مولانا ضیاء الدین اصلاحی (مرحوم) ۔ دارالمصنفین کا ایک تابندہ ستارہ

ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

(دار المصنفین شبلی اکیڈمی (اعظم گڑھ) کے ڈائریکٹر ، ماہنامہ ’’معارف‘‘ کے مدیر مولانا ضیاء الدین اصلاحی مؤرخہ یکم فروری ۲۰۰۸ء بروز جمعہ بنارس میں سڑک کے ایک جان لیوا حادثے کا شکار ہوگئے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ مرحوم کی دارالمصنفین سے پچاس سالہ رفاقت، معارف کی بیس سالہ ادارت اور خدمات پر مضمون پیش کیا جارہا ہے۔)


سیر ت النبی ﷺ (شبلی نعمانی) کا نام جب بھی ذہن میں آتا ہے تو لازماً دارالمصنفین کا خیال دل و دماغ میں نقش ہوجاتا ہے۔ اعظم گڑھ (ہند) میں قائم ہونے والا یہ ادارہ محض مولانا شبلی نعمانی کا خواب ہی نہ تھا بلکہ ہند کے مسلمانوں کے نشاۃ ثانیہ اور علمی احیا کی ایک تحریک تھی۔ دارالمصنفین کی تقریباً ۹۲سالہ تاریخ نے یہ ثابت کردیا کہ یہ خطہ علمی طور پر ابھی بانجھ نہیں ہوا، بلکہ ایسے اداروں نے ایسے رجال کار اور علما و مصنفین پیدا کیے جس کا خواب شبلی نعمانی مرحوم نے دیکھا اور جس کی عملی تعبیر ان کے شاگردِ رشید سید سلمان ندوی نے فراہم کی۔ اس ادارے نے وہ عظیم الشان اہلِ علم و دانش پیدا کیے اور انہوں نے وہ تہذیبی و تمدّنی اور تاریخی سرمایہ چھوڑا جس پر خطہ ہندوستان بجا طور پر فخر کرسکتا ہے۔(۱)

علامہ شبلی نعمانی کے خاکہ کے مطابق اس ادارہ کو علمی تحریک کا روپ دینے میں جن شخصیات نے اپنا خونِ جگر دیا، ان میں سید سلمان ندویؒ ، مولانا معین الدین ندوی، مولانا عبدالماجد ندوی، مولانا ریاست علی ندوی، مولانا ابوظفر ندوی، مولانا عبدالسلام قدوائی، سید صباح الدین عبدالرحمٰن اور مولانا ضیاء الدین اصلاحی شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دارالمصنفین کے افق پر چمکنے والا ستارہ ہے ، جس کی ضوفشانیوں سے ایک عالم منور ہورہا ہے۔

مختصر حالاتِ زندگی

مولانا ضیاء الدین اصلاحی اعظم گڑھ (یو۔پی) کے ایک چھوٹے سے گاؤں سہاریا(Sahara)میں نظام آباد کے قریب ۱۹۳۷ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر) میں حاصل کی ۔ آپ مولانا اختر احسن اصلاحی کے شاگرد خاص تھے جومولانا حمید الدین فراہی کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کے بڑے بھائی مولانا قمر الدین اصلاحی مولانا امین احسن اصلاحی کے شاگرد تھے۔ مدرسۃ الاصلاح سے فراغت کے بعد مولانا ضیاء الدین اصلاحی ۱۹۵۷ء میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی (اعظم گڑھ) سے بطور رفیق (ریسرچ سکالر) وابستہ ہوگئے۔ اس وقت شاہ معین الدین ندویؒ اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے۔ تقریباً تیس سال رفیق کی حیثیت سے کام سرانجام دیا۔ سید صباح الدین عبدالرحمٰن کی ناگہانی وفات (۲)کے بعد۱۹۸۸ء میں ضیاء الدین اصلاحی ڈائریکٹر (ناظم) کے عہدے پر فائز ہوئے جو تادمِ حیات اپنی ذمہ داریاں پوری جانفشانی سے ادا کرتے رہے۔ علاوہ ازیں مولانا ضیاء الدین مندرجہ ذیل علمی اداروں اور فلاحی تنظیموں سے وابستہ رہے۔

۱۔ ناظم (ڈائریکٹر) مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر۔ اعظم گڑھ)

۲۔ ممبر مجلس منتظمہ ندوۃ العلماء (لکھنؤ)

۳۔ ممبر مجلس منتظمہ دارالعلوم تاج المساجد (بھوپال)

۴۔ ممبر مجلس منتظمہ جامعۃ الفلاح (اعظم گڑھ)

۵۔ ممبر مجلس عاملہ اردو اکیڈمی (یو۔پی)

۶۔ ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

بطور مصنّف و قلم کار

مولانا ضیاء الدین اصلاحی کا قلم بہت رواں تھا۔ انہوں نے متعدد موضوعات پر قلم اٹھایا ۔ ان میں تفسیر، حدیث، فقہ، ترجمہ نگاری، سیرت و سوانح، تاریخ و ادبیات شامل ہیں۔ تصنیف و تالیف میں اگرچہ زیادہ تر مقالات شامل ہیں جن پر ہم الگ سے بحث کریں گے۔ تاہم مندرجہ ذیل تصنیفات ان کے قلم سے نکلیں:

۱۔ تذکرۃ المحدثین: 

رجالِ حدیث مولانا کا پسندیدہ موضوع تھا۔ مذکورہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ جلدِ اول میں دوسری صدی ہجری کے آخر سے چوتھی صدی ہجری کے اوائل تک مشہور محدثین کے حالات اور ان کی تصنیفات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جبکہ دوسری جلد میں چوتھی صدی ہجری کے نصف آخر سے آٹھویں صدی ہجری تک محدثین کا احاطہ کیا گیا ہے جبکہ تیسری جلد میں آٹھویں صدی ہجری سے شیخ عبدالحق محدث دہلوی تک کے ممتاز صاحبِ تصنیف اور ہندوستانی محدثین کے حالات قلم بند کیے ہیں۔

۲۔ مسلمانوں کی تعلیم:

۲۲۶صفحات کی اس کتاب میں اسلام میں تعلیم کی اہمیت، طریقہ تعلیم، مدارس کی اہمیت ،ان کے نصابات میں اصلاح ،مردوں اورعورتوں کے لیے عصری تعلیم کی ضرورت اورمولانا شبلی نعمانی کے تعلیمی نظریات پر بحث کی گئی ہے ۔

۳۔ ہندوستان عربوں کی نظرمیں 

۴۔مولاناابوالکلام آزاد

۵۔ ایضاح القرآن 

۶۔انتخاب کلام اقبال 

مولاناضیاء الدین اصلاحی نے ملک میں متعدد علمی کانفرنسوں ،سیمینار ،اورتاریخ وادبیات کی مجالس میں شرکت کی اوران میں مقالات پیش کیے۔ ان کی عربی زبان و ادب کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے ۱۹۹۵ء میں انہیں ’’پریذیڈنٹ آف انڈیا ایوارڈ ‘‘ سے نوازا ۔یہ ایوارڈ بھارت کے صدر ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے دیا۔ 

بطورناظم دارالمصنفین شبلی اکیڈمی 

مولانا ضیاء الدین اصلاحی نے بطور ڈائریکٹر دارالمصنفین شبلی اکیڈمی نہایت جانفشانی سے کام کیا ۔ شبلی نعمانی کے خوابوں کوعملی تعبیر وتشکیل دینے میں اپنے پیش روں کے نقش قدم پر چلے ۔ نہ صرف یہ کہ اکیڈمی کی تصنیفات وتالیفات کی نشرواشاعت میں غیر معمولی تیزی آئی بلکہ انہیں کے دور میں دارالمصنفین قدیم پر یس (لیتھو)سے جدید اورمشینی پریس (آفسٹ )پر منتقل ہوا جس سے طباعت کامعیار عمدہ ہوا ۔ علاوہ ازیں دارالمصنفین کادیگر ملکی اورغیر ملکی اداروں سے تعاون وتعلق مزید پختہ ہوا۔ بطور ناظم اس پلیٹ فارم سے موثر آواز اٹھائی اورملکی اوربین الاقوامی امورپر مسلمانوں بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کے موقف کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ،فروری ۲۰۰۷ء میں جب شبلی اکیڈمی کی ویٹ سائٹ تیارہوئی تواس پر از حد خوشی کااظہار فرمایا۔

معارف اورضیاء الدین اصلاحی 

ماہ نامہ معارف (اعظم گڑھ)کااجراء رمضان المبارک ۱۳۲۴ھ /جولائی ۱۹۱۶ء کو ہوا۔ سید سلمان ندوی ؒ اس کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اس اعتبار سے اس کی عمر ۹۲سال ہوگئی ہے۔ مجلّہ معار ف کا شمار برصغیر کے قدیم علمی مجلات میں ہوتا ہے۔ سید سلمان ندوی نے مولانا شبلی نعمانی ؒ کی ہدایات کے مطابق اس کا اجرا کیا ۔ نیز اسے ایک ضابطہ کار کا پابند بنایا اور اعتدال و توازن اور توسیع پر مبنی اس نقطہ نظر کا نصب العین قرار دیا جس میں اپنی بنیادوں سے انحراف بھی نہ ہو اور زمانہ کی وسعتوں کا بھی احاطہ کیا جائے۔ اس کی حیثیت برصغیر میں دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) کی ہے جس کے لکھنے والوں میں نہ صرف ہندوستان و پاکستان بلکہ عالمِ اسلام کی نامور شخصیات رہی ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے مجلہ معارف کے بارے میں لکھا :

’’معارف کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں ، صرف یہی ایک پرچہ ہے اور ہر طرف سناٹا ہے۔ الحمدللہ! مولانا شبلی مرحوم کی تمنائیں رائیگاں نہیں گئیں اور صرف آپ کی بدولت ایک ایسی جگہ بن گئی جو خدمت علم و تصنیف کے لیے وقف ہے۔‘‘

عالمِ اسلام کے نامور محقق ، مصنف ڈاکٹر حمیداللہ جو معارف کے تادمِ حیات معاون و قلم کار رہے، یوں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:

’’واقعہ تو یہ ہے کہ آج کل ساری دنیاے اسلام میں عرب ہو کہ عجم، کوئی اسلامی رسالہ اسلامیات پر اعظم گڑھ والے معارف کے معیار کا نہیں۔ اوروں کے ہاں کاغذ اور طباعت بہتر ہوسکتی ہے، لیکن مضامین کے مندرجات میں علمی معیار بدقسمتی سے کچھ بھی نہیں ۔ خدا معارف کو سلامت با کرامت رکھے۔ میں خود معارف میں جگہ پاؤں تو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا ہوں۔‘‘ (۳)

مولانا ضیاء الدین اصلاحی معارف (اعظم گڑھ) سے اگرچہ ۱۹۵۷ء سے وابستہ ہوگئے تھے تاہم بطور مدیر انہوں نے ۱۹۸۸ ء سے ذمہ داری سنبھالی ۔ ان کی پہلی تحریر فروری۱۹۵۵ء میں شائع ہوئی اور آخری تحریر بطور مقالہ اکتوبر۲۰۰۷ء میں شائع ہوئی۔ (۴)

ضیاء الدین اصلاحی نے اپنے پیش رو مدیروں سید سلیمان ندویؒ ، شاہ معین الدین ندوی ؒ ، عبدالسلام ندوی ؒ اور سید صباح الدین عبدالرحمن ؒ کی طرح معارف کا معیار برقرار رکھنے میں دن رات محنت کی ۔ خود ان کے قلم سے سینکڑوں مقالات نکلے اور ماہنامہ معارف کی زینت بنے۔ (۵) ان مقالات کا دائرہ کار بہت وسیع بھی ہے اور متنوّع بھی۔ سب سے بڑھ کر مدیر کی ذمہ داری ’شذرات‘ قلم بند کرنا ہے جو بالعموم تین صفحات پر تین یا چارحصوں پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں کبھی تو ایک ہی موضوع اور کبھی مختلف پیراؤں میں مختلف موضوعا ت پر اظہارِ خیال ہوتا تھا۔ شذرات نہ صرف مدیر کے ذہن کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ معارف اور دارالمصنفین کی پالیسیوں کی بھی وضاحت کرتے ہیں۔ ان میں ملکی و علاقائی مسائل پر بھی اظہارِ خیال ہوتا ہے اور بین الاقوامی حالات پر بھی۔ بالخصوص مسلمانوں کے مسائل خواہ وہ ہندوستان کے ہوں یا بیرونِ ہندوستان کے ، کھل کر بات کی جاتی ہے۔ چند شذرات پر نظر ڈالتے ہیں۔ 

عالمی سطح پر مسلمانوں کو جس طرح سازشوں اور دہشت گردی کا سامنا ہے ، اس پر مدیرِ معارف نے یوں روشنی ڈالی ہے:

’’اس وقت دنیا کا سب سے طاقت ور ملک امریکہ ہے۔ تلک الایام نداولھا بین الناس، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو جمہوریت اور امن عالم کاسب سے بڑا محافظ اورعلم بردار سمجھتاہے ،جبکہ وہ جمہوریت کاسب سے بڑا قاتل ہے ۔ خوف ودہشت انگیزی ،انتشار اوربدا منی پھیلانا اورخون خرابہ کرانا اس کامشن رہاہے۔ اس کی آمرانہ اوراستبدانہ پالیسی نے کئی کئی ملکوں میں جمہوریت کے منتخب نمائندوں کی حکومتیں قائم نہیں ہونے دیں اوران کو راستے کا روڑا سمجھ کر کنارے لگا دیا اور اپنی پسند کے حکمران مسلط کردیے ااس طرح کی کٹھ پتلی حکومتوں سے جمہوریت کاخون ہی نہیں ہوا، بلکہ حکومت نے یقینی وبے اطمینانی کی کیفیت پید اہوئی، تشدد اور خلفشار مچا، قتل وخون ریزی سے ملک کے ملک تباہ ہوگئے اورامن وچین غائب ہوگیا اس وقت افغانستان وعراق میں اس کی چنگیزیت اورنادرگری سے یہی ہورہاہے۔‘‘(۶)

پاکستان اورہندوستان کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم کرکے حوالے سے رقم طراز ہیں ۔ 

’’۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان اورپاکستان ایک ہی ملک تھے ،گواب یہ دوملک بن گئے ہیں اوران کے درمیان سرحد حائل ہوگئی ہے ،لیکن اس کی وجہ سے صدیوں سے قائم نہ علمی ،تہذیبی اورثقافتی تعلقات ختم ہوسکتے ہیں اورنہ اعزہ واقارب کے دونوں ملکوں میں بٹ جانے سے خونی رشتے منقطع ہوسکتے ہیں ۔ دونوں ملکوں کافائدہ اسی میں ہے کہ یہ مل جل کررہیں،ان کے تعلقات خوشگوار ہوں اوراپنے متنازع امور کوکسی اورملک کی مداخلت کے بغیر خودہی بات چیت کے کرکے طے کرلیں اورآپس کے گلے شکوے ،رنجشیں اورعداوت دورکرلیں تاکہ ہر قسم کی کش مکش ،آویزش اورٹکراؤ کاسدباب ہوسکے بلکہ دوستوں اوربھائیوں کی طرح امن وچین سے رہیں،یہی بات دونوں ملکوں کے حکمرانوں کوبھی سمجھ لینی چاہیے کہ امن مفاہمت اوربقا کے باہمی راستہ اختیار کرنے میں ان کی فلاح اوربھلائی ہے۔‘‘ (۷)

مدیر معارف کوا س بات پر نہایت تشویش تھی کہ دارالمصنفین کی کتابیں پاکستان اور دیگر ملکوں میں بلااجازت چھپ رہی ہیں، علمی فائدہ اپنی جگہ اورکتب کی اشاعت خوب ہورہی ہے ،لیکن دارالمصنفین جوان کتب کی اصل ہے اورجس کے جملہ طباعی و اشاعتی حقوق اس کے پاس محفوظ ہیں، وہ شدید طورپر مالی دشواریوں سے دوچارہے اوروسائل نہ ہونے کی وجہ سے دارالمصنفین کے بہت سے منصوبے ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ شذرات میں مولانا ضیاء الرحمن اصلاحی نے بارہا مرتبہ اپنے اضطراب کایوں اظہار کیاہے ۔

’’ہم ان صفحات میں متعدد بار لکھ چکے ہیں کہ دارالمصنفین کی کتابیں ہندوستان وپاکستان کے ناشرین غیر قانونی اورغیراخلاقی طورپر شائع کررہے ہیں ،،مگر ہماری چیخ وپکار کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔‘‘

ایک اور شذرے میں لکھتے ہیں :

’’دارالمصنفین کی کتابوں کی ڈاکہ زنی اورقذافی کایہ سلسلہ ہندوستان اورپاکستان میں توبہت عرصے سے جاری ہے لیکن اب عرب ملکوں میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوگیاہے۔ ان کتابوں کی جس قدر اشاعت اورترجمے ہوں گے، اس سے ان کو خوشی ہوتی ہے لیکن ہندوستان کے اداروں اورمصنفین خصوصاًدارالمصنفین کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ اس کے علم میں لائے بغیر اس کی کتابیں اس طرح چھپتی اوردوسری زبانوں میں ترجمے کی جاتی رہیں ، اس سے تووہ تباہی کے کنارے پر پہنچ جائے گا، اس لیے پاکستان اورعرب ملکوں یادنیا کے کسی ملک اورزبان میں جولوگ دارالمصنفین کی کتابیں ،یا ان کے ترجمے شائع کرناچاہیں، ان کے لیے اس سے اجازت لینا،معاہدے اورمعاوضے کی شرائط طے کرنا ضروری ہے۔ عرب ملکوں میںیہ ذمہ داری ڈاکٹر تقی الدین ندوی اورپاکستان میں سجاد الٰہی کے ذمہ ہوگی ۔‘‘(۹)

الحمد للہ مدیر معارف کی اس توجہ کے بعد پاکستان میں دارالمصفین کے ذمہ دارجناب سجاد الٰہی نے بھر پور طریقے سے کام کیا اور دو طریقوں سے دارالمصنفین کی بھر پور معاونت کی ۔ ایک تو وہ پبلشرز جوبرس ہابرس سے دارالمصنفین کی مطبوعات بالخصوص سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم شائع کررہے تھے،ان سے معاملات کیے گئے اورکسی قدر رائلٹی دارالمصنفین کے سپرد کی گئی۔ دوسرا اہم کام یہ کیاکہ ماہ نامہ معارف کی پاکستان میں وسیع پیمانے پر نشرواشاعت کے لیے چند دوستوں نے ملک کر بھر پور مہم چلائی اوردوسال کے اندر اندر اس وقت ۲۰۰ کی تعداد میں معارف علمی وتعلیمی اداروں اورافراد تک پہنچ رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں دارالمصفین کی مطبوعہ کتب کوبھی وسیع پیمانے پر لائبریریوں اوردیگر خواہش مند افراد تک مناسب قیمت پر مہیا کرنے کا انتظام کیا گیا ۔(۱۰)

دارالمصنفین نے ان کاوشوں کو بنظر تحسین دیکھا اورمدیرمعارف نے شذرات میں یوں اظہار کیا :

’’گزشتہ دوبرسوں میں دارالمصفین شبلی اکیڈمی کے کر م فرماؤں نے خاص طورپر تعاون کیا ہے۔ جلسہ انتظامیہ نے ان کے شکریہ کی منظوری دی۔ جناب سجاد الٰہی (لاہور )جناب شمس الرحمن اورپروفیسر ظفرالاسلام نے معارف اور دارالمصنفین کی کتابوں کی توسیع میں بڑی دلچسپی لی۔‘‘(۱۱)

صرف ہندوستان ہی کے نہیں ،علمی واشاعتی ادارے جہاں کہیں بھی ہیں، دارالمصفین نے ان اداروں کی حوصلہ افزائی کی ہے اوران سے ہمیشہ تعاون کیا ہے۔ اقبال اکیڈمی لاہور کی بابت مدیرمعارف نے لکھا :

’’اقبال اکیڈمی پاکستان لاہور کاایک فعال ادارہ ہے جواقبالیات پربلند پایہ کتابوں کی اشاعت کے لیے مشہور ہے۔ علم دوستی کی بنا پر اس کی مطبوعات دارالمصفین کے حصے میں بھی آتی ہیں (دس کتب کی فہرست )ان کتابو ں کی اشاعت کے لیے ہم اکادمی کومبارک باددیتے ہیں، اورعطیے کے لیے اس کے شکرگزار ہیں۔‘‘ (۱۲)

مدیر معارف پاکستان کے داخلی معاملات میں کس قدر دلچسپی رکھتے تھے، اس کا اندازہ جولائی ۲۰۰۷ ء میں سانحہ لال مسجد وجامعہ حفصہ سے ہوتاہے وہ اس سانحہ پر کس قدر دل گرفتہ تھے۔ شذرات میں رقم طراز ہیں :

’’گزشتہ مہینے پاکستان میں لال مسجد اورجامعہ حفصہ کے آپریشن سائی لنس کانہایت اندوہ واقعہ پیش آیا اورایک صد سے زیادہ علوم دینیہ کے طلبہ وطالبات اورعلما کی قیمتی جانیں گئیں۔ یہ خون ریزی اوروحشیانہ کاروائی اورمسجد ومدرسے کی پامالی وبے حرمتی حکومت کی کوئی مجبوری نہیں تھی ،مذاکرات اوربااثر لوگوں کودرمیان میں لاکر مسئلے کوحل کیا جا سکتا تھا۔ اگر مسجد اورمدرسہ والوں کی انتہا پسند ی اورسرکشی اتنی بڑھ گئی تھی کہ انہوں نے متوازی حکومت بنالی تھی ،اس بنا پر یہ سخت اقدام ضروری ہوگیا تھا کہ توکیا اس میں حکومت کی غفلت نہیں تھی ،جس نے انہیں اتنی چھوٹ دے رکھی تھی ،کہ وہ مسجد ومدرسہ کواپنی باغیانہ سرگرمیوں کامرکز بنا کرامن وقانون کو پامال کرنے لگے تھے؟ پاکستان اپنے دستور کی روسے اسلامی مملکت ہے۔ اس سے اسلامی قانون وشریعت کے نفاذ اورفواحش ومنکرات کے انسداد کامطالبہ غلط نہیں تھا ،غلط مطالبہ کاطریقہ تھا۔ ضد ،غلو اورتشدد سے مطالبات نہیں منوائے جاتے اورنہ زوروقوت سے برائیاں ختم کی جاسکتی ہیں۔ اس کے لیے ذہن وکردار سازی کی جاتی ہے اورآئینی جمہوری اورپرامن طریقے سے رائے عامہ ہموار کیا جاتی ہے، مگر حکومت کی نیت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے یہ جارحانہ کاروائی مغربی آقاؤں کی خوش نودی کے لیے کی تھی جس کی شاباشی اسے مل چکی۔ فوج کشی اورظلم وتشدد سے وقتی طورپر سکوں ہوجاتاہے مگر آئندہ دبی ہوئی چنگاریاں بہت زوروشور سے بھڑکتی ہیں۔ مشرف صاحب کے اس طرح کے ناروا اقدامات سے ان کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔‘‘ (۱۳)

جیساکہ قبل از یں سطورمیں بیان کیاجاچکاہے کہ معارف علوم ومعارف کے اردورسائل میں اپنی ایک شاندار تاریخ کا حامل ہے، اس کے معیار کے بارے میں مدیر معارف کے کیا خیالات تھے، ملاحظہ کیجیے:

’’علامہ شبلی مرحوم نے دارالمصنفین سے معارف کے اجرا کاجوپروگرام بنایاتھا،وہ مولانا سید سلیمان ندوی کے ذریعہ روبہ عمل آیااورجولائی ۱۹۱۶ ء میں اس کاپہلا شمارہ نکلا اورالحمدللہ اس وقت سے اب تک یہ مسلسل بلاناغہ شائع ہورہاہے۔ ۹۰ سال تک اردو کے وہ بھی ایک سنجیدہ علمی اورتحقیقی رسالہ کا جس میں تمام دلچسپی کی چیزیں نہ ہوں، شائع ہوتے رہنا خدائے ذوالجلال کافضل وکرم ہے۔ معارف کاشروع سے جوبلند معیار واندازرہاہے،اسے قائم رکھنا مجھ جیسے کم مایہ کے لیے بہت مشکل ہے مگر ہمیشہ میری یہ کوشش رہی کہ اس کے معیار کوہاتھ سے نہ جانے دیاجائے ۔ اگر اس میں کچھ کامیابی ہوئی تو یہ تائید ربانی اوراہل علم ودانش کی اعانت سے ہوئی ہے، لیکن اب لوگ سہولت پسند ہوگئے ہیں اورمحنت وپتہ ماری سے گھبراتے ہیں۔ جن موضوعات پرقلم اٹھائے ہیں، ان کے اصل مراجع سے واقف نہیں ہوتے۔‘‘ (۱۴)

مدیر معارف نے امسال ۱۴۲۸ھ (دسمبر ۲۰۰۷ء) کو حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ۔ شاید اللہ تعالیٰ کو ان کی انسانی خطاؤں اور لغزشوں کی معافی مطلوب تھی اور بلندئ درجات مقصود تھی ۔ فروری ۲۰۰۸ء کے شذرات سفرِ حج کے تاثرات و مشاہدا ت تھے۔ چند سطور ملاحظہ ہوں :

’’حج کا یہ عالم گیر اجتماع امتِ مسلمہ کے مختلف طبقوں اور گروہوں کی وحدت اور یک رنگی کا عظیم الشان مظہر ہے۔ قوم و وطن، رنگ و نسل، جنس و زباں، لباس، ذوق و مزاج، یہاں تک کہ نماز کی بعض ظاہری صورتوں میں بھی اختلاف کے باوجود سب کی زبانوں پر لبیک لبیک کی صدائیں اور احرام کی چادریں سب کے جسموں پر ہوتی ہیں اور سب اللہ کے گھر پر نثار اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں، اختلاف میں وحدت کا یہ منظر حج کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کی کوئی مثال دوسرے مذہب میں معدوم ہے۔‘‘ (۱۵)

معارف فروری ۲۰۰۸ء کے مذکورہ شذرات مدیر معارف کے آخری الفاظ ثابت ہوئے۔ شذرات کے آخر میں درج یہ الفاظ کس قدر دل دوز اور غم ناک ہیں:

’’آہ کس دل سے اور کس قلم سے ناظرین معارف کو خبر دی جائے کہ ان شذرات کے پاک نفس اور پاک طنیت لکھنے والے قلم کی ضیاپاشیوں سے وہ محروم ہوگئے ہیں۔ مدیر معارف اور ناظم دارالمصنفین مولانا ضیاء الدین اصلاحی اب مرحوم ہیں۔ یکم فروری کو وہ سڑک کے ایک حادثے میں سخت مجروح ہوئے اور ۲ فروری کی صبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔‘‘ (۱۶)

سانحہ ارتحال

کل نفس ذائقۃ الموت کے مصداق پر ذی روح اورمتنفس کو اس جہاں فانی سے رخصت ہوتاہے لیکن بعض افراد اپنے پیچھے بہت بڑا خلا چھوڑجاتے ہیں ۔ مولانا ضیاء الدین اصلاحی بھی انہی شخصیات میں سے ہیں کہ یہ فرد کی موت نہیں بلکہ ایک جہاں اور تحریک کی موت ہے۔

یکم فروری ۲۰۰۸ ء بروز جمعہ مولانا ضیاء الرحمن اصلاحی اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک ٹیکسی پر سفرکررہے تھے کہ شام ساڑھے بجے کے قریب ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا فوری طورپر اعظم گڑھ ہسپتال میں لے جایا گیا۔ وہاں سے نازک حالت کے پیش نظر بنار س ہندویونیورسٹی میڈیکل کالج منتقل کیاگیامگر وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاسکے اور۲فروری بروز ہفتہ جاں جان آفریں کے سپر دکردی۔ (اناللہ وانا الیہ راجعون) ندوۃ العلماء کے ریکٹر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سیدرابع ندوی نے نماز جنازہ پڑھائی اورمولانا شبلی نعمانی کے پہلو میں دارالمصنفین کے احاطہ میں دفن کیاگیا۔ تدفین بروز اتواز ۳فروری ۲۰۰۸ ء صبح ساڑھے دس بجے عمل میں آئی ۔ مرحوم کے پس ماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹے اوردوبیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان کی عمر۷۱ برس تھی۔ مسلمانان پاکستان دعاگوہیں کہ اللہ تعالی مرحوم کے درجات کوبلند فرمائے۔ (۱۷)

اس طرح دارالمصنفین کے افق پرچمکے والاتابندہ ستارہ پچاس برس سے زائد ضوفشانیوں کے بعد غروب ہو گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ موت العالِم موت العالَم۔


توضیحات و حواشی 

۱۔ دارالمصنفین کی تاریخ و خدمات کے لیے دیکھیے: ڈاکٹر الیاس اعظمی، دارالمصنفین کی تاریخی خدمات، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری ، پٹنہ ۲۰۰۲ء ؛ ڈاکٹر خورشید نعمانی ، دارالمصنفین کی تاریخ اور علمی خدمات ، دارالمصنفین ، اعظم گڑھ انڈیا، ۲۰۰۳ء 

۲۔ واضح رہے کہ معارف کے سابق مدیر سید صباح الدین عبدالرحمان بھی ۱۰ نومبر ۱۹۸۷ء ؁ میں حادثے کا شکار ہوئے۔ 

۳۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے: حافظ محمد سجاد، معارف اور ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور ماہنامہ معارف ، اعظم گڑھ، فکر و نظر، خصوصی اشاعت، جلد ۴۰، ۴۱ ، اپریل ۔ستمبر، ۲۰۰۳ء، اسلام آباد، ص:۳۷۔۴۱۰

۴۔ پہلا مضمون ’’امام ابو حنیفہ کی فقہ (ترکِ حدیث کے الزام کا جواب ) ‘‘ فروری ۱۹۵۵ء ، جمادی الثانی ۱۳۷۴ھ میں شائع ہوا۔ آخری مضمون : ’’مولانا روم ، مولانا شبلی کی نظر میں‘‘ ، اکتوبر ، نومبر ۲۰۰۷ء دو اقساط میں شائع ہوا۔

۵۔ ۱۹۵۵ء سے ۲۰۰۷ء تک ۱۲۰ کے قریب مقالات معارف میں شامل ہیں، علاوہ ازیں مطبوعاتِ جدیدہ کا تعارف، اخبارِ علمیہ اور مختلف علمی اجلاسوں کی روداد کی ترتیب میں بھی زیادہ تر حصہ مدیر معارف ہی کا ہوتا ہے۔ 

۶۔ ضیاء الدین اصلاحی، شذرات، ماہ نامعارف (اعظم گڑھ) ، جلد ۱۷۸، عدد۵، نومبر ۲۰۰۶ء، ص:۳۲۲۔

۷۔ ایضاً، جلد ۱۷۹، عدد، ۲، فروری ۲۰۰۷ء، ص:۸۲

۸۔ ایضاً، جلد۱۷۹، عدد ۱، جنوری ۲۰۰۷ء، ص:۳

۹۔ ایضاً ، جلد ۱۷۹، عدد ۵، مئی ۲۰۰۷ء، ص:۳۲۲،۳۲۳

۱۰۔ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اور ماہ نامہ معارف کے ساتھ اخلاقی و مالی معاونت میں جہاں سجاد الٰہی صاحب نے سرگرمی دکھائی ، وہاں ڈاکٹر حافظ محمد سجاد ( علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ) اور راقم الحروف بھی شامل ہیں۔ سجاد الٰہی کا پتہ ہے : ۲۷/اے، مال گودام روڈ، لوہا مارکیٹ، بادامی باغ، لاہور ۔ 

۱۱۔ دارالمصنفین ، شبلی اکیڈمی کا دو روزہ اجلاس، یکم ، دو ستمبر ۲۰۰۷ء ، مزید دیکھیے ،شذرات ماہ نامہ معارف، جلد ۱۸۰، عدد ۳، ستمبر ۲۰۰۷ء، ص:۱۶۳، ۱۶۴۔ 

۱۲۔ ضیاء الدین اصلاحی ، شذرات، ماہ نامہ معارف، جلد ۱۷۹، عدد۱، جنوری ۲۰۰۷ء، ص:۴

۱۳۔ ایضاً، شذرات، معارف، جلد ۱۸۰، عدد۲، اگست ۲۰۰۷ء، ص:۸۲،۸۳

۱۴۔ ایضاً، شذرات، معارف، جلد ۱۸۰، عدد۲، اگست ۲۰۰۷ ؁ء، ص:۸۲،۸۳

۱۵۔ ایضاً، ملاحظہ ہو دارالمصنفین کی ویب سائٹ۔www.shibliacademy.org۔ واضح رہے مذکورہ ویب سائٹ افضال عثمانی نے فروری ۲۰۰۷ء میں ڈاکٹر اے عبداللہ ( واشنگٹن)اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان (دہلی ) کے تعاون سے تیار کی ۔ 

۱۶۔ایضاً شذرات جلد ۱۸۱، عدد، ۲، ص:۸۳،۸۴


اخبار و آثار