اصطلاحات کا مسئلہ : ایک تنقیدی مطالعہ

عثمان احمد

علوم و فنون اپنی مرتب، مکمل اور مدون شکل میں اصطلاحات کے ذریعے ظہور پذیر ہوتے ہیں اور با لعموم مخصوص اصطلاحات کا نظام ہی کسی فکر،علم یا فن کی شناخت ہوتاہے۔ فرہنگ آصفیہ کے مطابق ’’جب کوئی قوم یا فرقہ کسی لفظ کے معنی موضوع کے علاوہ یا اس سے ملتے جلتے کوئی اور معنی ٹھہرا لیتا ہے تو اسے اصطلاح یا محاورہ کہتے ہیں، کیونکہ اصطلاح کے لغوی معنی باہم مصلحت کرکے کچھ معنی مقرر کر لینے کے ہیں ۔اسی طرح وہ الفاظ جن کے معنی بعض علوم کے واسطے مختص کر لیے جاتے ہیں، اصطلاحِ علوم میں داخل ہیں۔ خیال رہے کہ اصطلاحی اور لغوی معنوں میں کچھ نہ کچھ نسبت ضرور ہوتی ہے۔‘‘ (۱)

علی بن محمد بن علی الجرجانی لکھتے ہیں:

’’الاصطلاح: عبارۃ عن اتفاق قوم علیٰ تسمےۃ الشیء با سم ما ےُنقَل عن موضعہ الاول ، واخراج اللفظ من معنی لغویّ الیٰ آخر لمناسبۃ بینھما۔ وقیل :الاصطلاح :اتفاق طائفۃ علیٰ وضع اللفظ بازاء المعنی۔ وقیل : الاصطلاح:اخراج الشیء عن معنی لغوی الی معنی آخر ، لبیان المراد۔وقیل: الاصطلاح: لفظ معین بین قوم معیَّنِین‘‘ (۲)
’’اصطلاح کسی قوم کا کسی شے کے نام پر اتفاق کر لینا ہے جو کہ اس کے پہلے معنی موضوع سے منتقل کر دے اور لغوی معنی کی بجائے کسی مناسبت کے باعث دوسرے معنی مراد لینا ہے۔ اور کہا جاتاہے کہ اصطلاح کسی گروہ کا کسی مخصوص معنی کے لیے لفظ کا وضع کر نا ہے ۔اور کہا جاتاہے کہ اصطلاح مراد کے بیان کے لیے کسی چیز کا اس کے لغوی معنی سے کسی دوسرے معنی کی طرف لے جانا ہے۔اور کہا جاتاہے کہ اصطلاح کسی متعین لفظ کو کہتے ہیں جو متعین کرنے والوں کے درمیان متعین معنوں میں مستعمل ہو۔‘‘

انگریزی میں اصطلاح کے لیے مستعمل لفظ TERM ہے:

Terms are words and compound words that are used in specific context. (3)

اصطلاحات وہ مفرد اور مرکب الفاظ ہیں جو مخصوص پس منظر میں ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اصطلاحات کا وضع کرنا حقائق کی تخلیق یا اظہار کا نام نہیں بلکہ ادنیٰ یا اعلی ٰموجو د اتِ ذہنی و مادی کو مخصوص الفاظ کے ساتھ معروف کر نے کا نام ہے۔بسا اوقات بالکل عام اور سطحی باتیں اور ادنی ٰ انسانی جذبات وخواہشات کو سنہری اصطلاحات کے ذریعے مستورمگر مقبول کیا جاتا ہے جیسا کہ جدید انتظامی علوم انہی اصطلاحات کا مجموعہ ہیں۔ (۴) بعض علوم تو اصطلاحات کا ایسا گورکھ دھندا ہیں کہ اس کا کل سرمایہ مغلق اصطلاحات ہیں ۔ ایسی اصطلاحات جن کے معنی کا تعین ناممکن حد تک مشکل ہے۔ (۵)

صاحب کشاف اصطلاحات الفنون اصطلاح کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’ان اکثر ما یحتاج بہ فی تحصیل العلوم المدونہ و لفنون المروجہ الی الاساتذہ ھو اشتباہ الاصطلاح ، فان لکل اصطلاح خاص بہ اذا لم یعلم بذلک لایتیسر للشارع فیہ الاھتداء الیہ سبیلا والی ٰانغمامہ دلیلا فطریق علمہ اما الرجوع الیہم‘‘ (۶)
’’مدون علوم اور مروج فنون کے حصول میں اکثر جس چیز کی احتیاج اساتذہ کی طرف رجوع پر مجبور کرتی ہے وہ اصطلاح کا اشتباہ ہے ۔ ہر اصطلاح کے خاص معنی ہوتے ہیں اوران کو جانے بغیر (علم کی راہ پر) کسی چلنے والے کے لیے کوئی راہ ہدایت اور تاریکی میں کو ئی دلیل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ ان اصطلاحات کے علم کے لیے ان (اساتذہ) کی طرف رجوع کرے۔ ‘‘

محمد اسلم سہیل لکھتے ہیں:

ًً’’یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ علوم مدونہ اور فنون مروجہ میں ہر قسم کے علم و فن کے اصول و مبادی اور کلیات و جز ئیات تک رسائی اور ان پر مکمل دسترس کا دارو مدار، ان علوم کے متعین بنیادی اصطلاحات کی صحیح تفہیم و تحقیق ، ان کے معانی و مطالب کی صحیح تعبیر و تشریح، ایک جیسی مختلف اصطلاحات میں موجود لطیف نکتہء اتحاد اور دقیق فنی اختلاف کے ادراک و شعور،اور اسی طرح مختلف علوم و فنون کے متفرق مباحث سے متعلق اصطلاحات کی باہمی مماثلت و مشابہت کے درمیان نازک اور بادی النظر میں غیر محسوس فرق کو سمجھ کر ان کی صحیح تو ضیح و تعریف کرنے اور ان کے مناسب استعمال کی اعلیٰ درجے کی صلاحیت و قابلیت اور غیر معمولی علمی و فنی مہارت پر موقوف ہے ‘‘(۷)

اصطلاحات کے سلسلے میں درج ذیل اصولی باتوں کو ملحوظ رکھنا خلط مبحث سے بچنے ، معانی کے صحیح ابلاغ اور انتشار سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے:

۱۔ کوئی اصطلاح مجرد لفظ نہیں ہوتی ۔ہر اصطلاح کا اپنا مخصوص فکری،علمی یا مذہبی پس منظر ہوتا ہے اور اس کے معانی کا تعین اس کے مخصوص پس منظر سے صرفِ نظر کرکے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر کوئی فرد کسی مخصوص اصطلاح کو محض لغوی معنی میں استعمال کرنا چاہے تو اسے صراحتاً اس کا ذکر کرنا چاہیے کہ اس کی مراد محض لغوی نہ کہ اصطلاحی۔ کسی اصطلاح کا واضع ہی وہ بنیادی منبع ہے جو کسی اصطلاح کے معانی کے تعین میں بنیادی حوالہ ہوتا ہے ۔مثلاً DEMOCRACY کی اصطلاح کے معنی متعین کرنے کے لیے افلاطون،جان مل ، روسو اور مغربی تاریخ (انقلاب فرانس ، تحریک تنویروغیرہ)بنیادی ذریعہ ہیں نہ کہ قرآن و سنت۔ (۸) کیا کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ DEMOCRACYکا تصور کوئی مخصوص تاریخی ،علمی، ثقافتی اور اخلاقی پس منظر نہیں رکھتا ۔ یقیناًرکھتا ہے تو یہ کس طرح درست ہو گا کہ اس کے معنی کا تعین قرآن و سنت سے کیا جائے(قرآن و سنت سے تو محاکمہ ہوگا)۔یا اس کے وہ معنی متعین کیے جائیں جو اس کے مخصوص تاریخی ،علمی، ثقافتی اور اخلاقی پس منظر سے علاقہ نہ رکھتے ہوں۔ 

اگر ہم اس بات کو رد کرتے ہیں کہ جہاد کی اسلامی اصطلاح کے معنی کا تعین کرنے کا استحقاق مستشرقین یا مغربی سکالرز کو نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں فقہاء عظام نے جو معنی متعین کیے ہیں وہی اصل ہیں تو مسلم علماء کو حق کیسے حاصل ہے کہ وہ مخصوص تاریخی ،علمی، ثقافتی اور اخلاقی پس منظر کو نظر انداز کرکے DEMOCRACY کے معنی متعین کریں۔اسی طرح کسی اصطلاح کے ساتھ اسلامی کا سابقہ یا لاحقہ لگانے سے یہ سمجھنا کہ وہ اپنے مخصوص فکری،علمی ، اخلاقی اورمذہبی پس منظر سے کٹ گئی ہے محض خوش فہمی ہے ۔ اس کے نتیجے میں باطل افکار کو فروغ و جواز تو مل سکتا ہے لیکن اصطلاحات کی تطہیر نہیں ہو سکتی۔ کیا سوشلزم، جمہوریت، بنکنگ اور انشورنس کی اصطلاحات کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ لگانے سے سوشلزم، جمہوریت، بنکنگ اورانشورنس میں جوہری تبدیلی واقع ہو جائے گی اور وہ اپنی مخصوص تاریخی، علمی، ثقافتی اور اخلاقی پس منظرسے کٹ جائیں گی؟

۲۔ہر اصطلاح ایک کل کی حیثیت رکھتی ہوتی ہے اور اس کے معانی بھی کلی حیثیت سے طے کیے گئے ہوتے ہیں ۔ کسی بھی اصطلاح کو بالاقساط یا بالاجزاء بیان کرکے یہ کہنا کہ اس میں یہ جز درست اور یہ جز باطل ہے غلط ہے۔ مثلاً Democracy ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا جائزہ مکمل نظام کی حیثیت سے لیا جائے گا نہ کہ ووٹ، پارلیمنٹ، اقتدار اعلیٰ کو علیحدہ علیحدہ کرکے۔اس کے نتیجے میں کیا گیا تجزیہ غیر حقیقی ہو گا۔

۳۔ کسی اصطلاح کا ترجمہ دوسری زبان میں پورے معانی کے ساتھ ممکن نہیں ہوتا اور اس کے لیے اقرب ترین لفظ ہی استعمال ہو سکتا ہے ۔ اور اکثر اصطلاحات کا ترجمہ مسائل کا باعث بنتا ہے ۔اللہ جل شانہ کا اسم ذاتی اللہ ہے۔ اس کا کوئی ترجمہ ممکن نہیں لفظِ اللہ کا متبادل GOD خدا یا ایشور یا رام نہیں اور یہ تمام الفاظ اپنا مخصوص پس منظر رکھتے ہیں ۔اسی طرح اردو میں اکثر مغربی اصطلاحات کا ترجمہ الفاظ کا ترجمہ ہے نہ کہ مکمل اصطلاحی معنی اس میں سمٹ آئے ہیں۔ HUMAN RIGHTS کا ترجمہ انسانی حقوق کیا جاتا ہے جو محض لفظی ترجمہ ہے ۔ اس کے معانی کے بیان کے لیے وہ مکمل مخصوص فکری،علمی ، ثقافتی اور تاریخی پس منظر سے واقفیت ضروری ہے جہاں سے اس اصطلاح نے نشو و نما پائی ہے۔

۴۔ کوئی اصطلاح اگر کسی دوسری فکر،فن،عمل یا چیز کے لیے اس کثرت سے استعمال کی جائے کہ وہ اپنے مخصوص فکری،علمی یا مذہبی پس منظر سے بالکل لاتعلق (Detach ) ہو جائے تو نئے معانی اس کے اصل معانی قرار پائیں گے اور گزشتہ معانی کی حیثیت لغوی یا تاریخی رہ جائے گی۔اب اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ نماز تو دراصل مجوسیوں کی عبادت کا نام ہے (۹) لہٰذا مسلمانوں کی تکبیر تحریمہ ،قیام ،رکوع و سجودپر مشتمل عبادت کو نماز کہنا درست نہیں تو یہ دعویٰ باطل ہو گا کیونکہ بر صغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے میں یہ لفظ انہی معنوں میں معروف اور مستعمل ہونے کے بعد متعین ہو چکا ہے کہ اس کے کوئی اور معنی کسی کے ذہن میں نہیں آتے ۔ کسی اصطلاح کے اپنے مخصوص فکری،علمی یا مذہبی 

پس منظر سے لاتعلق ہوجانے کی علامت یہ ہے کہ اس اصطلاح کے استعمال سے اس کے سابقہ معانی کا گمان بھی نہ ہو۔ 


حوالہ جات و حواشی

۱۔خاں صاحب مولوی سید احمد دہلوی، فرہنگ آصفیہ ،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت ترقی انسانی وسائل، حکومت ہند، ویسٹ بلاک۔I ،آر۔کے۔پورم۔ نئی دہلی،طبع چہارم،ج1،ص184 ،1998 ء

۲۔جرجانی، علی بن محمد بن علی،کتاب التعریفات،دارالکتاب العربی بیروت،ص30 ،2002 ء

۳۔

Http://en.wikipedia.org/wiki/terminology

۴۔ Management Sciences نے مارکیٹنگ کے نام سے جس علم کی بنیاد رکھی ہے وہ انسانی سطحی جذبات و خواہشات کی اصطلاحاتی تشکیل اور تصور حلال و حرام کے بغیر اشیاء و سہولیات کو فروخت کرنے کے لیے تزویراتی جال ہے ۔ مسابقت کا بے لگام جذبہCompetition کا اصطلاحاتی نام پاتا ہے ۔ انسانی ذہن پر مسحور کن تصویری ماحول کے ذریعے اپنی گرفت کرنے کا نام Advertising ہے ۔

۵۔ جیسا کہ فلسفہ کی اصطلاحات۔بعض فلاسفہ کی اختراع کردہ اصطلاحات ہمیشہ سے اہلِ علم میں معرکہ آرائی کا باعث ہیں۔

۶۔ محمد علی بن علی الفاروقی التھانوی، کشاف اصطلاحات الفنون،سہیل اکیڈمی ،اردو بازارلاہور،طبع اول،ص:۱، جز اول، ۱۹۹۳ء

۷۔ محمد اسلم سہیل ،اردو مقدمہ کشاف اصطلاحات الفنون، سہیل اکیڈمی اردو بازارلاہور،طبع اول،ص:ا، جزاول ، ۱۹۹۳ء

۸۔ 

 Plato, The Republic, revised/trans. by Desmond Lee, Harmondsworth, UK: Penguin Books, 1974, 2nd edition.
Mill, J. S., 1861, Considerations on Representative Government, 
Buffalo, NY: Prometheus Books, 1991. 
Rousseau, J.-J., 1762, The Social Contract, trans. Charles Frankel, 
New York: Hafner Publishing Co., 1947. 

۹۔ عمادالحسن فاروقی، دنیا کے بڑے مذاہب ،مکتبہ تعمیر انسانیت ، اردو بازار لاہور،ص۱۸۷ ،۱۸۹، س ن

آراء و افکار

Since 1st December 2020

Flag Counter