پاکستان میں فوج کا سیاسی کردار ۔ وزیر اعظم لیاقت علی خاں سے جنرل ایوب خاں تک

پروفیسر شیخ عبد الرشید

بیسویں صدی کے وسط میں بہت سے ممالک نے طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی مگر کچھ ریاستوں کی جھولی میں یہ آزادی پکے ہوئے پھل کی طرح آ گری جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں سیاسی خلا پیدا ہوا۔ایسی ریاستوں میں کمزور ادارہ سازی کے ماحول میں شروع ہونے والے سیاسی عمل میں سول قیادتیں قومی ضرورتوں کو پورا کرنے میں نا کام رہیں اور سیاسی رہنماؤں کو status quo بدلنے کے لیے طاقت پر انحصار کرنا پڑا ۔مثال کے طور پر پاکستان میں سیاسی اداروں کے بر عکس فوج مربوط، منظم اور طاقتور ادارے کے طور پر طاقت کی علامت بن کر ابھری۔ قیامِ پاکستان کے فوری بعد کے عشرے میں ہی فوج نے یہاں اِقتدار اعلیٰ پر براہِ راست قبضہ کرنے کی کوشش کے بجائے سیاسی عمل کی راہنمائی کرنے والے ادارے کی حیثیت سے فعال کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔سٹیفن پی کوہن کے الفاظ میں ’’کچھ بری افواج اپنی قوم کی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں، کچھ معاشرے میں اپنے مقام کا تحفظ کرتی ہیں اور بعض کسی مقصد یا تصور کا دفاع کرتی ہیں۔ پاکستان کی بری فوج تینوں کام کرتی ہے۔ جس روز سے پاکستان وجود میں آیا ہے، یہ داخلی امن و امان کے قیام میں مدد دینے اور پاکستان کی قابل نفوذ اوراکثر غیر واضح سرحدوں کے تحفظ میں مصروف رہی ہے۔ اس عرصے میں اس نے پاکستان میں اپنی طاقت اور خاص مقام استعمال کر کے اپنے لیے کافی ہتھیاروں ،وسائل اور افرادی قوت کی فراہمی یقینی بنا لی ہے۔ مزید برآں اس نے خود کو ہمیشہ تصور پاکستان کا خاص اظہار تصور کیا ہے اور چند افسران اس نقطہ نظر کے بھی حامی ہیں کہ معاشرہ جہاں فوج کے مقررہ معیار سے نیچے گرے، اس کی اصلاح یا درستی میں بھی یہ فعال کردار ادا کرے۔،، 

مذکورہ بالاخیالات کی روشنی میں ہم آئندہ سطور میں پاکستان کے ابتدائی عشرے، ۱۹۴۷ سے ۱۹۵۸ تک کے دور میں فوج کے سیاسی کردار کا مختصراً جائزہ لیں گے۔

حصول پاکستان کی تحریک ایک سیاسی اور عوامی تحریک تھی، فوج کا جدوجہد پاکستان میں کو ئی کردار نہیں تھا، مگر حکومت برطانیہ کے ملازم ہندوستانی آرمی افسر اگست ۱۹۴۷ میں راتوں رات ایک قومی آرمی کے آزاد افسر بن گئے۔ پہلے دِن سے ہی ان فوجی افسران نے سیاسی اور سول معاملات میں مداخلت شروع کر دی۔ بانی پاکستان کی زندگی میں ہی فوج کے سیاسی عزائم نمایاں ہونے لگے جس پر انہوں نے بار بارتنبیہ بھی کی۔ قائداعظم کی بلند وبالا شخصیت کے پیش نظر کوئی جرنیل اور بیوروکریٹ خواہش کے باوجود انہیں چیلنج کرنے کی جرأت نہ کر سکا اور ان کی حیات مستعار کا ایک سال سیاست دانوں، فوج اور نوکر شاہی کے درمیان امن وامان کی کیفیت میں گزر گیا۔ آزادی کے فوراً بعد فوج کا کردار دفاع اور سلامتی کے پیشہ وارانہ میدان تک محدود رکھا گیا۔ سول حکام اگر مدد کے لیے بلاتے تو فوج ان کی مدد کرتی تھی مگر فوج کو نظم و نسق کی بحالی کے لیے استعمال کرنے سے کئی خرابیاں پیدا ہونے لگی تھیں۔ فوج کا مہاجرین کو فسادات کی آگ سے بچانے اور ان کی آباد کاری میں فعال کردار تھا۔ اس کردار کی وجہ سے فوجی زعما نے فوج کو ملک میں نجات دہندہ کے طور پر شناخت دینے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۴۷ کو گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے فوج کے سربراہ کو جموں و کشمیر میں فوجیں بھیجنے کا حُکم دیا مگر فوجی سربراہ نے حکم نہ مانا اور ۲۸؍ اکتوبر کو سپریم کمانڈر آکن لیک نے لاہور پہنچ کر انھیں حکم واپس لینے پر آمادہ کر لیا۔ قائد اعظم کے سیاسی تدبر کے برعکس فوجی حکمت عملی سے کام لیا گیا تو ہندوستان نے کشمیر میں اپنی فوج اتار دی، پھر اچانک اسی چیف آف آرمی سٹاف نے اپنی رپورٹ میں تجویز کیا کہ اگر دستے کشمیر نہ بھیجے گئے تو پاکستان کا نقصان ہو گا۔ یہ وہی تدبرتھا جس کا اظہار فوجی قیادت سے بہت پہلے سیاسی مدبر نے کیا تھا، چنانچہ مئی ۱۹۴۸ء میں فوجی دستے کشمیر میں اتارے گئے۔ تاخیر کے باعث ہندوستان کو کامیابی ہوئی جس کی بنا پر فوج سول حکومت کے پاکستانی ہندوؤں اور برطانویوں کے اور پنجابی بنگالیوں کے خلاف ہو گئے۔ ان حالات میں مضبوط فوج کا تصور نمایاں ہوا۔ مسلم لیگ کے اخبار ’ڈان‘ نے اداریے لکھے اور روٹی کی بجائے بندوق پر زور دیا اور ایک بڑی اور مسلح فوج کا مطالبہ کیا تاکہ ارض مقدس کا دفاع کیا جاسکے۔ حالات دگرگوں تھے۔ قائداعظم کی وفات کے وقت فوج حیدرآباد میں مارچ کر رہی تھی۔ بھارت کو دشمن نمبر ایک قرار دے کر عوام کو ہیجان میں مبتلا کر دیا گیا۔ 

قائد اعظم کے بعد لیاقت علی خان کے نام پر عنان اقتداردر حقیقت سیکرٹری جنرل اور پلاننگ کمیٹی کے ہاتھ میں آ گئی۔ حمزہ علوی کے خیال میں یہ سب لیاقت علی خان کے لیے بھی موافق تھا کیونکہ وہ ذمہ داریاں نبھانے سے حتی المقدور کتراتے تھے۔ پلاننگ کمیٹی کے چوہدری محمد علی اپنی کتاب ’’ظہور پاکستان‘‘ میں اپنے وژن کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری تھا کہ افواج پاکستان کو منظم کیا جائے اور اسے اسلحہ سے لیس کیا جائے۔ قومی وسائل، جن کی معاشی تعمیر نو اور ترقی کے لیے فوری ضرورت تھی، دفاع کی جانب منتقل کیے گئے جس پر نصف اور بعض اوقات قومی بجٹ سے بھی زیادہ صرف کرنا پڑا۔ عوام نے بڑی خوشی کے ساتھ ان اخراجات کو برداشت کیا۔ لیاقت علی خان نے کہا: ’’ ہم ایک دن بھوکے رہ سکتے ہیں، مگر ہم ایک منٹ کے لیے بھی غلام بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے‘‘۔ انہوں نے ۸؍اکتوبر ۱۹۴۸ کو قوم سے خطاب میں کہا کہ ’’پاکستان کا دفاع ہماری پہلی ترجیح ہے جس نے حکومت کے تمام دوسرے امور پر برتری حاصل کر لی ہے ۔ ہم ملک کے دفاع پر کسی قسم کے اخراجات سے دریغ نہیں کریں گے۔‘‘ اسی وژن نے دفاع کے نام پر امریکی اسلحہ پر انحصار کی ضرورت کو جنم دیا اور پاکستان کے مستقبل اور فوج کو امریکہ سے وابستہ کر دیا۔ 

لیاقت علی خان نے ۱۹۴۹ میں کشمیر کے محاذ پر جنگ بندی کروا کے سیاسی قوت کو مضبوط کرنے کی طرف توجہ دی لیکن فوج کے سینئرافسران کی بڑی تعداد جنگ بندی کے حق میں نہ تھی۔ زرینہ سلامت کے الفاظ میں ’’سیاسی حکومت کی جانب سے کشمیر میں جنگ بندی قبول کرنے کو فوج نے میدان میں اسے فتح سے محروم کرنے کے مترادف سمجھا ۔‘‘ جنوری ۱۹۵۱ میں فوج کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہو رہی تھی۔ مسلم لیگی راہنما چاہتے تھے کہ نیا کمانڈر انچیف پاکستانی ہونا چاہیے، چنانچہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ۱۹۵۰ کے آخر میں جنرل ایوب خان کو کمانڈرانچیف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا جو نہ تو سب سے سینئر تھے اور نہ ہی سب سے بہتر تھے۔ جنرل ایوب کی بطور کمانڈرانچیف نامزدگی کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ انہی دنوں میں ان سے سینئر دو جرنیل اچانک ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ وہی ایوب خان تھے جن کے بارے میں سردار شوکت حیات خان نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ ’’تقسیم ہند کے وقت باؤنڈری فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بریگیڈیئر دگمبر سنگھ ہندوستان کی طرف سے اور کرنل محمد ایوب خان، ہر دو پنجاب میں اپنے اپنے ملک کے نمائندوں کی حیثیت سے جنرل ریس کے احکامات کے تحت کام کر رہے تھے۔ میں جنرل ریس کو فلسطین میں بریگیڈیئر کمانڈر کی حیثیت سے جانتا تھا۔ بعد میں وہ برما میں ڈویژن کی کمانڈ کرنے چلے گئے تھے۔ جنرل ریس نے مجھے ایک طرف بلا کر کہا: ’’ شوکت، تم لوگوں پر کیا چیز حاوی ہو گئی ہے کہ ایک طرف انڈیا نے اپنے نمائندے کے طور پر ایک بہترین سپاہی کا چناؤ کیا ہے جبکہ دوسری طرف تم لوگوں نے جس شخص کو چنا ہے، اسے تو میں نے برما سے واپس بھیج دیا تھا۔ برما میں جب اس کا کمانڈر مارا گیا تو اس نے بزدلی کا مظاہرہ کیا ۔ ایسے آدمی سے تم کیا توقع کر سکتے ہو؟ جو کچھ اس نے ماضی میں کیا، اس کے بعد میں اس کی فراست پر کیسے اعتماد کر سکتا ہوں؟‘‘ 

سعید شفقت کے مطابق ایوب خان کی کیرئیر ہسٹری فیلڈ کمانڈ کے بجائے سٹاف تقرری میں انتظامی تجربے کو ظاہر کرتی ہے۔ اپنی تقرری کے وقت وہ انتظامی مہارتوں کے علاوہ سول قیادت کی عزت کرنے پر یقین رکھتا تھا اور کسی بھی طرح سے کشمیر کی جنگ سے منسلک نہیں تھا۔ میجر جنرل شیر علی کو تقسیم ہند کے بعد جنرل فرینگ میسروی نے کہا تھا کہ افسران کو ترقی دیتے ہوئے اونچے عہدے کے لیے صحیح آدمی کو منتخب کیا جائے۔ جب برطانوی جائیں تو وہ لوگ آگے لائے جائیں جو سیاسی خواہشات سے آزاد ہوں، مگر جب وقت آیا تو جنرل ایوب خان جو صرف چار سال میں لیفٹیننٹ کرنل سے جنرل بنے تھے، کمانڈر انچیف بن گئے۔ جنرل شیر علی کے مطابق اگر لیفٹیننٹ جنرل افتخار خان کمانڈر انچیف بنتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ وہ فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرتے۔ تاہم ایوب خاں نے بھی کمانڈر انچیف بننے کے بعد فوج کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی۔ 

کئی لوگ لیاقت علی خان کی پالیسیوں سے نا خوش تھے ۔ منیر احمد کے مطابق ممتاز دولتانہ نے لیاقت علی خان کے خلاف ایک گروپ بنایا جسے فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اسی دور میں حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی سے ناراض فوجی افسران کے ایک گروہ نے لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی جو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہوئی۔ میجر جنرل اکبر خان اس کے کرتا دھرتا تھے۔ جنرل ایوب خان نے اس سازش کا بر وقت پتہ لگا کر حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔ یہ سازش ہی واضح کر تی ہے کہ فوج سیاست میں ملوث تھی ۔میجر جنرل شیر علی خاں پٹوری لکھتے ہیں کہ ا یوب نے اس سازش کا سراغ اپنی پسند کے لوگوں کو آگے لانے کے لیے لگایا تھا اور وہ ایسے لوگوں کو آگے لانے میں کامیاب ہو گیا جو ایوب کی کمانڈ کے تحت تھے۔ اس سازش کو بے نقاب کرنے کے بعد ایوب خاں نے خود کو حکومت کا محافظ سمجھنا شروع کر دیا اور حکومتی امور ضرورت سے زیادہ مداخلت کرنے لگا۔ اسی سازش کی دریافت نے اسے موقع فراہم کیا کہ وہ بیوروکریٹک زعما اسکندر مرزا اور غلام محمد کے ساتھ قریبی تعلقات پیدا کرے۔ بعد میں یہ تعلق دوستی میں بدل گیا۔

۱۶؍ اکتوبر ۱۹۵۱ کو وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں جلسہ عام کے دوران میں قتل کر دیا گیا۔ اس پر اسرار قتل نے ایوب خان کو سیاستدانوں سے بر گشتہ کر دیا۔ وہ اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ’’میں کراچی میں کابینہ کے کئی اراکین سے ملا۔ کسی نے لیاقت علی خان کا ذِکر تک نہ کیا اور نہ ہی میں نے ان سے ہمدردی اور افسوس کا کوئی لفظ سنا ۔ میں حیران تھا کہ یہ لوگ اس قدر سنگ دل وبے حس اور خود غرض بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘

ایک منصوبے کے تحت لیاقت علی خان کے قتل کے بعد اس بہانے سے کہ اس قتل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان پاکستان پر حملہ نہ کر دے، مسلم لیگ کے ڈپٹی لیڈر سردار عبدالرب نشتر کو میت کے ہمراہ کراچی جانے سے روک دیاگیا اور کہا گیا کہ ان کا بطور گورنر، پنجاب میں مقیم رہنا پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ دوسری طرف گورنر سرحد خواجہ شہاب الدین کو ساتھ ملا کر خواجہ ناظم الدین کو قائل کر لیا گیا کہ وہ گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزیراعظم بن جائے ۔ عائشہ جلال کے الفاظ میں ’’پہلے فوجی اقتدار سے سات سال پہلے سیاسی طاقت پٹڑی سے اتر گئی اور غیر منتخب بیوروکریٹ جانشینوں نے سیاسی منصب سنبھال لیے۔‘‘ شیر باز مزاری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کا ملکی امور پر کنٹرول کمزور پڑ گیا۔ فوج اور بیورو کریسی منظم ادارے تھے، لہٰذا ان کا اثرورسوخ بڑھا۔ فوج کا ادارہ کسی کو جواب دہ نہ تھا۔ غلام محمد، اسکندر اور ایوب خان ریاستی طاقت کے مالک بن گئے ۔ لیاقت علی کی وفات پر افسوس کرنے والے اور ان کے سیاسی جانشینوں کی مذمت کرنے والے ایوب خان جلد ہی شراکت اقتدار کے مزے لوٹنے لگے۔ روایتی سیاستدانوں کے نمائندہ شریف النفس وزیراعظم خواجہ ناظم الدین بھی سول اور فوجی ٹیکنوکریٹس کے لیے زیادہ دیر قابل قبول نہ رہے تو انھیں منظر سے ہٹانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے جن میں سے ایک ۱۹۵۳ میں احمد یوں کے خلاف تحریک بھی تھی۔ لاہور میں حالات انتہائی خراب ہو گئے تو وزیراعظم کی زیر صدارت حالات کے جائزہ کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ سکندر مرزا اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ گورنر پنجاب آئی آئی چندریگر کا فون آیا۔ اس نے وزیر اعظم سے کہا کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ اس کے پاس موجود ہے۔ دولتانہ نے کہا، سر ہم تمام کنٹرول کھو چکے ہیں۔ ’’اس پر وزیر اعظم کچھ نہ کر پائے تو فوج اقدام کے لیے تیار تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ لاہور میں مارشل لا لگا دیا جائے۔‘‘ 

۱۱؍ فروری ۲۰۰۶ء کو ڈان میں کرامت اللہ غوری نے لکھا ہے کہ طاقت کی یہ ناپاک صف بندی کس طرح ظالمانہ طور پر کام کر رہی تھی، اس کا حا ل مجھے ٹوکیو میں ہمارے سفیر قمر الاسلام نے بتایا جو خود پرانے آئی سی ایس ہیں اور وہ اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔ ان کے بقول ۱۹۵۳ میں لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کابینہ کا اجلاس جاری تھا اور گرما گرم بحث ہو رہی تھی کہ کیبنٹ سیکرٹری اسکندر مرزا جاری اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ دس منٹ کے بعد وہ اجلاس میں واپس آئے اور بڑے سکون سے میٹنگ کے شرکا کو بتایا کہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ انہوں نے کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان سے بات کی ہے جو اگلی صبح شہر میں مارشل لا لگانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اس کے بعد بحث ختم ہو گئی، نہ ہی وزیراعظم اور نہ ہی کسی دوسرے شخص نے اسکندر مرزا کے من مانے فیصلے اور گستاخانہ رویے کو چیلنج کیا۔ اسی واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ڈاکٹر مبشر حسن لکھتے ہیں کہ اسکندر مرزا نے مزید بتایا کہ انڈین آرمی ایکٹ کے تحت، جسے پاکستانی حالات کے مطابق ڈھال لیا گیا تھا، فوج کے ہر کمیشنڈ آفیسر کا فرض ہے کہ جب سول انتظامیہ ناکام ہو جائے تو وہ خود اختیار سنبھال لے۔ اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ اسکندر مرزا کی طرح کے آفیسر اور جنرل اعظم کی طرح کے جرنیل سیاسی حکومت سے بالا جو چاہیں، کرسکتے ہیں اور اپنی کارروائی کو قانون کے مطابق سمجھتے ہیں۔

سیاستدان اور بیوروکریٹ باہم دست و گریباں تھے جس کا فائدہ اٹھا کر فوج نے سیاسی قیادت سے بالا بالا امریکہ سے تعلقات استوار کرنے شروع کر دیے۔ دھیر ے دھیرے امریکہ کا اثرورسوخ بڑھنے لگا اور اسی آڑ میں سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہونے لگی۔ انہی دنوں جب بریگیڈےئر میاں غلام جیلانی کو امریکہ میں ملٹری اتاشی مقرر کیا گیاتو امریکہ بھیجتے وقت کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے انہیں بلاکر ہدایات دیں۔ مشاہد حسین واکمل حسین نے اپنی کتاب Pakistan: Problems of Governance میں ان ہدایت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایوب خان نے بریگیڈےئر غلام جیلانی سے کہا کہ تمہاری بنیادی ذمہ داری پینٹاگون کے ساتھ فوجی امداد کے حوالے سے تعلقات استوار کرنا ہے۔ تم ان امریکیوں سے براہ راست ڈیل کرنا اور پاکستانی سفیر کو اعتماد میں نہ لینا۔ ہم اس قسم کے حساس معاملات میں سویلین پر اعتماد نہیں کرسکتے۔ سیاسی قیادت پر بداعتمادی کے اس ذہن کے ساتھ ۶مارچ ۱۹۵۳ کو لاہور میں مارشل لا لگ گیا۔ یوں فوج کو پہلی دفعہ براہ راست سول معاملات چلانے کا موقع ملا ۔ لاہور دو ماہ تک مارشل لا کے زیر سایہ رہا، مگر حیرت ہے کہ حالات معمول پر آنے کے باوجود فوج واپس بیرکوں میں نہیں گئی بلکہ اس نے لاہور میں صفائی مہم شروع کردی۔ عمارتوں کو رنگ و روغن کیا جانے لگا، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں شروع کردی گئیں اور فوج نے، جس کا کام محض امن وامان کی بحالی تھا، اپنی حدود سے تجاوز کرکے عوام میں یہ تاثر پھیلایا کہ فوج ہی اچھا نظم ونسق قائم کرسکتی ہے۔ احمد یہ فسادات کے حوالے چیف جسٹس منیر کی انکوائری رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ ایجنسیوں نے مذہب اور مذہبی گروپوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جس سے ایسی جذباتی صورت حال نے جنم لیا جس پر قابو نہ پایا جا سکا۔ اس طرح فوج کو ریاستی امور میں مداخلت کا موقع مل گیا۔ حالات خراب ہونے پر گورنر جنرل غلام محمد کی صدارت میں ہنگامی اجلاس منعقد کیاگیا جس میں فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے وزیراعظم پر الزامات لگائے اور ان کی توہین کی ۔بالآخر ۱۶؍ اپریل ۱۹۵۳ کو فوج کے کمانڈر انچیف کی آشیر باد سے گورنر جنرل نے وزیراعظم کو اس وقت برطرف کر دیا جب چند دن قبل اسمبلی نے بجٹ منظور کرکے ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا ۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ ناظم الدین جنرل ایوب خان کو نوکری میں توسیع دینے پر راضی نہیں ہو رہے تھے۔ حسین شہید سہروردی اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین فوج کے سائز کو قومی وسائل سے زیادہ بڑھانے کے مخالف تھے اور انہوں نے بجٹ میں فوجی اخراجات میں تخفیف کی تھی، اسی لیے انہیں بجٹ کے چند دن بعد برطرف کردیاگیا۔ 

خواجہ ناظم الدین کے بعد گورنر جنرل نے امریکہ سے پاکستان آئے ہوئے محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم بنایا جو اس سے پہلے کینیڈا اور پھر امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ ان کے دور میں پاک امریکہ تعلقات میں تیزی سے بہتری آئی۔ ماہرین سیاسیات کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی قوتوں کے عروج اور سول ملٹری بیوروکریسی کے غلبے کی بڑی وجہ امریکی عنصر تھا۔ اکتوبر ۱۹۵۳ میں پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے کیبنٹ گورنمنٹ کی رسمی منظوری کے بغیر امریکہ کا غیر رسمی دورہ کیا حالانکہ انہی دنوں وزیراعظم اور وزیر خارجہ امریکہ کے دورے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ امریکی اور پاکستانی فوج کے زعما میں طویل گفت وشنید ہوئی۔ شیریں طاہر خیلی کے مطابق جنرل ایوب خاں نے ’’مناسب قیمت‘‘ پر امریکہ سے ایسی ڈیل کی کوشش کی جس کے مطابق پاکستان مغرب کے اتحادی کا کردار ادا کر سکے۔ امریکی تعاون حاصل کرنے کے لیے ایوب خان اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے ایک امریکی اہلکار کو کہا کہ Our Army can be your Army if you want، یعنی اگر آپ چاہیں تو ہماری فوج آپ کی فوج بن سکتی ہے۔ اس بات کا حوالہ Dennis Kux نے بھی دیا ہے۔ معاملہ طے ہوگیا۔ ۲۵ فروری ۱۹۵۴ کو امریکی صدر آئزن ہاور نے پاکستان کے لیے امدادکا اعلان کیا۔ ۱۹؍مئی ۱۹۵۴ کو امریکہ اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس سے پاکستانی فوج کو ہتھیار اور فوجی تربیت حاصل ہوئی۔ اس معاہدے سے فوجی زعما کو نیا اعتماد ملا اور وہ خود کو پاکستانی سیاست میں مستحکم قوت سمجھنے لگے۔ 

ستمبر ۱۹۵۴ء میں جب گورنر جنرل غلام محمد دارالحکومت سے باہر ایبٹ آباد گئے ہوئے تھے، ۲۰ ستمبر کو اسمبلی نے یکایک پر وڈا کا قانون منسوخ کر دیا اور ۱۹۳۵ کے ایکٹ کے تحت گورنر جنرل کے، کابینہ کو برطرف کرنے کے اختیارات ختم کردیے اور ترامیم اسی روز گزٹ میں شائع کر دیں۔ سٹیفن پی کوہن اپنی کتاب ’’پاکستان آرمی، تاریخ و تنظیم‘‘ میں ایک واقعہ اس حوالے سے لکھتا ہے کہ ایک انتہائی سینئر سابق جنرل نے جو ان واقعات میں کلیدی کردار ادا کر چکے تھے، سیاستدانوں کے ساتھ سابقہ پیش آنے کا اپنا قصہ سنایا جس کی بنا پرفوج براہ راست مداخلت کی طرف راغب ہوئی۔ وہ کہتا ہے ’’میں ان کے (وزیراعظم بوگرہ) کے دفتر گیا۔ اس زمانے میں، میں صرف میجر جنرل تھا۔ میں بیٹھ گیا، وہ نوجوان اور ناتجربہ کار تھے مگر بنگالی ہونے کی وجہ سے یہاں تک پہنچ گئے تھے۔ میری طرف مڑ کر بولے جنرل سر ، جنرل سر ، آپ کو پتا ہے کیا ہوا؟ نہیں پتا کیا ہوا؟ میں نے کہا نہیں۔ (انھوں نے کہا) میں بتاتا ہوں کیا ہوا۔ دستور ساز اسمبلی نے گورنر جنرل کو بیشتر اختیارات سے محروم کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جب وہ ایبٹ آباد سے آئیں گے تو ہنگامی حالت نافذ کردیں گے اور مداخلت کے لیے فوج کو استعمال کریں گے، کیا آپ ان کی بات مانیں گے؟ ذرا سوچیے، ملک کا وزیراعظم اور وزیر دفاع آرمی کے ایک معمولی میجر جنرل سے اتنے حساس سیاسی معاملات پر مشورہ کر رہا ہے۔ مجھے چیف کی طرف سے کوئی بریفنگ نہیں ملی تھی۔ میں نے کہا کہ جناب اگر یہ حکم محکمانہ توسط سے کمانڈر انچیف کو پہنچے گا تو وہ تعمیل کریں گے۔ اس صورت میں یہ قانونی حکم ہوگا۔ اگر حکم آپ سے پوچھے بغیر آیا تو غیر قانونی ہوگا اور وہ عمل نہ کر سکیں گے۔ اگر آپ ہم سے کہیں گے کہ آجاؤ تو ہم تعمیل کریں گے۔ اس پر اس نے فون اٹھایا اور میری موجودگی میں وزیر قانون سے بات کی۔ کہنے لگے، نہیں آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ جنرل .....کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے انٹیلی جنس والوں سے بھی بات کی۔ میں نے اس شخص کی طرف دیکھا اور سوچا، یہ بچوں کی طرح ہے اور ہمارے ملک کا وزیراعظم ہے۔ مجھے اتنی ٹھیس لگی کہ میں باہر نکل آیا، اپنے دفتر گیا اور سیکیورٹی فون پر کمانڈر انچیف سے رابطہ کیا کہ سر، دیکھیں کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، یہ اسی قسم کا آدمی ہے۔ مزہ چکھاتے ہیں اسے۔‘‘

محمد علی بوگرہ آئینی ترمیم کے بعد اگلے روز دورے پر امریکہ روانہ ہو گئے۔ گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم کی غیر حاضری کا فائدہ اٹھا کر اپنے قریبی فوجی افسروں کی مدد سے اپنے منصوبے کو آخری شکل دی اور وزیراعظم کو دورے سے واپس بلا لیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ہوائی اڈے پر فوجی دستے وزیراعظم کے منتظر تھے۔ جب بوگرہ کا طیارہ اےئر پورٹ پر پہنچا تو بظاہر ان کے استقبال کے لیے جنگی لباس میں فوجی کھڑے تھے۔ وہاں مختصر ہجوم سے انہوں نے خطاب کیا اور پھر اپنی نئی نویلی اہلیہ کے ہمراہ کیڈلک کار کی طرف بڑھے۔ وہ کار میں بیٹھ گئے مگر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ پاکستانی جرنیلوں نے ان کی بیگم کو کندھا مار کر پرے کردیا اور خود ان کے دائیں بائیں ہو گئے۔ بیگم سے کہا، تم دوسری کار میں گھر جاؤ، ہم اسے گورنر جنرل کے پاس لے جا رہے ہیں۔ چوہدری محمدعلی کی بیان کردہ روایت کے مطابق وزیراعظم کو غلام محمد کے سامنے لایاگیا تو گورنر جنرل نے تکیے کے نیچے سے پستول نکال لیا اور جب تک وزیر اعظم نے استعفا دینے اور اسمبلی توڑنے کی تجویز نہ مان لی، گورنر جنرل اسے قتل کی دھمکیاں اور گالیاں دیتا رہا جبکہ پردے کے پیچھے جنرل ایوب خان سٹین گن لیے کھڑا تھا۔ گویا غلام محمد کے اس اقدام میں بھی انہیں فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

۲۴؍ اکتوبر ۱۹۵۴ کو ایمرجنسی نافذ کرکے بوگرہ ہی کی قیادت میں نئی کیبنٹ آ ف ٹیلنٹ تشکیل دی گئی۔ سول اور ملٹری بیورو کریٹس نے باہمی گٹھ جوڑ سے کمزور اور منقسم سیاستدانوں پر بالادستی حاصل کرلی۔ فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان وردی سمیت وزیر دفاع اور میجرجنرل سکندر مرزا وزیر داخلہ بن گئے۔ سیاسی دانشوروں کا خیال ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا سول ملٹری انقلاب تھا جسے کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ یہ درحقیقت کمانڈر انچیف کا پس چلمن رہ کر سویلین مارشل لا تھا جس کی قیادت وہ خود ہی کر رہے تھے۔ یوں فوج نے بالواسطہ اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جنرل ایوب کے وزیردفاع بنتے ہی اونٹ کا سرخیمے میںآگیا اور انھیں بطور وزیردفاع فوجی افسروں کی تعیناتی، ٹرانسفر، پروموشن اور ریٹائرمنٹ کے اختیارات حاصل ہو گئے۔ ان کی حیثیت اتنی مضبوط ہو گئی تھی کہ وہ جنوری ۱۹۵۵ میں ریٹائر ہونے والے تھے مگر انہوں نے گورنر جنرل غلام محمد کی مدد کے بدلے ان سے مدت ملازمت میں چار سال کی توسیع حاصل کرلی۔ جب سول حکومتیں فوج ہی پر انحصار کرنے لگتی ہیں تو فوج اقتدار ایک فرد سے دوسرے فرد اور ایک گروپ سے دوسرے گروپ کو منتقل کرنا شروع کر دیتی ہے۔ 

غلام محمد کے فیصلے کو عدلیہ میں چیلنج کیاگیا تو وہاں چیف جسٹس محمد منیر کمانڈر انچیف سے کم نہ نکلے اور حکمران ٹولے کے حق میں فیصلہ کرکے من مانی کو جائز قرار دے دیا۔ امریکی محقق ایلن میگراتھ اپنی کتاب Destruction of Democracy میں لکھتا ہے کہ نہ تو پاکستان کے عوام تعلیم کی کمی کی بنا پر اور نہ ہی سیاستدان مبینہ بدنظمی اور کرپشن کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کے خاتمے کے ذمہ دار تھے۔ اس کی ذمہ داری اسکندر مرزا، غلام محمد اور جسٹس منیر پر عائد ہوتی ہے جس نے آمرانہ سرگرمیوں کے لیے آئینی جواز فراہم کیا۔ فیڈرل کورٹ کے فیصلے کے بعد دوسری دستور ساز اسمبلی منتخب کی گئی۔ اسی دوران میں گورنر جنرل غلام محمد کی صحت بگڑ گئی تو اسکندر مرزا نے ایک سیاسی چال چل کر ان سے استعفا لے لیا اور خود گورنر جنرل بن کر چوہدری محمدعلی کو، جنہوں نے غلام محمد کو مستعفی ہونے پر راضی کیا تھا، بطور انعام وزیراعظم بنادیا۔ عائشہ جلال کہتی ہیں کہ برطانوی ہائی کمشنر نے چوہدری محمد علی کی نامزدگی کو Deplorable departure from the established parliamentary norms یعنی مسلمہ پارلیمانی روایات سے افسوسناک انحراف قرار دیا تھا۔ چوہدری محمد علی نے نئے آئین میں اسلام پر زور دینے کی کوششیں شروع کیں تو اسکندر مرزا نے ۱۹۵۵ء میں نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے فوجی فکر وفلسفہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا کھلا اظہار کیا اور کہاکہ We cannot run wild on Islam, it is Pakistan first and Pakistan last. (ہم اسلام کے بارے میں جنونی نہیں بن سکتے۔ اول وآخر پاکستان ہی کو اہمیت حاصل ہے) تاہم نیا آئین منظور ہونے کے بعد بھی گورنر جنرل اس پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور اس وقت تک ٹال مٹول سے کام لیتے رہے جب تک انہیں یہ یقین دہانی نہ کرائی گئی کہ وہی پہلے صدر مملکت ہوں گے۔ دو جنرل مطلق اقتدار کی طرف ایک دوسرے کا سہارا لے کر بڑھ رہے تھے کہ میجر جنرل اسکندر مرزا نے گورنر جنرل سے صدارت تک کی ترقی میں نئے گُر سیکھ لیے۔ اسی تجربے کی روشنی میں انہوں نے وزراے اعظم کو اس تیزی سے بھگتانا شروع کیا کہ اگر وہ چند ماہ مزید یہ جنگی مشقیں جاری رکھتے تو ملک کا کوئی قابل ذکر سیاستدان نہ رہ جاتا جو پاکستان کا سابق وزیراعظم نہ رہ چکا ہوتا۔ ٹوٹتی بنتی حکومتوں سے عوام تنگ آ گئے اور نئے انتخابات کا مطالبہ شروع ہوگیا۔ وہ انتخابات جو ۱۹۵۷ء میں متوقع تھے، ان کو مارچ ۱۹۵۹ء تک ملتوی کیا جاتا رہا۔ خان عبدالقیوم خاں کے مطابق مرکزی حکومت نے محض ایمپلائمنٹ ایکسچینج کی شکل اختیار کرلی تھی جو بیروزگار سیاستدانوں کو روزگار فراہم کرتا تھا۔ انتخابات سے خائف اسکندر مرزا نے ایوب خان سے مل کر جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا منصوبہ تیار کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر کراچی آر ڈبلیو ڈی فلاور نے ۲۱؍مئی ۱۹۵۸ کو لندن خط بھجوایا کہ اسکندر مرزا کچھ عرصہ تک اقتدار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے او ریہ خیال اس کے ذہن میں اس وقت آیا جب دسمبر ۱۹۵۷ء میں چندریگر حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس سازش میں شریک ہونے کے باوجود ایوب خان نے یہ کوشش کی کہ دیکھنے والوں کو یہی تاثر ملے کہ یہ اسکندر مرزا کا ذاتی فعل ہے۔ احتیاط پسند ایوب نہیں چاہتا تھا کہ اس پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد ہو۔ شاید وہ یہ گنجائش بھی باقی رکھنا چاہتا تھا کہ اگر منصوبہ ناکام ہو جائے تو اسکندر مرزا کے اقدام کو ناجائز قرار دے کر فوج کی مدد سے امن عامہ بحال کر دے۔ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ منصوبے کی کامیابی کی صورت میں اسکندر مرزا اپنی آئینی حیثیت کھو بیٹھیں گے، لہٰذا ان سے چھٹکارا مشکل نہیں ہوگا۔ 

ان دنوں یہ خیال بھی تھا کہ سیاسی و معاشی بدحالی فوج کے اجتماعی اداراتی مفاد کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ جون ۱۹۵۸ میں آرڈیننس کے ذریعے سے ایسے بیانات و اقدامات پر پابندی لگا دی گئی جو فوج کے لیے نقصان دہ ہوں۔ ایوب نے انہی دنوں ملک بھر کا دورہ کرکے مقامی کمانڈرز سے ملاقاتیں کیں۔ بدقسمتی سے ستمبر ۱۹۵۸ء میں مشرقی پاکستان اسمبلی میں اجلاس کے دوران میں ڈپٹی سپیکر شاہد علی خاں کرسی لگنے سے دم توڑ گئے۔ یہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ اس واقعہ کے بعد ایوب نے چیف آف جنرل سٹاف کو سول انتظامیہ سے اختیارات لینے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا۔ کئی اور عوامل بھی کارفرما تھے، تاہم ۳؍اکتوبر کو فوج کا اقتدارسنبھالنے کا منصوبہ تیار تھا۔ صرف ایوب، اسکندر مرزا اور امریکی سفیر James Langley اس منصوبے سے آگاہ تھے۔ اسی سفیر نے اسکندر مرزا کو کہا تھا کہ وہ تمام اختیارات حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بنائے، فوج اس کی حمایت کرے گی اور اگر اسکندر نے ایسا نہ کیا تو ایوب خان قدم اٹھائیں گے۔ اےئر فورس اور نیوی کے کمانڈرز انچیف کو تمام انتظامات مکمل کرنے کے بعد مطلع کیاگیا۔ وزیراعظم فیروز خاں نون کو اس منصوبے کے بارے میں تب پتہ چلا جب اسے صدر کی طرف سے ایک خط موصول ہوا۔ زیادہ تر سیاستدانوں کو صبح کے اخبارات سے تبدیلی کا علم ہوا۔ 

ایوب خان نے جب یہ دیکھا کہ اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر نوکرشاہی حکومت کر رہی ہے اور یہ جان لیا کہ اقتدار تو بندوق کی نالی کے نیچے ہے تو اس نے اقتدار پر خود قبضہ کرلیا۔ درحقیقت پہلے عشرے میں سیاستدانوں نے بیوروکریٹس کے اشاروں پر ذاتی اقتدار کے لیے جمہوری اصولوں کو پامال کیا اور جنرل ایوب نے بیورو کریٹس کی حوصلہ افزائی کرکے جمہوریت کو جڑ پکڑنے کا موقع ہی نہ دیا۔ جب تک سول حکومت کی پشت پر عوام ہوں گے، فوج اپنے پورے جاہ و جلال اور اسلحہ کے ہوتے ہوئے بھی حکومت کے احکام بجا لاتی رہے گی مگر جب حکومتیں عوامی تائید سے محروم ہو جائیں تو پھر فوج اور اس کے اسلحے کی بن آتی ہے اور فوج آسانی سے غیر مقبول حکومتوں کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں پہلے عشرے میں عوامی حکومت قائم ہی نہ ہونے دی گئی۔ سیاسی انتشار کے باعث فوج سول معاملات میں الجھ گئی۔ مجبور حکومتوں کو سنگین فطری یا انسان کی پیداکردہ آفات کے مواقع پر جو پاکستان میں بڑھتے ہی چلے گئے، فوج کو باربار مدد کے لیے طلب کرنا پڑا حتیٰ کہ فوجی افسران نے سیاستدانوں کو امن وامان کی ذمہ داریاں سنبھالنے ہی نہ دیں کیونکہ انہیں سیاستدانوں پر قطعی اعتماد نہ تھا۔ تاریخ کا یہ اہم سبق ہے کہ اگر آپ ڈنڈا بار بار استعمال کریں گے تو ڈنڈا خود اقتدار سنبھال لے گا۔ یہ ہمیشہ سے ڈنڈے کی تاریخ رہی ہے۔ 

نامراد لوگ ڈنڈے اور ڈسپلن کو ہی کامیابی سمجھ کر اپنی آزادی اس کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں۔ سیاسی راہنماؤں کی لغزشوں اور سول ملٹری بیوروکریٹس کی بداعمالیوں کے نتیجے میں جمہوریت کا بوریا بستر گول ہوا تو عوام نے بھی اسے جی آیاں نوں کہا۔ ممتاز ماہر عمرانیات ایرک فروم نے درست کہا ہے کہ آزادی کا حصول اور اس کے بعد اس کو قائم رکھنا ایک دشوار اور کشمکش سے بھرپور عمل ہے۔ بعض لوگ اور بعض گروہ یا قومیں اس سے گھبرا کر اپنی آزادی اپنی رضا سے ایک شخص یا ایک جماعت کے حوالے کر دیتے ہیں، اس طرح انہیں فیصلہ کرنے کی زحمت سے نجات مل جاتی ہے اور وہ حکم ماننے میں ایک گونہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۵۸ میں پاکستانی قوم نے بھی اقتدار واختیار فرد واحد کو سونپ کر خود فریبی کی راہ اختیار کرلی تھی اور اسی خود فریبی کی سزا وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق اور حالات کا تقاضا ہے کہ ہم قومی فلاح ، ملکی بقا اور سیاسی و معاشی استحکام کے لیے ملک کے سیاسی نظام کو اس جونک سے آزاد کرانے کے لیے اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور ڈیل اور ڈھیل کی سیاست کرنے کے بجائے سیاسی اداروں اور عوامی قیادت کی بالادستی کے اصول کو مشعل راہ بناکر سیاست کریں۔ یہی بانی پاکستان کی جدوجہد کی حقیقی منزل ہے۔ فوج کے سیاسی کردار کا خاتمہ ہی قائد اعظم کے جمہوری اور فلاحی پاکستان کی بنیاد بنے گا۔ 

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل