’’الشریعہ‘‘ ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کی نظر میں

ادارہ

(وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ترجمان ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کی ربیع الاول ۱۴۳۰ھ کی اشاعت میں ماہنامہ ’’ الشریعہ ‘‘ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’ الشریعہ‘‘ کی پالیسی کومجموعی طور پر ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ ’’ الشریعہ‘‘ کے صفحات گواہ ہیں کہ ہم نے اپنی پالیسیوں پر تنقید واعتراض کا ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے اور اسے شائع بھی کیا ہے، البتہ یہ حسرت ضرور رہی ہے کہ اے کاش! ہمارے علمی حلقوں میں بحث ومباحثہ کا علمی اسلوب آگے بڑھے اور تحکم، طعن وتشنیع اور جدل ومناظرہ کے ماحول سے ہم کسی طرح باہر نکل سکیں، کیونکہ اس سے نہ صرف بحث ومباحثہ کا لطف جاتا رہتا ہے بلکہ اچھی خاصی دلیل بھی بے وزن ہو کر رہ جاتی ہے۔ بہرحال ’’وفاق المدارس‘‘ کے شکریہ کے ساتھ ’’الشریعہ‘‘ کی پالیسیوں پر اس کا تبصرہ من وعن شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تبصرہ میں اٹھائے گئے اہم سوالات اور الشریعہ کی پالیسی کے حوالہ سے ہماری تفصیلی گزارشات اگلے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں۔ رئیس التحریر)


ہمارے سامنے یہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کا نومبر /دسمبر ۲۰۰۸ ء کا شمارہ ہے جو الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ سے مولانا زاہد الرشدی صاحب کی زیر سرپر ستی برسوں سے شائع ہو رہا ہے اور ہمارے پاس ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ میں تبصرے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی صاحب اور مدیر، ان کے بیٹے حافظ عمار خان ناصر صاحب ہیں۔ مولانا زاہد الرشدی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک سیا ل قلم بخشا ہے۔ وہ اپنی بات انتہائی سلیس او ر رواں وشیریں اسلوب میں پڑھنے والے کے دل کے اند ر اتارتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی نسبت بھی بڑی بلند ہے، وہ امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر مدظلہم کے صاحبزادے اور پاکستان گوجرانوالہ کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث ہیں۔ مولانازاہد الرشدی رسالے کے اجرائی مقاصد کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

’’الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے اس ترجمان کی ابتدا اس عزم کے ساتھ ہوئی تھی کہ دور حاضر کے مسائل اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات واحکام کو جدید اسلوب اور تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی، عالم اسلام کے علمی ودینی حلقوں کے درمیان رابطہ ومفاہمت کے فروغ کی راہ ہموار کی جائے گی، اسلام دشمن لابیوں او ر حلقوں کے تعاقب اور نشان دہی کا فریضہ انجام دیا جائے گا اور دینی حلقوں میں فکری بیداری کے ذریعے سے جدید دور کے علمی وفکری چیلنجز کا ادراک واحساس اجاگر کیا جائے گا۔ ان مقاصد کی طرف ہم کس حد تک پیش رفت کر پائے ہیں، اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ (الشریعہ ، ص : ۲، جنوری ۲۰۰۶ء) 

آج جب کہ ہم یہ تبصرہ لکھ رہے ہیں، الشریعہ کی اشاعت کو تقریباً بیس سال مکمل ہونے کو ہیں۔ الشریعہ کی فائلیں دیکھ کر ہمیں انتہائی دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب اس پلیٹ فارم پر اپنے اکابر کی راہ مستقیم سے الگ ہو رہے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ مولانا زاہد الراشدی صاحب کے مقاصد وہی ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے ہیں اور وہ واقعتا انہی مقاصد کے لیے اتنی تگ ودو کر رہے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ الشریعہ کے ذریعے ذہنی اضطراب وانتشار کے علاوہ بظاہر علمی ودینی حلقوں میں اس طرح کی کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ جہاں تک اسلامی تعلیمات کو جدید اسلوب اور تقاضوں کے مطابق پیش کرنا ہے، اسلام دشمن لابیوں اور حلقوں کا تعاقب کرنا ہے اور دور جدید کے علمی وفکری چیلنجز کا ادراک واحساس اجاگر کرنا ہے تو دینی حلقے پہلے بھی یہ فریضہ انجام دے رہے تھے، اب بھی دے رہے ہیں اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی دیتے رہیں گے، لیکن ’’الشریعہ ‘‘کا طرز واسلوب اور حالات وواقعات یہ بتاتے ہیں کہ الشریعہ اکیڈمی کی صورت میں مولانا زاہد الراشدی صاحب جس علمی وفکری ماحول اور معاشرے کی تشکیل دینا چاہتے ہیں، اس کی ایک مثال تحقیق کے نام پر اہل اسلام کے مسلمات سے تجاوز اور قدیم وجدید کے درمیان تطبیق وآہنگی کے نام پر اسلامی احکامات کی حقیقی شکل و صورت کو مسخ کرنے کی صورت میں ان کے بیٹے اور ان کی سرپرستی میں شائع ہونے والے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے مدیر محمد عمار خان ناصر کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ یہ مولانا کی بیس سالہ کاوشوں کا ثمرہ ہے جس کو وہ مختلف افکار ونظریات کے حامل مسلمان اہل علم کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا بتاتے ہیں۔ مولانا بظاہر معروف تجدد پسند جاوید احمد غامدی سے علمی وفکری اختلاف کا اظہار کرتے رہے ہیں، لیکن ان کی علمی وفکری کاوشوں کا ثمرہ اور مرکز ومحور بتاتا ہے کہ وہ غامدی افکار ونظریات کے امین اور اس کی اشاعت وترویج کے لیے اپنی صلاحیتیں پورے طور پر بروے کار لائے ہوئے ہیں۔ مولانا زاہدالراشدی صاحب کے بیٹے او ر ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے مدیر حافظ عمار خان ناصر، جاوید احمدغامدی کے شاگرد وخوشہ چین ہیں اور وہ آزاد خیالی میں انہی کے طرز فکر کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کی تالیفی کاوشیں اور الشریعہ کی فائلیں ہماری اس بات کی شاہد ہیں اور ماہنامہ ’الشریعہ‘ کا اجرا بھی اسی طرز فکر کو پروان چڑھا نے کے لیے کیا گیا۔ خود مولانازاہد الراشدی صاحب کا طرز عمل بھی اس کی تائید کرتا ہے، چنانچہ حال ہی میں مولاناکے بیٹے جناب عمار خان ناصر نے ’’حدود وتعزیرات‘‘ پر کتاب کی تالیف کی جس میں انہوں نے پیغمبر اسلام کے بلند مرتبہ صحابہ پر کیچڑ اچھالا اور کئی طے شدہ اجماعی مسائل سے انحراف بھی کیا ہے۔ اس مختصر تبصرے میں ان کے چند خرافات بطور نمونہ ملاحظہ ہوں: 

 رجم کی تشریعی کا انکار : عمر احمد عثمانی، امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی کی پیروی میں انہوں نے محصن کی حد رجم کا انکار کیا ہے: 

’’سورہ نساء کی آیت ۱۵میں زنا کے جن عادی مجرموں کے لیے عبوری سزا بیان کی گئی ہے، ان کا جرم چونکہ زنا کے عام مجرموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سنگین تھا اور ان میں سے بالخصوص یاری آشنائی کا تعلق رکھنے والے بدکار جوڑے اس عرصے میں توبہ واصلاح کا موقع دیے جانے کے باوجود اپنی روش سے باز نہیں آئے تھے، اس لیے عام جرموں کے برخلاف زنا کے یہ عادی مجرم بدیہی طور پر اضافی سزاؤں کے بھی مستحق تھے، چنانچہ ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی کہ سوکوڑوں کے ساتھ ساتھ ان پر جلاوطنی اور رجم کی اضافی سزائیں بھی نافذکی جائیں ۔۔۔ صدر اول سے اہل علم کی غالب ترین اکثریت کا نقطہ نظریہ رہا ہے کہ عبادہ بن صامتؓ کی روایت اور اس کے علاوہ جلاوطنی اوررجم کی سزا سے متعلق دیگر روایات زنا کے عام مجرموں ہی سے متعلق ہیں اور متعدد روایات سے بظاہر اس رائے کی تائید ہوتی ہے۔ اس رائے کے مطابق ان اضافی سزاؤں کو ہر طرح کے زانی پر قابل اطلاق مانا جائے تو یہ بات بظاہر قرآن مجید کے مدعا سے متجاوز قرار پاتی ہے۔‘‘ (حدود تعزیرات، ص:۱۳۷، ۱۳۸)

★ ارتداد کی شرعی سزا کا انکار : ارتداد کی سزاے موت پر امت کا اجماع ہے، جب کہ انہوں نے دور حاضر میں ارتداد پر سزائے موت نافذ نہ کرنے کے ریاستی قوانین کو بالکل درست قرار دیا ہے: 

’’دورجدید کی بیشتر ریاستوں میں ارتداد پر سزائے مو ت نافذ کرنے کا طریقہ اختیار نہیں کیاگیا جو ہماری رائے میں حکم کی علت کی رو سے بالکل درست ہے۔‘‘ (حدود وتعزیرات ارتداد کی سزا، ص: ۲۲۸)

★ لعا ن دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی مجبوری تھی : قرآن مجید کے واضح حکم ’’لعان ‘‘ کے مقابلے میں دور حاضر کی طبی تحقیقات کو کافی قرار دیا ہے: 

’’قدیم دور میں بچے کے نسب کی تحقیق کا کوئی یقینی ذریعہ موجود نہیں تھا، چنانچہ لعان کے سوا اس معاملے کا کوئی حل ممکن نہیں تھ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی پر الزام لگانے کی صورت میں لعان کا یہ طریقہ اختیار کر کے بچے کے نسب کو عورت کے شوہر سے منقطع کرنا بجائے خود مقصود نہیں، بلکہ ایک عملی مجبوری کا نتیجہ تھا۔ اب اگر دور جدید میں طبی ذرائع کی مدد سے بچے کے نسب کی تحقیق یقینی طور پر ممکن ہے اور اپنے نسب کا تحفظ بجائے خود بچے کا ایک جائز حق بھی ہے تو بیوی کے کہنے پر یا بڑا ہونے کے بعد خو دبچے کے مطالبے پر ان ذرائع سے مدد لینا اور اگر ان کی رو سے بچے کا نسب اپنے باپ سے ثابت قرار پائے تو اسے قانونی لحاظ سے اس کا جائز بیٹا تسلیم کرنا، ہر لحاظ سے شریعت کے منشاکے مطابق ہو گا۔‘‘ (حدود و تعزیرات، ص: ۲۴۸، ۲۴۹)

★ عورت کی نصف دیت کا انکار : عورت کی نصف دیت جیسے اجماعی مسئلے کے بھی وہ منکر ہیں۔ لکھتے ہیں : 

’’اصول فقہ کے ایک طالب علم کو اس بحث میں فقہاے احناف کے اصولی منہج میں بے قاعدگی (inconsistency ) کے اس سوال سے بھی سابقہ پیش آتاہے جس کی مثالیں احناف کی آرا میں جابجا پائی جاتی ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ احناف مسلم اور غیر مسلم کے باہمی قصاص اور غیر مسلم کی دیت کے معاملے میں تو قرآن مجید کے الفاظ کے عموم کی روشنی میں صحابہؓ کے فتاویٰ اور فیصلوں اور قانونی تعامل کو نظرانداز کرتے یا ان کی توجیہ وتاویل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں، لیکن عورت کی دیت کے معاملے میں قرآن مجید کے عموم، صحیح وصریح احادیث اور عقل وقیاس کو نظرانداز کرتے ہوئے نہ صرف عورت کی دیت کو مرد سے نصف قرار دیتے ہیں، بلکہ جراحات میں مرد اور عورت کے مابین سرے سے قصاص ہی کے قائل نہیں۔‘‘ (حدودو تعزیرات، ص: ۱۰۵، ۱۰۶)

★ صحابہؓ معیار حق نہیں : اس میں مزید حدود سے تجاوز کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ صحابہ کا عورت کی نصف دیت پر اجماع کرنا زمانہ جاہلیت کے معاشرتی تصورات اور رسم ورواج سے متاثر ہونے کی بنا پر تھا اور اس سلسلے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوششیں صحابہ میں بار آور نہ ہو سکیں، لہٰذا اس کی وجہ سے صحابہؓ کے آئیڈیل اور معیار ہونے پر انہوں نے سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے: 

’’اگرچہ عورت کے بارے میں جاہلی معاشرے کے بہت سے تصورات اور رسوم کی اصلاح کردی گئی، تاہم بعض تصورات ۔۔۔ جن میں عورت کی جان کی حرمت اور قدر وقیمت کے حوالے سے زیر بحث تصور بھی شامل ہے ۔۔۔ کی اصلاح کی کوشش نتیجہ خیز اور مؤثر نہ ہو سکیں اور صحابہ وتابعین کو معروضی معاشرتی تناظر میں ایسے قوانین تجویز کرنا پڑے جن میں انہی سابقہ تصورات کی عملی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہو۔‘‘ (حدود وتعزیرات، ص: ۱۰۵)

آگے لکھتے ہیں: 

’’منصوص احکام کے ساتھ ساتھ مستنبط اور اجتہادی قوانین و احکام کی وہ عملی صورت جو تاریخ اسلام کے صدر اول میں اختیار کی گئی، مذہبی زاویہ نگاہ سے اس کے آئیڈیل اور معیار ہونے کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔‘‘ (حدود و تعزیرات، ص: ۱۰۵)

★ اجماع کا انکار : چنانچہ اجماع کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

’’یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل واضح ہے کہ علمی وفقہی تعبیرات کے دائرے میں ’’اجماع‘‘ کا تصور ایک علمی ’’افسانہ‘‘ ہے جس کا حقیقت کے ساتھ دور کابھی کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ (مفتی عبدالواحد کی تنقیدات کا ایک جائزہ، ص:۱۳)

ایک اورجگہ لکھتے ہیں: 

’’صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جب کسی صاحب علم کو سابقہ آرا وتوجیہات پر اطمینان نہ ہو تو اسے اس بات کا پابند کرنا کہ وہ ’’اجماع‘‘ ہی کے دائرے میں اپنے آپ کو ضرور مطمئن کرنے کی کوشش کرے، ایک لایعنی بات ہے۔‘‘ (مفتی عبدالواحد کی تنقیدات کاایک جائزہ، ص: ۲۱)

★ صحابہؓ پر طعن وتشنیع : صحابہ کرام پر طعن وتشنیع کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

’’ممکن ہے مولانامحترم کا یہ مفروضہ منافقین کے بارے میں درست ہو، لیکن جہاں تک مخلص اور خدا ترس اہل ایمان کا تعلق ہے تو مستند روایات کی رو سے وہ ایسا (زنا بالجبر) کرنے کی پوری پوری جرأت رکھتے تھے۔‘‘ (مفتی عبدالواحد کی تنقیدات کا ایک جائزہ، ص: ۴۲) 

ایک اور جگہ لکھتے ہیں: 

’’اس معاشرے میں آپ کے تربیت یافتہ اور بلند کردار صحابہؓ کے علاوہ منافقین اور تربیت سے محروم کمزور مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو مختلف اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلاتھی ۔۔۔ اس طرح کے گروہوں میں نہ صرف پیشہ ورانہ بدکاری اور یاری آشنائی کے تعلقات کی مثالیں پائی جاتی تھیں بلکہ اپنی مملوکہ لونڈیوں کو زنا پر مجبور کر کے ان کے ذریعے سے کسب معاش کا سلسلہ بھی جاری وساری تھا۔‘‘ (مفتی عبدالواحد کی تنقیدات کا ایک جائزہ، ص: ۴۳) 

یہ اور اس طرح کے دیگر انحرافات کے باوجود ’’حدود وتعزیرات‘‘ نامی اس کتاب پر مولانازاہد الراشدی صاحب نے دیباچہ لکھا ہے اور اپنے بیٹے کی اس کاوش کو سراہا ہے۔ ان کا یہ دیباچہ ’’الشریعہ‘‘ میں بھی شائع ہو ا ہے۔ اگر اس میں غور وفکر کی جائے تو اس کی پوری عبارت ڈانواں ڈول نظر آتی ہے، ان کی تعبیرات میں پیچ و خم ہے، اس میں حفظ ما تقدم کے لیے سابقے اور لاحقے کے طور پر ’’شرطیہ جملوں‘‘ اور ’’استثنائی تعبیرات‘‘ کا سہار ا لیا گیا ہے، اس غلط روش کی روک تھا م کے بجائے آخر میں مولانا نے اہل علم سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مسائل میں بحث ومباحثے کو آگے بڑھا ئیں، حالانکہ یہ مسلمہ اجماعی مسائل ہیں، اجتہادی نہیں ہیں۔ اس کے باوجود مولانا لکھتے ہیں:

’’عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے اس علمی کاوش کا سلسلہ آگے بڑھایا ہے اور زیادہ وسیع تناظر میں حدود وتعزیرات اور ان سے متعلقہ امور ومسائل پر بحث کی ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے ہر پہلو سے اتفاق کیا جائے، البتہ اس کاوش کا یہ حق ضرور بنتا ہے کہ اہل علم اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، بحث ومباحثے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے مثبت ومنفی پہلوؤں پر اظہار خیال کریں اور جہاں غلطی محسوس کریں، اسے انسانی فطرت کا تقاضا تصور کرتے ہوئے علمی مواخذہ کا حق استعمال کریں تاکہ صحیح نتیجے پر پہنچنے میں ان کی معاونت بھی شامل ہو جائے۔‘‘ ( ص: ۱۳)

اسی ’’دیباچے‘‘ میں مولانازاہد الراشدی صاحب اپنے بیٹے کی تحریفات کو جواز فراہم کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

’’آج کے نوجوان اہل علم، جو اسلام کے چودہ سوسالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم وجدید میں تطبیق کی کوئی قابل صورت نکل آئے، مگر انھیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت ’’قدامت پرستی‘‘ اور ’’تجدد پرستی‘‘ کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے، میں ان کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتا ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔‘‘ (حدود وتعزیرات، ص: ۱۳)

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی ماحول اور جدید گلوبلائزیشن کے وہ کون سے تقاضے ہیں جن کا مولانا زاہد الراشدی صاحب بار بار ذکر کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے وہ قدیم وجدید میں تطبیق کی قابل قبول صورت نکالنے کے خواہاں ہیں۔ یہ و قت ہو سکتا ہے جب نعوذ باللہ اس سے پہلے اسلامی احکام جدید دورکے تقاضوں پر پورا نہ اترتے ہوں اور اب ان کو جدید کے مطابق بنانے کے لیے کوئی ایسی صورت بھی نکالی جائے اور وہ صورت بھی قابل قبول ہو۔ پھریہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کون سی اتھارٹی ہے جو قبولیت کے اس معیار کومقررکرے گی۔ ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ ’’دیباچہ‘‘ حدود وتعزیرات کی ایک ایسی کتاب کے لیے لکھاگیا ہے جس میں مغرب واہل استشراق کی طرف سے اسلامی حدودپر کیے گئے اعتراضات کو عملی جامہ پہنانے، انہیں اسلامی احکام کالبادہ اوڑھانے اور پوری فقہ اسلامی کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا ایسے مرعوب ذہنوں کے دکھ درد اور مشکلات کو بھی سمجھتے ہیں اور دینی احکام کی کتروبیونت پر ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ 

’الشریعہ‘ کے زیر تبصرہ شمارے میں ایک کالم نگار تبلیغی جماعت کے متعلق لکھتے ہیں: 

’’تبلیغی جماعت کے لوگوں کی سادگی، اخلاص اور محنت اپنی جگہ، لیکن اسلام کے کسی ایسے تصور کو صحیح کیسے سمجھا جا سکتاہے جو امت کی اجتماعی، سیاسی اور تہذیبی زندگی سے صرف نظر کرتا ہو، اسے اہمیت نہ دیتا ہو اور ان پر منفی طور پر اثرانداز ہونے والے عوامل کے رد کو نہی عن المنکر کے اسلامی تصور کا حصہ نہ سمجھتا ہو ۔ لہٰذا ہم تبلیغی جماعت او راس سے ملتی جلتی تنظیموں کے مؤقف کو اسلامی حوالے سے امت مسلمہ کے سیاسی اور تہذیبی مستقبل کے تناظر میں غیر مفید بلکہ نقصان دہ سمجھتے ہیں۔‘‘ (ص: ۲۰، ۲۱) 

حالانکہ وقت کے تما م اکابر نے تبلیغی جماعت کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تبلیغی جماعت امت کی اجتماعی، سیاسی اور تہذیبی زندگی سے صرف نظر نہیں کرتی بلکہ افراد پر محنت کر کے اس کے لیے ماحول اور راہ ہموار کرتی ہے۔ وہ ایسے افراد مہیا کرتی ہے جو اپنی نظریاتی وفکری زندگی کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں بھی اسلامائزیشن کے داعی ہوں۔ آپ کی سیاسی وفکری تنظیمیں اور افراد نے مل کر بھی اس دور میں اتنے نظریاتی وعملی زندگی سے بہرہ ور افراد مہیا نہیں کیے جتنے ایک تبلیغی جماعت نے اخلاص وللّٰہیت کو سامنے رکھتے ہوئے کیے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں انہوں نے اسلامی لگن اور فکر کو عام کیا ہے۔ اس دور کے ’’نام نہاد‘‘ فکری ونظریاتی افراد اور تنظیموں نے نام ونمود اور چودھراہٹ کی خاطر اسلامی سیاست، نظریات اور فہم وتدبر کے حوالے سے معاشرے میں جو پیچیدگیاں اور الجھنیں پیدا کی ہیں، انہوں نے امت کو انتشار وتشتت کے علاوہ اور کیا دیا ہے؟ مثال کے لیے خود مضمون نگار، مولانا زاہد الراشدی صاحب، عمار خان ناصر اور غامدی جیسے افراد اور ان کی اکیڈمیوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ 

ایک صاحب مجاہدین کے جذباتی رویے پر تنقید کرتے ہیں اور انہیں اسلامی احکام کی پاسداری کی تلقین کرتے ہیں، لیکن خود ان کا اپنا اسلوب اسلامی احکام پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ ہے : 

’’ دارالحرب ودارالاسلام کی تقسیم کون سی آسمان سے نازل شدہ ہے کہ جس کا خلاف جائز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہا نے اپنے زمانوں میں مسلمانوں کو بعض مسائل سمجھانے کے لیے یہ تقسیم پیش کی تھی کہ جس کا شریعت سے سرے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ (ص ۸۸)

الشریعہ کے ارباب اہتمام کی تحریروں اور الشریعہ کی فائلوں میں دینی طبقوں کے لیے ’’روایتی‘‘، ’’قدیم‘‘، ’’کلاسیکل‘‘، ’’قدامت پسند‘‘، ’’رجعت پسند‘‘ وغیرہ جیسے الفاظ کا استعما ل کیا جاتا ہے اور اپنی تحریروں کو زرق برق بخشنے اور پر کشش بنانے کے لیے دیگر تجدد پسندوں کی طرح یہ حضرات بھی ’’عالمی ماحول‘‘، ’’عالمی ثقافت وتہذیب‘‘، ’’جدید قانونی فکر ‘‘، ’’قدیم وجدید‘‘، ’’ جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی تقاضے‘‘ وغیرہ جیسی مغرب سے درآمد شدہ اصطلاحات کا استعما ل کرتے ہیں اور یہی ان کا منبع علم ہے۔ مصر میں بھی جدت پسندوں نے انہی اصطلاحات وتعبیرات کا استعمال کیا اور اسی کو انہوں نے کامیابی کا زینہ سمجھا۔ 

اس طرح کے تجاوزات اگر غیر مقلد، منکر حدیث، مودودی فکر سے وابستہ یا ان کے علاوہ کو ئی اور آزاد منش لوگ کرتے تو ہماری طرف سے ان کی سختی سے تردید کی جاتی اور عوام الناس کو اس سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی، لیکن کیا مولانا زاہد الراشدی صاحب اور ان کے بیٹے عمار خان ناصر کو دین اور اسلامی روایات کو توڑنے پھوڑنے کی اجازت اس لیے حاصل ہے کہ وہ امام اہل سنت حضرت مولاناسرفراز خان صفدر کے علی الترتیب بیٹے اور پوتے ہیں، جب کہ خود حضرت کی شبانہ روز کوششیں باطل عقائد ونظریات کا قلع قمع کرنے میں صَرف ہوئی ہیں! ہم اس وقت وہی بات دہرائیں گے جو مولانا سید مناظر احسن گیلانی ؒ نے مولاناعبیداللہ سندھی ؒ کے تسامحات پر تنقید کرتے ہوئے کہی تھی : 

’’میرا تو مقصود ہی اس سے ع ’’حدی را تیز ترمی خواں چو ذوق نغمہ کم یابی‘‘ تھا۔ یہی بتاناچاہتاتھا کہ وہ ہماری جماعت ہی کا آدمی کیوں نہ ہو، لوگوں میں اس کی بڑائی جس حد تک بھی مسلم ہو، لیکن حق کا قدم جب درمیان میں آئے گا تو پھر کسی کا لحاظ نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ کوئی ہو۔ ’’ولو ان فاطمۃ بنت محمد اعاذھا اللہ تعالیٰ سرقت لقطعت یدھا‘‘ ہمارے دین کا امتیازی نشان ہے‘‘۔ (پرانے چراغ، حصہ اول، ص: ۸۷)

ہم سب سے پہلے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اکابر سے گزارش کرتے ہیں کہ مولانازاہدالراشدی صاحب وفاق کی ’’مجلس عاملہ‘‘ کے رکن ہیں، لہٰذا وہ حضرات انہیں فکری کج روی سے روکیں، اکابر دیوبند کے طرز فکر پر رہنے کی تلقین کریں اور اس کی پاسداری کا ان کو پابند بنائیں۔ اسی طرح ہمیں ’’مدرسہ نصرۃ العلو م گوجرانوالہ‘‘ کے اصحاب اہتمام سے بھی شکوہ ہے کہ ان کے شیخ الحدیث کی نگرانی میں اسلامی حدود سے تجاوزات اور انہیں موضوع بناکر جس انداز سے چیلنج کیا جا رہا ہے، یہ اکابر دیوبند کے طرز واسلوب سے بھی میل نہیں کھاتا اور نہ ہی مدرسہ نصرۃ العلوم کے اکابر کے مزاج ومذاق اور اسلوب سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس پر انہوں نے ابھی تک کسی قسم کا نوٹس نہیں لیا۔ وہ انہیں سمجھائیں، بجھائیں اور نصرۃ العلوم کے دینی ومسلکی وقار کو برقرار رکھیں۔ 

حالات و واقعات