شرعی سزاؤں میں ترمیم و تغیر کا مسئلہ

حافظ محمد سلیمان

موجودہ دور میں فرد کی تقدیس و احترام میں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے اور اس کو پوری معاشرتی زندگی کا محور ومرکز قرار دیتے ہوئے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام کی سزائیں وحشیانہ، ظالمانہ اور متشددانہ ہیں اور ان کے ذریعے معاشرہ میں خونریزی اور بربریت وجود میں آتی ہے۔ نیز یہ سزائیں درحقیقت قدیم زمانہ کے وحشیوں کے لیے وضع کی گئی تھیں۔ چونکہ معاشرہ مسلسل ترقی کی طرف رواں دواں ہے، لہٰذا اب ان سزاؤں کو نافذ کرنا موجودہ انسانی معاشرہ کے ساتھ ناانصافی اور سراسر ظلم ہے، اس لیے اسلامی سزاؤں کو کالعدم قرار دے کر یا ان میں ترمیم کرکے عصرحاضر کے مزاج کے مطابق سزائیں رائج کی جانی چاہییں اور مثال کے طور پر قتل کے بدلے میں قتل جیسی سزا کو عمر قید میں بدل دیا جانا چاہیے۔ 

یہاں تین امور پر الگ الگ غور کرنا ضروری ہے:

(۱) کیا اسلامی سزائیں وحشیانہ اور بے انصافی پر مبنی ہیں اور خونریزی وبربریت کو جنم دیتی ہیں؟

(۲) کیا یہ سزائیں صرف زمانہ قدیم کے لوگوں کے لیے وضع کی گئی تھیں؟ 

(۳) کیا نصوص قطعیہ سے ثابت ہونے والی سزاؤں کو کالعدم کر نے یا ان میں ترمیم کرنے کا ارباب اقتدار کو اختیار حاصل ہے؟

وحشیانہ سزائیں؟

پہلا اعتراض یہ ہے کہ اسلامی سزائیں وحشیانہ اور ناانصافی پر مبنی ہیں اور ان سے خونریزی اور بربریت جنم لیتی ہے۔ اگراس مفروضہ کا بنظرغائر جائزہ لیا جائے تو بالکل مہمل اور غلط نظر آتا ہے، اس لیے کہ اسلامی سزائیں نہ تو وحشیانہ ہیں اور نہ ہی بے انصافی پر مبنی ہیں، بلکہ یہ سزائیں عدل وانصاف کا تقاضا اور امن وامان کو قائم رکھنے کی ضمانت ہیں۔ مثال کے طورپر قتل کی صورت میں مقتول کے ورثا کے لیے حصول حق کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں: یا تو ورثاے مقتول قاتل کو اسی طرح منطقی انجا م تک پہنچا دیں جیساکہ اس نے فساد فی الارض کا ارتکاب کیا ہے اور یا قاتل پر رحم کھاتے ہوئے اس سے خون بہا (دیت) لینے کا طریقہ اختیار کر لیں۔ دیکھا جائے تو یہ عین انصاف اور عقل کا تقاضا تھا کہ مقتول کے ورثا کو ان کا حق کسی نہ کسی صورت میں ملے۔ اس کو وحشیانہ اور ظالمانہ سلوک کہنا کسی طرح درست نہیں، اس لیے کہ ایک شخص نے ناحق طور پر خون بہایا اور ملک میں بدامنی اور فساد کا بیج بویا ہے، تو اب وہ اس چیز کا سزاوار ہے کہ اس کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ ورثاے مقتول کے جذبہ انتقام کو تسکین ملے اور دوسرے لوگوں کے سامنے ایک انسان کے قاتل کا منطقی انجام آجائے اور وحشت وبربریت کو پروان چڑھنے کا موقع نہ ملے۔ اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ ’ولکم فی القصاص حیوۃ یا اولی الالباب لعلکم تتقون‘ (البقرۃ،۲:۱۷۹) ’’اے اہل فہم! تمہارے لیے (قانون)قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم بچو۔‘‘ اسلامی دستور میں اعلان کیا گیا ہے ہر مومن کی اور امت کے ہر فرد کی زندگی یکساں قابل احترام ہے۔ مرد ہو، عورت ہو، آزاد ہو، غلام ہو، کوئی بھی ہو، جس کا جو قاتل ہو گا وہی سزا پائے گا۔ پھر سزا بھی مماثلت ومساوات پر مبنی ہے۔ (المائدۃ، ۵: ۳۲) اس کے ساتھ اسلامی قانون قصاص میں عفو کے پہلو پر بھی توجہ دی گئی ہے کہ اگر ورثاے مقتول معاف کر دیتے ہیں تواسلامی قانون اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ شریعت موسوی میں تو خون کا بدلہ صرف خون تھااور تورات میں اس طرح کی تصریحات موجود ہیں کہ ’’جو انسان کو مارڈالے گا، وہ مار ڈالا جائے گا‘‘ (احبار، ۲۴:۱۷)، ’’جو انسان کو مار ڈالے، جان سے مارا جائے‘‘ (احبار، ۲۴:۲۱)، ’’توڑنے کے بدلہ توڑنا، آنکھ کے بدلہ آنکھ، دانت کے بدلہ دانت، جیسا کوئی کسی کا نقصان کرے ، اس سے ویسا ہی کیا جائے‘‘ (احبار، ۲۳: ۲۰)، مگرشریعت اسلامیہ نے صاحب حق کو عفو کے پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ (البقرۃ، ۲:۱۷۸) ایک طرف قصاص کی بظاہر سختی، دوسری طرف دیت اور عفو کی نرمی، یہ حسن امتزاج اور اعتدال وتوازن کا یہ مکمل قوام اسی قانون کا حصہ ہو سکتا ہے جوبشری دماغ سے نہیں، حکمت مطلقہ سے نکلا ہوا ہو۔

انسانی تمدن کی بنیاد جس قانون پر قائم ہے، اس کی سب سے پہلی دفعہ یہ ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے۔ اس لیے تمام حقوق میں سب سے زیادہ اہم حق جان کا تحفظ ہے کیونکہ زندگی کے تحفظ کے بغیر ایک تو انفرادی ترقی ناممکن ہے، دوسرا اجتماعی طورپر کوئی بہتر معاشرہ بھی وجود میں نہیں آ سکتا اور جب تک زندگی کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہ ہو، زندگی کے مقاصد کا حصول ناممکن ہو جاتاہے ۔ انسان کے مدنی حقوق میں اولین حق زندہ رہنے کا حق ہے اور اس کے مدنی فرائض میں سے اولین فرض زندہ رہنے دینے کا فرض ہے۔ کسی ذاتی فائدہ کی خاطر یاکسی ذاتی عداوت کی خاطر اپنے ایک بھائی کو قتل کرنا بدترین قساوت اور انتہائی سنگ دلی ہے جس کا ارتکاب کر کے انسان میں کوئی اخلاقی بلندی پیدا ہونا تو درکنار، اس کادرجہ انسانیت پر قائم رہنا بھی محال ہے۔ 

ایک اور جہت سے دیکھاجائے تو سزائیں ایسی وضع کی جانی چاہییں جن سے فرد اور معاشرہ کی اصلا ح مقصود ہو اور مجرم دست اندازی سے رک جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجرم کو نرم سزا مل جانے کے بعد وہ جرائم میں ملوث اور دندناتا پھرتا رہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسی سزا دی جائے جو خوف ناک اور دوسروں کے لیے سامان عبرت ہو۔ یہ مذکورہ صفات اسلامی سزاؤں میں بخوبی پائی جاتی ہیں۔ قرآن حکیم میں اسی پہلو کے پیش نظر حکم دیا گیا ہے کہ زانی مرد وعورت کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو موجود رہنا چاہیے۔ (النور:۲) اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ مقصود محض سزا ہی نہیں بلکہ سزا کو عبرت کا ذریعہ بنانا ہے کہ خود فرد کی بھی اصلاح ہو اوراس سزا کی نمائش سے دیگر افراد معاشرہ بھی عبرت پکڑیں۔ 

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ اسی پہلو کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مجرم کے لیے بتقاضاے عقل ایسی سزا ہونی چاہیے کہ اس کامرتکب اپنے معاشرے میں نفور کی نگاہ سے دیکھا جائے اور ساری زندگی سوسائٹی کے دیگر افراد کے لیے سامان عبرت بنا رہے اور اس کے انجام کو دیکھ کر بہت کم لوگ اس قسم کے جرائم کرنے کی جسارت کریں گے اور اگر ایسی سزائیں نافذ نہ کی جائیں تو معاشرہ کشت وخون سے بھر جائے گا اور لوگوں کے حقوق پامال ہوتے رہیں گے۔ شاہ صاحب ؒ لکھتے ہیں کہ اس طرح کے جرائم میں محض آخرت کا خوف دلانا اور نصیحت کرنا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ایسی سخت اور عبرت آموز سزا مقرر کی جائے کہ معاشرہ کے دیگر افراد کے لیے سامان عبرت بنا رہے اور لوگ اسی قسم کے فعل کی جرات نہ کریں۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ۲: ۱۵۸)

اس اعتراض کا ایک اور پہلو سے بھی جواب دیا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ قوانین شرعیہ اور قوانین وضعیہ کے مابین نتائج وعواقب کے اعتبار سے پائے جانے والے فرق کو سمجھ نہیں پاتے۔ شریعت اور وضعی قانون دونوں اس بات پر تو متفق ہیں کہ جرائم کا سد با ب ہو نا چاہیے تاکہ سوسائٹی کے نظام امن میں کوئی خلل واقع نہ ہو، چنانچہ شریعت اور وضعی قانون دونوں، جرائم کے سدباب کے لیے قوانین وضع کرتے ہیں،لیکن فرق یہ ہے کہ قوانین شرعیہ کی بنیادا ور زاویہ نگاہ جرائم کے سد باب کے ساتھ ساتھ ’’اخلاق فاضلہ‘‘ پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ شارع چاہتا ہے کہ اخلاقی اقدار کا پورا پورا تحفظ کیا جائے، اس لیے ہر غیر اخلاقی یا مخرب اخلاق فعل پر سزائیں وضع کی گئیں ہیں۔ اس کے برخلاف قوانین وضعیہ کو انفرادی اخلاق سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، البتہ اگر غیر اخلاقی فعل سے کسی دوسرے فردیا جماعت کے نظام یاامن عامہ کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو تو پھر قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ مثلاً زنا کو لیجیے۔ اگر عورت اورمرد دونوں اپنی رضامندی سے زنا کا ارتکاب کریں تو وضعی قانون اس سے کوئی تعرض نہیں کرتا کیونکہ یہ افراد کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن اگر زنا بالجبر ہوتو چونکہ یہ فعل ایک دوسرے فرد کے حق میں اس کی مرضی کے خلاف مداخلت ہے، اس لیے وضعی قانون اس میں دست اندازی کرے گا۔ لیکن شریعت زنا کو ایک غیر اخلاقی عمل سمجھتی ہے، اس لیے اس کا ارتکاب خواہ جانبین کی رضا مندی سے ہو یا بالجبر، شریعت اسے مستوجب سزا قرار دے گی۔ شریعت کایہ اصول ہے کہ اگر افراد کے اخلاق خراب ہوں گے تو جماعت بھی خراب ہو جائے گی۔ مزید برآں قوانین وضعیہ بشری میلانات ورجحانات اور انسانی کمزوریوں سے مبرا نہیں ہو سکتے، جبکہ قوانین شرعیہ منزل من اللہ ہونے کی وجہ سے بے عیب اور تقاضاے فطرت کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک میں اسلامی قوانین کی بجائے صرف قوانین وضعیہ پر عمل درآمد ہوتا ہے، وہاں عائلی نظام شکست وریخت کاشکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برخلاف جہاں جہاں بھی قوانین شرعیہ کاعملی نفاذ ہوتا ہے وہاں پرشرپسند اور دون فطرت عناصر اپنے کردار کش اقدامات سے رک جاتے ہیں اور معاشرہ کو سکون قلب اور روحانی طمانینت میسر آ جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے اسلامی حدودکی وجہ نفاذ یہی بتلائی ہے کہ بعض معاصی جن کے ارتکاب پر شریعت نے حد مقرر کی ہے، یہ وہی معاصی ہیں جن کے ارتکاب سے زمین پر فساد پھیلتا ، نظام تمدن میں خلل واقع ہوتا اور مسلمانوں کے معاشرے کی طمانینت اور سکون قلب رخصت ہوجاتا ہے۔ (جحۃ اللہ البالغہ:۲،۱۵۸) 

کیا اسلامی سزائیں آفاقی نہیں؟

دورحاضر میں اسی نوعیت کا یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ درحقیقت یہ اسلامی سزائیں مخصوص زمان ومکان میں مخصوص تمدنی مزاج اور معاشرتی عادات واطوار کو ملحوظ رکھتے ہوئے تجویز اور وضع کی گئیں تھیں اور اب چونکہ زمانہ میں ارتقا آگیا ہے اور وہ مخصوص تمدنی مزاج اور معاشرتی عادات واطوار نہیں رہے جن کی بنیاد پر اس طرح کی اسلامی سزائیں نافذ کی گئی تھیں، لہٰذا ضروریات زمانہ کو سامنے رکھتے ہوئے ان اسلامی سزاؤں میں تجدید وترمیم کرنا ہو گی اور عصر حاضر میں ان اسلامی سزاؤں کو بعینہ رائج اور نافذ کرنا موثر اور موزوں نہیں ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ جدید ذہن مختلف تمدنی اور نفسیاتی عوامل کے تحت اسلامی سزاؤں سے اجنبیت محسوس کرتا ہے اور اس بات کاامکان ہے کہ ان سزاؤں کا نفاذ نفسیاتی طورپر دین سے دوری کا سبب بن جائے، اس لیے مصلحت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان اسلامی سزاؤں کے نفاذ کو روک دیا جانا چاہیے۔ اس کی تائید میں سیدنا عمرؓ کے عمل کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دورحکومت میں قحط سالی کی زمانہ میں چور کے لیے قطع ید کی سزا کے نفاذ پر عمل در آمد روک دیا تھا جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان شرعی سزاؤں کا نفاذ ہر حالت میں ضرور ی نہیں ہے۔ 

اس اعتراض کا جواب یہ ہے نصوص شرعیہ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اسلامی سزائیں محض مخصوص سماج کی معاشرتی عادات واطوار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے وضع نہیں کی گئی تھیں بلکہ اس کا مقرر کیا جانا اور ان کا نفاذ خداے عزوجل کے حق کے طور پر تھا۔ لہٰذا شارع کے حکم کے بغیر علمی وعقلی طو ر پر ان میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ چنانچہ جب یہودیوں نے تورات میں مقرر کردہ بعض سزاؤں کو سنگین تصور کرتے ہوئے بعض مقدمات اور فیصلوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نرمی کی توقع کرتے ہوئے آپ کی طرف رجوع کیا تو قرآن مجید نے اس عمل یہود پر سخت تنقید کی اور فرمایا کہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے، پھر یہ اس کوچھوڑ کر آپ کو کیسے حکم بنا سکتے ہیں؟ (مائدہ۵:۴۳) نبی علیہ السلام نے اس مقدمے میں مجرموں پر تورات کے مطابق سزا نافذ فرمائی اور پھر فرمایا: اللھم انی اول من احیاک امرک اذ اماتوہ۔ ’’ اے خدا! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جب کہ ان لوگوں نے اسے مردہ کر رکھا تھا۔ (مسلم: رقم ۳۲۱۲) 

جہاں تک اسلامی سزاؤں کے نفاذ کی وجہ سے دین سے دوری کی بات ہے تو یہ بات اس حد تک درست ہے کہ دین کے احکام پر موثر عمل درآمد ان کی اعتقادی واخلاقی اساسات پر مضبوط ایمان اور شکوک وشبہات کو ازالہ کیے بغیر ممکن نہیں، تاہم اس نکتہ کی بنیاد پر شرعی سزاؤں کو جدید دور میں کلیتاً ناقابل نفاذ قرار دے کر مستقل بنیادوں پر متبادل سزاؤں کا جواز اخذ کرنا درست نہیں، اس لیے کہ پھر یہ معاملہ قانون کے عملی نفاذ کی مصلحت تک محدود نہیں رہتا بلکہ فکرونظر کے زاویے میں ایک نہایت بنیادی اختلاف کو قبول کرنے تک جا پہنچتا ہے۔ جدید ذہن کا اشکال یہ ہے کہ یہ سزائیں وحشیانہ دور کی یاد گار ہیں۔ زاویہ نگاہ کایہ فرق قانون کی مابعدالطبیعیاتی اور اعتقادی بنیادوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اسلام خدا کے سامنے مکمل تسلیم اور سپردگی کا نام ہے۔ یہ سپردگی مجرد قسم کے ایمان واعتقاد اور بعض ظاہری پابندیوں کو بجا لانے تک محدود نہیں، بلکہ انسانی جذبات واحساسات بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ محبت ،نفرت، ہمدردی اور غصے جیسے جذبات اور حب ذات، آزادی اور احترام انسانیت جیسے احساسات وتصورات نفس انسانی میں خدا ہی کے ودیعت کردہ اور اس اعتبار سے بجائے خود امانت کی ہیں۔ چنانچہ اسلام کے نزدیک ان کا اظہار اسی دائرۂ عمل میں اوراسی حد تک قابل قبو ل ہے جب تک وہ خداکے مقرر کردہ حدود کے پابند رہیں۔ اس سے تجاوز کرتے ہوئے اگر ان کو کوئی مقام دیا جائے گا تو یہ خدا کی امانت کا صحیح استعمال نہیں، بلکہ اس میں خیانت کے متراد ف ہوگا۔ چنانچہ جدید انسانی نفسیات اگر جرم وسزا سے متعلق قرآنی احکام سے نفور محسو س کرتی ہے تو یہ محض قانون کی مصلحت یا اس کے سماجی تناظر کے بدل جانے کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں قانون کی مابعدالطبیعیاتی اساسات میں پیوست ہیں اور اس معاملے میں جدید فکرکے ساتھ کمپرومائز کا جواز فراہم کرنے کے لیے ’’اجتہاد‘‘ کے دائرے کو ایمان و اعتقاد تک وسیع کرنا پڑے گا۔ 

اسی طرح اس ضمن میں حضرت عمرؓ کے فیصلے سے استدلال کرنا بھی درست نہیں، اس لیے کہ کسی حکم کا اصولی طور پر واجب الاتباع نہ ہونا ایک اور چیز ہے اور کسی مخصوص صورت حال میں اس کے اطلاق میں کسی اخلاقی اور شرعی مصلحت کو ملحوظ رکھنا ایک دوسری چیز ہے۔ شریعت میں مختلف معاشرتی جرائم پرجو سزائیں مقرر کی گئی ہیں، ان کے نفاذ میں ا ن تمام شروط وقیود اور مصالح کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے جو جرم وسزا کے باب میں عقل عام پر مبنی اخلاقیات قانون اور خود شریعت کی ہدایات ثابت ہیں۔ جرم کی نوعیت وکیفیت اور مجرم کے حالات کی رعایت کرنا اور اگر وہ کسی پہلو سے معاف کیے جانے کامستحق ہو تو اسے معاف کر دینا ا نہی اصولوں میں سے ایک بنیادی اصول ہے۔ کسی بھی مجرم پر سزا کا نفاذ اسی صورت میں قرین انصاف ہے جب مجرم بھی کسی بھی پہلو سے رعایت کا مستحق نہ ہو۔ اگر جرم کی نوعیت وکیفیت اور مجرم کے حالات کسی رعایت کا تقاضا کر رہے ہوں تو اس پہلو کونظر انداز کرتے ہوئے سزا کو نافذ کرنا عدل وانصاف اور خود شارع کی منشا کے خلاف ہے۔ چنانچہ سیدناعمرؓ نے اسی اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے قحط سالی کے زمانے میں قطع ید کی سزا پر عمل درآمد کو روک دیا تھا۔ ان کے اس فیصلے سے کسی طرح یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت عمرؓ فی نفسہ ان سزاؤں کے نفاذکو غیر ابدی یا غیر آفاقی خیال کرتے تھے۔ 

(مذکورہ اعتراض اور اس کا جواب مکرمی مولانا عمارخان ناصر صاحب کے مضمون ’’شرعی سزاؤں کی ابدیت وآفاقیت کی بحث‘‘ (ماہنامہ ’’الشریعہ ‘‘ فروری ۲۰۰۸ء) سے اخذ کیا گیا ہے)۔ 

پاکستان جیسی اسلامی سلطنت میں بعض لوگ اسلامی سزاؤں میں تغیر وتبدل کے خواہاں ہیں، حالانکہ خدا کے قانون اور اس کے رسول کی سنت نے جو حقوق مقرر کر دیے ہیں، خواہ ان کا تعلق تحفظ جان، تحفظ حرمت اور تحفظ ملکیت ہے ہو یا حصول انصاف، مساوات، آزادی اظہار رائے اور آزادی عقیدہ وغیرہ سے، ان میں کسی قسم کا تغیر وتبدل کسی کے، حتیٰ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں ہے۔ اس کی توثیق اس حدیث سے ہوتی ہے جسے مستند کتب حدیث میں روایت کیا گیا ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چوری کا ایک مقدمہ لایا گیا اور سفارش کے ذریعے مجرم کی سزا معاف کرانے کی کوشش کی گئی تو آپ نے فرمایا: اتشفع فی حد من حدود اللہ، (کیا تم اللہ کی مقر کردہ سزا کے معاملے میں سفارش کر رہے ہو؟) اس موقع پر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: انما اھلک الذین قبلکم انہم کانو ا اذا سرق فیہم الشریف ترکوہ واذا سرق فیہم الضعیف اقاموا علیہ الحد، وایم اللہ لو ان فاطمۃ بنت محمد سرقت لقطعت یدھا۔ (بخاری، رقم ۶۷۸۸) 

شارع علیہ السلام کے اس ارشاد میں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ حدود وفرائض میں تغیر ناممکن ہے اور اس امر کا تقاضا کیا جا رہا ہے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، ان میں رائے زنی اور مداخلت نہ کرو ، بلکہ اسے من وعن لاگو کرو۔ معلوم ہوا کہ اگر کوئی مقدمہ شرعی شرائط کے ساتھ ثابت ہوجائے اور شرعی نقطہ نگاہ سے سزا کے نفاذ میں کوئی مانع نہ پایا جائے تو سفارش سزا کو ٹالنے میں کار گر نہیں ہوگی۔ چنانچہ ایک شخص حضرت زبیر بن عوام کے پاس ایک چور کو لے کر آیا اور اس کامقصد یہ تھا کہ حضرت زبیر سے اس کے حق میں سفارش کروائیں، لیکن حضرت زبیر نے کہا کہ سلطان کے دربار میں مسئلہ جانے کے بعد اب سفارش نہیں کی جا سکتی، بلکہ انہوں نے اس پر سفارش کرنے اور کروانے والے، دونوں کو لعنت کا مستحق قرار دیا۔ (تحفۃ الاحوذی، ۴:۵۸۲) جب معاملہ ارباب اقتدار تک پہنچ جائے اور وہ کسی شرعی وجہ کے بغیر اس سے پہلو تہی کرتے ہوئے اسے معاف کر دیں تو ان کا معاف کردینا شارع کے ہاں معافی متصور نہیں ہو گا۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ فاذا وصل الی الوالی فعفا فلا عفا اللہ عنہ (سنن دارقطنی، ۲:۱۴۳) 

اسلامی شریعت