الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ائمہ و خطبا کے لیے تربیتی نشست

ادارہ

۱۱ جون ۲۰۰۷ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’عامۃ الناس کی تعلیم وتربیت اور ائمہ وخطبا کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے ایک تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں شہر کے علما اور ائمہ وخطبا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی جبکہ مولانا داؤد احمد، مولانا حافظ محمد یوسف اور مولانا عبد الواحد رسول نگری نے عوام الناس میں دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں کے حوالے سے ائمہ وخطبا کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔

اس نشست کا اہتمام گزشتہ سال الشریعہ اکادمی کے تعاون سے شہر کی دو درجن سے زائد مساجد میں ۳۰ روزہ فہم دین کورس کے کامیاب سلسلے کے تناظر میں کیا گیا۔ اس سلسلے کو مربوط اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ایک ’’مجلس مشاورت برائے تعلیمی وتربیتی کورسز‘‘ قائم کی گئی ہے جس کا امیر مولانا داؤد احمد، استاذ حدیث مدرسہ مظاہر العلوم گوجرانوالہ کو منتخب کیا گیا ہے۔ 

تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا داؤد احمد نے کہا کہ ہر داعئ حق کو نتائج کی پروا کیے بغیر خلوص اور استقامت کے ساتھ دین حق کا پیغام عامۃ الناس تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروے کار لانی چاہییں اور یہ خیال کبھی ذہن میں نہیں لانا چاہیے کہ استفادہ کرنے والوں کی تعداد تھوڑی ہے یا زیادہ۔ انھوں نے کہا کہ یقیناًائمہ اور خطبا کو بہت سے مسائل اور نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن انھیں دین کی نصرت اور رضاے الٰہی کے حصول کے جذبے کے ساتھ پوری لگن سے دعوت واصلاح کا کام کرتے رہنا چاہیے۔

الشریعہ اکادمی کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف نے فہم دین کورس کے سلسلے کے آغاز اور اس کے ثمرات ونتائج پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ۱۹۹۹ میں الشریعہ اکادمی میں ترجمہ قرآن مجید کی کلاس کے آغاز کے بعد یہ ضرورت سامنے آئی کہ عام لوگوں کے لیے مختصر دورانیے کے کورسز بھی ہونے چاہییں، چنانچہ ۲۰۰۳ میں فہم دین کورس کا سلسلہ شروع کیا جس کی اب تک چھ کلاسز منعقد کی جا چکی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے کی افادیت کو دیکھتے ہوئے شہر کے دیگر علماے کرام کو بھی اس طرف توجہ دلائی گئی اور گزشتہ رمضان المبارک میں تقریباً ۲۵ مساجد میں اس کورس کا اہتمام کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے کو باہمی تعاون اور مشاورت کے ساتھ مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مدرسہ اشرف العلوم کے مدرس مولانا عبد الواحد رسول نگری نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہمارے معاشرے میں اس وقت دو قسم کے طبقات پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو دین سے دور ہیں اور دوسرے وہ جو دین سے بے زار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دونو ں طبقوں کا ذہنی پس منظر اور نفسیات الگ الگ ہیں اور علما اور خطبا کو اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے معاشرے میں دعوت دین کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی بے علمی اور بے فکری اور علما کی کوتاہی کی وجہ دین سے دور ہے اور ایسے لوگوں تک پہنچ کر انھیں دینی تعلیمات سے روشناس کرانا نسبتاً آسان ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں مختصر دورانیے کے کورسز کو ایک مفید اقدام قرار دیا اور کہا کہ ایسے کورسز سے دین سے دور اور دین سے بے زار، دونوں طبقوں کو مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔

اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنی اختتامی گفتگو میں مولانا عبد الواحد رسول نگری کی بات کی تائید کی اور اس کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں موجود دونوں طبقوں کے دین سے دور ہونے کی اصل وجہ بے خبری ہے، البتہ دین سے دور طبقے میں بے خبری کا قصور وار خود وہ طبقہ ہے جبکہ دین سے بے زار طبقے کے معاملے میں بے خبری کی ذمہ داری علما اور ائمہ وخطبا پر عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے ائمہ وخطبا کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عامۃ الناس کی تعلیم وتربیت اور اس کے تقاضوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دین سے لوگوں کی دوری کو ختم کرنے کے لیے دونوں جانبوں سے بے خبری کا علاج کرنا ہوگا۔

تقریب میں شریک ہونے والے ائمہ وخطبا نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں اس کار خیر کو پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں اب تک شہر کی تقریباً ۶۰ مساجد میں، جن میں خواتین کی تعلیم وتربیت کے ۱۵ مراکز بھی شامل ہیں، اس نوعیت کی کلاسز شروع ہو چکی ہیں۔ الشریعہ اکادمی میں اس وقت فہم دین کورس کی تین کلاسز جاری ہیں جس میں ۱۰۰ کے قریب نوجوان، بزرگ اور خواتین شریک ہیں۔

اکادمی کے زیر اہتمام لینگویج کورسز 

گزشتہ دنوں الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے ۴۰ روزہ انگلش لینگویج کورس کا اہتمام کیا گیا جس میں تین درجن کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ یہ کورس کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔ 

۲۳ جون ۲۰۰۷ کو مرکزی جامع مسجد ہی میں عربی بول چال کورس کا آغاز کیا گیا جو ۲۶ جولائی تک جاری رہے گا۔ اس کورس میں بھی تین درجن کے قریب طلبہ شریک ہیں۔ اس کورس کے اختتام پر دونوں کورسز میں شریک ہونے والے طلبہ کو کامیابی کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔ اکادمی کے ناظم مولانا محمد یوسف ان کورسز میں معلم کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

الشریعہ اکادمی