اپریل ۲۰۰۹ء

چند روز ہانگ کانگ میں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی دعوت پر ’’تذکرہ خیر الوریٰ‘‘ کے عنوان سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقد ہونے والے متعدد اجتماعات میں شرکت کے لیے ۵؍ مارچ سے ۹؍ مارچ تک ہانگ کانگ میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ شجاع آباد ضلع ملتان میں ہمارے ایک بزرگ دوست مولانا رشید احمد تھے جن کا قائم کردہ مدرسہ جامعہ فاروقیہ ایک عرصہ سے تعلیمی ودینی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ان کے فرزند مولانا مفتی محمد ارشد یہاں کی ایک بڑی مسجد ’’کولون جامع مسجد‘‘ کے امام وخطیب ہیں جبکہ شورکوٹ سے تعلق رکھنے والے مولانا قاری محمد طیب...

حدیث و سنت کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حدیث وسنت کے بارے میں محترم جناب جاوید احمد غامدی کی مختلف تحریرات کے حوالہ سے راقم الحروف نے کچھ اشکالات ’’الشریعہ‘‘ میں پیش کیے تھے اور غامدی صاحب سے گزارش کی تھی کہ وہ ان سوالات و اشکالات کے تناظر میں حدیث و سنت کے بارے میں اپنے موقف کی خود وضاحت کریں تاکہ اہل علم کو ان کا موقف سمجھنے میں آسانی ہو۔ غامدی صاحب محترم نے اس گزارش کو قبول کرتے ہوئے ماہنامہ ’’اشراق‘‘ کے مارچ ۲۰۰۹ء کے شمارے میں اپنا موقف تحریر فرمایا ہے جسے ان کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہم کچھ مزید معروضات بھی پیش کر رہے ہیں۔ غامدی...

اسلامی بینکنگ پر اختلافات ۔ اکابر علما کے ارشادات کی روشنی میں چند اصولی باتیں

― پروفیسر عبد الرؤف

ملک سے سود ختم کرنے کے سلسلے میں ابتدائی کوشش کے طور پر اسلامی بینکاری نظام رائج کیا گیا۔ چند اسلامی بینکوں میں سے ’’میزان بینک‘‘ کی ابتدا، ۲۰۰۱ء میں ہوئی۔ سات سال کا عرصہ گزر چکا، ملک بھر میں اس کی شاخیں بڑھتے بڑھتے ۱۶۶ تک پہنچ چکی ہیں۔ ایک بینک’’ بینک الاسلامی‘‘ دو تین سال کے اندر ملک بھر میں ۱۰۲ شاخیں قائم کر کے کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شاید ایک دو اور بینک بھی اسلامی بینکنگ کر رہے ہیں۔ سات سال تک اسلامی بینکنگ رائج رہنے کے بعد اہل فتویٰ علماے کرام نے اس سے شد ید اختلاف کرتے ہوئے مروجہ اسلامی بینکاری کو قطعی غیر شرعی اور غیر اسلامی...

حضرت شیخ الحدیث کے اساتذہ کا اجمالی تعارف

― مولانا محمد یوسف

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صاحب صفدر پر منعم حقیقی کایہ خصوصی فضل وانعام تھاکہ ان کو اپنے وقت کی بلند پایہ اور گرا نمایہ علمی شخصیتوں کے خرمن علم سے خوشہ چینی کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپ کو جن اصحاب فضل وکمال کے دامن فضل سے وابستگی اور سر چشمہ علم وفن سے کسب فیض اور اکتساب علم کا شرف حاصل ہوا، ا ن میں سے اکثر اس زمانہ کے عبقری اور علم وفن کی آبرو تھے۔ ان اصحاب علم وکمال کے بارے میں کچھ لکھنا بلا مبالغہ سورج کا تعارف کرانے کے مترادف ہوگا، مگر چونکہ صاحب سوانح کی سوانح حیات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ان نفوس قدسیہ کا تذکرہ نہ ہو جن...

غامدی صاحب کے تصور ’سنت‘ پر اعتراضات کا جائزہ (۴)

― سید منظور الحسن

اپنے ہی تصور سنت سے انحراف۔ فاضل ناقد نے بیان کیا ہے کہ غامدی صاحب نے سنت کی تعیین کے جو اصول قائم کیے ہیں ، بعض اطلاقات میں خود ان کی خلاف ورزی کی ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے بیان کیا ہے کہ ’’وہ چیزیں جو محض بیان فطرت کے طور پر آئی ہیں، وہ بھی سنت نہیں ہیں۔‘‘ اس اصول سے انحراف کرتے ہوئے انھوں نے بعض فطری امور مثلاً بدن کی صفائی سے متعلق احکام کو فطرت میں شامل کر رکھا ہے۔ اسی طرح وہ تواتر اور اجماع سے ثابت امور کو اصولاً سنت مانتے ہیں، جبکہ ڈاڑھی اور سر کے دوپٹے کو اس معیار پر پورا اترنے کے باوجود سنت تسلیم نہیں کرتے۔ (فکر غامدی ۵۸، ۶۳۔۶۵)۔ گذشتہ...

’’الشریعہ‘‘ ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کی نظر میں

― ادارہ

(وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ترجمان ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کی ربیع الاول ۱۴۳۰ھ کی اشاعت میں ماہنامہ ’’ الشریعہ ‘‘ کے نومبر/دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’ الشریعہ‘‘ کی پالیسی کومجموعی طور پر ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ ’’ الشریعہ‘‘ کے صفحات گواہ ہیں کہ ہم نے اپنی پالیسیوں پر تنقید واعتراض کا ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے اور اسے شائع بھی کیا ہے، البتہ یہ حسرت ضرور رہی ہے کہ اے کاش! ہمارے علمی حلقوں میں بحث ومباحثہ کا علمی اسلوب آگے بڑھے اور تحکم، طعن وتشنیع اور جدل ومناظرہ کے ماحول سے ہم کسی طرح باہر نکل سکیں، کیونکہ اس سے نہ...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم محمد عمار صاحب۔ السلام علیکم۔ اپنے تنقیدی مضمون ’’مقام عبرت‘‘ پر آپ کا لکھا ہوا جوابی جائزہ پڑھا۔ ساتھ ہی جائزہ کی وصولی کی رسید بھی حاضر ہے۔ اس جائزہ سے متعلق صرف چند باتیں پیش خدمت ہیں۔ ۱۔ پہلے تو ہمیں آپ سے یہ شکایت تھی کہ آپ اجماع کے ثبوت کو مشکوک بناتے ہیں۔ اب تو آپ نے امام شافعی ؒ اور امام رازی وغیرہ رحمہا اللہ کے حوالوں سے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ ’’یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل واضح ہے کہ علمی وفقہی تعبیرات کے دائرے میں اجماع کا تصور محض ایک علمی افسانہ ہے جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘‘ (ص ۱۳)۔ حالانکہ امام شافعیؒ وامام احمد...

مولانا قاری خبیب احمد عمر کا سانحہ ارتحال

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ دنوں میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہو گیا ہے جو ایک متحرک دینی جماعت ’’تحریک خدام اہل سنت‘‘ کے صوبہ پنجاب کے امیر اور ملک کے معروف دینی ادارہ’’ جامعہ تعلیم الاسلام‘‘ جہلم کے مہتمم تھے۔ وہ ایک ماہ قبل برطانیہ کے تبلیغی دورے پر گئے اور نوٹنگھم میں اپنی بیٹی کے ہاں قیام پذیر تھے کہ انھیں نمونیہ کی تکلیف ہوگئی۔ اسی حالت میں تکلیف کے باوجود انہوں نے بریڈ فورڈ کی ایک مسجد میں جمعہ پڑھایا جس سے تکلیف بڑھ گئی۔ انہیں برمنگھم کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا۔ بلڈ پریشر میں بہت زیادہ کمی ہو جانے کے باعث گردوں، جگر اور پھیپھڑوں...

پاکستان میں ورلڈ اسلامک فورم کے حلقہ کا قیام

― ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل اور ابراہیم کمیونٹی کالج لند ن کے استاد حدیث وفقہ مولانامفتی برکت اللہ گزشتہ ماہ پاکستان تشریف لائے اور ادارہ علوم اسلامی اسلام آباد میں مولانا فیض الرحمن عثمانی اورا ن کے رفقا کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیالات کے علاوہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے تقاضے‘‘ کے عنوان پر منعقد ہونے والے سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، نیز لاہور میں اپنے شیخ حضرت سید نفیس شاہ الحسینی ؒ کی خانقاہ میں حلقہ احباب اور رفقا سے ملاقاتیں کیں۔ مولانا مفتی برکت اللہ نے، جو دارالعلوم دیوبند کے...