زنا کی سزا (۱)

محمد عمار خان ناصر

(مصنف کی زیر ترتیب کتاب ’’حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ کا ایک باب۔)


قرآن مجید میں زنا کی سزا دو مقامات پر بیان ہوئی ہے اور دونوں مقامات بعض اہم سوالات کے حوالے سے تفسیر وحدیث اور فقہ کی معرکہ آرا بحثوں کا موضوع ہیں۔ 

پہلا مقام سورۂ نساء میں ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

وَاللاَّتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْْہِنَّ أَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَإِنْ شَہِدُوْا فَأَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً ۔ وَاللَّذَانِ یَأْتِیَانِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوْا عَنْہُمَا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّاباً رَّحِیْماً (النساء ۴:۱۵، ۱۶)
’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کرتی ہوں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ایسی عورتوں کو گھروں میں محبوس کر دو، یہاں تک کہ انھیں موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ بیان کر دیں۔ اور تم میں سے جو مرد وعورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں، انھیں اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔‘‘

ان میں سے پہلی آیت، جس میں خواتین کے لیے بدکاری کی ایک عبوری سزا بیان کی گئی ہے، اپنے مدعا کے لحاظ سے واضح ہے، البتہ دوسری آیت میں ’واللذان یاتیانہا‘ کا مصداق متعین کرنے کے حوالے سے مفسرین کو الجھن کا سامنا ہے، کیونکہ عربی زبان کی رو سے تثنیہ کا صیغہ دو مردوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور مرد وعورت کے لیے بھی۔ مفسرین کے ایک بڑے گروہ کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد زانی مرد اور عورت ہیں اور پہلی آیت میں گھروں میں محبوس کرنے کی سزا بیان کرنے کے بعد ، جو خواتین کے ساتھ مخصوص ہے، دوسری آیت میں وہ سزا بیان کی گئی ہے جو مرد اور عورت، دونوں کو مشترک طور پر دی جائے گی۔ تاہم آیت اس توجیہ کو قبول نہیں کرتی، اس لیے کہ یہاں ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ اور اس کے بعد ’واللذان یاتیانہا‘ کا اسلوب اپنے متبادر مفہوم کے لحاظ سے اس کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کو تکرار کے بجائے استیناف پر محمول کیا جائے اور دوسری آیت کو بدکاری کی کسی مختلف صورت سے متعلق مانا جائے۔ اس کو مزید تقویت اس سے ملتی ہے کہ دونوں آیتوں میں بیان کی جانے والی سزا کی نوعیت بھی ایک دوسرے سے مختلف بلکہ معارض ہے، چنانچہ پہلی آیت میں توبہ واصلاح کے امکان کا ذکر کیے بغیر حتمی طور پر خواتین کو گھروں میں محبوس کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دوسرا حکم آ جائے، جبکہ دوسری آیت میں توبہ واصلاح کے امکان کو آزمانے کی ہدایت کی گئی اور اس کے تحقق کی صورت میں زانی مرد اور عورت سے درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 

دوسری رائے یہ ہے کہ ’واللاتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم‘ میں شادی شدہ خواتین کی سزا بیان ہوئی ہے جبکہ ’واللذان یاتیانہا‘ میں کنوارے زانی اور زانیہ کی۔ اس پر ایک اشکال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’نساء‘ کا لفظ اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے ہر طرح کی خواتین کے لیے عام ہے۔ اسے شادی شدہ خواتین کے ساتھ خاص قرار دینے کے لیے سیاق کلام میں کوئی قرینہ درکار ہے جو یہاں موجود نہیں۔ قرآن مجید میں جن دوسرے مقامات پر، مثال کے طور پر ’للذین یولون من نسائہم‘ (البقرہ ۲۲۶) اور ’الذین یظاہرون منکم من نسائہم‘ (المجادلۃ ۲) میں یہ لفظ ’’بیویوں‘‘ کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے، وہاں سیاق میں واضح قرائن موجود ہیں۔ دوسرا اشکال یہ ہے کہ یہاں ’نساء‘ کو بیویوں کے معنی میں لینے کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کا مضاف الیہ بننے والی ضمیر خطاب یعنی ’کم‘ کا مصداق ان خواتین کے شوہر ہوں، اس لیے کہ ’نساء‘ کے لفظ میں بیویوں کا مفہوم شوہروں کی طرف اضافت ہی سے پیدا ہوسکتا ہے، ورنہ اگر ’کم‘ کا مصداق بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کو مانا جائے ہو تو ’نساء‘ کا مطلب بیویاں نہیں ہو سکتا۔ اس تاویل کو ماننے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہاں خواتین کو سزا دینے کے حکم کے مخاطب مسلمانوں کے اہل حل عقد نہیں بلکہ انفرادی حیثیت میں ان خواتین کے شوہر قرار پائیں گے، جبکہ ’فاستشہدوا علیہن اربعۃ منکم‘ کی ہدایت اس حکم کو اندرون خانہ اختیار کی جانے والی ایک تدبیر قرار دینے میں مانع ہے، اور اسے صریحاً نظم اجتماعی اور عدالت وقضا سے متعلق کر رہی ہے۔ مذکورہ تاویل پر ایک اور اشکال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر کنوارے زانی کی سزا بیان کرتے ہوئے مرد اور عورت، دونوں کا ذکر کیا گیا ہے تو پہلی آیت میں صرف شادی شدہ خواتین کیوں زیربحث ہیں اور شادی شدہ مردوں کی سزا کیوں بیان نہیں کی گئی؟ 

ایک رائے یہ ہے کہ پہلی آیت میں وہ صورت زیر بحث ہے جب بدکاری کے فعل پر چار گواہ میسر ہوں، جبکہ دوسری آیت میں اس صورت کا حکم بیان ہوا ہے جب چار گواہ موجود نہ ہوں۔ یہ بھی ایک غیر متبادر اور الفاظ سے بعید تاویل ہے، اس لیے کہ اگر یہ مقصود ہوتا تو ’فان شہدوا فامسکوہن فی البیوت‘ کے تقابل میں ’وان لم یشہدوا فآذوہما‘ یا ’وان لم یکونوا فآذوہما‘ سے ملتا جلتا کوئی اسلوب اختیار کیا جاتا جو مدعا کے ابلاغ کے پہلو سے زیادہ واضح اور صریح ہوتا۔ موجودہ صورت میں متبادر مفہوم یہ ہے کہ چار گواہوں کی شرط دوسری آیت میں بھی مقدر سمجھی جائے جسے اقتضاے عقلی کے اصول پر واضح ہونے کی بنیاد پر لفظوں میں ذکر نہیں کیا گیا۔ مزید برآں یہ اشکال اس تاویل میں بھی برقرار رہتا ہے کہ پہلی آیت میں خواتین ہی خاص طور پر کیوں زیربحث ہیں اور مردوں کی سزا بیان کرنے سے کیوں گریز کیا گیا ہے؟

ایک اور رائے یہ ہے کہ پہلی آیت صرف زانی خواتین کی سزا بیان کرتی ہے، جبکہ دوسری آیت صرف مرد زانیوں کی اور یہاں تثنیہ کا صیغہ لانے سے مقصود اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ زانی چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، اس کے لیے ایک ہی سزا ہے۔ لیکن اس پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کسی قرینے کے بغیر مجرم کی ازدواجی زندگی کی دو مختلف حالتوں پر تثنیہ کے صیغے کی دلالت غیر واضح ہے۔ مزید یہ کہ اگر مطلقاً ہر طرح کے زانی کے لیے ایک ہی سزا کی طرف اشارہ پیش نظر ہوتا تو اس کے لیے تثنیہ کا صیغہ لانے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اس کے بجائے ’والذی یاتیہا‘ یا ’والذین یاتونہا‘ کا معروف اسلوب ہی کافی تھا، جیسا کہ پہلی آیت میں ’واللاتی یاتین‘ کا اسلوب ہر طرح کی زانی عورتوں پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب مقصد دونوں آیتوں میں ایک ہی ہے تو دوسری آیت میں پہلی سے مختلف اسلوب اختیار کرنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

بعض مفسرین اس آیت کو زنا سے نہیں بلکہ ہم جنس پرستی سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ میں خواتین کی جبکہ ’والذان یاتیانہا‘ میں مردوں کی ہم جنس پرستی کی سزا بیان کی گئی ہے۔ تاہم یہ رائے بھی کئی پہلووں سے محل نظر ہے:

اولاً، ’فاحشۃ‘ کا لفظ اگرچہ اپنے لغوی مفہوم کے لحاظ سے زنا، لواطت اور خواتین کی ہم جنس پرستی، سب کے لیے بولا جا سکتا ہے، لیکن کسی زبان کے عرف میں الفاظ کا استعمال ان میں ایک نوع کی تخصیص پیدا کر دیتا ہے اور جب وہ لفظ بولا جائے تو اس کا وہی متبادر مفہوم مراد ہوتا ہے جس میں وہ بالعموم استعمال ہوتا ہے، الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی قرینہ پایا جائے۔ ’فاحشۃ‘ کا لفظ اور خاص طور پر ’اتی الفاحشۃ‘ کی ترکیب بھی عربی زبان میں زنا کے لیے معروف ہے، اس لیے جب تک کوئی قرینہ نہ پایا جائے، اس کا کوئی دوسرا مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ چنانچہ ’الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ‘ (نساء، ۱۹) اور ’من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ‘ (الاحزاب، ۳۰) میں یہ تعبیر زنا ہی کے لیے استعمال ہوئی ہے، کیونکہ اس کے برخلاف کوئی قرینہ موجود نہیں۔ البتہ اعراف ۷۹ اور نمل ۵۳ میں یہی ترکیب لواطت کے مفہوم میں استعمال ہوئی ہے اور دونوں جگہ ’ما سبقکم بہا من احد من العالمین‘ اور ’انکم لتاتون الرجال‘ کا واضح قرینہ موجود ہے۔ 

اگر ’الفاحشۃ‘ کا مصداق زنا ہے تو پھر ’والذان یاتیانہا‘ کو بھی لازماً زنا ہی سے متعلق ماننا ہوگا، کیونکہ ’یاتیانہا‘ میں ضمیر منصوب پچھلی آیت میں مذکور اسی ’الفاحشۃ‘ کی طرف لوٹ رہی ہے، چنانچہ اس کا مفہوم بھی زنا کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ اگر قرآن کا مدعا ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ سے زنا کی جبکہ ’والذان یاتیانہا‘ سے بدکاری کی کسی دوسری صورت کی سزا بیان کرنا ہوتا تو لازم تھا کہ اس کے لیے کوئی زائد قرینہ کلام، مثال کے طور پر ’والذان یاتیانہا من رجالکم فاذوہما‘ کلام میں رکھا جاتا۔ اس اضافی قرینے کے بغیر ’یاتیانہا‘ میں مذکور بدکاری کو ’یاتین الفاحشۃ‘ میں ذکر ہونے والی بدکاری سے کسی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا۔

ثانیاً، ’والذان یاتیانہا‘ کی تعبیر عربیت کی رو سے لواطت کے لیے کسی طرح موزوں نہیں، اس لیے کہ اس میں فعل کی نسبت فریقین کی طرف کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ زنا کے ارتکاب کی نسبت تو مرد اور عورت، دونوں کی طرف کی جا سکتی ہے، لیکن لواطت میں ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ قرآن مجید میں قوم لوط کا جرم جہاں بھی بیان کیا گیا ہے، وہاں ’تاتون الرجال‘ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے جس میں فعل کی نسبت ایک ہی فریق کی طرف کی گئی ہے۔ 

ثالثاً، جرم اور سزا کے مابین مناسبت بھی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس ہدایت کو زنا سے متعلق مانا جائے۔ اگر اس تدبیر سے مقصود ہم جنسی پرستی کا سدباب تھا تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ ایسی خواتین کو باہمی میل ملاقات سے روک دیا جائے، جبکہ ’امسکوہن فی البیوت‘ کی تعبیر انھیں علی الاطلاق گھروں میں محبوس کر دینے کو بیان کرتی ہے اور یہ بات ہم جنس پرستی کے بجائے زنا کے سدباب کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ مزید برآں قرآن مجید نے اس جرم کے اثبات کے لیے چار گواہ طلب کرنے کی بات کی ہے جس سے واضح ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت سے متعلق قرار دے رہا ہے، جبکہ خواتین کی ہم جنس پرستی کے سدباب کے لیے اس اہتمام کی ضرورت نہیں۔ اگر دو خواتین اس عادت میں مبتلا ہیں تو انھیں عدالت میں پیش کرنے اور باقاعدہ مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کے اہل خانہ کو یہ ہدایت دینا کافی ہے کہ وہ ان کے باہمی میل جول کو روک دیں۔

رابعاً، قرآن مجید نے یہاں ’حتی یجعل اللہ لہن سبیلا‘ سے واضح کیا ہے کہ یہ ایک عبوری سزا ہے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد جب زنا کی حتمی سزا بیان کی تو اسی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لہن سبیلا‘۔ آپ کے اس ارشاد سے بھی واضح ہے کہ زیر بحث آیت میں زنا ہی زیر بحث ہے۔

خامساً، اس رائے پر مولانا مودودی کا یہ تبصرہ بھی بالکل برمحل ہے کہ ’’قرآن انسانی زندگی کے لیے قانون واخلاق کی شاہراہ بناتا ہے اور انھی مسائل سے بحث کرتا ہے جو شاہراہ پرپیش آتے ہیں۔ رہیں گلیاں اور پگڈنڈیاں تو ان کی طرف توجہ کرنا اور ان پر پیش آنے والے ضمنی مسائل سے بحث کرنا کلام شاہانہ کے لیے ہرگز موزوں نہیں ہے۔ ایسی چیزوں کو اس نے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہد نبوت کے بعد جب یہ سوال پیدا ہوا کہ مرد اور مرد کے ناجائز تعلق پر کیا سزا دی جائے تو صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی یہ نہ سمجھا کہ سورۂ نساء کی اس آیت میں اس کا حکم موجود ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، ۱/۳۳۲، ۳۳۳)

مذکورہ تمام توجیہات اور ان پر وارد ہونے والے اشکالات کے تناظر میں قاضی ابن العربی نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ ’ہذہ معضلۃ فی الآیات لم اجد من یعرفہا‘ (احکام القرآن، ۱/۴۵۷) یعنی یہ ایک بے حد مشکل آیت ہے اور مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو اس کا مطلب جانتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے حوالے سے مختلف تفسیری امکانات کا جائزہ لینے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور متاخرین کے ہاں بھی اس ضمن میں بعض نئی آرا سامنے آئی ہیں۔

صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ نساء کی مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت اس صورت کو بیان کرتی ہے جب زنا کی مرتکب عورت کا تعلق مسلمانوں سے جبکہ مرد کا تعلق کسی غیر مسلم گروہ سے ہو، جبکہ دوسری آیت میں وہ صورت زیر بحث ہے جب دونوں مسلمان اور اسلامی ریاست کے قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوں۔ دوسری صورت میں مرتکبین کو توبہ واصلاح کا موقع دینے جبکہ پہلی صورت میں خواتین کو اس طرح کا کوئی موقع دیے بغیر تامرگ محبوس کر دینے کی وجہ مولاناکی رائے میںیہ تھی کہ ’’دوسری صورت میں تو دونوں فریق اسلامی معاشرے کے دباؤ میں ہیں، ان کے رویے میں جو تبدیلی ہوگی وہ سب کے سامنے ہوگی۔ نیز ان کے اثرات اور وسائل معلوم ومعین ہیں، ان کے لیے بہرحال اپنے خاندان اور قبیلے سے بے نیاز ہو کر کوئی اقدام ناممکن نہیں تو نہایت دشوار ہوگا۔ لیکن پہلی صورت میں مرد، جو اصل جرم میں شریک غالب کی حیثیت رکھتا ہے، مسلمانوں کے معاشرہ کے دباؤ سے بالکل آزاد ہے۔ نہ اس کے رویے کا کچھ پتہ، نہ اس کے عزائم کا کچھ اندازہ، نہ اس کے اثرات ووسائل کے حدود معلوم ومعین۔ ایسی حالت میں اگر عورت کو یہ موقع دے دیا جاتا کہ توبہ کے بعد اس سے درگزر کی جائے تو یہ بات نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتی تھی۔ اول تو مرد کے رویہ کو نظر انداز کر کے عورت کی توبہ واصلاح کا صحیح اندازہ ہی ممکن نہیں ہے اور ہو بھی تو جب مرد بالکل قابو سے باہر اور مطلق العنان ہے تو اغوا، فرار اور قتل وخون کے امکانات کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ اس پہلو سے اس میں احتیاط کی شدت ملحوظ ہے۔‘‘ (تدبر قرآن، ۲/۲۶۵)

مولانا اصلاحی کی اس رائے پر ایک بڑا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زنا کے واقعات میں جتنا امکان خاتون کے مسلمان جبکہ مرد کے غیر مسلم ہونے کا پایا جاتا تھا، اتنا ہی اس کے برعکس صورت کے پائے جانے کا بھی موجود تھا، لیکن قرآن مجید نے اس کو سرے سے موضوع ہی نہیں بنایا۔ مولانا کی رائے کے مطابق قرآن مجید نے دوسری آیت میں زانی مرد وعورت کو اذیت دینے اور انھیں توبہ واصلاح پر آمادہ کرنے کی جو ہدایت دی ہے، اس کاموثر ہونا اس امرپر منحصر تھا کہ دونوں مسلمان معاشرے کے افراد ہوں، جبکہ مرد کے کسی غیر مسلم گروہ کا فرد ہونے کی صورت میں اس تدبیر کاموثر ہونا مخدوش تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اگر مسلمانوں کے لیے اپنی خواتین کو توبہ واصلاح کا موقع دینا ممکن نہیں تھا اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ انھیں گھروں میں محبوس کر دیا جائے تو ظاہر ہے کہ مردوں کے معاملے میں توبہ واصلاح کے امکان کو آزمانے کا خطرہ مول لینا بدرجہ اولیٰ ممکن نہیں تھا۔ یہ صورت زیادہ اعتنا کی مستحق تھی اور تقاضا کرتی تھی کہ زانی مرد کے مسلمان جبکہ عورت کے غیر مسلم ہونے کی صورت میں بھی متعین ہدایات دی جاتیں اور بتایا جاتا کہ ایسے مرد کو زنا سے روکنے کے لیے اس پر کس طرح کی قدغنیں عائد کی جائیں۔ تاہم قرآن نے ایسا نہیں کیا جس کی کوئی وجہ، مولانا اصلاحی کی بیان کردہ صورت واقعہ کے لحاظ سے، سمجھ میں نہیں آتی۔

مولانا نے جو صورت واقعہ فرض کی ہے، وہ بھی حقیقت سے دور دکھائی دیتی ہے۔ اول تو سب کے سب غیر مسلم گروہ ایسے نہیں تھے جو ریاست مدینہ کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوں، کیونکہ یہود کے بیشتر قبائل کا مسلمانوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ تھا اور ان میں سے بعض قبائل مدینہ کے حدود میں آباد تھے۔ چنانچہ خواتین کو محبوس کر دینے کی تدبیر کا محرک اگر وہی ہوتا جو مولانا اصلاحی نے بیان کیا ہے تو دونوں طرح کے گروہوں میں فرق کیا جانا ضروری تھا، جبکہ قرآن مجید کا بیان بالکل مطلق ہے۔ جہاں تک یہود کے علاوہ مدینہ کے اطراف میں آباد غیر مسلم قبائل کا تعلق ہے تو ان کے مردوں کا مدینہ کی خواتین کے ساتھ اس نوعیت کا کوئی پائیدار تعلق قائم کرنے کا امکان قبائلی معاشرت میں بہت کم تھا۔ یاری آشنائی کا تعلق بالعموم ایک ہی علاقے میں رہنے اور آپس میں عمومی میل جول رکھنے والے مردوں اور عورتوں کے مابین استوار ہوتا ہے ، جبکہ الگ الگ قبیلوں اور مقامات سکونت (localities) سے تعلق رکھنے والے افراد میں ایسا نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اس طرح کے واقعات کی تعداد اتنی نہیں ہو سکتی کہ اسے باقاعدہ قانون کا موضوع بنانا پڑے۔ بالفرض ریاست مدینہ کے دائرۂ اختیار سے باہر کسی مجرم کے خلاف کوئی اقدام کرنا مشکل ہوتا تو بھی خود مدینہ کے حدود کے اندر بے بسی کی ایسی کوئی فضا موجود نہیں تھی کہ ایسے مجرموں کی آمد ورفت اور آزادانہ نقل وحرکت پر کوئی قدغن عائد نہ کی جا سکتی۔ عورت کے لیے توبہ واصلاح کے امکان یا اس کے رویے میں تبدیلی کا اندازہ کرنے میں مرد کے غیر مسلم ہونے کو مانع قرار دینا بھی قابل فہم نہیں، کیونکہ خاتون کا تعلق بہرحال مسلمانوں ہی کے گروہ سے تھا اور قبائلی معاشرت میں نہ تو ایسے آزادانہ مواقع اور امکانات ہوتے ہیں اور نہ افراد، بالخصوص خواتین کو اتنی آزادی حاصل ہوتی ہے کہ معاشرہ ان کی نگرانی اور محاسبہ سے عاجز ہو جائے۔ 

جناب جاوید احمد غامدی نے اس آیت کی تاویل یہ بیان کی ہے کہ یہ زنا کے ان مجرموں سے متعلق نہیں جو کسی وقت جذبات کے غلبے میں زنا کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، بلکہ دراصل زنا کو ایک عادت اور معمول کے طورپر اختیار کرنے والے مجرموں سے متعلق ہے۔ یہ مجرم دو طرح کے تھے: ایک وہ پیشہ ور بدکار عورتیں جن کے لیے زنا شب وروز کا شغل تھا، اور دوسرے وہ مرد وعورت جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ ان کی رائے میں قرآن مجید نے دوسرے مقامات پر ان میں سے پہلی صورت کو ’مسافحین‘ اور ’مسافحات‘ جبکہ دوسری صورت کو ’متخذی اخدان‘ اور ’متخذات اخدان‘ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ (برہان، ۱۲۵، ۱۲۶)

ہماری رائے میں آیت کی یہ تاویل درپیش الجھن کو بظاہر حل کر دیتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ اور ’واللذان یاتیانہا‘ میں اسم موصول کا صلہ فعل مضارع کی صورت میں لانے کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، وہ عربی زبان میں کسی فعل کے نفس وقوع کے بیان کے لیے بھی آ سکتا ہے اور کسی عادت اور معمول کو بیان کرنے کے لیے بھی، چنانچہ ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ کا ترجمہ ’’وہ عورتیں جو بدکاری کی مرتکب ہوں‘‘ بھی ہو سکتا ہے اور ’’وہ عورتیں جو بدکاری کیا کرتی ہیں‘‘ بھی۔ سابق مفسرین نے اس کو پہلے مفہوم پر محمول کرتے ہوئے آیت کی تاویل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں جتنی مختلف تاویلیں ممکن تھیں، ان سب کی نشان دہی کی ہے لیکن، جیسا کہ ہم تفصیل سے واضح کر چکے ہیں، ان میں سے ہر تاویل پر وزنی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ مولانااصلاحی نے اگرچہ دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے، تاہم انھوں نے دونوں آیتوں میں جو فرق متعین کیا ہے، وہ تشفی بخش نہیں۔ ان تمام آرا کے مقابلے میں غامدی صاحب کی تاویل دو پہلووں سے قرین قیاس لگتی ہے:

ایک یہ کہ ان آیات میں زنا کے عادی مجرموں کا زیر بحث ہونا خود آیات کے داخلی قرائن سے بھی واضح ہوتا ہے، چنانچہ دوسری آیت میں زنا کے مرتکب مرد وعورت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ واصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کیا جائے، جس سے واضح ہے کہ ان دونوں کے مابین یاری آشنائی کا تعلق تھا، ورنہ اگر یہ کسی اتفاقی صورت کا ذکر ہوتا تو انھیں سزا دینے کے بعد ان کی مزید نگرانی کرنے اور توبہ واصلاح کی صورت میں درگزر کی ہدایت کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح ان آیات کے ساتھ متصل اگلی آیات بھی، جن میں قرآن مجید نے وقتی جذبات کے تحت گناہ کے مرتکب ہونے والوں اور اسے ایک عادت بنا لینے والوں کے مابین فرق کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ کسی گناہ کو معمول بنا لینے والوں کے لیے توبہ کی قبولیت کا امکان کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہے، اسی بات کو واضح کرتی ہیں۔ ارشاد ہوا ہے:

وَاللَّذَانِ یَأْتِیَانِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوْا عَنْہُمَا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّاباً رَّحِیْماً ۔ إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَأُولٰءِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْْہِمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً ۔ وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّءَاتِ حَتّٰی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الآنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ أُولٰءِکَ أَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً (النساء ۴: ۱۶-۱۸)
’’اور تم میں سے جو مرد وعورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوں، انھیں اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔ اللہ پر انھی لوگوں کی توبہ قبول کرنا لازم ہے جو جذبات میں بہہ کر کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں اور پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کی توبہ کو اللہ قبول کر لیتا ہے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ان لوگوں کے لیے توبہ کا کوئی موقع نہیں جو برابر برائیاں کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اسی طرح ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

یہ آیات اس بات کا ایک مضبوط قرینہ ہیں کہ اوپر کی آیتوں میں زنا کو عادت بنا لینے والی خواتین اور جوڑے ہی زیر بحث ہیں۔ 

دوسرے یہ کہ اس رائے میں جرم کی جن دو صورتوں کو متعین کیا گیا ہے، ان کا عرب معاشرت میں پایا جانا مسلم ہے، ان کی سزا کو قانون کا موضوع بنانا بھی قابل فہم ہے اور اس سے دونوں صورتوں میں تجویز کی جانے والی الگ الگ سزاؤں کی وجہ اور حکمت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘ میں صرف خواتین کی سزا کو موضوع بنانے کی وجہ یہ ہے کہ پیشہ ورانہ بدکاری میں بنیادی کردار خواتین ہی کا ہوتا ہے اور جرم کے سدباب کے لیے اصلاً انھی کی سرگرمیوں پر پہرہ بٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مرد وعورت میں یاری آشنائی کے تعلق کی صورت میں دونوں جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور دونوں ہی کی تادیب وتنبیہ کو قانون کا موضوع بنانا پڑتا ہے۔

مزید برآں، جہاں تک ہم غور کر سکے ہیں، آیت کے الفاظ اور سیاق وسباق میں کوئی چیز اس تاویل کو قبول کرنے میں مانع نہیں، اس لیے جب تک کوئی قابل غور اعتراض سامنے نہ آئے، یہ کہنا ممکن دکھائی دیتا ہے کہ اس تاویل کی روشنی میں آیت کی مشکل بظاہر قابل اطمینان طریقے سے حل ہو جاتی ہے۔

(باقی)

اسلامی شریعت