ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

کل مضامین: 3

دھڑکٹی تصویر اور فقہِ حنفی

اگر کسی مسئلہ یاواقعہ کے شرعی حکم کے بارہ میں فقہا کا کوئی ایک نکتۂ نظر مشہور ہوجائے توضروری نہیں ہوتا کہ فی الواقع بھی اس مسئلہ میں اہل علم کا صرف ایک ہی نکتۂ نظر ہو اور وہ سب اس ایک رائے پر متفق ہوں جو اس مسئلہ کے شرعی حکم کے حوالہ سے زبان زدِ عام ہوچکی ہے ۔ ایسے درجنوں مسائل کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جن کے بارہ میں عوام تو عوام، اچھے بھلے سنجیدہ اور فہمیدہ لوگ بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ یہ اختلاف سے ماورا، اجماعی اور متفقہ ومنصوص مسائل ہیں حالانکہ درحقیقت ان کے اندر اہلِ علم کی ایک سے زیادہ آراء موجود ہوتی ہیں۔ ہماری مراد اس سے...

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ (۱۹۱۴ء۔۲۰۰۹ء) بلاشبہ اس دور میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے تھے۔ (۱) زہدو تقویٰ، رسوخ فی العلم، اصابتِ فکر اور طرز استدلال میں ان کی مثال ملنا مشکل تھی۔ بالخصوص علم حدیث کے فنی پہلوؤں جیسے اسماء الرجال، جرح وتعدیل، اصولِ حدیث حجیت حدیث پر جس طرح ان کی گہری نظر اور فقیہانہ بصیرت تھی، اس سے قرونِ اولیٰ کے محدثین کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ تدریس حدیث میں جوملکہ اور استحضار اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا تھا، وہ بہت کم علما کے حصے میں آیا ہے۔ عام طور پر یہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ مدارس دینیہ میں تدریسی فرائض سرانجام...

مولانا ضیاء الدین اصلاحی (مرحوم) ۔ دارالمصنفین کا ایک تابندہ ستارہ

سیر ت النبی ﷺ (شبلی نعمانی) کا نام جب بھی ذہن میں آتا ہے تو لازماً دارالمصنفین کا خیال دل و دماغ میں نقش ہوجاتا ہے۔ اعظم گڑھ (ہند) میں قائم ہونے والا یہ ادارہ محض مولانا شبلی نعمانی کا خواب ہی نہ تھا بلکہ ہند کے مسلمانوں کے نشاۃ ثانیہ اور علمی احیا کی ایک تحریک تھی۔ دارالمصنفین کی تقریباً ۹۲سالہ تاریخ نے یہ ثابت کردیا کہ یہ خطہ علمی طور پر ابھی بانجھ نہیں ہوا، بلکہ ایسے اداروں نے ایسے رجال کار اور علما و مصنفین پیدا کیے جس کا خواب شبلی نعمانی مرحوم نے دیکھا اور جس کی عملی تعبیر ان کے شاگردِ رشید سید سلمان ندوی نے فراہم کی۔ اس ادارے نے وہ عظیم...
1-3 (3)