قرآن کا معجز اسلوب اور تفکر و تعقل کی اہمیت

مفتی ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی

امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم اور علمائے عربیہ کا اجماع ہے کہ قرآن عزیز اپنے الفاظ و حروف، ترکیب و ترتیب، اغراض و مقاصد اور علوم و حقائق، ہر ایک امر میں معجز ہے۔ قرآن کی آیات اور آیات کے کلمات باہم مربوط ہیں ۔ ہر آیت اور کلمہ کو اسی جگہ رکھا گیا ہے جہاں کہ ان کا بے میل فطری مقام ہے۔ قرآن حکیم ایک دعویٰ ہے اور کائنات عالم اس کے لیے ایک عادل گواہ ہے جس کی شہادت سے یہ دعویٰ ثابت اور واجب التسلیم ہو جاتا ہے۔ یعنی قرآن کے مطالب و نظریات کو کائنات کے محسوسات سے تمثیل دے کر بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ کائنات انسانوں کی تفہیم کے لیے ایک فکر گاہ ہے جس میں غوروفکر کرنے سے قرآن کے نظریات حل ہوتے ہیں اور قرآنی دعاویٰ کے لیے ایسے تمثیلی و تشبیہی اور برہانی دلائل ہاتھ لگتے ہیں جن سے قرآنی مقاصد و مطالب بآسانی ذہن میں اتر جاتے ہیں ۔ 

قرآن عزیز اپنی وضع، اسلوب، اندازِ بیان، طریقِ خطاب اور اپنے طریقِ استدلال میں بلکہ اپنی ہر بات میں، انسانوں کے وضعی اور صناعی طریقوں کا پابند نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہیے، وہ اپنی ہر بات میں اپنا بے میل فطری طریقہ رکھتا ہے۔ یہی وہ بنیادی امتیاز ہے جو انبیاے کرام علیہم السلام کے طریقِ ہدایت کو علم و حکمت کے وضعی طریقوں سے ممتاز کر دیتا ہے۔ قرآن عزیز اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ دوسری کتب مقدسہ کی طرح صرف کتاب اللہ ہی نہیں، بلکہ درحقیقت وہ کلام اللہ بھی ہے ۔ اور کلام صفتِ الہٰی ہے اور صفات ، ذات کے ساتھ قائم ہوتی ہیں۔ جب کوئی کلام کسی سے صادر ہو تو یہ نہیں کہا جاتا کہ فلاں نے کلام کو پیدا کیا بلکہ کہا جاتا ہے کہ فلاں سے کلام صادر ہوا۔ قرآن کریم پردۂ عدم میں نہ تھا کہ اس کو مخلوق کہا جائے بلکہ حق تعالیٰ ہی کے وجود کے ساتھ قائم تھا، وہاں عدم کا نشان نہیں تھا ۔ اسی لیے قرآن کو مخلوق نہیں کہا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم تحریف، ترمیم اور تبدیلی سے محفوظ ہے اور معجز بھی ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ رب العزت کی مثل کوئی شے نہیں، ایسا ہی اس کے کلام کی مثل کوئی کلام نہیں ۔ اور ہر شخص کا کلام اپنے متکلم پر دلالت کرتا ہے ۔ زیب النساء مرحومہ نے اسی کی ترجمانی کیا ہی عمدہ شعر سے کی ہے :

درسخن مخفی منم چو بوئے گل در برگِ گل
ہر کہ دیدن میل دارد درسخن بیند مرا 

(میں اپنے کلام میں اسی طرح چھپی ہوئی ہوں جیسے پھول کی خوشبو اس کی پتی میں۔ جو بھی مجھے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے، وہ مجھے میرے کلام میں دیکھ لے۔)

بہر حال، قرآن ایک غیر معمولی پر شکوہ کلام ہے۔ اس میں تدبر اور غور کرنے والے کو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا متکلم ایسے بلند مقام سے بول رہا ہے جو کسی بھی انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے نظم کا شکوہ ، اس کی بے پناہ روانی اور اس کا فیصلہ کن اندازِ بیان اتنے حیرت انگیز طور پر انسانی کلام سے مختلف ہے کہ صاف طور معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک مالکِ کائنات کی آواز ہے، کسی انسان کی آواز نہیں ۔ اس کا پر یقین اور با عظمت کلام خود ہی بول رہا ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے جس میں خدا اپنے بندوں سے مخاطب ہوا ہے۔ قرآن میں کائنات کی حقیقت کا تعارف کرایا گیا ہے، انسان کے انجام کی خبر دی گئی ہے اور زندگی سے متعلق تمام کھلے اور چھپے حالات پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ اس قدر قطعی انداز میں بیان ہو اہے کہ واقعہ کا اظہار واقعہ کا مشاہدہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا آدمی کو حقیقت کا علم نہیں دیا جا رہا ہے بلکہ اس کو حقیقت کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا گیا ہے ، وہ واقعہ کو کتاب کے صفحات میں نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ اسکرین ( عالمِ کائنات) کے اوپر اس کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ کلام کی یہ قطعیت صاف ظاہر کر رہی ہے کہ یہ ایک ایسی ہستی کا کلام ہے جس کو حقیقتوں کا براہ راست علم ہے۔ کوئی انسان جو حقیقتوں کا ذاتی علم نہ رکھتا ہو، اپنے کلام میں ہر گز قطعیت پیدا نہیں کر سکتا ۔ 

قرآن حکیم کو اللہ تعالیٰ نے اس کی آیات میں تدبر اور غور کرنے کے لیے نازل کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلامی دعوت کی بنیاد ہی عقل پر رکھی گئی ہے۔ قرآن کے نزدیک عقل سے کام نہ لینا ، فکری قوتوں کو معطل کیے رکھنا ، اندھا دھند عقلیات میں ہر کسی کی پیروی کیے جانا اور خرافات و اوہام کے پیچھے چل کر بے سمجھے بوجھے رسوم و رواج سے چمٹے رہنا انسان کا بہت بڑا عیب ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ جو مذہب عقل کی کسوٹی پر پورا نہ اترے، وہ جھوٹا ہے ۔ نئی تحقیقات اور صحیح علوم سائنس و فلسفہ ، قرآنی تعلیمات پر مہرِ تصدیق لگا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ آج سائنس کے دور میں کوئی نہیں بتا سکتا کہ قرآن کی فلاں بات واقعات کے خلاف ہے اور قرآن کریم کا تصادم آج تک کسی بھی علمی حقیقت سے نہ ہو سکا۔ البتہ جن لوگوں نے اپنے فہم و عقل سے قرآنی فطرت کے خلاف معانی پیش کیے ہیں، وہ قرآن کے معانی قرار نہیں دیے جا سکتے اور نہ قرآن ایسے معانی و مطالب کی تصدیق کر تاہے ۔ قرآن مجید میں جو باتیں بطور دلائل اختیار کی گئی ہیں، اس میں سے ایک نمایاں استدلال واقعات کا استدلال ہے جس کی اصل حقیقت ان کے ماننے والوں کو بھی معلوم نہ تھی ۔ قرآن حکیم نے ان حقائق کو آج سے پونے چودہ سو سال پہلے ایک امی کے ذریعے واضح کر دیا اور اب جدید آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کا سلسلہ ان کی تصدیق کرتا جا رہا ہے۔ 

بہر حال تفسیر بالرائے کی ممانعت سے مقصود یہ نہیں کہ قرآن کے مطالب میں عقل و بصیرت سے کام نہ لیا جائے ، جبکہ خود قرآن کا یہ حال ہے کہ اول سے لے کر آخر تک تعقل و تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ تفسیر بالرائے کی ممانعت سے مراد ایسی تفسیر ہے جو اس لیے نہ کی جائے کہ خود قرآن کیا کہتا ہے بلکہ اس لیے کی جائے کہ ہماری کوئی ٹھہرائی ہوئی رائے کیا چاہتی ہے اور کیسے قرآن کو کھینچ تان کر اس کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔ 

قرآن / علوم قرآن