لبھانے والا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ طلاق دے کر خدا حافظ کر کے رخصت کر دینا در اصل ایک نئی نسبتاً زیادہ آزاد اور خود اعتماد والی زندگی کو خوش آمدید کہنا ہے۔ تمہاری یہ طلاق تمہاری زندگی کی بہترین چیز ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح معاشیات کے میدان میں کام کرنے والے مفکرین نے تحقیق کر کے ’’ثابت‘‘ کیا کہ طلاق کے بعد کس طرح فریقین کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ نسبتاً بہتر زندگی بسر کرنے لگے ہیں۔ ۱۹۸۵ ؁ء میں Weitzman کی ایک کتاب سامنے آئی جس کا نام ہے he Divorce Revolution T ۔ کتاب کا نام ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ طلاق کوئی بری شے نہیں بلکہ یہ تو ایک انقلابی قدم ہے۔ اس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ طلاق کے بعد سابق شوہر کی آمدنی میں ۴۲% اضافہ ہوا ہے۔ 

گلوریا سٹینن نے پیٹر کولیر اور ڈیوڈ ہارووتھ کی کتاب سے تحریکِ نسواں کے علمبراروں کہ یہ جملہ نقل کیا ہے :

"We wan to destroy the three illars of Class and a caste society - the family, private property, and the state."(18)

کہ ہم ایک ذات پات پر مبنی معاشرے کے تینوں ستونوں ۔فیملی، نجی ملکیت اور ریاست۔ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔عورتوں کو مکمل ’آزادی‘ دلانے کے لیے ان کو یہ احساس دلانا ضروری تھا جس کے لیے یہ فلسفہ گھڑا گیا، کہ عورتیں اپنے جسم کی خود مالک ہیں اور مردوں کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کو استعمال کریں۔گلوریا جو خود بھی تحریک نسواں کے کاروان میں شامل تھی ، بالآخر اس نتیجے پر پہنچی کہ امریکہ کے روایتی خاندانی ساخت پر حملوں کی وجہ سے تحریک ایک برائی کا خوفناک عفریت(Evil monster) ہے۔

Claire Mexwell Peter Aggleton 2009 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ:

’’نوجوان عورتوں اپنے جنسی تجربات کرنے اور ایسی صلاحیت پیدا کرنے پر آمادہ کرتے ہوئے بولنے پر تیار کرنے کا راستہ یہ ہے کہ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اپنے جسم کا کنٹرول خود حاصل کر رہی ہیں یا وہ گم شدہ کنٹرول دوبارہ حاصل کر رہی ہیں۔‘‘(۱۹)

اس طرح ۱۹۶۰۔۱۹۷۰ میں مساواتِ مرد و زن سے آگے بڑھ کر تحریکِ نسواں کے مقاصدلبرل ازم کی برکت سے اپنے منطقی نتائج کی طرف آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔جب مستقل اقدار(Permanent values) باقی نہ رہیں اور ہر چیز اضافی(Relative) بن جائے تو کچھ بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ عورتوں نے یہ نام نہاد ’آزادی‘ حاصل تو کر لی مگر کس قیمت پر، یہ ابھی غالباً سوچنے کا موقع نہیں آیا۔ Sylvia Ann Hewlett نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے’ ایک کمتر زندگی: امریکہ میں عورتوں کی آزادی کا افسانہ‘۔ 

"A Lesser Life: The Myth of Women's Liberation in America"

اس میں عورتوں کے بارے میں چشم کشا واقعات بیان کئے گئے ہیں کہ خاندان کی تباہی کے بعد عورتیں نہ گھر کی رہیں نہ باہر کی۔افزائشِ نسل کے لیے عورتوں کا کردار مسلّم ہے لیکن بقول فائرسٹون بچوں کے متعلق سوچتے ہوئے ان کی پیدائش کا عمل ذہن میں فوراً ابھرتا ہے کہ وہ کیسے پیدا ہوتے ہیں۔جوں ہی اس عمل پیدائش میں عورتوں کے رول کو سامنے رکھیں گے` عورتوں کی ماتحتی اور غلامی کا تصورہی سامنے آئے گا۔ لہٰذا عورتوں کو اس سارے جھنجھٹ سے نکالنے کے لیے واحد راستہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ’’آسانی‘‘ فراہم کی گئی۔

پہلے مرحلے پر اسقاطِ حمل کو قانوناً جواز بخشنا تھا۔لیکن بحث کی خاطر لفظ ’آزادی اور انسانی حقوق‘ کے مارے ہوئے انفرادیت پسند ہمیں یہ دلیل دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ اسقاطِ حمل میں مستقبل میں پیدا ہونے والے بچہ (Fetus) کا بھی تو کوئی حق ہوتا ہے، لہٰذا اس کی مرضی کے بغیر اس کو دنیا میں آنے سے کس طرح روکا جا سکتاہے! یہ تو سب ہی کو معلوم تھا کہ جنین میں پرورش پانے والا ایک گوشت کا لوتھڑا کس طرح اپنی مرضی کا اظہار کر سکتا ہے۔ اس کمزور دلیل کو سامنے لایا ہی اس لیے گیا تھا کہ اس کی دھجیاں بکھیر کر اسقاطِ حمل کی راہ ہموار کی جا سکے۔چنانچہ عین توقع کے مطابق اس دلیل کو رد کر دیا گیا ۔ Judith Jarvis Thomson نے لکھا کہ:

"If women have rights over their bodies, then they have right not to have their bodies used by others against their will."

یعنی یہ تو طے شدہ بات ہے کہ عورت اپنے جسم کی مالک ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر عورتوں کو اپنے جسم کے مالک ہونے کی حیثیت سے مکمل حقوق حاصل ہیں تو کسی دوسرے کو (یعنی پیدا ہونے والے بچے کو) ان کی مرضی کے خلاف ان کا جسم استعمال کرنے کا حق کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ یعنی ماں کی مرضی کے خلاف اس کے جسم میں پرورش پانے والے بچے کا کوئی حق ہو ہی نہیں سکتا۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے ماں جب چاہے اس سے نجات حاصل کر سکتی ہے۔وہ اپنا جسم کسی کو استعمال کیوں کرنے دے! تاہم اگر کبھی اس کو بچے کی خواہش ہو جائے توکرائے کی ماں کا تصور دے کر اس کی ایک حل نکال لیا گیا، جسے Commercial Surrogacy کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایک عورت کا مسئلہ تو حل کر لیا لیکن دوسری عورت پھر بھی غلام کی غلام ہی رہی!

پہلے مرحلے میں مرد ، بچوں اور خاندان سے یوں گلوخلاصی کے بعد اگلا قدم مردوں سے مکمل آزادی تھا، چنانچہ عورت کی عورت سے شادی کا تصور اجاگر کیا گیا اور اس کے بعدبہرحال مغربی سرمایہ دارانہ کا بے قید و لبرل معاشرہ آزاد منڈی کے ذریعے مصنوعی آلات جنسی تسکین کے لیے سامنے لے آیا تاکہ کسی سے بھی شادی وغیرہ کے جھنجھٹ سے جان بچائی جا سکے۔ یہ سب رویّے اب مغربی معاشرے کا لازمی حصہ ہیں۔ہمارے مسلمان معاشرے میں ہمار لبرل طبقہ فی الحال اس حد تک نہیں گیا۔ مغرب میں بھی پہلے پہل بڑی احتیاط سے قدم رکھا گیا تھا۔ اسی طرح قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہوئے یہ بھی کچھ ابتدائی نوعیت کے کام کا آغاز تو ہو ہی گیا ۔ اظہارِرائے کی آزادی کے نام پر یہاں بھی بہت کچھ ملنے کے آثار شروع ہو گئے ہیں۔ 

اسی نوعیت کا کچھ ابتدائی کام آغا خان فاؤنڈیشن نے آغا خان نرسنگ سکول کے صحت کے بارے میں گیارہ سال سے پندرہ سال کی طالبات سے سوالنامے سے ظاہر ہے۔ یہ سوالات ملاحظہ ہوں:

  • کیا کسی مرد نے کبھی آپ کے جسم کو چھوا ہے، اگر ہاں تو یہ مرد کون تھا؟
  • کیا کسی نے کبھی آپ کے پستان کو چھوا ہے؟
  • کیا آپ جانتی ہیں کہ اپنی چھاتی کا خود معائنہ کس طرح کیا جاتا ہے؟
  • کیا کسی لڑکی کو شادی سے پہلے جنسی تعلق رکھنا چاہیے، اگر ہاں تو کس عمر میں؟
  • ایڈز غیر محفوظ جنسی تعلق سے ہوتا ہے۔ طوائف سے ہوتا ہے یا ہم جنس پرستی سے ہوتا ہے۔ آپ اس بات کو یقینی کس طرح بنائیں گی کہ آپ محفوظ جنسی تعلقات قائم کر رہی ہیں؟
  • کیا آپ نے کبھی جنسی تعلقات قائم کیے؟ اگر ہاں تو کس عمر میں؟
  • کیا شادی سے پہلے محبت کرنے والے لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہیے؟
  • جنسی تعلق سے زیادہ سے زیادہ تلذذ کس طرح ممکن ہے؟
  • کیا آپ نے کبھی اپنی بہن کو بے لباس دیکھا ہے، اگر ہاں تو کس نوعیت کے جذبات آپ کے اندر پیدا ہوئے؟کیا آپ نے کبھی اس سے جنسی تعلق کے بارے میں سوچا؟
  • کیا آپ کے باپ نے کبھی آپ سے جنسی تعلق قائم کیا ؟ کیا آپ کے بھائی نے کبھی ایسا کیا؟
  • کیا بچپن میں آپ اپنی والدہ کے ساتھ سوتے رہے؟ کیا آپ نے کبھی سے برہنہ دیکھا ہے ، اگر ہاں تو کس نوعیت کے جذبات آپ میں پیدا ہوئے؟ (۲۰)

ان سوالات سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ تحریکِ نسواں کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہمارے لبرل اور سیکولر مفکرین ہمارے معاشرے کے بارے میں کیا نقشہ اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔

ما بعد جدیدیت (Post Modernism):

مغربی تہذیب کا یہ دورِ جدید دوسری جنگِ عظیم کے بعد ۱۹۴۵ ؁ء سے شروع ہوا۔ جدیدیت اس دعوے کے ساتھ سامنے آئی تھی کہ وہ عقل سے عالمگیر صداقتوں کو دریافت کر سکتی ہے، انسان کے لیے دنیا میں بہترین نظام وضع کر سکتی ہے۔ اس نے عقل کے ذریعے بہترین انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے جو دو عملی نمونے دنیا کے سامنے پیش کئے ان کی ہلکی سی ایک جھلک ہم گذشتہ اوراق میں دیکھ چکے ہیں۔ 

جدیدیت یا ماڈرن ازم جب عملی طور پر کوئی قابل عمل اخلاقی نظام دینے میں ناکام رہی تو مابعد جدیدیت یہ نعرہ سامنے لے آئی کہ دنیا میں کسی مطلق سچائی(Absolute truth) کا وجود ہو ہی نہیں سکتا، یہی وجہ ہے کہ ماڈرن ازم کامیاب نہیں ہو سکی ہے کیونکہ وہ ایک موہوم امیدپر یقین کر کے ایک سعیِ لا حاصل کا فضول کام اپنے ذمے لے بیٹھی ہے۔بل کراؤز (Bill Crouse) نے اپنے ایک مقالے Post Modernism: A new Paradigm میں پوسٹ ماڈرن ازم کی تعریف اس طرح کی ہے:

"PM is a mood that succeeds Modernism or the Enlightenment. After two world Wars and two holocausts, Postmodernism no longer shared in the optimism of the past that reason would provide a foundation for human progress". 

یعنی پوسٹ ماڈرن ازم محض ایک کیفیت کا نام ہے جس نے ماڈرن ازم اور روشن خیالی کی جگہ لے لی ہے۔ دو عالمی جنگوں اور تباہی کے بعد پوسٹ ماڈرن حضرات نے عقل اور استدلال کے متعلق یہ خوش گمانی ترک کر دی کہ وہ انسانی ترقی کے لیے کوئی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

اسی طرح ایک مشہور مفکر Larry J. Solomon نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ:

"Postmodernists like to attack modernists for their belief in objective truth and value. (In fact) nothing is any better than anything else." (21)

یعنی ماجدیدیتی مفکرین ، ماڈرنسٹ حضرات کے اس عقیدے پر زبردست تنقید کرتے ہیں کہ کسی مطلق سچائی یا اخلاقی قدر کا کوئی وجود پایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کوئی اخلاقی قدر کسی دوسری سے بہتر نہیں ہو سکتی۔ دوسرے الفاظ میں دنیا میں تمام اخلاقی اقدار مساوی درجہ رکھتی ہیں۔ اس کی وجہ ان کے نزدیک بڑی سادہ سی ہے کہ وہ ہر سوچ، فکر،عقیدہ،قدر کو محض اضافی (Relative) سمجھتے ہیں ۔ 

Michael Werner نے ۱۹۹۱ء  میں لکھاکہ:

’’سچائی اور حقیقت متعلق ہمارے سارے تصورات محض ہمارے ذہن کی پیداوار ہی تو ہیں۔ سچائی ایک معاشرتی تصور ہے۔ کسی بھی عقیدے کے لیے کوئی آخری بنیاد نہیں پائی جاتی۔ تمہارے جتنے بھی تصورات و عقائد ہیں وہ تمہارے معاشرے کے پیدا کردہ ہیں جو صرف طاقت اور کنٹرول کو جواز بخشنے کے لیے وضع کئے گئے ہیں۔ بعض پوسٹ ماڈرن مفکرین سرے سے فلسفے، روشن خیالی کی تحریک اور عقل و شعور کا خاتمہ سمجھتے ہیں۔ اس تحریک نے روشن خیالی کی اس رومانوی تحریک کو رد کر دیا جس کے نزدیک معاشرے میں ترقی یافتہ بہتر سوسائٹی وجود میں آ سکتی ہے۔‘‘ (۲۲)

یہی مصنف مابعد جدیدیت کی مزید تشریح اس طرح کرتے ہیں:"The Continental (European) Post-modernists argue that reality is pure illusion." (23) یعنی یورپین ما بعد جدیدیتی مفکرین کے نزدیک ’’حقیقت‘‘ محض ایک فریب اور دھوکا ہے۔ ماڈرنسٹ حضرات کے بالکل برعکس ان کا ارشاد ہے کہ"Since we cannot believe in any thing for certain, we should only believe in our intuitions and emotions." (24) یعنی چونکہ ہم یقینی طور پرکسی پر اعتماد نہیں کرسکتے اس لیے ہمیں صرف اپنے وجدان اور جذبات پر ہی اعتماد کرنا چاہیے۔ اس تصور کی بنیاد ڈیکارٹ(Rene Descartes) کے اس فلسفے میں دیکھ سکتے ہیں کہ "I think therefore I am". سادہ الفاظ میں ہر فرد دوسرے سے مختلف ہے اور ایک منفردسوچ رکھتا ہے۔ اس کی اس سوچ کو دوسرے فرد کی سوچ پر کس طرح ترجیح دی جا سکتی ہے ، یہ ممکن نہیں۔ ہر فکر، خیال، تصور،عقیدہ بنیادی طور پر ایک اضافی (Relative) اور موضوعی(Subjective) تصور ہے۔کوئی بھی عقیدہ یا خیال خارجی، حقیقی اور معروضی(Objective)نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک داخلی احساس ہی ہو سکتا ہے۔ 

Jack Grassby اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ’’مابعد جدیدیت اور اضافیت کی اصطلاحیں ہمارے تمام تصورات کی موضوعی اور اضافی حیثیت سے روشناس کرواتی ہیں۔ ان کا مقصد کسی بھی عالمگیر سچائی کے انکار اور تمام مافوق الفطری عقائد اور نظریات کے رد پر ہے۔ ‘‘ (۲۵) اگر تمام عقائدو تصورات فی الحقیقت کوئی مطلق (Absolute) قدر نہیں رکھتے اور سب کچھ relative ہی ہے تو ظاہر ہے کہسب تصورات کو ایک ہی درجہ دینا ہوگا۔ عقلی استدلال چونکہ یہاں کوئی معنی ہی نہیں رکھتا، سب کچھ وجدان اور جذبات پر ہی انحصار کرتا ہے تو ہر اخلاقی قدر یکساں اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔کوئی بھی کسی پر تنقید کر سکتا ہے نہ اعتراض۔ اس کی گنجائش بھی نکل سکتی۔ہر چیز کو اضافی قرار دینے والے حضرات کسی پر بھی یقین کر لینے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ پوسٹ ماڈرنسٹ حضرات کے نزدیک 

"All concepts, all values are of equal status and so relativists can believe in anything." (26) 

یعنی تمام تصورات ، تمام اقدار یکساں درجہ اور اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے وہ کسی پر بھی ایمان لا سکتے ہیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہی ہے کہ وہ کسی پر بھی ایمان نہیں رکھتے جس طرح جیک گراسبی نے لکھا کہ

"We can believe any thing. Or what amounts to the same thing, believe nothing. " (28) 

یعنی ہم کسی پر بھی یقین کر سکتے ہیں، جس کا دوسرا مطلب یہی ہے ہم کسی پر بھی یقین نہیں رکھتے!!

روشن خیالی کی تحریک کے زیرِاثرماڈرن ازم نے عقل اور سائنسی اندازِفکر کو بڑی ہی اہمیت دی تھی حتیٰ کہ یہ دعویٰ کر ڈالا کہ ہر وہ چیز جو ہمارے حواس میں نہ آ سکے وہ قابل رد ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم نے اسی فکر کو بنیاد بناتے ہوئے اس فکر کی دھجیاں بکھیر دیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تمام تصورات و عقائد ہمارے حواس ہی کی پیداوار تو ایک کے حواس کو دوسرے کے حواس پر کسی قسم کی ترجیح کیوں کر دی جا سکتی ہے۔ ان کے خیال میں ’’سچائی‘‘ اور ’’حقیقت‘‘ کے تصورات اپنی اصل کے اعتبار سے انسانی تعبیرات ہی تو ہیں، جوانسانی دماغ کی پیداوار اور ہمارے جسمانی حسی اعضاء کا ماحول کے ردِّ عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت، علم و تجربہ بالکل منفرد اور جدا ہوتا ہے ۔ ہر معاشرہ جدا، معاشرے کا ہر فرد جدا، اس کی سوچ و فکر جدا۔ لہٰذا اس کا منطقی نتیجہ تو یہی نکل سکتا ہے کہ تمام عقائد و تصورات جو بنیادی طور پر کسی خاص معاشرے کے کسی فرد کے دماغ سے ہی سامنے آتے ہیں، اس خاص معاشرے سے ہی وابستہ ہو سکتے ہیں جو کبھی بھی مطلق نہیں ہو سکتے، ہمیشہ اضافی اور موضوعی ہی ہو ں گے۔

ماڈرن ازم نے روشن خیالی کی تحریک سے شہ پا کر مذہبی اخلاقیات سے جان تو چھڑا لی اور اس کی جگہ عقل کو یہ مقام دے دیا کہ وہ انسان کے لیے ایک نئی اخلاقیات تلاش کر لائے، مگر اسی کے بطن سے پھوٹنے والی تحریک نے ماڈرن اور اس کی عقل پر مبنی اخلاقیات کے تصور کو ان ہی دلائل سے ٹھکرا دیا اوردوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی دنیا نے جو اخلاقی نظام انسانیت کے لیے تجویز کیا اس کے مطابق:

"It is now generally recognized that reason alone cannot lead us to beliefs, values or ethics." (28)

جی ہاں۔ آج کل با لعموم یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ عقل و استدلال سے ہمیں عقائد ، اقدار یا اخلاقیات کے اصول کے لیے کوئی راہنمائی نہیں مل سکتی۔ جب کہ ماڈرن ازم کا تو دعویٰ ہی یہ تھا کہ ہم عقل و استدلال سے ہی انسان کے لیے اخلاقیات کے اصول وضع کر سکتے ہیں جن سے ہمیں راہنمائی مل سکتی ہے نہ کہ کسی خدا یا مذہب سے۔ مشہور پوسٹ ماڈرن مفکر رچرڈ رورٹی(Richard Rorty) ماڈرن ازم کے خیالات کو رد کرتے ہوئے بر ملا کہا کہ’’فکری اور اخلاقی بنیادوں کی روایتی تلاش و جستجو بالکل بیکارِ محض ہے‘‘ (۲۹) یہ روایتی تلاش ماڈرن ازم نے روشن خیالی کی تحریک سے غذا حاصل کر کے ھیومن ازم کے جھنڈے تلے شروع کی تھی کہ ہم مذہب اور خدا کو ترک کر کے عقل و استدلال سے اخلاقی بنیادوں کو پا سکتے ہیں۔ پوسٹ ماڈرن ازم نے آکر سارا جھگڑا ہی ختم کر دیاکہ یہ تلاش ہی فضول اور ایک بے معنی حرکت ہے کیونکہ

"Our conceptual schemes, our sciences, our rationalities and our ethical beliefs all lack the absolute, objective grounding that the traditionalist philosophical project hoped to provide." (30)۔ 

ہماری تصوارتی تدبیریں، ہماری سائنس، ہماری قوتِ فیصلہ اور ہمارے اخلاقی عقائد سب کے سب کوئی معروضی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی امید روایتی فلاسفر (ماڈرن ازم کے علمبردار) کر رہے تھے۔ 

یہ تو درست تشخیص تھی کہ مغربی معاشرے میں ماڈرن ازم کے نام پر ہیومن ازم کے نئے مذہب نے جودعوے کیے تھے، وہ پورے نہیں ہو ئے تھے، ہو ہی نہیں سکتے تھے۔اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ انسانی عقل، سائنس،فلسفہ وغیرہ اخلاقی اقدار وضع کر ہی نہیں سکتے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالناکہ سرے سے مطلق سچائی یا کسی اخلاقی قدر کا کوئی وجود ہی نہیں ہو تا اور ہر سوچ و فکر ایک اضافی تصور Relative) ( ایک انسانی ردِّ عمل تو ہو سکتا ہے جس کی عقل و منطق میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوسٹ ماڈرن مفکرین کے فلسفہ میں عقل، استدلال اور منطق کی کوئی اہمیت ہی نہیں، نہ صرف اہمیت نہیں دی بلکہ عقل، استدلال اور منطق کے خلاف وسیع پیمانے پر مضامیں لکھے ۔ Larry J. Solomon نے بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا کہ: ’’ پوسٹ ماڈرن مفکرین منطق اور عقلی استدلال پر زبردست تنقید کرتے ہیں۔ ان کے ہاں اب منطق کی جگہ سیاسی، نیم مذہبی لفّاظی (quasi-religious rhetoric) استعمال ہوتی ہے۔ ‘‘ (۳۱)

ہر تصور، فہم و ادراک کو اضافی قرار دے کر منطقی طور پر پوسٹ ماڈرنسٹ حضرات اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی لٹریچر، کسی متن کی درست اور تعبیر اور توجیح ممکن ہی نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ

"Every thing is a text, and only subjective interpretation is possible. One can never know the intent of the author." 

یعنی سب کچھ محض متن ہی ہے جس کی صرف موضوعی تعبیر ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی کسی مصنف کا قصد اور نیت معلوم نہیں کر سکتا کہ فی الحقیقت وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اس تصور کے بعدانسان ایک دوسرے سے کیونکر تبادلہِ خیال کر سکتے ہیں۔ متن ہی کے ذریعے تو انسانوں کے درمیان ابلاغ ہوا ہے۔ آج تک تاریخ میں خطوط،فیکس، ای میل وغیرہ کے ذریعے ہی دور درازعلاقوں سے رابطہ ممکن تھا۔ لیکن جب ہم کسی متن کی درست تشریح کر ہی نہیں سکتے کہ پتہ نہیں لکھنے والے کا درست مدعا کیا ہے ، وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے تو دنیا سے لٹریچر کا سارا ذخیرہ ہی دریا برد کرنے پڑے گا۔ادب اور شاعری کو تو چھوڑیں ایک طرف، بین الاقوامی تجارت وغیرہ کا سارا سلسلہ ہی ختم سمجھیں کہ اس میں آج تک تویہی دیکھنے سننے میں آیا تھا کہ متن ہی کے ذریعہ ہم اپنا مقصد دوسروں تک پہنچاتے تھے اور دوسرے بالکل وہی مقصد سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہو کر اس تجارت کو ممکن بناتے تھے۔اضافیت پسند(Relativist) عقلیت کا مارا ہوا فرد عقل و منطق کواستعمال کر کے خود اس کے خلاف دلائل فراہم کر کے اب خود پریشان ہے کہ اب کیا کیا جائے۔ اگر یہ فلسفہ درست ہو تو ایک دوسرے سے گفتگو ہی بے معنی ہو جائے۔ 

عقل، منطق اور استدلال پر تنقید کر کے اس سے بظاہر جان چھڑانا آسان لگتا ہے، مگربالبداہت یہ انتہائی نامعقول فکر ہے جو انسانی عقل نے ہی انسان کے سامنے رکھی ہے! عقل استعمال کر کے عقل کی مذمت کرناآج کے مغربی معاشرے کے پوسٹ ماڈرن ازم فلسفے کا طرہِ امتیاز ہے۔ پوسٹ ماڈرنسٹ حضرات کے ہاں چونکہ ہر خیال، عقیدہ، فکر کوئی مطلق قدر نہیں بلکہ ہر چیز موضوعی(Subjective)اور اضافی (Relative) ہے اس لیے یہ سب کو درست سمجھتے ہیں، اور ان کے حق میں ’’عقلی دلائل‘‘ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اس اندازِ فکر کو تھوڑے سے ہی عرصے میں بڑی مضحکہ خیز صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ 

سائنس اور عقلی استدلال سے بالعموم ایک نتیجہ برآمد ہو جایا کرتا ہے۔ لیکن پوسٹ ماڈرن حضرات اس نتیجے کو محض چند لوگوں کے دماغ کی کارستانی قرار دے کر ایک اضافی نتیجہ قرار تو دیتے ہیں،لیکن اس کو غلط نہیں کہتے۔ ان کے اس خیال کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے جون ۱۹۹۶ ؁ء میں امریکہ میں ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا جو The Sokal Hoax کے نام سے مشہور ہوا۔ نیویارک یونیورسٹی کے ایک مشہور عالمِ طبیعات Alan Sokal نے ایک مقالہ لکھا جس کا عنوان تھا ’’ "Transgressing the Boundries: Towards a Transformative Hermeneutics of Quantum Gravity".۔ یہ مقالہ اس نے ایک مشہور پوسٹ ماڈرنسٹ رسالے Social Text میں اشاعت کے لیے بھیجا۔ اس میں اُس نے جان بوجھ کر ایسی اصطلاحات استعمال کیں جو پوسٹ ماڈرن حضرات کے ہاں معروف و مقبول تھیں۔یہ اصطلاحات استعمال کر کے غلط سلط یہ ’’ثابت‘‘ کیا گیا تھا کہ ابھی تک ماڈرن فلسفے اور سائنس میں کششِ ثقل کی جو حقیقت بیان کی جاتی رہی ہے وہ بالکل غلط ہے۔ فی الحقیقت کششِ ثقل یعنی (Gravity)کا کوئی وجود ہی نہیں اور یہ محض چند سائنسدانوں کے ذہنوں کی پیداوار ہے۔ یہ کوئی مستقل، مطلق حقیقت نہیں، کیونکہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا! لہٰذا یہ ’’سائنسی حقیقت‘‘ ماڈرنسٹ سائنس دانوں کے ہاں ہی درست ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ ایک relative تصور ہی تو ہے!! رسالے کے اڈیٹر حضرات نے اسے اپنے دور کی ایک اہم علمی پیش رفت اور کاوش قرار دے کر جون ۱۹۹۶ ؁ء میں اپنے رسالے میں شائع کر دیا۔ ان کے نزد یک ا س سے ہر تصور و عقیدے کا اضافی(Relative) ہونا ثابت ہوتا ہے ! Allan Sokal کا یہ مذاق پوری تفصیل کے ساتھLingua Franca کی کتابThe Sokal Hoax, the Sham that shook the Academy میں شامل ہے،جس کو یونیورسٹی آف نیبراسکا پریس نے ۲۰۰۰ ؁ء میں شائع کیا ہے۔ اس کی تفصیل بڑی آسانی سے انٹرنیٹ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

اس مذاق سے بہرحال ایک ہلکا سا اندازہ ہو جاتا ہے کہ جب عقل کو بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ کیا کیا گُل کھلا سکتی ہے۔ سمندر میں جہاز کو لنگر سے آزاد کر دیا جائے تو بہر حال سمندر کی لہریں اسے دائیں بائیں گھسیٹتے ہوئے ساحل سے بہت دور لے جا سکتی ہیں۔ عقل بھی جہاز کی مانند ہے جسے اللہ تعالیٰ کی وحی کے لنگر سے باندھنے کی ضرورت ہے۔

بل کراؤز نے پوسٹ ماڈرن ازم کی چند نمایاں خصوصیات کیا ہے جو اضافیت (Relativism) کے تصور نے اس میں پیدا کر دی ہیں۔ ان میں سے کچھ درجِ ذیل ہیں؛

۱۔غیر معقول رویّہ (Irrationality and irony):

پوسٹ ماڈرن حضرات چونکہ کسی ضابطے اور اصول کے تحت نہیں سوچتے اور نہ گفتگو کرتے ہیں اس لیے بسا اوقات وہ متضاد خیالات کے علمبردار بن جاتے ہیں۔ مثلاً سائنسی طرزِ استدلال کے قائل نہ ہونے کے باوجود جب دوسروں سے بات کریں گے تو عقلی دلیل ہی دیں گے کہ یہ چیز درست ہے اور فلاں غلط ہے۔ لیکن جب کوئی دوسرا یہی دلیل دے تو فوراً کہہ دیں گے کہ یہ علی الاطلاق درست نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر خیال ایک اضافی(relative) تصور ہی تو ہے!! Michael Werner نے بالکل درست کہا کہ الفاظ اور منطق پوسٹ ماڈرن حضرات کے ہاں ایک جابرانہ ہتھکنڈہ ہے لیکن انہوں نے جتنی کتابیں لکھی ہیں ان میں منطق اور الفاظ ہی کا سہارا لیا ہے!!

۲۔عدمِ برداشت (Hostility and Intolerance):

اگرچہ برداشت بظاہر اس فکر میں ایک بڑی قدر کہلائی جاتی ہے ،مگر وہ اکثر انتہائی تنگ نظر اورغیر روادار پائے جاتے ہیں۔اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے دوسروں کے خیالات اور عقائد کو اضافی قرار دے کر ٹھکرانے والے کو اگر یہی دلیل دی جائے تو ان کا رویّہ دیدنی ہوتا ہے۔

۳۔متضاد اضافیت (Inconsistent Relativism):

پوسٹ ماڈرن ازم میں عدل و انصاف کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے مگر اس کے لیے صحیح اور غلط کے معیارات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ یہ لوگ روایتی اخلاقی معیارات کے خلاف لعنت و ملامت کرتے ہیں جوعالمگیر طور پر مانے جاتے ہیں لیکن ان کی جگہ نئے مطلق اخلاقی معیارات کو دوسروں پر لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ Bill Watkins نے اپنی کتاب THE NEW ABSOLUTES میں بڑے خوبصورت انداز میں اضافیت کے تصور کو بے معنی اور امرِ محال ثابت کیا ہے۔(۳۲)

۴۔ تشدد میں اضافہ (Increase in violence):

اخلاقی اضافیت کا لازمی اور منطقی نتیجہ لاقانونیت اور تشدد ہے۔ یہ بالکل ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی اصول، کوئی ضابطہ،کوئی اخلاقی قدروجود ہی نہیں رکھتی تو معاشرے کے افرادکے ذہنوں میں مختلف بلکہ متضاد افکار جنم لیں گے۔کوئی کچھ کہہ اور سمجھ رہا ہو گا اور دوسرا کچھ اور۔ہر اپنے خیالات کو درست اور دوسرے کے خیالات کو اضافی قرار دے رہا ہو گا۔دلائل اور بحث و مباحثے میں دعویٰ یہ کیا جا رہا ہوگا کہ ہمیں وسیع الظرف اور وسیع القلب ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کو برداشت کر سکیں۔ہم سب کو اپنا اپنا دماغ کھلا رکھنا چاہیے۔ اس کا مطلب صر ف یہ ہوتا ہے کہ ان کا مخاطب اپنا دماغ کھلا رکھے۔ اس فلسفے کے منطقی نتائج کو دیکھتے ہوئے مشہور پوسٹ ماڈرنسٹ مفکر Richard Rortyنے ایک تاریخی جملہ کہا کہ:"We should not become so open-minded that our brains fall out." یعنی ہمیں اتنا بھی کھلے دماغ والا نہیں بن جانا چاہیے کہ ہمارا سارا بھیجا ہی باہر نکل پڑے!

جی بالکل درست ! ہمارے مخاطب کو بہرحال وسیع القلب اور کھلے دماغ والا لازماً ہونا چاہیے، رہے ہم ، تو یہ حق ہم اپنے حق میں محفوظ رکھتے ہیں۔ مائیکل ویرنر پوسٹ ماڈرن ازم اور ھیومن ازم کے مستقبل کے بارے تجزیہ کرتے ہوئے جس نتیجے پر پہنچا وہ یہ ہے:

"We should not be deluded by the neoromantic siron song of Postmodernism's world utopianism. Beneath that loving facade lies a nihilistic relativism."(33)

یعنی ہمیں پوسٹ ماڈرن ازم کی نیم رومانوی دنیا کے خیالی بلند بانگ اور دلفریب راگ سے فریب نہیں کھانا چاہیے۔ اس خوبصورت چہرے کے نیچے اضافیت کی انارکی کی دنیا پھیلی ہوئی ہے۔ 

اضافیت کے خوبصورت چہرے کی فی الحقیقت اپنی اصل حیثیت کیا ہے اس کے متعلق DEREK PARFIT اپنی مشہور کتاب On What Matters میں لکھتا ہے : 

"In many books and articles, Subjectivism is not even claimed to be the best of several views, but is presented as if it were the only possible view. So it is of great importance whether this view is true".(34)

یعنی بہت سی کتابوں اور مضامین میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ اضافیت ہی سب سے بہترین نقطہ نظر ہے لیکن اس کو اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے جیسے یہی ایک نقطہِ نظر ممکن ہے، لہذا اس کی بڑی اہمیت ہے کہ یہ دیکھا جائے آیا یہ درست بھی ہے یا نہیں۔ اس کے بعد بہت سے دلائل و شواہد کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ:Subjectivism is false (35). یعنی اضافیت کا نظریہ درست نہیں ہو سکتا۔اسی طرح Melford Spiro  اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ:

"And in any event the subjectivity of the human subject precludes the possibility of science discovering objective truth."(36)

یعنی اضافیت اس امکان کو ختم کر دیتی ہے کہ سائنس کوئی معروضی حقیقت کو دریافت کر سکے۔ اضافیت کا بنیادی طور پر دعویٰ یہ تھا کہ انسانی کردار، انسان کی شخصیت، اس کی وراثت اور اس کے ماحول کا نتیجہ ہے اسی لیے وہ جو نظریات و اخلاقیات اختیار کرتا ہے اپنے ایک خاص ماحول و داخلی کیفیات کے مطابق ہی ہو سکتے ہیں۔ اس کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ایک شخص کی اخلاقی رائے دوسرے شخص کی اخلاقی رائے سے زیادہ بہتر، درست یا معقول کہلائی جا سکے۔ لیکن اس نقطہِ نظر کو رد کرتے ہوئے راشڈل کا خیال ہے کہ

"There is one absolute standard of values, which is the same for all rational beings, is just what morality means." (37) ۔ 

یعنی اقدار کاایک ہی مطلق پیمانہ ہے جو تمام ذی شعورمخلوق کے لیے یکساں حیثیت رکھتا ہے اور اخلاقیات کا صرف یہی مفہوم ہے۔ داخلیت یا اضافیت کے خلاف اس نے بڑے واضح الفاظ میں لکھا کہ’’ غیر مشروط اور خارج میں موجود اخلاقی قانون بطور ایک نفسیاتی حقیقت کے موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنے پاس کوئی خارجی دلیل نہیں رکھتے کہ دنیا کے سارے انسان کبھی اخلاقیات کے بارے میں ایک ہی نقطہِ نظر رکھیں گے، لیکن ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ قانونِ اخلاق (داخلیت کے بر عکس) اپنا ایک حقیقی وجود رکھتا ‘‘(۳۸)ولیم للی نے بھی دوٹوک انداز میں اضافیت یا داخلیت کے خلاف اپنی تحقیق ان الفاظ میں پیش کی کہ: ’’کوئی اخلاقی داخلیت کا نظریہ درست نہیں ہو سکتا اور یہ فرض کرنا نہایت ضروری ہے کہ ایک مطلق اخلاقی معیار ہو۔‘‘ (۳۹)۔

اضافیت کے خلاف ایک اہم اقتباس نقل کرکے ہم آگے بڑھتے ہیں۔ ایمٹ بارسلو نے بڑے خوبصورت انداز میں لکھا کہ: ’’ایک بات تو بالکل ظاہر ہے۔ اگر یہ دعویٰ کہ’دنیا میں ہر چیز اضافی ہے‘ اپنا وہی مفہوم رکھتا ہے جو اس سے ظاہر ہے تو اس کی زد میں باقی مفروضات کی طرح یہ دعویٰ بھی اسی طرح آ جاتا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ کہ ’ہر چیزاضافی ہے‘ کوئی معروضی حقیقت نہیں۔ یہ بعض اشخاص کے لیے ہی درست ہو سکتی ہے جو اس پر ایمان لے آئے ہوں، لہذا یہ دعویٰ خود اپنے اندر اپنی تباہی کا سامان رکھتا ہے۔‘‘(۴۰) 

ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم میں چند نمایاں فرق درجِ ذیل کے چارٹ سے ظاہر ہیں:


اس طرح کے کئی اور فرق ظاہر کیے گئے ہیں جن کی تفصیل لیسٹر فیگلے(Lestor Faigley) کی مشہور کتاب Fragments of Rationality میں دیکھی جا سکتی ہے۔ 

حاصلِ کلام:

مذہب سے جان چھڑانے کے بعدمغربی انسان کو اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ اب ہر فکر،سوچ اور عمل کی بنیاد سائنسی اندازِ فکر اور عقل پر مبنی ہو گی۔کہا گیا تھا کہ مذہب تو انسانوں کو تقسیم کرتا ہے جب کہ انسان ہونے کے ناتے سب انسان برابر ہیں لہٰذا بشریت یا ہیومن ازم صحیح بنیادیں فراہم کر سکتا ہے۔ اس جدید مذہب نے جو عملی ’’فقہ‘‘ نافذ کی، وہ ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم کے اصولوں پر مشتمل تھی۔ ماڈرن ازم کی عقلیت پرستی کے خلاف ، اسی ہیومن ازم کے مذہب کے تحت پوسٹ ماڈرن ازم نے علم بغاوت بلند کر دیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ہیومن ازم کے خلاف اعتراضات ابھر کر سامنے آ گئے۔ Levi-Strauss, Barthes, Foucault, and Lacan وغیرہ نے ہیومن ازم کو ایک فلسفی دھوکہ کر رد کر دیا۔ (rejected humanism as a philosophical illusion)۔ (۴۱)Baudrillard نے ان سب سے بڑھ کریہاں تک کہہ دیا کہ ہیومن ازم مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے لہذا اس کے لیے مزیدسعی لا حاصل ہو گی۔ (۴۲)

مذہب کے خلاف ہیومن ازم نے سائنس کا سہارا لے کر دعویٰ کیا تھا کہ ہم اس کی مدد سے حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں اس لیے کسی مافوق الفطرت ہستی کی اہمیت ہے نہ ضرورت۔ لیکن پتہ چلا کہ ہیومن ازم خود ایک فلسفیانہ دھوکہ کے سوا کچھ بھی تو نہیں اور یہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جس کی مزید سعی لا حاصل ہوگی۔ سائنس جس کے متعلق خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ نہ صرف خدا سے چھٹکارا دلانے میں مدد کرے گی، بلکہ زندگی گزارنے کے لیے بہترین نظام سے بھی متعارف کرائے گی، اس کے متعلق بھی اب یہی لوگ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ: 

"Science has destroyed even the refuge of the inner life. What was once a sheltering haven has become a place of terror." (43) 

یعنی ’’سائنس نے تو ہماری قلبی زندگی کو بھی تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ کبھی جو ہمارے لیے خطرے سے بچنے کے لیے جائے پناہ تھا، اب خوف و دہشت کی جگہ بن کر رہ گیا ہے۔‘‘

لبرل ازم اور ماڈرن ازم نت نئے فلسفے لے کر سامنے آتے رہے لیکن اسی فلسفے کے بطن سے اس کے خلاف آوازیں اُٹھتی گئیں، ماڈرن ازم کے خلاف پوسٹ ماڈرن ازم اوراس کے بعد اضافیت(Relativism) کے خلاف مفکرین کے اعتراضات سے ہمیں بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ مغربی انسان کے سامنے اب کوئی معیار ہی باقی نہیں رہا۔ C.G.Jung بڑی دلسوزی کے ساتھ فریاد کرتے ہوئے نظر آتا ہے کہ:’’مجھے اچھی طرح احساس ہو چکا ہے کہ میں دنیا کے لیے ایک معقول انتظام کے امکانات سے مایوس ہو چکا ہوں اور صدیوں کا پرانا خواب کہ جس میں امن و ہم آہنگی کا بول بالا ہو، اب زرد پڑتا جا رہا ہے۔‘‘(۴۴) مغربی معاشرے کی اس افراتفری ، خاندان کی تباہی اور اخلاقی اقدار کی پامالی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک برطانوی مصنف چیخ اٹھے کہ:’’اس طویل انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک تہذیب کو تخلیق کا اعزاز ہم اُنیسویں اور بیسویں صدی کے لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔ صنعتی دور نے بہت سے فوائد پہنچائے ہیں، لیکن اس نے انسان کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جو دیکھنے میں ایک بھیانک خواب سے کم نہیں۔‘‘(۴۵)

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا: ع

تمہاری تہذیب اپنے خنجرسے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

اس فکری انتشار کے بعدبھی اگر کوئی مغربی معاشرے کو ہی اپنانا چاہتا ہو تو الگ بات ہے مگر ہم سب کو قرآن کا ایک آفاقی اصول ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ: وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِےْشَۃً ضَنْکًا (۱۲۴/۲۰) کہ جو ہماری کتابِ ہدایت سے منہ موڑے گا، اس کے لیے سخت تنگ و ترش زندگی ہو گی۔ 


حواشی:

10. Heike Wrenn,English 428; The Woman in Modernism; (p.10)
11. Jack Grassby: Gender and Sexulaty; (p.31)
12. Suzanne Paul: Feminism/Postmodernism; (p.107)
13. ibid, p 107
14. Rhonda Hammar and Douglas Kellner: Third Wave Feminism; (p.7)

۱۵۔ ڈاکٹر محمد آفتاب خان/ریاض اختر: ماہنامہ ’ترجمان القرآن، دسمبر ۲۰۱۲ء، (ص ۹۳)

16. Gloria Steinen: The Impact of Feminism on the Family;
17. ibid
18. ibid

۱۹۔ مرزا محمد الیاس: قتلِ غیرت، (ص ۱۷۲)

۲۰۔ مرزا محمد الیاس: ہفت روزہ آئین مئی، ۲۰۰۵ ؁ء ،(ص ۲۰۰)

21. Larry J. Solomon: What is Post-modernism?
22. Michael Werner,1991: Post Modernism and the Future of Humanism.
23. ibid
24. ibid
25. Jack Grassby: Post-Modernism Humanism; (p1)
26. ibid; (p.4)
27. ibid; (p.6)
28. ibid; (p.13)
29. Richard Rorty: Consequences of Pragmatism; (p.151)
30. Thomas W. Clark 1993 : Humanism and Post-Modernism - A Renconciliation
31. Larry J. Solomon: What is Post-modernism?
32. Bill Crouse: Post Modernism - a new paradigm.
33. Michael Werner,1991: Post Modernism and the Future of Humanism.
34. DEREK PARFIT: On What Matters; p.85. 
35. ibid; pp.92, 96, . 
36. Spiro, Melford E. (1996) Postmodernist Anthropology, Subjectivity, and Science. A Modernist Critique. In Comparative Studies in Society and History. V. p.759-780.
37. H. Rashdal: Theory of Good and Evil. vol.2, p.286 
38. Ibid, p. 211
39. Williams Lillie: An Introduction to Ethics; p. 116. 
40. Emmett Barcalow: An Introduction to Philosophy; p. 107. 
41. Rhonda Hammar and Douglas Kellner: Third Wave Feminism; ???
42. ibid, (p.15)
43. C.G.Jung: Man in search of soul; p. 236. 
44. ibid; p. 235. 
45. Gai Eaton: King of the Castle; (p.109)

آراء و افکار

Flag Counter