مکاتیب

ادارہ

(۱)

جناب محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم

میری دعا ہے کہ رب کائنات آپ کے دل ودماغ اور مقدس لوح وقلم کو تاروز حیات سرسبز، شاداب رکھیں۔

تقریباً ایک ماہ پہلے غالباً جنوری ۲۰۰۸ کے تیسرے عشرے میں رائے ونڈ بازار کے ایک بک اسٹال سے ’’ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ کے نام سے آپ کی تالیف خرید کر پڑھی جس کے پڑھنے پر نہایت ہی خوشی حاصل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ بار شکریہ ادا کیا کہ اس قحط الرجال کے دور میں بھی آپ جیسے سلیم الفطرت، وسیع القلب اور وسیع النظر، عالی ظرف اور نہایت ہی سنجیدہ علماے کرام موجود ہیں۔ آپ کے ذوق کتب بینی اور نہایت ہی وسیع مطالعہ کو میں سلام کرتا ہوں۔ آپ کی تحریر میں علمی محاسبہ اور احتساب کے ساتھ ساتھ نہایت ہی شایستگی، رواداری، شیریں گوئی، اعتدال اور ذہنی پختگی کا احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہے جس کے متعلق محترم جاوید احمد غامدی کے تینوں شاگردان رشید جناب معز امجد، جناب خورشید ندیم اور جناب ڈاکٹر فاروق خان بھی آپ کی مذکورہ تمام خوبیوں کے معترف نظر آ رہے ہیں۔ آپ کا شمار اور مقام ان علماے حق میں سرفہرست ہے جو مریض سے نہایت محبت اور ہم دردی اور اس کے مرض سے نفرت کرتے ہیں۔ ایسے فرد فرید بہت ہی کم بلکہ نایاب ہوتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ آپ سو فیصد رومی کے اس شعر کے مصداق ہیں جو سید منظور الحسن نے آپ کے لیے نقل کیا ہے:

دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کز دام ودد ملولم وانسانم آرزو ست

آپ نے مذکورہ تینوں اسکالرز کے ساتھ جو علمی وفکری مکالمہ کیا ہے، اس کے چار موضوعات: علما اور سیاست، زکوٰۃ اور ٹیکسیشن، فتویٰ بازی کا درست/غلط استعمال اور پرائیویٹ عسکری تنظیموں کے جہاد میں سے پہلے تینوں موضوعات کے بارے میں دونوں فریقوں کے موقف میں کافی وزن پایا جاتا ہے جس کو پڑھنے کے بعد اگر خود قاری کے دل میں کوئی کجی اور ٹیڑھ نہ ہو تو وہ ایک بہترین نقطہ اعتدال پر پہنچ جاتا ہے۔ البتہ ’’اسلام میں پردے کے احکام‘‘ کے موضوع پر میرا جھکاؤ آپ کی طرف بہت ہی زیادہ ہے، خاص طور پر غامدی صاحب کا یہ فرمان کہ ’’دوپٹہ کا تعلق کلچر سے ہے، شریعت سے نہیں‘‘ میرے لیے دکھ کا باعث ہے اور اس طرز فکر اور زاویہ نگاہ کی کڑی پرویز مشرف کی روشن خیالی سے جا ملتی ہے۔ حمید الدین فراہیؒ کے مکتبہ فکر میں آپ نے ’’تفردات‘‘ کی اصطلاح بہت استعمال کی ہے جو موقع اور محل کے اعتبار سے اگرچہ درست ہے لیکن میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر اسرار احمد کے ماہنامہ میثاق کے مطابق فراہیؒ نے ایک دفعہ خود قینچی منگوا کر مولانا اصلاحیؒ کی شلوار کا اتنا حصہ کاٹ ڈالا تھا جو ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا تھا۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ’’دوپٹہ کا تعلق کلچر سے ہے، شریعت سے نہیں‘‘ کا نقطہ نظر غامدی صاحب کا تو ہو سکتا ہے، فراہی کا نہیں۔ شریعت کے ساتھ دوپٹہ کے تعلق میں عورت ذات کا تحفظ بہت ہی زیادہ ہے۔

جہاں تک حکومتی سرپرستی کے علاوہ پرائیویٹ عسکری تنظیموں کے جہاد اور قتال کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں آپ کی رائے کے ساتھ خاکم بدہن ہرگز متفق نہیں ہوں، کیونکہ جہاد افغانستان میں امریکہ کی طرف سے بے تحاشا دولت، سرمایہ اور اسلحہ کی فراوانی میں القاعدہ کے علاوہ تقریباً چودہ عسکری تنظیمیں روس کے خلاف لڑ رہی تھیں۔ ان کا یہ قتال سرمایہ اور اسلحہ حاصل کر نے کے لیے زیادہ اور فی سبیل اللہ برائے نام تھا اور امریکہ کے اس مال غنیمت میں سب سے بڑھ کر مذہب کے شاہین، فوج کے بڑے جرنیل اختر عبد الرحمن (مرحوم)، جنرل حمید گل اور ضیاء (مرحوم) کے بیٹے سب شامل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ روسی شکست کے بعد تمام عسکری تنظیمیں آپس میں الجھ گئیں اور تقریباً پانچ سال تک نہایت افراتفری، بد امنی اور لوٹ مار کی کیفیت رہی اور نہایت مقدس جہاد خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا، اس لیے کہ اس کی پشت پر کوئی منظم حکومت نہیں تھی۔ ا س کے بعد پاکستان کے ایما پر جنرل نصیر اللہ بابر نے طالبان کو منظم کیا ۔ ادھر طالبان کی حکومت تو قائم ہو گئی لیکن گلبدین حکمت یار سمیت بہت سے بڑے بڑے سابقہ جہادی لیڈر طالبان کے خلاف تھے۔ اسی دوران طالبان اور احمد شاہ مسعود کے درمیان تقریباً چار سال خانہ جنگی رہی۔ آخرکار اسامہ بن لادن کی مہربانی سے نائن الیون کے واقعات کے بعد افغانستان پر امریکہ کے حملے کے نتیجے میں طالبان کی حکومت بھی ختم ہو گئی۔ اگر ابتدا ہی سے یہ تمام تنظیمیں ایک ہی کمان کے تحت لڑتیں تو کوئی افراتفری نہ ہوتی اور یہ مقدس جہاد خانہ جنگی میں تبدیل نہ ہوتا، لیکن پاکستان یہی چاہتا تھا کہ افغانستان سو فیصد ہمارے رحم وکرم پر ہو اور وہاں کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہو۔

اس وقت سب سے زیادہ خطرناک اور امن عالم کے لیے نہایت ہی نقصان دہ تنظیم القاعدہ تنظیم ہے۔ اس پرائیویٹ عسکری تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کا تصور قتال کیا ہے؟ ۲۳فروری ۱۹۹۸ء کو القاعدہ کے سربراہ کی حیثیت سے اسامہ بن لادن، امیر جماعت الجہاد مصر کی حیثیت سے ڈاکٹر ایمن الظواہری اور امیر جماعت اسلامیہ مصر کی حیثیت سے جناب ابویاسر کی طرف سے افغانستان میں خوست کے مقام پر یہ فتویٰ جاری کیا گیا کہ امریکہ نے بقول اسامہ بن لادن کے پورے عالم اسلام کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے، ایسے موقع پر امریکہ کے خلاف جہاد فرض عین ہو جاتا ہے، چنانچہ ہم تمام مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ہر امریکی شہری اور امریکہ کے ہم نواؤں کو قتل کریں اور ان کا سامان لوٹیں۔ گویا تمام یہود ونصاریٰ کی جان، مال اور آبرو اس مرحلے پر تمام مسلمانوں کے لیے مباح اور حلال ہے۔ اس فتوے پر عمل کرنے کے لیے سب سے پہلے القاعدہ نے اگست ۱۹۹۸ء میں کینیا اور تنزانیہ کے سفارت خانوں میں بم دھماکوں سے دو سو بیس افراد کو ہلاک کیا۔ بن لادن نے اپنے ایک بیان میں حملہ آوروں کی تعریف وتحسین کی اور جتنے بھی افراد کو ان دھماکوں میں ملوث پا کر عدالتوں کی طرف سے سزائیں دی گئیں، ان سب سے القاعدہ سے تعلق کا اعتراف کیا بلکہ بن لادن نے ان دھماکوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ اس کے بعد نائن الیون کا عظیم حادثہ پیش آیا جس کے منطقی نتیجے کے طور پر طالبان کی شرعی حکومت ختم ہوئی اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے اس حادثے میں جو انھیں انیس پائیلٹ کریش ہوئے، وہ سب کے سب القاعدہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے جنھوں نے امریکہ میں آزادی کی وجہ سے امریکی فلائنگ کلب سے تربیت حاصل کی تھی۔ 

پاکستان میں بھی مختلف پرائیویٹ عسکری تنظیموں مثلاً حزب المجاہدین، حرکت الانصار، جیش محمد، لشکر طیبہ اور حرکت المجاہدین نے ملک کے اندر اور باہر ایسے بہت سے تخریبی کارنامے سرانجام دیے جس سے ملک کا امن وامان تباہ وبرباد ہو گیا۔ صوبہ سرحد میں باڑہ اورپشاو ر میں دو مذہبی عسکری تنظیموں، مفتی منیر شاکر کی طرف سے لشکر اسلام اور پیر سیف الرحمن کی طرف سے انصار الاسلام نے ایک دوسرے کے ستاسی افراد قتل کیے، سینتالیس دکانوں اور چالیس مکانات کو کو جلا دیا اور ہر تنظیم نے اپنی اس قتل وغارت کو جہاد کے نام سے موسوم کیا۔ آپ ہی کے گوجرانوالہ کے ایک جنونی مولوی محمد سرور نے ایک ایم پی اے خاتون ظل ہما کو کھلی کچہری میں قتل کر دیا اور اس قتل ناحق کو جہاد سے منسوب کیا۔ ابھی حال ہی میں سوات کے مولانا فضل اللہ کی طالبان تحریک کے ایک راہنما مسمیٰ نڈر سے جب دو ریٹائرڈ اور چار حاضر سروس پولیس اور محکمہ ملیشا کے ملازمین کو بے دردی سے ذبح کر کے سروں کو تن سے جدا کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو ان کے خلاف فرد جرم جنرل مشرف کی ملازمت تھی اور جب ان کے سروں کو رولنگ سٹون کی طرح گاڑی کے ساتھ باندھ کر بازاروں میں پھرانے کی وجہ پوچھی گئی تو یہ عمل کرنے والوں کو معاذ ومعوذ سے اور ذبح ہونے والوں کو ابوجہل سے تشبیہ دے کر وجہ جواز بتائی گئی۔ 

ان پرائیویٹ تنظیموں نے باربر شاپس کو اس لیے بموں سے اڑایا کہ وہاں ڈاڑھیاں مونڈی جاتی ہیں۔ سوات میں طالبان نے ایک ایسے گرلز ڈگری کالج کو دھماکوں سے اڑا دیا جو ابھی حال ہی میں ایم ایم اے کی حکومت نے تقریباً دو کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا تھا۔ غرض گزشتہ تین سالوں میں جو بھی خود کش حملے، دھماکے، گھیراؤ جلاؤ اور توڑ پھوڑ ہوتی رہی، ان سب کو اسلامی جہاد کی طرف منسوب کر کے اسلام کے پرامن روئے زیبا کو داغ دار کیا جا تا رہا جس کو مغربی دنیا میڈیا پر دیکھتی ہے اور مسلمانوں سے وحشت محسوس کر کے دعوت کے راستے بند ہو جاتے ہیں، اور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ جنونی مسلمان اپنے اس عمل کو جائز ثابت کرنے کے لیے اسود عنسی، کعب بن اشرف اور ابو رافع کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

فی الوقت تمام پرائیویٹ عسکری تنظیموں میں سے اہل حدیث کی لشکر طیبہ (جماعۃ الدعوۃ) سب سے بڑی تنظیم ہے۔ میں نے خود مریدکے میں ان کے ساتھ تین دن گزار کر ان کے طریقہ واردات کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ان کا طریقہ مزاج اسلام کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا، بلکہ ان کے قول کے مطابق مسعود اظہر کی اقتدا میں نماز باجماعت ادا نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ وہ حرکت الانصار کے بھی سخت خلاف ہیں۔

آپ کی سلامت طبع سے امید ہے کہ اگر آپ یہ علمی مکالمہ ۲۰۰۷ کے بعد کرتے تو پرائیویٹ ، غیر منظم اور حکومت کی سرپرستی کے بغیر جہاد وقتال کے بارے میں آپ غامدی صاحب کے موقف کی تائید کرتے۔ آپ کے مضامین ماہ اگست ۲۰۰۱ کے ہیں جو علم ومشاہدہ میں بعد کے زمینی حقائق کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے اور زمینی حقائق اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا نقصان اس کے فائدہ سے ہزار گنا زیادہ ہے۔

سیف الحق

ڈائریکٹر چکیسر پبلک اسکول

تحصیل الیوری، ضلع شانگلہ۔ صوبہ سرحد

(۲)

مکرمی جناب مولانا عمار خاں ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاجِ گرامی!

ماہنامہ الشریعہ ہر مہینے وصول ہوکر ہوا کاایک تازہ جھونکا مہیا کرتا رہتا ہے۔ اس ہوا میں نئی خوشبو پچھلے ایک دو ماہ سے خود آپ کی، اپنے مضامین کے ذریعے حاضری سے محسوس ہورہی ہے، خصوصاً فروری کے شمارے میں حدود کی ابدیت اور آفاقیت پر آپ کا طرزِ استدلال متأثر کن تھا۔ فروری کے شمارے میں جو چیز میرے لیے سب سے زیادہ خوش گوار حیرت کا باعث بنی، وہ اہل فکرو دانش کی اس بزم میں اس ناچیز طالب علم کی اس کی ریکارڈ شدہ تقریرکے ذریعے شرکت تھی۔ راقم کو اس بات میں خاصا تردد تھا کہ اس کی گفتگو بھی الشریعہ جیسے وقیع پلیٹ فارم پر جگہ پانے کے قابل ہو سکتی ہے۔ بہرحال اس نحیف آواز کو اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے آگے پہنچانے کا بہت بہت شکریہ۔ الشریعہ جیسے جریدے میں اپنے نقطہ نظر کی اشاعت میں ایک فائدہ یہ بھی متوقع ہے کہ اسے تنقید اور بحث کی چھلنی سے گزرنے کا موقع مل جائے گا اور اس سے مختلف کوئی رائے ہوگی تووہ بھی سامنے آجائے گی۔ دیگر دینی جرائد میں یہ بات تقریباً ناپید ہے ۔

الشریعہ کا ’’ کلمہ حق‘‘ اور بہت سے لوگوں کی طرح یہ ناچیز بڑے اشتیاق سے پڑھتا اور اس سے مستفید ہوتاہے ، لیکن جنوری کے ’’کلمۂ حق‘‘ سے ’’حسبہ بل‘‘ سے جس طرح کا ’’حسنِ عقیدت ‘‘ محسوس ہورہا تھا، وہ خاصی حیرت کا باعث بنا۔ اس پر کچھ عرض کرنے کی جسارت کا ارادہ کررہا تھا، لیکن مارچ کے شمارے میں اسلام آباد سے جناب محمد مشتاق صاحب کے مراسلے نے کافی حد تک یہ فرضِ کفایہ ادا کردیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں قوانین کی پہلے بھی ایسی کمی نہیں ہے۔ اگر سیاسی اور انتظامی قوتِ ارادی موجود ہو تو موجودہ قوانین کے اندر رہتے ہوئے بھی بہت سے اچھے کام کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی حکومت واقعی رشوت اور بد عنوانی جیسے ’’منکر‘‘ کو ختم کرنا چاہے تو نہ تو اس کے لیے نئی قانون سازی کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی سپریم کورٹ اسے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے۔ ایم ایم اے کی حکومت کو بھی اس برائی کے خاتمے سے نہ تو مرکز کی کسی پالیسی نے منع کیا تھا اور نہ ہی سپریم کور ٹ کا کوئی فیصلہ آڑے آسکتا تھا۔ ایم ایم اے نے اپنے دورِ حکومت میں اس سلسلے میں کتنی کوششیں کیں اور ان میں کس حد تک کامیاب رہی، اس کے بارے میں صوبہ سرحد کے لوگوں سے پوچھا جاسکتاہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ہمارے ہاں کے فہمِ اسلام میں رشوت وبد عنوانی جیسی برائی ’’منکرات ‘‘ کی ترتیب میں کتنویں نمبر آتی ہے۔

(مولانا مفتی) محمد زاہد

خادم جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد 

(۳)

محترم مدیر ماہنامہ الشریعہ ،گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کا ماہنامہ مجھے باقاعدگی سے مل رہا ہے اور میں بہت شوق سے اس کے مضامین کو دیکھتا ہوں، خاص کر وہ مضامین جن میں جاوید احمد صاحب غامدی کے کام کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں دیگربہت سے لوگوں کی طرح حافظ محمد زبیر صاحب (ریسرچ ایسوسی ایٹ، قرآن اکیڈمی، لاہور)نے بھی قلم اٹھایا اور جاوید صاحب کے کام کی علمی بنیادوں کو زیر بحث لے آئے۔ مجھے ذاتی طور پر اس بات کی بے حد خوشی تھی اور ہے کہ انھوں نے اپنی تنقید کی بنیاد جزوی اور فروعی چیزوں کے بجائے اصولی باتوں پر رکھی۔ اپنے مضامین کو جب کتاب کی صورت میں انھوں نے شائع کیا تو اس بات کو خاص طور پر اہتمام کے ساتھ بیان کیا، بلکہ یہاں تک دعویٰ کیا گیاکہ حافظ صاحب نے جاوید صاحب کے افکار کی ’جڑوں پرتیشہ‘ رکھ دیاہے۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ جاوید صاحب کے حلقے سے پہلی دفعہ ایک اسکالر (منظور الحسن صاحب )نے کسی تنقید کا باقاعدہ جواب اور جواب در جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ آپ کے اسی رسالے کے صفحات پر وہ بحث چلتی رہی جس میں پہلے ’فطرت‘ اور پھر ’الکتاب‘کے بارے میں جاوید صاحب پر لکھے گئے تنقیدی مضامین اور ان کے جواب شائع ہوئے۔ خاص طورپر حافظ زبیر صاحب کی کتاب کے پہلے باب ’جاوید احمد غامدی کا تصور فطرت ‘پر جواب در جواب کی شکل میں تفصیلی بحث ہوئی۔ ایک ایک نکتہ کو زیر بحث لایا گیااوراس سلسلے کا آخری مضمون وہ تھا جس میں منظور الحسن صاحب نے آٹھ نکات کی شکل میں پوری بحث کا خلاصہ کرکے یہ بتادیا کہ حافظ زبیر صاحب کے اعتراضات کیاتھے، ان کے جوابات کیا دیے گئے ، مگر ناقد نے ان کے جواب میں مکمل خاموشی اختیار کرلی۔

ایک قاری کی حیثیت سے میں زبیر صاحب کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ان کی یہ اخلاقی اور علمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحث کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ یہ حسن ظن رکھا جاسکتا تھا کہ وہ کسی مصروفیت کا شکار ہیں اور اس بنا پر جواب نہیں دے پارہے ، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نت نئے موضوعات لے کر جاوید صاحب پر زور و شور سے تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اپنے اس رویے کو شاید وہ حق بجانب سمجھتے ہوں لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ رویہ کسی سنجیدہ آدمی کا ہونہیں سکتا۔ ایک سنجیدہ انسان جسے قیامت کے دن پروردگار کے حضور جواب دہی کا اندیشہ لاحق ہوجائے، وہ اس طرح کے مکالمے کے لیے قلم اٹھانے سے قبل یہ پہلے یہ سوچ لیتا ہے کہ اس بحث میں ایک تیسرا فریق خود پروردگار عالم بھی ہے۔ وہ پروردگار علم اور فہم کی غلطیاں تو معاف کرسکتا ہے، مگر عدم اعتراف پر مبنی اس طرح کی ’ذہانت‘ کا مظاہر ہ اس کے نزدیک کوئی پسندیدہ رویہ نہیں ہوسکتا۔

زبیر صاحب کے اس رویے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ ان کا طرز عمل اصل میں جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار کی وہ خدمت ہے جو ان کا کوئی بڑے سے بڑا ہمدرد بھی سر انجام نہیں دے سکتا۔ ان کی کتاب پڑھ کر پہلے ایک آدمی جاوید صاحب کو ’گمراہ‘ سمجھتا ہے۔ پھر منظور صاحب کا جواب پڑھنے اور زبیر صاحب کی خاموشی کی داستان سننے کے بعد اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ تحریر کوئی علمی کاوش نہیں بلکہ جاوید صاحب کو بدنام کرنے کی مہم کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح زبیر صاحب جاوید صاحب کی شہرت اور مقبولیت کا سبب بن رہے ہیں۔

مدیر محترم! یہاں میں آپ کی توجہ بھی ایک اہم حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اس امت میں اختلافات کی داستان کوئی نئی نہیں ہے۔ اہل الرائے اور اہل حدیث، معتزلہ اور اشاعرہ اور شیعہ سنی اختلافات سے امت کی تاریخ عبارت ہے۔ پھر بریلوی، اہل حدیث اور دیو بندی اختلافات کی بات تو ابھی حال ہی کا واقعہ ہے۔ آپ نے اگر یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ دینی اختلافات پر مضامین شائع کریں گے تو یہ ضرور کیجیے، لیکن ساتھ میں لوگوں کو مکالمے کے آداب،اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا جذبہ اور اعتراف کا حوصلہ سکھائیے۔ لوگوں کو یہ سکھائیے کہ تنقید کرنے سے قبل سامنے والے کی بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ پھر اس طرح اسے دیانتداری کے ساتھ بیان کیا جائے کہ وہ خود کہے کہ میری بات بالکل صحیح بیان ہوئی ہے، وگرنہ اس امت میں بریلویوں کو مشرک قرار دیا جاتا رہے گا اور ہر بریلوی اپنے بچوں کو یہی بتائے گا کہ دیوبندی منکر درود اور اہل حدیث گستاخ رسول ہیں۔ یہ کافر ہیں، کافر ہیں ،کافر ہیں، جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کے جذبے کے ساتھ اعتراف کا حوصلہ بھی عطا فرمائے ۔

ریحان احمد یوسفی

ishraqkarachi@gmail.com

(۴)

محترم جناب محمد عمار ناصر صاحب

السلام علیکم۔ امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

آپ دن بدن اپنے رسالے ’الشریعہ‘ کو علمی اور تحقیقی بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کر رہے۔ خدارا اپنے رسالے میں تحقیق کا مرکز ومیدان امت میں موجود تفرق وتشتت کے کینسر کو بنائیں جو امت مسلمہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں اس تفریق کا باعث ائمہ اربعہ کی فقہی آرا ہیں یا ایک ہی موضوع پر مختلف مفہومات کی حامل احادیث ہیں یا علماے سو کے ذاتی مفادات یا کوئی اور سبب؟ بہرحال جو بھی اس کے اسباب ہیں، ان کا دقت نظر سے جائزہ لے کر ان کے استیصال کی بھرپور کوشش کرنا ہی فی زماننا دین کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ 

آپ ایسے اہل علم سے یہ مخفی نہیں ہے کہ امت کی موجودہ تفریق بھی ازروے قرآن حکیم شرک کے زمرے میں آتی ہے۔ آپ حضرات لوگوں کو شرک جلی اور شرک خفی سے تو ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں، لیکن اس شرک کے معاملے میں آپ کی آنکھیں کیوں بند ہیں؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

امید ہے کہ آپ میری معروضات پر مثبت رد عمل کا مظاہرہ فرمائیں گے۔

ماسٹر لال خان

ساکن بیکنانوالہ۔ ڈاک خانہ چک جانی

براستہ ڈنگہ۔ تحصیل کھاریاں۔ ضلع گجرات

(۵)

محترمی ومکرمی مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

الشریعہ کبھی کبھی نظر سے گزرتا ہے۔ ماشاء اللہ اپنے انداز وادا سے تازگی اور جدت کا پیغامبر ہے۔ آپ جس دردمندی، محنت اور اخلاص کے ساتھ قلم اٹھاتے ہیں، وہ تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ان کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

الشریعہ (دسمبر ۲۰۰۷) میں ’’کلمہ حق‘‘ کے عنوان کے تحت ایک خاتون کا خط شائع کیا گیا ہے۔ اس میں بیان کردہ حالات بہت بڑے خطرات کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں علماے کرام کو کیا کرنا چاہیے، گہرے غور وفکر اور سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ موجودہ فتنہ پرور دور اور سازشوں کا شعور وادراک عطا فرمائے، آمین۔

عمران ظہور غازی

چیف آرگنائزر ہیومن رائٹس نیٹ ورک پنجاب

۲۲۔سی، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور


مکاتیب

(اپریل ۲۰۰۸ء)

Flag Counter