دیوبندی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کا قیام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ابن امیر شریعت مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری باہمت بزرگ ہیں جو بڑھاپے، ضعف اور علالت کے باوجود اہل حق کو جمع کرنے کے مشن پر گام زن اور اس کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ علمائے دیوبند کی مختلف جماعتوں اور حلقوں کو ایک فورم پر متحد کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ ۱۸؍ نومبر کو ان کی دعوت پر اسلام آباد مختلف دیوبندی جماعتوں، حلقوں اور مراکز کے سرکردہ حضرات جمع ہوئے اور علماء دیوبند کی جماعتوں، حلقوں اور مراکز کے درمیان رابطہ واشتراک عمل کے لیے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر دامت برکاتہم کی سربراہی میں سپریم کونسل اور حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی سربراہی میں رابطہ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد سے ملک بھر سے احباب مسلسل پوچھ رہے ہیں کہ یہ تو بہت اچھا ہو گیا ہے اور ہمیں اس کا شدت سے انتظار تھا، مگر اب کرنا کیا ہے اور خاص طو رپر علاقائی اور مقامی سطح پر علماء کرام اور کارکنوں کوکس انداز میں کام کرنا چاہیے؟

اس کے بارے میں دو تین گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

ایک یہ کہ اسلام آباد کے اجتماع میں مشترکہ جدوجہد کے لیے جو اہداف طے پائے ہیں، ان کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔ یہ رسمی امور نہیں ہیں، بلکہ طویل مشاورت اور غور وخوض کے بعد ان کا تعین کیا گیا ہے۔ ان سے ہر دیوبندی کا واقف ہونا اور ان کے مطابق اپنے منتشر فکر وعمل کو مجتمع کرنا ضروری ہے۔ یہ بات اس لیے بھی عرض کر رہا ہوں کہ چند سال قبل جامعہ اشرفیہ لاہور میں دیوبندی جماعتوں اور مراکز کا اس سے بڑا اور بھرپور نمائندہ اجتماع ہوا تھا اور کئی نشستوں کے مباحثہ اور غور وخوض کے بعد ایک اعلامیہ متفقہ طور پر طے پایا تھا جسے ملک بھر میں ایک ’’متوازن اور جامع اعلامیہ‘‘ کے طور پر سراہا گیا تھا، مگر اس کی ایک بار اشاعت کے بعد ہم اسے بھول ہی گئے ہیں حتیٰ کہ ہمارے بیشتر دینی جرائد نے بھی اس کی اشاعت کی ضرورت محسوس نہیں کی جس کی وجہ سے اس بھرپور اجتماع کے ثمرات وفوائد دیر پا ثابت نہیں ہوئے۔ اس لیے ہمارے خیال میں یہ سب سے زیادہ ضروری ہے کہ تبلیغی جماعت کے چھ نمبروں کی طرح ان آٹھ نکات کی بھی بار بار اور ہر سطح پر تشہیر کی جائے اور ہر دیوبندی کو ذہن نشین کرا دیا جائے کہ اس کی آئندہ جدوجہد کا دائرہ یہ آٹھ نکات ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ اور اسلامی نظام کا نفاذ

۲۔ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت ووحدت کا تحفظ، امریکہ اور دیگر طاغوتی قوتوں کے سیاسی ومعاشی غلبہ وتسلط سے نجات

۳۔ ۷۳ء کے دستور بالخصوص اسلامی دفعات کی عمل داری

۴۔ تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قوانین اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل داری کی جدوجہد

۵۔ مقام اہل بیت عظام وصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تحفظ

۶۔ قومی تعلیمی نصاب میں غیر ملکی کلچر کے فروغ کی مذمت اور روک تھام

۷۔ فحاشی وعریانی اور مغربی کلچر کے فروغ کی مذمت اور روک تھام

۸۔ ملک میں فرقہ وارانہ نفرت انگیزی بالخصوص شیعہ سنی اختلافات کو فسادات کی صورت اختیار کرنے سے روکنا

ہمارے خیال میں سپریم کونسل میں شامل جماعتوں کے نام، ان کے سربراہوں کے اسماء گرامی، رابطہ کمیٹی کے ارکان کے نام اور مذکورہ بالا آٹھ نکات ایک پمفلٹ کی شکل میں شائع کر کے اس کی ملک بھر میں ہر سطح پر تشہیر کی جائے اور تمام دینی جرائد اسے شائع کر دیں تو یہ مقصد کسی حد تک پورا ہو سکتا ہے۔

دوسرے نمبر پر میں محترم حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کے اس ارشاد کا اپنے مکمل اتفاق کے ساتھ ذکر کرنا چاہوں گا کہ مذکورہ بالا آٹھ نکات مسلکی سے کہیں زیادہ قومی اور ملی مقاصد کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے لیے قومی سطح پر جدوجہد کو منظم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے دیگر مکاتب فکر کو اعتماد میں لینا اور انھیں ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے۔ ہماری اب تک کی جدوجہد اپنے گھر کی اصلاح اور داخلی صف بندی کو درست کرنے کے لیے ہے تاکہ ہم پورے اعتماد، حوصلہ اور باہمی اتفاق کے ساتھ دوسرے مکاتب فکر سے بات کر سکیں اور مضبوط بنیادوں پر قومی جدوجہد کا لائحہ عمل تشکیل دے سکیں اور اس کام میں جس قدر جلد پیش رفت ہو سکے، اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔

تیسرے نمبر پر یہ عرض کرنا چاہوں گاکہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ سپریم کونسل تو جماعتوں کے سربراہوں پر مشتمل ہے جو سال میں ایک دو بار ہی مجتمع ہو سکے گی۔ عملی طور پر سارا کام رابطہ کمیٹی نے کرنا ہے، اس لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ رابطہ کمیٹی کے ارکان اپنی ذمہ داری کو زیادہ اہمیت کے ساتھ محسوس کریں اور ملک بھر کے احباب کو مایوس ہونے سے بچائیں، وہاں تمام دینی وسیاسی جماعتوں، علمی مراکز، مسلکی حلقوں، علماء کرام اور کارکنوں کو بھی چاہیے کہ وہ رابطہ کمیٹی کو بھرپور اعتماد اور تعاون فراہم کریں اور رابطہ کمیٹی جو لائحہ عمل طے کرے، اس کے مطابق جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے ہر سطح پر محنت کریں تاکہ ہم سب مل کر اپنے ملی، دینی اور مسلکی فرائض کی تکمیل کے لیے آگے بڑھ سکیں۔

حافظ عبد الحمیدؒ کا انتقال

۲۴؍ نومبر کو میرے برادر نسبتی اور عزیزم عمار ناصر کے ماموں حافظ عبد الحمیدؒ انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کافی عرصہ سے مختلف امراض کے باعث صاحب فراش تھے۔ اس سے تین روز قبل میں راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں ان کی بیمار پرسی کے لیے گیا تھا تو اس وقت بھی حالت تشویش سے خالی نہیں تھی۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

اخبار و آثار