فاسٹ فوڈ اور بڑھتے ہوئے امراض

ادارہ

فاسٹ فوڈ کے نام پر تمام زہروں کو یکجا کر کے انسانی صحت کو برباد کیا جا رہا ہے اور ہم ہیں کہ ہر بری چیز کو آنکھیں بند کر کے قبول کرتے جا رہے ہیں۔ موجودہ امراض ہیپا ٹائیٹس، معدہ اور گردہ کے امراض، جگر کی مختلف بیماریاں، جوڑوں کا درد، قبض، پتہ، مثانہ کی بیماریاں پہلے بھی تھیں، مگر ان کی نوعیت یہ نہیں تھی جو آج دیکھنے سننے میں آرہی ہیں۔ ان امراض کی وجہ سے انسانوں کے چہرے اور دیگر جسمانی اعضا کی شکل بھی بدل چکی ہے۔ خصوصاً شوگر کے آنے کے بعد کے تو حالات بہت بھیانک ہوتے جا رہے ہیں۔ مذکورہ امراض پہلے بھی تھے، مگر فاسٹ فوڈ کی گہما گہمی نے ان کو دو آتشہ کر دیا ہے۔ 

بند، ڈبل روٹی، کیک،، بسکٹ، باقر خانی، حلوہ پوری، کچوری اور حلوائیوں کی مٹھائیوں نے صحت مند معاشرہ کو چاروں شانے چت گرا دیا ہے۔ طبی تحقیقات بتاتی ہیں کہ کوکاکولا میں استعمال ہونے والا رنگ کینسر کا باعث بنتا ہے۔ جن گھرانوں میں کوکاکولا یا بوتلوں کا بند پانی استعمال ہوتا ہے، وہاں امراض گردہ، جوڑوں کا درد شدت سے پھیل چکا ہے۔ کھانے کے بعد بوتلوں کا کھاری پانی پینے سے پیدا ہونے والے ناگفتہ بہ امراض نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے اور مریضوں کے حالات سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ الغرض میدہ اور باریک آٹا بالکل استعمال نہ کریں، یہ انسانی انتڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ نے اپنے ہاں میدہ کا استعمال ممنوع قرار کر دیا تھا۔ یاد رکھیں، فاسٹ فوڈ کا دوسرا نام ہیپا ٹائیٹس، امراض جگر اور شوگر ہے۔ صبح شام کوئی کڑوی دوا ضرور استعمال کریں۔ یہ نہیں تو کالی زیری کھانے کے بعد ایک چٹکی کھانے سے جسمانی مشینری خوب کام کرتی رہے گی۔ آج کل چاٹی کی لسی پینا آب حیات سے کم نہیں، اس سے بلڈ پریشر کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ ہاضمہ کا فعل بھی تیز ہو جاتا ہے اور تیزابیت بھی اپنی سطح پر آجاتی ہے۔ نیند بھی خوب آنے لگتی ہے۔ الغرض مشرقی طریق علاج میں ایک ایک تیر سے کئی شکار کیے جاتے ہیں اور بیماریوں کا زور ٹوٹنے لگتا ہے۔ 

امراض و علاج