اکتوبر ۲۰۰۸ء

اسلامی شریعت کی تعبیر و تشریح: علمی و فکری سوالات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مسلم ممالک میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کا مسئلہ جہاں اپنی نوعیت واہمیت کے حوالے سے ہمارے ملی فرائض اور دینی ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے، وہاں اس کی راہ میں حائل متنوع مشکلات اور رکاوٹوں کے باعث وہ ایک چیلنج کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور مسلم معاشروں میں اس سے نمٹنے کے لیے مختلف اطراف سے کوششیں جاری ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں میں سیاسی، تہذیبی، اقتصادی اور عسکری امور کے ساتھ ساتھ یہ علمی رکاوٹ بھی نفاذ اسلام کی راہ روکے کھڑی ہے کہ آج کے بین الاقوامی حالات اور جدید عالمی تہذیبی ماحول میں اسلامی احکام وقوانین...

شرعی سزاؤں میں ترمیم و تغیر کا مسئلہ

― حافظ محمد سلیمان

موجودہ دور میں فرد کی تقدیس و احترام میں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے اور اس کو پوری معاشرتی زندگی کا محور ومرکز قرار دیتے ہوئے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام کی سزائیں وحشیانہ، ظالمانہ اور متشددانہ ہیں اور ان کے ذریعے معاشرہ میں خونریزی اور بربریت وجود میں آتی ہے۔ نیز یہ سزائیں درحقیقت قدیم زمانہ کے وحشیوں کے لیے وضع کی گئی تھیں۔ چونکہ معاشرہ مسلسل ترقی کی طرف رواں دواں ہے، لہٰذا اب ان سزاؤں کو نافذ کرنا موجودہ انسانی معاشرہ کے ساتھ ناانصافی اور سراسر ظلم ہے، اس لیے اسلامی سزاؤں کو کالعدم قرار دے کر یا ان میں ترمیم کرکے عصرحاضر...

قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۲)

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

’’قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہوتو بے شک ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے ، ضرور اس کی مدد کی جائے گی۔‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷/ ۳۳)۔ اس آیت کے آغاز میں وَلا تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالحَقِّکے بیان سے یہ واضح تاثر ملتا ہے کہ مقتول کو خون کے بدلے یا فساد فی الارض کے بجائے کسی اور وجہ سے قتل کیا گیا ہے اور یہ تاثر زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ دیتا ہے کہ قتل ، قتلِ حق نہیں ، بلکہ قتلِ ناحق ہے۔لیکن قرآنی اسلوب پکار پکار کر قاری...

اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۳)

― محمد زاہد صدیق مغل

نفع کمانے کو نفع خوری پر قیاس کرنے کی غلطی: اسلامی ماہرین معاشیات نفع کمانے اور علم معاشیات کے تصور نفع خوری (profit-maximization) کو خلط ملط کردیتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کاروبار کے نتیجے میں جو نفع حاصل ہوتا ہے اسلام اس کا قائل ہے لیکن اسلام نفع خوری کا ہرگز قائل نہیں۔ نفع تو کسی مقصد کے لیے کمایا جاتا ہے جیسے حضرت عثمانؓ کے نفع کمانے کا مقصد غزوات میں سرمایے کی فراہمی، غریب مسلمانوں کی مدد وغیرہ تھا، اس کے مقابلے میں نفع خوری کا مطلب نفع کا حصول بالذات مقصود (profit for the sake of profit) اور تعقل (rationality) کی بنیاد بنا لینا ہے۔ نفع خوری کی اس مکروہ ذہنیت کا سب سے...

’سنت‘ اور ’حدیث‘: جناب جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر (۱)

― سید منظور الحسن

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے ستمبر ۲۰۰۶ کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر کا مضمون ’’غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ‘‘شائع ہوا تھا جو اب ان کی تصنیف ’’فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ سنت کے تصور ،اس کے تعین، اس کے مصداق اور اس کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف عقل و نقل کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ اسی طرح الشریعہ کے جون ۲۰۰۸ کے شمارے میں محترم جناب مولانا زاہد الراشدی نے ’’غامدی صاحب کا تصور سنت‘‘ کے زیر عنوان اپنی تنقید میں غامدی صاحب کے موقف کی تعبیر یوں کی ہے کہ غامدی...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم! امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ ’الشریعہ‘ پڑھنے کو ملتا ہے۔ الحمد للہ! موجودہ حالات میں امت مسلمہ کی فکری و نظری رہنمائی کے لیے ایک بہت ہی عمدہ پلیٹ فارم ہے۔عصر حاضر میں ہونے والے جہاد و قتال سے ہر پاکستانی بالعموم اور نوجوان طبقہ بالخصو ص کسی نہ کسی پہلو سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ گزارشات کو ایک مضمون کی شکل دی ہے جس میں پاکستان میں ہونے والے معاصر طالبان جہاد کا ایک تاریخی‘ تجزیاتی و تحقیقی مطالعہ پیش کیاگیا ہے۔ مضمون اگرچہ طویل ہے، لیکن امید ہے کہ ’الشریعہ‘ میں شائع فرمائیں گے۔...