مولانا محمد اشرف شادؒ

مولانا محمد یوسف

عالم ربانی، استاذ العلماء، جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا محمد اشرف شاد گزشتہ دنوں انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ پاکستان کی عظیم دینی درس گاہ دار العلوم کبیر والا کے قدیم فضلا میں سے تھے۔ درس نظامی کی تکمیل کے بعد آپ عنفوان شباب ہی سے درس وتدریس سے وابستہ ہو گئے اور تادم واپسیں مسند تدرریس پر رونق افروز رہے۔ اس عرصے میں بے شمار تشنگان علم نے اس چشمہ علم سے اپنی پیاس بجھائی۔ آپ نے ملک کے تدریسی حلقوں میں امام الصرف والنحو کا لقب پایا اور آپ کو بجا طور پر ملک کے چوٹی کے مدرسین میں شمار کیا جاتا تھا۔ 

آپ صبح سویرے مسند تدریس پر رونق افروز ہوتے اور پھر ناشئَۃ اللیل تک علم وعرفاں کی روشنی بکھیرتے رہتے۔ گو بنیادی طور پر آپ زندگی بھر تدریسی شعبے سے وابستہ رہے، لیکن اس کے علاوہ بھی تمام ملی ودینی خدمات میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیتے رہے۔ عاجزی، انکسار اور سادگی میں آپ اپنے اکابر کا نمونہ تھے۔ پہلی نظر دیکھنے والا شخص یہ خیال نہیں کر سکتا تھا کہ یہی وہ عالم ربانی ہیں جن کی شبانہ روز محنت سے ملک کے تدریسی حلقوں میں پختہ کار رجال فراہم ہو رہے ہیں۔

آپ کی ایک نمایاں خوبی جس کا مشاہدہ آپ کے متعلقین میں سے ہر ایک کو ہے، زیر تعلیم طلبہ میں سے ہر ایک طالب علم کے ساتھ ایک شفیق باپ کا سا تعلق تھا۔ جب تعطیلات میں طلبہ اپنے گھروں کو لوٹتے تو طلبہ کو فرداً فرداً ملتے ہوئے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے اور فرماتے: زینۃ المکان بالمکین۔ فرماتے کہ عزیز طلبہ، اس ادارے کی رونق آپ کے دم قدم سے ہے۔ آپ کے جانے کے بعد رونق ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کی حیات طیبہ اور مساعی جمیلہ کے ہر گوشہ کو محفوظ کرنا اور انھیں آئندہ نسلوں تک پہنچانا بے حد ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں نہ صرف آپ کے کردار سے واقف ہو سکیں بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے دارین کی سرخ روئی بھی حاصل کر سکیں۔

ہم حضرت مولانا کے ورثا کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کو کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے اور آپ کے علمی فیض کو عام اور تام فرمائے۔ ہم آپ کے علمی جانشین مولانا مفتی محمد احمد انور کے لیے بھی دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے عظیم والد کے عظیم علمی ورثہ کو آنے والی نسلوں تک بخوبی منتقل کرنے کی ہمت اور توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔


اخبار و آثار