مکاتیب

ادارہ

(۱)

محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب 

السلام علیکم امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے ۔ 

جنوری ۲۰۰۸ ء کے الشریعۃ کے ’’کلمۂ حق ‘‘ کے مندرجات سے عمومی اتفاق کے باوجود حسبہ بل کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تنقید بری طرح کھٹکی ۔ ملک اس وقت جس سیاسی اور قانونی بحران سے گزر رہا ہے اس میں دینی جماعتوں ، بالخصوص جمعیت علمائے اسلام ( ف) ، کا کردار چنداں تسلی بخش نہیں ہے ۔ الیکشن میں لوگوں کی جانب سے جو response سامنے آرہا ہے، اس کی وجہ سے دینی سیاسی لیڈرشپ کو بھی اب احساس ہوچکا ہے کہ ان کے اپنے حلقوں میں ان کی مقبولیت کا گراف کس حد تک گر چکا ہے۔ اس لیے اب اپنی غلطیوں کا ملبہ دوسروں پر گرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر الزامات کی بوچھاڑ اسی سلسلے کا ایک حصہ ہے ۔ چنانچہ ان کے قد کو گھٹانے کے لیے پہلے یہ شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ انہوں نے بھی تو پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا ۔ حالانکہ ۲۰۰۰ ء کے پی سی او اور ۲۰۰۷ ء کے پی سی او میں فرق سے معمولی قانونی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی واقف ہے۔ باقی باتیں ایک طرف ، ۲۰۰۰ ء کے پی سی او اور اس کے بعد ۲۰۰۲ ء کے ایل ایف او کو تو خود متحدہ مجلس عمل کی آشیر باد سے سترھویں آئینی ترمیم کے ذریعے سند جواز عطا کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جب لوگوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تو اس موقف کو ذرا تبدیل کرکے کہا گیا کہ ججوں کی بحالی کے بجائے عدلیہ کی آزادی کا اصولی موقف اپنایا جائے۔ ہمارے یہ رہنما ، جو اپنی ’’عملیت پسندی ‘‘ کے لیے بہت مشہور ہیں ، کیا اس بات کا جواب دے سکیں گے کہ معزول ججوں کی بحالی کے بغیر آزاد عدلیہ کیا معنی رکھتی ہے ؟ اس کمزور موقف کے دفاع میں جو تاویلات تراشی گئیں، ان میں ایک یہ ہے کہ جسٹس افتخار نے حسبہ بل کے خلاف فیصلہ دے کر شریعت کے نفاذ کی راہ میں روڑے اٹکائے، بلکہ صوبہ سرحد کے سابق وزیر اعلی اکرم خان درانی انتخابی جلسوں میں لوگوں یہاں تک کہتے رہے ہیں کہ افتخار چوہدری کو اس بات کی سزا مل رہی ہے کہ انہوں نے حسبہ بل کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور اور دینی مدارس کی اسناد کے بی اے کے برابر ہونے کے خلاف فیصلہ دینے والے تھے ! اس سے کچھ اندازہ ہوجاتا ہے کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے جسٹس افتخار محمد چوہدری کو کن کن محاذوں پر لڑنا پڑا ہے ۔ کیا واقعی جسٹس افتخار اور ان کے ساتھیوں کو سزا مل رہی ہے ؟ انہیں اللہ تعالیٰ نے جو عزت بخشی اور جو کامیابی عطا کی، اس کا اندازہ وہ لوگ نہیں لگا سکتے جو اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہنے کی خاطر ہر اصول کو قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں ۔ 

؂ ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں ! 

یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے، اس لیے میں صوبہ سرحد میں ’’ نفاذ شریعت ‘‘کے سلسلے میں کی جانے والی دو اہم کوششوں کا مختصر جائزہ پیش کروں گا۔ ۲۰۰۲ء کے انتخابات میں صوبہ سرحد کے عوام نے متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے اس لیے کامیاب کیا تھاکہ وہ صوبے میں شریعت کا نفاذ چاہتے تھے اورپچھلی حکومتوں نے اس سلسلے میں عوام کو مایوس کیا تھا۔ تاہم صوبہ سرحد میں واضح اکثریت حاصل ہونے کے باوجود شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ جون ۲۰۰۳ء میں ’’شرعی قانون ایکٹ ‘‘ (جسے عام طور پر شریعت ایکٹ کہا جاتا ہے ) پاس کیا گیا۔ تاہم درحقیقت یہ اس قانون کا ناقص چربہ تھا جسے نوازشریف حکومت نے ۱۹۹۱ء میں پارلیمنٹ سے پاس کرایاتھا۔ چربہ اس وجہ سے کہ اس قانون میں نواز شریف کے دور کے قانون کی ۲۱ دفعات من و عن نقل کی گئی تھیں اور ناقص اس وجہ سے کہ اصل قانون کا متن انگریزی میں تھا جسے انتہائی ناقص طریقے سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ۔ یہاں اس کی صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں ۔ 

اصل قانون میں شریعت کی تعریف یہ تھی : 

"Injunctions of Islam as laid down in the Holy Qur'an and Sunnah"

[قرآن وسنت میں مذکور احکام اسلام] 

یہ ترکیب دستور پاکستان میں کئی مقامات پر استعمال ہوئی ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی سالانہ رپورٹ ۱۹۸۷ء میں اس کی تصویب کی تھی ۔ البتہ اس کے ساتھ کونسل نے اس توضیح کا اضافہ کیا تھا کہ ’’ احکام اسلام کی تشریح میں رہنمائی کے لیے درج ذیل مآخذ سے استفاد ہ کیا جائے گا۔ (۱) سنت خلفاء راشدین (۲) تعامل صحابہ (۳) اجماع امت (۴) مسلمہ فقہائے اسلام کی تشریحات و آراء۔‘‘

صوبہ سرحد کی نفاذ شریعت کونسل نے اس تعریف میں یہ اضافہ کیا کہ قرآن و سنت سے ’’ اخذ کردہ ‘‘ احکام بھی شریعت کا حصہ ہیں ۔ مسودہ لکھنے والے غالباً یہ بتانا چاہتے تھے کہ اسلام کے احکام سے صرف نصوص (text)نہیں مراد بلکہ قواعد عامہ اور مقاصد شریعت بھی اس میں شامل ہیں۔ تاہم ’’ماخوذ احکام ‘‘ کی اصطلاح بھی مبہم ہے اور ’’اخذ‘‘ کا طریقہ بھی واضح نہیں کیا گیا۔ اس لیے تعریف واضح ہونے کے بجائے مزید مبہم ہوگئی ۔

واضح رہے کہ نواز شریف دور میں منظور کردہ شریعت ایکٹ کو تمام مذہبی جماعتوں نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ایک اجلاس میں متفقہ طور پر مسترد کردیاتھا ۔ خود جماعت اسلامی کی مرکزی شوری نے ایک قرارداد کے ذریعے اسے نفاذ شریعت سے فرار کا بل قرار دیا تھا ۔ یہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور ممتاز عالم دین جناب مولانا گوہر رحمان نے وفاقی شرعی عدالت میں اس ایکٹ کی کئی دفعات کے ’’خلاف شریعت ‘‘ ہونے کے سلسلے میں دلائل دیے اور ان کو بعد میں کتابی شکل میں بھی شائع کیا ۔ اب اسی ایکٹ کے ناقص چربے کو وہی دینی جماعتیں نفاذ شریعت کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت اور اپنے ایک اہم کارنامے کے طور پر پیش کررہی ہیں ۔ 

جو تیری زلف کو پہنچی تو حسن کہلائی 
وہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں تھی 

شریعت ایکٹ کی منظوری کے بعد جب عملًا نفاذ شریعت کے سلسلے میں کوئی کاروائی نہیں ہوئی تو مجلس عمل کی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ شریعت کے نفاذ کے لئے ایک اور قانون ’’حسبہ بل‘‘ کی منظوری کی ضرورت ہے جس کی تیاری کے لیے صوبائی شریعت کونسل کام کررہی ہے ۔ تاہم تقریبا ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود مجوزہ حسبہ بل اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا ۔ حسبہ بل کے سلسلے میں کئی سیمینار منعقد کیے گئے جن پر صوبائی خزانے سے تقریباً تین کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے باوجود ان سیمیناروں میں شرکا کی جانب سے جو تجاویز اور ترامیم پیش کی گئیں، ان میں کسی کو بھی مسودے میں شامل نہیں کیا گیا ۔ بعد میں حکومت نے صوبائی وزیر قانون کو بھی تبدیل کیا، لیکن اس کے باوجود اس بل سے وہ متنازعہ امور دور نہ کیے جاسکے جس پر مختلف عوامی اور علمی حلقوں اعتراضات کیے گئے تھے ۔ 

اس بل کا تجزیہ کیا گیاتو معلوم ہوا کہ اس کی اکثر دفعات وہی ہیں جو پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ ’’صوبائی محتسب ایکٹ ‘‘ میں شامل تھیں۔ یہ بل ۱۹۹۶ء میں صوبہ سرحد کی اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا تھا لیکن پھر اس وجہ سے پاس نہیں کیا جاسکا کہ اسمبلی تحلیل کردی گئی تھی ۔ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے اس میں بعض ایسی دفعات کا اضافہ کردیا تھا جو نہ صرف دستور اور دیگر قوانین کے خلاف تھیں بلکہ وہ شریعت کے واضح احکام سے بھی متصادم تھیں ۔ ان پر اعتراضات کیے گئے تو اعلان کیا گیا کہ اس مسودے کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجا گیا ہے جس کی سفارشات کے مطابق اس میں تبدیلی لائی جائے گی ۔ کونسل نے بھی اس مسودے کی کئی دفعات پر تنقید کی جس کے بعد صوبائی حکومت نے کونسل کی سفارشات بھی مسترد کردیں اور بہت لے دے اور تاخیری حربوں کے استعمال کے بعد سیاسی پوائنٹس سکور کرنے کے لئے بالآخر اس بل کو اسمبلی سے منظور کروایا ۔ یہ بل سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے انہی دفعات کے خلاف فیصلہ دیا جن پر علمی اور قانونی حلقوں اور اسلامی نظریاتی کونسل نے پہلے ہی تحفظات پیش کیے تھے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں خود صوبائی حکوت کے وکیل جناب خالد اسحاق مرحوم نے اقرار کیا تھا کہ اس بل کا مسودہ انتہائی حد تک ناقص ہے۔ 

اس کے بعد حسبہ بل کا دوسرا مسودہ اسمبلی میں پیش کیا گیا جس میں کئی مقامات پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تھی ۔ چنانچہ جب بل سپریم کورٹ میں دوبارہ چیلنج کیا گیا تو اس نے پھر واضح کیا کہ اس کی چند دفعات اب بھی دستور سے متصادم ہیں۔ خود کردہ را علاج نیست! 

اب میں ان چند شقوں کا تذکرہ کروں گا واضح طور پر شریعت یا دستور سے متصادم تھیں ۔ 

(۱) اس بل میں ’’تعریفات‘‘ کی شق انتہائی حد تک ناقص تھی۔ ’’معروف ‘‘ اور ’’منکر‘‘ کی تعریفات اتنی مبہم تھیں کہ ان کی ہر طرح کی تعبیر ممکن تھی۔ اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بھی اعتراض کیا گیا تھا۔نیزہر اس شخص کو ’’مستند عالم دین‘‘ قرار دیا گیا تھا جس نے شہادۃ العالمیۃ کے ساتھ ساتھ میٹرک کیاہو۔ اسی طرح ’’سینیئر صحافی‘‘ اسے قرار دیا گیا تھا جس کے پاس ایم اے جرنلزم کی ڈگری ہو یا شعبۂ صحافت سے جس کی وابستگی دس سال سے زائد رہی ہو۔ ’’سینیئر وکیل‘‘ اسے قرار دیا گیا تھا جس کے پاس وکالت کا دس سال کا تجربہ رہا ہو ، چاہے وہ ڈسٹرکٹ کورٹس ہی میں ہو ۔ اس طرح کے مستند عالم دین ، سینیئر صحافی یا سینیئر وکیل کو ضلعی محتسب بنایا جاسکتا تھا جس کو سیشن جج کے برابر اختیارات اور مراعات حاصل ہونے تھے! 

(۲) اس بل کے تحت محتسب کو عدالتی اختیارات دیے گئے لیکن اس کے باوجود حکومت کو اس کی معزولی کے سلسلے میں وسیع اختیارات دیے گئے تھے ۔ مثلا کہا گیا تھا کہ اگر محتسب کو بدعنوانی کے الزام میں معزول کیا جائے اور وہ اس کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل کرے تو نوے دنوں کے اندر اس کی درخواست کی سماعت نہ ہونے کی صورت میں اس کی معزولی کا حکم مؤثر سمجھا جائے گا ۔ 

(۳) محتسب کے متعلق قرار دیا گیا تھا کہ وہ مجموعۂ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۱کے مفہوم میں ’’سرکاری ملازم‘‘ متصورہوگا ۔ تاہم اس کے باوجود اس بل میں قرار دیا گیاتھا کہ بدعنوانی کی صورت میں اس کومعزول کیا جائے تو وہ چار سالوں کے لئے وفاقی ، صوبائی اور ضلعی سطح پر انتخابات کے لئے نااہل ہوگا، حالانکہ آئین کے مطابق ایسی صورت میں سزایافتہ شخص ہمیشہ کے لئے نااہل ہوجاتا ہے ۔ 

(۴) اس بل میں محتسب کو وسیع اختیارات دیے گئے تھے جن میں اکثر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے مطابق نہ صرف یہ کہ مبہم تھے بلکہ ان کا غلط استعمال بھی انتہائی آسان تھا ۔ 

(۵) ایک انتہائی حد تک خطرناک بات اس بل میں یہ تھی کہ محتسب کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہیں دیا گیا تھا ۔ اسی طرح ’’ توہین محتسب ‘‘ کی صورت میں دی جانے والی سزا کے خلاف بھی اپیل کا حق نہیں تھا ۔ 

(۶) بل میں یہ تو قرار دیا گیا تھا کہ کسی سرکاری اہلکار یا ایجنسی کے خلاف شکایت صحیح ثابت ہو تو یہ یہ کارروائی ہوگی لیکن اس میں یہ وضاحت نہیں تھی کہ اگر یہ شکایت بے بنیاد ہو یا بدنیتی پر مبنی ہو تو پھر کیا کیا جائے گا ؟ 

(۷) اس بل کے ذریعے ایک متنازعہ ’’حسبہ فورس‘‘ قائم کرنے کا کہا گیا تھا ۔ بعد میں قرار دیا گیا کہ یہ فورس پولیس ہی کے محکمے سے تشکیل دی جائے گی ۔ اس فورس کو سرکاری دفاتر پر چھاپوں اور ریکارڈ تک رسائی جیسے وسیع مضمرات کے حامل اختیارات دیے گئے لیکن اس کے لئے کوئی طریق کار متعین نہیں کیا گیا ۔ چاہیے یہ تھا کہ محتسب یا اس کے کسی نائب کی سرکاری دفاتر پر چھاپوں اور ریکارڈ تک رسائی کے طریق کار کو قواعد و ضوابط کے ذریعے منضبط کردیاجاتا تاکہ وہ اختیارات کا غلط استعمال نہ کرتے ۔ 

(۸) اس بل میں ضلعی محتسب کا ادارہ آئین سے صراحتاً متصادم تھا کیونکہ سترھویںآئینی ترمیم ، جو ایم ایم کے تعاون اور آشیرباد سے منظور ہوئی ، کے بعد صوبائی حکومت ضلعی نظام حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتی ۔ 

یہ محض چند امور آپ کے سامنے پیش کیے گئے ، ورنہ تفصیلی تجزیے میں جائیں تو بات بہت دور تک نکل جائے گی ۔ اس مختصر تجزیے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حسبہ بل کے خلاف سپریم کورٹ کے دونوں فیصلے مبنی برحق تھے ۔ صوبہ سرحد کے اس وقت کے وزیر قانون نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اسمبلی کی قانون سازی کے اختیار پر حملہ قرار دیا تھا ۔ شاید ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اسمبلی کا قانون سازی کا اختیار مطلق نہیں بلکہ بہت سی قیود کے ساتھ مقید ہے جن میں ایک اہم قید یہ ہے کہ اسمبلی شریعت یا دستور سے متصادم قانون بنائے گی تو عدالت اسے تصادم کی حد تک کالعدم قرار دے سکتی ہے ۔ میں نے اپنے ایک پچھلے مکتوب میں اسی وجہ سے کہا تھا کہ محض ’’حسبہ‘‘ نام رکھ دینے سے یا اس وجہ سے کہ اس بل کو دینی جماعتوں کے اتحاد نے پیش کیا یہ بل از خود اسلامی شریعت کے مطابق نہیں ہوجاتا ۔ 

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر 
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار تریاقی 

محمد مشتاق احمد 

اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ قانون 

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد 

(۲)

مکرمی جناب حافظ عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے ایمان وصحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔

تسلیمات کے بعد، آپ کا موقر رسالہ ’الشریعہ‘ دار العلوم مصباح الاسلام کے ذیلی ادارہ مصباح الاسلام لائبریری کے نام باقاعدگی کے ساتھ مل رہا ہے۔ اس کے تمام مضامین ما شاء اللہ خوب تحقیقی اور حالات حاضرہ کے لیے تیر بہدف ہیں۔ اس وقت امت مسلمہ کو درپیش سب سے اہم مسئلہ مسلم امہ کا انتشار ہے۔ مسلکی وسرحداتی طور پر امت مسلمہ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ وطن عزیز اس وقت سخت افتراق وتفریق اور اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہے۔ اس وقت پاکستان کے اندر تمام مسالک کے پیروکاروں کو متحد ہو کر ملکی سا لمیت کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ 

الشریعہ کے گزشتہ شمارے میں محترم غلام یاسین صاحب کا خط پڑھ کر خوشی بھی ہوئی اور افسوس بھی! خوشی اس لیے ہوئی کہ ماشاء اللہ الشریعہ کے قارئین اس سوچ کے حامل ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر فکری تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے فکر مند رہتے ہیں، جبکہ افسوس اس بات پر کہ خود محترم غلام یاسین صاحب کی تحریر میں فرقہ واریت کا عنصر موجود ہے۔ وہ ایک طرف امت مسلمہ کے انتشار کا رونا رو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف دیگر مسالک کی دل آزاری کرکے پوری دنیا پر مسلک دیوبند کی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ 

محترم غلام یاسین صاحب کی اس بات سے مجھے بھی اتفاق ہے کہ ’’سینکڑوں نہیں ہزاروں طلبہ وفاق المدارس کا اعلیٰ امتحان ہر سال پاس کر کے سند فضیلت (فراغت) حاصل کرتے ہیں۔ پھر معاشرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے تو ایک مرد قلندر بھی کافی، افسوس کہ یہاں ہزاروں میں ایک بھی نہیں۔ آخر کیا وجہ ہے؟‘‘ یاسین صاحب خود اس کی وجہ فضلا میں تنگ نظری، تنگ دلی، تعصب، بغض وعناد، حسد اور انانیت کو قرار دے رہے ہیں۔ مجھے ان تمام باتوں سے اتفاق ہے کہ مذکورہ خصلتیں امت مسلمہ کے مابین انتشار کا سبب ہیں، لیکن ان خصلتوں سے باہر نکلنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمارے دینی اداروں میں تربیت کا فقدان ہے۔ ہمارے ہاں بین المذاہب کے بجائے بین المسالک پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور ابناے امت کو اسلام کے مدمقابل مذاہب کے سامنے کھڑا کرنے کے بجائے اپنے دین ہی کے اندر دیگر مسالک کے خلاف نظریاتی طور پر تیار کر کے کھڑا کرنے کا رواج عام ہے جس کا نتیجہ اس وقت ہمارے سامنے ہے کہ اغیار کے بجائے ہم اپنوں ہی کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں جبکہ غیر اقوام ہمارے ان اختلافات سے فائدہ اٹھا کر ہمیں کمزور کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔

مسلمان ہر جگہ خوار ہو رہے ہیں۔ صرف مسلک دیوبند کی حفاظت کرنے سے کچھ نہیں ہو سکتا، نہ پوری دنیا پر مسلک دیوبند کی حکومت قائم ہونے سے امت مسلمہ انتشار سے نکل سکتی ہے۔ تین سو تیرہ نفوس کو تیار کرنے کے لیے ہمیں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث کی زنجیروں سے نکلنا ہوگا، تب کہیں جا کر فضائے بدر پیدا ہوگی اور امت مسلمہ کی نصرت کے لیے فرشتے قطار اندر قطار نازل ہوں گے۔ اور اگر ان تین سو تیرہ نفوس پر دیوبندیت کا لیبل لگا کر میدان میں نکالا گیا تو یہ بھی یقینی ہے کہ ان کے مدمقابل بریلوی، اہل حدیث کے تین سو تیرہ بھی میدان میں کھڑے ہوں گے کہ یہی بین المسالک تعصب کا نتیجہ ہے۔ امت مسلمہ اس وقت سخت امتحان کا شکار ہے۔ ہمیں اس وقت اتحاد ویک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امت مسلمہ کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا ملے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کا حامی وناصر ہو۔

سید عرفان اللہ ہاشمی

ایڈیٹر مجلہ ’’مصباح الاسلام‘‘

مٹہ مغل خیل، تحصیل شب قدر، ضلع چارسدہ

(۳)

برادر محترم عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم

دسمبر کے شمارے میں آپ کا نہایت ہی عالمانہ اور فکر انگیز مقالہ بعنوان ’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ جس خوب صورتی اور سلیقے کے ساتھ آپ نے اس ادق موضوع کو بیان کیا ہے، اس سے آپ کے فہم اور صلاحیت تفہیم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ وہ آپ کو دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے اور آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

ناصر مصطفی

مکان نمبر DV-10، ڈنہ، نزد ایف بلاک 

سیٹلائیٹ ٹاؤن، راول پنڈی

(۴)

محترمی ومکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

الشریعہ کبھی کبھی نظر سے گزرتا ہے۔ ماشاء اللہ اپنے انداز وادا سے تازگی اور جدت کا پیغامبر ہے۔ آپ جس دردمندی، محنت اور اخلاص کے ساتھ قلم اٹھاتے ہیں، وہ تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ان کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

تازہ الشریعہ (دسمبر) میں ’’کلمہ حق‘‘ کے عنوان کے تحت ایک خاتون کا خط شائع کیا گیا ہے۔ اس میں بیان کردہ حالات بہت بڑے خطرات کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں علماے کرام کو کیا کرنا چاہیے، گہرے غور وفکر اور سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ موجودہ فتنہ پرور دور اور سازشوں کا شعور وادراک عطا فرمائے، آمین۔

عمران ظہور غازی

چیف آرگنائزر ہیومن رائٹس نیٹ ورک پنجاب

۲۲۔سی، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور

مکاتیب