مکاتیب

ادارہ

(۱)

محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم! امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔

’الشریعہ‘ پڑھنے کو ملتا ہے۔ الحمد للہ! موجودہ حالات میں امت مسلمہ کی فکری و نظری رہنمائی کے لیے ایک بہت ہی عمدہ پلیٹ فارم ہے۔عصر حاضر میں ہونے والے جہاد و قتال سے ہر پاکستانی بالعموم اور نوجوان طبقہ بالخصو ص کسی نہ کسی پہلو سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ گزارشات کو ایک مضمون کی شکل دی ہے جس میں پاکستان میں ہونے والے معاصر طالبان جہاد کا ایک تاریخی‘ تجزیاتی و تحقیقی مطالعہ پیش کیاگیا ہے۔ مضمون اگرچہ طویل ہے، لیکن امید ہے کہ ’الشریعہ‘ میں شائع فرمائیں گے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ علما کی اس حوالے سے بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان پیچیدہ حالات میں امت کی رہنمائی فرمائیں۔ آپ کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دین کے علاوہ احوال عالم کا بھی گہرا شعور عطا کیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے علما کے کسی ایسے سیمینار یا مجلس کے انعقاد کی کوشش کریں جس میں پاکستان میں کام کرنے والے مختلف طالبان گروپوں کی تاریخ‘ عقائد و نظریات اور ان کے مناہج جہادو قتال کی شرعی حیثیت کو موضوع بحث بنایا جائے اور علما کی طرف سے اس معاصرجہاد کے بارے میں کوئی متفقہ رائے سامنے آئے جو اس امت کے نوجوانوں کے لیے ان حالات میں دین کا کام کرنے کے لیے مشعل راہ بن سکے اور خود کش حملہ آوروں کے لیے یہ واضح ہو جائے کہ خود کش حملوں میں ان کے لیے عام شہریوں‘ جنگ میں حصہ نہ لینے والے سپاہیوں‘ معصوم بچوں اور عورتوں‘ عام پولیس اہل کاروں‘ رینجرز اور حکومت پاکستان کے ملازمین کو ہلاک کرنا جہاد ہے یا فساد‘ فرض عین ہے‘ مستحب ہے‘ مباح ہے یا حرام۔ 

بلاشبہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع شریعت اسلامیہ میں ایک بہت بڑا جرم ہے اور یہ ضیاع آئے دن جہاد و قتال کے نام پر بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اگر واقعتا معاصر جہاد ایک اسلامی جہاد ہے تو اس کی شرعی حیثیت علما کے فتاویٰ سے واضح ہونی چاہیے اور پھر سب علما کو بھی اس میں شریک ہونا چاہیے، اور اگر یہ غیر اسلامی ہے تو اس کی مذمت علماے امت کا فریضہ ہے اور یہی اصل جہاد ہوگا‘ چاہے اس کو غیر اسلامی کہنے کی صورت انہیں اپنی جان ہی سے ہاتھ کیوں نہ دھونے پڑیں۔

حافظ محمد زبیر

ریسرچ ایسوسی ایٹ۔ قرآن اکیڈمی

۳۶۔کے، ماڈل ٹاؤن، لاہور

(۲)

جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم! امید ہے مزاج گرامی بخیریت تمام ہوں گے۔

ماہنامہ الشریعہ کا تازہ شمار نظر نواز ہوا۔ مولانا حافظ محمد یوسف صاحب کی زیر ترتیب کتاب ’’شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر: حیات وخدمات‘‘ کے پہلے باب میں تحقیق کی جس خوب صورت روایت کا رخ روشن پیش کیا گیا ہے، وہ ہدیہ تبریک کے لائق ہے۔ اسی طرح میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون ’’قرآن مجید میں قصاص کے احکام‘‘ اپنی جامعیت کے اعتبار سے قابل مطالعہ ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ البتہ اسی شمارے میں پروفیسر محمد سرور صاحب کی تصنیف ’’مولانا مودودی کی تحریک اسلامی‘‘ کے بارے میں چودھری محمد یوسف صاحب کی تحریر ’’تعارف وتبصرہ‘‘ کے ذیل میں اشاعت پذیر ہوئی ہے۔ اس کے حوالے سے کچھ باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔

علماے زبان وادب کے نزدیک مطالعہ کرنے کے دو اسلوب ہیں: وقت گزاری کے لیے پڑھنا اور کچھ سیکھنے سمجھنے کے لیے پڑھنا۔ دوسرے اسلوب کی امتیازی راہ یہ ہے کہ جو پڑھا ہے، اس کا حاصل دوسروں کے سامنے پیش کیا جائے جبکہ اختصاصی صورت، جو میرے نزدیک حاصل مطالعہ کی اعلیٰ ترین صورت ہے، یہ ہے کہ:

جو سیکھا ہے سب کو سکھاتے چلو
دیے سے دیے کو جلاتے چلو

کسی کتاب پر تنقید وتبصرہ کرنا کسی ایسے صاحب علم ہی کی ذمہ داری ہے جو کتاب سے اخذ واستفادے کی اہلیت بھی رکھتا ہو اور دوسروں پر اس کے محاسن ومصائب کو بھی واضح کر سکتا ہو۔ ایسے افراد کا مطالعہ علم وادب بہت بھرپور اور وسیع ہونا لازمی و لابدی ہے اور کتاب کی گہری غواصی سے گوہر تابدار برآمد کر کے قارئین وناقدین تک پہنچانے کا عمل اس کا لازمی نتیجہ ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں بیشتر احباب سرسری کتاب خوانی کرتے ہیں جس کے باعث کتاب میں موجود مواد اور علم ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پاتے۔ ایسے احباب کتب بینی کے شوق کے ذیل میں تو آ سکتے ہیں (جس کا انھیں بہرحال حق حاصل ہے) لیکن کتاب، اس کا دور، مصنف کی فکری وعلمی وسعت اور کتاب میں پیش کردہ مواد کے تنقیدی وتحقیقی وتجزیاتی ماحصل کو پیش کرنے کی اہلیت چیزے دیگر است۔

مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر جرح وتنقید کے حوالے سے چودھری صاحب کو کس نوعیت کے اور کس حد تک حقوق حاصل ہیں، جماعت اور چودھری صاحب اس کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ میرا اس سے مطلق تعلق نہیں ہے، لیکن پروفیسر محمد سرور صاحب جیسے نابغہ عصر کی تحقیقی وتنقیدی تصنیف کے بارے میں تعارف وتبصرہ کے ذیل میں کوئی علمی بات نہ کر سکنا اور محض اپنے دل کی بھڑاس نکالنا کم از کم تبصرہ کے ذیل میں نہیں آتا۔ پروفیسر محمد سرور علمی وادبی ودینی حلقوں کا ایک انتہائی محترم نام ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ اور مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار کی تحقیق وترویج کے حوالے سے ان کا کام ان کو دائمی حیات بخشنے کے لیے بہت کافی ہے۔ ا ن کی فکری اور علمی سطح کا اعتراف غلام مصطفی خان، جمیل جالبی، ابو اللیث صدیقی، ڈاکٹر وحید قریشی، سید عبد اللہ جیسے دانش وروں نے کیا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ان کے معترف ہیں۔ شورش کاشمیری کے مطابق پاکستان کے دو چار پڑھے لکھے لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے (بحوالہ چودھری محمد یوسف صاحب)۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ چودھری محمد یوسف صاحب ایسے صاحب اسلوب محقق وناقد کی یادگار پر تنقیدی وتحقیقی حوالے سے خامہ فرسائی فرماتے او رکتاب کے محاسن ومعائب کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے علمی محاسبے یا تحسین کی درخشندہ مثال پیش کرتے او رکتاب کے مختلف ابواب اور مندرجات کے علمی اشکال، ابہام یا حسن تحریر پر اپنے معروضات پیش کرتے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چودھری محمد یوسف اگر اپنی فکری بصیرت کو بروے کار لاتے تو یقیناًایک یادگار مقالہ علم وادب کے دل دادگان کو نصیب ہوتا۔ چودھری محمد یوسف صاحب مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے حوالے سے (جماعت سے اپنے اخراج کے باعث) جو جی چاہے لکھیں یا فرمائیں، کم از کم پروفیسر محمد سرور صاحب جیسے بلند مرتبہ اور صاحب اسلوب مصنف کی کتاب پر تعارف وتبصرہ لکھنے سے پہلے کسی کتاب پر تنقید وتبصرہ کے اصولوں کا مطالعہ ضرور فرمائیں اور کتاب کا تعارف کرانے کی بجائے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے عمل کا بھی خود ہی تجزیہ فرما لیں۔ 

ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

کمال منزل۔ عبد اللہ کالونی

ریس کورس روڈ۔ گوجرانوالہ


مکاتیب