اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

مروجہ سودی بینکاری کو ’مسلمان بنانے‘ کی مہم پچھلی دو دہائیوں سے اپنے عروج پر ہے اور نہ صرف یہ کہ مجوزین اسلامی بینکاری بلکہ ان کے ناقدین کی ایک اکثریت نے بھی یہ فرض کرلیا ہے کہ اس مہم کے ذریعے نظام بینکاری کو کسی نہ کسی درجے (زیادہ یا کم کے اختلاف کے ساتھ) اسلامی بنا ہی لیا گیا ہے۔ اگر اصولاً یہ مقدمات درست مان لیے جائیں کہ (۱) اپنے مقاصد اور طریقہ کار (procedure) دونوں اعتبارات سے بینک کی اسلام کاری ممکن ہے، نیز (۲) اسلامی بینکاری درست سمت میں رواں دواں ہیں تو ان کے منطقی لازمے کے طور پر جو بحث ابھرے گی، وہ اس نظام میں ’مزید اصلاح‘ کی کوشش کرنے ہی کی ہوگی نہ کہ اس جدوجہد کو ’لاحاصل قرار دے کر ترک‘ کر دینے کی۔ چنانچہ اسلامی بینکاری کی اسلامیت کے ضمن میں مجوزین اور ناقدین کی ایک اکثریت کے درمیان اختلاف کی بنیاد یہ نہیں کہ بینکاری اصولاً اسلامی ہو ہی نہیں سکتی بلکہ یہ رہی ہے کہ ’مروجہ ‘ اسلامی بینکاری ’کتنی اسلامی‘ ہے۔ مجوزین کے نزدیک مروجہ اسلامی بینکاری میں موجود ’اسلامیت کی مقدار‘ اس نظام کو اسلامی کہنے کے لیے بہت کافی ہے جبکہ ناقدین کے خیال میں مروجہ نظام میں ابھی تک ’مطلوبہ اسلامیت‘ پیدا نہیں کی جاسکی۔ گویا ناقدین بھی اس مفروضے کو قبول کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی خرابی ہے، وہ ’مروجہ‘ اسلامی بینکاری میں ہے، لہٰذا کوئی ایسی ’غیر مروجہ‘ اسلامی بینکاری بھی ممکن ہے جو ان خرابیوں سے پاک ہوگی۔ مجوزین اور ناقدین اسلامی بینکاری کی ایک اکثریت کے درمیان یہ قدر مشترک اس لیے پائی جاتی ہے کہ دونوں گروہ درج بالا مفروضہ مقدمات کو قبول کرتے ہیں۔ 

اس کے برخلاف ناقدین کا دوسرا گروہ وہ ہے جس کے خیال میں بینکاری اپنے مقاصد اور عمل دونوں لحاظ سے غیر اسلامی شے ہے اور اس کی اسلامیت ناممکن ہے۔ چونکہ اس گروہ اور مجوزین کے مقدمات ہی میں بنیادی فرق ہے، لہٰذا ان دونوں کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں اور دونوں کی بحث کا حاصل ’مروجہ اسلامی بینکاری کی اصلاح‘ نہیں بلکہ اس جدوجہد کی ’بقا و عدم ‘ کا ہے، یعنی مجو زین کے نزدیک اسے جاری رہنا چاہیے جبکہ ناقدین کے خیال میں یہ جدوجہد احیائے اسلام کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا اسے لازماً ترک کرنا ہوگا۔ ناقدین اسلامی بینکاری کے دونوں گروہوں کا مجوزین سے اختلاف کرنے میں نوعیت اختلاف کا فرق درحقیقت اس بنا پر ہے کہ اسلامی بینکاری کا تنقیدی مطالعہ کرتے وقت تین سطحوں پر گفتگو کرنا ممکن ہے : 

۱۔ اسلامی و سودی بینکاری کا تطبیقی جائزہ: یعنی یہ سمجھنے کی کوشش کرنا کہ آیا اسلامی بینک اور سودی بینکوں کے مقاصد میں کیسا تعلق ہے، کیا یہ دونوں کسی ایک ہی نظام زندگی (سرمایہ داری) کے مقاصد حاصل کرنے کے دو مختلف وسائل ہیں یا ان کے مقاصد میں کوئی تفریق موجود ہے۔ اس بحث میں اسلامی بینکاری کو جزوی طور پر نہیں بلکہ ایک بڑے نظامہائے زندگی کے ایک پرزے کے طور پر جانچ کر یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا اس طریقہ کار سے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہے بھی یا نہیں۔ گویا یہاں گفتگو کا محور ’جزو‘ نہیں بلکہ ’کل‘ ہوتا ہے۔

۲۔ اسلامی بینکاری کے امکانات کا جائزہ: یعنی یہ تجزیہ کرنا کہ آیا موجودہ نظام بینکاری کو اسلامیانے کا کوئی طریقہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔ اس تجزیئے میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ بینکنگ اصلاً کیا ہے؟ کیا واقعی بینک ایک زری ثالث (financial intermediary) ہوتا ہے جیسا کہ مجوزین اسلامی بینکاری کا خیال ہے؟ اگر اس کی حقیقت اس کے علاوہ کچھ اور ہے تو کیا اسے اسلامی بنانا ممکن ہے؟ 

۳۔ اسلامی بینکاری کے طریقہ کاروبار کا فقہی جائزہ: اس سطح پر جزواً جزواً یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی بینک جو زری سروسز اور پراڈکٹس (Financial products and services) مہیا کررہے ہیں، وہ قواعد شریعہ کی شرائط پر پورا اترتی ہیں یا نہیں۔ اس تجزیئے میں اسلامی اور مروجہ بینکاری نظام کا اس اعتبار سے تطبیقی موازنہ بھی کیا جاتا ہے کہ آیا واقعی اسلامی بینک موجودہ بینکاری نظام سے علیحدہ کوئی کام کربھی رہے ہیں یا محض ’نئی بوتل میں پرانی شراب‘ والا معاملہ ہے۔ گویا یہاں بحث کا مرکزی نکتہ ’جزو‘ ہوتا ہے۔ ناقدین کی وہ اکثریت جو اپنے مقدمات میں مجوزین کے مماثل ہے، درحقیقت پہلی دونوں سطحوں سے سہو نظر (by pass) کرتے ہوئے اپنی تنقید کی بنیاد اس تیسری سطح پر رکھتی ہے۔ گویا مجوزین اور ناقدین کی اس اکثریت کے درمیان قدر مشترک تنقید کی اول دو نوں سطحوں کو نظر انداز کرنا ہے۔

اسلامی بینکاری بطور ایک ’کل‘، یعنی اس کے مقاصد کے شرعاً باطل ہونے کی بحث پر راقم الحروف نے دو الگ مضامین تحریر کیے ہیں جن کی تفصیلات وہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ (۱) ز یر نظر مضمون کا نفس موضوع اسلامی بینکاری پر تنقید کی دوسری سطح پر بحث کرنا ہے، یعنی یہاں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آیااپنے عمل کے اعتبار سے بینک کی اسلام کاری ممکن ہے یا نہیں؟ ہم دیکھیں گے کہ مجوزین (اور ناقدین کی ایک اکثریت) بینکنگ کے جس تصور کو بنیاد بنا کر اس کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں (یا اس پر تنقید کرتے ہیں)، درحقیقت وہ تصور بینکنگ ہی سرے سے غلط ہے، گویا ان کی دلائل کی عمارت ہی بے بنیاد ہے۔ مجوزین کے خیال میں بینک محض ایک زری ثالث (financial intermediary) ہے جس کا کام بچتوں اور سرمایہ کاری میں تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں موجودہ بینکنگ کی ’اصل خرابی ‘ یہ ہے کہ اس تعلق کے قیام کے لیے وہ ’سود‘ کا راستہ اختیار کرتی ہے، لہٰذا اگر اس کے طریقہ کار کی اصلاح کر کے اس تعلق کو سود کے بجائے ’شرکت و مضاربت‘ وغیرہ کے اصولوں پر قائم کردیا جائے تو بینک کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے۔ مگر ہم دیکھیں گے کہ بینکنگ کا یہ تصور درست نہیں اور نہ ہی بینکنگ کو شرکت وغیرہ کے اصولوں پر چلانا ممکن ہے۔ بینکنگ کو درست طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجوزین مسئلے کی اصل حقیقت تک پہنچ نہ سکے اور اس ظاہر بینی کا نقصان یہ ہوا کہ سرمایہ داری کے سب سے بڑے ادارے یعنی بینک کو اسلامی لبادہ اوڑھادیا گیا۔ چنانچہ اسلامی بینکاری پر تنقید کے درج بالا ڈھانچے کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مجوزین اسلامی بینکاری دوہری غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں: 

  • ایک طرف جب وہ احیائے اسلام کے لیے ’سودی بینکنگ کا متبادل کیا ہے‘ کا سوال اٹھا کر اس کا حل پیش کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں تو اپنے مقاصد کے اعتبار سے ایک غلط سوال اٹھا کر اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ (مجوزین کا سوال کیونکر غلط ہے؟ اس کا تعلق تنقید کی اول سطح سے ہے ) ۔
  • اور دوسری طرف اس کا متبادل دینے کی کوشش میں بھی وہ پوری تحقیق سے کام لیے بغیر ’بینکنگ کیا ہے‘ کا ایک غلط جواب دے کر اپنی عمارت قائم کرتے ہیں۔ (گویا ظلمت بعضہا فوق بعض)۔ دوسرے لفظوں میں مجوزین کا سوال اور جواب دونوں ہی غلط ہیں۔ 

مجوزین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سرمایہ داری کو فطری انسانی تقاضوں کا ارتقا سمجھتے ہیں اور اسی لیے وہ ہر سرمایہ دارانہ ادارے کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں۔ (۲) مجوزین کا عمومی طریقہ کار یہ ہے کہ وہ بینکاری نظام میں جاری لین دین کی ’مخصوص شکلوں‘ (transactions forms) کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں مگر وہ لین دین جس ’معاشی ماحول اور حالات ‘ میں ہورہی ہیں، اس سے یکسر سہو نظر کرتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امرکی ہے کہ اس معاشی ماحول (economic environment) کا درست تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے جس کے اندر بینک کا وجود ممکن ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ آیا اس معاشی ماحول کو ختم کردینے کے بعد بھی بینکاری ممکن رہتی ہے یا نہیں، نیز کیا اس معاشی ماحول کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنا ممکن ہے یا نہیں۔ 

بینک کی اسلامیت کا امکان ثابت کرنے کے لیے دو شرائط کا پورا ہونا لازم ہے: 

۱) یہ ثابت کرنا کہ fractional reserve banking اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والانظام زر شرعاً جائز ہے۔

۲) بینک کے سود کو شرکت و مضاربت کے اصولوں سے تبدیل کرنا ممکن ہے۔

ہم دیکھیں گے کہ اسلامی بینکار دونوں میں سے پہلی شرط سے کلیتاً سہو نظر کرتے ہوئے بحث کا سارا رخ ’سود‘ کو ’نفع‘ سے تبدیل کردینے کی طرف موڑ دیتے ہیں جبکہ اس دوسری بحث کی نوبت تب آتی ہے جب پہلی شرط پوری ہونا ممکن ہو (جو کہ ہم دیکھیں گے کہ ممکن نہیں ہے)۔ درحقیقت پہلی شرط کا تعلق اس معاشی ماحول سے ہے جس میں بینکاری ممکن ہوپاتی ہے، لہٰذا اس مضمون میں اسی پہلو سے متعلق تفصیلات واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ 

اپنے مضمون کو ہم تین حصوں میں تقسیم کریں گے۔ پہلے حصے میں مجوزین اسلامی بینکاری کا نظریہ بینکنگ بیان کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہم پاکستان میں اسلامی بینکاری کے سرخیل مولانا تقی عثمانی صاحب کے نظریات کو بنیاد بنائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہم علم معاشیات کی روشنی میں مجوزین اسلامی بینکاری کے نظریہ بینکنگ کی علمی بنیادیں و فکری پس منظر واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسرے حصے میں مجوزین اسلامی بینکاری کے نظریہ بینکنگ کی بنیادی خامیاں نیز بینکنگ کا مختصر تاریخی ارتقاء بیان کرکے درست نظریہ بینکنگ کی وضاحت کی جائے گی۔ اس تجزئیے کے بعد آخری حصے میں بینکاری نظام کی اسلامیت اور اس کے امکانات کا مختصر جائزہ پیش کرکے دفاع بینکاری کی چند دلیلوں کا جواب دیا جائے گا۔ وما توفیقی الا باللہ 

۱) مجوزین اسلامی بینکاری کے نظریہ بینکنگ کی فکری بنیادیں 

مجوزین اسلامی بینکاری اوپر بیان کردہ جس تصور بینکنگ کو بنیاد بنا کر بینک کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت علم معاشیات کے نیو کلاسیکل مکتبہ ہائے فکر سے ماخوذ ہے (۳) جو سرمایہ دارانہ معیشت کو ایک Barter اکانومی کے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مکتبہ فکر کے مطابق معاشی لین دین میں زر ایک غیر فعال (neutral) سیال کے طور پر کام کرتا ہے، نیزبینک محض بچتوں اور سرمایہ کاری میں توازن پیدا کرنے کا ایک ادارہ ہے۔ گویا ان مفکرین کے خیال میں بینکنگ ’بچتیں سرمایہ کاری کو جنم دیتی ہیں‘ (savings create loan model) کے اصول پر کام کرتی ہے۔ اس نکتے کی تفصیل سے قبل ہم مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘ سے ان کا نظریہ بینکاری واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ 

۱.۱: مجوزین کا نظریہ زر و بینکاری 

مولانا کا نظریہ بینکنگ درج بالا تصور کی ہو بہو تصویب ہے۔ (۴) چونکہ نظریہ زر و بینکنگ باہم مربوط تصورات ہیں، لہٰذا پہلے ہم مولانا کا نظریہ زر بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ مولانا تقی عثمانی صاحب زر کی تعریف اس طرح فرماتے ہیں: 

’’جو چیز آلہ مبادلہ (exchange of goods) کے طور پر استعمال ہوتی ہو اور وہ قدر کا پیمانہ (unit of account) ہو اور اس کے ذریعے مالیت کو محفوظ کیا جاتا (store of value) ہو، اسے زر کہتے ہیں۔‘‘ (ص: ۹۵) 

پھر نوٹ کی فقہی حیثیت پر مختلف نظریات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس نقطہ نظر کہ ’نوٹ قرض کی رسیدیں ہیں‘ کو رد کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’صحیح نقطہ نظر یہ ہے کہ نوٹ رسید نہیں بلکہ خودمال ہیں، سونے چاندی کی طرح ثمن حقیقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہیں۔‘‘ (ص: ۱۰۴-۱۰۶) اس سے معلوم ہوا کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کے نزدیک مروجہ رائج زر جسےfiat money کہتے ہیں، بنیادی طور پر قرض کی رسید نہیں بلکہ آلہ مبادلہ اور ثمن عرفی ہے۔ پھر مولانا بینکاری کی بحث اس تعریف سے شروع کرتے ہیں: 

’’بینک ایک ایسے تجارتی ادارے کا نام ہے جو لوگوں کی رقمیں اپنے پاس جمع کرکے تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر ضرورت مندافراد کو قرض فراہم کرتا ہے۔‘‘ (ص: ۱۱۵) 
’’بینک عوام کی بچتوں کو یکجا جمع کرکے تاجروں اور صنعت کاروں کو سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔‘‘ (غیر سودی بینکاری: ص ۳۱) 
’’بینک ..... لوگوں کی منتشر بچتوں کو یکجا کرکے انہیں صنعت و تجارت میں استعمال کرنے کا ذریعہ بنتا ہے ..... بینک کی حیثیت محض ایک ایسے ادارے کی ہے جو روپے کا لین دین کرتا ہے۔‘‘ (ص: ۱۳۳ -۱۳۴) 

ان اقتباسات سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ اولاً مولانا تقی عثمانی صاحب کے نزدیک بینک کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں (investers) اور بچت کرنے والوں (savers) کے درمیان تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے۔ دوئم بینک محض زر کی لین دین (exchange of money) سر انجام دینے کا ذریعہ ہے۔ پھر مولانا کھاتوں (deposits) کی مختلف اقسام (کرنٹ اکاؤنٹ، سیونگ اکاؤنٹ، فکسڈ اکاؤنٹ) کا تعارف کرانے کے بعد فرماتے ہیں کہ جب ان ڈپازٹس سے بینک کے پاس سرمایہ جمع ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ بینک بھی اپنا ابتدائی سرمایہ لگا دیتا ہے تو اس تمام سرمایے کو درج ذیل طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے : 

۱۔ سرمایے کا ایک حصہ سیال شکل میں اسٹیٹ بینک کے پاس جمع کرادیا جاتا ہے ۔

۲۔ بینک کچھ سرمایہ اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ کھاتے داروں کے مطالبات پورے کرسکیں ۔

۳۔ اس کے بعد بینک کئی وظائف ادا کرتے ہیں، مثلاً تمویل (financing)، درآمدات و برآمدات میں ادائیگی کی سہولت فراہم کرنا، تخلیق زر ۔ (ص: ۱۱۶ ) 

اس تفصیل سے یہ اہم بات معلوم ہوئی کہ مجوزین کے نزدیک بینک پہلے بچتیں جمع کرتا ہے اور پھر انہیں قرض پر دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بینک ’بچتیں قرضوں کا باعث بنتی ہیں‘ کے اصول پر کام کرتا ہے۔ اس مقام پر یہ تضاد بھی نوٹ کرلینا چاہیے کہ ایک طرف تو مولانا تقی عثمانی صاحب بینک کا کام یہ بتاتے ہیں کہ ’بینک محض زر کی لین دین کرتا ہے‘ مگر ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’بینک کے وظائف میں تخلیق زر بھی شامل ہوتا ہے‘۔ ظاہر ہے اگر بینک محض زر کی لین دین (exchange of money) کرتا ہے تو تخلیق زر (creation of money)کسی بھی طرح اس کے وظائف میں شامل نہیں ہوسکتا، کیونکہ تخلیق زر کسی بھی طرح ’زر کی لین دین‘ میں شامل نہیں کیا جاسکتا ، اور اگر بینک تخلیق زر کا باعث بنتا ہے تو بینک کی یہ تعریف درست نہیں کہ وہ محض زر کی لین دین کرتا ہے۔ اس تضاد کو رفع کرنے کی ذمہ داری مجوزین کے ذمہ ہے۔ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ مجوزین کے اس تضاد کی وجہ ان کا بینکاری نظام اور تخلیق زر کی اصل حقیقت کو درست طور پر نہ سمجھ پانا ہے۔ المختصر مجوزین کے نظریہ زر و بینکاری کو ہم تین نکات میں سمو سکتے ہیں: 

i۔ موجودہ دور میں رائج شدہ زر ’آلہ مبادلہ ‘ (means of exchange) ہے جسے شرعاً ثمن عرفی کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ۔

ii۔ بینک سرمایہ کاروں اور بچت کرنے والوں کے درمیان تعلق پیدا کرتا ہے، یعنی بینک محض زر کا لین دین سرانجام دیتا ہے۔ اس بات کو علم معاشیات کی اصطلاح میں یوں کہا جائے گا کہ بینک اصلاً ایک financial intermediary (ترسیل زر کے ثالث ) کا کردار ادا کرتا ہے ۔

iii۔ بینک ’بچتیں قرضوں کا باعث بنتی ہیں‘ کے اصول پر کام کرتا ہے ۔

بینکاری کا یہ روایتی تصور درج ذیل تصویر میں دکھایا گیا ہے جس کے مطابق بینک فرد الف (عموماً صارفین) سے رقم وصول کر کے فرد ب (عام طور پر سرمایہ کار) کو قرض فراہم کرتاہے۔ اس کے بدلے بینک ب سے چند فیصد سود لے کر اس سود کا ایک حصہ الف کو دے دیتا ہے اور سود کی وصولی و ادائیگی کا یہ فرق اس کی آمدنی ہوتی ہے۔ مجوزین کے اسلامی بینک کا ماڈل شکل نمبر ۲ میں دکھایا گیا ہے۔ 


۱.۲: مجوزین اور نیوکلاسیکل اکنامکس کے نظریات کا تعلق 

اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مجوزین اسلامی بینکاری کا درج بالا نظریہ بینکاری درحقیقت علم معاشیات کے (رد شدہ ) مکتبہ فکر نیوکلاسیکل اکنامکس نظریات کا ہو بہو چربہ ہے۔ نیوکلاسیکل اکنامکس پورے معاشرے کو ایک مارکیٹ کے طور پر دیکھتی ہے جہاں اپنی ذاتی اغراض کی تکمیل میں مصروف افراد اشیاء کی لین دین کے لیے دوسرے افراد کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہیں۔ نیوکلاسیکل نظرئیے کے مطابق ایک Barter (اشیاء کی براہ راست لین دین پر مبنی) اکانومی اور monetary (زرپر مبنی) اکانومی میں اصلاً کوئی فرق نہیں، یعنی دونوں میں اشیاء کی اصل قیمتیں اور مقدار یکساں متعین ہوتی ہیں۔ ان مفکرین کے خیال میں لوگ اشیاء کی براہ راست لین دین کے بجائے زر کو اس لئے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اشیاء کے تبادلے میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مثلاً سامان کے نقل و حمل میں مشکلات، طلب و رسد کا ایک ساتھ ملاپ لازم ہونا (یعنی اگر ایک شخص گندم کے بدلے مرغی لینا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ دوسرا شخص مرغی کے بدلے گندم لینے کے لیے تیار ہو) وغیرہ۔ لہٰذا زر کے استعمال سے مارکیٹ کی استعداد کار (efficiency) میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اشیاء کا تبادلہ تیز رفتاری سے ممکن ہوپاتا ہے۔ چنانچہ زر کے ذریعے ایک طرف اشیاء کا تبادلہ ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کی قدر کی نقدی اکائیوں (monetary units) میں پیمائش ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ایک کلو گندم کی قیمت 30 روپے ہو اور ایک کلو چینی کی قیمت 60 روپے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کلو گندم کی قدر آدھا کلو چینی جبکہ ایک کلو چینی کی قدر دو کلو گندم ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں زر کا کام اشیاء کی باہمی قدر کو نقدی اکائیوں میں بیان کرنا ہے۔ 

نیوکلاسیکل مفکرین زر کے درج بالا تصور (کہ اصلاً یہ آلہ مبادلہ ہے) سے دو اہم نتائج اخذ کرتے ہیں: 

  • اولاً یہ کہ زر ایک غیر فعال (neutral) سیال ہے، یعنی زر کے زیادہ یا کم ہوجانے سے اشیاء کی مقدار (quantities) میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ محض ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بطور ایک سادہ مثال فرض کریں کسی ملک میں محض دس کلو گندم پیدا ہوئی اور 100 روپے کرنسی جاری کی گئی (۵)۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گندم کی قیمت 10 روپے فی کلو متعین ہوگی۔ اگر کرنسی کی مقدار بڑھا کر 200 روپے کردی جائے مگر گندم کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو گندم کی قیمت بڑھ کر 20 روپے ہوجائے گی۔ دوسرے لفظوں میں جتنے تناسب سے زر کی مقدار بڑھائی جائے گی اتنے ہی تناسب سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجائے گا ۔
  • ثانیاً زر ایک exogenous (لین دین کے عمل سے ماوراء ) عنصر ہے یعنی اسکی مقدار اشیاء کی لین دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ اس سے باہر اور علاوہ متعین ہوتی ہے۔ یہ سوال کہ اسکی مقدار کون اور کیسے متعین کرتا ہے نیوکلاسیکل مفکرین کے خیال میں یہ ذمہ داری ریاست (state) ادا کرتی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مرکزی بینک (Central Bank) ریاست کو قرض دیتی ہے جو دو میں سے کسی ایک شکل میں ہوتا ہے: (۱) مرکزی بینک T-Bill (۶) جاری کرتی ہے جنہیں مختلف فائنانشل ادارے وغیرہ خرید تے ہیں اور اس طرح حکومت قرض حاصل کرتی ہے، (۲) مرکزی بینک براہ راست نوٹ جاری کرکے حکومت کو قرض دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں زر بصورت قرض تخلیق ہوتا ہے (۷)۔ اکثر و بیشتر یہ قرض حکومت کا مالیاتی خسارہ (fiscal deficit) پورا کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ درحقیقت آج جسے زر قانونی (legal tender or fiat money) کہا جاتا ہے وہ یہی قرضہ ہے (۸)۔ دھیان رہے کہ مرکزی بینک T-Bills اور نوٹوں کی صورت میں یہ قرضہ کسی حقیقی اثاثے کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلا کسی عوض تخلیق کرتا ہے نیز یہ قرضہ کسی بھی چیز کی ملکیت (ownership) کی رسید یا دعوی (claim) نہیں ہوتا یعنی جس شخص کے پاس یہ نوٹ موجود ہے مرکزی بینک اسے کچھ بھی ادا کرنے کا پابند نہیں ہوتا بلکہ ان کی حیثیت محض ’قانونی دستاویز‘ کی ہے جسے ریاست ’بذریعہ قانونی جبر‘ لین دین کے عمل کے لیے قابل قبول بناتی ہے (۹)۔ 

اوپر ذکر کیا گیا کہ اکثر و بیشتر حکومتیں اپنا مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے نوٹ (fiat money) چھاپ کر جاری کرتی ہیں۔ جیسا کہ درج بالا بحث سے واضح ہواکہ نیوکلاسیکل مفکرین کے مطابق اگر زر کی مقدار میں اضافہ کردیا جائے تو اس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے (۱۰)۔ قیمتوں میں اضافے سے زر کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے۔ نتیجتاً عام لوگ جو حکومت کے شائع کردہ نوٹ استعمال کرتے ہیں ان کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے اور اس کمی کے برابر اصل اشیاء و خدمات حکومت کو منتقل ہوجاتی ہیں۔ زر کی مقدار بڑھنے سے بوجہ افراط زر جو قوت خرید زر استعمال کرنے والے فرد سے زر تخلیق کرنے والے ایجنٹ کی طرف منتقل ہوتی ہے اسے افراط زر ٹیکس (inflation tax) کہا جاتا ہے۔ (اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، کیونکہ ذیل میں ہم اسے زیر بحث لائیں گے)۔ 

اب تک نیوکلاسیکل نظریہ زر بیان کیاگیا اب ہم اس سے اخذ ہونے والا نظریہ بینکنگ واضح کرتے ہیں۔ نیوکلاسیکل مفکرین کے خیال میں بینک کا بنیادی کام بچتوں کو یک جا کرکے کاروباری حضرات کی سرمایہ کاری کے لیے فراہم کرنا ہے یعنی اس کا کردار بچت کرنے والوں اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے درمیان زری ثالثی (financial intermediary) کا ہے ۔ اس تصور بینکنگ کے خدوخال درج ذیل ہیں (۱۱): 

الف: لوگوں کی بچتوں کو قرض پر دینے سے ’پہلے ‘ ڈپازٹ کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے۔ بینک کے پاس ڈپازٹ تب آتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بچت بینک کے پاس جمع کراتا ہے۔ بینک ان بچتوں کو سرمایہ کاری کے لیے بطور قرض (۱سلامی بینکاری کی اصطلاح میں بطور بیع) فراہم کرتا ہے ۔

ب: معاشی توازن (macroeconomic equilibrium) قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بچتیں سرمایہ کاری کے برابر ہوں (۱۲)، چونکہ بینک بچتوں اور سرمایہ کاری کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں لہٰذا بینکاری نظام کا ’درست طرزعمل‘ پورے معاشی عمل کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

ج:بینکنگ کا درست طرز عمل یہ ہے کہ وہ ’بچتوں سے زائد قرضے جاری نہ کرے‘، یعنی اس کے مجموعی قرضے اسکی مجموعی بچتوں سے زیادہ نہ ہوں۔ جب کبھی بینک اس اصول کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ پورے معاشی عمل کو عدم توازن سے دوچار کرے گا۔

د:اگر بینک اس اصول پر کابند رہے تواس کے عمل سے زر کی مقدار میں بحیثیت مجموعی کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ 


حواشی

۱۔ اسلامی بینکاری پر نظاماتی حوالے سے تنقید کے لیے دیکھیے راقم الحروف کے مضامین: 

  • ’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز‘ ، ماہنامہ الشریعہ اگست تا اکتوبر ۲۰۰۸ 
  • ’سودی بینکاری کے فلسفہ اسلامی متبادل کا جائزہ ‘ ، مضمون مکمل مگر اشاعت کا منتظر ہے 

اس ضمن میں پروفیسر محمد امین صاحب کا مضمون ’اسلامی بینکاری کی شرعی حیثیت: ایک اصولی بحث‘ بھی لائق مطالعہ ہے۔ دیکھئے ماہنامہ محدث، شمارہ ستمبر- اکتوبر ۲۰۰۹، لاہور۔ اس کے علاوہ ماہنامہ ساحل کراچی میں بھی اس موضوع پر قیمتی مواد موجود ہے ۔

۲۔ مجوزین کس طرح تمام سرمایہ دارانہ محرکات اور اداروں کی اسلام کاری کرتے ہیں، اس کی تفصیلات مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب ’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں جس کا تجزیہ راقم نے اپنے مضمون ’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز‘ میں پیش کیا ہے ۔

۳۔ اسلامی بینکاری کے مجوزین علماء کی تحریروں سے مانوس قاری شدت کے ساتھ یہ تاثر لیتا ہے کہ جب خالصتاً دینی مسائل پر ان علماء کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ علم کا کوئی بحر بیکراں ہے جو ایک طرف اسلاف کی کتب کا وسیع مطالعہ رکھتا ہے تو دوسری طرف علم و حکمت کے موتی بکھیرنے میں بھی ید طولیٰ رکھتا ہے، مگر جونہی ان علماء کی ان کتب کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جو دور جدید کے معاشی یا فائنانشل نظاموں سے متعلق ہیں تو حقیقت کچھ یوں عیاں ہوتی ہے گویا یہ سب باتیں کسی سے سن کر یا دوسرے اور تیسرے درجے کے مصنفین کی کتابوں سے پڑھ کر اور حق سمجھ کر لکھ دی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علماء کرام روایتی مکتبہ فکر پر کی جانے والی تنقیدات اور جدیدنظریات سے واقف نہیں ہوتے۔

۴۔ درحقیقت نظریہ بینکنگ ہی نہیں بلکہ جس چیز کو ’اسلامی معاشیات‘ کے نام پر فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ سب نیوکلاسیکل (یا لبرل) اکنامکس ہی کا چربہ ہے۔ چونکہ اسلامی معاشیات کی حیثیت نیوکلاسیکل اکنامکس کے محض ایک فٹ نوٹ (foot-note) کی سی ہے، لہٰذا یہ نیوکلاسیکل نظریہ زر و بینکاری کو مفروضے کے طور پر قبول کرنے پر مجبور ہے۔

۵۔ زر ، اشیاء کی قیمتوں اور ان کی مقدار کا تعلق جس مساوات سے ظاہر کیا جاتا ہے، اسے Quantity Theory of Money کہتے ہیں ۔ یہ مساوات درج ذیل ہے: 

M x V = P x Y

یہاں M سے مراد زر کی رسد  (money supply)۔ V سے  Velocity of money۔ P سے قیمتوں کا اشاریہ (price level)۔ اورY سے مجموعی پیداوار (output or GDP) ہے۔ نیوکلاسیکل مفکرین کے خیال میں Y (مقدار پیداوار)کا انحصار رسد سے متعلق عناصر پر ہوتا ہے لہذا زر کی رسد بڑھانے سے یہ غیر متبدل رہتا ہے۔ اسی طرح V کی مقدار بھی ایک عرصے تک غیر متبدل رہتی ہے، لہٰذا اس مساوات سے ظاہر ہے کہ اگر V اور Y کی مقدار تبدیل نہ ہو اور M میں اضافہ کردیا جائے تو اس کا نتیجہ صرف P یعنی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ مضمون کی مثال میں V کی مقدار ’ایک ‘ فرض کی گئی ہے ۔

۶۔ T-Bill ایک قلیل المدت فائنانشل دعوی ہوتا ہے جو مرکزی بینک حکومت کے لیے قرض پر رقم کے حصول کے لیے جاری کرتا ہے ۔

۷۔ دونوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ T-Bills کے ذریعے حاصل کردہ قرض پر سود کی شرح زیادہ ہوتی ہے جبکہ نوٹوں پر واجب الاداء سود نہایت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ IMF وغیرہ حکومتوں پر یہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ نوٹ چھاپنے کے بجائے T-Bills وغیرہ کے ذریعے قرض حاصل کریں کیونکہ زیادہ سود کی ادائیگی حکومتوں کو کم قرض لے کر زر کی رسد میں کم اضافہ کرنے پر مجبور کرے گی ۔

۸۔ نیوکلاسیکل نظریات میں زر کی رسد کو درج ذیل مساوات کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے: 

M(t) = M(t-1) + G - T - [Bg(t) - Bg(t-1)]

 یہاں M سے مراد زر کی رسد، G سے حکومتی اخراجات، T سے ٹیکس وصولیاں اور Bg سے سرکاری بانڈز ہیں (t اور t-1 سے مراد موجودہ اور پچھلا سال ہے)۔ اس مساوات سے عین واضح ہے کہ زر کی رسد سے مراد وہ حکومتی اخراجات ہیں جو حکومت ٹیکس وصولیوں کے بغیر قرض پر مبنی زر سے پورا کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب اپنی کتاب ’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘ میں زر قانونی کی بات تو کرتے ہیں مگر اس چیز کا کوئی ذکر نہیں کرتے کہ یہ قرض ہوتا ہے ۔

۹۔ نیوکلاسیکل مفکرین کا یہ خیال کہ سرمایہ دارانہ (یعنی قرض پر مبنی ) زر کسی فطری ارتقا کی پیداوار ہے ایک جھوٹا دعویٰ ہے، بلکہ یہ لعنت معاشروں پر بذریعہ ریاستی جبر اور نظام بینکاری مسلط کی جاتی ہے۔ نوعیت و ارتقاء زر پر نیوکلاسیکل مفکرین کے خیالات کے لیے دیکھیے Menger کا مضمون

 On the Origins of Money 

۱۰۔ نیو کلاسیکل اکنامکس کے جدید (مثلاً کنیزین) نظریات میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ زر میں اضافہ اشیاء کی مقدار میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اس صورت میں اشیاء کی قیمتوں اور مقدار دونوں میں کتنا اضافہ ہوگا، اس کا انحصار Elasticity of the supply of goods (رسد کی لچک ) پر ہے، اگر رسد مکمل طور پر غیر لچک دار ہو (جیسا کہ روایتی نیوکلاسیکل مفکرین کا خیال ہے کہ وہ قلیل اور طویل دونوں مدتوں میں ہوتی ہے) تو زر کا نتیجہ صرف و صرف افراط زر ہوتا ہے 

۱۱۔ دیکھئےHayek کی کتاب Prices and Production (1935) یا Money and Banking کی کوئی سی کتاب جیسے The Economics of Money, Banking and Financial Markets by Frederic Mishkin 

۱۲۔ saving-investment equilibrium درحقیقت نیوکلاسیکل macroeconomics میں کسی معیشت کی حالت توازن بیان کرنے کی ایک اہم مساوات ہے، یعنی کوئی معیشت اس وقت حالت توازن میں ہوتی ہے جب وہاں بچتیں سرمایہ کاری کے برابر ہوں ۔

(جاری)

آراء و افکار