تعارف و تبصرہ

ادارہ

مجلہ ’’المصطفیٰ‘‘ کا امام اہل سنت نمبر

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی وفات کے موقع پر ملک کے متعدد جرائد نے ان کی یاد میں مختصر نوعیت کی خصوصی اشاعتیں پیش کیں، جبکہ جامعہ مدنیہ بہاولپور کے ترجمان مجلہ ’’المصطفیٰ‘‘ کی طرف سے ایک مفصل اشاعت پیش کرنے کا اعلان کیا گیا جو زیرنظر ضخیم مجلد کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کی تیاری اور ترتیب وتدوین کا سہرا زیادہ تر ہمارے عم زاد، برادرم حافظ سرفراز حسن خان حمزہ کے سر ہے جنھوں نے بڑی محنت اور کاوش سے متنوع مضامین جمع کیے اور سلیقے سے انھیں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔

اس اشاعت کے مندرجات کا ایک بڑا حصہ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے اہل خاندان کے معلوماتی اور تاثراتی مضامین پر مشتمل ہے اور یہی حصہ اس نمبر کی اصل زینت ہے۔ خاندان کے بزرگ اہل قلم کے علاوہ نوجوانوں میں سے برادرم ممتاز الحسن احسن اور برادرم سرفراز خان حمزہ نے اپنے تفصیلی مضامین میں حضرت کی خدمت میں گزارے ہوئے اوقات سے متعلق اپنی یادداشتیں بہت خوبی سے جمع کی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے اکابر علما ومشائخ اور معروف اہل قلم کے مضامین کی بڑی تعداد جبکہ حضرت رحمہ اللہ کے مکاتیب اور تحریروں کا ایک مختصر انتخاب بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ یہ تمام مواد حضرت رحمہ اللہ کی شخصیت، مزاج، کردار، طرز عمل اور ان کی حیات وخدمات کے مختلف گوشوں پر بھرپور روشنی ڈالتا ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت کی شخصیت اور خدمات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے ذوق کی تسکین کے لیے اس نمبر میں بہت عمدہ لوازمہ موجود ہے۔ چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:

’’طبیعت میں ظرافت کا عنصربھی نمایاں تھا۔ تقاریر میں بسا اوقات ظرافت کا یہ عنصر سامعین کو بے حد ’’محظوظ‘‘ کرتا، لیکن عام پیشہ ور مقررین کی طرح آپ کی ’’ظرافت‘‘ خلاف حقیقت اور خلاف واقعہ نہ ہوتی تھی بلکہ اس ظرافت میں بھی آپ پورا مسئلہ سمجھا دیتے تھے۔ ایک دفعہ جمعہ کی تقریر میں ایک شخص نے چٹ لکھی کہ ’’جیب میں اگر تصویر ہو تو نماز ہوتی ہے یا نہیں؟‘‘ آپ نے ازراہ مزاح فرمایا کہ جس کو شبہ ہو، وہ اپنی جیب میں سے وہ تمام نوٹ جن پر بانی پاکستان کی تصویر ہے، مجھے دے دیں۔‘‘ (ص ۳۲، مضمون از مولانا عبد الحق خان بشیر)
’’وہ عام جلسہ، خطبہ جمعہ اور عمومی درس میں اصلاحی عنوانات پر گفتگو کرتے تھے اور بالکل سادہ لہجے میں عقیدۂ توحید کی وضاحت، سنت کی اہمیت، عام مسلمانوں کی اخلاقی اصلاح اور حلال وحرام کے مسائل پر بات کیا کرتے تھے، البتہ اختلافی سمجھے جانے والے مسائل میں سے کوئی مسئلہ درمیان میں آ جاتا تو اسے نظر انداز کرکے آگے نہیں گزر جاتے تھے، بلکہ ا س پر اپنا موقف دوٹوک انداز مین بیان کر کے ضروری دلائل کا حوالہ بھی دیتے تھے۔ حضرت امام اہل السنۃ رحمہ اللہ کے طرز عمل کا یہ پہلو عام طور پر سب حضرات کے سامنے نہیں ہوتا، اس لیے بسا اوقات الجھن پیدا ہونے لگتی ہے۔‘‘ (ص ۷۴، مضمون از مولانا زاہد الراشدی)
’’ایک دفعہ محترم جناب حاجی اللہ دتہ صاحب کے ساتھ ایک وکیل آیا جو غالباً ڈسکہ کا رہنے والا تھا۔ ان کو بیٹھک میں بٹھایا گیا اور ان کے لیے چائے تیار کی جا رہی تھی کہ اچانک بیٹھک سے حضرت کی زور دار آواز گونجنے لگی۔ میں دوڑ کر گیا تو دیکھا کہ حضرت کے ہاتھ میں کلہاڑی پکڑی ہوئی ہے اور محترم بٹ صاحب درمیان میں حائل ہیں اور وہ وکیل ایک جانب کھڑا ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ بٹ صاحب کو کہہ رہے تھے کہ اس کو فوراً میری بیٹھک سے نکال دو، میں اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔ جلدی سے اس کونکال دیا گیا۔ کچھ اور حضرات بھی جمع ہو گئے اور حضرت سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وکیل صاحب نے باتوں باتوں میں کہہ دیا کہ اسلام کو نقصان پہنچانے والے بنو امیہ ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ سارے بنو امیہ کے بارے میں ایسا نہ کہیں، اس لیے کہ اس میں حضرت عثمان اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما بھی آتے ہیں تو اس نے کہا کہ اصل تو یہی ہیں۔ اس کے ان الفاظ پر مجھے غصہ آیا اور بٹ صاحب سے کہا، اسے یہاں سے نکال دو۔‘‘ (ص ۸۳، مضمون از مولانا عبد القدوس خان قارن)
’’ایک مرتبہ مجھے خود بتایا کہ تعلیم کے زمانے میں مجھے اور صوفی کو دن رات میں صرف ایک روٹی ملتی تھی، وہ بھی بغیر سالن کے۔ میں اپنے حصے کی روٹی بھی صوفی کو دے دیتا تھا کہ یہ چھوٹا ہے، بھاگ نہ جائے۔ میں نے پوچھا کہ پھر آپ خود کیا کھاتے تھے؟ فرمایا کہ لوگ بھینسوں کو شلجم وغیرہ کے پتے ڈالتے تھے۔ وہ بچے ہوئے میں دھو کر کھا لیتا تھا۔‘‘ (ص ۲۰۳، مضمون از حافظ ممتاز الحسن خان احسن)
’’۲۰۰۲ء کے الیکشن سے قبل جب دینی جماعتوں کا اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی شکل میں سامنے آیا تو آپ نے اس کی بھرپور حمایت اور تائید فرمائی اور باقاعدہ جمعہ میں ان کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا، حالانکہ وہ دیوبندی بھی نہیں تھا۔ بعض حضرات نے راقم کے سامنے اس سلسلے میں آپ رحمہ اللہ سے گزارش کی کہ اگر صرف اہل السنۃ والجماعۃ والے ہی سب مل جائیں اور کسی دوسرے کو نہ ملائیں تو کیا یہ بہتر نہیں تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ مولانا! ان کی مجبوری ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو حکومت کو بہانہ مل جاتا۔ ایک صاحب نے زیادہ الجھنے کی کوشش کی تو آپ نے ان کو خاموش کرا دیا۔‘‘ (ص ۳۰۸، مضمون از حافظ سرفراز خان حمزہ)

اس خصوصی اشاعت میں فطری طور پر حضرت شیخ الحدیث رحمہ کا منہج فکر اور مسلک ومشرب بھی زیر بحث آیا ہے اور مختلف اہل قلم نے اس کے مختلف پہلووں کو اپنے اپنے ذوق اور انداز سے واضح کیا ہے۔ اسی ضمن میں بعض تحریروں میں مولانا محمد طارق جمیل کے خیالات، مولانا محمد الیاس گھمن کا طرز عمل اور راقم الحروف کی بعض آرا بھی نقد وتبصرہ کا موضوع بنی ہیں، لیکن ’’بے لاگ احقاق حق‘‘ کی یہ روایت ہر جگہ برقرار نہیں رکھی جا سکی۔ ذرا دار العلوم کراچی کے مہتمم مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کی درج ذیل تحریر ملاحظہ فرمائیے:

’’۱۹۸۶ء عیسوی کی دہائی میں ناچیز لاہور سے سفر کر کے آپ کی خدمت میں گکھڑ منڈی خاص اس مقصد کے لیے حاضر ہوا کہ دیوبندی اوربریلوی مکاتب فکر کے درمیان جو خلیج بڑھتی جا رہی ہے، اسے کم بلکہ ختم کرنے کی راہ تلاش کی جائے۔ اس مقصد کے لیے پہلے ہی ہماری کئی ملاقاتیں مولانا مفتی محمد حسین نعیمی صاحب سابق مہتمم دار العلوم نعیمیہ لاہور، مفتی ظفر علی نعمانی سابق مہتمم دار العلوم امجدیہ کراچی، علامہ عبد المصطفیٰ ازہری سابق شیخ الحدیث دار العلوم امجدیہ کراچی اور مولانا محمد شفیع اوکاڑوی وغیرہم سے ہو چکی تھیں۔ان سب حضرات کا تعلق بریلوی مکتبہ فکر سے ہے۔ ان ملاقاتوں سے میں ا س نتیجہ پر پہنچا تھا کہ عقائد کے باب میں دونوں مکاتب فکر کا اختلاف بڑی حد تک صرف تعبیر اور الفاظ کا اختلاف ہے۔ حقیقت میں ایسا کوئی اختلاف عقائد کے باب میں نہیں ہے جس کی بنا پر ایک دوسرے کو گمراہ یا فاسق قرار دیا جائے۔ ہاں بہت سے اعمال میںیہ اختلاف ضرور ہے کہ ہم انھیں بدعت کہتے ہیں اور ان کے نزدیک وہ بدعت میں داخل نہیں۔‘‘ (ص ۳۷۴)
’’یہ تھا وہ پس منظر جس کے تحت ناچیز امام اہل السنۃ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ سے ملاقات کرنے اور رہنمائی حاصل کرنے کے لیے گکھڑ منڈی حاضر ہوا تھا۔ حضرت نے بہت شفقت فرمائی اور جس مقصد کے لیے حاضر ہوا تھا، اس پر مسرت کا بھی اظہار فرمایا اور اس کی تائید فرمائی، لیکن طبیعت ناساز تھی۔ زیادہ گفتگو نہ ہو سکی۔‘‘ (ص ۳۷۶)

بریلوی دیوبندی اختلاف سے متعلق مفتی صاحب کا یہ تجزیہ حضرت شیخ الحدیث کے منہج فکر اور نظریات سے کتنا ہم آہنگ ہے، یہ نکتہ زیادہ محتاج وضاحت نہیں، لیکن کسی وضاحتی یا اختلافی نوٹ کے بغیر اس کی شمولیت نہ اس اشاعت کے مرتبین کو کھٹکی ہے اور نہ موصولہ مواد پر نظر ثانی کر کے اس کی منظوری دینے والے بزرگوں کو۔ اس کے وجوہ اور مصالح غالباً زیادہ ناقابل فہم نہیں ہیں۔

ص ۲۳۲ پر اسلامی ٹی وی چینل کے جواز وعدم جواز کے تناظر میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا موقف بیان کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ: ’’دادا جان آخر تک سختی سے ٹی وی کی حرمت کے قائل رہے اور اس بارے میں ان کا رویہ بے لچک رہا۔‘‘ یہ بات واقعاتی طور پر پوری طرح درست نہیں، اس لیے کہ حضرت رحمہ اللہ کی طرف سے ٹی وی چینل کے عدم جواز کا فتویٰ سامنے آنے کے بعد عم مکرم مولانا قاری حماد الزہراوی مدظلہ نے اس مسئلے پر ان کے ساتھ متعدد مواقع پر گفتگو کی اور یہ گزارش کی کہ جب شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لیے تصویر بنوانے کو ایک دینی ضرورت کے تحت جائز قرار دیا جا رہا ہے کہ حج وغیرہ دینی فرائض اس پر موقوف ہیں بلکہ وفاق المدارس کے امتحانات کے لیے محض ایک عملی ضرورت کے تحت تصویر کو نہ صرف جائز بلکہ لازم قرار دیا گیا ہے تو آخر اسلام کے دفاع وتحفظ اور دین دشمن عناصر کی فکری یلغار سے نئی نسل کو بچانے کے لیے ٹی وی چینل کو کیوں عملی جواز کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا؟ عم مکرم کی روایت کے مطابق حضرت رحمہ اللہ نے اس پر ان سے فرمایا کہ تمہارا یہ نکتہ قابل غور ہے، اس لیے تم اپنا موقف تحریری صورت میں مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سلیم اللہ خان کے پاس بھیجو اور ان کی طرف سے جو جواب آئے، اس سے مجھے آگاہ کرو۔ اس کے بعد حضرت رحمہ اللہ نے ازخود دو تین مرتبہ عم مکرم کو اس کی یاد دہانی کرائی اور تاکید کی کہ وہ اپنی تحریر جلد مذکورہ دونوں بزرگوں کی خدمت میں روانہ کریں۔ عم مکرم کی اس روایت کی روشنی میں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ حضرت کا رویہ اس معاملے میںآخر تک ’’بے لچک‘‘ رہا۔

خصوصی اشاعت کے مضامین کا عمومی انداز اور اسلوب سنجیدہ اور باوقار ہے، لیکن بعض تحریروں کا معیار خاصا پست اور کسی مزاحیہ اسٹیج ڈرامے کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ معلوم نہیں، اہل سنت کے ایک بلند پایہ عالم اور محقق کے افکار وتحقیقات کے تعارف کے لیے اس اسلوب کو کیسے گوارا کیا گیا ہے۔

مضامین کے آخر میں خالی جگہ کو پر کرنے کے لیے حضرت رحمہ اللہ کے مختلف واقعات درج کیے گئے ہیں جو زیادہ تر ماہنامہ ’’ہدی للناس‘‘ گوجرانوالہ کی خصوصی اشاعت میں شائع ہونے والے ایک مضمون سے ماخوذ ہیں۔ بہتر تھا کہ ان کا حوالہ درج کر دیا جاتا تاکہ قارئین کے سامنے اصل ماخذ بھی آ جاتا اور صحافیانہ اخلاقیات کی بھی پاس داری ہو جاتی۔

۸۶۲ صفحات پر مشتمل یہ اشاعت دار العلوم مدنیہ، ماڈل ٹاؤن بی، بہاول پور نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۳۵۰ روپے ہے۔

(تبصرہ نگار: محمد عمار خان ناصر)

’’حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث‘‘

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل ایک اعلیٰ سطحی علمی ادارہ ہے جسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور وقت کے جید علماء کرام، ماہرین شریعت وقانون اس سے وابستہ رہے ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ پاکستان کے اہل سیاست اور اہل اقتدار جو کہ نفاذ اسلام کے سلسلے میں سنجیدہ ومخلص کبھی نہیں رہے، بلکہ نفاذ اسلام کو ایک سیاسی نعرے کے طورپر استعمال کیا گیا، اس لیے اس کونسل کی سفارشات بھی سرد خانے کی نذر زیادہ ہوتی رہی ہیں۔ 

۲۰۰۷ء میں حدود وتعزیرات سے متعلق اسلامی نظریاتی قوانین کے نفاذکے بارے میں کونسل نے اپنی ۱۰ نکاتی سفارشات پیش کی تھیں جن پر وقت کے اہل علم واصحاب رائے سے کونسل نے تبصرہ کرنے کی گزارش کی تھی۔ ان سفارشات پر تنقید، جائزہ واحتساب اور رد عمل کے سلسلے میں ایک تحریر جناب مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب نے بھی لکھی تھی جسے خود کونسل نے شائع کیا۔ زیرنظر کتاب اصلاً اسی علمی تبصرے کی توسیع شدہ صورت ہے۔

کتاب کے مصنف محمد عمار خان ناصر ایک علمی خانوادے کے چشم وچراغ ہیں۔ ان کے دادا مشہور محدث مولانا سرفرازخاں صفدرؒ ہیں جبکہ والد مولانا زاہد الراشدی بھی پاکستان کے علماء میں علمی تبحر، فکری پختگی، وسعت مطالعہ اور عصری ضرورتوں کے ادراک کے لحاظ سے اپنی نمایاں اور ممتاز شناخت رکھتے ہیں۔ محمد عمار خان ناصر معروف علمی مجلہ ’’الشریعہ‘‘ کے مدیر ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں شرعی احکام کے نفاذ کے حوالے سے روایتی فقہی موقف سے مختلف بعض نئی آرا وافکار پر تبصرہ بھی کیا ہے اور ان کے علمی پس منظر اور بنائے استدلال کو بھی واضح کیا ہے۔ اس زاویے سے یہ کتاب فکر اسلامی اور فقہیات کے ذخیرے میں متعدد نئے اور معرکۃ الآراء مباحث کا اضافہ کرتی ہے۔

دیباچہ، پیش لفظ اور تمہید کے علاوہ کتاب تیرہ اہم مباحث پر مشتمل ہے جن میں شرعی سزاؤں کی ابدیت، سزاؤں کے نفاذ اور اطلاق کے اصول، قصاص کے معاملے میں ریاست کا اختیار، دیت کی بحث، قصاص ودیت میں مسلم وغیر مسلم کا امتیاز، زنا، قذف، سرقہ، حرابہ، ارتداد اور توہین رسالت کی سزائیں، شہادت کا معیار اور نصاب، غیر مسلموں پر شرعی قوانین کا نفاذ، قصاص اور شہادت کے لیے غیر مسلموں کی اہلیت جیسے مباحث پر مشتمل ہے۔ مصنف نے اکثر مباحث میں فقہاء قدیم وجدید کے موافق اور ان کی آرا کے پہلو بہ پہلو بعض نئے علما ومفکرین اور ان کے خیالات بھی پیش کیے ہیں، مختلف آرا کا جائزہ لیا ہے اور بے لاگ، منصفانہ وتنقیدی محاکمہ کر کے دلائل کی روشنی میں جو پہلو یا رائے قابل ترجیح محسوس ہوئی، اس کا اظہار جرات سے کر دیا ہے۔ آخر میں ایک ضمیمہ ’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘ بھی کتاب میں شامل کیا ہے۔

مولف کا طرز بیان سادہ رواں، اسلوب منطقی وسائنٹفک اور مجموعی اپروچ غیر جانب دارانہ اور منصفانہ ہے۔ علمی امانت ودیانت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ہر مبحث پر سیر حاصل گفتگو کرنے کی انھوں نے کوشش کی ہے اور اس میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کی تمام رایوں اور نتیجوں سے اتفاق کیا جائے، تاہم مولف اس لحاظ سے قابل مبارک باد ہیں کہ انھوں نے ماضی کے علمی ورثے اور فقہی ذخیرے سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس کے مسلمہ اصولوں کو برتتے ہوئے بین الاقوامی مسائل اورمطالبات کے حل کی عملی صورتیں نکالنے کی اجتہادی کوشش کی ہے۔

فقہاء نے فساد فی الارض کے اصول کے تحت مبتدعانہ افکار کو پھیلانے والے اور اہل بدعت وزندیقوں کے لیے سزائے موت کا جواز اخذ کیا ہے، لیکن فقہا کی اس رائے پر عصر حاضر کے پس منظر میں مصنف نے بہترین محاکمہ کیا ہے۔ ان کا جامع ومختصر نوٹ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ (دیکھیے صفحہ ۱۹۸، ۱۹۹) رجم کے سلسلے میں بھی انھوں نے تمام مباحث کو اختصار وجامعیت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ رجم کے سلسلے میں مختلف روایات اور قرآن مجید کے ساتھ اس حکم کی توفیق وتطبیق کرتے ہوئے اس ضمن میں جو قدیم وجدید علمی توجیہات پیش کی گئی ہیں، ان کا ذکر کرتے ہوئے بیشتر پر تنقید کی ہے۔ انھوں نے خود کوئی حتمی رائے نہیں دی، تاہم ان کاکہنا ہے کہ ’’اس ضمن میں اب تک جو توجیہات سامنے آئی ہیں، وہ اصل سوال کا جواب کم دیتی اور مزید سوالات پیدا کرنے کی موجب زیادہ بنتی ہیں۔‘‘ (ص ۱۶۵) اس کے بعد انھوں نے عقلاً ترجیح کے اصول پر کسی متعین رائے کو اختیار کرنے کے طریقے بیان کیے ہیں۔ البتہ اس بحث میں مبصر کی رائے یہ ہے کہ عبادہ بن صامت والی روایت: خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لہن سبیلا ... جلد ماءۃ وتغریب عام  پر سند ومتن کے لحاظ سے کلام کیا گیا ہے اور ایک جدید تحقیق کی رو سے یہ روایت کمزور ہے، لہٰذا اسے مدار بحث بناتے وقت اس کی اس پوزیشن کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ (دیکھیں: علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی، مفتاح القرآن، سورۃ النساء ص ۳۱ تا ۲۳)

موجودہ دور میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع ارتداد کی سزا ہے۔ جناب عمار خان ناصر اس سلسلے میں کلاسیکل فقہی رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ انھوں نے اپنی جامع بحث میں قدیم فقہا کا موقف اوران کے دلائل بیان کر دیے ہیں اور اس سلسلے میں جدید اہل علم ونظر کا موقف بھی بیان کر دیا ہے۔ ا س سلسلے میں ایک جدید نقطہ نظر یہ ہے کہ ’’قتل مرتد کا حکم شریعت کا عمومی ضابطہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق صرف مشرکین بنی اسماعیل سے ہے جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت موت کی سزا نافذ کی گئی تھی۔‘‘ (جاوید احمد غامدی، برہان ۱۳۹-۱۴۳) ناصر صاحب اصولی طور پر اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اس میں یہ توسیع کرتے ہیں کہ ’’اہل کتاب کو بھی اس کے دائرۂ اطلاق میں شامل سمجھنے میں کوئی مانع نہیں۔‘‘ (ص: ۲۲۷)

کتاب کے تمام مباحث کا جائزہ لینے سے تبصرہ طویل ہو جائے گا اور تبصرہ کی حدود سے نکل کر مضمون کی شکل اختیار کرلے گا، اس لیے مختصراً یہ کہنا مناسب ہوگا کہ یہ کتاب اسلامی حدود وتعزیرات سے متعلق نئے مباحث کی تفہیم میں مفید ومددگار بھی ہے اور علمی بحث ومباحثہ کو آگے بڑھانے کی ایک صحت مندانہ کوشش بھی۔ امید ہے کہ اہل علم اس سے کماحقہ استفادہ کریں گے اور علمی تنقید وتنقیح کے ذریعے اس سلسلہ بحث کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔

(تبصرہ نگار: ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی۔ بشکریہ مجلہ ’’ترجمان دار العلوم‘‘ انڈیا)

تعارف و تبصرہ