جون ۲۰۰۷ء

عالمی تہذیبی کشمکش کی ایک ہلکی سی جھلک

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجھے ۵ مئی سے ۲۳ مئی ۲۰۰۷ء تک برطانیہ کے مختلف شہروں میں احباب سے ملاقاتوں، دینی اجتماعات میں شرکت اور مختلف اداروں میں حاضری کاموقع ملا اور متعدد نشستوں میں اظہار خیال بھی کیا۔ اس دوران میں اپنی دلچسپی کے خصوصی موضوع ’’مسلمانوں اورمغرب کے درمیان تہذیبی کشمکش‘‘ کے حوالہ سے بھی مطالعہ اور مشاہدات میں پیش رفت ہوئی اوراسی پہلو سے کچھ گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ سفر کے آغاز میں ہی ۵؍مئی کو روزنامہ نوائے وقت لاہور میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا یہ بیان نظر سے گزرا کہ ’’مغرب کو اسلام سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنی اقدارپر...

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح

― محمد رفیع مفتی

کسی نبی کی سیرت، اس کے افعال و اعمال اور اس کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے اگر اس بنیادی حقیقت ہی کو ملحوظ نہ رکھا جائے کہ وہ خدا کا نبی ہے اور اس کی ذمہ داریاں، عام آدمی کے مقابلے سے کہیں زیادہ ہیں تو وہ حکمت جو اس کے مختلف کاموں میں پائی جاتی ہے، وہ ہر گز سمجھی نہیں جا سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازداجی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے دو نکاحوں کے علاوہ جتنے نکاح بھی کیے، ان کی وجہ بشری تقاضے نہ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بشری اور اپنی نبوت و رسالت کی ذمہ داریوں کے حوالے سے چار مختلف حیثیتوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا تھی۔...

مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت میں قرآن و سنت کی اہمیت

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

مسلم تاریخ کے بیشتر ادوار میں مسلم تہذیب، اسلامی شناخت سے بہرہ مند رہی ہے اور اسلامی شناخت کے عناصر ترکیبی ہمیشہ قرآن اور سنت رہے ہیں۔ پچھلی چند صدیوں سے اسلامی شناخت کے عناصر ترکیبی ( قرآن و سنت) اگرچہ مسلم تہذیب میں موجود ہیں، لیکن ان کی اہمیت کافی حد تک دھندلا سی گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود مسلم تہذیب کو اسلامی شناخت سے بہرہ مند قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم تہذیب میں جب قرآن ا ور سنت کی اہمیت، عملی طور پر پہلے جیسی نہیں رہی تو پھر وہ کون سے عناصر ترکیبی ہیں جن پر مسلم تہذیب کی اسلامی شناخت کا ٹھپہ لگایا جا رہا ہے؟ دوسرے...

قراءات متواترہ کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

― حافظ محمد زبیر

جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب ’’اصول ومبادی‘‘ میں پیش کردہ مختلف اصولی تصورات، مثلاً ’تصور کتاب‘،’تصور سنت‘ اور ’تصور فطرت‘ کا علمی وتنقیدی جائز ہ ہم اپنے سابقہ مضامین میں تفصیلاً لے چکے ہیں۔ اسی ضمن میں ہم ان کے’ تصور قرآن ‘کی کجی کو بھی واضح کرنا چاہیں گے۔ اس عنوان کے تحت ایک ایک کر کے درج ذیل ابحاث پر غامدی صاحب کے نقطہ نظر کا علمی جائزہ لینا ہمارے پیش نظر ہے: (۱) قراآت متواترہ کی حیثیت (۲) کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۳) نظم قرآن کا تصور (۴) تفسیر قرآن میں اسرائیلیات کا مقام (۵) سبع مثانی کا مفہوم و مصداق (۶) زبان کی ابانت (۷) عربی معلی۔...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) گرامی قدر جناب مولانا زاہدالراشدی صاحب زیدت معالیکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی! ماہنامہ الشریعہ باقاعدگی سے اعزازی طور پر موصول ہوتا ہے جس کے لیے سراپاسپاس ہوں۔ گزشتہ چند شماروں میں دور حاضر میں اجتہاد کی ضرورت پر ایک انتہائی وقیع بحث کا آغاز ہوا تھا، لیکن یہ بحث بتد ریج جدلیاتی اور طنزیہ رخ اختیار کرتی ہوئی شخصیات کی آرا کی توضیح وتشریح پر ختم ہو گئی۔ مجھے قوی امید تھی کہ اس علمی موضوع پر گراں قدر، تحقیقی اور فکر ودانش سے بھرپور مقالات آئیں گے جن سے استفادہ کا موقع ملے گا لیکن ’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘۔ کبھی کبھی مجھے...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter